Taa-Haa 20:19

Taa-Haa · from ayah 19

20:19

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰی ۟قَالَ اَلۡقِهَا يٰمُوۡسٰى‏

فرمایا کہ موسیٰ اسے ڈال دو

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah] said, "Throw it down, O Moses."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:19

فرمایا "پھینک دے اس کو موسیٰؑ"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

فرمایا کہ موسیٰ اسے ڈال دو

— مولانا فتح محمد جالندہری

فرمایا اے موسیٰ! اسے ہاتھ سے نیچے ڈال دے

— مولانا محمد جوناگڑہی

فرمایا : موسیٰ ! اسے نیچے پھینک دو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا اسے ڈال دے اے موسیٰ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ارشاد ہوا: اے موسٰی! اسے (زمین پر) ڈال دو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرمایا اسے پھینک دے اے موسیٰ !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : موسیٰ ! اسے (زمین پر) ڈال دو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

فرمایا، اس کو زمین پر ڈال دو ، اے موسیٰ !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ارشاد ہوا، موسیٰ ڈال دو اس کو زمین پر،

— مولانا اسحاق مدنی

(اللہ نے) فرمایا اسے ڈال دو اے موسیٰ ؑ

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

فرمایا : اے موسیٰ ؑ اس کو ذرا پھینکو تو سہی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمایا : موسیٰ ! اسے ڈال دو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He said: "Moses, throw it down."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Throw it down O Musa .

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Throw it down O Musa .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Allah) said: "Cast it down, O Musa!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

[Allah] said, "Throw it down, O Moses."

— Saheeh International

The Lord said, "Moses, throw it on the ground".

— Muhammad Sarwar

He said: Cast it down, O Musa!

— Muhammad Habib Shakir

Allah said: cast it down, O Musa!

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 20:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–21

حضرت موسیٰ ؑ کو معجزات ملے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ایک بہت بڑے اور صاف کھلے معجزے کا ذکر ہو رہا ہے جو بغیر اللہ کی قدرت کے ناممکن اور جو غیر نبی کے ہاتھ پر بھی ناممکن۔ طور پہاڑ پر دریافت ہو رہا ہے کہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ یہ سوال اس لئے تھا کہ حضرت موسیٰ ؑ کی گھبراہٹ دور ہوجائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سوال بطور تقریر کے ہے یعنی تیرے ہاتھ میں لکڑی ہی ہے یہ جیسی کچھ ہے تجھے معلوم ہے اب یہ جو ہوجائے گی وہ دیکھ لینا۔ اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ عرض کرتے ہیں یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–22

سورة طٰهٰ 13 یعنی روشن ایسا ہوگا جیسے سورج ہو، مگر تمہیں اس سے کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ بائیبل میں ید بیضاء کی ایک اور ہی تعبیر کی گئی ہے جو وہاں سے نکل کر ہمارے ہاں کی تفسیروں میں بھی رواج پا گئی۔ وہ یہ کہ حضرت موسیٰ نے جب بغل میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو پورا ہاتھ برص کے مریض کی طرح سفید تھا، پھر جب دوبارہ اسے بغل میں رکھا تو وہ اصلی حالت پر آگیا۔ یہی تعبیر اس معجزے کی تلمود میں بھی بیان کی گئی ہے اور اس کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ فرعون کو برص کی بیماری تھی جسے وہ چھپائے ہوئے تھا۔ اس لیے اس کے سامنے یہ معجزہ پیش کیا گیا کہ دیکھ یوں آناً فاناً برص کا مرض پیدا بھی ہوتا ہے اور کافور بھی ہوجاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–19

