Explained with ayahs 1–8
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے۔
سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہوچکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہ سے اے شخص ہے کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ حضور ﷺ نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری یعنی طہ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل حضور ﷺ نے اور آپ کے صحابہ نے شروع کردیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑگئے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
سورة طٰهٰ 2
یعنی پیدا کرنے کے بعد کہیں جا کر سو نہیں گیا ہے بلکہ آپ اپنے کارخانۂ تخلیق کا سارا انتظام چلا رہا ہے، خود اس ناپیدا کنار سلطنت پر فرمانروائی کر رہا ہے، خالق ہی نہیں ہے بالفعل حکمراں بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى، ابن کثیر نے فرمایا کہ نزول قرآن کی ابتداء میں ساری رات تہجد و تلاوت میں مشغول رہنے سے بعض کفار نے مسلمانوں پر یہ آوازے کسے کہ ان لوگوں پر قرآن کیا نازل ہوا ایک مصیبت نازل ہوگئی نہ رات کا آرام نہ دن کا چین۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے اشارہ فرمایا کہ یہ جاہل بدنصیب حقائق سے بیخبر کیا جانیں کہ قرآن اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا علم خیر ہی خیر اور سعادت ہی سعادت ہے اس کو مصیبت سمجھنے والے بیخبر اور احمق ہیں۔ صحیحین کی حدیث میں بروایت معاویہ آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین، یعنی اللہ تعالیٰ جس شخص کی بھلائی کا ارادہ…
Read the full tafseer →تنزیلا ممن خلق الارض و السموت العلی (3)
”تنزیل“ کا مفہوم
”تنزیل“ کے معنی دوسرے مقام میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ کسی چیز کو نہایت اہتمام اور ترتیب و تدریج کے ساتھ اتارنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن چونکہ لوگوں کی یاددہانی کے لئے اترا ہے اس وجہ سے اللہ نے صرف اتنے پر اکتفا نہیں فرمایا کہ کسی نہ کسی طرح بات ایک مرتبہ لوگوں تک پہنچ جائے بلکہ نہایت اہتمام اور تدریج اور وقفہ وقفہ کے ساتھ اس کو اتارا تاکہ لوگوں کے لئے یہ عذر باقی نہ رہے کہ بات کے سنانے یا سمجھانے میں کوئی کسر رہ گئی۔
قرآن کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ خالق کا فرمان ہے
”من خلق الارض و السموت العلی“ یہ قرآن کی عظمت واضح فرمائی کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
5۔ 1 بغیر کسی حد بندی اور کیفیت بیان کرنے کے، جس طرح کہ اس کی شان کے لائق ہے یعنی اللہ تعالیٰ عرش پر قائم ہے، لیکن کس طرح اور کیسے ؟ یہ کیفیت کسی کو معلوم نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3: یہ نصیحت اس کے لیے کار آمد ہے جو ڈرتا رہتا ہو کہ میرا طرز عمل صحیح ہے یا نہیں، دوسرے الفاظ میں جس کے دل میں حق کی طلب ہو اور جو ہٹ دھرمی یا لاپرواہی کی روش اختیار کرنے کے بعد بےفکر ہو کر نہ بیٹھ گیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة طہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
طہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنی (1 : 8) ” “۔
نہایت ہی نرم و نازک اور تروتازہ آغاز ہے ‘ حروف مقطعات طا۔ ہا۔ اشارہ یہی ہے کہ یہ وپری سورة ایسے ہی حروف مقطعات سے مرکب ہے۔ جس طرح یہ قرآن ایسے ہی حروف سے مرکب ہے جیسا کہ دوسری سورتوں کے آغاز میں بھی یہی اشارہ ان حروف کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ یہاں جو دو حروف چنے گئے ہیں ان میں ایک مزید یہ اشارہ بھی پیش نظر ہے کہ انکے تلفظ کے آخر میں الف مقصورہ آتا ہے جس طرح اس پوری سورة میں فواصل الف مقصورہ پر ختم ہوتے ہیں۔ حروف مقطعات کے بعد قرآن کریم کا ذکر آتا ہے ‘ جس طرح پورے قرآن میں جس سورة کا آغازحروف مقطعات سے ہوتا ہے ‘ ان کے بعد…
