Explained with ayahs 17–21
حضرت موسیٰ ؑ کو معجزات ملے۔
حضرت موسیٰ ؑ کے ایک بہت بڑے اور صاف کھلے معجزے کا ذکر ہو رہا ہے جو بغیر اللہ کی قدرت کے ناممکن اور جو غیر نبی کے ہاتھ پر بھی ناممکن۔ طور پہاڑ پر دریافت ہو رہا ہے کہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ یہ سوال اس لئے تھا کہ حضرت موسیٰ ؑ کی گھبراہٹ دور ہوجائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سوال بطور تقریر کے ہے یعنی تیرے ہاتھ میں لکڑی ہی ہے یہ جیسی کچھ ہے تجھے معلوم ہے اب یہ جو ہوجائے گی وہ دیکھ لینا۔ اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ عرض کرتے ہیں یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
سورة طٰهٰ 11
یہ سوال طلب علم کے لیے نہ تھا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کو بھی معلوم تھا کہ موسیٰ کے ہاتھ میں لاٹھی ہے۔ پوچھنے سے مقصود یہ تھا کہ لاٹھی کا لاٹھی ہونا حضرت موسیٰ کے ذہن میں اچھی طرح مستحضر ہوجائے اور پھر وہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ دیکھیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (حق تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے یہ بھی فرمایا کہ) یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا چیز ہے اے موسیٰ ! انہوں نے کہا کہ یہ میری لاٹھی ہے میں (کبھی) اس پر سہارا لگاتا ہوں اور (کبھی) اس سے اپنی بکریوں پر (درختوں کے) پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بھی کام (نکلتے) ہیں (مثلاً کندھے پر رکھ کر اسباب وغیرہ لٹکا لینا یا اس سے موذی جانوروں کو دفع کرنا وغیرہ وغیرہ) ارشاد ہوا کہ اس (عصا) کو (زمین پر) ڈال دو اے موسیٰ سو انہوں نے اس کو (زمین پر) ڈال دیا تو یکایک وہ (خدا کی قدرت سے) ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گیا (جس سے موسیٰ ؑ ڈر گئے) ارشاد ہوا کہ اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں ہم ابھی (پکڑتے ہیں) اس کو اس کی…
Read the full tafseer →وما تلک بیمینک یموسیٰ 17
لفظ یمیمن دہنے بائیں کے مفہوم سے مجرد ہو کر صرف ہاتھ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ کلام عرب میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔
سوال برائے التفات و نوازش
یہ سوال ظاہر ہے کہ تحقیق کے لئے نہیں بلکہ اظہار التفات و نوازش ہی کے لئے ہوسکتا ہے۔ جس طرح باپ بچے سے پوچھتا ہے کہ بیٹے یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے حالانکہ وہ اس چیز سے بیٹے سے زیادہ واقف ہوتا ہے۔ اسی طرح رب کریم نے حضرت موسیٰ سے سوال کیا کہ موسیٰ ! یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ اور سوال اس چیز سے متعلق کیا جو آگے ان تمام خوارق کا ذریعہ بننے والی تھی جو حضرت موسیٰ کے ہاتھوں ظاہر ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
21۔ 1 یہ حضرت موسیٰ ؑ کو معجزہ عطا کیا گیا جو عصائے موسیٰ ؑ کے نام سے مشہور ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
7: سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو یہ یقین کیسے آیا کہ یہ آواز اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو یہ اطمینان عطا فرمادیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے ہم کلام ہیں۔ اور حالات بھی ایسے پیدا کردئیے گئے کہ انہیں یہ یقین آجائے۔ مثلاً بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو یہ عجیب منظر نظر آیا کہ وہ آگ ایک درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے۔ مگر درخت کا کوئی پتہ جلتا نہیں ہے۔ انہوں نے انتظار کیا کہ شاید کوئی چنگاری اڑ کر ان کے پاس آجائے۔ مگر وہ بھی نہ آئی۔ پھر انہوں نے کچھ گھاس پھونس لے کر اسے آگ کے قریب کیا، تاکہ اس میں آگ لگ جائے تو وہ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
