Taa-Haa 20:18

Taa-Haa · from ayah 18

20:18

قَالَ هِیَ عَصَایَ ۚ— اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَاَهُشُّ بِهَا عَلٰی غَنَمِیْ وَلِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰی ۟قَالَ هِىَ عَصَاىَ‌ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَيۡهَا وَاَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَـنَمِىۡ وَلِىَ فِيۡهَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰى

انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے۔ اس پر میں سہارا لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے اور بھی کئی فائدے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "It is my staff; I lean upon it, and I bring down leaves for my sheep and I have therein other uses."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:18

موسیٰؑ نے جواب دیا "یہ میری لاٹھی ہے، اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اس سے لیتا ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے۔ اس پر میں سہارا لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے اور بھی کئی فائدے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جواب دیا کہ یہ میری ﻻٹھی ہے، جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیا کرتا ہوں اور بھی اس میں مجھے بہت سے فائدے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

موسیٰ نے کہا : یہ میری لاٹھی ہے، میں اس کا سہارا لیتا ہوں، اور اس سے اپنی بکریوں پر (درخت سے) پتے جھاڑتا ہوں، اور اس سے میری دوسری ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

عرض کی یہ میرا عصا ہے میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اس میں اور کام ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

انہوں نے کہا: یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور میں اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے کئی اور فائدے بھی ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے لیے اس میں کئی اور ضرورتیں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

موسیٰ نے جواب دیا : یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں (علاوہ ازیں) میرے لیے اس میں اور بھی کئی فوائد ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا، یہ میری لٹھیا ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے دوسرے فائدے بھی ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

عرض کیا یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں، اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیتا ہوں، اور اس میں میرے اور بھی کئی کام ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے یہ میرا عصا ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس سے میرے اور بھی کام (نکلتے) ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہا : یہ میرا عصا ہے میں اس پر ٹیک بھی لگا لیتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے (درختوں سے) پتے بھی جھاڑ لیتا ہوں اور اس میں میرے لیے اور بھی کئی کام ہوتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے اس پر میں سہارا لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کیلئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بھی کئی فائدے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Moses answered: "This is my staff. I lean on it (when I walk), and with it I beat down leaves for my flock, and I have many other uses for it."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :It is my staff. I lean on it, and I beat down leaves with it for my sheep, and I have many other uses for it.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :It is my staff. I lean on it, and I beat down leaves with it for my sheep, and I have many other uses for it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "This is my stick, whereon I lean, and wherewith I beat down branches for my sheep, and wherein I find other uses."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: This is my staff whereon I lean, and wherewith I bear down branches for my sheep, and wherein I find other uses.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "It is my staff; I lean upon it, and I bring down leaves for my sheep and I have therein other uses."

— Saheeh International

He replied, "It is my staff. I lean on it, bring down leaves for my sheep with it and I need it for other reasons.

— Muhammad Sarwar

He said: This is my staff: I recline on it and I beat the leaves with it to make them fall upon my sheep, and I have other uses for it.

— Muhammad Habib Shakir

He said: it is my staff; I lean there on; and therewith beat down fodder for my sheep; and for me therein are other purposes.

— Abdul Majid Daryabadi

He said, "It is my rod: on it I lean; with it I beat down fodder for my flocks; and in it I find other uses."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–21

حضرت موسیٰ ؑ کو معجزات ملے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ایک بہت بڑے اور صاف کھلے معجزے کا ذکر ہو رہا ہے جو بغیر اللہ کی قدرت کے ناممکن اور جو غیر نبی کے ہاتھ پر بھی ناممکن۔ طور پہاڑ پر دریافت ہو رہا ہے کہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ یہ سوال اس لئے تھا کہ حضرت موسیٰ ؑ کی گھبراہٹ دور ہوجائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سوال بطور تقریر کے ہے یعنی تیرے ہاتھ میں لکڑی ہی ہے یہ جیسی کچھ ہے تجھے معلوم ہے اب یہ جو ہوجائے گی وہ دیکھ لینا۔ اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ عرض کرتے ہیں یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 12 اگرچہ جواب میں صرف اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ حضور، یہ لاٹھی ہے، مگر حضرت موسیٰ نے اس سوال کا جو لمبا جواب دیا وہ ان کی اس وقت کی قلبی کیفیت کا ایک دلچسپ نقشہ پیش کرتا ہے۔ قاعدے کی بات ہے کہ جب آدمی کو کسی بہت بڑی شخصیت سے بات کرنے کا موقع مل جاتا ہے تو وہ اپنی بات کو طول دینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اسے زیادہ سے زیادہ دیر تک اس کے ساتھ ہم کلامی کا شرف حاصل رہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–19