Read the full tafseer →7 اس لیے ضروری ہے کہ مخلوق نہایت خوشی کے ساتھ اس کو اپنے سر آنکھوں پر رکھے اور شہنشاہانہ احکام کی خلاف ورزی نہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
آیت 3 اِلَّا تَذْکِرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی ”
یعنی جن کے دلوں میں کچھ خوف خدا ہے ان کے لیے یہ نصیحت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2 قرآن اتنا ہی پڑھنا چاہئے جتنا کہ دل کی خوشی سے پڑھا جائے :۔ یعنی یہ قرآن اس لئے نہیں اتارا گیا کہ آپ لوگوں کے ہدایت کے سلسلہ میں سارے جہان کا درد سر مول لے لیں۔ آپ کا کام صرف یہ ہے کہ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دیں۔ پھر جس کسی کے دل میں کچھ بھی اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا۔ وہ ضرور اس قرآن کی ہدایت کو قبول کرے گا اور اس کے لئے یاددہانی کا کام دے گا اور جو لوگ اللہ سے بےخوف ہوچکے ہیں وہ اگر اس کی ہدایت کو قبول نہیں کرتے تو آپ کو اس بارے میں پریشان نہ ہونا چاہئے اور نہ ان کے غم میں اپنے آپ کو ہلکان کردینا چاہئے۔ قرآن کے نزول کا مقصد آپ کو مشقت میں ڈالنا ہرگز نہیں۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4۔ (آیت) ” الرحمن “۔ میں یہ اشارہ آگیا کہ وہ وہ خدا ہے جس کی رحمت ورحمانیت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ (آیت) ” استوی “۔ استواء کے معنی استیلاء کے ہیں اور خود استیلاء سے مراد اقتدار واختیار ہے اور جو شبہات عام طور پر آیت پر وارد ہوتے ہیں، اس مفہوم کے لینے سے سب کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ انا اذا فسرنا الاستیلاء بالاقتدار زالت ھذہ المطاعن کلھا (کبیر) عرش اور استوی دونوں پر حاشیے سورة اعراف پارہ 8 میں گزر چکے۔ (آیت) ” خلق ..... العلی “۔ زمین و آسمان نہ کوئی خود آفریدہ مخلوق ہیں اور نہ خالق۔ بلکہ تمامتر اللہ ہی کی محتاج اپنے وجود دنیا میں ہیں۔ (آیت) ” سموت “۔ میں خود ہی بلندی کا مفہوم شامل ہے۔ صفت علا لاکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے طٰہٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے اے محمد ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں یعنی تعب میں پڑجائیں اس طرز عمل سے جو آپ نے نزول قرآن کے بعد اختیار کیا رات کی نماز (تہجد) میں طول قیام کے ذریعہ، مطلب یہ کہ (تخفیف کرکے) اپنے اوپر بار کم ڈالئے بلکہ ہم نے قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خوف خدا رکھتا ہو یہ اس ذات کی جانب سے نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ تنزیلاً اپنے فعل ناصب (انزلناہ) کے عوض میں ہے عُلیٰ عُلْیَا کی جمع ہے جیسے…
Read the full tafseer →تنزیلا ممن خلق الارض والسموت العلی۔ یہ اس ذات کی طرف سے نازل کردہ ہے جس نے
زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ پہلے اَنْزَلْنَابصیغۂ جمع متکلم فرمایا تھا اور اس جگہ اپنی ذات کو بصیغۂ غائب ذکر کیا اس سے طرز کلام میں نیرنگی پیدا ہوگئی اور اتارنے والے کی عظمت کا اظہار دو طرح سے ہوگیا اوّل اتارنے کی نسبت اپنی عظیم الشان ذات کی جانب کی پھر ایسی ذات جامع الصفات کی طرح اسناد تنزیل کی جو عظیم الشان صفات و افعال کا سرچشمہ تھی اور اسی ترتیب سے اس کے افعال کا ذکر کیا جو ترتیب عندالعقل مناسب تھی اوّل تخلیق زمین کا ذکر کیا زمین بالکل ہمارے سامنے اور بہت زیادہ قریب ہے پھر اونچے آسمان کا ذکر کیا اور اس…
Read the full tafseer →(4) یہ اس ذات کا نازل کردہ اور اس کا کلام ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا اس طرح ایک آسمان کے اوپر دوسرا آسمان ہے۔