وما تلک۔۔۔۔۔ مارب اخری (71۔ 81) ’
سوال ہوتا ہے کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنے حال میں نہ تھے۔ دیکھ کر بتایا کہ عصا ہے۔ سوال میں یہ نہ تھا کہ عصا کے فوائد کیا ہیں ؟ صرف یہ تھا کہ ہاتھ میں کیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سمجھا کہ جو ہاتھ میں ہے ‘ اس کی ماہیت تو نہیں پوچھی جاتی ‘ ماہیت تو واضح ہے ‘ بلکہ عصا کے فوائد پوچھے جارہے ہیں ‘ اس لیے انہوں نے فوائد گنوا دیئے ‘ جو فوائد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جانتے تھے ‘ وہ بتا دیئے کہ وہ اس کا سہارا لیتے ہیں ‘ اس کے ذریعہ درختوں کے پتے جھاڑتے ہیں تا کہ بکریاں کھا لیں۔ آپ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بکریاں چراتے تھے۔ یہ…
Read the full tafseer →10 یہاں سے منصب رسالت کی تمہید شروع ہوتی ہے۔ چونکہ معجزات دے کر فرعون کی طرف بھیجے جانے والے تھے اس لیے اولاً معجزہ عصا کا ذکر فرماتے ہیں۔ یہ سوال کہ تیرے ہاتھ میں کیا چیز ہے۔ اس غرض سے تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لاٹھی کی حقیقت اور اس کے منافع کو خوب مستحضر کرلیں تاکہ جو خارق عادت چیز پیش آنے والی تھی اس کا معجزہ ہونا پوری طرح واضح، مستحکم اور اوقع فی النفس ہو۔ یعنی اس وقت خوب دیکھ بھال کر اور جانچ تول کر بتلاؤ، تمہارے ہاتھ میں کیا چیز ہے ؟ مبادا سانپ بن جانے پر وہم کرنے لگو کہ شاید میں غلطی سے ہاتھ میں لاٹھی نہ لایا ہوں کچھ اور لے آیا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
آیت 16 فَلَا یَصُدَّنَّکَ عَنْھَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِھَا وَاتَّبَعَ ھَوٰٹہُ فَتَرْدٰی ”
عَنْھَا کی ضمیر کا تعلق السَّاعَۃ قیامت سے بھی ہوسکتا ہے اور الصَّلٰوۃ نماز سے بھی۔ چناچہ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ آخرت کا منکر کوئی شخص آپ علیہ السلام کو بھی اس سے برگشتہ نہ کر دے۔ لیکن اگر عَنْھَا کا تعلق الصّٰلوۃ سے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ اگر کوئی شخص نماز کا منکر ہے تو وہ آپ کو بھی اس سے بدظن کرنے کا باعث نہ بن جائے۔
Read the full tafseer →13 اللہ کی موسیٰ (علیہ السلام) سے ہم کلامی :۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال اس لئے نہیں کیا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو پتا نہ تھا کہ یہ میری لاٹھی ہے۔ بلکہ اس لئے کہا تھا کہ اسی لاٹھی کی ہیئت بدلنے والی تھی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلے خود یہ یقین دلانا مقصود تھا کہ وہی تمہاری لکڑی کی لاٹھی اژدھا بنسکتی ہے جسے تم ہر وقت اپنے پاس رکھتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
19۔ سوال سے عجب نہیں جو یہ مقصد ہو کہ عصا کا عصا ہونا، اور اس کے مخصوص فوائد وخصائص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذہن میں از سر نو تازہ ہوجائیں تاکہ پھر اس میں جو انقلاب امر الہی سے دیکھیں اس کا خارق ہونا اور زیادہ نمایاں ہوجائے فن تعلیم کے ماہر جو استاد ہوتے ہیں وہ بھی طلبہ سے اکثر سوال اسی غرض سے کرتے ہیں۔ اہل اشارات نے اس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ کاملین بھی اسباب کے ساتھ تمسک کرتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
آیت نمبر 15 تا 24
ترجمہ : قیامت یقیناً آنے والی ہے میں اس کو لوگوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں اور اس کا قرب اس کی علامات سے ظاہر ہوجائے گا تاکہ ہر شخص کو اس (دن) میں اس کے اعمال نیک و بد کا بدلہ دیا جاسکے، تو تجھ کو اس پر یقین رکھنے سے کوئی ایسا شخص باز نہ رکھ سکے، نہ روک سکے جس اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اس کے انکار میں اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے ورنہ تو تو ہلاک ہوجائے گا یعنی اگر تو اس پر یقین رکھنے سے باز رہا تو ہلاک ہوجائے گا اور اے موسیٰ تیرے داہنے ہاتھ میں یہ کیا ہے استفہام تقریر کے لئے ہے تاکہ اس پر معجزہ کا ترتب ہو سکے، کہا یہ میری لاٹھی ہے (جست) لگاتے وقت اور چلنے کے وقت اس پر…
