Taa-Haa 20:5

Taa-Haa · from ayah 5

20:5

اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی ۟اَلرَّحۡمٰنُ عَلَى الۡعَرۡشِ اسۡتَوٰى

(یعنی خدائے) رحمٰن جس نےعرش پر قرار پکڑا

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Most Merciful [who is] above the Throne established.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:5

وہ رحمان (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی خدائے) رحمٰن جس نےعرش پر قرار پکڑا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو رحمٰن ہے، عرش پر قائم ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ بڑی رحمت والا عرش پر استوا فرمائے ہوئے ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ بڑی مہر والا، اس نے عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ) نہایت رحمت والا (ہے) جو عرش (یعنی جملہ نظام ہائے کائنات کے اقتدار) پر متمکّن ہوگیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ بےحد رحم والا عرش پر بلند ہوا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

رحمن نے اپنے عرش پر قرار پکڑا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو رحمان عرش حکومت پر متمکن ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(خدائے) رحمان جو کہ جلوہ فرما ہوا عرش پر،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ خدائے رحمن عرش (حکومت) پر قائم ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(یعنی) رحمن ! جو عرش پر متمکنّ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ رحمٰن عرش پر قائم ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The Most Compassionate Lord is settled on the Throne (of the Universe).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The RaHman (Allah, the All-Merciful) has positioned Himself on the Throne.

— Muhammad Taqi Usmani

The RaHman (Allah, the All-Merciful) has positioned Himself on the Throne.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Most Gracious Istawa the Throne.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The Beneficent One, Who is established on the Throne.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The Most Merciful [who is] above the Throne established.

— Saheeh International

The Beneficent God is dominant over the Throne (of the realm).

— Muhammad Sarwar

The Beneficent Allah is firm in power.

— Muhammad Habib Shakir

The Compassionate on the Throne is established.

— Abdul Majid Daryabadi

(Allah) Most Gracious is firmly established on the throne (of authority).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے۔ سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہوچکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہ سے اے شخص ہے کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ حضور ﷺ نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری یعنی طہ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل حضور ﷺ نے اور آپ کے صحابہ نے شروع کردیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑگئے اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–5

سورة طٰهٰ 2 یعنی پیدا کرنے کے بعد کہیں جا کر سو نہیں گیا ہے بلکہ آپ اپنے کارخانۂ تخلیق کا سارا انتظام چلا رہا ہے، خود اس ناپیدا کنار سلطنت پر فرمانروائی کر رہا ہے، خالق ہی نہیں ہے بالفعل حکمراں بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى، استواء علی العرش کے متعلق صحیح بےغبار وہی بات ہے جو جمہور سلف صالحین سے منقول ہے کہ اس کی حقیقت و کیفیت کسی کو معلوم نہیں۔ متشابہات میں سے ہے۔ عقیدہ اتنا رکھنا ہے کہ استواء علی العرش حق ہے اس کی کیفیت اللہ جل شانہ کی شان کے مطابق و مناسب ہوگی جس کا ادراک دنیا میں کسی کو نہیں ہو سکتا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 5–6

الرحمن علی العرش استوی۔ لہ ما فی السموت و ما فی الارض وما بینھما و ما تحت الثری (5۔ 6) قرآن کی عظمت کا بیان اور یہ خدا کی جن صفات کا مطہر ہے ان کا حوالہ یہ قرآن کی عظمت کا بیان بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی جن صفات کا یہ مظہر ہے ان کی طرف اشارہ بھی۔ فرمایا کہ وہ خالق ارض و سماء رحمان ہے۔ اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے کہ وہ خلق کو پیدا کر کے یوں ہی چھوڑ نہ دے بلکہ جس طرح اس نے اس کی مادی زندگی کے اسباب و وسائل مہاک فرمائے اسی طرح اس کی ہدایت کا سامان بھی کرے، چناچہ اس نے انسان کی رہنمائی کے لئے اس کو عقل و نطق سے نوازا اور اس پر مزید فضل یہ فرمایا کہ اس کی ہدایت کے لئے اپنی کتاب اتاری۔ اسی حقیقت کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 3–5

