Taa-Haa 20:1

20. Taa-Haaطه

Taa-Haa · Meccan · 135 ayahs · 8 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

20:1

طٰهٰ ۟ۚطٰهٰ‌

طہٰ

— Fateh Muhammad Jalandhari

Ta, Ha.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:1

Tafseer of 20:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے۔ سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہوچکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہ سے اے شخص ہے کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ حضور ﷺ نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری یعنی طہ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل حضور ﷺ نے اور آپ کے صحابہ نے شروع کردیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑگئے اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة طٰهٰ 1 یہ فقرہ پہلے فقرے کے مفہوم پر خود روشنی ڈالتا ہے۔ دونوں کو ملا کر پڑھنے سے صاف مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کو نازل کر کے ہم کوئی اَنْہونا کام تم سے نہیں لینا چاہتے۔ تمہارے سپرد یہ خدمت نہیں کی گئی ہے کہ جو لوگ نہیں ماننا چاہتے ان کو منوا کر چھوڑو اور جن کے دل ایمان کے لیے بند ہوچکے ہیں ان کے اندر ایمان اتار کر ہی رہو۔ یہ تو بس ایک تذکیر اور یاد دہانی ہے اور اس لیے بھیجی گئی ہے کہ جس کے دل میں خدا کا کچھ خوف ہو وہ اسے سن کر ہوش میں آجائے۔ اب اگر کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں خدا کا کچھ خوف نہیں، اور جنہیں اس کی کچھ پروا نہیں کہ حق کیا ہے، اور باطل کیا، ان کے پیچھے پڑنے کی تمہیں کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

سورة طہٰ سورة طہ مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی ایک سو پینتیس آیتیں ہیں اور آٹھ رکوع اس سورت کا دوسرا نام سورة کلیم بھی ہے (کما ذکر السخاوی) وجہ یہ ہے کہ اس میں حضرت کلیم اللہ موسیٰ ؑ کا واقعہ مفصل مذکور ہے۔ مسند دارمی میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کرنے سے بھی دو ہزار سال پہلے سورة طہٰ و یٰسن پڑھی (یعنی فرشتوں کو سنائی) تو فرشتوں نے کہا کہ بڑی خوش نصیب اور مبارک ہے وہ امت جس پر یہ سورتیں نازل ہوں گی اور مبارک ہیں وہ سینے جو ان کو حفظ رکھیں گے اور مبارک ہیں وہ زبانیں جو ان کو پڑھیں گی، یہی وہ مبارک سورت ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے قتل کا تہیہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

طٰہٰ (1) یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ ان حروف پر مفصل بحث سورة بقرہ کے شروع میں دیکھئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے قرآن اس لئے نہیں اتارا کہ تو ان کے کفر پر کثرت افسوس اور ان کے عدم ایمان پر حسرت سے اپنے آپ کو مشقت میں ڈال لے اور غم میں پڑجائے جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے۔ (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الکہف :6) پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو کیا ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے بلکہ ہم نے تو قرآن کو نصیحت اور یاد دہانی کے لیے اتارا ہے تاکہ ہر انسان کے تحت الشعور میں ہماری توحید کا جو جذبہ چھپا ہوا ہے۔ واضح اور نمایاں ہوجائے گویا یہاں شقآء عنآء اور تعب کے معنی میں ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

1: بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ طٰہٰ رسول کریم ﷺ کے اسمائے گرامی میں سے ایک نام ہے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ ان حروف مقطعات میں سے ہے جو مختلف سورتوں کے شروع میں آئے ہیں اور ان کے ٹھیک ٹھیک معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