Read the full tafseer →”َنْزِيْلًا“ فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے جو ”مَا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ“ سے معلوم ہو رہا ہے، یعنی ”نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْآنُ تَنْزِیْلاً۔“ تنزیل کا معنی تھوڑا تھوڑا کرکے اتارنا ہے، اس کی حکمت کے لیے دیکھیے سورة فرقان کی آیت (32) ”الْعُلٰى“ ”عُلْیَا“ کی جمع ہے جو ”أَعْلٰی“ کی مؤنث ہے، جیسے ”کُبْرٰی“ کی جمع ”کُبَرٌ“ ہے، یعنی یہ قرآن کسی جادوگر، کاہن، شاعر، شیطان، جن، انسان، فرشتے یا کسی بھی مخلوق کا کلام نہیں، بلکہ اس خالق کا نازل کردہ ہے جو صرف تمہارا ہی خالق نہیں بلکہ اس عظیم الشان زمین کا، جس کے اوپر اور ان بیحد بلند و بالا آسمانوں کا، جن کے نیچے تم رہتے ہو، سب کا خالق وہی ہے۔ دیکھیے سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ممن خلق الارض والسموت العلی۔ ، العلاء سے مراد بلند وبالا ہے۔ یہ العلیا کی جمع ہے جیسے کبریٰ و صغریٰ ، کبر، صغر اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد میں اپنی عظمت و جبروت اور جلال کی خبر دی ہے۔ پھر فرمایا : الرحمن علی العرش استوی اس پر مدح کی بنا پر نصب جائز ہے۔ ابو اسحاق نے کہا : بدل کی بنا پر جر ہے۔ سعید بن مسعدہ نے کہا : رفع ھوالرحمن کے معنی کی بنا پر ہے۔ نحاس نے کہا : رفع مبتداء کی حیثیت سے ہے اور اس کی خبر لہ مافی السموت وما فی الارض ہے۔ پس استویٰ پر وقف نہ ہوگا تور خلق میں جو ضمیر مضمر ہے اس سے بدل کی بنا پر مرفوع ہو تو اس صورت میں استویٰ پر وقف جائز ہوگا اسی طرح جب مبتدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1:۔ ابن منذر ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب شروع میں وحی کا نزول ہوا تو آپ نماز میں اپنے قدموں کے اگلے حصوں پر کھڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “
نزول قرآن آپ (علیہ السلام) کے لئے باعث مشقت نہیں :
2:۔ ابن مردویہ اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کفار نے کہا یہ آدمی اپنے رب کی طرف سے مشقت میں پڑگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “
3:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تھے تو رسی سے اپنے…
Read the full tafseer →[تَنْزِيْلًا : اتارا ہوا ہوتے ہوئے ] [مِّمَنْ : اس (کی طرف) سے جس نے ] [خَلَقَ : پیدا کیا ] [الْاَرْضَ : زمین کو ] [وَالسَّمٰوٰتِ الْعُلٰى: اور بہت بلند آسمان کو ]
ترکیب : (آیت۔ 4) ۔ لفظ اَلْعُلٰی کو سمجھ لیں۔ مادہ ” ع ل و “ سے افعل تفضیل میں مؤنث فُعْلٰی کے وزن پر لفظ عُلْیََا بنتا ہے۔ اس کی جمع فُعَلٌ کے وزن پر اصلاً عُلَیٌ بنتی ہے قاعدہ کے مطابق تبدیل ہو کر حالت رفع و جر میں عُلٍ اور نصب میں عُلَیًا آئے گی۔ اور جب اس پر لام تعریف داخل ہوگا تو رفع، نصب، جر، تینوں حالتوں میں یہ لفظ اَلْعُلٰی آئے گا کیونکہ اَلْعُلَیُ اَلْعُلَیَ ۔ اَلْعُلَیِ ، تینوں قاعدہ کے مطابق تبدیل ہو کر اَلْعُلٰی بنیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰی) (یہ قرآن اس ذات کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا)
(اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی) (رحمن عرش پر مستوی ہوا) استوی علی العرش کے بارے میں سورة اعراف کی آیت (اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ ) (ع 8) کی تفسیر ملاحظہ کرلی جائے۔ (انوار البیان ص 440 ج 3)
آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو ماتحت الثریٰ ہے اللہ تعالیٰ اس سب کو جانتا ہے
(لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَھُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰی) (اسی کے لیے ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تقریر رسالت و وحدانیت