5۔ 1 بغیر کسی حد بندی اور کیفیت بیان کرنے کے، جس طرح کہ اس کی شان کے لائق ہے یعنی اللہ تعالیٰ عرش پر قائم ہے، لیکن کس طرح اور کیسے ؟ یہ کیفیت کسی کو معلوم نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–6

4: اس کی تشریح پیچھے سورة اعراف : 54 کے حاشیے میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–8

الرحمن علی العرش استوی (02 : 5) ” رحمن کا ئنات کے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے “۔ استوائے عرش کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا اس کائنات پر پوری طرح کنٹرول ہے اور یہ اس کی مکمل گرفت میں ہے۔ لہٰذا لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ‘ رسول کا کام صرف یہ ہے کہ جو ڈرتا ہے اسے ڈرائے۔ اس کائنات پر مکمل کنٹرول اور گرفت کے ساتھ ساتھ لہ ما فی السموت۔۔۔۔۔۔۔ وما تحت الشری (02 : 6) ” وہ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمان و زمین میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں “۔ یہ کائناتی مناظر یہاں اس لئے دیئے گئے کہ اللہ کی ملکیت اور اس کی قدرت کو اس طرح پیش کیا جائے کہ یہ انسانی تصور کے قریب تر ہوجائیں جبکہ اللہ کی ملکیت اور اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 استواء علی العرش کا مفصل بیان سورة " اعراف " کے فوائد میں دیکھ لیا جائے۔ " عرش " کے متعلق نصوص سے اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ اس کے پائے ہیں اور خاص فرشتے اٹھانے والے ہیں اور آسمان کے اوپر قبہ کی طرح ہے۔ صاحب روح المعانی نے " عرش " اور " استواء علی العرش " پر اس آیت کے تحت میں نہایت مبسوط کلام کیا ہے۔ من شاء فلیراجعہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 3–5

آیت 3 اِلَّا تَذْکِرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی ” یعنی جن کے دلوں میں کچھ خوف خدا ہے ان کے لیے یہ نصیحت ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 استوی علی العرش کا بیان سورة اعراف آیت نمبر 54 کے حاشیہ میں گزر چکا ہے۔ عرش الٰہی کے متعلق جو کچھ نصوص سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ اس کے پائے ہیں۔ جنہیں خاص فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔ اور بالخصوص قیامت کے دن آٹھ فرشتے اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے اور یہ عرش سب آسمانوں کے اوپر ہے اور انھیں قبہ کی طرح گھیرے ہوئے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–5