قَالَ هِىَ عَصَايَ ، حضرت موسیٰ ؑ سے سوال صرف اتنا ہوا تھا کہ ہاتھ میں کیا چیز ہے اس کا اتنا جواب کافی تھا کہ لاٹھی ہے مگر حضرت موسیٰ ؑ نے اس جگہ تین باتیں اصل سوال کے جواب سے زیادہ عرض کیں اول یہ کہ یہ عصا میری ہے، دوسرے یہ کہ میں اس سے بہت سے کام لیتا ہوں ایک یہ کہ اس پر ٹیک لگا لیتا ہوں دوسرے یہ کہ اس سے اپنی بکریوں کے لئے درختوں کے پتے چھاڑتا ہوں تیسرے یہ کہ اس سے اور بھی میرے بہت سے کام نکلتے ہیں، اس طویل اور تفصیلی جواب میں عشق و محبت اور اس کے ساتھ رعایت ادب کی جامعیت کا کمال ظاہر ہوتا ہے۔ عشق و محبت کا تقاضا ہے کہ جب محبوب مہربان ہو کر متوجہ ہے تو بات دراز کی جائے تاکہ اس کا زیادہ سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 18 عش کے معنی عش کے معنی درخت سے پتے جھاڑنے کے لئے ہیں۔ عکبری نے اھش بھا علی غنمی کے معنی اقوم بھا علی غنمی کے لئے ہیں۔ یعنی اس لٹھیا سے میں اپنے ریوڑ کی چرواہی اور حفاظت کرتا ہوں۔ اگر لعنت سے اس معنی کی شہادت مل جائے تو بہت خوب ہے لیکن عکبری نے کوئی شہادت نہیں پیش کی ہے۔ اس وجہ سے میں نے معروف معنی ہی کی پیروی کی ہے۔ ریذ بود حکایت راز تر گفتم ! حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ یہ میری لٹھیا ہے جس پر میں عندالضرورت ٹیک بھی لگاتا ہوں، اپنی بکریوں کے لئے درختوں سے پتے بھی جھاڑ لیتا ہوں اور میرے دوسرے کام بھی اس سے نکلتے ہیں۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے سوال کا صرف سیدھا سادا جواب دے دینے پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–21

21۔ 1 یہ حضرت موسیٰ ؑ کو معجزہ عطا کیا گیا جو عصائے موسیٰ ؑ کے نام سے مشہور ہے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–21

7: سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو یہ یقین کیسے آیا کہ یہ آواز اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو یہ اطمینان عطا فرمادیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے ہم کلام ہیں۔ اور حالات بھی ایسے پیدا کردئیے گئے کہ انہیں یہ یقین آجائے۔ مثلاً بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو یہ عجیب منظر نظر آیا کہ وہ آگ ایک درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے۔ مگر درخت کا کوئی پتہ جلتا نہیں ہے۔ انہوں نے انتظار کیا کہ شاید کوئی چنگاری اڑ کر ان کے پاس آجائے۔ مگر وہ بھی نہ آئی۔ پھر انہوں نے کچھ گھاس پھونس لے کر اسے آگ کے قریب کیا، تاکہ اس میں آگ لگ جائے تو وہ آگ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

