Explained with ayahs 1–8
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے۔
سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہوچکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہ سے اے شخص ہے کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ حضور ﷺ نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری یعنی طہ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل حضور ﷺ نے اور آپ کے صحابہ نے شروع کردیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑگئے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة طٰهٰ 3
یعنی کچھ ضروری نہیں ہے کہ جو ظلم و ستم تم پر اور تمہارے ساتھیوں پر ہو رہا ہے اور جن شرارتوں اور خباثتوں سے تمہیں نیچا دکھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ان پر تم بآواز بلند ہی فریاد کرو۔ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم پر کیا کیفیت گزر رہی ہے۔ وہ تمہارے دلوں کی پکار تک سن رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي، سِر سے مراد وہ چیز ہے جو انسان نے اپنے دل میں چھپائی ہوئی ہے کسی پر ظاہر نہیں اور اخفیٰ سے مراد وہ بات ہے جو ابھی تک تمہارے دل میں بھی نہیں آئی آئندہ کسی وقت دل میں آوے گی حق تعالیٰ ان سب چیزوں سے واقف و باخبر ہیں کہ اس وقت کسی انسان کے دل میں کیا ہے اور کل کو کیا ہوگا۔ کل کا معاملہ ایسا ہے کہ خود اس شخص کو بھی آج اس کی خبر نہیں کہ کل کو میرے دل میں کیا بات آوے گی۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →وان تجھر بالقول فانہ یعلم السرواخفی (7)
عربیت کا ایک اسلوب
فصیح عربی کے اسلوب کے مطابق اس میں مقابل کے الفاظ، بربنائے قرینہ، حذف ہیں۔ اس اسلوب کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آئے ہیں۔ اس حذف کو کھول دیجئے تو پوری بات گویا یوں ہوگی، وان تجھر بالقول او تغافت بہ فانہ یعلما الجھر والسروا اخفی“ یعنی خواہ تم بات کو علانیہ کہو یا چپکے سے کہو، خدا علانیہ، پوشیدہ اور پوشیدہ تر سب کو جانتا ہے۔
نبی ﷺ کو ایک نئے پہلو سے تسلی
نبی ﷺ کو ایک دوسرے پہلو سے تسلی دی گئی ہے کہ آپ مطمئن رہیں کہ اپنی مشکلات میں جو کچھ بھی آپ اپنے پروردگار سے کہتے اور جو دعا و مناجات بھی کرتے ہیں خواہ سرایا علانیۃ، اور جو پریشانی بھی آپ…
Read the full tafseer →7۔ 1 یعنی اللہ کا ذکر یا اس سے دعا اونچی آواز میں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ پوشیدہ سے پوشیدہ تر بات کو بھی جانتا ہے یا اَخْفَیٰ کے معنی ہیں کہ اللہ تو ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن کو اس نے تقدیر میں لکھ دیا اور ابھی تک لوگوں سے مخفی رکھا ہے۔ یعنی قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا اسے علم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
5: اور زیادہ چھپی ہوئی باتیں وہ ہیں جو زبان سے کہی ہی نہیں گئیں، بلکہ جن کا صرف خیال دل میں آیا۔ اللہ تعالیٰ ان باتوں سے بھی باخبر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
الرحمن علی العرش استوی (02 : 5) ” رحمن کا ئنات کے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے “۔ استوائے عرش کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا اس کائنات پر پوری طرح کنٹرول ہے اور یہ اس کی مکمل گرفت میں ہے۔ لہٰذا لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ‘ رسول کا کام صرف یہ ہے کہ جو ڈرتا ہے اسے ڈرائے۔