4۔ (آیت) ” الرحمن “۔ میں یہ اشارہ آگیا کہ وہ وہ خدا ہے جس کی رحمت ورحمانیت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ (آیت) ” استوی “۔ استواء کے معنی استیلاء کے ہیں اور خود استیلاء سے مراد اقتدار واختیار ہے اور جو شبہات عام طور پر آیت پر وارد ہوتے ہیں، اس مفہوم کے لینے سے سب کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ انا اذا فسرنا الاستیلاء بالاقتدار زالت ھذہ المطاعن کلھا (کبیر) عرش اور استوی دونوں پر حاشیے سورة اعراف پارہ 8 میں گزر چکے۔ (آیت) ” خلق ..... العلی “۔ زمین و آسمان نہ کوئی خود آفریدہ مخلوق ہیں اور نہ خالق۔ بلکہ تمامتر اللہ ہی کی محتاج اپنے وجود دنیا میں ہیں۔ (آیت) ” سموت “۔ میں خود ہی بلندی کا مفہوم شامل ہے۔ صفت علا لاکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے طٰہٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے اے محمد ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں یعنی تعب میں پڑجائیں اس طرز عمل سے جو آپ نے نزول قرآن کے بعد اختیار کیا رات کی نماز (تہجد) میں طول قیام کے ذریعہ، مطلب یہ کہ (تخفیف کرکے) اپنے اوپر بار کم ڈالئے بلکہ ہم نے قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خوف خدا رکھتا ہو یہ اس ذات کی جانب سے نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ تنزیلاً اپنے فعل ناصب (انزلناہ) کے عوض میں ہے عُلیٰ عُلْیَا کی جمع ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الرحمن علی العرش استوی وہ بڑی رحمت والا عرش پر قائم ہے۔ استواء علی العرش کی پوری تشریح سورۂ یونس میں گزر گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(5) اور وہ بڑی رحمت والا عرش پر براجمان ہوا یعنی اس کا تخت شاہی سب پر بھاری ہے یا یہ کہ اس کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى: یعنی آپ پر قرآن کا نازل کرنا اور زمین اور بلند آسمان کو پیدا کرنا جس بیحد رحم والے کی رحمت کا نتیجہ ہے وہ رحمٰن عرش پر بلند ہے۔ عرش کا لفظی معنی تخت ہے اور ”اسْتَوٰى“ کا معنی ”اِرْتَفَعَ“ (بلند ہوا) ہے۔ عرش کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے اور پوری کائنات کی تدبیر فرما رہا ہے، فرمایا : (ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ) [ یونس : 3 ] ”پھر وہ عرش پر بلند ہوا، ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔“ اس آیت اور دوسری آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے، مگر یہ بات کہ وہ عرش کے اوپر کس طرح ہے ؟ کھڑا ہے یا بیٹھا ہے یا کس کیفیت میں ہے ؟ کوئی نہیں جانتا،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–5

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ممن خلق الارض والسموت العلی۔ ، العلاء سے مراد بلند وبالا ہے۔ یہ العلیا کی جمع ہے جیسے کبریٰ و صغریٰ ، کبر، صغر اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد میں اپنی عظمت و جبروت اور جلال کی خبر دی ہے۔ پھر فرمایا : الرحمن علی العرش استوی اس پر مدح کی بنا پر نصب جائز ہے۔ ابو اسحاق نے کہا : بدل کی بنا پر جر ہے۔ سعید بن مسعدہ نے کہا : رفع ھوالرحمن کے معنی کی بنا پر ہے۔ نحاس نے کہا : رفع مبتداء کی حیثیت سے ہے اور اس کی خبر لہ مافی السموت وما فی الارض ہے۔ پس استویٰ پر وقف نہ ہوگا تور خلق میں جو ضمیر مضمر ہے اس سے بدل کی بنا پر مرفوع ہو تو اس صورت میں استویٰ پر وقف جائز ہوگا اسی طرح جب مبتدا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1:۔ ابن منذر ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب شروع میں وحی کا نزول ہوا تو آپ نماز میں اپنے قدموں کے اگلے حصوں پر کھڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “ نزول قرآن آپ (علیہ السلام) کے لئے باعث مشقت نہیں : 2:۔ ابن مردویہ اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کفار نے کہا یہ آدمی اپنے رب کی طرف سے مشقت میں پڑگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “ 3:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تھے تو رسی سے اپنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَلرَّحْمَنُ : رحمن ] [عَلَي الْعَرْشِ : عرش پر ] [اسْتَوٰى: متمکن ہوا ] نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیت نمبر۔ 5 قرآن مجید کے متشابہات میں سے ہے۔ اب اس کو ایک خصوصیت یہ بھی حاصل ہوگئی ہے کہ ہمارے مسیحی بھائی اکثر اس کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تثلیث کو ماننا ضروری ہے، جاننا ضروری نہیں ہے۔ جیسے قرآن کے متشابہات کو ماننا ضروری ہے، جاننا ضروری نہیں ہے۔ پھر زیادہ تر لوگ زیر مطالعہ آیت۔ 5 کا ہی حوالہ دیتے ہیں۔ جسٹس محمد تقی عثمانی صاحب نے ” بائبل سے قرآن تک “ نامی کتاب کے مقدمہ میں اس بات کا تفصیل سے جواب دیا ہے۔ ہم اس کا ایک اقتباس نقل کر رہے ہیں تاکہ عقیدہ تثلیث اور متشابہات کا فرق واضح…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–6

(تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰی) (یہ قرآن اس ذات کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا) (اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی) (رحمن عرش پر مستوی ہوا) استوی علی العرش کے بارے میں سورة اعراف کی آیت (اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ ) (ع 8) کی تفسیر ملاحظہ کرلی جائے۔ (انوار البیان ص 440 ج 3) آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو ماتحت الثریٰ ہے اللہ تعالیٰ اس سب کو جانتا ہے (لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَھُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰی) (اسی کے لیے ہے جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

تقریر رسالت و وحدانیت قال اللہ تعالیٰ ۔ طٰہٰ مآ انزلنا علیک القراٰن لتشقٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنٰی (ربط) گزشتہ سورت کے ختم پر نزول قرآن کا ذکر تھا۔ فانما یسرناہ بلسانک لتبشر بہ المتقین الخ یعنی ہم نے قرآن آپ ﷺ کی زبان یعنی عربی میں اس لیے نازل کیا تاکہ آپ ﷺ کو متقین کی تبشیر اور معاندین کا انداز آسان ہوجائے اب اس سورت کے شروع میں انزال قرآن کی حکمت بیان فرماتے ہیں کہ اس قرآن کے نازل کرنے سے ہمارا مقصود نصیحت اور مرعظت اور بندوں کی ہدایت ہے کہ ان کو زمین اور آسمان کے پیدا کرنے والے کی معرفت حاصل ہو اور سمجھیں کہ لائق عبادت وہی معبود برحق ہے جس کی قدرت اور جس کا علم تمام کائنات کو محیط…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

4:۔ یہ پہلی آیت توحید ہے۔ یہاں دو دعوے مذکور ہیں۔ پہلا یہ کہ ساری کائنات میں متصرف و مختار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دوسرا یہ کہ عالم الغیب بھی صرف وہی ہے۔ لہذا غائبانہ حاجات میں اسی کو پکارو۔ ” تَنْزِیلًا “ نُزِّلَ فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے۔ ” اَلرَّحْمٰنُ عَلیَ الْعَرْشِ اسْتَوٰي “ زمین و آسمان کو اسی نے پیدا کیا اور تخت شاہی پر بھی وہ خود ہی متمکن ہے۔ تمام کائنات عالم اسی کے تصرف وا ختیار میں ہے اور اس نے کوئی اختیار کسی کے حوالے نہیں کیا۔ استواء علی العرش حکومت و سلطنت سے کنایہ ہے۔ جعلوہ کنایۃ عن الملک وقالوا استوی فلان علی العرش ای ملک (مدارک ج 3 ص 38) استواء علی العرش کی مفصل تحقیق سورة اعراف…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

تفسیر : نام اور کوائف : یہ سورة اپنے پہلے لفظ طٰہٰ کے نام سے موسوم ہے ۔ اس کا عام فہم نام طٰہٰ ہی ہے۔ تاہم مفسر قرآن صاحب روح المعانی سید محمود آلوسی بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سورة کا دوسرا نام کلیم بھی ہے کہ اس سورة مبارکہ میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔ اس سورة کی ایک سو پینتیس آیات اور آٹھ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1301 کلمات اور 5242 حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں 6 نبوت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ 6 نبوت میں جب مسلمان مہاجرین کا پہلا قافلہ حبشہ پہنچا تو وہاں پر حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے یہ سورة نجاشی بادشاہ کے سامنے تلاوت کی تھی۔ گزشتہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلرَّحْمٰنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى۝ 5 رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