سورة طہ بسم اللہ الرحمن الرحیم طہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنی (1 : 8) ” “۔ نہایت ہی نرم و نازک اور تروتازہ آغاز ہے ‘ حروف مقطعات طا۔ ہا۔ اشارہ یہی ہے کہ یہ وپری سورة ایسے ہی حروف مقطعات سے مرکب ہے۔ جس طرح یہ قرآن ایسے ہی حروف سے مرکب ہے جیسا کہ دوسری سورتوں کے آغاز میں بھی یہی اشارہ ان حروف کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ یہاں جو دو حروف چنے گئے ہیں ان میں ایک مزید یہ اشارہ بھی پیش نظر ہے کہ انکے تلفظ کے آخر میں الف مقصورہ آتا ہے جس طرح اس پوری سورة میں فواصل الف مقصورہ پر ختم ہوتے ہیں۔ حروف مقطعات کے بعد قرآن کریم کا ذکر آتا ہے ‘ جس طرح پورے قرآن میں جس سورة کا آغازحروف مقطعات سے ہوتا ہے ‘ ان کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

6 یعنی قرآن کریم اس لیے اتارا گیا ہے کہ جن کے دل نرم ہوں اور خدا سے ڈرتے ہوں، وہ اس کے بیانات سے نصیحت حاصل کریں اور روحانی فیوض و برکات سے محروم نہ رہیں۔ یہ غرض نہیں کہ قرآن نازل کر کے خواہ مخواہ تم کو کسی محنت شاقہ اور تکلیف شدت میں مبتلا کیا جائے۔ نہ وہ ایسی چیز ہے جس کا حامل و عامل کبھی محروم و ناکام رہے۔ آپ تکذیب کرنے والوں کی باتیں سن کر ملول اور تنگدل نہ ہوں۔ نہ ان کے پیچھے پڑ کر زیادہ تکلیف اٹھائیں۔ حق کا علمبردار ہی آخر کامیاب ہو کر رہے گا۔ آپ توسط کے ساتھ عبادت کرتے رہیئے۔ بعض روایات میں ہے کہ ابتداء نبی کریم ﷺ شب کو نماز میں کھڑے ہو کر بہت زیادہ قرآن پڑھتے تھے۔ کفار آپ کی محنت و…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 یہ سورت سورة مریم کے بعد بلکہ ہجرت حبشہ کے بعد نازل ہوئی تھی اور ہجرت حبشہ سن 5 نبوی میں ہوئی تھی۔ نیز یہ سورة سیدنا عمر کے اسلام لانے سے پہلے نازل ہوئی تھی، عام روایت کے مطابق یہی سورت سن کر سیدنا عمر کے دل میں اسلام جاگزیں ہوا تھا اور سیدنا عمر سن 6 نبوی میں اسلام لائے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ حروف مقطعات میں سے ہے اصل معنی تو اللہ ہی کو معلوم۔ ملاحظہ ہو سورة بقر کے شروع کا حاشیہ۔ البتہ حضرت ابن عباس ؓ اور متعدد تابعی حضرات سے اس کے معنی یارج (اے شخص ! ) کے مختلف زبانوں کے لحاظ سے مروی ہیں۔ معناہ یا رجل وھو مروی عن ابن عباس ؓ والحسن و مجاھد و سعید بن جبیر وقتادۃ وعکرمہ والکلبی (کبیر) اور حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ کافروں نے یہ کہنا شروع بھی کیا تھا کہ یہ شخص مصیبت میں پڑگیا۔ فان قومہ قالوا لقد شقی ھذا الرجل (ابن جریر) اس لئے یہ معنی سیاق پر زیادہ چسپاں ہیں۔ سعید بن جبیر سے یہ قول بھی مروی ہے کہ یہ اسم الطیب الطاھر الھادی کا مخفف ہے (کبیر) اور حضرت ابن عباس ؓ سے یہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے طٰہٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے اے محمد ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں یعنی تعب میں پڑجائیں اس طرز عمل سے جو آپ نے نزول قرآن کے بعد اختیار کیا رات کی نماز (تہجد) میں طول قیام کے ذریعہ، مطلب یہ کہ (تخفیف کرکے) اپنے اوپر بار کم ڈالئے بلکہ ہم نے قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خوف خدا رکھتا ہو یہ اس ذات کی جانب سے نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ تنزیلاً اپنے فعل ناصب (انزلناہ) کے عوض میں ہے عُلیٰ عُلْیَا کی جمع ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

