Explained with ayahs 1–8
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے۔
سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہوچکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہ سے اے شخص ہے کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ حضور ﷺ نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری یعنی طہ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل حضور ﷺ نے اور آپ کے صحابہ نے شروع کردیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑگئے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة طٰهٰ 1
یہ فقرہ پہلے فقرے کے مفہوم پر خود روشنی ڈالتا ہے۔ دونوں کو ملا کر پڑھنے سے صاف مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کو نازل کر کے ہم کوئی اَنْہونا کام تم سے نہیں لینا چاہتے۔ تمہارے سپرد یہ خدمت نہیں کی گئی ہے کہ جو لوگ نہیں ماننا چاہتے ان کو منوا کر چھوڑو اور جن کے دل ایمان کے لیے بند ہوچکے ہیں ان کے اندر ایمان اتار کر ہی رہو۔ یہ تو بس ایک تذکیر اور یاد دہانی ہے اور اس لیے بھیجی گئی ہے کہ جس کے دل میں خدا کا کچھ خوف ہو وہ اسے سن کر ہوش میں آجائے۔ اب اگر کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں خدا کا کچھ خوف نہیں، اور جنہیں اس کی کچھ پروا نہیں کہ حق کیا ہے، اور باطل کیا، ان کے پیچھے پڑنے کی تمہیں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى، ابن کثیر نے فرمایا کہ نزول قرآن کی ابتداء میں ساری رات تہجد و تلاوت میں مشغول رہنے سے بعض کفار نے مسلمانوں پر یہ آوازے کسے کہ ان لوگوں پر قرآن کیا نازل ہوا ایک مصیبت نازل ہوگئی نہ رات کا آرام نہ دن کا چین۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے اشارہ فرمایا کہ یہ جاہل بدنصیب حقائق سے بیخبر کیا جانیں کہ قرآن اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا علم خیر ہی خیر اور سعادت ہی سعادت ہے اس کو مصیبت سمجھنے والے بیخبر اور احمق ہیں۔ صحیحین کی حدیث میں بروایت معاویہ آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین، یعنی اللہ تعالیٰ جس شخص کی بھلائی کا ارادہ…
Read the full tafseer →الا تذکرۃ لمن یخشی (3)
قرآن ایک تذکرہ ہے
اس ٹکڑے سے قرآن کی حیثیت بھی واضح ہوگئی۔ پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری کی حد بھی معین ہوگئی اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کون لوگ اس سے اثر پذیر ہوں گے اور کون اس سے محروم رہیں گے۔
فرمایا کہ یہ تو بس ایک ’ تذکرہ ‘ ہے ’ تذکرہ ‘ کے معنی یاد دہانی کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یاد دہانی جس چیز کی کی جاتی ہے وہ خارج سے لائی ہوئی چیز کی نہیں کی جاتی بلکہ اس چیز کی کی جاتی ہے جو مخاطب کے خود اپنے پاس ہو لیکن وہ اس کو بھولا ہوا ہو۔ قرآن پر غور کیجئے تو اس کی اصلی نوعیت یہی ہے۔ وہ کوئی اوپری اور انوکھی چیز نہیں ہے۔ وہ کسی خارج سے لائی ہوئی چیز کو ہمارے اوپر نہیں لادتا بلکہ انہی حقائق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
5۔ 1 بغیر کسی حد بندی اور کیفیت بیان کرنے کے، جس طرح کہ اس کی شان کے لائق ہے یعنی اللہ تعالیٰ عرش پر قائم ہے، لیکن کس طرح اور کیسے ؟ یہ کیفیت کسی کو معلوم نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3: یہ نصیحت اس کے لیے کار آمد ہے جو ڈرتا رہتا ہو کہ میرا طرز عمل صحیح ہے یا نہیں، دوسرے الفاظ میں جس کے دل میں حق کی طلب ہو اور جو ہٹ دھرمی یا لاپرواہی کی روش اختیار کرنے کے بعد بےفکر ہو کر نہ بیٹھ گیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة طہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
طہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنی (1 : 8) ” “۔
نہایت ہی نرم و نازک اور تروتازہ آغاز ہے ‘ حروف مقطعات طا۔ ہا۔ اشارہ یہی ہے کہ یہ وپری سورة ایسے ہی حروف مقطعات سے مرکب ہے۔ جس طرح یہ قرآن ایسے ہی حروف سے مرکب ہے جیسا کہ دوسری سورتوں کے آغاز میں بھی یہی اشارہ ان حروف کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ یہاں جو دو حروف چنے گئے ہیں ان میں ایک مزید یہ اشارہ بھی پیش نظر ہے کہ انکے تلفظ کے آخر میں الف مقصورہ آتا ہے جس طرح اس پوری سورة میں فواصل الف مقصورہ پر ختم ہوتے ہیں۔ حروف مقطعات کے بعد قرآن کریم کا ذکر آتا ہے ‘ جس طرح پورے قرآن میں جس سورة کا آغازحروف مقطعات سے ہوتا ہے ‘ ان کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
6 یعنی قرآن کریم اس لیے اتارا گیا ہے کہ جن کے دل نرم ہوں اور خدا سے ڈرتے ہوں، وہ اس کے بیانات سے نصیحت حاصل کریں اور روحانی فیوض و برکات سے محروم نہ رہیں۔ یہ غرض نہیں کہ قرآن نازل کر کے خواہ مخواہ تم کو کسی محنت شاقہ اور تکلیف شدت میں مبتلا کیا جائے۔ نہ وہ ایسی چیز ہے جس کا حامل و عامل کبھی محروم و ناکام رہے۔ آپ تکذیب کرنے والوں کی باتیں سن کر ملول اور تنگدل نہ ہوں۔ نہ ان کے پیچھے پڑ کر زیادہ تکلیف اٹھائیں۔ حق کا علمبردار ہی آخر کامیاب ہو کر رہے گا۔ آپ توسط کے ساتھ عبادت کرتے رہیئے۔ بعض روایات میں ہے کہ ابتداء نبی کریم ﷺ شب کو نماز میں کھڑے ہو کر بہت زیادہ قرآن پڑھتے تھے۔ کفار آپ کی محنت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
آیت 3 اِلَّا تَذْکِرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی ”
یعنی جن کے دلوں میں کچھ خوف خدا ہے ان کے لیے یہ نصیحت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2 قرآن اتنا ہی پڑھنا چاہئے جتنا کہ دل کی خوشی سے پڑھا جائے :۔ یعنی یہ قرآن اس لئے نہیں اتارا گیا کہ آپ لوگوں کے ہدایت کے سلسلہ میں سارے جہان کا درد سر مول لے لیں۔ آپ کا کام صرف یہ ہے کہ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دیں۔ پھر جس کسی کے دل میں کچھ بھی اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا۔ وہ ضرور اس قرآن کی ہدایت کو قبول کرے گا اور اس کے لئے یاددہانی کا کام دے گا اور جو لوگ اللہ سے بےخوف ہوچکے ہیں وہ اگر اس کی ہدایت کو قبول نہیں کرتے تو آپ کو اس بارے میں پریشان نہ ہونا چاہئے اور نہ ان کے غم میں اپنے آپ کو ہلکان کردینا چاہئے۔ قرآن کے نزول کا مقصد آپ کو مشقت میں ڈالنا ہرگز نہیں۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ ان…
Read the full tafseer →3۔ قرآن کی غرض وغایت تو بھلائی اور خیرخواہی اصلاح اور سدھا رہے، لیکن اس سے مستفید صرف وہی لوگ ہوسکتے ہیں جن کے قلب میں خوف خدا موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے طٰہٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے اے محمد ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں یعنی تعب میں پڑجائیں اس طرز عمل سے جو آپ نے نزول قرآن کے بعد اختیار کیا رات کی نماز (تہجد) میں طول قیام کے ذریعہ، مطلب یہ کہ (تخفیف کرکے) اپنے اوپر بار کم ڈالئے بلکہ ہم نے قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خوف خدا رکھتا ہو یہ اس ذات کی جانب سے نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ تنزیلاً اپنے فعل ناصب (انزلناہ) کے عوض میں ہے عُلیٰ عُلْیَا کی جمع ہے جیسے…
