Taa-Haa 20:8

Taa-Haa · from ayah 8

20:8

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ— لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی ۟اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ‌ؕ لَـهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى

(وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے (سب) نام اچھے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah - there is no deity except Him. To Him belong the best names.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:8

وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں، اس کے لیے بہترین نام ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے (سب) نام اچھے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بہترین نام اسی کے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے اچھے اچھے نام ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اسی کے ہیں سب اچھے نام

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ (اسی کا اسمِ ذات) ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (گویا تم اسی کا اثبات کرو اور باقی سب جھوٹے معبودوں کی نفی کر دو)، اس کے لئے (اور بھی) بہت خوبصورت نام ہیں (جو اس کی حسین و جمیل صفات کا پتہ دیتے ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب سے اچھے نام اسی کے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اس کے سارے ہی نام اچھے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تمام اچھی صفتیں اسی کے لئے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے ہیں سب اچھے نام،

— مولانا اسحاق مدنی

) وہ) اللہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اچھے اچھے نام اسی کے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ اللہ ہے ! اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ اسی کے ہیں تمام اچھے نام

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ وہ ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کے سب نام اچھے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah - there is no god but He. His are the most excellent names.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Such is) Allah. There is no god but He. For Him are the Beautiful Names.

— Muhammad Taqi Usmani

(Such is) Allah. There is no god but He. For Him are the Beautiful Names.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah! There is no God but Him! To Him belong the Best Names.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah! There is no Allah save Him. His are the most beautiful names.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah - there is no deity except Him. To Him belong the best names.

— Saheeh International

God is the only Lord and to Him belong all the exalted Names.

— Muhammad Sarwar

Allah-- there is no god but He; His are the very best names.

— Muhammad Habib Shakir

Allah! no God there is but he! His are the names excellent.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah! there is no god but He! To Him belong the most Beautiful Names.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے۔ سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہوچکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہ سے اے شخص ہے کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ حضور ﷺ نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری یعنی طہ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل حضور ﷺ نے اور آپ کے صحابہ نے شروع کردیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑگئے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي، سِر سے مراد وہ چیز ہے جو انسان نے اپنے دل میں چھپائی ہوئی ہے کسی پر ظاہر نہیں اور اخفیٰ سے مراد وہ بات ہے جو ابھی تک تمہارے دل میں بھی نہیں آئی آئندہ کسی وقت دل میں آوے گی حق تعالیٰ ان سب چیزوں سے واقف و باخبر ہیں کہ اس وقت کسی انسان کے دل میں کیا ہے اور کل کو کیا ہوگا۔ کل کا معاملہ ایسا ہے کہ خود اس شخص کو بھی آج اس کی خبر نہیں کہ کل کو میرے دل میں کیا بات آوے گی۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اللہ لا الہ الا ھو ط لہ الاسماء الحسنی (8) تفویض کی ہدایت یہ نبی ﷺ کا کامل تفویض کی ہدایت ہے کہ آپ مخالفین کے رویہ سے پریشان اور ان کے پیچھے ہلکان ہونے کے بجائے اپنا معاملہ کلیۃً اپنے رب کے حوالے کیجیے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کے ہوتے آپ کسی کے محتاج نہیں۔ تسلی و طمانیت کا خزانہ لہ الاسماء الحسنی۔ یہ ٹکڑا تسلی و طمانیت کا خزانہ ہے۔ اوپر کی آیات میں نبی ﷺ کو جو تسلی دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے اس کی عظمت، اس کی رحمت، اس کی حکمیت، اس کی یکتائی اور اس کے علم کے مقتضالت کی روشنی میں دی گئی ہے لیکن خدا کی صفات اتنی ہی تو نہیں ہیں ! وہ تو تمام اچھی اور اعلیٰ صفتوں سے متصف ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 یعنی معبود وہی ہے جو مذکورہ صفات سے متصف ہے اور بہترین نام بھی اسی کے ہیں جن سے اس کو پکارا جاتا ہے۔ نہ معبود اس کے سوا کوئی اور ہے اور نہ اس کے اسمائے حسنٰی ہی کسی کے ہیں۔ پس اسی کی صحیح معرفت حاصل کر کے اسی سے ڈرایا جائے، اسی سے محبت رکھی جائے، اسی پر ایمان لایا جائے اور اسی کی اطاعت کی جائے۔ تاکہ انسان جب اس کی بارگاہ میں واپس جائے تو وہاں شرمسار نہ ہو بلکہ اس کی رحمت و مغفرت سے شاد کام اور اس کی رضا سے سعادت مند ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–9