طہ ط اور ہ حروف کے نام ہیں اس کی بحث سورة بقرہ کے شروع میں مفصل گزر چکی ہے۔ بعض کے نزدیک اللہ کا نام ہے اور اس جگہ اس کا ذکر بطور قسم ہے (یعنی طہ کی قسم جیسے رسول اللہ نے فرمایا تھا خم لا یُنْصَرُوْنَ (حم کی قسم ان کافروں کی مدد نہیں کی جائے گی یہ فتحیاب نہیں ہوں گے) ابو داؤد ترمذی نسائی اور حاکم نے حضرت براء بن عازب کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خندق کی رات کو فرمایا حٰم لَا یُنْصَرُوْن۔ مقاتل بن حبان نے کہا طہٰ کا معنی ہے زمین کو اپنے دونوں قدموں سے پامال کرو۔ یعنی تہجد کی نماز میں (دونوں پاؤں زمین پر قائم رکھو) ابن مردویہ نے تفسیر میں اور بزار نے حضرت علی کی روایت سے بیان کیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(1۔ 2۔ 3) یہ قرآن کریم آپ پر ہم نے اس لیے نہیں اتارا کہ آپ تکلیف اٹھائیں بلکہ ایسے شخص کی نصیحت کے لیے جو کہ مطیع وفرمانبردار ہو، یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی اور اس وقت آپ رات کو تہجد میں اس قدر دیر تک قیام فرماتے تھے کہ قدم مبارک تک ورم آجاتا تھا تو اس آیت مبارکہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آپ پر آسانی فرما دی، یعنی اے محمد ﷺ یہ قرآن کریم آپ پر بذریعہ جبریل امین اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ خود کو تکلیف دیں، طہ کے معنی مکی اصطلاح میں اے آدمی کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

طٰهٰ : ظاہر یہی ہے کہ یہ حروف مقطعات میں سے ہیں، کیونکہ یہ دونوں حرف دوسری جگہ مقطعات میں استعمال ہوئے ہیں، ”طا“ ”طٰسۗمّۗ“ (شعراء) میں اور ”ہا“ ”كۗهٰيٰعۗصۗ“ (مریم) میں۔ مقطعات کی تفسیر کے لیے سورة بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر دیکھیے۔ عبد الرزاق نے اپنی صحیح سند کے ساتھ قتادہ اور حسن کا قول نقل کیا ہے کہ ”طٰهٰ“ کا معنی ہے ”یَا رَجُلُ !“ اے آدمی ! کیونکہ قبیلہ بنوعک میں یہ ` لفظ اس معنی میں بولا جاتا تھا، مگر پہلی بات زیادہ صحیح ہے، کیونکہ قرآن مجید قریش کی لغت میں نازل ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(تفسیر 1-8) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : طہٰ ۔ اس کے معنی میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت سیدنا ابوبکر ؓ نے کہا : یہ اسرار میں سے ہے ؛ غزنوی نے یہ ذکر کیا ہے۔ حضرت ابن عبب اس ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے یا رجل (اے شخص) یہ بیہقی نے ذکر کیا ہے۔ بعض نے فرمایا : عکل قبیلہ کی معرفت لغت ہے۔ بعض نے فرمایا : عک قبیلہ کی لغت ہے۔ کلبی نے کہا : اگر عک قبیلہ کے کسی شخص کو یارجل کہے گا تو جواب نہیں دے گا حتیٰ کہ توطہ کہے۔ طبری نے اس کے متعلق ایک شعر لکھا ہے۔ دعوت بطہ فی القتال فلم یجب فخفت علیہ ان یکون موائلا (1) اس شعر میں موئلا کی جگہ مزایلا بھی مروی ہے۔ عبداللہ بن عمرو نے کہا : عک قبیلہ کی لغت میں اس کا معنی ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1:۔ ابن منذر ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب شروع میں وحی کا نزول ہوا تو آپ نماز میں اپنے قدموں کے اگلے حصوں پر کھڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “ نزول قرآن آپ (علیہ السلام) کے لئے باعث مشقت نہیں : 2:۔ ابن مردویہ اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کفار نے کہا یہ آدمی اپنے رب کی طرف سے مشقت میں پڑگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “ 3:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تھے تو رسی سے اپنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