Read the full tafseer →الا تذکرۃ لمن یخشی بلکہ ایسے شخص کی ہدایت کے لئے اتارا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو۔ مَنْ یَّخْشٰی
سے مراد ہے وہ شخص جس کے دل کے اندر خشیت اور رقت ہو کہ ڈرانے سے اس کو فائدہ پہنچ جائے یا ایسا شخص مراد ہے جس کے متعلق اللہ جانتا ہے کہ ڈرانے اور عذاب کا خوف دلانے سے وہ خوف زدہ ہوجائے گا (اگرچہ بالفعل وہ صاحب خشیہ نہ ہو اور عذاب کا خوف اس کو نہ ہو مگر عذاب کا ذکر سن کر آئندہ خوف زدہ ہوجانے والا ہو) ایسا ہی آدمی انذار و تخویف سے فائدہ اندوز ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
شان نزول : (آیت) ”۔ ماانزلنا علیک القران“۔ (الخ)
ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ پر جب پہلی بار اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی تو آپ کے نماز کیلیے جس وقت کھڑے ہوتے تو بہت ہی دیر تک کھڑے ہوتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی یعنی ہم نے قرآن آپ پر اس لیے نہیں اتارا کہ آپ تکلیف اٹھائیں۔
اور عبد بن حمید نے اپنی تفسیر میں ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ اپنے دونوں پیروں میں سے ہر ایک پیر باری باری اٹھاتے رہتے تھے تاکہ نماز میں ایک قدم مبارک پر دیر تک کھڑے رہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور نیز ابن مردویہ ؒ نے عوفی کے ذریعے حضرت ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →ۙاِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى : ”ۙاِلَّا“ کے ساتھ استثنا منقطع ہے، کیونکہ ”تَذْكِرَةً“ شقاوت میں شامل نہیں ہے، لہٰذا یہاں ”ۙاِلَّا“ بمعنی ”لٰکِنَّ“ ہے، چناچہ یہاں اس کا ترجمہ ”بلکہ“ کیا گیا ہے اور یہ جو فرمایا کہ اس قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لیے اتارا جو ڈرتا ہے، اس سے مراد یہ نہیں کہ قرآن دوسرے لوگوں کی نصیحت کے لیے نہیں اترا، کیونکہ قرآن بلکہ پورا دین ہر انس و جن تک پہنچانے کے لیے اتارا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ) [ المائدۃ : 67 ] ”اے رسول ! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔“ اور نبی ﷺ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا تذکرۃ لمن یخشی۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : یہ تشقی سے بدل ہے یعنی ما انزلناہ الا تذکرۃ اور نحاس نے کہا : یہ وجہ بہت بعید ہے۔ ابو علی نے اس کا انکار کیا ہے کیونکہ تذکرۃ، شقاء نہیں ہے۔ یہ مصدر کی بناء پر منصوب ہے یعنی انزلنا لتذکربہ تذکرۃ یا مفعولہ لا جلہ کی بنا پر منصوب ہے یعنی ما انزلنا علیک القران لتشقی۔ ما انزلناہ الا للتذکرۃ۔ حسین بن فضل نے کہا : اس میں تقدیم و تاخیر ہے، یعنی ما انزلنا علیک القرآن الا تذکرۃ لمن یخشی ولئلا تشقی اور تنزیلا مصدر ہے یعنی نزلناہ تنزیلا، بعض نے فرمایا : یہ تذکرۃ کے قول سے ببدلل ہے۔ ابو حیوہ شامی نے تنزیل مرفوع پڑھا ہے۔ اس معنی کی بناء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1:۔ ابن منذر ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب شروع میں وحی کا نزول ہوا تو آپ نماز میں اپنے قدموں کے اگلے حصوں پر کھڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “
نزول قرآن آپ (علیہ السلام) کے لئے باعث مشقت نہیں :
2:۔ ابن مردویہ اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کفار نے کہا یہ آدمی اپنے رب کی طرف سے مشقت میں پڑگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “
3:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تھے تو رسی سے اپنے…
Read the full tafseer →[اِلَّا تَذْكِرَةً : مگر یاددہانی کرنے کے لئے ] [لِمَنْ : اس کو جو ] [يَّخْشٰى: ڈر رکھتا ہے ]
Read the full tafseer →(اِلَّا تَذْکِرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی) یعنی یہ قرآن ہم نے اس شخص کی نصیحت کے لیے اتارا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے، قرآن مجید نصیحت تو تمام انسانوں کے لیے ہے لیکن خاص کر جوف و خشیت والوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جو لوگ قرآن سن کر متاثر نہیں ہوتے اور اس کے مضامین پر ایمان نہیں لاتے ان کا سننا نہ سننا برابر ہے۔ قال صاحب الروح و خص الخاشی بالذکر بالذکر مع ان القرآن تذکرۃ للناس کلھم لتنزیل غیرہ منزلۃ العدم غیر منتفع بہ۔ سورة یٰسین میں فرمایا (اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بالْغَیْبِ ) (آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈراتے ہیں جو نصیحت پر چلے اور بغیر دیکھے رحمن سے ڈرے) ۔
جو لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تقریر رسالت و وحدانیت
قال اللہ تعالیٰ ۔ طٰہٰ مآ انزلنا علیک القراٰن لتشقٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنٰی
(ربط) گزشتہ سورت کے ختم پر نزول قرآن کا ذکر تھا۔ فانما یسرناہ بلسانک لتبشر بہ المتقین الخ یعنی ہم نے قرآن آپ ﷺ کی زبان یعنی عربی میں اس لیے نازل کیا تاکہ آپ ﷺ کو متقین کی تبشیر اور معاندین کا انداز آسان ہوجائے اب اس سورت کے شروع میں انزال قرآن کی حکمت بیان فرماتے ہیں کہ اس قرآن کے نازل کرنے سے ہمارا مقصود نصیحت اور مرعظت اور بندوں کی ہدایت ہے کہ ان کو زمین اور آسمان کے پیدا کرنے والے کی معرفت حاصل ہو اور سمجھیں کہ لائق عبادت وہی معبود برحق ہے جس کی قدرت اور جس کا علم تمام کائنات کو محیط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ یہ پہلی آیت تشجیع ہے۔ یعنی ہم نے آپ پر قرآن مجید صرف اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑیں اور اس کی وجہ سے مصائب و مشکلات میں مبتلا ہوجائیں۔ اس لیے آپ لوگوں کے نہ ماننے سے غم نہ کریں اور تذکیر و تبلیغ کرتے رہیں۔ ” لِتَشْقٰی “ لتتعب لفرط تاسفک علیھم وعلی کفرھم وتحسرک علی ان لا یؤمنوا (مدارک ج 3 س 37) جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ” فَلَعَلَّکَ بَاخَعٌ نَّفْسَکَ عَلیٰ آٰثَارِھِم “ (کہف رکوع 1) ۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہحضور ﷺ کثرت صلوۃ میں اس قدرتکلیف اٹھاتے کہ آپ کے پاؤں متورم ہوجاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یہ واقعہ اگرچہ اپنی جگہ درست ہے لیکن آیت کی تفسیر کے مناسب وہی بات ہے جو ہم پہلے بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تفسیر : نام اور کوائف :
یہ سورة اپنے پہلے لفظ طٰہٰ کے نام سے موسوم ہے ۔ اس کا عام فہم نام طٰہٰ ہی ہے۔ تاہم مفسر قرآن صاحب روح المعانی سید محمود آلوسی بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سورة کا دوسرا نام کلیم بھی ہے کہ اس سورة مبارکہ میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔ اس سورة کی ایک سو پینتیس آیات اور آٹھ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1301 کلمات اور 5242 حروف پر مشتمل ہے۔
