Explained with ayahs 1–8
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے۔
سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہوچکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہ سے اے شخص ہے کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ حضور ﷺ نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری یعنی طہ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل حضور ﷺ نے اور آپ کے صحابہ نے شروع کردیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑگئے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة طٰهٰ 3
یعنی کچھ ضروری نہیں ہے کہ جو ظلم و ستم تم پر اور تمہارے ساتھیوں پر ہو رہا ہے اور جن شرارتوں اور خباثتوں سے تمہیں نیچا دکھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ان پر تم بآواز بلند ہی فریاد کرو۔ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم پر کیا کیفیت گزر رہی ہے۔ وہ تمہارے دلوں کی پکار تک سن رہا ہے۔
Read the full tafseer →وَمَا تَحْتَ الثَّرٰى، ثریٰ ، نمناک گیلی مٹی کو کہتے ہیں جو زمین کھودنے کے وقت نکلتی ہے مخلوقات کا علم تو صرف ثریٰ تک ختم ہوجاتا ہے، آگے اس ثریٰ کے نیچے کیا ہے اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، اس نئی تحقیق و ریسرچ اور نئے نئے آلات اور سائنس کی انتہائی ترقی کے باوجود اب سے چند سال پہلے زمین کو برما کر ایک طرف سے دوسری طرف نکل جانے کی کوشش سے مدتوں تک جاری رہی۔ ان سب تحقیقات اور انتھک کوششوں کا نتیجہ اخبارات میں سب کے سامنے آ چکا ہے کہ صرف چھ میل کی گہرائی تک یہ آلات جدیدہ کام کرسکے، آگے ایک ایسا غلاف حجری ثابت ہوا جہاں کھودنے کے سارے آلات اور سائنس جدید کے سب افکار عاجز ہوگئے یہ صرف چھ میل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
الرحمن علی العرش استوی۔ لہ ما فی السموت و ما فی الارض وما بینھما و ما تحت الثری (5۔ 6)
قرآن کی عظمت کا بیان اور یہ خدا کی جن صفات کا مطہر ہے ان کا حوالہ
یہ قرآن کی عظمت کا بیان بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی جن صفات کا یہ مظہر ہے ان کی طرف اشارہ بھی۔ فرمایا کہ وہ خالق ارض و سماء رحمان ہے۔ اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے کہ وہ خلق کو پیدا کر کے یوں ہی چھوڑ نہ دے بلکہ جس طرح اس نے اس کی مادی زندگی کے اسباب و وسائل مہاک فرمائے اسی طرح اس کی ہدایت کا سامان بھی کرے، چناچہ اس نے انسان کی رہنمائی کے لئے اس کو عقل و نطق سے نوازا اور اس پر مزید فضل یہ فرمایا کہ اس کی ہدایت کے لئے اپنی کتاب اتاری۔ اسی حقیقت کی…
Read the full tafseer →6۔ 1 ثَرَیٰ کے معنی ہیں السافلین یعنی زمین کا سب سے نچلا حصہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4: اس کی تشریح پیچھے سورة اعراف : 54 کے حاشیے میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
الرحمن علی العرش استوی (02 : 5) ” رحمن کا ئنات کے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے “۔ استوائے عرش کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا اس کائنات پر پوری طرح کنٹرول ہے اور یہ اس کی مکمل گرفت میں ہے۔ لہٰذا لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ‘ رسول کا کام صرف یہ ہے کہ جو ڈرتا ہے اسے ڈرائے۔
اس کائنات پر مکمل کنٹرول اور گرفت کے ساتھ ساتھ لہ ما فی السموت۔۔۔۔۔۔۔ وما تحت الشری (02 : 6) ” وہ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمان و زمین میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں “۔ یہ کائناتی مناظر یہاں اس لئے دیئے گئے کہ اللہ کی ملکیت اور اس کی قدرت کو اس طرح پیش کیا جائے کہ یہ انسانی تصور کے قریب تر ہوجائیں جبکہ اللہ کی ملکیت اور اس کی…