وما تلک۔۔۔۔۔ مارب اخری (71۔ 81) ’ سوال ہوتا ہے کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنے حال میں نہ تھے۔ دیکھ کر بتایا کہ عصا ہے۔ سوال میں یہ نہ تھا کہ عصا کے فوائد کیا ہیں ؟ صرف یہ تھا کہ ہاتھ میں کیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سمجھا کہ جو ہاتھ میں ہے ‘ اس کی ماہیت تو نہیں پوچھی جاتی ‘ ماہیت تو واضح ہے ‘ بلکہ عصا کے فوائد پوچھے جارہے ہیں ‘ اس لیے انہوں نے فوائد گنوا دیئے ‘ جو فوائد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جانتے تھے ‘ وہ بتا دیئے کہ وہ اس کا سہارا لیتے ہیں ‘ اس کے ذریعہ درختوں کے پتے جھاڑتے ہیں تا کہ بکریاں کھا لیں۔ آپ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بکریاں چراتے تھے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی اس میں شبہ کیا ہے۔ وہ لاٹھی ہے جسے ہمیشہ ہاتھ میں رکھتا ہوں، اس پر ٹیک لگاتا ہوں، بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں، دشمن کو اور موذی جانوروں کو دفع کرتا ہوں اور بہت سی ضرورتوں میں لاٹھی کا کام لیتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 18–20

آیت 18 قَالَ ہِیَ عَصَایَج ” بظاہر عصا کے بارے میں سوال کا بس یہی جواب کافی تھا ‘ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سلسلے میں زیادہ تفصیل بیان کردی۔ زیادہ تر مفسرین کے نزدیک اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے مخاطبت اور مکالمے کے شوق و ذوق میں اپنی بات کو بڑھانے کی کوشش کی تھی۔ چناچہ آپ علیہ السلام نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے عرض کیا :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–20

14 وحی الہی کی لذت :۔ اللہ تعالیٰ کے سوال کا جواب اتنا ہی کافی اور مکمل تھا کہ یہ میری لاٹھی ہے مگر اس آواز میں کچھ ایسی لذت تھی کہ ان لذت کے لمحات کو موسیٰ (علیہ السلام) طول دینا چاہتے تھے۔ لہذا ساتھ ہی اور بھی کئی متعلقہ باتیں بتلا دیں تاکہ انھیں کچھ دیر مزید ہم کلامی کا شرف حاصل رہے۔ 15 مثلا اپنی بھیڑوں کو ہانکتا ہوں، ریوڑ کی حفاظت کرتا ہوں، درندوں کے حملہ سے بچاتا اور ان کا تعاقب کرتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 17–18

19۔ سوال سے عجب نہیں جو یہ مقصد ہو کہ عصا کا عصا ہونا، اور اس کے مخصوص فوائد وخصائص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذہن میں از سر نو تازہ ہوجائیں تاکہ پھر اس میں جو انقلاب امر الہی سے دیکھیں اس کا خارق ہونا اور زیادہ نمایاں ہوجائے فن تعلیم کے ماہر جو استاد ہوتے ہیں وہ بھی طلبہ سے اکثر سوال اسی غرض سے کرتے ہیں۔ اہل اشارات نے اس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ کاملین بھی اسباب کے ساتھ تمسک کرتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–24

آیت نمبر 15 تا 24 ترجمہ : قیامت یقیناً آنے والی ہے میں اس کو لوگوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں اور اس کا قرب اس کی علامات سے ظاہر ہوجائے گا تاکہ ہر شخص کو اس (دن) میں اس کے اعمال نیک و بد کا بدلہ دیا جاسکے، تو تجھ کو اس پر یقین رکھنے سے کوئی ایسا شخص باز نہ رکھ سکے، نہ روک سکے جس اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اس کے انکار میں اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے ورنہ تو تو ہلاک ہوجائے گا یعنی اگر تو اس پر یقین رکھنے سے باز رہا تو ہلاک ہوجائے گا اور اے موسیٰ تیرے داہنے ہاتھ میں یہ کیا ہے استفہام تقریر کے لئے ہے تاکہ اس پر معجزہ کا ترتب ہو سکے، کہا یہ میری لاٹھی ہے (جست) لگاتے وقت اور چلنے کے وقت اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال ہی عصای موسیٰ نے کہا یہ میری لاٹھی ہے۔ مقاتل نے کہا اس لاٹھی کا نام تبعہ تھا بغوی نے لکھا ہے اس کا بالائی سرا دو شاخہ تھا اور نچلی جانب برچھی پیوست تھی۔ اتوکو علیہا واہش بہا علی غنمی میں اس سے ٹیک لگاتا ہوں اور بکریوں کے لئے (درختوں سے) پتے جھاڑتا ہوں یعنی تھک جاتا ہوں تو اس سے سہارا لیتا ہوں اگر اوپر اچھلتا ہوں تب اس سے سہارا لیتا ہوں اور جب بکریاں چرتی ہیں و اس پر ٹیک لگا کر میں کھڑا رہتا ہوں۔ صاحب قاموس نے ہَشٌ کا معنی لکھا ہے اندھا دھند درخت کو پیٹنا (تا کہ اس سے پتے جھڑ کر نیچے گرپڑیں) ۔ ولی فیہا مارب اخری۔ اور میری اس سے اور ضرورتیں بھی وابستہ ہیں 1 ؂۔ یعنی اور حاجتوں کے پورے ہونے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–18