Read the full tafseer →وما تلک بیمینک یموسی۔ اور موسیٰ یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے۔ موسیٰ کو مانوس بنانے اور ان کی
وحشت خاطر کو دور کرنے کے لئے یہ سوال کیا گیا (ورنہ اللہ تو جانتا ہی تھا کہ موسیٰ کے ہاتھ میں کیا ہے اور اس سے موسیٰ ( علیہ السلام) کے کون سے اغراض و مقاصد وابستہ ہیں) چونکہ وہ لاٹھی مظہر معجزہ ہونے والی تھی اس لئے موسیٰ کو ہوشیار کردیا اور سوال تقریری کر کے اقرار کرا لیا ہے کہ واقعی یہ لاٹھی ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(17۔ 18) اور اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ موسیٰ ؑ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا یہ میری لاٹھی ہے جب تھک جاتا ہوں تو اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے درختوں کے پتے جھاڑتا ہوں اور اس سے میرے اور بھی کئی کام نکلتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَمَا تِلْكَ بِيَمِيْنِكَ يٰمُوْسٰى : اللہ تعالیٰ کے اس سوال کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم نہ تھا کہ موسیٰ ؑ کے ہاتھ میں کیا ہے، بلکہ اس میں حکمت یہ تھی کہ موسیٰ ؑ کو اس کے عصا ہونے کا یقین ہوجائے، بعد میں سانپ بننے پر انھیں یہ شک پیدا نہ ہو کہ شاید میں نے کوئی اور چیز پکڑی ہوئی تھی۔ (واللہ اعلم) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کے دل سے ہیبت دور کرنے اور مانوس کرنے کے لیے لاٹھی کے متعلق سوال فرمایا ہو، تاکہ انھیں اگلا حکم دیں۔
Read the full tafseer →(تفسیر 17-18) اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما تلک بیمینک، بعض علماء نے فرمایا : یہ خطاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کیا گیا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فاستمع لما یوحیٰ ۔ (غور سے سنو جو وحی کیا گیا ہے) اور نبی کی ذات میں ایک معجزہ کا ہونا ضروری ہے جس کے ساتھ وہ اپنی نبوت کے صحت کو جان لے۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا میں اور اپنی ذات میں معجزہ کی صورت دکھائی۔ یہ بھی جائز ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے درخت میں معجزہ دکھایا تھا وہ ان کی ذات کے لیے کافی ہو پھر ہاتھ اور عصا زیادہ تاکید کے لیے ہوں اور بطور دلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ سے مراد ہے کہ میں اس کو (یعنی قیامت کے دن کو) کسی پر ظاہر نہیں کروں گا اپنے علاوہ۔
قیامت کی گھڑی مخفی ہے :
2:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ میں اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔
3:۔ عبد بن حمید، اور ابن انباری نے مصاحف میں مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اکاد اخفیھا “ کہ میں نے اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔
4:۔ ابن ابی حاتم اور ابن انباری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ…
Read the full tafseer →[وَمَا تِلْكَ : اور وہ کیا ہے ] [بِيَمِيْنِكَ : آپ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں ] [يٰمُوْسٰى: اے موسٰی (علیہ السلام) ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
مدین سے واپس ہوتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ نظر آنا اور نبوت سے سرفراز کیا جانا اور دعوت حق لے کر فرعون کے پاس جانے کا حکم ہونا
پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے تمام قبیلے (جو تعداد میں بارہ تھے) مصر میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد وہاں ان لوگوں کی کوئی حیثیت نہ رہی پردیسی ہونے کی وجہ سے مصر کے اصل باشندے یعنی قبطی لوگ انہیں بری طرح ستاتے تھے سخت کاموں میں پیلتے تھے اور بیگاریں لیتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں پیدا فرمایا پھر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی
(ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔
نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
12:۔ اس سے مقصود لاٹھی کی تعیین کرانا ہے کہ یہ وہی لاٹھی ہے جس سے تم یہ کام لیتے ہو کہا وہی ہے تو فرمایا ” اَلْقٰهٰا “ اسے زمین پر ڈال دو ۔ لاٹھی کا زمین پر پھینکنا تھا کہ وہ اژدھا بن کر دوڑنے لگا۔ حکم ہوا ڈرو مت اسے پکڑ لو۔ ہم اس کو پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ یہ ایک معجزہ تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر کرکے حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے صحابہ کو تسلی دی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے طور پر حجاب نوری یا ناری کا مشاہدہ کیا ، تو وہاں سے آواز آئی ، اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ لہٰذا میری ہی عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز پڑھو۔ ایسا ہی حکم اللہ نے حضور ﷺ کو بھی دیا ہے اتل ما اوحی الیک……… …………والمنکر (العنکبوت 45) ہماری ازل کردہ کتاب یعنی قرآن حکیم کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں۔ بیشک نماز بےحیائی اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔ نماز اللہ کا ذکر ہی تو ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے من نسی عن…
Read the full tafseer →وَمَا تِلْكَ بِيَمِيْنِكَ يٰمُوْسٰى 17
يمین ( دائیں طرف)
اليَمِينُ : أصله الجارحة، واستعماله في وصف اللہ تعالیٰ في قوله : وَالسَّماواتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ
[ الزمر/ 67] علی حدّ استعمال الید فيه، و تخصیص اليَمِينِ في هذا المکان، والأرض بالقبضة حيث قال جلّ ذكره : وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] «1» يختصّ بما بعد هذا الکتاب . وقوله :إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنا عَنِ الْيَمِينِ
[ الصافات/ 28] أي : عن الناحية التي کان منها الحقّ ، فتصرفوننا عنها، وقوله : لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمِينِ [ الحاقة/ 45] أي : منعناه ودفعناه . فعبّر عن ذلک الأخذ باليَمِينِ کقولک :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔
تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے…
Read the full tafseer →وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْـنِکَ یٰـمُوْسٰی۔ (طٰـہٰ : 17)
(اور اے موسیٰ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ )
عربی زبان میں ہماری زبان کی طرح یمین و یسار یعنی دایاں اور بایاں دونوں ہاتھوں کے لیے بولے جاتے ہیں، لیکن کبھی یمین کا لفظ اس تقسیم سے مجرد ہو کر بھی صرف ہاتھ کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے اور یہاں صرف ہاتھ ہی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دین کے بنیادی حقائق کا علم دینے اور بعض ضروری اخلاقی صداقتوں پر توجہ دلانے کے بعد نہایت اپنائیت سے سوال کیا کہ اے موسیٰ ! آپ کے ہاتھ میں کیا ہے ؟ آپ کے ہاتھ میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جو ایک ہی نظر میں دیکھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فکر آخرت کا سبق دے کر یہ بات سمجھائی گئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! جو شخص آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اس کے پیچھے لگنے اور اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