تقریر رسالت و وحدانیت قال اللہ تعالیٰ ۔ طٰہٰ مآ انزلنا علیک القراٰن لتشقٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنٰی (ربط) گزشتہ سورت کے ختم پر نزول قرآن کا ذکر تھا۔ فانما یسرناہ بلسانک لتبشر بہ المتقین الخ یعنی ہم نے قرآن آپ ﷺ کی زبان یعنی عربی میں اس لیے نازل کیا تاکہ آپ ﷺ کو متقین کی تبشیر اور معاندین کا انداز آسان ہوجائے اب اس سورت کے شروع میں انزال قرآن کی حکمت بیان فرماتے ہیں کہ اس قرآن کے نازل کرنے سے ہمارا مقصود نصیحت اور مرعظت اور بندوں کی ہدایت ہے کہ ان کو زمین اور آسمان کے پیدا کرنے والے کی معرفت حاصل ہو اور سمجھیں کہ لائق عبادت وہی معبود برحق ہے جس کی قدرت اور جس کا علم تمام کائنات کو محیط…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

تفسیر : نام اور کوائف : یہ سورة اپنے پہلے لفظ طٰہٰ کے نام سے موسوم ہے ۔ اس کا عام فہم نام طٰہٰ ہی ہے۔ تاہم مفسر قرآن صاحب روح المعانی سید محمود آلوسی بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سورة کا دوسرا نام کلیم بھی ہے کہ اس سورة مبارکہ میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔ اس سورة کی ایک سو پینتیس آیات اور آٹھ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1301 کلمات اور 5242 حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں 6 نبوت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ 6 نبوت میں جب مسلمان مہاجرین کا پہلا قافلہ حبشہ پہنچا تو وہاں پر حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے یہ سورة نجاشی بادشاہ کے سامنے تلاوت کی تھی۔ گزشتہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–2

طٰہٰ۝ 1ۚ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓي۝ 2ۙ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : الا تذکرۃ اسثتناء منقطع ہے ای لکن انزلناہ للتذکرۃ وقیل ھو مصدر ای لکن ذکرنا یتذکرۃ۔ تنزیلا بدل من اللفظ بفعلہ الناصب لہ۔ العلی جمع علیا تانیث اعلیٰ ۔ الرحمن بالجر بھی پڑھا ہے صفۃ لمن خلق فیکون علی العرش استویٰ خبراً محذوفاً اے ھو۔ وکذا ان رفع علی المدح دون الابتداء۔ تفسیر : ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مکہ میں ابتدائِ نزول قرآن کے وقت جناب رسول ﷺ تہجد کی نماز میں کبھی اس پائوں پر کبھی اس پائوں پر کھڑے ہو کر اس قدر طویل قیام کرتے تھے کہ قدم مبارک ورم کر آتے تھے جس کو دیکھ کر کفار قریش کہتے تھے کہ اس پر قرآن کیا نازل ہوا زحمت میں پڑگیا۔ اس پر یہ سورة نازل ہوئی اور یہ بھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