اس کائنات پر مکمل کنٹرول اور گرفت کے ساتھ ساتھ لہ ما فی السموت۔۔۔۔۔۔۔ وما تحت الشری (02 : 6) ” وہ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمان و زمین میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں “۔ یہ کائناتی مناظر یہاں اس لئے دیئے گئے کہ اللہ کی ملکیت اور اس کی قدرت کو اس طرح پیش کیا جائے کہ یہ انسانی تصور کے قریب تر ہوجائیں جبکہ اللہ کی ملکیت اور اس کی…
Read the full tafseer →10 پہلے عموم قدرت و تصرف کا بیان تھا۔ اس آیت میں علم الٰہی کی وسعت کا تذکرہ ہے۔ یعنی جو بات زور سے پکار کر کہی جائے، وہ اس علام الغیوب سے کیونکر پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ جس کو ہر کھلی چھپی بلکہ چھپی سے زیادہ چھپی ہوئی باتوں کی خبر ہے۔ جو بات تنہائی میں آہستہ کہی جائے، اور جو دل میں گزرے ابھی زبان تک نہ آئی ہو اور جو ابھی دل میں بھی نہیں گزری آئندہ گزرنے والی ہو، حق تعالیٰ کا علم ان سب کو محیط ہے۔ اسی لیے بلا ضرورت بہت زور سے چلاّ کر ذکر کرنے کو بھی علمائے شریعت نے منع کیا ہے۔ جن مواقع میں ذکر با آواز بلند منقول ہے یا بعض مصالح معتبرہ کی بناء پر تجربہ کاروں کے نزدیک نافع سمجھا گیا ہے، وہ عموم نہی سے…
Read the full tafseer →آیت 7 وَاِنْ تَجْہَرْ بالْقَوْلِ ”
اللہ کو پکارتے ہوئے ‘ اس سے دعایا مناجات کرتے ہوئے اگر تم لوگ اپنی آوازوں کو بلند کرو یا آہستہ رکھو ‘ اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا :
Read the full tafseer →6 خفی اور سر کا لغوی فرق :۔ اخفٰی کا لفظ یسر سے زیادہ ابلغ ہے۔ یسر کا معنی پوشیدہ یا راز کی بات ہے۔ جو آپ کسی دوسرے سے کہہ دیں اور اسے تاکید کردیں کہ وہ اور کسی کو نہ بتلائے۔ اور اخفیٰ سے مراد وہ بات خیال ہے جو کسی کے دل میں آئے لیکن وہ کسی سے بھی اس کا ذکر تک نہ کرے۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ کی وسعت قدرت و تصرف اور اختیار بیان کی گئی تھی۔ اس آیت میں لا محدود وسعت علم کا بیان ہوا ہے۔ یعنی قریش کو بتلایا جارہا ہے کہ اللہ تمہاری سب سازشوں، شرارتوں اور کارستانیوں سے پوری طرح واقف ہے۔
Read the full tafseer →6۔ وہ ہمہ بین وہمہ دان تو مخفی اور مخفی در مخفی چیزوں کا بھی علم رکھتا ہے۔ سو پکار کر کہی ہوئی چیزوں کا علم اسے کیسے نہ ہوگا۔ گویا اصل کلام یوں ہوگا۔ وان یجھر بالقول فاعلم ان اللہ تعالیٰ یعلمہ فانہ یعلم السر واخفی فضلا عنہ (روح) (آیت) ” السر واخفی “۔ سر تو وہ ہے جسے انسان اپنے دل میں چھپائے رکھے اور اخفی وہ ہے جس کا علم خود اس کو بھی نہ ہو۔ السر مااسررت فی نفسک واخفی من ذلک مالم تحدث بہ نفسک (ابن جریر۔ عن سعید بن جبیر) السر ما حدث بہ العبد غیرہ فی خفی واخفی منہ ما اضمرہ فی نفسہ ممالم یحدث بہ غیرہ (جصاص عن ابن عباس ؓ اوپر بیان اس کی قدرت کا تھا۔ اب بیان علم کا ہورہا ہے کہ وہ بھی اسی طرح کا مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے طٰہٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے اے محمد ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں یعنی تعب میں پڑجائیں اس طرز عمل سے جو آپ نے نزول قرآن کے بعد اختیار کیا رات کی نماز (تہجد) میں طول قیام کے ذریعہ، مطلب یہ کہ (تخفیف کرکے) اپنے اوپر بار کم ڈالئے بلکہ ہم نے قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خوف خدا رکھتا ہو یہ اس ذات کی جانب سے نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ تنزیلاً اپنے فعل ناصب (انزلناہ) کے عوض میں ہے عُلیٰ عُلْیَا کی جمع ہے جیسے…