5: اور زیادہ چھپی ہوئی باتیں وہ ہیں جو زبان سے کہی ہی نہیں گئیں، بلکہ جن کا صرف خیال دل میں آیا۔ اللہ تعالیٰ ان باتوں سے بھی باخبر ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–8

الرحمن علی العرش استوی (02 : 5) ” رحمن کا ئنات کے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے “۔ استوائے عرش کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا اس کائنات پر پوری طرح کنٹرول ہے اور یہ اس کی مکمل گرفت میں ہے۔ لہٰذا لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ‘ رسول کا کام صرف یہ ہے کہ جو ڈرتا ہے اسے ڈرائے۔ اس کائنات پر مکمل کنٹرول اور گرفت کے ساتھ ساتھ لہ ما فی السموت۔۔۔۔۔۔۔ وما تحت الشری (02 : 6) ” وہ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمان و زمین میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں “۔ یہ کائناتی مناظر یہاں اس لئے دیئے گئے کہ اللہ کی ملکیت اور اس کی قدرت کو اس طرح پیش کیا جائے کہ یہ انسانی تصور کے قریب تر ہوجائیں جبکہ اللہ کی ملکیت اور اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 آیات بالا میں جو صفات حق تعالیٰ کی بیان ہوئی ہیں۔ (یعنی اس کا خالق الکل، مالک علی الاطلاق، رحمان، قادر مطلق اور صاحب علم محیط ہونا) انکا اقتضاء یہ ہے کہ الوہیت بھی تنہا اسی کا خاصہ ہو بجز اس کے کسی دوسرے کے آگے سر عبودیت نہ جھکایا جائے۔ کیونکہ نہ صرف صفات مذکورہ بالا بلکہ کل عمدہ صفات اور اچھے نام اسی کی ذات منبع الکمالات کے لیے مخصوص ہیں۔ کوئی دوسری ہستی اس شان و صفت کی موجود نہیں جو معبود بن سکے۔ نہ ان صفتوں اور ناموں کے تعدد سے اس کی ذات میں تعدد آتا ہے۔ جیسا کہ بعض جہال عرب کا خیال تھا کہ مختلف ناموں سے خدا کو پکارنا دعوائے توحید کے مخالف ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