Read the full tafseer →9 یعنی وہ ہی ایک خدا بلا شرکت غیرے آسمانوں سے زمین تک اور زمین سے تحت الثریٰ تک تمام کائنات کا مالک و خالق ہے۔ اسی کی تدبیر و انتظام سے کل سلسلے قائم ہیں۔ (تنبیہ) آسمان و زمین کی درمیانی مخلوق سے یا تو کائنات جوّ مراد ہیں جو دائماً دونوں کے درمیان ہی رہتی ہیں۔ مثلاً ہوا، بادل وغیرہ اور یا وہ چیزیں بھی اس میں شامل ہوں جو اکثر ہوا میں پرواز کرتی ہیں جیسے پرند جانور اور " ثریٰ " (گیلی زمین) سے زمین کے نیچے کا طبقہ مراد ہے جو پانی کے قرب و اتصال کی وجہ سے تر رہتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 6 لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرٰی ”
الثَّرٰی کے معنی گیلی مٹی کے ہیں ‘ یعنی گیلی مٹی کے نیچے بھی جو کچھ ہے وہ بھی اللہ ہی کی ملکیت ہے۔
Read the full tafseer →4 زمین اور آسمان کے درمیان کیا کچھ ہے :۔ زمین و آسمان کے درمیان بھی اللہ کی بیشمار مخلوق موجود ہے۔ مثلا ہوا، بادل، اڑنے والے پرندے اور ہوائی جہاز، ایتھر، آسمان سے زمین کی طرف اترنے والے فرشتے اور زمین سے آسمان کی طرف پرواز کرنے والے فرشتے، بد روحیں، فضا میں بروقت گردش کرنے والے سیارے، ٹوٹنے والے ستارے یہ چیزیں تو وہ ہیں جن کا ہمیں کسی نہ کسی طرح علم ہے۔ اور جو انسان کے علم میں نہیں آئیں ان کی تعداد اور ان کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
5 اللہ کی مخلوق کہاں کہاں ہے ؟ ثریٰ کے لغوی معنی صرف گیلی مٹی ہے جو زمین کی تہوں میں ہے۔ اور یہ لفظ عموما ً ثریا (کہکشاں) کے مقابلہ میں آتا ہے۔ ثریا سے مراد…
Read the full tafseer →5۔ یعنی ساری کائنات میں مکانی حیثیت سے جہاں کہیں بھی کوئی شے ہے سب اس کی مملوک ہے۔ (آیت) ” تحت الثری “۔ ثری تو وہ گیلی مٹی ہے جو خود ہی سطح زمین کے نیچے ہے۔ الثری فی اللغۃ التراب الندی (کبیر) (آیت) ” تحت الثری “ اس سے بھی نیچے ہوئی۔ مقصود اللہ کی قدرت اور وسعت سلطنت کو بیان کرنا ہے۔ مشرک جاہلی قوموں نے (اور انہیں میں بعض قدیم مہذب ومتمدن قومیں بھی شامل ہیں) زمین کے نیچے کے الگ دیوی دیوتا مانے ہیں۔ ہمہ دان وہمہ بین خالق کا کلام اس شرک کی بھی تردید کو پیش نظر رکھے ہوئے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے طٰہٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے اے محمد ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں یعنی تعب میں پڑجائیں اس طرز عمل سے جو آپ نے نزول قرآن کے بعد اختیار کیا رات کی نماز (تہجد) میں طول قیام کے ذریعہ، مطلب یہ کہ (تخفیف کرکے) اپنے اوپر بار کم ڈالئے بلکہ ہم نے قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خوف خدا رکھتا ہو یہ اس ذات کی جانب سے نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ تنزیلاً اپنے فعل ناصب (انزلناہ) کے عوض میں ہے عُلیٰ عُلْیَا کی جمع ہے جیسے…
Read the full tafseer →لہ ما فی السموت اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے یعنی ملائکہ اور ستارے اور پہاڑ اور دریا۔
وما فی الارض اور جو کچھ زمین میں ہے یعنی پہاڑ اور دریا اور درخت اور کانیں اور جانور اور جن و شیاطین اور انسان و ملائکہ۔
وما بینہما اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان (خلاء) میں ہے یعنی ہوا اور بادل اور گرج اور بجلی وغیرہ۔
وما تحت الثری۔ اور جو کچھ ثریٰ کے نیچے ہے یعنی نمناک مٹی کے نیچے ‘ ایک حدیث میں آیا ہے ایک کتا پیاس کی وجہ سے ثریٰ کھا رہا تھا ‘ اگر خشک مٹی پر کوئی پانی چھڑک دے تو بولتے ہیں ثری التراب حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ زمینیں مچھلی کی پشت پر ہیں اور مچھلی سمندر پر اور مچھلی کی دم اور سر عرش کے…