طٰـہٰ ۔ (طٰـہٰ : 1) (یہ سورت طٰہٰ ہے۔ ) طٰـہٰ کا مفہوم (طٰہٰ … حروفِ مقطعات میں سے ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں علمائے تفسیر کے اقوال بہت ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ قبیلہ عکل اور قبیلہ عکّ کے نزدیک اس کا معنی ہے یارجل، یعنی اے شخص۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو ( رض) سے روایت ہے۔ آپ ( رض) نے فرمایا کہ قبیلہ عکّ میں طٰہٰ بمعنی یاحبیبی، یعنی اے میرے حبیب استعمال ہوتا ہے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک یہ اسمائے حسنیٰ میں سے ہے۔ بعض روایاتِ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ طٰہٰ اور یٰسین آنحضرت ﷺ کے اسمائے گرامی میں سے ہیں، لیکن بےغبار بات جو اس سلسلے میں کہی جاسکتی ہے وہ وہی ہے جو حضرت صدیق اکبر ( رض) اور جمہور علماء نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن سورۃ طٰہٰ مکہ معظمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب کفار مکہ کا جور و استبداد اپنے عروج پر تھا۔ مسلمانوں کے حوصلے پست ہونے کے قریب تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش کا قدرے تفصیل سے تذکرہ فرمایا ہے تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی کن مشکلات میں دین کا کام کرتے رہے۔ لفظ طٰہٰ بھی حروف مقطعات ہیں۔ حسب عادت کچھ اہل علم نے اس کے بھی مفہوم نقل کیے ہیں۔ جو علمی موشگافیوں کے سوا کچھ نہیں کیونکہ بالآخر وہ بھی ثقہ اہل علم کی طرح یہ لکھنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ اس کا حقیقی مفہوم صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ نبی کریم ﷺ مشکل اور سخت ترین حالات…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1: طٰہٰ قراءت : طاء کو استعلاء کی وجہ سے تفخیم سے اور ھاء کو امالہ سے ابو عمرو نے پڑھا ہے۔ حمزہ، علی، خلف و ابوبکر نے دونوں میں امالہ کیا دیگرقراء نے دونوں میں تفخیم کی ہے۔ حسن و مجاہد ضحاک وعطاء کا جو قول مروی ہے کہ اس کا معنی یا رجل ہے۔ اگر یہ قول صحیح ہے تو ظاہر ہے۔ ورنہ حق بات وہی ہے جو ہم سورة بقرہ کی ابتداء میں رقم کرچکے فلیر اجع الیہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1۔ طہ، ، ابوعمرو نے طاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور ھاء کے کسرہ کے ساتھ۔ حمزہ، کسائی ، ابوبکر نے دونوں کے کسرہ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور دوسرے قراء نے دونوں کے فتحہ کے ساتھ پڑھاے۔ بعض نے کہا کہ یہ لفظ قسم ہے بعض نے کہا کہ اللہ کے اسماء میں سے ہے۔ مجاہد عطائ، ضحاک کا قول ہے کہ ، طہ کا معنی ہے اے مرد۔ قتادہ نے کہا کہ سریانی زبان میں اس کا معنی ہے اے مرد۔ کلبی کا قول ہے کہ قبیلہ عک کے محاورے میں، طہ، ، کا ترجمہ ہے اے انسان۔ مقاتل کا بیان ہیے کہ طہ کا معنی ہے زمین کو اپنے دونوں قدموں سے پامال کردو یعنی تہجد کی نماز میں ۔ محمد بن کعب قرظی کا قول ہے کہ یہ قسم ہے جو اللہ تعالیٰ نے اٹھائی ہے۔ سعید بن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4:۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ سورة مکی ہے مجاہد کے قول کے موافق طٰہٰ حروف مقطعات میں سے ہے حروف مقطعات کی تفسیر کا ذکر سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب تہجد کی نماز فرض ہوئی تو اللہ کے رسول ﷺ تہجد کی نماز میں یہاں تک کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے پیروں پر ورم آجاتا تھا آپ کا یہ حال دیکھ کر مکہ کے مشرک لوگ کہتے تھے یہ قرآن محمد ﷺ کو محنت اور مشقت میں ڈالنے کے لیے اتارا گیا ہے 1 ؎۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی اس بات کے جواب میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن اللہ تعالیٰ نے تم پر تکلیف اٹھانے کے لیے نہیں اتارا بلکہ یہ قرآن تو ان لوگوں کی نصیحت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 (طہ) اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ (ما انزلنا علیک القرآن لتشقی) ” نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لئے کہ آپ مشقت میں پڑیں۔ “ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں، (ایاس نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قوی اس پر عمل کرنے سے عاجز ہوجائیں۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوز و فلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