قال اللہ تعالیٰ ۔ طٰہٰ مآ انزلنا علیک القراٰن لتشقٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنٰی
(ربط) گزشتہ سورت کے ختم پر نزول قرآن کا ذکر تھا۔ فانما یسرناہ بلسانک لتبشر بہ المتقین الخ یعنی ہم نے قرآن آپ ﷺ کی زبان یعنی عربی میں اس لیے نازل کیا تاکہ آپ ﷺ کو متقین کی تبشیر اور معاندین کا انداز آسان ہوجائے اب اس سورت کے شروع میں انزال قرآن کی حکمت بیان فرماتے ہیں کہ اس قرآن کے نازل کرنے سے ہمارا مقصود نصیحت اور مرعظت اور بندوں کی ہدایت ہے کہ ان کو زمین اور آسمان کے پیدا کرنے والے کی معرفت حاصل ہو اور سمجھیں کہ لائق عبادت وہی معبود برحق ہے جس کی قدرت اور جس کا علم تمام کائنات کو محیط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4:۔ یہ پہلی آیت توحید ہے۔ یہاں دو دعوے مذکور ہیں۔ پہلا یہ کہ ساری کائنات میں متصرف و مختار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دوسرا یہ کہ عالم الغیب بھی صرف وہی ہے۔ لہذا غائبانہ حاجات میں اسی کو پکارو۔ ” تَنْزِیلًا “ نُزِّلَ فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے۔ ” اَلرَّحْمٰنُ عَلیَ الْعَرْشِ اسْتَوٰي “ زمین و آسمان کو اسی نے پیدا کیا اور تخت شاہی پر بھی وہ خود ہی متمکن ہے۔ تمام کائنات عالم اسی کے تصرف وا ختیار میں ہے اور اس نے کوئی اختیار کسی کے حوالے نہیں کیا۔ استواء علی العرش حکومت و سلطنت سے کنایہ ہے۔ جعلوہ کنایۃ عن الملک وقالوا استوی فلان علی العرش ای ملک (مدارک ج 3 ص 38) استواء علی العرش کی مفصل تحقیق سورة اعراف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تفسیر : نام اور کوائف :
یہ سورة اپنے پہلے لفظ طٰہٰ کے نام سے موسوم ہے ۔ اس کا عام فہم نام طٰہٰ ہی ہے۔ تاہم مفسر قرآن صاحب روح المعانی سید محمود آلوسی بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سورة کا دوسرا نام کلیم بھی ہے کہ اس سورة مبارکہ میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔ اس سورة کی ایک سو پینتیس آیات اور آٹھ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1301 کلمات اور 5242 حروف پر مشتمل ہے۔
یہ سورة مکی زندگی میں 6 نبوت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ 6 نبوت میں جب مسلمان مہاجرین کا پہلا قافلہ حبشہ پہنچا تو وہاں پر حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے یہ سورة نجاشی بادشاہ کے سامنے تلاوت کی تھی۔ گزشتہ…
Read the full tafseer →تَنْزِيْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوٰتِ الْعُلٰى 4ۭ
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے
أرض
الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : الا تذکرۃ اسثتناء منقطع ہے ای لکن انزلناہ للتذکرۃ وقیل ھو مصدر ای لکن ذکرنا یتذکرۃ۔ تنزیلا بدل من اللفظ بفعلہ الناصب لہ۔ العلی جمع علیا تانیث اعلیٰ ۔ الرحمن بالجر بھی پڑھا ہے صفۃ لمن خلق فیکون علی العرش استویٰ خبراً محذوفاً اے ھو۔ وکذا ان رفع علی المدح دون الابتداء۔
تفسیر : ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مکہ میں ابتدائِ نزول قرآن کے وقت جناب رسول ﷺ تہجد کی نماز میں کبھی اس پائوں پر کبھی اس پائوں پر کھڑے ہو کر اس قدر طویل قیام کرتے تھے کہ قدم مبارک ورم کر آتے تھے جس کو دیکھ کر کفار قریش کہتے تھے کہ اس پر قرآن کیا نازل ہوا زحمت میں پڑگیا۔ اس پر یہ سورة نازل ہوئی اور یہ بھی…
Read the full tafseer →تَنْزِیْلاً مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوٰتِ الْعُلٰی۔ (طٰـہٰ : 4)
(یہ نہایت اہتمام کے ساتھ اتارا گیا ہے، اس ذات کی طرف سے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ )
قرآن کریم کی عظمت