قَالَ هِىَ عَصَايَ ، حضرت موسیٰ ؑ سے سوال صرف اتنا ہوا تھا کہ ہاتھ میں کیا چیز ہے اس کا اتنا جواب کافی تھا کہ لاٹھی ہے مگر حضرت موسیٰ ؑ نے اس جگہ تین باتیں اصل سوال کے جواب سے زیادہ عرض کیں اول یہ کہ یہ عصا میری ہے، دوسرے یہ کہ میں اس سے بہت سے کام لیتا ہوں ایک یہ کہ اس پر ٹیک لگا لیتا ہوں دوسرے یہ کہ اس سے اپنی بکریوں کے لئے درختوں کے پتے چھاڑتا ہوں تیسرے یہ کہ اس سے اور بھی میرے بہت سے کام نکلتے ہیں، اس طویل اور تفصیلی جواب میں عشق و محبت اور اس کے ساتھ رعایت ادب کی جامعیت کا کمال ظاہر ہوتا ہے۔ عشق و محبت کا تقاضا ہے کہ جب محبوب مہربان ہو کر متوجہ ہے تو بات دراز کی جائے تاکہ اس کا زیادہ سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 19–21

قال القھا یموسی فالقھما فاذا ھی حیۃ تسعی 20-19 عصا کا معجزہ ارشاد ہوا کہ اس لٹھیا کو زمین پر ڈال دو اور پھر قدرت خداوندی کا کرشمہ دیکھو ! چناچہ حضرت موسیٰ نے لٹھیا زمین پر ڈال دی اور وہ دفعتاً ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔ قال خذھا ولا تخف وقفہ سنعیدھا سیرتھا الاولی 21 سانپ کو دیکھ کر ڈرنا ایک امر بعی ہے چناچہ حضرت موسیٰ اس منظر کو دیکھ کر ڈرے کہ ہاتھ کی لٹھیا جو سانپ کو مارنے والی بن سکت تھی وہ خود ساپن بن گئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، اس کو بےجھجک پکڑ لو، تمہارے پکڑتے ہی ہم اس کو اس کی پہلی حالت پر کردیں گے۔ یہ جیس لٹھیا تھی ویسی ہی لٹھیا بن جائے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–21

21۔ 1 یہ حضرت موسیٰ ؑ کو معجزہ عطا کیا گیا جو عصائے موسیٰ ؑ کے نام سے مشہور ہے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–21

7: سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو یہ یقین کیسے آیا کہ یہ آواز اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو یہ اطمینان عطا فرمادیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے ہم کلام ہیں۔ اور حالات بھی ایسے پیدا کردئیے گئے کہ انہیں یہ یقین آجائے۔ مثلاً بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو یہ عجیب منظر نظر آیا کہ وہ آگ ایک درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے۔ مگر درخت کا کوئی پتہ جلتا نہیں ہے۔ انہوں نے انتظار کیا کہ شاید کوئی چنگاری اڑ کر ان کے پاس آجائے۔ مگر وہ بھی نہ آئی۔ پھر انہوں نے کچھ گھاس پھونس لے کر اسے آگ کے قریب کیا، تاکہ اس میں آگ لگ جائے تو وہ آگ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–21

قال القھایموسی۔۔۔۔۔ سیرتھا الاولیٰ (91 تا 12) ”“۔ ۔ یہ خارق عادت معجزہ ظہور پذیر ہوگیا ‘ یہ معجزہ اس کائنات میں ہر لمحہ ہر طرف ظاہر ہوتا رہتا ہے ‘ لیکن لوگوں کی سوچ اس طرف نہیں جاتی۔ یعنی ” زندگی “ کا معجزہ ۔ ایک عصا سانپ بن گئی۔ اس دنیا میں ہر سیکنڈ میں عصا کی طرح اربوں مردہ ذرے زندگی پاتے ہیں اور زندہ خلیوں کی شکل اختیار کرتے ہیں لیکن انسان انہین اس طرح نہیں دیکھ سکتا جس طرح وہ ایک بڑی عصا کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اس لیے کہ انسان اپنے حواس کا بندہ اور اپنے تجربات کا قیدی ہے۔ وہ اپنے تصورات میں حواس کے دائرے سے آگے جانے کی تکلیف نہیں کرتا۔ ایک عصا کا زندہ ہو کر سانپ بن جانا اور پھر چلنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 19–20