(17۔ 18) اور اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ موسیٰ ؑ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا یہ میری لاٹھی ہے جب تھک جاتا ہوں تو اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے درختوں کے پتے جھاڑتا ہوں اور اس سے میرے اور بھی کئی کام نکلتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ هِىَ عَصَايَ۔۔ : جواب میں اگرچہ اتنا ہی کہہ دینا کافی تھا کہ ”یہ میری لاٹھی ہے“ مگر موسیٰ ؑ نے یہ بتانے کے بعد اس کے کئی فوائد بھی بیان کردیے۔ اس کی ایک توجیہ تو یہ ہے کہ موسیٰ ؑ نے خیال کیا کہ یہ بات ظاہر ہے کہ میرے ہاتھ میں لاٹھی ہے اور ظاہر بات کے متعلق سوال نہیں ہوتا، اس لیے انھوں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اس لیے پوچھا ہے کہ میں بتاؤں کہ میں نے لاٹھی کیوں پکڑ رکھی ہے ؟ اس لیے جواب میں ”یہ لاٹھی ہے“ کہہ کر اس کے چند فوائد بیان کیے، مگر آخر میں بات مختصر کردی کہ اگر مزید وضاحت کی ضرورت ہوئی تو پھر پوچھ لیا جائے گا۔ (ابن عاشور) دوسری توجیہ علمائے معانی نے یہ بیان فرمائی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اتو کوا علیھا یعنی چلنے اور ٹھہرنے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں۔ اسی سے الا تکاء ہے۔ واھش بھا اور اھش بھی ہے ؛ یہ نحاس نے ذکر کیا ہے یہ نخعی کی قرأت ہے یعنی میں اس کے ساتھ پتے جھاڑتا ہوں یعنی درختوں کی ٹہنیوں کو مارتا ہوں تاکہ اسکے پتے گریں تاکہ میری بکریوں پر ان کا کھانا آسان ہوجائے۔ راجز نے کہا : اھش بالعصا علی اغنامی من ناعم الاراک والبشام کہا جاتا ہے : ھش علی غنمہ یھش۔ ھاء کے ضمہ کے ساتں۔ ھش الی الرجل یھش ھاء کے فتحہ کے ساتھ۔ اسی طرح ھش یھش وھششت انا ہے۔ حضرت عمر ؓ کی حدیث میں ہے : ھششت یوما فقبلت وانا صالم (2) شمر نے کہا : اس کا معنی ہے میں خوش ہوا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–24

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ سے مراد ہے کہ میں اس کو (یعنی قیامت کے دن کو) کسی پر ظاہر نہیں کروں گا اپنے علاوہ۔ قیامت کی گھڑی مخفی ہے : 2:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ میں اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔ 3:۔ عبد بن حمید، اور ابن انباری نے مصاحف میں مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اکاد اخفیھا “ کہ میں نے اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم اور ابن انباری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [هِىَ : یہ ] [عَصَايَ : میری لاٹھی ہے ] [اَتَـوَكَّؤُا : میں ٹیک لگاتا ہوں ] [عَلَيْهَا : اس پر ] [وَاَهُشُّ : اور میں پتے جھاڑتا ہوں ] [بِهَا : اس سے ] [عَلٰي غَنَمِيْ : اپنی بکریوں پر ] [وَلِيَ : اور میرے لئے ] [فِيْهَا : اس میں ] [مَاٰرِبُ اُخْرٰى: ضرورت پوری کرنے کے دوسرے مواقع ہیں ] ھـ ش ش [ھَشًّا : (ن) ] درخت سے پتے جھاڑنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ء ر ب [اَرَبًا : (س) ] کسی چیز کا بہت دلدادہ و مشتاق ہونا۔ حاجتمند ہونا۔ ضرورت مند ہونا۔ اِرْبَۃٌ حاجت ضرورت۔ اَوِالتَّابِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرَبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ (یا تابع لوگ یعنی نوکر بغیر (جنسی)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–18