فرعون پرلے درجے کا نافرمان، باغی اور ظالم انسان تھا جس وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلی وحی کے وقت بتلا یا اور سمجھایا گیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! بیشک فرعون حد سے بڑھا ہوا ظالم اور نافرمان ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کے خوف کی وجہ سے آپ کو اس کی کسی بات کو نہیں ماننا چاہیے۔ اگر آپ خوف یا کسی وجہ سے حق بات کہنے سے رک گئے یا خوف کی وجہ سے اس کے سامنے جھک گئے تو یاد رکھیں آپ بھی ہلاک ہونے والوں…
Read the full tafseer →17: وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یٰـمُوْسٰی (اے موسیٰ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے) ۔
نحو : مامبتدا اور تلکؔ اس کی خبر ہے۔ اور تلک اگرچہ اشارہ بعید ہے مگر یہاں ہذہٖ کے معنی میں ہے۔ بیمینک ؔ یہ حال ہے۔ اس میں اشارہ کا معنی عامل ہے۔ ای قارّۃ یا ماخوذۃ بیمینک نمبر 2۔ تلک موصول ہے۔ اس کا صلہ بیمنیک ہے۔ اور سوال اس لئے کیا تاکہ متنبہ ہوں اور معجزے کا اظہار اس کے متعلق خوب پختگی کے بعد ہو کہ میں اندھیرے میں کہیں اکڑا ہوا سانپ تو نہیں اٹھا لایا۔ نمبر 2۔ عادی بنانے کیلئے تاکہ اس کے بدلنے سے وہ نہ گھبرائیں نمبر 3۔ مانوس کرنے کیلئے اور مکالمہ کی مصیبت کو زائل کرنے کیلئے۔
Read the full tafseer →17۔ وماتلک بیمینک یاموسی، ، اس سوال میں یہ حکمت ہے کہ موسیٰ کو مانوس بنانے اور ان کی وحشت کو دور کرنے کے لیے یہ سوال کیا گیا کیونکہ جب اس لاٹھی کو سانپ کی شکل دی جائے گی تو یہ معلوم کرلیں گے کہ یہ عظیم معجزہ ہے عرب کے ہاں بھی بھی یہ عادت تھی کہ کسی کی بات کو پختہ کرنے کے لیے کہاجاتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے تاکہ اس کو بعد میں شک نہ ہوتا کہ اس کے ذریعے سے قلب کی معرفت زبان سے ادا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–36
17۔ 32:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبری جو ملی اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں معجزوں کے ملنے کا ذکر ہے اگرچہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے اس لکڑی کا حال پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جس لکڑی کا حال بیان کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے دم بھر میں اس کو اپنی قدرت سے سانپ بنا دیا اس بات کے اچھی طرح جتلانے میں یہ حکمت تھی کہ فرعون کو معجزہ دکھانے اور جادوگروں کے مقابلہ کے وقت اس لکڑی کا سانپ بن جانا موسیٰ (علیہ السلام) کے دھیان میں رہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–35
آیت 17
جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انہیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تایلد سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لئے فرمایا : (وما تلک بیبیک یموسی) ” اے موسیٰ ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔ موسیٰ نے جواب میں عرض کیا : ھی عصای اتوکوا علیھا واھش بھا علی غنمی) ” یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–38
سوال عصائے موسٰی پر جواب موزوں
قول باری ہے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ قالھی عصای اتوکا علیھا ۔ اور اے موسیٰ ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔” یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں۔ “) ایک قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لاٹھی کے متعلق پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ اس وقت جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ لاٹھی ہی ہے اور اس کے بارے میں اچھی طرح بات سمجھ لینے اور جانچ پرکھ کرلینے کے بعد جب لاٹھی کی کارکردگی ظاہر ہو تو اس وقت اس کے اعجاز کی حیثیت اور معجز نمائی کیفیت پوری طرح واضح ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جواب میں عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