12 یعنی لاٹھی کا زمین پر ڈالنا تھا کہ لاٹھی کی جگہ ایک اژدہا نظر آیا جو پتلے سانپ کی طرح تیزی سے دوڑتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) ناگہاں یہ انقلاب دیکھ کر بمقتضائے بشریت خوفزدہ ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 18–20

آیت 18 قَالَ ہِیَ عَصَایَج ” بظاہر عصا کے بارے میں سوال کا بس یہی جواب کافی تھا ‘ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سلسلے میں زیادہ تفصیل بیان کردی۔ زیادہ تر مفسرین کے نزدیک اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے مخاطبت اور مکالمے کے شوق و ذوق میں اپنی بات کو بڑھانے کی کوشش کی تھی۔ چناچہ آپ علیہ السلام نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے عرض کیا :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–20

14 وحی الہی کی لذت :۔ اللہ تعالیٰ کے سوال کا جواب اتنا ہی کافی اور مکمل تھا کہ یہ میری لاٹھی ہے مگر اس آواز میں کچھ ایسی لذت تھی کہ ان لذت کے لمحات کو موسیٰ (علیہ السلام) طول دینا چاہتے تھے۔ لہذا ساتھ ہی اور بھی کئی متعلقہ باتیں بتلا دیں تاکہ انھیں کچھ دیر مزید ہم کلامی کا شرف حاصل رہے۔ 15 مثلا اپنی بھیڑوں کو ہانکتا ہوں، ریوڑ کی حفاظت کرتا ہوں، درندوں کے حملہ سے بچاتا اور ان کا تعاقب کرتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 19–20

20۔ عصائے موسوی کا معجزہ توریت میں بھی درج ہے :۔” تب خدا نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ وہ بولا عصا۔ پھر اس نے کہا اسے زمین پر پھینک دے، اس نے زمین پر پھینک دیا اور وہ سانپ بن گیا “۔ (خروج 4: 2۔ 4) یہ واضح رہے کہ مصر میں جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ کرنا تھی، سانپ کی حیثیت ایک دیوتا کی تھی، اور اس کی پوجا ہوا کرتی تھی، ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–24

آیت نمبر 15 تا 24 ترجمہ : قیامت یقیناً آنے والی ہے میں اس کو لوگوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں اور اس کا قرب اس کی علامات سے ظاہر ہوجائے گا تاکہ ہر شخص کو اس (دن) میں اس کے اعمال نیک و بد کا بدلہ دیا جاسکے، تو تجھ کو اس پر یقین رکھنے سے کوئی ایسا شخص باز نہ رکھ سکے، نہ روک سکے جس اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اس کے انکار میں اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے ورنہ تو تو ہلاک ہوجائے گا یعنی اگر تو اس پر یقین رکھنے سے باز رہا تو ہلاک ہوجائے گا اور اے موسیٰ تیرے داہنے ہاتھ میں یہ کیا ہے استفہام تقریر کے لئے ہے تاکہ اس پر معجزہ کا ترتب ہو سکے، کہا یہ میری لاٹھی ہے (جست) لگاتے وقت اور چلنے کے وقت اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال القہا یموسی۔ اللہ نے فرمایا موسیٰ اس کو (ہاتھ سے) پھینک دو ۔ یعنی لاٹھی پر تکیہ نہ کرو اس کا سہارا چھوڑ دو ہمارا سہارا پکڑو پھینکنے کے بعد تم کو اس لاٹھی کا حقیقی فائدہ نظر آجائے گا۔ وہب نے کہا پھینک دینے کا حکم سن کر حضرت موسیٰ سمجھے کہ لاٹھی کو (جوتوں کی طرح) بالکل پھینک دینے کا حکم دیا گیا ہے (حالانکہ حکم تھا لاٹھی کو زمین پر ڈال دینے کا تاکہ لاٹھی کے زمین پر گرنے سے معجزہ کا ظہور ہوجائے۔ مترجم) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–20

(19۔ 20) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسے زمین پر ڈال دو چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے ڈال دیا تو یکایک وہ ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی جس سے حضرت موسیٰ ؑ ڈر کر بھاگے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 19–21