Read the full tafseer →وان تجہر بالقول فانہ یعلم السر واخفی۔ اور اگر تم پکار کر بات کہو تو وہ چپکے سے کہی ہوئی بات کو
اور اس سے بھی زیادہ خفی بات کو جانتا ہے۔
بیضاوی نے کہا یہ جملہ اصل میں اس طرح تھا کہ اگر آپ اللہ کا ذکر اور اس سے دعا پکار کر کریں گے تو اللہ کو اس پکارنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ سر کو جانتا ہے اور بہت زیادہ پوشیدہ کو بھی۔ میرے نزدیک اصل کلام اس طرح تھا اگر آپ اللہ کا ذکر چلا کر کریں گے اور اونچی آواز سے پکاریں گے یا پست آواز سے چپکے چپکے ذکر کریں گے اللہ (کے لئے دونوں برابر ہیں بہرحال) اس کو جانتا ہے قبول کرے گا اور ثواب دے گا۔ اِنْ تَجْہَرْ بالْقَوْلِکے بعد اَوْ تُخَافِتْ بِہٖکے محذوف ہونے پر کلام…
Read the full tafseer →(7) اور صخرہ بیل کے دونوں سینگوں پر ہے اور بیل ثری کے اوپر ہے اور ثری اس تر مٹی کو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کو اس کے نیچے جو چیزیں ہیں اس کا بھی علم ہے اور وہ بھی اس کی ملکیت میں شامل ہیں اور اس کے علم کی یہ شان ہے کہ اے مخاطب اگر تم کسی بات یا فعل کو علانیہ طور پر کرے تو وہ چپکے سے کہی ہوئی بات اور کی ہوئی بات کو اور بلکہ اس سے بھی زیادہ پوشیدہ بات کو جانتا ہے یعنی جو ابھی تک دل میں بات ہے ابھی تک اس کو ظاہر نہیں کیا ہوگا اس کو بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔
Read the full tafseer →وَاِنْ تَجْــهَرْ بالْقَوْلِ۔۔ : یعنی اگر تم اونچی آواز سے بات کرو تو وہ اسے بالاولیٰ سنتا ہے، کیونکہ وہ تو سر (پوشیدہ بات) کو جانتا ہے اور اخفی (اس سے زیادہ پوشیدہ) کو بھی۔ سر سے مراد وہ بات ہے جو تنہائی میں چپکے سے کہی جائے اور اخفیٰ (اس سے زیادہ چھپی بات) وہ ہے جو ابھی دل میں ہو اور زبان پر نہ آئی ہو۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان تجھر بالقول فانہ یعلم السر واخفی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : السرا سے کہتے ہیں جو انسان آہستہ طور پر بیان کرتا ہے اور اخفی سے مراد وہ ہے جو انسان دل میں چھپائے ہوئے ہوتا ہے اور اسے دوسرے کے سامنے بیان نہیں کرتا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ السر سے مراد دل کی بات ہے اور اخفی سے مراد وہ ہے جسے تیرا نفس بیان کرتا ہے جو ابھی موجود نہیں ہے جبکہ وہ بعد میں ہوگا اور تو اسے جانتا ہے تو اپنے نفس سے آج بیان کرتا ہے اور کل کے متعلق جو بیان کرتا ہے اسے تو نہیں جانتا اور اللہ تعالیٰ اسے بھی جانتا ہے جو تو آج آہستہ سے سوچتا ہے اور جو توکل سوچے گا معنی یہ ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1:۔ ابن منذر ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب شروع میں وحی کا نزول ہوا تو آپ نماز میں اپنے قدموں کے اگلے حصوں پر کھڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “
نزول قرآن آپ (علیہ السلام) کے لئے باعث مشقت نہیں :
2:۔ ابن مردویہ اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کفار نے کہا یہ آدمی اپنے رب کی طرف سے مشقت میں پڑگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “
3:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تھے تو رسی سے اپنے…
Read the full tafseer →[وَان : اور اگر ] [تَجْــهَرْ : تم نمایاں کرو ] [بِالْقَوْلِ : بات کو ] [فَانهٗ : تو بیشک وہ تو ] [يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [السِّرَّ : بھید کو ] [وَاَخْفٰي : اور اس سے زیادہ پوشیدہ کو (یعنی نیت کو)]