آیت 8 اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَط لَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی ” اب یہاں سے آگے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ شروع ہو رہا ہے جس کے بارے میں بیشتر تفصیلات سورة الاعراف کے مطالعے کے دوران گزر چکی ہیں۔ چناچہ یہاں وہ تفصیلات پھر سے دہرائی نہیں جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 اسماء الحسنیٰ :۔ اسماء سے مراد نام بھی ہیں۔ اور احادیث صحیحہ میں ننانوے نام مذکور ہیں۔ جبکہ کتاب و سنت کا استقصہاء کرنے پر کئی نام بھی ملتے ہیں۔ اور اسماء سے مراد صفات بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے یہ سب نام اللہ تعالیٰ کی صفات ہی کا اظہار کرتے ہیں۔ بالفاظ دیگر یہ سب صفاتی نام ہیں۔ مگر ان میں سے دو نام ایسے ہیں جو صرف اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں، کسی دوسری مخلوق کے یہ نام نہیں ہوسکتے۔ ایک اللہ اور دوسرا رحمن۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ (اعلی سے اعلی صفات و کمالات پر دلالت کرنے والے) بعض محققین کے نزدیک خود لفظ اسماء مرادف ہے صفات کے۔ جاء الاسم بمعنی الصفۃ (روح) خود قرآن مجید ہی میں ایک دوسری جگہ اسم صفت کے معنی میں آیا ہے۔ (آیت) ” وجعلوا للہ شرکآء، قل سموھم “۔ (رعد۔ 33) ملاحظہ ہو سورة بقرہ پ 1 میں (آیت) ” وعلم ادم الاسمآء کلھا “۔ پر حاشیہ۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنی ذات سے بالکل منفرد ہے گو اس کے اسماء صفاتی بکثرت ہوں۔ اے ھو واحد بذاتہ وان افترقت عبارات صفاتہ (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے طٰہٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے اے محمد ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں یعنی تعب میں پڑجائیں اس طرز عمل سے جو آپ نے نزول قرآن کے بعد اختیار کیا رات کی نماز (تہجد) میں طول قیام کے ذریعہ، مطلب یہ کہ (تخفیف کرکے) اپنے اوپر بار کم ڈالئے بلکہ ہم نے قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خوف خدا رکھتا ہو یہ اس ذات کی جانب سے نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ تنزیلاً اپنے فعل ناصب (انزلناہ) کے عوض میں ہے عُلیٰ عُلْیَا کی جمع ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اللہ لا الہ الا ہو الاسمآء الحسنی اللہ ہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کے (سارے) اچھے اچھے نام (اوصاف) ہیں۔ یہ پورا جملہ تاکیدی اور تقریری ہے۔ جو زمین و آسمان اور ساری کائنات کا مالک ہے وہ یقیناً الوہیت میں منفرد اور تمام صفات کمال کے ساتھ متصف ہوگا اور اس کی صفات کسی دوسرے میں نہیں پائی جائیں گی پس سارے اسماء حسنیٰ یعنی اعلیٰ اوصاف اسی کے لئے مخصوص ہوں گے۔ حُسْنٰی اَحْسَنُ کا مؤنث ہے اللہ کے اسماء حسن میں تمام اسماء سے اعلیٰ و افضل ہیں کیونکہ ان کے معانی تمام اسماء کے معانی سے اشرف اور برتر ہیں۔ اللہ کے اسماء حسنیٰ کی مکمل تفصیل ہم نے سورة اعراف کی آیت وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ۔۔ : یعنی جس ہستی کی یہ صفات بیان ہوئی ہیں وہ اللہ ہے جس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ ”لَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (180)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ لا الہ الا ھوط لہ الاسمآء الحسنیٰ ۔ اللہ اسم جلالت پر رفع مبتداء کی حیثیت سے ہے یا مبتداء کے اضمار کی وجہ سے ہے یا یعلم میں جو ضمیر ہے اس سے بدل کی بنا پر ہے۔ اس نے اپنی توحید خود بیان فرمائی ہے یہ اس طرح ہے کہ نبی پاک ﷺ نے مشرکین کو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف دعوت دی تو انہیں یہ گراں گزری۔ ابوجہل نے آپ ﷺ کو الرحمن کا ذکر کرتے ہوئے سنا تو اس نے ولید بن مغیرہ کو کہا : محمد ﷺ ہمیں تو اللہ کے ساتھ دوسرے خدا کو پکارنے سے منع کرتا ہے اور خود وہ اللہ تعالیٰ اور الرحمن کو پکارتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا : الرحمن علی العرش استوی اور یہ نازل فرمایا : قل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1:۔ ابن منذر ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب شروع میں وحی کا نزول ہوا تو آپ نماز میں اپنے قدموں کے اگلے حصوں پر کھڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “ نزول قرآن آپ (علیہ السلام) کے لئے باعث مشقت نہیں : 2:۔ ابن مردویہ اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کفار نے کہا یہ آدمی اپنے رب کی طرف سے مشقت میں پڑگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “ 3:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تھے تو رسی سے اپنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اللّٰهُ : اللہ (وہ ہے کہ)] [لَآ اِلٰهَ : کوئی بھی اِلٰہ نہیں ہے ] [اِلَّا : مگر ] [هُوَ : وہ (ہی)] [لَهُ : اس کے لئے ہی ] [الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى: تمام خوبصورت نام ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَلَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی) (اللہ ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے لیے اسمائے حسنیٰ ہیں) جو اس کے بےمثال اوصاف اور کمالات پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کے بارے میں سورة اعراف (رکوع 22) اور سورة بنی اسرائیل کے آخری رکوع کی تفسیر کی مراجعت کرلی جائے۔ (انوار البیان جلد دوم)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