اللہ تعالیٰ کے حکم پر موسیٰ ؑ نے اپنا عصا پھینکا تو اچانک وہ سانپ بن گیا جو دوڑتا تھا، یعنی حقیقی اور زندہ سانپ تھا۔ قرآن مجید میں اس کے لیے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں ”حَیَّةٌ“ (سانپ) ، ”جَانٌّ“ (پتلا چھڑی جیسا چمکتا ہوا سانپ) اور ”ثُعْبَانْ“ (بہت بڑا اژدہا)۔ معلوم ہوا کہ لاٹھی پھینکتے ہی پتلے سانپ جیسی بنی، پھر بڑھتے بڑھتے بہت بڑا اژدہا بن گئی۔ موسیٰ ؑ خوف زدہ ہو کر بےاختیار بھاگ اٹھے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ دیکھیے سورة نمل (10) اور قصص (31) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسے پکڑو اور ڈرو نہیں، ہم اسے دوبارہ پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ 3 اہل علم نے لاٹھی کے ایک لمحہ میں سانپ اور پھر دوبارہ لاٹھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(تفسیر 21-23) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال القھا یموسیٰ (19) جب اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے حصول اور اس کی تکلیف برداشت کرنے کی تدریب کرلیں تو عصا ڈالنے کا حکم دیا۔ فالقھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اوصاف اور اغراض تبدیل کر ڈالے وہ عصا دو شاخوں والا ہے تو اس کی وہ دو شاخیں اس کا منہ بن گئیں اور وہ سانپ بن گیا جو دوڑ رہا تھا اور پتھروں کو نگل رہا تھا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے دیکھا تو تعجب سے دیکھا اور ولی مدبراً ولم یعقب (النمل :10) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا : اسے پکڑ لو اور مت ڈرو۔ یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–24

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ سے مراد ہے کہ میں اس کو (یعنی قیامت کے دن کو) کسی پر ظاہر نہیں کروں گا اپنے علاوہ۔ قیامت کی گھڑی مخفی ہے : 2:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ میں اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔ 3:۔ عبد بن حمید، اور ابن انباری نے مصاحف میں مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اکاد اخفیھا “ کہ میں نے اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم اور ابن انباری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے) کہا ] [اَلْقِهَا : آپ (علیہ السلام) ڈال دیں اس کو ] [يٰمُوْسٰى: اے موسٰی (علیہ السلام) ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 19–24

(قَالَ اَلْقِھَا یٰمُوْسٰی) (باری تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہوا کہ اس لاٹھی کو زمین پر ڈال دو ) فالقاھا (سو اسے انہوں نے ڈال دیا) (فَاِذَا ھِیَ حَیَّۃٌ تَسْعٰی) (سوا چانک وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گئی) سورة نمل میں ہے کہ جب انہوں نے اسے سانپ کی شکل میں حرکت کرتے ہوئے دیکھا تو پیچھے ہٹ گئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا (خُذْھَا وَلَاتَخَفْ ) (اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں) سورة نمل میں یہ الفاظ بھی ہیں (اِِنِّیْ لاَ یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ ) (کہ میرے سامنے پیغمبر ڈرا نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہم اس کو اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ (چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر ہاتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–36

تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی (ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔ نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–21

12:۔ اس سے مقصود لاٹھی کی تعیین کرانا ہے کہ یہ وہی لاٹھی ہے جس سے تم یہ کام لیتے ہو کہا وہی ہے تو فرمایا ” اَلْقٰهٰا “ اسے زمین پر ڈال دو ۔ لاٹھی کا زمین پر پھینکنا تھا کہ وہ اژدھا بن کر دوڑنے لگا۔ حکم ہوا ڈرو مت اسے پکڑ لو۔ ہم اس کو پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ یہ ایک معجزہ تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–24