Read the full tafseer →(6) آسمان و زمین اس کی ملکیت ہیں اور تمام عجائبات اور تمام مخلوقات اور جو چیزیں تحت الثری ہیں یعنی جو چیزیں ساتویں زمین کے نیچے ہیں کیوں کہ ساتوں زمینیں پانی پر ہیں اور پانی مچھلی پر ہے اور مچھلی صخرہ پر ہے۔
Read the full tafseer →لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ۔۔ : ”الثَّرٰى“ گیلی مٹی کے نیچے سے مراد زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے، یعنی وہ عرش پر مستوی ہو کر آسمانوں سے لے کر زمین کی آخری گہرائی تک ہر چیز کی تدبیر ہی نہیں کر رہا بلکہ ان سب کا مالک بھی وہ اکیلا ہی ہے۔ ملک بھی اسی کا ہے، ملکیت بھی اسی کی۔ حاکم بھی وہی ہے، مالک بھی وہی۔ ہر چیز کا وجود، حرکت، سکون، تغیر یا ثبات سب کچھ اسی کے امر سے ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لہ ما فی السموت وما فی الارض وما بینھما وما تحت الثری۔ تحت الثری سے مراد یہ ہے کہ اس چٹان کے نیچے جو کچھ ہے جس کے نیچے والی چیزوں کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ محمد بن کعب نے کہا : اس سے مراد ساتویں زمین ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : زمین مچھلی پر ہے اور مچھلی پانی پر ہے اور اس مچھلی کی دونوں طرفیں سر اور دم عرش کے نیچے ملتی ہیں اور سمندر سبز چٹان پر ہے اور آسمان کا سبزہ اس وجہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اس کے متعلق ارشاد ہے : فتکن فی صخرۃ او فی السموت او فی الارض (لقمان :16) اور وہ چٹان بیل کے سینگ پر ہے اور وہ بیل الثریٰ پر ہے۔ اور ثریٰ کے نیچے اللہ کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1:۔ ابن منذر ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب شروع میں وحی کا نزول ہوا تو آپ نماز میں اپنے قدموں کے اگلے حصوں پر کھڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “
نزول قرآن آپ (علیہ السلام) کے لئے باعث مشقت نہیں :
2:۔ ابن مردویہ اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کفار نے کہا یہ آدمی اپنے رب کی طرف سے مشقت میں پڑگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “
3:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تھے تو رسی سے اپنے…
Read the full tafseer →[لَهٗ : اس ہی کا ہے ] [مَا : وہ جو ] [فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [وَمَا : اور وہ جو ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [وَمَا : اور وہ جو ] [بَيْنَهُمَا : ان دونوں کے درمیان ہے ] [وَمَا : اور وہ جو ] [تَحْتَ الثَّرٰى: گیلی مٹی کے نیچے ہے (یعنی معدنیات) ]
ث ر ی
[ثَرًی : (س) ] مٹی کا خشک ہونے کے بعد تر اور نم ہونا۔
ثَرٰی صفت ہے۔ تری۔ نمی۔ پھر گیلی مٹی کے لئے بھی آتا ہے، زیر مطالعہ آیت۔ 6
❜
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰی) (یہ قرآن اس ذات کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا)
(اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی) (رحمن عرش پر مستوی ہوا) استوی علی العرش کے بارے میں سورة اعراف کی آیت (اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ ) (ع 8) کی تفسیر ملاحظہ کرلی جائے۔ (انوار البیان ص 440 ج 3)
آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو ماتحت الثریٰ ہے اللہ تعالیٰ اس سب کو جانتا ہے
(لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَھُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰی) (اسی کے لیے ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تقریر رسالت و وحدانیت
قال اللہ تعالیٰ ۔ طٰہٰ مآ انزلنا علیک القراٰن لتشقٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنٰی
(ربط) گزشتہ سورت کے ختم پر نزول قرآن کا ذکر تھا۔ فانما یسرناہ بلسانک لتبشر بہ المتقین الخ یعنی ہم نے قرآن آپ ﷺ کی زبان یعنی عربی میں اس لیے نازل کیا تاکہ آپ ﷺ کو متقین کی تبشیر اور معاندین کا انداز آسان ہوجائے اب اس سورت کے شروع میں انزال قرآن کی حکمت بیان فرماتے ہیں کہ اس قرآن کے نازل کرنے سے ہمارا مقصود نصیحت اور مرعظت اور بندوں کی ہدایت ہے کہ ان کو زمین اور آسمان کے پیدا کرنے والے کی معرفت حاصل ہو اور سمجھیں کہ لائق عبادت وہی معبود برحق ہے جس کی قدرت اور جس کا علم تمام کائنات کو محیط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5:۔ یہ ماقبل ہی کی توضیح وتائید ہے۔ تمام نظام عالم اسی کے قبضے میں ہے۔ ” وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ الخ “ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ ظاہر و باطن اور سر و علانیہ اس کو یکساں طور پر معلوم ہے۔ سب کی دعائیں اور پکاریں وہی سنتا ہے۔ ” و ان تجهر “ شرط کی جزاء محذوف ہے۔ اور ” فانه یعلم السر واخفی “ جملہ ماقبل کی علت اور جواب محذوف کے قائم مقام ہے فانہ الخ قائم مقام بجواب الشرط ولیس الجواب فی الحقیقۃ والاصل عند البعض وان تجھر بالقول فاعلم ان اللہ یعلمہ فانہ یعلم السر واخفی الخ ّ (روح ج 16 ص 147) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تفسیر : نام اور کوائف :
یہ سورة اپنے پہلے لفظ طٰہٰ کے نام سے موسوم ہے ۔ اس کا عام فہم نام طٰہٰ ہی ہے۔ تاہم مفسر قرآن صاحب روح المعانی سید محمود آلوسی بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سورة کا دوسرا نام کلیم بھی ہے کہ اس سورة مبارکہ میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔ اس سورة کی ایک سو پینتیس آیات اور آٹھ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1301 کلمات اور 5242 حروف پر مشتمل ہے۔
یہ سورة مکی زندگی میں 6 نبوت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ 6 نبوت میں جب مسلمان مہاجرین کا پہلا قافلہ حبشہ پہنچا تو وہاں پر حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے یہ سورة نجاشی بادشاہ کے سامنے تلاوت کی تھی۔ گزشتہ…
Read the full tafseer →لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرٰى 6
بين
بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها .
( ب ی ن ) البین
کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
الثری التراب الندی قال لم کن ندیا فھو تراب والمراد مرکز الارض فانہ تحت حقیقی من کل جہۃ وماقیل المرادیہ الثری الذی تحت الصخرۃ التی علیہا ثورفانہ من الاسرائیلیات لاتلفت الیہ الجہر رفع الصوت والسرخلافہ واما اخفی باخطرہ ببالہ وقیل الشر الانسان فی نفسہٖ والاخفی ما اخفی علی ابن آدم۔ 12 منہ
Read the full tafseer →لَـہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرٰی۔ (طٰـہٰ : 6)
(اسی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی حکمرانی کی وسعت
پروردگار جس حکومت کے تخت پر متمکن ہے اس کی وسعتیں انسانی دل و دماغ میں نہیں سما سکتیں۔ انسان صرف آسمانوں کو دیکھتا ہے اگرچہ اسے حدِنگاہ سمجھتا ہے۔ لیکن آسمانوں کی حقیقت سے واقف نہیں تو وہ اس کی وسعتوں کو کو کیا جان سکتا ہے۔ زمین سب سے چھوٹا کُرّہ ہے۔ انسان آج تک اس کے مَالَہٗ وَمَا عَلَیْہِسے واقف نہیں ہوسکا۔ اس کے پہاڑوں کی بلندیاں اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
فہم القرآن
ربط کلام : جس ذات کبریا نے یہ قرآن نازل کیا ہے اس کا تعارف۔
قرآن مجید اس ذات کبریا نے نازل کیا ہے جس نے زمین اور بلند وبالا آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ زمین و آسمان کو پیدا کرنے کے بعد الرحمن عرش پر مستوی ہوا۔ جس طرح اس کی شایان شان ہے۔ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے سب کا سب اسی مالک کی ملکیت ہے۔ لہٰذا آپ اونچی آواز سے بات کریں یا آہستہ انداز میں دل ہی دل میں کہیں وہ خفیہ اور آہستہ سے آہستہ آواز کو سنتا ہی نہیں بلکہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات اور احساسات کو جانتا ہے۔ یہاں پہلے یہ بات سمجھائی ہے کہ اے پیغمبر آپ کفار کے ظلم اور تسلّط کے بارے میں…