تقریر رسالت و وحدانیت قال اللہ تعالیٰ ۔ طٰہٰ مآ انزلنا علیک القراٰن لتشقٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنٰی (ربط) گزشتہ سورت کے ختم پر نزول قرآن کا ذکر تھا۔ فانما یسرناہ بلسانک لتبشر بہ المتقین الخ یعنی ہم نے قرآن آپ ﷺ کی زبان یعنی عربی میں اس لیے نازل کیا تاکہ آپ ﷺ کو متقین کی تبشیر اور معاندین کا انداز آسان ہوجائے اب اس سورت کے شروع میں انزال قرآن کی حکمت بیان فرماتے ہیں کہ اس قرآن کے نازل کرنے سے ہمارا مقصود نصیحت اور مرعظت اور بندوں کی ہدایت ہے کہ ان کو زمین اور آسمان کے پیدا کرنے والے کی معرفت حاصل ہو اور سمجھیں کہ لائق عبادت وہی معبود برحق ہے جس کی قدرت اور جس کا علم تمام کائنات کو محیط…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ ” لَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنیٰ “ ماقبل کی علت ہے اور تقدیم ظرف افادہ حصر کے لیے ہے یعنی اس کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں اس لیے اسی کو پکارو کیونکہ اسی کی صفتیں بیشمار ہیں۔ جس صفت سے چاہو، اس کو پکارو اللہ تعالیٰ کا اسم ذاتی تو ایک ہے یعنی اللہ۔ البتہ اس کے صفاتی نام لاتعداد ہیں۔ ” الاسماء الحسنی “ (بہت ہی اچھے نام) سے یہاں صفاتی نام ہی مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے جب بھی دعا مانگی جائے اس کے انہی ناموں کے واسطے اور وسیلے سے مانگنی چاہئے۔ جیسا کہ سورة اعراف رکوع 22 میں ہے ” وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَاءُ الْحُسنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا “۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

تفسیر : نام اور کوائف : یہ سورة اپنے پہلے لفظ طٰہٰ کے نام سے موسوم ہے ۔ اس کا عام فہم نام طٰہٰ ہی ہے۔ تاہم مفسر قرآن صاحب روح المعانی سید محمود آلوسی بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سورة کا دوسرا نام کلیم بھی ہے کہ اس سورة مبارکہ میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔ اس سورة کی ایک سو پینتیس آیات اور آٹھ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1301 کلمات اور 5242 حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں 6 نبوت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ 6 نبوت میں جب مسلمان مہاجرین کا پہلا قافلہ حبشہ پہنچا تو وہاں پر حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے یہ سورة نجاشی بادشاہ کے سامنے تلاوت کی تھی۔ گزشتہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۝ 0ۭ لَہُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى۝ 8 الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ حسن الحُسْنُ : عبارة عن کلّ مبهج مرغوب فيه، وذلک ثلاثة أضرب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–8

الثری التراب الندی قال لم کن ندیا فھو تراب والمراد مرکز الارض فانہ تحت حقیقی من کل جہۃ وماقیل المرادیہ الثری الذی تحت الصخرۃ التی علیہا ثورفانہ من الاسرائیلیات لاتلفت الیہ الجہر رفع الصوت والسرخلافہ واما اخفی باخطرہ ببالہ وقیل الشر الانسان فی نفسہٖ والاخفی ما اخفی علی ابن آدم۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