(آیت۔ 7) ۔ اَخْفٰی باب افعال میں ماضی کا صیغہ نہیں ہے بلکہ یہ افعل تفضیل میں اَخْفَیُ سے تبدیل ہو کر اَخْفٰی بنا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ زور سے کہی ہوئی بات اور خفی بات کو بھی جانتا ہے
(وَ اِنْ تَجْھَرْ بالْقَوْلِ فَاِنَّہٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰی) (اے مخاطب اگر تو زور سے بات کرے تو وہ چپکے سے کہی ہوئی بات کو اور جو اس سے خفی ہو اس سب کو جانتا ہے) زور کی آواز تو سنتا ہی ہے جو کوئی چپکے سے بات کرے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو زبان سے ظاہر نہ کرے اس لیے (یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰی) فرمایا یعنی یسمع کی بجائے لفظ یعلم فرماتا ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ آواز والی بات کو سنتا ہے اور جانتا ہے اور اس کے علاوہ جو بات زبان سے نہ نکلی اور دل میں ہو وہ اسے بھی جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تقریر رسالت و وحدانیت
قال اللہ تعالیٰ ۔ طٰہٰ مآ انزلنا علیک القراٰن لتشقٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنٰی
(ربط) گزشتہ سورت کے ختم پر نزول قرآن کا ذکر تھا۔ فانما یسرناہ بلسانک لتبشر بہ المتقین الخ یعنی ہم نے قرآن آپ ﷺ کی زبان یعنی عربی میں اس لیے نازل کیا تاکہ آپ ﷺ کو متقین کی تبشیر اور معاندین کا انداز آسان ہوجائے اب اس سورت کے شروع میں انزال قرآن کی حکمت بیان فرماتے ہیں کہ اس قرآن کے نازل کرنے سے ہمارا مقصود نصیحت اور مرعظت اور بندوں کی ہدایت ہے کہ ان کو زمین اور آسمان کے پیدا کرنے والے کی معرفت حاصل ہو اور سمجھیں کہ لائق عبادت وہی معبود برحق ہے جس کی قدرت اور جس کا علم تمام کائنات کو محیط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5:۔ یہ ماقبل ہی کی توضیح وتائید ہے۔ تمام نظام عالم اسی کے قبضے میں ہے۔ ” وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ الخ “ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ ظاہر و باطن اور سر و علانیہ اس کو یکساں طور پر معلوم ہے۔ سب کی دعائیں اور پکاریں وہی سنتا ہے۔ ” و ان تجهر “ شرط کی جزاء محذوف ہے۔ اور ” فانه یعلم السر واخفی “ جملہ ماقبل کی علت اور جواب محذوف کے قائم مقام ہے فانہ الخ قائم مقام بجواب الشرط ولیس الجواب فی الحقیقۃ والاصل عند البعض وان تجھر بالقول فاعلم ان اللہ یعلمہ فانہ یعلم السر واخفی الخ ّ (روح ج 16 ص 147) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تفسیر : نام اور کوائف :
یہ سورة اپنے پہلے لفظ طٰہٰ کے نام سے موسوم ہے ۔ اس کا عام فہم نام طٰہٰ ہی ہے۔ تاہم مفسر قرآن صاحب روح المعانی سید محمود آلوسی بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سورة کا دوسرا نام کلیم بھی ہے کہ اس سورة مبارکہ میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔ اس سورة کی ایک سو پینتیس آیات اور آٹھ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1301 کلمات اور 5242 حروف پر مشتمل ہے۔
یہ سورة مکی زندگی میں 6 نبوت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ 6 نبوت میں جب مسلمان مہاجرین کا پہلا قافلہ حبشہ پہنچا تو وہاں پر حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے یہ سورة نجاشی بادشاہ کے سامنے تلاوت کی تھی۔ گزشتہ…
Read the full tafseer →وَاِنْ تَجْــہَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّہٗ يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي 7
جهر
جَهْر يقال لظهور الشیء بإفراط حاسة البصر أو حاسة السمع .