یہ سورة مکی زندگی میں 6 نبوت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ 6 نبوت میں جب مسلمان مہاجرین کا پہلا قافلہ حبشہ پہنچا تو وہاں پر حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے یہ سورة نجاشی بادشاہ کے سامنے تلاوت کی تھی۔ گزشتہ…
Read the full tafseer →اِلَّا تَذْكِرَۃً لِّمَنْ يَّخْشٰى 3ۙ
تَّذْكِرَةُ
: ما يتذكّر به الشیء، وهو أعمّ من الدّلالة والأمارة، قال تعالی: فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ، كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] ، أي : القرآن . وذَكَّرْتُهُ
التذکرۃ
جس کے ذریعہ کسی چیز کو یاد لایا جائے اور یہ دلالت اور امارت سے اعم ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ان کو کیا ہوا کہ نصیحت سے روگرداں ہورہے ہیں ۔ كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] دیکھو یہ ( قرآن ) نصیحت ہے ۔ مراد قرآن پاک ہے ۔ ذَكَّرْتُهُ كذا
خشی
الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : الا تذکرۃ اسثتناء منقطع ہے ای لکن انزلناہ للتذکرۃ وقیل ھو مصدر ای لکن ذکرنا یتذکرۃ۔ تنزیلا بدل من اللفظ بفعلہ الناصب لہ۔ العلی جمع علیا تانیث اعلیٰ ۔ الرحمن بالجر بھی پڑھا ہے صفۃ لمن خلق فیکون علی العرش استویٰ خبراً محذوفاً اے ھو۔ وکذا ان رفع علی المدح دون الابتداء۔
تفسیر : ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مکہ میں ابتدائِ نزول قرآن کے وقت جناب رسول ﷺ تہجد کی نماز میں کبھی اس پائوں پر کبھی اس پائوں پر کھڑے ہو کر اس قدر طویل قیام کرتے تھے کہ قدم مبارک ورم کر آتے تھے جس کو دیکھ کر کفار قریش کہتے تھے کہ اس پر قرآن کیا نازل ہوا زحمت میں پڑگیا۔ اس پر یہ سورة نازل ہوئی اور یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
مَآاَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓی۔ اِلاَّ تَذْکِرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی۔ (طٰـہٰ : 2، 3)
(ہم نے آپ ﷺ پر قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ آپ ﷺ مشقت میں پڑیں۔ یہ تو بس نصیحت ہے، اس کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ )
اس آیت کی مختلف پہلوئوں سے وضاحت
اس آیت کی تفسیر مفسرین نے مختلف پہلوئوں سے کی ہے۔
1 قرآن کریم کی دعوت و تبلیغ کے سلسلہ میں آنحضرت ﷺ پر جو عظیم ذمہ داری ڈالی گئی، آپ ﷺ نے اس کی عظمت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ اس میں صرف کر ڈالا اور اپنی صلاحیتیں اس میں نچوڑ ڈالیں، لیکن جب آپ نے اس قدر محنت و ریاضت کے بعد بھی لوگوں میں اس کی طلب محسوس نہ کی بلکہ مخالفت میں زبانیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
سورۃ طٰہٰ مکہ معظمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب کفار مکہ کا جور و استبداد اپنے عروج پر تھا۔ مسلمانوں کے حوصلے پست ہونے کے قریب تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش کا قدرے تفصیل سے تذکرہ فرمایا ہے تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی کن مشکلات میں دین کا کام کرتے رہے۔
لفظ طٰہٰ بھی حروف مقطعات ہیں۔ حسب عادت کچھ اہل علم نے اس کے بھی مفہوم نقل کیے ہیں۔ جو علمی موشگافیوں کے سوا کچھ نہیں کیونکہ بالآخر وہ بھی ثقہ اہل علم کی طرح یہ لکھنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ اس کا حقیقی مفہوم صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ نبی کریم ﷺ مشکل اور سخت ترین حالات…
Read the full tafseer →3: اِلَّا تَذْکِرَۃً (مگر ایسے شخص کی نصیحت کیلئے)