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر کرکے حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے صحابہ کو تسلی دی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے طور پر حجاب نوری یا ناری کا مشاہدہ کیا ، تو وہاں سے آواز آئی ، اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ لہٰذا میری ہی عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز پڑھو۔ ایسا ہی حکم اللہ نے حضور ﷺ کو بھی دیا ہے اتل ما اوحی الیک……… …………والمنکر (العنکبوت 45) ہماری ازل کردہ کتاب یعنی قرآن حکیم کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں۔ بیشک نماز بےحیائی اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔ نماز اللہ کا ذکر ہی تو ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے من نسی عن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اَلْقِہَا يٰمُوْسٰى۝ 19 لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–24

ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔ تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 19–20

قَالَ اَلْقِھَا یٰـمُوْسٰی۔ فَاَلْقٰھَا فَاِذَا ھِیَ حَیَّۃٌ تَسْعٰی۔ (طٰـہٰ : 19، 20) (پروردگار نے فرمایا، اس کو زمین پر ڈال دو ، اے موسیٰ ۔ حضرت موسیٰ نے اسے ڈال دیا تو دفعتاً وہ ایک رینگتا ہوا سانپ بن گیا۔ ) عصائے موسیٰ ایک معجزہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے عصا کے جو فوائد بیان فرمائے اور اس کی جن صلاحیتوں کی طرف اشارہ کیا ان میں سے کوئی بات بھی غیرمعمولی نہ تھی۔ ہر چرواہے کے ہاتھ میں ایسی ہی لاٹھی ہوتی ہے اور وہ اس سے ایسے ہی کام لیتا ہے، لیکن پروردگار نے حکم دیا کہ اے موسیٰ ! اسے زمین پر ڈال دو اور پھر قدرت خداوندی کا کرشمہ دیکھو۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–21

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فکر آخرت کا سبق دے کر یہ بات سمجھائی گئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! جو شخص آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اس کے پیچھے لگنے اور اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ فرعون پرلے درجے کا نافرمان، باغی اور ظالم انسان تھا جس وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلی وحی کے وقت بتلا یا اور سمجھایا گیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! بیشک فرعون حد سے بڑھا ہوا ظالم اور نافرمان ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کے خوف کی وجہ سے آپ کو اس کی کسی بات کو نہیں ماننا چاہیے۔ اگر آپ خوف یا کسی وجہ سے حق بات کہنے سے رک گئے یا خوف کی وجہ سے اس کے سامنے جھک گئے تو یاد رکھیں آپ بھی ہلاک ہونے والوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19: قَالَ اَلْقِھَا یٰـمُوْسٰی ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موسیٰ اس کو پھینک دو ) تم اپنی لاٹھی پھینک دو کہ اس سے تم فارغ ہوجائو جس پر تم سہارا لیتے ہو۔ اب تمہیں سکون ہماری ہی ذات سے ہوگا اور تم اس کے حقیقی فائدے دیکھو گے۔ پس مقاصد میں پھر تمہیں ہم پر اعتماد ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 19۔ قال، ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، القھا یاموسی، اس کو ڈال دے ۔ وہب کا بیان ہے کہ پھینک دینے کا حکم سن کر حضرت موسیٰ سمجھے کہ اس لا تھی کو بھی جوتوں کی طرح پھینک۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–36

17۔ 32:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبری جو ملی اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں معجزوں کے ملنے کا ذکر ہے اگرچہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے اس لکڑی کا حال پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جس لکڑی کا حال بیان کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے دم بھر میں اس کو اپنی قدرت سے سانپ بنا دیا اس بات کے اچھی طرح جتلانے میں یہ حکمت تھی کہ فرعون کو معجزہ دکھانے اور جادوگروں کے مقابلہ کے وقت اس لکڑی کا سانپ بن جانا موسیٰ (علیہ السلام) کے دھیان میں رہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–35

آیت 17 جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انہیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تایلد سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لئے فرمایا : (وما تلک بیبیک یموسی) ” اے موسیٰ ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔ موسیٰ نے جواب میں عرض کیا : ھی عصای اتوکوا علیھا واھش بھا علی غنمی) ” یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–38