أمّا البصر فنحو : رأيته جِهَارا، قال اللہ تعالی: لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً [ البقرة/ 55] ، أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً [ النساء/ 153]
( ج ھ ر ) الجھر
( ف) اس کے اصل معنی کسی چیز کا حاسہ سمع یا بصر میں افراط کے سبب پوری طرح ظاہر اور نمایاں ہونے کے ہیں چناچہ حاسہ بصر یعنی نظروں کے سامنے کسی چیز کے ظاہر ہونے کے متعلق کہا جاتا ہے رایتہ جھرا کہ میں نے اسے کھلم کھلا دیکھا قرآن میں ہے :۔ لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً [ البقرة/ 55]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
الثری التراب الندی قال لم کن ندیا فھو تراب والمراد مرکز الارض فانہ تحت حقیقی من کل جہۃ وماقیل المرادیہ الثری الذی تحت الصخرۃ التی علیہا ثورفانہ من الاسرائیلیات لاتلفت الیہ الجہر رفع الصوت والسرخلافہ واما اخفی باخطرہ ببالہ وقیل الشر الانسان فی نفسہٖ والاخفی ما اخفی علی ابن آدم۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
وَاِنْ تَجْھَرْبِالْقَوْلِ فَاِنَّـہٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰی۔ (طٰـہٰ : 7)
(اگر تم زور سے بات کرو (یا چپکے سے) تو وہ جانتا ہے (علانیہ کو بھی) پوشیدہ کو بھی اور بہت زیادہ مخفی کو بھی۔ )
پروردگار کی وسعت علم
تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری فریادیں اور تمہاری چیخیں اس حاکم الحاکمین تک کیسے پہنچ سکتی ہیں کیونکہ وہ کائنات کی ان بلندیوں پر براجمان ہے جس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے حالانکہ اس کے علم اور خبر کا عالم یہ ہے کہ وہ تمہاری ان باتوں کو بھی جانتا ہے جنھیں تم علانیہ کہتے ہو، اور ان باتوں کو بھی جانتا ہے جو تم چپکے سے کہتے ہو۔ وہ تمہارے ہر پوشیدہ عمل کو بھی دیکھتا ہے اور ان باتوں سے بھی آگاہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
فہم القرآن
ربط کلام : جس ذات کبریا نے یہ قرآن نازل کیا ہے اس کا تعارف۔
قرآن مجید اس ذات کبریا نے نازل کیا ہے جس نے زمین اور بلند وبالا آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ زمین و آسمان کو پیدا کرنے کے بعد الرحمن عرش پر مستوی ہوا۔ جس طرح اس کی شایان شان ہے۔ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے سب کا سب اسی مالک کی ملکیت ہے۔ لہٰذا آپ اونچی آواز سے بات کریں یا آہستہ انداز میں دل ہی دل میں کہیں وہ خفیہ اور آہستہ سے آہستہ آواز کو سنتا ہی نہیں بلکہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات اور احساسات کو جانتا ہے۔ یہاں پہلے یہ بات سمجھائی ہے کہ اے پیغمبر آپ کفار کے ظلم اور تسلّط کے بارے میں…
Read the full tafseer →7: وَاِنْ تَجْھَرْ بِالْقَوْلِ (اور اگر تم پکار کر بات کہو یعنی تم اپنی آواز کو بلند کرو) فَاِنَّہٗ یَعْلَمُ السِّرَّ (پس بیشک وہ چپکے سے کہی ہوئی بات کو جانتا ہے) یعنی وہ بات جو تم بطور راز کے دوسرے سے کہو۔ َواَخْفٰی (اور اس سے زیادہ مخفی بات کو بھی) اس سے مراد وہ باتیں ہیں جو تیرے دل میں بطورخیالات کے آتی ہیں۔ یا وہ باتیں جن کو تم اپنے دل میں چھپاتے ہو یا جن میں تم رازداری کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
تفسیر۔
7۔۔ وان تجھر بالقول، ، اگر تم اس کا اعلان کرو گے۔ فانہ یعلم السر واخفی “ ‘۔
سر اور اخفی کی تفسیر۔