2 ؎ استوی قال ثعلب والزجاج والفراء الاستوا الاقبال علی الشیء وقیل ھو کنایۃ عن العز والملک و السلطان و امالاستواء بمعنی استقر فلم یثبت والارجح استواء ًیلیق بہ فانہ من صفاۃ تعالیٰ وکیفیتہ مجہول۔ 12 منہ علی العرش استوی پر فرقہ آریہ و غیرہا بہت کچھ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سے خدا کا مجسم اور متمکن ہونا ثابت ہے جو اس کے تقدس کے خلاف ہے مگر اس گروہ نے اور ان لوگوں نے کہ جن کی تقلید سے یہ اعتراض کیا ہے مفسرین کے اقوال پر نظر نہیں کی نہ علماء کی اس تحقیقات کو سنا جو اس مسئلہ کی بابت ہوئی ہے۔ قدما کہتے ہیں کہ اس لفظ پر ہمارا ایمان ہے اور استوی سے یہی استویٰ مراد ہے جو اس کی شان کے لائق ہے نہ وہ جو کہ اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلرَّحْمٰنُ عَلیَ الْعَرْشِ اسْتَوٰی۔ (طٰـہٰ : 5) (وہ رحمن ہے جو عرش حکومت پر متمکن ہے۔ ) قرآن کریم رحمت کا اظہار اور اس کا انکار خطرناک ہے مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ساری عظمتوں کے باوجود رحمن بھی ہے۔ اس کی صفت رحمت کا یہ تقاضا ہوا کہ وہ انسانوں کو پیدا کرکے یونہی نہ چھوڑ دے بلکہ جس طرح انسانوں کے لیے ان کی جسمانی ضرورتیں فراہم کرے اسی طرح ان کی معنوی قوتوں کو بھی مہیا کرے جس سے وہ اپنے زندگی کے نصب العین اور مقصد کے مطابق زندگی گزارنے کی رہنمائی پاسکیں۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اس نے اپنا آخری رسول مبعوث کیا اور اس پر آخری کتاب اتاری اور ساتھ ہی اس غلط فہمی کو دور کیا کہ پیغمبر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–7

فہم القرآن ربط کلام : جس ذات کبریا نے یہ قرآن نازل کیا ہے اس کا تعارف۔ قرآن مجید اس ذات کبریا نے نازل کیا ہے جس نے زمین اور بلند وبالا آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ زمین و آسمان کو پیدا کرنے کے بعد الرحمن عرش پر مستوی ہوا۔ جس طرح اس کی شایان شان ہے۔ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے سب کا سب اسی مالک کی ملکیت ہے۔ لہٰذا آپ اونچی آواز سے بات کریں یا آہستہ انداز میں دل ہی دل میں کہیں وہ خفیہ اور آہستہ سے آہستہ آواز کو سنتا ہی نہیں بلکہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات اور احساسات کو جانتا ہے۔ یہاں پہلے یہ بات سمجھائی ہے کہ اے پیغمبر آپ کفار کے ظلم اور تسلّط کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5: اَلرَّحْمٰنُ (وہ بڑا مہربان ہے) یہ مدح کی وجہ سے مرفوع ہے ای ھوالرحمان۔ عَلَی الْعَرْشِ (عرش پر) یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ اسْتَوٰی (مستوی ہے) استیلاء کے معنی میں ہے جو زجاج سے مروی ہیں۔ عرش کا ذکر کر کے اس بات پر متنبہ کیا گیا کہ اس کا استیلاء دوسروں پر ہے۔ اس لئے کہ عرش اس کی مخلوقات میں سب سے بڑا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے جب عرش پر استواء بادشاہی کے مترادف ہے تو اس کو ملک سے کنایہ قرار دیا اس لئے عرب کے لوگ کہتے ہیں استوی علی العرش ای ملک اگرچہ وہ چارپائی یا تخت پر بالکل نہ بیٹھا ہو اور یہ اسی طرح ہے جیسے کہتے ہیں۔ یدُ فلانٍ مَبسوطَۃٌ یعنی وہ سخی ہے اگرچہ سرے سے اس کا ہاتھ ہو ہی نہ۔ استواء کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 4–5

4۔ تنزیلا، ، تذکرہ کے بدلے میں ذکر کیا ہے۔ ممن خلق الارض، ، اس ذات کی طرف سے ہے جس نے زمین کو پیدا کیا ۔ والسماوات العلی، اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا۔ العلی، جمع ہے علیا کی جیسے کبری جمع ہے کبر کی۔۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