مدین سے واپس ہوتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ نظر آنا اور نبوت سے سرفراز کیا جانا اور دعوت حق لے کر فرعون کے پاس جانے کا حکم ہونا پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے تمام قبیلے (جو تعداد میں بارہ تھے) مصر میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد وہاں ان لوگوں کی کوئی حیثیت نہ رہی پردیسی ہونے کی وجہ سے مصر کے اصل باشندے یعنی قبطی لوگ انہیں بری طرح ستاتے تھے سخت کاموں میں پیلتے تھے اور بیگاریں لیتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں پیدا فرمایا پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–36

تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی (ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔ نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–21

12:۔ اس سے مقصود لاٹھی کی تعیین کرانا ہے کہ یہ وہی لاٹھی ہے جس سے تم یہ کام لیتے ہو کہا وہی ہے تو فرمایا ” اَلْقٰهٰا “ اسے زمین پر ڈال دو ۔ لاٹھی کا زمین پر پھینکنا تھا کہ وہ اژدھا بن کر دوڑنے لگا۔ حکم ہوا ڈرو مت اسے پکڑ لو۔ ہم اس کو پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ یہ ایک معجزہ تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–24

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر کرکے حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے صحابہ کو تسلی دی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے طور پر حجاب نوری یا ناری کا مشاہدہ کیا ، تو وہاں سے آواز آئی ، اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ لہٰذا میری ہی عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز پڑھو۔ ایسا ہی حکم اللہ نے حضور ﷺ کو بھی دیا ہے اتل ما اوحی الیک……… …………والمنکر (العنکبوت 45) ہماری ازل کردہ کتاب یعنی قرآن حکیم کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں۔ بیشک نماز بےحیائی اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔ نماز اللہ کا ذکر ہی تو ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے من نسی عن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ ہِىَ عَصَايَ۝ 0ۚ اَتَـوَكَّؤُا عَلَيْہَا وَاَہُشُّ بِہَا عَلٰي غَنَمِيْ وَلِيَ فِيْہَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى۝ 18 عصا العَصَا أصله من الواو، وعَصَى عِصْيَاناً : إذا خرج عن الطاعة، وأصله أن يتمنّع بِعَصَاهُ. آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] . ( ع ص ی ) العصا ( لاٹھی ) یہ اصل میں ناقص وادی ہے۔ عصی عصیانا کے معنی اطاعت سے نکل جانے کے ہیں دراصل اس کے معنی ہیں اس نے لاٹھی ( عصا ) سے اپنا بچاؤ کیا ۔ قرآن میں ہے : آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ( جواب ملا کہ ) اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ۔ وكأ الوِكَاءُ : رباط الشیء، وقد يجعل الوِكَاءُ اسما لما يجعل فيه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–24

ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔ تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ ھِیَ عَصَایَ ج اَتَوَکَّؤْا عَلَیْھَا وَاَھُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیْ وَلِیَ فِیْھَا مَاٰرِبُ اُخْرٰی۔ (طٰـہٰ : 18) (عرض کی یہ میرا عصا ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے چھاڑتا ہوں اور میرے لیے اس میں کئی اور فائدے بھی ہیں۔ ) اَتَوَکَّؤْا…ٹیک لگانا، سہارا لینا۔ اَھُشُّ … درختوں کے پتے جھاڑنا۔ مَاٰرِبُ …اس کا واحد مَأرُبَۃٌ، مَأرِبَۃٌ، مَأرَبَۃٌ اس کا معنی ہے حوائج۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب سوال کا جواب صرف اتنا بھی ہوسکتا تھا کہ یہ میری لٹھیا ہے کیونکہ اس قدر جواب کفایت کرتا ہے۔ لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آپ ( علیہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–21