حسن کا قول ہے کہ سروہ خفی بات ہے جو آدمی چپکے سے دوسرے سے کہہ دیتا ہے اور اخفی وہ پوشیدہ بات جس کو اپنے دل ہی میں چھپائے رکھتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیرؓ نے فرمایا سر وہ پوشیدہ بات ہے جو آدمی اپنے دل میں رکھتا ہے اور اخفی وہ بات جو آئندہ اللہ دل میں پیدا کردیتا ہے اور اس وقت تک کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ آئنداللہ کی طرف سے دل میں کیا بات پیدا ہوگی ہم آج جس چیز کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھتے ہیں اس سے تو واقف ہوتے ہیں لیکن کل کو ہمارے دل میں جو کیا بات آئے گی ا س سے ناواقف ہوتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
6۔ 8:۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان سے لے کر ساتویں زمین کے نیچے تک سب کچھ اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے اور یہ سب کچھ اس نے اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے علم اس کا ایسا وسیع ہے کہ آدمی کے دل میں جو بات آچکی یا آنے والی ہے یہ سب اس کو معلوم ہے ایسے معبود کی تعظیم میں جو دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ بڑے نادان ہیں کیونکہ سوائے اللہ کے انسان کو انسان کی ضرورت کی چیزوں کو کسی دوسرے نے پیدا نہیں کیا جو انسان پر اس کی تعظیم واجب ہو نہ سوائے اللہ کے کسی دوسرے کو انسان کے دل کے مقصد کی خبر ہے نہ کسی مقصد کے پورا کرنے کا کسی دوسرے کو اختیار ہے مشرکین مکہ کو جب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1
(طہ) اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ (ما انزلنا علیک القرآن لتشقی) ” نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لئے کہ آپ مشقت میں پڑیں۔ “ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں، (ایاس نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قوی اس پر عمل کرنے سے عاجز ہوجائیں۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوز و فلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
خدا کا استوا علی العرش ہونا
قول باری ہے (الرحمٰن علی العرش استوی۔ وہ رحمٰن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے) حسن کا قول ہے کہ اپنے لطف و تدبیر کے ساتھ جلوہ فرما ہے۔ ایک قول کے مطابق غلبہ حاصل کئے ہوئے ہے۔
قول باری ہے (فانہ یعلم السرا واخفیٰ ۔ وہ چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے بھی مخفی تر بات بھی جانتا ہے) ابن عباس کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ چپکے چپکے دوسرے سے کہے اور اس سے زیادہ مخفی بات وہ ہے جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھے اور کسی سے اس کا اظہار نہ کرے۔ سعید بن جبیر اور قتادہ کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھتا ہے اور اس سے مخفی تر بات…
Read the full tafseer →6 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا بیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں نہاں اور عیاں سب ایک برابر ہیں : یعنی { اِنْ تَجْہَرْ } شرط کی جزاء محذوف ہے۔ اور { فَاِنَّہ یَعْلَمُ } اس محذوف کی علت ہے۔ (روح، قرطبی، جلالین، جمل وغیرہ) ۔ سو اصل چیز تو دل کی یاد اور اس میں موجود عظمت خداوندی کا استحضار ہے۔ زبان سے ذکر و دعا کی جو اجازت ہے اس سے مقصود اصل میں دل میں موجود ان ہی معانی و مطالب کا ذکر و تذکرہ ہے۔ اور اس کو دوسرے شواغل سے محفوظ رکھنا اور ہر وقت اور ہر حال میں اسی کے ذکر سے رطب اللسان اور اس کی یاد دلشاد سے مشرف و سرفراز رہنا ہے۔ نہ کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کو سنانا کہ وہ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نزول قرآن کا مقصد اور صفات باری تعالیٰ