5:۔ سورة آل عمران میں بیان ہوچکا ہے کہ اس طرح کی متشابہت آیتوں میں سلف کا مذہب یہی ہے کہ ایسی آیتوں کے ظاہر معنے پر ایمان لانا چاہیے اور ان کی تفصیلی کیفیت اللہ کے علم پر سونپنی چاہیے بعضے مفسروں نے آیت کے یہ معنے جو کیے معنے کے اور جس قدر تاویلی معنی مفسرین متاخرین نے کیے ہیں وہ سب سلف کے مخالف ہیں اور تفسیر قرآن میں جس قدر سلف کی مخالفت مضر اور ان کے پیروی ضرور ہے وہ ہر ایک مسلمان کو خوب معلوم ہے کیونکہ تفسیر قرآن اور روایت حدیث کے باب میں یہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہوچکا ہے کہ جو کوئی بغیر نقل شرعی کے اس باب میں اپنی رائے اور عقل کو دخل دے گا اس کا ٹھکانا دوزخ ہے تو پھر بغیر اس کے چارہ نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 (طہ) اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ (ما انزلنا علیک القرآن لتشقی) ” نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لئے کہ آپ مشقت میں پڑیں۔ “ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں، (ایاس نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قوی اس پر عمل کرنے سے عاجز ہوجائیں۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوز و فلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–11

خدا کا استوا علی العرش ہونا قول باری ہے (الرحمٰن علی العرش استوی۔ وہ رحمٰن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے) حسن کا قول ہے کہ اپنے لطف و تدبیر کے ساتھ جلوہ فرما ہے۔ ایک قول کے مطابق غلبہ حاصل کئے ہوئے ہے۔ قول باری ہے (فانہ یعلم السرا واخفیٰ ۔ وہ چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے بھی مخفی تر بات بھی جانتا ہے) ابن عباس کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ چپکے چپکے دوسرے سے کہے اور اس سے زیادہ مخفی بات وہ ہے جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھے اور کسی سے اس کا اظہار نہ کرے۔ سعید بن جبیر اور قتادہ کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھتا ہے اور اس سے مخفی تر بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

4 " استواء علی العرش " سے مراد ؟ : یعنی ایسا استواء اور ایسی جلوہ فرمائی جو کہ اس کی شان اقدس و اعلیٰ کے لائق ہے۔ جیسا کہ حضرات سلف صالحین کا کہنا ہے کہ ایسے کلام کو تو اپنے ظاہر ہی پر رکھا جائے مگر اس کی حقیقت اور مراد کو اللہ پاک ہی کے حوالے کیا جائے۔ سو اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی وہی ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی۔ اور جب اس کی ان شوؤن وصفات میں کوئی اس کا شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد سے خدائے رحمان کی ایک اور صفت بیان فرمائی گئی ہے جس سے اس امر کو واضح فرمایا گیا ہے کہ آسمان و زمین کی اس عظیم الشان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

نزول قرآن کا مقصد اور صفات باری تعالیٰ تشریح : کیونکہ آنحضرت ﷺ رات بھر کھڑے ہو کر عبادت کرتے اور قرآن پڑھتے رہتے تو عبادت کا طریقہ اللہ نے یوں مقرر کردیا کہ اس میں میانہ روی اختیار کریں اور اس بات کو خاص طور سے ذہن میں رکھیں کہ آپ کا کام ہے تبلیغ، یعنی اللہ کی دی ہوئی ہدایات لوگوں تک پہنچائیں یہ نہیں کہ رات بھر عبادت کرتے رہیں۔ تو اس کے بعد سے آپ ﷺ رات کے پہلے پہر آرام کرتے اور پچھلے پہر اٹھ کر عبادت کرتے اور دن بھر درس و تدریس اور اشاعت دین میں مشغول رہتے۔ قرآن ایک بہترین ہدایت کی کتاب ہے۔ یہ کتاب کسی معمولی ہستی کی بھیجی ہوئی نہیں۔ یہ کتاب اس رب جلیل، مالک الملک، رب العلمین کی بھیجی ہوئی ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–24

