Explained with ayahs 1–8
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے۔
سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہوچکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہ سے اے شخص ہے کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ حضور ﷺ نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری یعنی طہ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل حضور ﷺ نے اور آپ کے صحابہ نے شروع کردیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑگئے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة طٰهٰ 1
یہ فقرہ پہلے فقرے کے مفہوم پر خود روشنی ڈالتا ہے۔ دونوں کو ملا کر پڑھنے سے صاف مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کو نازل کر کے ہم کوئی اَنْہونا کام تم سے نہیں لینا چاہتے۔ تمہارے سپرد یہ خدمت نہیں کی گئی ہے کہ جو لوگ نہیں ماننا چاہتے ان کو منوا کر چھوڑو اور جن کے دل ایمان کے لیے بند ہوچکے ہیں ان کے اندر ایمان اتار کر ہی رہو۔ یہ تو بس ایک تذکیر اور یاد دہانی ہے اور اس لیے بھیجی گئی ہے کہ جس کے دل میں خدا کا کچھ خوف ہو وہ اسے سن کر ہوش میں آجائے۔ اب اگر کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں خدا کا کچھ خوف نہیں، اور جنہیں اس کی کچھ پروا نہیں کہ حق کیا ہے، اور باطل کیا، ان کے پیچھے پڑنے کی تمہیں کوئی…
Read the full tafseer →مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓي، لتشقیٰ ، شقاء سے مشتق ہے جس کے معنی تعب اور مشقت و تکلیف کے ہیں۔ نزول قرآن کی ابتداء میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام تمام رات عبادت کے لئے کھڑے رہتے اور نماز تہجد میں تلاوت قرآن میں مشغول رہتے تھے یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کے قدمین مبارک پر ورم آ گیا اور دن بھر اس کی فکر میں رہتے تھے کہ کسی طرح کفار کو ہدایت ہو وہ قرآن کی دعوت کو قبول کرلیں۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو ان دونوں قسم کی مشقت سے بچانے کے لئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت اور تکلیف میں پڑجائیں، تمام رات جاگنے اور تلاوت قرآن میں مشغول رہنے کی ضرورت نہیں۔…
Read the full tafseer →ما انزلنا علیک القران لتشقی (2)
تبلیغ میں حضور ﷺ کی محنت مثاقہ اور آپ ﷺ کو دل نواز تسلی
یہ نہایت دل نواز اور پر محبت انداز میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو سمجھایا ہے کہ قرآن کی تبلیغ و دعوت سے متعلق آپ نے اپنے سر پر جو ذمہ داری اٹھائی ہے اور جو محنت مثاقہ اس کے لئے آپ جھیل رہے ہیں۔ اس کا مطالبہ ہرگز آپ سے نہیں ہے۔ آپ کی ذمہ داری صرف لوگوں تک اس کتاب کو پہنچا دینے کی ہے۔ جن کے اندر حق شناسی کی صلاحیت اور خشیت الٰہی کی کچھ رمق ہوگی وہ اس کو قبول کریں گے، جو ان صلاحیتوں سے عاری ہیں ان کے دلوں میں اس کو اتار دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ ان کے پیچھے آپ اپنی زندگی کو اجیرن بنا لیں۔
یہ بات ہم اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے قرآن اس لئے نہیں اتارا کہ تو ان کے کفر پر کثرت افسوس اور ان کے عدم ایمان پر حسرت سے اپنے آپ کو مشقت میں ڈال لے اور غم میں پڑجائے جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے۔ (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الکہف :6) پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو کیا ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے بلکہ ہم نے تو قرآن کو نصیحت اور یاد دہانی کے لیے اتارا ہے تاکہ ہر انسان کے تحت الشعور میں ہماری توحید کا جو جذبہ چھپا ہوا ہے۔ واضح اور نمایاں ہوجائے گویا یہاں شقآء عنآء اور تعب کے معنی میں ہے یعنی…