تشریح : کیونکہ آنحضرت ﷺ رات بھر کھڑے ہو کر عبادت کرتے اور قرآن پڑھتے رہتے تو عبادت کا طریقہ اللہ نے یوں مقرر کردیا کہ اس میں میانہ روی اختیار کریں اور اس بات کو خاص طور سے ذہن میں رکھیں کہ آپ کا کام ہے تبلیغ، یعنی اللہ کی دی ہوئی ہدایات لوگوں تک پہنچائیں یہ نہیں کہ رات بھر عبادت کرتے رہیں۔ تو اس کے بعد سے آپ ﷺ رات کے پہلے پہر آرام کرتے اور پچھلے پہر اٹھ کر عبادت کرتے اور دن بھر درس و تدریس اور اشاعت دین میں مشغول رہتے۔ قرآن ایک بہترین ہدایت کی کتاب ہے۔ یہ کتاب کسی معمولی ہستی کی بھیجی ہوئی نہیں۔ یہ کتاب اس رب جلیل، مالک الملک، رب العلمین کی بھیجی ہوئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–24
سورة طہ :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 7 بھید سے مراد وہ بات ہے جو تنہائی میں چپکے سے کہی جائے اور اس سے زیادہ چھپی بات وہ ہے جو ابھی دل میں ہو اور زبان تک نہ آئی ہو۔
Read the full tafseer →(20:7) تجھر۔ مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان) واحد مذکر حاضر۔ تو آواز بلند کرے یا کرتا ہے یا کرے گا۔ جہر۔ بلند آواز سے یا عیاں طور پر۔ الجھر کے معنی کسی چیز کا حاسہ سمع یا حاسہ بصر میں افراط کے سبب پوری طرح ظاہر اور نمایاں ہونے کے ہیں۔ چناچہ حاسہ بصر کے متعلق قرآن مجید میں آیا ہے لن نؤمن لک حتی نری اللہ جھرۃ (2:52) جب تک ہم خدا کو سامنے نمایاں طور پر نہ دیکھ لیں گے تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔ اور حاسہ سمع کے متعلق آیت ہذا۔: اگر تو پکار کر بات کہے تو وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات کو اور اس سے زیادہ چھپی ہوئی کو بھی جانتا ہے۔
السر۔ اس بات کو کہتے ہیں جو دل میں پوشیدہ ہو یہ اعلان کی ضد ہے۔ چناچہ قرآن مجید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8
تشقی تو مشقت اٹھاتا ہے۔ تذکرۃ دھیان اور توجہ دینے کی چیز۔ یخشی وہ ڈرتا ہے۔ العلی بلند وبالا۔ استوی وہ برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ الثریٰ گیلی مٹی۔ السر بھید، دل میں چھپی بات۔ اخفی بہت زیادہ پوشیدہ، چھپا ہوا۔ اسماء الحسنی بہترین نام۔
تشریح :- آیت نمبر 1 تا 8
اس سورت کو بھی ” حروف مقطعات ‘ ‘ سے شروع کیا گیا ہے۔ جن حروف کے معنی کا علم اور اس کا بھید اللہ کو معلوم ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو تمام انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل کیا ہے تاکہ اس کے وہ بندے جو محتاط، خوف الٰہی سے سرشار اور زندگی کے ہر معاملے میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں ان کو صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ شعیب (علیہ السلام) سے اجازت لے کر جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کو اپنی ماں اور اپنے بھائی ہارون سے ملنے کے لئے آرہے تھے، تو اس سفر میں ان کی بی بی بھی ان کے ساتھ تھیں۔ زنانے کے ساتھ کے سبب سے موسیٰ (علیہ السلام) راتوں کو راستہ چلتے تھے۔ وہ سخت جاڑے کا موسم تھا۔ برف کے پڑنے سے ایک رات بڑی سردی ہوئی، اور اتفاق سے اس رات کو موسیٰ (علیہ السلام) راستہ بھی بھول گئے تھے۔ اسی حالت میں طور پہاڑ کی داہنی طرف کچھ آگ کی سی روشنی دکھائی دی۔ اس روشنی کو دیکھ کر انہوں نے اپنی بی بی سے کہا کہ تم یہاں ٹھہری رہو، میں جہاں آگ کی روشنی ہے ، وہاں جا کر آگ لے آتا ہوں۔ اور آگ کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