Read the full tafseer →6: لََہٗ مَا فِی السٰمٰوتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ( جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی ہی کا ہے)
نحو : یہ خبر اور مبتدا ہے اور وما بینھما کا عطف مبتدا پر ہے۔
وَ مَا بَیْنَھُمَا (اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے) یعنی سارے کا سارا اس کی ملک ہے۔ وَمَا تَحْتَ الثَّرٰی ( اور جو کچھ ثرٰی کے نیچے ہے) یعنی جو سات زمینوں کے نیچے ہے۔ نمبر 2۔ ثر ٰی سے مراد وہ چٹان ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے۔
Read the full tafseer →6۔ لہ مافی السماوات ومافی الارض ومابینھما۔ اس سے مراد ہوا ہے۔ و ماتحت الثری ، ثری سے مراد نمناک جو مٹی کے نیچے ہوتی ہے۔ ضحاک کا قول ہے کہ جو مٹی کے نیچے چھپی ہوئی ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ زمینیں مچھلی کی پشت پر ہیں اور مچھلی سمندر پر اور مچھلی کی دم اور سرعرش کے نیچے باہم مل گئے ہیں۔ سمندر پتھر کی ایک آسمانی رنگ کی چٹان پر ہے۔ یہ چٹان وہی ہے جس کا ذکر حضرت لقمان کے قصہ میں اللہ نے کیا ہے۔ فتکن فی صخرۃ، چٹان بیل کے سینگ پر رکھی ہوئی ہے اور بیل ثری پر قائم ہے اور ثری سے نیچے کیا ہے اسے سوائے اللہ کے اور کوئی واقف نہیں ۔ بیل منہ کھولے ہوئے ہے جب اللہ سمندروں کو ملاکر ایک سمندر کردے گا تویہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
6۔ 8:۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان سے لے کر ساتویں زمین کے نیچے تک سب کچھ اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے اور یہ سب کچھ اس نے اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے علم اس کا ایسا وسیع ہے کہ آدمی کے دل میں جو بات آچکی یا آنے والی ہے یہ سب اس کو معلوم ہے ایسے معبود کی تعظیم میں جو دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ بڑے نادان ہیں کیونکہ سوائے اللہ کے انسان کو انسان کی ضرورت کی چیزوں کو کسی دوسرے نے پیدا نہیں کیا جو انسان پر اس کی تعظیم واجب ہو نہ سوائے اللہ کے کسی دوسرے کو انسان کے دل کے مقصد کی خبر ہے نہ کسی مقصد کے پورا کرنے کا کسی دوسرے کو اختیار ہے مشرکین مکہ کو جب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1
(طہ) اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ (ما انزلنا علیک القرآن لتشقی) ” نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لئے کہ آپ مشقت میں پڑیں۔ “ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں، (ایاس نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قوی اس پر عمل کرنے سے عاجز ہوجائیں۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوز و فلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
خدا کا استوا علی العرش ہونا
قول باری ہے (الرحمٰن علی العرش استوی۔ وہ رحمٰن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے) حسن کا قول ہے کہ اپنے لطف و تدبیر کے ساتھ جلوہ فرما ہے۔ ایک قول کے مطابق غلبہ حاصل کئے ہوئے ہے۔
قول باری ہے (فانہ یعلم السرا واخفیٰ ۔ وہ چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے بھی مخفی تر بات بھی جانتا ہے) ابن عباس کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ چپکے چپکے دوسرے سے کہے اور اس سے زیادہ مخفی بات وہ ہے جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھے اور کسی سے اس کا اظہار نہ کرے۔ سعید بن جبیر اور قتادہ کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھتا ہے اور اس سے مخفی تر بات…