نزول قرآن کا مقصد اور صفات باری تعالیٰ تشریح : کیونکہ آنحضرت ﷺ رات بھر کھڑے ہو کر عبادت کرتے اور قرآن پڑھتے رہتے تو عبادت کا طریقہ اللہ نے یوں مقرر کردیا کہ اس میں میانہ روی اختیار کریں اور اس بات کو خاص طور سے ذہن میں رکھیں کہ آپ کا کام ہے تبلیغ، یعنی اللہ کی دی ہوئی ہدایات لوگوں تک پہنچائیں یہ نہیں کہ رات بھر عبادت کرتے رہیں۔ تو اس کے بعد سے آپ ﷺ رات کے پہلے پہر آرام کرتے اور پچھلے پہر اٹھ کر عبادت کرتے اور دن بھر درس و تدریس اور اشاعت دین میں مشغول رہتے۔ قرآن ایک بہترین ہدایت کی کتاب ہے۔ یہ کتاب کسی معمولی ہستی کی بھیجی ہوئی نہیں۔ یہ کتاب اس رب جلیل، مالک الملک، رب العلمین کی بھیجی ہوئی ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–24

سورة طہ : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 4 یعنی آپ پر یہ قرآن اس لئے نہیں اتارا گیا کہ آپ اس کی تلاوت کرنے کے لئے سار ساری رات عبادت میں کھڑے رہیں اور اپنے آپ کو تھکا ماریں۔ ہوا یہ … جیسا کہ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جب شروع شروع قرآن اترنے لگا تو رسول اللہ (ﷺ) اور صحابہ کرام قرآن پڑھنے کے خیال سے ساری ساری رات عبادت میں کھڑے رہتے ہیں یہاں تک کہ مشرکین کہنے لگے کہ محمد (ﷺ) پر قرآن کیا اترا، بیچارہ سخت مشقت میں پڑگیا۔ اس پر آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ” ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نہیں اتارا کہ آپ پر کوئی ایسا بار ڈالا جائے جو آپ کے لئے ناقابل برداشت ہو۔ (کبیر) 5 اور جسے خدا کا ڈر نہ ہو اسے صحیح راستہ پر ڈال دینا تمہارے ذمہ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 1–2

( 20:1) لتشقی۔ لام تعلیل کے لئے ہے تشقی مضارع واحد مذکر حاضر شقاوۃ مصدر۔ (باب سمع) شقاوت۔ سعادت کی ضد ہے۔ اس کے معنی ہیں تکلیف میں پڑنا۔ جیسے فلا یضل ولا یشقی (20:123) نہ وہ بھٹکے گا۔ اور نہ وہ تکلیف میں پڑے گا۔ یا کمبختی جیسے ربنا غلبت علینا شقوتنا (23:106) اے ہمارے رب ہم پر ہماری کم بختی نے زور کیا۔ لتشقی۔ کہ تو مشقت میں پڑے۔ کہ تو تکلیف وتعب اٹھائے۔ اس تکلیف اور تعب کی دو صورتیں ہیں۔ ایک تو آپ کا کافروں کے ردوانکار پر حزن وملال۔ دوم۔ راتوں کو آپ کا قرأت قرآن میں طویل قیام یہاں تک کہ قدم مبارک متورم ہوجاتے ۔ پہلی صورت میں آیت کا مطلب ہوگا :۔ کہ کفار کے راہ حق کو تسلیم نہ کرنے پر اس قدر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8 تشقی تو مشقت اٹھاتا ہے۔ تذکرۃ دھیان اور توجہ دینے کی چیز۔ یخشی وہ ڈرتا ہے۔ العلی بلند وبالا۔ استوی وہ برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ الثریٰ گیلی مٹی۔ السر بھید، دل میں چھپی بات۔ اخفی بہت زیادہ پوشیدہ، چھپا ہوا۔ اسماء الحسنی بہترین نام۔ تشریح :- آیت نمبر 1 تا 8 اس سورت کو بھی ” حروف مقطعات ‘ ‘ سے شروع کیا گیا ہے۔ جن حروف کے معنی کا علم اور اس کا بھید اللہ کو معلوم ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو تمام انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل کیا ہے تاکہ اس کے وہ بندے جو محتاط، خوف الٰہی سے سرشار اور زندگی کے ہر معاملے میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں ان کو صحیح…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