Read the full tafseer →2: اس تکلیف سے مراد وہ تکلیفیں بھی ہوسکتی ہیں جو آنحضرت ﷺ کو کفار کی طرف سے پہنچ رہی تھیں، اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ یہ تکلیفیں ہمیشہ باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو دور فرما کر آپ کو فتح عطا فرمائے گا۔ اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ شروع میں ساری ساری رات جاگ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت فرماتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے۔ اس آیت نے ارشاد فرمایا کہ آپ کو اتنی تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ اس آیت کے نزول کے بعد آپ نے رات کے شروع حصے میں سونا اور آخری حصے میں عبادت کرنا شروع کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة طہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
طہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنی (1 : 8) ” “۔
نہایت ہی نرم و نازک اور تروتازہ آغاز ہے ‘ حروف مقطعات طا۔ ہا۔ اشارہ یہی ہے کہ یہ وپری سورة ایسے ہی حروف مقطعات سے مرکب ہے۔ جس طرح یہ قرآن ایسے ہی حروف سے مرکب ہے جیسا کہ دوسری سورتوں کے آغاز میں بھی یہی اشارہ ان حروف کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ یہاں جو دو حروف چنے گئے ہیں ان میں ایک مزید یہ اشارہ بھی پیش نظر ہے کہ انکے تلفظ کے آخر میں الف مقصورہ آتا ہے جس طرح اس پوری سورة میں فواصل الف مقصورہ پر ختم ہوتے ہیں۔ حروف مقطعات کے بعد قرآن کریم کا ذکر آتا ہے ‘ جس طرح پورے قرآن میں جس سورة کا آغازحروف مقطعات سے ہوتا ہے ‘ ان کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
6 یعنی قرآن کریم اس لیے اتارا گیا ہے کہ جن کے دل نرم ہوں اور خدا سے ڈرتے ہوں، وہ اس کے بیانات سے نصیحت حاصل کریں اور روحانی فیوض و برکات سے محروم نہ رہیں۔ یہ غرض نہیں کہ قرآن نازل کر کے خواہ مخواہ تم کو کسی محنت شاقہ اور تکلیف شدت میں مبتلا کیا جائے۔ نہ وہ ایسی چیز ہے جس کا حامل و عامل کبھی محروم و ناکام رہے۔ آپ تکذیب کرنے والوں کی باتیں سن کر ملول اور تنگدل نہ ہوں۔ نہ ان کے پیچھے پڑ کر زیادہ تکلیف اٹھائیں۔ حق کا علمبردار ہی آخر کامیاب ہو کر رہے گا۔ آپ توسط کے ساتھ عبادت کرتے رہیئے۔ بعض روایات میں ہے کہ ابتداء نبی کریم ﷺ شب کو نماز میں کھڑے ہو کر بہت زیادہ قرآن پڑھتے تھے۔ کفار آپ کی محنت و…
Read the full tafseer →آیت 2 مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْآٰی ”
آپ ﷺ کی ذمہ داری صرف پیغام پہنچا دینے کی حد تک ہے۔ اب اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے تو آپ ﷺ ان کے پیچھے خود کو ہلکان نہ کریں۔ یہی مضمون اس سے پہلے سورة الکہف میں اس طرح آچکا ہے : فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَآٰی اٰثَارِہِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا ”تو اے نبی ﷺ ! آپ شاید اپنے آپ کو غم سے ہلاک کرلیں گے ان کے پیچھے ‘ اگر وہ ایمان نہ لائے اس بات قرآن پر“۔ سورة الشعراء میں بھی فرمایا گیا : لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ”شاید کہ آپ ﷺ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو اس وجہ سے کہ وہ ایمان نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2 قرآن اتنا ہی پڑھنا چاہئے جتنا کہ دل کی خوشی سے پڑھا جائے :۔ یعنی یہ قرآن اس لئے نہیں اتارا گیا کہ آپ لوگوں کے ہدایت کے سلسلہ میں سارے جہان کا درد سر مول لے لیں۔ آپ کا کام صرف یہ ہے کہ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دیں۔ پھر جس کسی کے دل میں کچھ بھی اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا۔ وہ ضرور اس قرآن کی ہدایت کو قبول کرے گا اور اس کے لئے یاددہانی کا کام دے گا اور جو لوگ اللہ سے بےخوف ہوچکے ہیں وہ اگر اس کی ہدایت کو قبول نہیں کرتے تو آپ کو اس بارے میں پریشان نہ ہونا چاہئے اور نہ ان کے غم میں اپنے آپ کو ہلکان کردینا چاہئے۔ قرآن کے نزول کا مقصد آپ کو مشقت میں ڈالنا ہرگز نہیں۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ ان…