Read the full tafseer →5 اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و حکمت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ ان بلند وبالا آسمانوں اور زیر پاؤں بچھے زمین کے اس عظیم الشان فرش کے اندر موجود ہے۔ اور جو کچھ کہ آسمانوں اور زمین کے درمیان پایا جاتا ہے کہ ان سب کا خالق ومالک بھی بلاشرکت غیرے وہی وحدہ لا شریک ہے اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے۔ نہ حکمتوں بھری اس عظیم الشان کائنات کی تخلیق و ایجاد میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے اور نہ اس میں جاری و کارفرما حکم و تصرف میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے۔ وہی اس سب کا خالق ومالک حقیقی بھی ہے اور وہی اس میں حاکم و متصرف بھی ہے۔ سو نہ اس کی تخلیق و ایجاد میں کوئی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نزول قرآن کا مقصد اور صفات باری تعالیٰ
تشریح : کیونکہ آنحضرت ﷺ رات بھر کھڑے ہو کر عبادت کرتے اور قرآن پڑھتے رہتے تو عبادت کا طریقہ اللہ نے یوں مقرر کردیا کہ اس میں میانہ روی اختیار کریں اور اس بات کو خاص طور سے ذہن میں رکھیں کہ آپ کا کام ہے تبلیغ، یعنی اللہ کی دی ہوئی ہدایات لوگوں تک پہنچائیں یہ نہیں کہ رات بھر عبادت کرتے رہیں۔ تو اس کے بعد سے آپ ﷺ رات کے پہلے پہر آرام کرتے اور پچھلے پہر اٹھ کر عبادت کرتے اور دن بھر درس و تدریس اور اشاعت دین میں مشغول رہتے۔ قرآن ایک بہترین ہدایت کی کتاب ہے۔ یہ کتاب کسی معمولی ہستی کی بھیجی ہوئی نہیں۔ یہ کتاب اس رب جلیل، مالک الملک، رب العلمین کی بھیجی ہوئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–24
سورة طہ :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 7 بھید سے مراد وہ بات ہے جو تنہائی میں چپکے سے کہی جائے اور اس سے زیادہ چھپی بات وہ ہے جو ابھی دل میں ہو اور زبان تک نہ آئی ہو۔
Read the full tafseer →(20:6) الثری۔ ثری خاک نمناک، گیلی مٹی۔ سیلی زمین کو کہتے ہیں۔ عام زمین کے نیچے گیلی مٹی ہے اور گیلی مٹی سے بھی نیچے سے مراد زمین کی اتھاہ گہرائیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8
تشقی تو مشقت اٹھاتا ہے۔ تذکرۃ دھیان اور توجہ دینے کی چیز۔ یخشی وہ ڈرتا ہے۔ العلی بلند وبالا۔ استوی وہ برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ الثریٰ گیلی مٹی۔ السر بھید، دل میں چھپی بات۔ اخفی بہت زیادہ پوشیدہ، چھپا ہوا۔ اسماء الحسنی بہترین نام۔
تشریح :- آیت نمبر 1 تا 8
اس سورت کو بھی ” حروف مقطعات ‘ ‘ سے شروع کیا گیا ہے۔ جن حروف کے معنی کا علم اور اس کا بھید اللہ کو معلوم ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو تمام انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل کیا ہے تاکہ اس کے وہ بندے جو محتاط، خوف الٰہی سے سرشار اور زندگی کے ہر معاملے میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں ان کو صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے لے کر ساتویں کے نیچے تک سب کچھ اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے۔ علم اس کا ایسا وسیع ہے کہ آدمی کے دل میں جو بات آچکی ہے یا آنے والی ہے، یہ سب اس کو معلوم ہے۔ ایسے معبود کی تعظیم میں جو دوسروں کو شریک کرتے ہیں، وہ بڑے نادان ہیں۔ مشرکین مکہ کو جب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی باتیں سمجھائی جاتی تھیں تو وہ مشرک مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم بھی تو کبھی اللہ، کبھی رحمان، کبھی رحیم، کہہ کر دعائیں مانگتے ہو۔ پھر اللہ کو وحدہ لاشریک بھی کہتے ہو۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ اس ایک ذات کی بہت سی صفتیں ہیں۔ ان صفتوں کے موافق اس کے بہت سے نام ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