تَنْزِیْل … مصدر ہے، یہاں مفعول کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ نزول اور تنزیل میں فرق یہ ہے کہ تنزیل میں ایک اہتمام اور تدریج کا معنی پایا جاتا ہے۔ یہاں بھی یہ لفظ لا کر اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نہایت عظیم الشان کتاب ہے اور اسے نہایت اہتمام اور ترتیب و تدریج کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اسے لے کر اترتے ہیں جو تمام فرشتوں کے سردار اور مطاع ہیں اور جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
فہم القرآن
ربط کلام : جس ذات کبریا نے یہ قرآن نازل کیا ہے اس کا تعارف۔
قرآن مجید اس ذات کبریا نے نازل کیا ہے جس نے زمین اور بلند وبالا آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ زمین و آسمان کو پیدا کرنے کے بعد الرحمن عرش پر مستوی ہوا۔ جس طرح اس کی شایان شان ہے۔ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے سب کا سب اسی مالک کی ملکیت ہے۔ لہٰذا آپ اونچی آواز سے بات کریں یا آہستہ انداز میں دل ہی دل میں کہیں وہ خفیہ اور آہستہ سے آہستہ آواز کو سنتا ہی نہیں بلکہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات اور احساسات کو جانتا ہے۔ یہاں پہلے یہ بات سمجھائی ہے کہ اے پیغمبر آپ کفار کے ظلم اور تسلّط کے بارے میں…
Read the full tafseer →4: تَنْزِیْلاً (یہ اتارا ہوا ہے) ۔
نحو : یہ تذکرۃ سے بدل ہے۔ جبکہ اس کو حال قرار دیا جائے۔ نمبر 2۔ نزل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 3۔ مدح کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 4۔ یخشی کی وجہ سے اس کا مفعول بنکر منصوب ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے انزلہ اللّٰہ تذکرۃ لمن یخشی تنزیل اللّٰہ۔ (اللہ تعالیٰ نے ان کو اس شخص کیلئے نصیحت بنایا جو اللہ تعالیٰ کی تنزیل سے ڈرنے والا ہے) ۔
مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوٰتِ (اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا زمین اور آسمان کو)
نحو : یہ تنزیلاً کے متعلق ہے جو اس کا صلہ ہے۔
الْعُلٰی (بلند) یہ العلیا کی جمع ہے۔ اور اعلیٰ کی تانیث ہے۔ آسمانوں کی صفت العلیٰ لا کر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4۔ تنزیلا، ، تذکرہ کے بدلے میں ذکر کیا ہے۔ ممن خلق الارض، ، اس ذات کی طرف سے ہے جس نے زمین کو پیدا کیا ۔ والسماوات العلی، اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا۔ العلی، جمع ہے علیا کی جیسے کبری جمع ہے کبر کی۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4:۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ سورة مکی ہے مجاہد کے قول کے موافق طٰہٰ حروف مقطعات میں سے ہے حروف مقطعات کی تفسیر کا ذکر سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب تہجد کی نماز فرض ہوئی تو اللہ کے رسول ﷺ تہجد کی نماز میں یہاں تک کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے پیروں پر ورم آجاتا تھا آپ کا یہ حال دیکھ کر مکہ کے مشرک لوگ کہتے تھے یہ قرآن محمد ﷺ کو محنت اور مشقت میں ڈالنے کے لیے اتارا گیا ہے 1 ؎۔
اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی اس بات کے جواب میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن اللہ تعالیٰ نے تم پر تکلیف اٹھانے کے لیے نہیں اتارا بلکہ یہ قرآن تو ان لوگوں کی نصیحت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1
(طہ) اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ (ما انزلنا علیک القرآن لتشقی) ” نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لئے کہ آپ مشقت میں پڑیں۔ “ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں، (ایاس نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قوی اس پر عمل کرنے سے عاجز ہوجائیں۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوز و فلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام…