سوال عصائے موسٰی پر جواب موزوں قول باری ہے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ قالھی عصای اتوکا علیھا ۔ اور اے موسیٰ ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔” یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں۔ “) ایک قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لاٹھی کے متعلق پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ اس وقت جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ لاٹھی ہی ہے اور اس کے بارے میں اچھی طرح بات سمجھ لینے اور جانچ پرکھ کرلینے کے بعد جب لاٹھی کی کارکردگی ظاہر ہو تو اس وقت اس کے اعجاز کی حیثیت اور معجز نمائی کیفیت پوری طرح واضح ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جواب میں عرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–19

21 تطویل کلام بر بنائے لذت و انبساط : سوال کا جواب تو اتنا ہی تھا کہ " یہ میری لاٹھی ہے " اور بس۔ مگر لذت کلام سے مزید شاد کامی کے لئے حضرت موسیٰ نے آگے اس سے متعلق مزید باتیں بھی عرض کردیں۔ اور ظاہر ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ سے شرف تخاطب کی لذت سے بڑھ کر لذت اور کس کی ممکن ہوسکتی ہے۔ بہرکیف حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے پوچھا کہ " آپ کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ " تاکہ آپ اپنی لاٹھی کے بارے میں یقین کرلیں۔ تاکہ بعد میں اس کی معجزانہ کیفیت سے پریشان نہ ہوجائیں۔ سو حضرت حق کی طرف سے حضرت موسیٰ سے یہ سوال ایناس اور تقریر کے لیے تھا۔ (ابن کثیر، معارف القرآن اور صفوۃ وغیرہ) ۔ اللہم فزدنا بک ایمانا و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–24

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–24

سورة طہ : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 19–22

ف 5 ایک نشانی عصا اور دوسری ” ید بیضا “ ہاتھ کے بےعیب ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اگرچہ سفید ہو کر چمکے گا مگر اس میں کوئی روگ نہ ہوگا جیسے کوڑھ کی بیماری سے ہاتھ سفید ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:19) القھا۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو اس کو ڈال دے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب عصا کے لئے ہے۔ القی اس نے ڈال دیا۔ القاء مصدر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–24

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 24 یمین داہنا ہاتھ، عصا لاٹھی۔ اتوکا میں سہارا لیتا ہوں۔ اھش میں پتے جھاڑتا ہوں۔ مارب (ماربۃ) نفع، فائدہ۔ حیۃ سانپ۔ نعید ہم لوٹا دیں گے۔ سیرۃ الاولی پہلی حالت۔ اضمم ملالے۔ جناح بازو۔ بیضاء روشن، سید۔ غیر سوء بغیر کسی عیب اور تکلیف کے۔ طغی اس نے سرکشی کی۔ تشریح : آیت نمبر 17 تا 24 گزشتہ آیات سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ” وادی طویٰ “ کی مقدس وادی میں پہنچے اور انہوں نے ایک دھکتے ہوئے درخت کو دیکھا جو عجیب کیفیات کیساتھ روشن ہو رہا تھا تو آواز آئی اے موسیٰ ! یہ میں ہوں تمہارا رب، یہ سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–37

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور اللہ تعالیٰ کے احسانات حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اوپر نبوت اور معجزوں کے احسانات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اللہ کے احسانات کچھ اسی پر منحصر نہیں کہ اس نے تم کو نبی کیا معجزے دیئے، بلکہ تم پر اس کے یہ احسانات بھی ہیں کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کئے جاتے وقت جب تمہاری پیدائش ہوئی، تو تمہاری جان کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ دودھ پلانے کے بعد وہ تم کو ایک صندوق میں لٹا کر نیل کے دریا میں وہ صندوق بہا دے۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گذرتی تھی۔ فرعون مع اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–24

[3] اس قصے کے مختلف اجزا سورة اعراف، سورة قصص اور سورة طہ سے جمع کئے جاسکتے ہیں۔ مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو مکا مارا تھا۔ اتفاق سے وہ مرگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) مارے ڈر کے مدین بھاگ گئے۔ وہاں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بکریاں چرانے پر رکھ لیا اور اپنی بیٹی سے نکاح کردیا۔ دس برس سسرال میں رہے پھر اپنی ماں اور بہن سے ملنے کا اشتیاق ہوا تو بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔ جاڑے کا موسم اور اندھیری رات، راستہ بھول گئے۔ دور سے آگ دیکھ کر خیال کیا کہ یا تو وہاں سے تھوڑی سی آگ مل جائے گی تاکہ بال بچوں کو رات بھر گرم رکھنے کا بندوبست ہوجائے یا کم از کم وہاں سے راستے کا پتہ چل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–20