[1] یعنی آپ تکذیب کرنے والوں کی باتیں سن کر ملول اور تنگ دل نہ ہوں اور نہ ان کے پیچھے پڑ کر تکلیف اٹھائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
صفات ، حالات وشیؤن اور تائیدات :
(ف 2) قرآن حکیم میں جو الفاظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوئے ہیں ، ان کی تین قسمیں ہیں ، ایک وہ ہیں جو بطور صفات کے استعمال ہوتے ہیں جیسے علیم ، حکیم ، رب اور غفور ورحیم ، وغیرہا ، ایک وہ ہیں جو شؤن و حالات کی تشریح کے لئے آتے ہیں بطور صفت کے ان کا استعمال نہیں ہوتا ، جیسے لفظ استواء کہ یہ ایک خاص حالت اور شان پر دلالت کرتا ہے اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کو بیان کرنا نہیں ، یہی وجہ ہے کہ قرآن میں کہیں بھی بطور مستوی کے یہ لفظ نہیں آیا ہے ، اور احادیث میں بھی اللہ تعالیٰ کی صفات میں کہیں مستوی علی العرش کا لفظ موجود نہیں کریگا ایک حقیقت شرعی ہے اور اس…
Read the full tafseer →-7 اور اے مخاطب اگر تو کوئی بات پکار کر کہے تو اللہ تعالیٰ اس کا محتاج نہیں کیونکہ وہ تو ہر ایک پوشیدہ بات اور پوشیدہ سے پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔ یعنی اگر کوئی بات جہر سے اور پکار کر کہی جائے تو اس کے سننے میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا جبکہ اس کے احاطہ علمی کی یہ حالت ہے کہ وہ ہر ایک مخفی اور پوشیدہ بلکہ پوشیدہ سے پوشیدہ بات بھی وہ جانتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں چھپا ہوا آہستہ بولے اور اس سے چھپا جو دل میں ہو۔ 12
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی جو ابھی دل میں ہے۔
Read the full tafseer →بات کو مخفی رکھنے یا ظاہر کرنے سے اس کی ذات کو کوئی اثر نہیں وہ سب کچھ جانتا ہے :
7۔ اللہ رب العزت بذات الصدور ہے اور وہ لوگوں کے دلوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے جو ابھی کسی انسان کے تصور میں بھی نہیں وہ بھی نہیں وہ اس کو بھی اچھی طرح جانتا ہے لہذا تم کسی بات کو ظاہر کرو یا مخفی رکھو اس کے لئے تو سب برابر ہے ، خفی اس کو کہتے ہیں جو سر یا بھید سے بھی زیادہ مخفی ہو مثلا وہ خیال جو انسان کے دل میں گزرے یا وہ جو ابھی انسان کے دل میں بھی نہ آیا ہو وہ اس کو بھی خوب جانتا ہے ، اس میں نبی اعظم وآخر ﷺ کے لئے ایک طرح کی تسلی ہے کہ آپ ﷺ مطمئن رہیں کہ اپنی مشکلات میں جو کچھ بھی آپ ﷺ اپنے پروردگار سے کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى (Knows the secret and what is even more hidden - 20:7). سِرّ (Sirr: Secret) means something which a man hides in his heart and which is not known to anyone else and ) اخفٰی (what is more hidden) means a thought which has not even formed in his mind and will take shape later on. Allah is fully aware of what ideas a man conceals in his heart at a particular moment and what thoughts he will entertain in the future, while the person concerned himself does not know what thoughts will come to his mind in the days to come.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
3. That is, you need not complain to Allah in a loud voice against the persecution from which you and your companions are suffering and the mischievous machinations your enemies are devising to defeat you for Allah is fully aware of all those things, and He hears even the complaints you cherish in your hearts.
Read the full tafseer →