Read the full tafseer →2۔ قرآن مجید سے رسول اللہ ﷺ کے تعب ومشقت اٹھانے کی خاص صورتیں دو ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کافروں کے ردوانکار پر غم وحزن بہت زیادہ کرتے تھے، دوسرے یہ کہ شب میں آپ قراءت قرآن کے وقت قیام بہت زائد طویل فرماتے تھے وقس علی ھذا۔ آیت دونوں صورتوں کی نفی کررہی ہے۔ اور آپ کو گویا یہ تعلیم ہورہی ہے کہ آپ کا کام تو صرف تذکیر وتبلیغ ہے جسے ماننا ہوگا مانے گا، نہ ماننا ہوگا نہ مانے گا۔ آپ اتنے فکرمند نہ رہیے۔ علی ھذا رات کی نماز میں بھی اس درجہ مشقت نہ اٹھائیے جس قدر آسانی تحمل ہوسکے بس اسی قدر پڑھیے اہل اشارات کہتے ہیں کہ اگر تفسیر اول قبول کی جائے تو آیت اصل ٹھہرتی ہے۔ اہل دل پر نزول سکینت کی۔ اور تفسیر ثانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے طٰہٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے اے محمد ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں یعنی تعب میں پڑجائیں اس طرز عمل سے جو آپ نے نزول قرآن کے بعد اختیار کیا رات کی نماز (تہجد) میں طول قیام کے ذریعہ، مطلب یہ کہ (تخفیف کرکے) اپنے اوپر بار کم ڈالئے بلکہ ہم نے قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خوف خدا رکھتا ہو یہ اس ذات کی جانب سے نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ تنزیلاً اپنے فعل ناصب (انزلناہ) کے عوض میں ہے عُلیٰ عُلْیَا کی جمع ہے جیسے…
Read the full tafseer →ما انزلنا علیک القرآن لتشقی۔ ہم نے آپ پر قرآن اس لئے نہیں اتارا کہ آپ (قیام کرتے
کرتے) تھک جائیں صاحب قاموس نے لکھا ہے شقاء کا معنی ہے سختی اور تنگی۔
جوہری نے لکھا ہے شقاوت ‘ سعادت کا عکس ہے اور جس طرح سعادت کی دو قسمیں ہیں دنیوی اور اخروی اسی طرح شقاوت بھی دو طرح کی ہوتی ہے دنیوی اور آخروی۔ پھر سعادت دنیوی تین طرح کی ہوتی ہیں نفسانی ‘ جسمانی ‘ بیرونی اسی طرح شقاوت دنیوی کی بھی یہی تین قسمیں ہیں دنیوی جسمانی شقاوت تھکان ہے اور آیت میں یہی مراد ہے۔ (گویا صاحب قاموس کے نزدیک تشقی کا مصدر شقاء ہے اور جوہری کے نزدیک شقاوۃٌ) بعض علماء کا قول ہے کہ تعب کی بجائے شقاء کا لفظ بھی مستعمل ہے بیضاوی نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
شان نزول : (آیت) ”۔ ماانزلنا علیک القران“۔ (الخ)
ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ پر جب پہلی بار اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی تو آپ کے نماز کیلیے جس وقت کھڑے ہوتے تو بہت ہی دیر تک کھڑے ہوتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی یعنی ہم نے قرآن آپ پر اس لیے نہیں اتارا کہ آپ تکلیف اٹھائیں۔