سورة طہ : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–5

ف 6 اس آیت کا صحیح ترجمہ ہے ” اللہ تعالیٰ فرش کے اوپر بلند ہوا۔ “ کیونکہ محاورہ میں استوی علی کذا کے یعنی معنی ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس مضمون کی آیات اور احادیث صحیحہ کی رو سے اللہ تعالیٰ کے ساری مخلوق سے الگ اور عرش معلی کے اوپر ہونے کا عقیدہ ضروری ہے مگر اس کی کیفیت سے بحث بدعت اور گمراہی ہے۔ یہی ائمہ حدیث اور سلف کا مسلک ہے۔ دیکھیے سورة اعراف آی 54

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:5) الرحمن۔ ای ھو الرحمن۔ استوی۔ وہ ٹھہرا۔ اس نے قصد کیا۔ اس نے قرار پکڑا۔ وہ قائم ہوا۔ وہ سنبھل گیا۔ وہ چڑھا۔ وہ سیدھا ہوا۔ استواء (استفعال) مصدر۔ استواء کے جب دو فاعل ہوں تو اس کے معنی دونوں کے مساوی اور برابر ہونے کے ہوتے ہیں۔ جیسے لا یستوی اصحب النار واصحب الجنۃ (59:20) دوزخ کے لوگ اور جنت کے لوگ برابر نہیں۔ استوی علی العرش۔ یعنی تخت حکومت پر اس طرح قابض ومتمکن ہے کہ اس کا کوئی حصہ یا کوئی گوشہ اس کے حیطہ اقتدار سے باہر نہیں اور اس کے قبضہ و تسلط میں نہ کوئی مزاحمت ہے نہ کوئی گڑ بڑ۔ سب کام و انتظام بدرجہ اتم درست ہے۔ عرش کے معنی تخت اور بلند مقام کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8 تشقی تو مشقت اٹھاتا ہے۔ تذکرۃ دھیان اور توجہ دینے کی چیز۔ یخشی وہ ڈرتا ہے۔ العلی بلند وبالا۔ استوی وہ برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ الثریٰ گیلی مٹی۔ السر بھید، دل میں چھپی بات۔ اخفی بہت زیادہ پوشیدہ، چھپا ہوا۔ اسماء الحسنی بہترین نام۔ تشریح :- آیت نمبر 1 تا 8 اس سورت کو بھی ” حروف مقطعات ‘ ‘ سے شروع کیا گیا ہے۔ جن حروف کے معنی کا علم اور اس کا بھید اللہ کو معلوم ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو تمام انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل کیا ہے تاکہ اس کے وہ بندے جو محتاط، خوف الٰہی سے سرشار اور زندگی کے ہر معاملے میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں ان کو صحیح…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–6

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے لے کر ساتویں کے نیچے تک سب کچھ اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے۔ علم اس کا ایسا وسیع ہے کہ آدمی کے دل میں جو بات آچکی ہے یا آنے والی ہے، یہ سب اس کو معلوم ہے۔ ایسے معبود کی تعظیم میں جو دوسروں کو شریک کرتے ہیں، وہ بڑے نادان ہیں۔ مشرکین مکہ کو جب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی باتیں سمجھائی جاتی تھیں تو وہ مشرک مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم بھی تو کبھی اللہ، کبھی رحمان، کبھی رحیم، کہہ کر دعائیں مانگتے ہو۔ پھر اللہ کو وحدہ لاشریک بھی کہتے ہو۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ اس ایک ذات کی بہت سی صفتیں ہیں۔ ان صفتوں کے موافق اس کے بہت سے نام ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–8

[1] یعنی آپ تکذیب کرنے والوں کی باتیں سن کر ملول اور تنگ دل نہ ہوں اور نہ ان کے پیچھے پڑ کر تکلیف اٹھائیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–8