نحو : استثناء منقطع ہے ای لکن اَنْزَلْنَاہُ تَذْکِرَۃ (لیکن اس کو نصیحت کیلئے اتارا) ۔ نمبر 2۔ یہ حال ہے۔ لِّمَنْ یَّخْشٰی (جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے) اس کے لئے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ نمبر 2۔ اس کیلئے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وہ خشیت اختیار کرلے گا۔
Read the full tafseer →3۔ الاتذکرۃ لمن یخشی، ، اس کا نازل ہونا نصیحت ہے جو شخص ڈرا اور بعض نے کہا کہ تقدیری عبارت یوں ہوگی کہ ہم نے اس کو اس وجہ سے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں بلکہ اس لیے نازل کیا کہ اس سے نصیحت حاصل کرے وہ شخص جوڈرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4:۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ سورة مکی ہے مجاہد کے قول کے موافق طٰہٰ حروف مقطعات میں سے ہے حروف مقطعات کی تفسیر کا ذکر سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب تہجد کی نماز فرض ہوئی تو اللہ کے رسول ﷺ تہجد کی نماز میں یہاں تک کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے پیروں پر ورم آجاتا تھا آپ کا یہ حال دیکھ کر مکہ کے مشرک لوگ کہتے تھے یہ قرآن محمد ﷺ کو محنت اور مشقت میں ڈالنے کے لیے اتارا گیا ہے 1 ؎۔
اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی اس بات کے جواب میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن اللہ تعالیٰ نے تم پر تکلیف اٹھانے کے لیے نہیں اتارا بلکہ یہ قرآن تو ان لوگوں کی نصیحت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1
(طہ) اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ (ما انزلنا علیک القرآن لتشقی) ” نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لئے کہ آپ مشقت میں پڑیں۔ “ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں، (ایاس نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قوی اس پر عمل کرنے سے عاجز ہوجائیں۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوز و فلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام…
Read the full tafseer →2 قرآن حکیم ایک عظیم الشان تذکرہ و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو ایک عظیم الشان یاددہانی کے طور پر نازل کیا گیا ہر اس شخص کے لیے جو ڈرتا ہو۔ یعنی اس تذکیر قرآنی سے استفادہ و فیضیابی کی اولین شرط خوف و خشیت خداوندی ہے۔ سو اس سے فیضیاب وہی ہوسکتا ہے جو ڈرتا ہو اپنے رب کی ناراضگی، اس کی پکڑ اور اس کے عذاب سے۔ یعنی اس سے فائدہ ایسے لوگ اٹھا سکتے ہیں۔ ورنہ یہ عظیم الشان نصیحت اور اس کی بےپایاں رحمت تو سب دنیا جہاں کے لئے عام ہے۔ سو قرآن حکیم کی تذکیر بےمثال سے فائدہ اٹھانے کیلئے اولین شرط خوف وخشیت خداوندی ہے۔ کیونکہ جو لوگ اس سے محروم ہوتے ہیں ان کے دل سخت ہوجاتے ہیں۔ اور ایسے سنگدلوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نزول قرآن کا مقصد اور صفات باری تعالیٰ
تشریح : کیونکہ آنحضرت ﷺ رات بھر کھڑے ہو کر عبادت کرتے اور قرآن پڑھتے رہتے تو عبادت کا طریقہ اللہ نے یوں مقرر کردیا کہ اس میں میانہ روی اختیار کریں اور اس بات کو خاص طور سے ذہن میں رکھیں کہ آپ کا کام ہے تبلیغ، یعنی اللہ کی دی ہوئی ہدایات لوگوں تک پہنچائیں یہ نہیں کہ رات بھر عبادت کرتے رہیں۔ تو اس کے بعد سے آپ ﷺ رات کے پہلے پہر آرام کرتے اور پچھلے پہر اٹھ کر عبادت کرتے اور دن بھر درس و تدریس اور اشاعت دین میں مشغول رہتے۔ قرآن ایک بہترین ہدایت کی کتاب ہے۔ یہ کتاب کسی معمولی ہستی کی بھیجی ہوئی نہیں۔ یہ کتاب اس رب جلیل، مالک الملک، رب العلمین کی بھیجی ہوئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–24