اور عبد بن حمید نے اپنی تفسیر میں ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ اپنے دونوں پیروں میں سے ہر ایک پیر باری باری اٹھاتے رہتے تھے تاکہ نماز میں ایک قدم مبارک پر دیر تک کھڑے رہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور نیز ابن مردویہ ؒ نے عوفی کے ذریعے حضرت ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓی : ”شَقِيَ یَشْقٰی شَقَاوَۃً وَ شَقَاءً“ بروزن ”رَضِیَ یَرْضَی“ یہ سعادت کی ضد ہے۔ سعادت کی دو قسمیں ہیں، دنیوی اور اخروی۔ اسی طرح شقاوت کی بھی دو قسمیں ہیں، دنیوی اور اخروی۔ اخروی شقاوت بدبختی و بدنصیبی ہے، جیسا کہ کفار کہیں گے : (رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا) [ المؤمنون : 106 ] ”پروردگار ! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی۔“ دنیوی شقاوت ایسے کاموں میں پھنس جانا جو مشقت اور تھکاوٹ کا باعث ہوں، جیسے کہتے ہیں ”فُلاَنٌ أَشْقَی مِنْ رَاءِضِ مُھْرٍ“ ”فلاں گھوڑی کے بچھیرے کو سدھانے والے سے بھی زیادہ مشقت اور مصیبت میں پھنسا ہوا ہے۔“ مفسرین نے اس…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما انزلنا علیک القران لتشقی۔ یہ مانزل علیک القرآن لتشقی بھی پڑھا گیا ہے۔ نحاس نے کہا : بعض نحویوں نے کہا یہ لام نفی ہے۔ بعض نے کہا : لام جمہود ہے۔ ابو جعفر نے کہا : میں نے ابوالحسن بن کیسان کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لام جارہ ہے اس کا معنی ہے۔ ما انزلنا علیک القرآن للشقائ، الشقاء مد اور قصر کے ساتھ ہے یہ وادی ہے، الشقاء کا لغوی معنی تھکن اور مشقت ہے یعنی آپ کی مشقت کے لیے تو ہم نے آپ پر قرآن نازل نہیں کیا۔ شاعر نے کہا :
ذوالعقل یشقی فی النعیم بعقلہ واخو الجھالۃ فی الشقاوۃ ینعم
پس لتشقی کا معنی ہے تاکہ آپ تھکیں ان پر فرط تاسف کی بنا پر کہ وہ ایمان لے آئیں جیسے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1:۔ ابن منذر ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب شروع میں وحی کا نزول ہوا تو آپ نماز میں اپنے قدموں کے اگلے حصوں پر کھڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “
نزول قرآن آپ (علیہ السلام) کے لئے باعث مشقت نہیں :
2:۔ ابن مردویہ اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کفار نے کہا یہ آدمی اپنے رب کی طرف سے مشقت میں پڑگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “
3:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تھے تو رسی سے اپنے…
Read the full tafseer →[مَآ انزَلْنَا : ہم نے نہیں اتارا ] [عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [الْقُرْاٰنَ : اس قرآن کو ] [لِتَشْقٰٓي : کہ آپ ﷺ سختی میں پڑھیں ]
Read the full tafseer →آسمان اور زمین پیدا کرنے والے کی طرف سے قرآن نازل ہوا ہے جو ڈرنے والوں کے لیے نصیحت ہے
یہاں سے سورة طہٰ کی ابتدا ہو رہی ہے لفظ طہٰ ، الماوردیگر حروف مقطعات کی طرح متشابہات میں سے ہے اس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ صاحب معالم التنزیل ج 3 ص 211 نے مفسر کلبی سے نقل کیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں جب رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے محنت اور مشقت کے ساتھ بہت زیادہ عبادت گزاری شروع فرمائی طویل قیام کی وجہ سے کبھی داہنے پاؤں پر اور کبھی بائیں پاؤں پر کھڑے ہوتے تھے اور ساری رات نماز پڑھتے تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (ما انزلنا علیک القران لتشقی) نازل فرمائی اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تقریر رسالت و وحدانیت
قال اللہ تعالیٰ ۔ طٰہٰ مآ انزلنا علیک القراٰن لتشقٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنٰی
(ربط) گزشتہ سورت کے ختم پر نزول قرآن کا ذکر تھا۔ فانما یسرناہ بلسانک لتبشر بہ المتقین الخ یعنی ہم نے قرآن آپ ﷺ کی زبان یعنی عربی میں اس لیے نازل کیا تاکہ آپ ﷺ کو متقین کی تبشیر اور معاندین کا انداز آسان ہوجائے اب اس سورت کے شروع میں انزال قرآن کی حکمت بیان فرماتے ہیں کہ اس قرآن کے نازل کرنے سے ہمارا مقصود نصیحت اور مرعظت اور بندوں کی ہدایت ہے کہ ان کو زمین اور آسمان کے پیدا کرنے والے کی معرفت حاصل ہو اور سمجھیں کہ لائق عبادت وہی معبود برحق ہے جس کی قدرت اور جس کا علم تمام کائنات کو محیط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ یہ پہلی آیت تشجیع ہے۔ یعنی ہم نے آپ پر قرآن مجید صرف اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑیں اور اس کی وجہ سے مصائب و مشکلات میں مبتلا ہوجائیں۔ اس لیے آپ لوگوں کے نہ ماننے سے غم نہ کریں اور تذکیر و تبلیغ کرتے رہیں۔ ” لِتَشْقٰی “ لتتعب لفرط تاسفک علیھم وعلی کفرھم وتحسرک علی ان لا یؤمنوا (مدارک ج 3 س 37) جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ” فَلَعَلَّکَ بَاخَعٌ نَّفْسَکَ عَلیٰ آٰثَارِھِم “ (کہف رکوع 1) ۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہحضور ﷺ کثرت صلوۃ میں اس قدرتکلیف اٹھاتے کہ آپ کے پاؤں متورم ہوجاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یہ واقعہ اگرچہ اپنی جگہ درست ہے لیکن آیت کی تفسیر کے مناسب وہی بات ہے جو ہم پہلے بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تفسیر : نام اور کوائف :
یہ سورة اپنے پہلے لفظ طٰہٰ کے نام سے موسوم ہے ۔ اس کا عام فہم نام طٰہٰ ہی ہے۔ تاہم مفسر قرآن صاحب روح المعانی سید محمود آلوسی بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سورة کا دوسرا نام کلیم بھی ہے کہ اس سورة مبارکہ میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔ اس سورة کی ایک سو پینتیس آیات اور آٹھ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1301 کلمات اور 5242 حروف پر مشتمل ہے۔
یہ سورة مکی زندگی میں 6 نبوت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ 6 نبوت میں جب مسلمان مہاجرین کا پہلا قافلہ حبشہ پہنچا تو وہاں پر حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے یہ سورة نجاشی بادشاہ کے سامنے تلاوت کی تھی۔ گزشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
طٰہٰ 1ۚ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓي 2ۙ
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : الا تذکرۃ اسثتناء منقطع ہے ای لکن انزلناہ للتذکرۃ وقیل ھو مصدر ای لکن ذکرنا یتذکرۃ۔ تنزیلا بدل من اللفظ بفعلہ الناصب لہ۔ العلی جمع علیا تانیث اعلیٰ ۔ الرحمن بالجر بھی پڑھا ہے صفۃ لمن خلق فیکون علی العرش استویٰ خبراً محذوفاً اے ھو۔ وکذا ان رفع علی المدح دون الابتداء۔
تفسیر : ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مکہ میں ابتدائِ نزول قرآن کے وقت جناب رسول ﷺ تہجد کی نماز میں کبھی اس پائوں پر کبھی اس پائوں پر کھڑے ہو کر اس قدر طویل قیام کرتے تھے کہ قدم مبارک ورم کر آتے تھے جس کو دیکھ کر کفار قریش کہتے تھے کہ اس پر قرآن کیا نازل ہوا زحمت میں پڑگیا۔ اس پر یہ سورة نازل ہوئی اور یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
مَآاَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓی۔ اِلاَّ تَذْکِرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی۔ (طٰـہٰ : 2، 3)
(ہم نے آپ ﷺ پر قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ آپ ﷺ مشقت میں پڑیں۔ یہ تو بس نصیحت ہے، اس کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ )
اس آیت کی مختلف پہلوئوں سے وضاحت
اس آیت کی تفسیر مفسرین نے مختلف پہلوئوں سے کی ہے۔
1 قرآن کریم کی دعوت و تبلیغ کے سلسلہ میں آنحضرت ﷺ پر جو عظیم ذمہ داری ڈالی گئی، آپ ﷺ نے اس کی عظمت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ اس میں صرف کر ڈالا اور اپنی صلاحیتیں اس میں نچوڑ ڈالیں، لیکن جب آپ نے اس قدر محنت و ریاضت کے بعد بھی لوگوں میں اس کی طلب محسوس نہ کی بلکہ مخالفت میں زبانیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