[1] یعنی آپ تکذیب کرنے والوں کی باتیں سن کر ملول اور تنگ دل نہ ہوں اور نہ ان کے پیچھے پڑ کر تکلیف اٹھائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
صفات ، حالات وشیؤن اور تائیدات :
(ف 2) قرآن حکیم میں جو الفاظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوئے ہیں ، ان کی تین قسمیں ہیں ، ایک وہ ہیں جو بطور صفات کے استعمال ہوتے ہیں جیسے علیم ، حکیم ، رب اور غفور ورحیم ، وغیرہا ، ایک وہ ہیں جو شؤن و حالات کی تشریح کے لئے آتے ہیں بطور صفت کے ان کا استعمال نہیں ہوتا ، جیسے لفظ استواء کہ یہ ایک خاص حالت اور شان پر دلالت کرتا ہے اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کو بیان کرنا نہیں ، یہی وجہ ہے کہ قرآن میں کہیں بھی بطور مستوی کے یہ لفظ نہیں آیا ہے ، اور احادیث میں بھی اللہ تعالیٰ کی صفات میں کہیں مستوی علی العرش کا لفظ موجود نہیں کریگا ایک حقیقت شرعی ہے اور اس…
Read the full tafseer →-6 جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اور جو کچھ زمین کی تہ میں گیلی مٹی کے نیچے ہے یہ سب چیزیں اسی حق تعالیٰ کی مملوک ہیں۔ گیلی مٹی یا سیلی مٹی زمین کے نیچے کا وہ حصہ جہاں سے پانی شروع ہوتا ہے یہ حصہ پانی کی نمی کی وجہ سے سیلا ہوا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمام کائنات کا وہی مالک و قابض ہے خواہ وہ بالائی عالم ہو یا سفلی عالم ہو آسمان و زمین کے درمیان عالم ہو یا ہوا اور بادل اور پرندے وغیرہ یا کوئی دوسری مخلوق۔
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی زمین کے اندر جو تر مٹی ہے جس کو ثریٰ کہتے ہیں جو چیز کہ اس کے نیچے ہے مراد یہ کہ زمین کی تہہ میں۔
Read the full tafseer →آسمان و زمین میں اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب اسی ذات کریم کا ہے :
6۔ زیر نظر آیت نے عرش خداوندی کی خود تشریح فرما دی اب اگر کوئی مجسم عرش یعنی تخت ہی کی تلاش میں لگا ہے تو ان کی عقل کی داد دینا چاہئے کہ یہ صاحب بہت عقل مند ہیں جیسے پرندوں میں کوا۔ فرمایا آسمان و زمین اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اور جو کچھ زمین کی تہ میں ہے وہ بھی اسی ذات قدوس کا ہے ۔ (ثری) اصل میں گیلی مٹی کو کہتے ہیں حدیث میں ہے کہ فاذا کلب یا کل الثری من العطش ایک کتا پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی چاٹ رہا تھا ۔ اس مادہ سے ثروت ہے جو کثرت کو کہا جاتا ہے اور اس سے ثریا کو اکب میں سے مراد ہے پس…
Read the full tafseer →وَمَا تَحْتَ الثَّرَىٰ (And whatever is beneath the soil - 20:6). (ثرٰی) (soil) means wet earth which comes out after digging upto a certain depth. Human knowledge does not go beyond) and what is beneath it is known only to Allah. Some years back scientists and researchers, using the latest and the most sophisticated instruments, spent considerable time and effort to pierce across the centre of the earth. According to newspaper reports they were able to penetrate upto a depth of six miles only after which they came across a rock casing and all their efforts to bore further down failed.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
3. That is, you need not complain to Allah in a loud voice against the persecution from which you and your companions are suffering and the mischievous machinations your enemies are devising to defeat you for Allah is fully aware of all those things, and He hears even the complaints you cherish in your hearts.
Read the full tafseer →