سورة طہ :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 4 یعنی آپ پر یہ قرآن اس لئے نہیں اتارا گیا کہ آپ اس کی تلاوت کرنے کے لئے سار ساری رات عبادت میں کھڑے رہیں اور اپنے آپ کو تھکا ماریں۔ ہوا یہ … جیسا کہ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جب شروع شروع قرآن اترنے لگا تو رسول اللہ (ﷺ) اور صحابہ کرام قرآن پڑھنے کے خیال سے ساری ساری رات عبادت میں کھڑے رہتے ہیں یہاں تک کہ مشرکین کہنے لگے کہ محمد (ﷺ) پر قرآن کیا اترا، بیچارہ سخت مشقت میں پڑگیا۔ اس پر آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ” ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نہیں اتارا کہ آپ پر کوئی ایسا بار ڈالا جائے جو آپ کے لئے ناقابل برداشت ہو۔ (کبیر)
5 اور جسے خدا کا ڈر نہ ہو اسے صحیح راستہ پر ڈال دینا تمہارے ذمہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(20:3) الا۔ حرف استثنائ۔ تذکرۃ۔ مستثنیٰ منقطع (بدیں وجہ منصوب) ای ما انزلنہ لشقائک لکن تذکیرا۔ یعنی ہم نے قرآن کو تمہاری مشقت کے لئے نہیں بلکہ نصیحت وموعظت کے لئے اتارا تھا۔
لمن یخشی۔ اس کے لئے جو (اپنے رب سے) ڈرتا ہے جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے انما انت منذر من یخشھا (79: 45) آپ تو صرف اسی کو ڈرا سکتے ہیں جو اس سے خوف رکھتا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8
تشقی تو مشقت اٹھاتا ہے۔ تذکرۃ دھیان اور توجہ دینے کی چیز۔ یخشی وہ ڈرتا ہے۔ العلی بلند وبالا۔ استوی وہ برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ الثریٰ گیلی مٹی۔ السر بھید، دل میں چھپی بات۔ اخفی بہت زیادہ پوشیدہ، چھپا ہوا۔ اسماء الحسنی بہترین نام۔
تشریح :- آیت نمبر 1 تا 8
اس سورت کو بھی ” حروف مقطعات ‘ ‘ سے شروع کیا گیا ہے۔ جن حروف کے معنی کا علم اور اس کا بھید اللہ کو معلوم ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو تمام انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل کیا ہے تاکہ اس کے وہ بندے جو محتاط، خوف الٰہی سے سرشار اور زندگی کے ہر معاملے میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں ان کو صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے لے کر ساتویں کے نیچے تک سب کچھ اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے۔ علم اس کا ایسا وسیع ہے کہ آدمی کے دل میں جو بات آچکی ہے یا آنے والی ہے، یہ سب اس کو معلوم ہے۔ ایسے معبود کی تعظیم میں جو دوسروں کو شریک کرتے ہیں، وہ بڑے نادان ہیں۔ مشرکین مکہ کو جب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی باتیں سمجھائی جاتی تھیں تو وہ مشرک مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم بھی تو کبھی اللہ، کبھی رحمان، کبھی رحیم، کہہ کر دعائیں مانگتے ہو۔ پھر اللہ کو وحدہ لاشریک بھی کہتے ہو۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ اس ایک ذات کی بہت سی صفتیں ہیں۔ ان صفتوں کے موافق اس کے بہت سے نام ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
[1] یعنی آپ تکذیب کرنے والوں کی باتیں سن کر ملول اور تنگ دل نہ ہوں اور نہ ان کے پیچھے پڑ کر تکلیف اٹھائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(ف 1) سورة طہ مکی ہے اور عام مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی نبوت قصص اور توحید وحشر کا بیان ہے ۔