وَاِنْ تَجْھَرْبِالْقَوْلِ فَاِنَّـہٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰی۔ (طٰـہٰ : 7) (اگر تم زور سے بات کرو (یا چپکے سے) تو وہ جانتا ہے (علانیہ کو بھی) پوشیدہ کو بھی اور بہت زیادہ مخفی کو بھی۔ ) پروردگار کی وسعت علم تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری فریادیں اور تمہاری چیخیں اس حاکم الحاکمین تک کیسے پہنچ سکتی ہیں کیونکہ وہ کائنات کی ان بلندیوں پر براجمان ہے جس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے حالانکہ اس کے علم اور خبر کا عالم یہ ہے کہ وہ تمہاری ان باتوں کو بھی جانتا ہے جنھیں تم علانیہ کہتے ہو، اور ان باتوں کو بھی جانتا ہے جو تم چپکے سے کہتے ہو۔ وہ تمہارے ہر پوشیدہ عمل کو بھی دیکھتا ہے اور ان باتوں سے بھی آگاہ ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی مزید صفات اور اسمائے گرامی۔ ہر چیز کا خالق، پوشیدہ اور ظاہر باتوں کو جاننے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ لہٰذا وہی ایک عبادت کے لائق ہے۔ اس کے تمام نام بہترین اور بابرکت ہیں۔ اسے ” اللہ “ کے نام سے پکارا جائے یا الرحمن کے نام سے۔ اس کے تو سارے نام ہی بہترین اور بابرکت ہیں۔ یاد رہے کہ کفار مکہ اللہ تعالیٰ کے اسم پاک الرحمن سے چڑتے اور کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے رحمن کون ہے اس وجہ سے نبی معظم ﷺ کو طعنہ دیتے کہ آپ ہمیں تو کسی دوسرے کو ” اللہ “ کا شریک بنانے سے منع کرتے ہیں۔ خود الرحمن کو اس کا شریک بناتے ہیں۔ اس چڑ کی وجہ سے وہ آپ کی اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار کے تقویٰ کی تردید : 8: اَللّٰہُ لَآاِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ لَہُ الْاَسْمَآ ئُ الْحُسْنٰی ( اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کے سارے اچھے اچھے نام ہیں) یعنی وہ اپنی ذات کے لحاظ سے اکیلا ہے۔ اگرچہ اس کی صفات کی تعبیرات جدا جدا ہیں۔ اس آیت میں کفار کے اس مقولے کی تردید ہے کہ تم تو ہمیں کئی معبودوں کی طرف دعوت دیتے ہو۔ یہ بات انہوں نے اسوقت کہی جبکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے بہت سے نام سنے۔ الحسنیؔ یہ احسن کی تانیث ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 7–8

تفسیر۔ 7۔۔ وان تجھر بالقول، ، اگر تم اس کا اعلان کرو گے۔ فانہ یعلم السر واخفی “ ‘۔ سر اور اخفی کی تفسیر۔ حسن کا قول ہے کہ سروہ خفی بات ہے جو آدمی چپکے سے دوسرے سے کہہ دیتا ہے اور اخفی وہ پوشیدہ بات جس کو اپنے دل ہی میں چھپائے رکھتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیرؓ نے فرمایا سر وہ پوشیدہ بات ہے جو آدمی اپنے دل میں رکھتا ہے اور اخفی وہ بات جو آئندہ اللہ دل میں پیدا کردیتا ہے اور اس وقت تک کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ آئنداللہ کی طرف سے دل میں کیا بات پیدا ہوگی ہم آج جس چیز کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھتے ہیں اس سے تو واقف ہوتے ہیں لیکن کل کو ہمارے دل میں جو کیا بات آئے گی ا س سے ناواقف ہوتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–8

6۔ 8:۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان سے لے کر ساتویں زمین کے نیچے تک سب کچھ اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے اور یہ سب کچھ اس نے اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے علم اس کا ایسا وسیع ہے کہ آدمی کے دل میں جو بات آچکی یا آنے والی ہے یہ سب اس کو معلوم ہے ایسے معبود کی تعظیم میں جو دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ بڑے نادان ہیں کیونکہ سوائے اللہ کے انسان کو انسان کی ضرورت کی چیزوں کو کسی دوسرے نے پیدا نہیں کیا جو انسان پر اس کی تعظیم واجب ہو نہ سوائے اللہ کے کسی دوسرے کو انسان کے دل کے مقصد کی خبر ہے نہ کسی مقصد کے پورا کرنے کا کسی دوسرے کو اختیار ہے مشرکین مکہ کو جب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 (طہ) اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ (ما انزلنا علیک القرآن لتشقی) ” نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لئے کہ آپ مشقت میں پڑیں۔ “ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں، (ایاس نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قوی اس پر عمل کرنے سے عاجز ہوجائیں۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوز و فلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–11

خدا کا استوا علی العرش ہونا قول باری ہے (الرحمٰن علی العرش استوی۔ وہ رحمٰن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے) حسن کا قول ہے کہ اپنے لطف و تدبیر کے ساتھ جلوہ فرما ہے۔ ایک قول کے مطابق غلبہ حاصل کئے ہوئے ہے۔ قول باری ہے (فانہ یعلم السرا واخفیٰ ۔ وہ چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے بھی مخفی تر بات بھی جانتا ہے) ابن عباس کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ چپکے چپکے دوسرے سے کہے اور اس سے زیادہ مخفی بات وہ ہے جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھے اور کسی سے اس کا اظہار نہ کرے۔ سعید بن جبیر اور قتادہ کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھتا ہے اور اس سے مخفی تر بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