سورۃ طٰہٰ مکہ معظمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب کفار مکہ کا جور و استبداد اپنے عروج پر تھا۔ مسلمانوں کے حوصلے پست ہونے کے قریب تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش کا قدرے تفصیل سے تذکرہ فرمایا ہے تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی کن مشکلات میں دین کا کام کرتے رہے۔
لفظ طٰہٰ بھی حروف مقطعات ہیں۔ حسب عادت کچھ اہل علم نے اس کے بھی مفہوم نقل کیے ہیں۔ جو علمی موشگافیوں کے سوا کچھ نہیں کیونکہ بالآخر وہ بھی ثقہ اہل علم کی طرح یہ لکھنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ اس کا حقیقی مفہوم صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ نبی کریم ﷺ مشکل اور سخت ترین حالات…
Read the full tafseer →قرآن مشقت کے لئے نہیں اتارا :
2: مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ (ہم نے نہیں اتارا تم پر قرآن کو کہ) اگر طہٰ کو اسمائے حروف میں سے شمار کریں تو یہ ابتدائے کلام ہے۔ اور اگر تم اس کو سورت کا نام قرار دو تو پھر اس کے متعلق خبر ہونے کا احتمال ہے اور وہ مبتدا کی جگہ میں ہے اور اس کا جواب بن جائے اور وہ قسم ہو۔ القرآن کو ضمیر کی جگہ ظاہر لائے کیونکہ وہ قرآن ہے۔
لِتَشْقٰی (آپ تھک جائیں) ان پر بہت زیادہ افسوس کرتے ہوئے اور ان کے کفر پر افسوس کرتے ہوئے تھک جائیں۔ نمبر 2۔ ان کے ایمان نہ لانے پر افسوس کرتے ہوے تنگی محسوس کریں۔ نمبر 3۔ قیام لیل کی وجہ سے اپنے آپ کو تھکان پہنچائیں۔ روایت میں ہے کہ آپ…
Read the full tafseer →2۔ ماانزلنا علیک القرآن لتشقی، ، بعض نے کہا کہ جب مشرکین نے آپ کو عبات میں زیادہ مشغول دیکھاتو وہ کہنے لگے ، اے محمد آپ کے اوپر قرآن نازل ہوا ہے آپ کو اس نے مشقت میں ڈال دیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم نے اس قرآن کو آپ کی مشقت کے لیے نازل نہیں فرمایا۔ شقی اصل میں سختی اور تنگی کو کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4:۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ سورة مکی ہے مجاہد کے قول کے موافق طٰہٰ حروف مقطعات میں سے ہے حروف مقطعات کی تفسیر کا ذکر سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب تہجد کی نماز فرض ہوئی تو اللہ کے رسول ﷺ تہجد کی نماز میں یہاں تک کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے پیروں پر ورم آجاتا تھا آپ کا یہ حال دیکھ کر مکہ کے مشرک لوگ کہتے تھے یہ قرآن محمد ﷺ کو محنت اور مشقت میں ڈالنے کے لیے اتارا گیا ہے 1 ؎۔
اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی اس بات کے جواب میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن اللہ تعالیٰ نے تم پر تکلیف اٹھانے کے لیے نہیں اتارا بلکہ یہ قرآن تو ان لوگوں کی نصیحت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1
(طہ) اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ (ما انزلنا علیک القرآن لتشقی) ” نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لئے کہ آپ مشقت میں پڑیں۔ “ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں، (ایاس نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قوی اس پر عمل کرنے سے عاجز ہوجائیں۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوز و فلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام…