حضور ﷺ جب یہ خیال فرماتے کہ لوگ دعوت و ارشاد کی مساعی کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں ، تو آپ کو قدرتا تکلیف محسوس ہوتی ، کیونکہ لوگوں کی گمراہی وضلالت سے آپ کو روحانی کوفت محسوس ہوتی ، آپ یہ چاہتے تھے کہ یہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت میں آجائیں ، اور جہنم کے عذاب سے بچ جائیں ، اس پر قرآن حکیم کی یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ قرآن کی آواز پر وہی لوگ لبیک کہیں گے جن کے دلوں میں خشیت الہی کا جذبہ موجزن ہے ، جو خدا سے ڈرتے ہیں اور جن میں قبول حق کی استعداد موجود ہے ، اس لئے آپ ان لوگوں کی محرومی اور…
Read the full tafseer →-3 بلکہ اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خدا سے ڈرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ریاضت اور تہجد میں قرآن کریم کی تلاوت کو دیکھ کر کفار کہا کرتے تھے کہ قرآن کریم کے اترنے سے یہ شخص محنت اور مشقت میں پڑگیا ہے اس کا جواب دیا گیا کہ یہ تو ایک نصیحت ہے جو اس لئے نازل کی گئی ہے کہ جو لوگ خدا کا ڈر رکھتے ہیں وہ اس کو قبول کریں اور اس پر عمل پیرا ہوں۔
Read the full tafseer →بلاشبہ یہ نصیحت ہے لیکن کس کے لئے ؟ جو نصیحت حاصل کرنا چاہے :
3۔ فرمایا یہ قرآن کریم ایک یاد دہانی ہے ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے ۔ اس فقرہ کی مزید وضاحت کردی کہ اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ پر یہ مشقت نہیں ڈالی کہ جو لوگ نہیں مانتے اور اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں ان کو منوا کر چھوڑو اور جن کے دل ایمان کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ان کے اندر ایمان کا گھونٹ ضرور ڈال دو ۔ نہیں نہیں یہ تو واضح اور کھلے کھلے الفاظ میں ایک تذکیر ہے اور آخرت کی یاد دہانی اور اس کا نزول اس لئے ہوا ہے کہ جس کے دل میں خوف خداوندی ہے اس کو قبول کرلے اور اس مستفید ہو اور جن دلوں میں خوف خدا نہیں اور وہ جانوروں کی طرح کھانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
إِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ (Rather to remind him who has the fear - 20:3). Ibn Kathir has narrated that in the early days following the revelation of the Qur'an while the believers spent whole nights in prayers, the infidels mocked and taunted them that the revelation of the Qur'an brought nothing to them but hardship, allowing them no rest and peace. In this verse, Allah Ta’ ala says that these wretched and miserable people cannot sense that the Qur'an and the knowledge communicated through it can bring only blessings and felicity. This fact is not appreciated by them because they…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1. This verse makes plain the meaning of the previous one. The object of the revelation of the Quran is not to make the Prophet (peace be upon him) do something impossible and to put him to unnecessary distress by demanding from him to imbue the hearts of the obdurate people with faith, but to admonish those people who have fear of Allah. Therefore the Prophet (peace be upon him) should not waste his efforts on those people who have no fear of God left in them, and who do not bother at all about what is truth and what is falsehood.
Read the full tafseer →