صفات ، حالات وشیؤن اور تائیدات : (ف 2) قرآن حکیم میں جو الفاظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوئے ہیں ، ان کی تین قسمیں ہیں ، ایک وہ ہیں جو بطور صفات کے استعمال ہوتے ہیں جیسے علیم ، حکیم ، رب اور غفور ورحیم ، وغیرہا ، ایک وہ ہیں جو شؤن و حالات کی تشریح کے لئے آتے ہیں بطور صفت کے ان کا استعمال نہیں ہوتا ، جیسے لفظ استواء کہ یہ ایک خاص حالت اور شان پر دلالت کرتا ہے اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کو بیان کرنا نہیں ، یہی وجہ ہے کہ قرآن میں کہیں بھی بطور مستوی کے یہ لفظ نہیں آیا ہے ، اور احادیث میں بھی اللہ تعالیٰ کی صفات میں کہیں مستوی علی العرش کا لفظ موجود نہیں کریگا ایک حقیقت شرعی ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-5 وہ بےحد مہربان اور عرش پر اپنی شان کے لائق قائم اور جلوہ گر ہے۔ یعنی عرش سے جملہ امور کی تدبیر فرماتاے۔ عرش ایک جسم عظیم ہے جو تمام آسمانوں پر ایک قبہ کی طرح ہے تمام آسمان اور کرسی اس کے نیچے ہیں وہ تمام آسمان و کرسی سے بڑا ہے اس کے پایوں کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ چار فرشتے ہیں۔ احادیث میں ان کی تسبیح بھی منقول ہے دو فرشتوں کی تسبیح یہ ہے۔ سبحانک الھھم وبحمدک للک الحمد علی حلبک بعد علمک اور دو فرشتوں کی تسبیح یہ ہے سبحانک اللھم وبحمدک لک الحمد علی عفوک بعد قدربک ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی تخت سلطنت پر۔ عرش حسب روایات و آیات ایک جسم عظیم ہے آسمانوں اور کرسی کے علاوہ اور ان سب کے اوپر مثل قبہ کے، اور ران سب سے بڑا اس کے پائے بھی ہیں، اور فرشتے اس کو اٹھائے ہوئے ہیں، اور وہ ساکن ہے، احیانا اس کو حرکت ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہی رحمن ہے اور کائنات کے تخت سلطنت پر جلوہ نما ہے : 5۔ ملک کے انتظام وانصرام کے لئے حکومت اور تخت وغیرہ کی اصطلاحات عام ہیں اور حکمرانوں کے تحت ہوتے تھے اور آج بھی جہاں تخت وتاج کا تصور عام ہے ۔ (العرش) ۔ راغب کہتے ہیں کہ عرش اصل میں مسقف چیز کو کہا جاتا ہے اور بادشاہ کے بیٹھنے کی جگہ یعنی تخت کو عرش اس کے علو کے لحاظ سے کہا جاتا ہے ۔ (عرش) کی جمع (عروش) ہے اور قرآن کریم میں ہے (وھی خاویۃ علی عروشھا) اور وہ اپنی چھتریوں کے بل گرا پڑا تھا اور اس لحاظ سے (عرشت الکرم) کے معنی ہیں انگور کی بیلوں کے لئے ٹٹیاں اور چھتریاں لگانا جیسا کہ ارشاد الہی ہے (آیت) ” معروشت وغیر معروشت “ ٹٹیوں پر چڑھائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

عَلَى الْعَرْ‌شِ اسْتَوَىٰ (Positioned Himself on the Throne - 20:5): About these words the truth is what the majority of the early scholars have held that the exact nature of 'Istiwa" (positioning) is not known to anybody. It is included in 'Mutashabihat' (the verses meaning of which is unknown). A Muslim has to believe that Istiwa’ ‘Ala-Al-` Arsh' (positioning on the Throne) is true, the nature of which must be in accordance with the high attributes of Allah, but nobody can comprehend it in this world.

Read the full tafseer →