Read the full tafseer →1: پیغمبر کے لیے دلنواز تسلی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آپ ﷺ پر ۔ اے پیغمبر !۔ یہ قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ آپ ﷺ مشقت میں پڑجائیں "۔ اس کی تبلیغ اور انذار کے باعث کہ یہ لوگ حق کو مانتے کیوں نہیں۔ سو ایسا نہیں کریں۔ کیونکہ منوانا نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ کا کام تو صرف پہنچا دینا ہے اس پیغام حق و ہدایت کو اور بس۔ پس آپ اس بناء پر اتنی مشقت اور پریشانی میں مبتلا نہ ہوں کہ یہ لوگ مانتے کیوں نہیں ؟ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { فََلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٓیٰ اٰثَارِہِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا } ۔ (الکہف :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نزول قرآن کا مقصد اور صفات باری تعالیٰ
تشریح : کیونکہ آنحضرت ﷺ رات بھر کھڑے ہو کر عبادت کرتے اور قرآن پڑھتے رہتے تو عبادت کا طریقہ اللہ نے یوں مقرر کردیا کہ اس میں میانہ روی اختیار کریں اور اس بات کو خاص طور سے ذہن میں رکھیں کہ آپ کا کام ہے تبلیغ، یعنی اللہ کی دی ہوئی ہدایات لوگوں تک پہنچائیں یہ نہیں کہ رات بھر عبادت کرتے رہیں۔ تو اس کے بعد سے آپ ﷺ رات کے پہلے پہر آرام کرتے اور پچھلے پہر اٹھ کر عبادت کرتے اور دن بھر درس و تدریس اور اشاعت دین میں مشغول رہتے۔ قرآن ایک بہترین ہدایت کی کتاب ہے۔ یہ کتاب کسی معمولی ہستی کی بھیجی ہوئی نہیں۔ یہ کتاب اس رب جلیل، مالک الملک، رب العلمین کی بھیجی ہوئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–24
سورة طہ :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 4 یعنی آپ پر یہ قرآن اس لئے نہیں اتارا گیا کہ آپ اس کی تلاوت کرنے کے لئے سار ساری رات عبادت میں کھڑے رہیں اور اپنے آپ کو تھکا ماریں۔ ہوا یہ … جیسا کہ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جب شروع شروع قرآن اترنے لگا تو رسول اللہ (ﷺ) اور صحابہ کرام قرآن پڑھنے کے خیال سے ساری ساری رات عبادت میں کھڑے رہتے ہیں یہاں تک کہ مشرکین کہنے لگے کہ محمد (ﷺ) پر قرآن کیا اترا، بیچارہ سخت مشقت میں پڑگیا۔ اس پر آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ” ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نہیں اتارا کہ آپ پر کوئی ایسا بار ڈالا جائے جو آپ کے لئے ناقابل برداشت ہو۔ (کبیر)
5 اور جسے خدا کا ڈر نہ ہو اسے صحیح راستہ پر ڈال دینا تمہارے ذمہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
( 20:1) لتشقی۔ لام تعلیل کے لئے ہے تشقی مضارع واحد مذکر حاضر شقاوۃ مصدر۔ (باب سمع) شقاوت۔ سعادت کی ضد ہے۔ اس کے معنی ہیں تکلیف میں پڑنا۔ جیسے فلا یضل ولا یشقی (20:123) نہ وہ بھٹکے گا۔ اور نہ وہ تکلیف میں پڑے گا۔ یا کمبختی جیسے ربنا غلبت علینا شقوتنا (23:106) اے ہمارے رب ہم پر ہماری کم بختی نے زور کیا۔
لتشقی۔ کہ تو مشقت میں پڑے۔ کہ تو تکلیف وتعب اٹھائے۔ اس تکلیف اور تعب کی دو صورتیں ہیں۔
ایک تو آپ کا کافروں کے ردوانکار پر حزن وملال۔ دوم۔ راتوں کو آپ کا قرأت قرآن میں طویل قیام یہاں تک کہ قدم مبارک متورم ہوجاتے ۔ پہلی صورت میں آیت کا مطلب ہوگا :۔
کہ کفار کے راہ حق کو تسلیم نہ کرنے پر اس قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8
تشقی تو مشقت اٹھاتا ہے۔ تذکرۃ دھیان اور توجہ دینے کی چیز۔ یخشی وہ ڈرتا ہے۔ العلی بلند وبالا۔ استوی وہ برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ الثریٰ گیلی مٹی۔ السر بھید، دل میں چھپی بات۔ اخفی بہت زیادہ پوشیدہ، چھپا ہوا۔ اسماء الحسنی بہترین نام۔
تشریح :- آیت نمبر 1 تا 8
اس سورت کو بھی ” حروف مقطعات ‘ ‘ سے شروع کیا گیا ہے۔ جن حروف کے معنی کا علم اور اس کا بھید اللہ کو معلوم ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو تمام انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل کیا ہے تاکہ اس کے وہ بندے جو محتاط، خوف الٰہی سے سرشار اور زندگی کے ہر معاملے میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں ان کو صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