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فکر آخرت کا سبق دے کر یہ بات سمجھائی گئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! جو شخص آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اس کے پیچھے لگنے اور اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ فرعون پرلے درجے کا نافرمان، باغی اور ظالم انسان تھا جس وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلی وحی کے وقت بتلا یا اور سمجھایا گیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! بیشک فرعون حد سے بڑھا ہوا ظالم اور نافرمان ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کے خوف کی وجہ سے آپ کو اس کی کسی بات کو نہیں ماننا چاہیے۔ اگر آپ خوف یا کسی وجہ سے حق بات کہنے سے رک گئے یا خوف کی وجہ سے اس کے سامنے جھک گئے تو یاد رکھیں آپ بھی ہلاک ہونے والوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

18: قَالَ ھِیَ عَصَایَ اَتَوَ کَّؤُا عَلَیْھَا ( کہا یہ میری لاٹھی ہے اس سے ٹیک لگاتا ہوں) یعنی جب میں تھک جاتا ہوں تو اس سے سہارا لیتا ہوں۔ یا جب میں گلے کے کنارے پر کھڑا ہوتا ہوں تو اس سے سہارا لیتا ہوں اور جب اترتا ہوں تب بھی اس سے سہارا لیتا ہوں۔ وَ اَھُشُّ بِھَا عَلٰی غَنَمِیْ ( اور اس کے ذریعے اپنی بکریوں کیلئے پتے جھاڑتا ہوں) درختوں کے پتے اپنی بکریوں کیلئے جھاڑتا ہوں تاکہ وہ اس کو کھائیں۔ وَلِیَ فِیْھَا مَاٰرِبُ اُخْرٰی ( اور میری اس سے اور ضرورتیں بھی وابستہ ہیں) قراءت : حفص نے وَلِیَ فیھا پڑھا ہے۔ مأرب جمع مأربۃ تینوں حرکات کے ساتھ اس کا معنی ضرورت۔ اخرٰی میں قیاس کا تقاضا یہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18۔ قالھی عصای، ، اس کا بالائی سر دوشاخہ تھا اور نچلی جانب برچھی پیوست تھی، مقاتل نے کہا اس لاٹھی کا نام تبعہ تھا۔ اتوکا علیھا، کہ جب میں چلتا ہوں تو اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور جب میں تھک جاتا ہوں تو اس پر ٹیک لگاکرکھڑا ہوجاتا ہوں۔ واھش بھا علی غنمی، اس کے ذریعے سے میں درخت پر مارتا ہوں اور اس سے سوکھے پتے جھڑتے ہیں جن کو بھیڑ بکریاں کھاتی ہیں،۔ عکرمہ اس کو، اھس، سین کے ساتھ پڑھتے ہیں اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے ذریعے بکریوں کو چلاتاہوں۔ ھس کہتے ہیں کہ بکریوں کو زجر کرنا۔ ولی فیھا مارب اخری، اس لاٹھی کے ذریعے اور کام بھی سرانجام دیتا ہوں اور منافع بھی اس سے حاصل کرتاہوں۔ مارب ، جمع…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–36

17۔ 32:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبری جو ملی اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں معجزوں کے ملنے کا ذکر ہے اگرچہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے اس لکڑی کا حال پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جس لکڑی کا حال بیان کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے دم بھر میں اس کو اپنی قدرت سے سانپ بنا دیا اس بات کے اچھی طرح جتلانے میں یہ حکمت تھی کہ فرعون کو معجزہ دکھانے اور جادوگروں کے مقابلہ کے وقت اس لکڑی کا سانپ بن جانا موسیٰ (علیہ السلام) کے دھیان میں رہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–35

آیت 17 جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انہیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تایلد سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لئے فرمایا : (وما تلک بیبیک یموسی) ” اے موسیٰ ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔ موسیٰ نے جواب میں عرض کیا : ھی عصای اتوکوا علیھا واھش بھا علی غنمی) ” یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–38

سوال عصائے موسٰی پر جواب موزوں قول باری ہے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ قالھی عصای اتوکا علیھا ۔ اور اے موسیٰ ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔” یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں۔ “) ایک قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لاٹھی کے متعلق پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ اس وقت جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ لاٹھی ہی ہے اور اس کے بارے میں اچھی طرح بات سمجھ لینے اور جانچ پرکھ کرلینے کے بعد جب لاٹھی کی کارکردگی ظاہر ہو تو اس وقت اس کے اعجاز کی حیثیت اور معجز نمائی کیفیت پوری طرح واضح ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جواب میں عرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–19