16 حضرت موسیٰ کو نماز قائم کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور نماز قائم کرو میری یاد کیلئے "۔ کہ یہ میری یاد دلشاد کا سب سے بڑا ذریعہ اور عمدہ طریقہ ہے۔ اسی لئے حدیث شریف میں اس کو مومنوں کی معراج قرار دیا گیا ہے۔ اور جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ اس سے مومن اپنے رب سے گفتگو اور مکالمے کے شرف سے مشرف ہوتا ہے۔ اور جب اس طرح صدق و صفائی کے ساتھ تم مجھے یاد کرو گے تو میں بھی تمہیں یاد کروں گا ۔ { فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ } ۔ اور جب میں تمہیں یاد کروں تو اس سے بڑھ کر تمہارے لیے شرف و امتیاز اور انعام و اکرام اور کیا ہوسکتا ہے۔ اور اس ضمن میں یہ بات خاص طور پر محلوظ خاطر اور پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت
تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–24
سورة طہ :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ میں لاٹھی ہے مگر ان سے یہ سوال اس لئے کہا کہ حضرت موسیٰ لاٹھی کے لاٹھی ہونے کا اقرار کریں اور پھر اپنے رب کی قدرت کا کرشمہ دیکھیں (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
(20:16) فلا یصدنک۔ فعل نہی واحد مذکر غائب بانون ثقیلہ برائے تاکید۔ صد سے ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ پس ہرگز تجھے نہ روک دے۔ ضمیر فاعل کا مرجع من لا یؤمن بھا ہے۔ عنھا ای عن تصدیق الساعۃ قیامت کی تصدیق سے۔ ھاضمیر کا مرجع الساعۃ ہے۔ فتردی۔ میںسببیہ ہے۔ تردی مضارع واحد مذکر حاضر ردی یردی (باب سمع) ردی مصدر بمعنی ہلاک ہونا۔ فتردی ورنہ تم بھی ہلاک ہوجائو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 24
یمین داہنا ہاتھ، عصا لاٹھی۔ اتوکا میں سہارا لیتا ہوں۔ اھش میں پتے جھاڑتا ہوں۔ مارب (ماربۃ) نفع، فائدہ۔ حیۃ سانپ۔ نعید ہم لوٹا دیں گے۔ سیرۃ الاولی پہلی حالت۔ اضمم ملالے۔ جناح بازو۔ بیضاء روشن، سید۔ غیر سوء بغیر کسی عیب اور تکلیف کے۔ طغی اس نے سرکشی کی۔
تشریح : آیت نمبر 17 تا 24
گزشتہ آیات سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ” وادی طویٰ “ کی مقدس وادی میں پہنچے اور انہوں نے ایک دھکتے ہوئے درخت کو دیکھا جو عجیب کیفیات کیساتھ روشن ہو رہا تھا تو آواز آئی اے موسیٰ ! یہ میں ہوں تمہارا رب، یہ سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزے ملنے کا ذکر
حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا :” اے موسیٰ ! تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا چیز ہے “ ؟ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا :” یہ میرے ہاتھ کی لکڑی ہے۔ میں اس پر ٹیک لگایا کرتا ہوں، اور اس سے اپنی بکریوں کے واسطے پتے جھاڑا کرتا ہوں، اور میرے لئے اس میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں “ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لکڑی کا حال بیان کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا :” موسیٰ ! تم اس لکڑی کو زمین پر ڈال دو “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو زمین پر ڈال دیا، اور ڈالتے ہی اس لکڑی کا سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–24