Read the full tafseer →3 قرآن حکیم خالص اللہ تعالیٰ کا کلام ہے : سو تنزیل کے لفظ سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ خالص اتارا ہوا کلام ہے اور خالص اللہ کا کلام ہے۔ اس میں کسی بھی مخلوق کا کوئی حصہ یا عمل دخل نہیں۔ یہ قرآن حکیم کی عظمت شان کا ایک خاص پہلو ہے کہ یہ آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کے خالق ومالک کا اتارا ہوا کلام ہے۔ سو جب اس کلام حکیم کو اتارنے والی ذات اقدس و اعلیٰ اس قدر عظمتوں والی ہے تو اس کا نازل فرمودہ یہ کلام مجید بھی بےمثال اور نہایت عظیم الشان کلام ہے۔ نیز یہ اسی کا حق اور اسی کی شان ہے کہ وہ اپنی مخلوق کیلئے ایسا قانون اتارے جو انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا کفیل و ضامین ہو۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نزول قرآن کا مقصد اور صفات باری تعالیٰ
تشریح : کیونکہ آنحضرت ﷺ رات بھر کھڑے ہو کر عبادت کرتے اور قرآن پڑھتے رہتے تو عبادت کا طریقہ اللہ نے یوں مقرر کردیا کہ اس میں میانہ روی اختیار کریں اور اس بات کو خاص طور سے ذہن میں رکھیں کہ آپ کا کام ہے تبلیغ، یعنی اللہ کی دی ہوئی ہدایات لوگوں تک پہنچائیں یہ نہیں کہ رات بھر عبادت کرتے رہیں۔ تو اس کے بعد سے آپ ﷺ رات کے پہلے پہر آرام کرتے اور پچھلے پہر اٹھ کر عبادت کرتے اور دن بھر درس و تدریس اور اشاعت دین میں مشغول رہتے۔ قرآن ایک بہترین ہدایت کی کتاب ہے۔ یہ کتاب کسی معمولی ہستی کی بھیجی ہوئی نہیں۔ یہ کتاب اس رب جلیل، مالک الملک، رب العلمین کی بھیجی ہوئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–24
سورة طہ :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 6 اس آیت کا صحیح ترجمہ ہے ” اللہ تعالیٰ فرش کے اوپر بلند ہوا۔ “ کیونکہ محاورہ میں استوی علی کذا کے یعنی معنی ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس مضمون کی آیات اور احادیث صحیحہ کی رو سے اللہ تعالیٰ کے ساری مخلوق سے الگ اور عرش معلی کے اوپر ہونے کا عقیدہ ضروری ہے مگر اس کی کیفیت سے بحث بدعت اور گمراہی ہے۔ یہی ائمہ حدیث اور سلف کا مسلک ہے۔ دیکھیے سورة اعراف آی 54
Read the full tafseer →(20:4) تنزیلا۔ نزل ینزل کا بروزن تفعیل مصدر ہے بمعنی اتارنا۔ نازل کرنا یا بہ فعل مقدر نزل کا مفعول مطلق ہے ای نزل تنزیلا۔
العلی۔ کبری کے وزن پر العلیا (الاعلی کی تانیث ) کی جمع ہے۔ بلند، اونچا ، بلند و بالا۔ یہ سموت کی صفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8
تشقی تو مشقت اٹھاتا ہے۔ تذکرۃ دھیان اور توجہ دینے کی چیز۔ یخشی وہ ڈرتا ہے۔ العلی بلند وبالا۔ استوی وہ برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ الثریٰ گیلی مٹی۔ السر بھید، دل میں چھپی بات۔ اخفی بہت زیادہ پوشیدہ، چھپا ہوا۔ اسماء الحسنی بہترین نام۔
تشریح :- آیت نمبر 1 تا 8
اس سورت کو بھی ” حروف مقطعات ‘ ‘ سے شروع کیا گیا ہے۔ جن حروف کے معنی کا علم اور اس کا بھید اللہ کو معلوم ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو تمام انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل کیا ہے تاکہ اس کے وہ بندے جو محتاط، خوف الٰہی سے سرشار اور زندگی کے ہر معاملے میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں ان کو صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے لے کر ساتویں کے نیچے تک سب کچھ اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے۔ علم اس کا ایسا وسیع ہے کہ آدمی کے دل میں جو بات آچکی ہے یا آنے والی ہے، یہ سب اس کو معلوم ہے۔ ایسے معبود کی تعظیم میں جو دوسروں کو شریک کرتے ہیں، وہ بڑے نادان ہیں۔ مشرکین مکہ کو جب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی باتیں سمجھائی جاتی تھیں تو وہ مشرک مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم بھی تو کبھی اللہ، کبھی رحمان، کبھی رحیم، کہہ کر دعائیں مانگتے ہو۔ پھر اللہ کو وحدہ لاشریک بھی کہتے ہو۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ اس ایک ذات کی بہت سی صفتیں ہیں۔ ان صفتوں کے موافق اس کے بہت سے نام ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
[1] یعنی آپ تکذیب کرنے والوں کی باتیں سن کر ملول اور تنگ دل نہ ہوں اور نہ ان کے پیچھے پڑ کر تکلیف اٹھائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(ف 1) سورة طہ مکی ہے اور عام مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی نبوت قصص اور توحید وحشر کا بیان ہے ۔
حضور ﷺ جب یہ خیال فرماتے کہ لوگ دعوت و ارشاد کی مساعی کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں ، تو آپ کو قدرتا تکلیف محسوس ہوتی ، کیونکہ لوگوں کی گمراہی وضلالت سے آپ کو روحانی کوفت محسوس ہوتی ، آپ یہ چاہتے تھے کہ یہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت میں آجائیں ، اور جہنم کے عذاب سے بچ جائیں ، اس پر قرآن حکیم کی یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ قرآن کی آواز پر وہی لوگ لبیک کہیں گے جن کے دلوں میں خشیت الہی کا جذبہ موجزن ہے ، جو خدا سے ڈرتے ہیں اور جن میں قبول حق کی استعداد موجود ہے ، اس لئے آپ ان لوگوں کی محرومی اور…
Read the full tafseer →-4 یہ قرآن کریم اس ذات اقدس کی جانب سے اتارا گیا ہے جس نے زمین کو اور اونچے اونچے اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ یعنی جو زمین اور بلند آسمانوں کا خلاق ومالک ہے اسی کی جانب سے یہ کلام نازل کیا گیا ہے اور یہ اسی کا کلام ہے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ قرآن کریم کا نزول اس ذات سے ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا :
4۔ جب اس قرآن کریم کے نازل کرنے والی ہستی ہے جو اس کائنات کو پیدا کرنے والی اور اس کے نظام کو چلانے والی وہی ہستی ہے جو اس کائنات کو پیدا کرنے والی اور اس کے نظام کو چلانے والی ہے تو وہ اس سے بیخبر کیوں کر ہو سکتی ہے کہ اس کی ہدایات کو کون قبول کرے گا اور کون نہیں ؟ اس نظام کائنات کو پیدا کرنے والا ہی اس نظام کو چلانے والا ہے اور وہ اس سے نہ تھکا ہے اور نہ اس سے غافل ہے آپ ﷺ فکر مند نہ ہوں اور آپ ﷺ کی محنت سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور ان لوگوں کی مخالفانہ چالوں کو بھی جانتا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
إِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ (Rather to remind him who has the fear - 20:3). Ibn Kathir has narrated that in the early days following the revelation of the Qur'an while the believers spent whole nights in prayers, the infidels mocked and taunted them that the revelation of the Qur'an brought nothing to them but hardship, allowing them no rest and peace. In this verse, Allah Ta’ ala says that these wretched and miserable people cannot sense that the Qur'an and the knowledge communicated through it can bring only blessings and felicity. This fact is not appreciated by them because they…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
2. That is, after creating the universe, He is ruling over it and conducting all the affairs of its management.
Read the full tafseer →