21 تطویل کلام بر بنائے لذت و انبساط : سوال کا جواب تو اتنا ہی تھا کہ " یہ میری لاٹھی ہے " اور بس۔ مگر لذت کلام سے مزید شاد کامی کے لئے حضرت موسیٰ نے آگے اس سے متعلق مزید باتیں بھی عرض کردیں۔ اور ظاہر ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ سے شرف تخاطب کی لذت سے بڑھ کر لذت اور کس کی ممکن ہوسکتی ہے۔ بہرکیف حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے پوچھا کہ " آپ کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ " تاکہ آپ اپنی لاٹھی کے بارے میں یقین کرلیں۔ تاکہ بعد میں اس کی معجزانہ کیفیت سے پریشان نہ ہوجائیں۔ سو حضرت حق کی طرف سے حضرت موسیٰ سے یہ سوال ایناس اور تقریر کے لیے تھا۔ (ابن کثیر، معارف القرآن اور صفوۃ وغیرہ) ۔ اللہم فزدنا بک ایمانا و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–24

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–24

سورة طہ : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 جواب میں اگرچہ اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ یہ لاٹھی ہے مگر حضرت موسیٰ نے یہ لمبا جواب اس لئے دیا کہ انہیں اپنے رب سے ہم کلامی کا جو شرف حال ہوا تھا وہ اس سے زیادہ لطف لینا چاہتے تھے۔ (کذا ذکر اصحاب المعانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:18) اتوکؤ علیھا۔ توکؤ(تفعل) مصدر ہے مضارع واحد متکلم۔ توکأ یتوکأ توکؤ ٹیک لگانا۔ علی کے صلہ کے ساتھ بمعنی (اس کے) سہارے ٹیک لگانا۔ اتوکلأ علیھا۔ میں اس (عصا) پر ٹیک لگاتا ہوں۔ اس پر سہارا لگاتا ہوں۔ الوکاء کے معنی کسی چیز کے سربند کے ہیں اور کبھی وکائ اس ظرف کو بھی کہہ دیا جاتا ہے جس میں کوئی چیز ڈال کر اس کا منہ باندھ دیا گیا ہو۔ اسی سے اوکأت فلانا جس کے معنی کسی کے لئے تکیہ لگا دینے کے ہیں توکأ علی العصا۔ اس نے عصا پر ٹیک لگائی اور اس سے قوت حاصل کی۔ اھش۔ ھش یھش ھشا۔ (باب نصر) سے مضارع واحد متکلم میں پتے جھاڑتا ہوں۔ الھش کے معنی بھی ھز کی طرح کسی چیز کو حرکت دینے کے ہیں لیکن یہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–24

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 24 یمین داہنا ہاتھ، عصا لاٹھی۔ اتوکا میں سہارا لیتا ہوں۔ اھش میں پتے جھاڑتا ہوں۔ مارب (ماربۃ) نفع، فائدہ۔ حیۃ سانپ۔ نعید ہم لوٹا دیں گے۔ سیرۃ الاولی پہلی حالت۔ اضمم ملالے۔ جناح بازو۔ بیضاء روشن، سید۔ غیر سوء بغیر کسی عیب اور تکلیف کے۔ طغی اس نے سرکشی کی۔ تشریح : آیت نمبر 17 تا 24 گزشتہ آیات سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ” وادی طویٰ “ کی مقدس وادی میں پہنچے اور انہوں نے ایک دھکتے ہوئے درخت کو دیکھا جو عجیب کیفیات کیساتھ روشن ہو رہا تھا تو آواز آئی اے موسیٰ ! یہ میں ہوں تمہارا رب، یہ سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–37

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور اللہ تعالیٰ کے احسانات حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اوپر نبوت اور معجزوں کے احسانات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اللہ کے احسانات کچھ اسی پر منحصر نہیں کہ اس نے تم کو نبی کیا معجزے دیئے، بلکہ تم پر اس کے یہ احسانات بھی ہیں کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کئے جاتے وقت جب تمہاری پیدائش ہوئی، تو تمہاری جان کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ دودھ پلانے کے بعد وہ تم کو ایک صندوق میں لٹا کر نیل کے دریا میں وہ صندوق بہا دے۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گذرتی تھی۔ فرعون مع اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–24