[3] اس قصے کے مختلف اجزا سورة اعراف، سورة قصص اور سورة طہ سے جمع کئے جاسکتے ہیں۔ مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو مکا مارا تھا۔ اتفاق سے وہ مرگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) مارے ڈر کے مدین بھاگ گئے۔ وہاں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بکریاں چرانے پر رکھ لیا اور اپنی بیٹی سے نکاح کردیا۔ دس برس سسرال میں رہے پھر اپنی ماں اور بہن سے ملنے کا اشتیاق ہوا تو بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔ جاڑے کا موسم اور اندھیری رات، راستہ بھول گئے۔ دور سے آگ دیکھ کر خیال کیا کہ یا تو وہاں سے تھوڑی سی آگ مل جائے گی تاکہ بال بچوں کو رات بھر گرم رکھنے کا بندوبست ہوجائے یا کم از کم وہاں سے راستے کا پتہ چل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
(ف 2) یہاں سے تجلی بصورت الہام کا آغاز ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تمہیں منتخب کرلیا ہے آئندہ سے تیرا دل میرے کلام کا مہبط ہے ، سنو ، اور توجہ سے سنو ۔
حل لغات :
طوی : ملک شام میں ایک وادی کا نام ہے ، اسی کو وادی امین کہتے ہیں ۔
” احترتک “۔ سے ظاہر ہے ، نبوت کا خلعت یونہی نہیں مرحمت فرمایا جاتا ، بلکہ اس کے لئے انتخاب اور اصطفا کی ضرورت ہے ، ابتدا ہی سے انبیاء (علیہم السلام) میں ایک قسم کا جو ہر قابلیت ہوتا ہے ، جو وقت مقررہ کے آجانے پر اظہار پذیر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس وقت جب کہ ذہن وفکر کی ضروریات پختہ ہوجاتی ہیں ، مقام نبوت پر انبیاء کو فائز کرتے ہیں ، اور…
Read the full tafseer →- 17 اور اے موسیٰ ! یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا چیز ہے۔ بطور استفہام تقریری کے ارشاد ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
ف 5۔ بڑے مسئلے اصول میں تین تھے۔ توحید و نبوت و معاد۔ تینوں کی تعلیم کی گئی اور فاعبدنی میں تمام فروع آگئے، نماز کو شرف کی وجہ سے جداگانہ بھی ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →اے موسیٰ ! تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟
17۔ یہ سوال کس نے کیا ہے کہ اے موسیٰ ! تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ، کیا اللہ تعالیٰ اس سے واقف نہیں تھا ؟ کیوں یقینا واقف تھا اور اس کو معلوم تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں کیا ہے ۔ یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے جوتا اتار دے اے موسیٰ ! میں ہم نے کی کہ کسی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے اس طرح کا کلام عرف عام میں ہے کہ ایک بیٹھے ہوئے کہ دیکھیں تو کہیں گے کیا کر رہے ہو ؟ اور پھر خود ہی جواب دیں گے بیٹھے ہوئے ہو ۔ کھانا کھاتے کو دیکھیں گے تو پوچھ لیں گے کیا کر رہے ہو اور پھر خود ہی جواب دیں گے کھانا کھا رہے ہو ۔ اور مقصود اس سے…
Read the full tafseer →Commentary
وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَىٰ The question: "What is in your right hand, 0 Musa"? - 20:17 marks the beginning of the special favour which Allah Ta` ala showed towards Sayyidna Musa (علیہ السلام) in order to dispel the fear created by the unusual sights that he had seen and the Divine Word that he had heard. The style in which Allah Ta` ala addressed him was friendly, inquiring from him what he held in his hand. Besides there was a subtle purpose in the question, namely to make him aware that what he held in his hand was a staff made of wood and nothing more. And when he had…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
11. This question was not asked for the sake of getting any information, for Allah knew that Moses (peace be upon him) held a staff in his hand. The question was posed with a view to impressing upon him the fact that it was a staff so that he might be mentally prepared to see the miracle which was going to be performed with it.
Read the full tafseer →