خواص سورة طٰہ : اکیس مرتبہ اس سورت کو پڑھنا لڑکیوں کے نکاح کے واسطے نہایت مفید ہے رشتہ جلد پیدا ہوجائے گا ۔ اس سورة کو زعفران ومشک سے طشتری پر لکھ کر پینے سے حاکم کے روبرو روز بروز مرتبہ مرتبہ بڑھتا رہے گا۔
شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب تہجد کی نماز فرض ہوئی تو اللہ کے رسول ﷺ تہجد کی نماز میں یہاں تک کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے قدم مبارک پر ورم آجاتا تھا۔ آپ کا یہ حال دیکھ کر مکہ کے مشرک لوگ کہتے تھے :” یہ قرآن محمد ﷺ کو محنت ومشقت میں ڈالنے کے لئے اتارا گیا ہے “۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی اس بات کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی کہ اے محبوب ﷺ ! یہ قرآن اللہ تعالیٰ نے تم پر تکلیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
[1] یعنی آپ تکذیب کرنے والوں کی باتیں سن کر ملول اور تنگ دل نہ ہوں اور نہ ان کے پیچھے پڑ کر تکلیف اٹھائیں۔
Read the full tafseer →2 حروف مقطعات کی ابتداء میں ہم بحث کرچکے ہیں کہ ان کے معنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے ہم نے یہ قرآن کریم آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ محنت میں پڑجائیں اور تکلیف اٹھائیں۔
Read the full tafseer →اے پیغمبراسلام ! قرآن کریم کا نزول آپ کو رنج و محنت میں ڈالنا نہیں :
2۔ بلاشبہ ہمارے مفسرین نے اس جگہ اس کی وجہ یہی بیان کی ہے آپ ﷺ بعثت کے بعد راتوں کو بڑا بڑا لمبا قیام کرتے تھے یہاں کہ آپ ﷺ کے پاؤں سوج جاتے اور پاؤں سوجنے کے باعث کبھی ایک پاؤں پر وزن ڈالتے اور کبھی دوسرے پر اور اس مشقت سے آپ ﷺ کو روکا گیا ہے اور بعض روایات بھی اس کی تصدیق میں بیان کی گئی ہیں لیکن آپ ﷺ کا لمبا قیام صحیح تاہم اس جگہ حقیقت یہ نہیں جو اس جگہ بیان کی گئی ۔ یہ سورت بالاتفاق سورة مریم کے بعد نازل ہوئی ہے اور مکی عہد کے وسطی تنزیلات میں سے ہے اور یہ زمانہ تاریخ دعوت کا سب سے زیادہ پر آشوب زمانہ تھا کیونکہ انکار…
Read the full tafseer →مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَىٰ (We did not reveal the Qur'an to you to [ make you ] face hardship - 20:2) The word لِتَشْقَىٰ is derived from شقاء which means pain and distress. In the early days of Islam when the Qur'an was first revealed, the Holy Prophet ﷺ and his Companions ؓ used to spend whole nights in prayers and in reciting the Qur'an, as a result of which his feet used to get swollen due to standing for long hours in the prayers. Whereas during day time he would worry himself on how to bring light to the infidels in order that they should accept the teachings of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1. This verse makes plain the meaning of the previous one. The object of the revelation of the Quran is not to make the Prophet (peace be upon him) do something impossible and to put him to unnecessary distress by demanding from him to imbue the hearts of the obdurate people with faith, but to admonish those people who have fear of Allah. Therefore the Prophet (peace be upon him) should not waste his efforts on those people who have no fear of God left in them, and who do not bother at all about what is truth and what is falsehood.
Read the full tafseer →