[3] اس قصے کے مختلف اجزا سورة اعراف، سورة قصص اور سورة طہ سے جمع کئے جاسکتے ہیں۔ مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو مکا مارا تھا۔ اتفاق سے وہ مرگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) مارے ڈر کے مدین بھاگ گئے۔ وہاں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بکریاں چرانے پر رکھ لیا اور اپنی بیٹی سے نکاح کردیا۔ دس برس سسرال میں رہے پھر اپنی ماں اور بہن سے ملنے کا اشتیاق ہوا تو بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔ جاڑے کا موسم اور اندھیری رات، راستہ بھول گئے۔ دور سے آگ دیکھ کر خیال کیا کہ یا تو وہاں سے تھوڑی سی آگ مل جائے گی تاکہ بال بچوں کو رات بھر گرم رکھنے کا بندوبست ہوجائے یا کم از کم وہاں سے راستے کا پتہ چل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–20

(ف 2) یہاں سے تجلی بصورت الہام کا آغاز ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تمہیں منتخب کرلیا ہے آئندہ سے تیرا دل میرے کلام کا مہبط ہے ، سنو ، اور توجہ سے سنو ۔ حل لغات : طوی : ملک شام میں ایک وادی کا نام ہے ، اسی کو وادی امین کہتے ہیں ۔ ” احترتک “۔ سے ظاہر ہے ، نبوت کا خلعت یونہی نہیں مرحمت فرمایا جاتا ، بلکہ اس کے لئے انتخاب اور اصطفا کی ضرورت ہے ، ابتدا ہی سے انبیاء (علیہم السلام) میں ایک قسم کا جو ہر قابلیت ہوتا ہے ، جو وقت مقررہ کے آجانے پر اظہار پذیر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس وقت جب کہ ذہن وفکر کی ضروریات پختہ ہوجاتی ہیں ، مقام نبوت پر انبیاء کو فائز کرتے ہیں ، اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 18 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا یہ میری لکڑی ہے میں کبھی اس پر ٹیک لگا کر سہارا لے لیتا ہوں اور کبھی اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑا کرتا ہے اور میری اور دوسری حاجتیں بھی اس سے وابستہ ہیں۔ یعنی سفر میں اس پر اسباب لٹکا لینا اور درندوں کو اس سے بھگانا اور بھی کام جو لاٹھی سے نکل سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–20

ف 5۔ بڑے مسئلے اصول میں تین تھے۔ توحید و نبوت و معاد۔ تینوں کی تعلیم کی گئی اور فاعبدنی میں تمام فروع آگئے، نماز کو شرف کی وجہ سے جداگانہ بھی ذکر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب کہ یہ لاٹھی ہے ‘ میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں وغیرہ : 18۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میرے پروردگار ! میرے ہاتھ میں یہ میری لاٹھی ہے اور میں اس کے ساتھ اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور ریوڑ کی چرواہی اور حفاظت ونگہبانی بھی کرتا ہوں اور اس میں میرے لئے اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور ضرورت کے مطابق اس پر ٹیک بھی لگا لیتا ہوں ذرا غور کیجئے کہ سوال کیا تھا ” اے موسیٰ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ “ پھر اس کا جواب صرف اتنا تھا کہ ” میرے ہاتھ میں لاٹھی ہے “ لیکن سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے صرف اتنے جواب پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے کتنے ہی فوائد گن دیئے اس پر سہارا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–19

قَالَ هِيَ عَصَايَ (He said, “ It is my staff” – 20:18. The simple question which was put to Sayyidna Musa (علیہ السلام) i.e. "What is in your hand?" called for an equally brief answer, such as, "It is a staff'. But he volunteered additional information which was outside the scope of the question put to him. First, he said that the staff belonged to him; second, that it served him many purposes, namely that he often reclined on it, and also beat down leaves from trees for his goats; third, that he put it to many other uses. This long and detailed reply is a perfect combination of extreme love…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12. Prophet Moses (peace be upon him) deliberately prolonged his answer and did not stop at: It is my staff. This was because he naturally wanted to prolong the dialogue to make the privilege meeting last longer.

Read the full tafseer →