7 { وَاَخْفٰی } سے مراد ؟ : { سِرّ } اور { اَخْفٰی } کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ اور دونوں مراد لئے گئے ہیں۔ ثقہ حضرات مفسرین کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ ایک مطلب یہ ہے کہ { سِّر } سے مراد وہ مخفی اور راز دارانہ بات ہے جو انسان چھپا کر دوسر سے سے کہتا ہے۔ اور { اَخفْیٰ } سے مراد وہ خفیہ بات ہے جسکو انسان اپنے دل میں ہی چھپا کر رکھتا ہے، دوسرے پر ظاہر ہی نہیں کرتا۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ " سر ‘ ّ ‘ سے مراد وہ بات ہے جو انسان اپنے جی میں چھپا کر رکھتا ہے اور " اخفٰی " سے مراد وہ بات ہے جو ابھی تک اس کے دل میں بھی نہ آئی ہو بلکہ بعد میں آنے والی ہو۔ سو اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ ان دونوں کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

نزول قرآن کا مقصد اور صفات باری تعالیٰ تشریح : کیونکہ آنحضرت ﷺ رات بھر کھڑے ہو کر عبادت کرتے اور قرآن پڑھتے رہتے تو عبادت کا طریقہ اللہ نے یوں مقرر کردیا کہ اس میں میانہ روی اختیار کریں اور اس بات کو خاص طور سے ذہن میں رکھیں کہ آپ کا کام ہے تبلیغ، یعنی اللہ کی دی ہوئی ہدایات لوگوں تک پہنچائیں یہ نہیں کہ رات بھر عبادت کرتے رہیں۔ تو اس کے بعد سے آپ ﷺ رات کے پہلے پہر آرام کرتے اور پچھلے پہر اٹھ کر عبادت کرتے اور دن بھر درس و تدریس اور اشاعت دین میں مشغول رہتے۔ قرآن ایک بہترین ہدایت کی کتاب ہے۔ یہ کتاب کسی معمولی ہستی کی بھیجی ہوئی نہیں۔ یہ کتاب اس رب جلیل، مالک الملک، رب العلمین کی بھیجی ہوئی ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–24

سورة طہ : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 8–9

ف 8 قرآن کی عظمت کے ذکر اور تبلیغ کے سلسلے میں آنحضرت کی تکلیف کی طرف اشارہ فرما کر اب یہاں سے حضرت موسیٰ کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس سے مقصود آنحضرت کو تسلی دینا ہے کیونکہ جن دنوں یہ سورت نازل ہوئی مکہ میں نبی ﷺ کو ایسے ہی حالات درپیش تھے جیسے حضرت موسیٰ کو پیش آچکے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8 تشقی تو مشقت اٹھاتا ہے۔ تذکرۃ دھیان اور توجہ دینے کی چیز۔ یخشی وہ ڈرتا ہے۔ العلی بلند وبالا۔ استوی وہ برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ الثریٰ گیلی مٹی۔ السر بھید، دل میں چھپی بات۔ اخفی بہت زیادہ پوشیدہ، چھپا ہوا۔ اسماء الحسنی بہترین نام۔ تشریح :- آیت نمبر 1 تا 8 اس سورت کو بھی ” حروف مقطعات ‘ ‘ سے شروع کیا گیا ہے۔ جن حروف کے معنی کا علم اور اس کا بھید اللہ کو معلوم ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو تمام انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل کیا ہے تاکہ اس کے وہ بندے جو محتاط، خوف الٰہی سے سرشار اور زندگی کے ہر معاملے میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں ان کو صحیح…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–9