(ف 2) یہاں سے تجلی بصورت الہام کا آغاز ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تمہیں منتخب کرلیا ہے آئندہ سے تیرا دل میرے کلام کا مہبط ہے ، سنو ، اور توجہ سے سنو ۔ حل لغات : طوی : ملک شام میں ایک وادی کا نام ہے ، اسی کو وادی امین کہتے ہیں ۔ ” احترتک “۔ سے ظاہر ہے ، نبوت کا خلعت یونہی نہیں مرحمت فرمایا جاتا ، بلکہ اس کے لئے انتخاب اور اصطفا کی ضرورت ہے ، ابتدا ہی سے انبیاء (علیہم السلام) میں ایک قسم کا جو ہر قابلیت ہوتا ہے ، جو وقت مقررہ کے آجانے پر اظہار پذیر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس وقت جب کہ ذہن وفکر کی ضروریات پختہ ہوجاتی ہیں ، مقام نبوت پر انبیاء کو فائز کرتے ہیں ، اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 19 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اس لکڑی کو ڈال دے اے موسیٰ (علیہ السلام) لکڑی کا پھینکنے کو فرمایا نبی بنانے اور دین تعلیم کرنے کے بعد آیات و معجزات عطا فرمائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–20

ف 5۔ بڑے مسئلے اصول میں تین تھے۔ توحید و نبوت و معاد۔ تینوں کی تعلیم کی گئی اور فاعبدنی میں تمام فروع آگئے، نماز کو شرف کی وجہ سے جداگانہ بھی ذکر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ارشاد الہی ہوا کہ اس لاٹھی کو پھینک دو پس اچانک وہ دوڑتا ہوا سانپ تھی : 19۔ فرمایا اے موسیٰ ! اس لاٹھی کو پھینک دو پھر قدرت الہی کا تماشا دیکھو ، موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی پھینکی تو وہ ایک سانپ بن کر رہ گئی اور سانپ بھی ایسا جو حرکت کناں ہے ، بات کس قدر واضح ہوگئی کہ جب حکومت گر جائے تو گویا لاٹھی لاٹھی نہیں رہتی بلکہ وہی لاٹھی سانپ بن کر رہ جاتی ہے اور یہ بھی اس وقت کم از کم سانپ بن کر نظر آنے لگی اور اس نے نہ صرف سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو حیران کیا بلکہ وہاں سے بھگا دیا ۔ کیوں ؟ اس لئے لاٹھی لاٹھی نہ رہی بلکہ ایک اژدھا بن گئی گویا حکومت ہی نہ گئی بلکہ حکومت کرنے والوں کو اٹھا کر جیل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–19

قَالَ هِيَ عَصَايَ (He said, “ It is my staff” – 20:18. The simple question which was put to Sayyidna Musa (علیہ السلام) i.e. "What is in your hand?" called for an equally brief answer, such as, "It is a staff'. But he volunteered additional information which was outside the scope of the question put to him. First, he said that the staff belonged to him; second, that it served him many purposes, namely that he often reclined on it, and also beat down leaves from trees for his goats; third, that he put it to many other uses. This long and detailed reply is a perfect combination of extreme love…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–22

13. That is, your hand will shine brightly like the sun, but it will not cause any hurt to you. It is strange that the Bible interprets this miracle, saying that his hand was leprous as snow but it was turned again as his other flesh. The Talmud also interprets the miracle in the same way and adds that this was a miracle which was meant for Pharaoh who was suffering from leprosy. It is a pity that the same interpretation has been adopted by our own commentators, though the correct interpretation is the one that has been adopted by us, and many former commentators. Obviously, it is bad taste…

Read the full tafseer →