خواص سورة طٰہ : اکیس مرتبہ اس سورت کو پڑھنا لڑکیوں کے نکاح کے واسطے نہایت مفید ہے رشتہ جلد پیدا ہوجائے گا ۔ اس سورة کو زعفران ومشک سے طشتری پر لکھ کر پینے سے حاکم کے روبرو روز بروز مرتبہ مرتبہ بڑھتا رہے گا۔ شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب تہجد کی نماز فرض ہوئی تو اللہ کے رسول ﷺ تہجد کی نماز میں یہاں تک کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے قدم مبارک پر ورم آجاتا تھا۔ آپ کا یہ حال دیکھ کر مکہ کے مشرک لوگ کہتے تھے :” یہ قرآن محمد ﷺ کو محنت ومشقت میں ڈالنے کے لئے اتارا گیا ہے “۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی اس بات کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی کہ اے محبوب ﷺ ! یہ قرآن اللہ تعالیٰ نے تم پر تکلیف…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

طہ کے حروف حروف مقطعات میں سے ہیں یا نہیں ؟ 1۔ طہ کے حروف بلاشبہ حروف مقطعات سے ہیں اور اسی طرح ان کا تلفظ ہے جس طرح باقی حروف مقطعات کا ہے یہ دو حرف ہیں اور بعض سورتوں پر ایک حرف بھی آیا ہے جیسے (ن ٓ) (ق) وغیرہ ۔ یہ شبہ کیوں وارد ہوا کہ یہ دونوں حروف مقطعات میں سے ہیں ؟ اس لئے کہ ان کو محمد رسول اللہ ﷺ کے اسمائے گرامی میں شامل کیا گیا ہے جس طرح (یس) کے حروف کو بھی آپ کے ناموں میں شامل سمجھا گیا ہے ۔ مفسرین نے باقی حروف مقطعات کے معنی بیان کرے کی بھی سعی کی ہے اور اسی طرح ان دونوں حروف کے معنی بھی بیان کئے ہیں لیکن جس طرح ہر جگہ ان کے معنی ہمارے نزدیک صحیح نہیں اسی طرح یہاں بھی صحیح نہیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary طه (Ta-Ha) Many Commentators have assigned different meanings to this word. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ thinks it means یا رجُل (0 man! ) while according to Ibn ` Umar ؓ it means یا حبیبی (0 my Dear! ). It is also suggested that طه and یٰسین are the names of the Holy Prophet ﷺ . However the most obvious explanation is the one given by Sayyidna Abu Bakr ؓ and the majority of scholars, namely that like many other isolated letters appearing at the beginning of several chapters of the Qur’ an (such as الٓمٓ), this word is also among the مُتَشابِھَات mysteries whose meaning is known only to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1. This verse makes plain the meaning of the previous one. The object of the revelation of the Quran is not to make the Prophet (peace be upon him) do something impossible and to put him to unnecessary distress by demanding from him to imbue the hearts of the obdurate people with faith, but to admonish those people who have fear of Allah. Therefore the Prophet (peace be upon him) should not waste his efforts on those people who have no fear of God left in them, and who do not bother at all about what is truth and what is falsehood.

Read the full tafseer →