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ شعیب (علیہ السلام) سے اجازت لے کر جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کو اپنی ماں اور اپنے بھائی ہارون سے ملنے کے لئے آرہے تھے، تو اس سفر میں ان کی بی بی بھی ان کے ساتھ تھیں۔ زنانے کے ساتھ کے سبب سے موسیٰ (علیہ السلام) راتوں کو راستہ چلتے تھے۔ وہ سخت جاڑے کا موسم تھا۔ برف کے پڑنے سے ایک رات بڑی سردی ہوئی، اور اتفاق سے اس رات کو موسیٰ (علیہ السلام) راستہ بھی بھول گئے تھے۔ اسی حالت میں طور پہاڑ کی داہنی طرف کچھ آگ کی سی روشنی دکھائی دی۔ اس روشنی کو دیکھ کر انہوں نے اپنی بی بی سے کہا کہ تم یہاں ٹھہری رہو، میں جہاں آگ کی روشنی ہے ، وہاں جا کر آگ لے آتا ہوں۔ اور آگ کے پاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–8

[1] یعنی آپ تکذیب کرنے والوں کی باتیں سن کر ملول اور تنگ دل نہ ہوں اور نہ ان کے پیچھے پڑ کر تکلیف اٹھائیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–8

صفات ، حالات وشیؤن اور تائیدات : (ف 2) قرآن حکیم میں جو الفاظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوئے ہیں ، ان کی تین قسمیں ہیں ، ایک وہ ہیں جو بطور صفات کے استعمال ہوتے ہیں جیسے علیم ، حکیم ، رب اور غفور ورحیم ، وغیرہا ، ایک وہ ہیں جو شؤن و حالات کی تشریح کے لئے آتے ہیں بطور صفت کے ان کا استعمال نہیں ہوتا ، جیسے لفظ استواء کہ یہ ایک خاص حالت اور شان پر دلالت کرتا ہے اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کو بیان کرنا نہیں ، یہی وجہ ہے کہ قرآن میں کہیں بھی بطور مستوی کے یہ لفظ نہیں آیا ہے ، اور احادیث میں بھی اللہ تعالیٰ کی صفات میں کہیں مستوی علی العرش کا لفظ موجود نہیں کریگا ایک حقیقت شرعی ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-8 وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ جس کے سوا اور کو ئیم عبود برحق ہونے کا مستحق نہیں ہے اور نہ اس کے سوا کوئی بندگی اور عبادت کے قابل ہے اور سب اچھے اچھے نام اسی کے لئے خاص ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کافر جب رحمان سنتے تو کہتے تم ایک کو ٹھہرائو کبھی کسی کو پکارتے ہو کبھی کسی کو 12 خلاصہ ! یہ کہ حضرت حق جل مجدہ کے صفاتی ناموں پر یہ کہتے کہ مسلمان بھی متعدد خدا مانتے ہیں اس کا جواب دیا گیا کہ اس مجمع صفات کمالیہ کے اور اچھے اچھے نام ہیں اس کو رحمان یا رحیم کہنا توحید الٰہی کے منافی نہیں ہے تعدد اسماء سے تعدد ذات لازم نہیں آتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–15

ف 4۔ سو قرآن ایسی ذات مستجمع الصفات کا نازل کیا ہوا ہے اور یقینی حق ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اس کے لئے سب اچھے اچھے نام ہیں : 8۔ گزشتہ آیات کی مزید تشریح اس آیت میں کردی گئی اور (آیت) ” اللہ لا الہ الا ھو “۔ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی مخفی باتوں کو جاننے والا ہے اور نہ ہی کوئی زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا صحیح معنوں میں مالک ہے کیونکہ یہاں جو کچھ ہے سب عارضی ہے اور اسی طرح زمین و آسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کا پیدا کرنے والا وہی ہے اور یہ بھی کہ ان سب کو پیدا کرکے اس کا انتظام وانصرام سنبھالنے والا بھی وہ خود ہے ۔ الہ کا مفہوم بہت وسیع ہے اور قرآن کریم نے اس کی بڑی وضاحت فرمائی ہے لیکن افسوس کہ بعض مفسرین نے اس کے معنوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

يَعْلَمُ السِّرَّ‌ وَأَخْفَى (Knows the secret and what is even more hidden - 20:7). سِرّ (Sirr: Secret) means something which a man hides in his heart and which is not known to anyone else and ) اخفٰی (what is more hidden) means a thought which has not even formed in his mind and will take shape later on. Allah is fully aware of what ideas a man conceals in his heart at a particular moment and what thoughts he will entertain in the future, while the person concerned himself does not know what thoughts will come to his mind in the days to come.

Read the full tafseer →