Maryam 19:98

Maryam · from ayah 98

19:98

وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ ؕ— هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا ۟۠وَكَمۡ اَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍؕ هَلۡ تُحِسُّ مِنۡهُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَوۡ تَسۡمَعُ لَهُمۡ رِكۡزًا

اور ہم نے اس سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کردیا ہے۔ بھلا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا (کہیں) ان کی بھنک سنتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And how many have We destroyed before them of generations? Do you perceive of them anyone or hear from them a sound?

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 6 of surah · Ruku 9 of juzع

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:98

ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں، پھر آج کہیں تم ان کا نشان پاتے ہو یا اُن کی بھنک بھی کہیں سنائی دیتی ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے اس سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کردیا ہے۔ بھلا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا (کہیں) ان کی بھنک سنتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے ان سے پہلے بہت سی جماعتیں تباہ کر دی ہیں، کیا ان میں سے ایک کی بھی آہٹ تو پاتا ہے یا ان کی آواز کی بھنک بھی تیرے کان میں پڑتی ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ کیا تمہیں ٹٹولنے سے بھی ان میں سے کسی کا پتہ ملتا ہے، یا ان میں سے کسی کی بھنک بھی تمہیں سنائی دیتی ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں (قومیں ہلاک کیں) کیا تم ان میں کسی کو دیکھتے ہو یا ان کی بھنک (ذرا بھی آواز) سنتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر دیا ہے، کیا آپ ان میں سے کسی کا وجود بھی دیکھتے ہیں یا کسی کی کوئی آہٹ بھی سنتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کردیا، کیا تو ان میں سے کسی ایک کو محسوس کرتا ہے، یا ان کی کوئی بھنک سنتا ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم ان سے پہلے کئی قومیں ہلاک کرچکے ہیں۔ کیا آپ ان میں سے کسی کا نشان پاتے ہیں یا ان میں سے کسی کی بھنک بھی آپ کو سنائی دیتی ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم نے ہلاک کر چھوڑا۔ کیا تم ان میں سے کسی کو محسوس کرتے ہو یا ان کی کوئی آہٹ سنتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (یہ بھی ان کو بتادیں کہ) ہم ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو تباہ کرچکے ہیں، (اور اس طرح کہ ان کا نام ونشان مٹا کر رکھ دیا) کیا تم ان میں سے کسی کو بھی دیکھتے ہو ؟ یا ان کی کوئی بھنک بھی سن سکتے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے اس کے قبل کتنے ہی گروہوں کو ہلاک کردیا۔ سو آپ ان میں سے کسی کو بھی دیکھتے ہیں ؟ یا ان کی آہستہ آواز بھی سنتے ہیں ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا۔ کیا آپ محسوس کرتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی یا آپ ﷺ سنتے ہیں ان کی کوئی بھنک بھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کردیا ہے بھلا آپ ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا کہیں ان کی بھنک سنتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

How numerous are the peoples that We destroyed before them! Do you now perceive any one of them, or hear even their whisper?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And how many a generation We have destroyed before them! Do you sense (the presence of) any one of them, or hear from them even a whisper?

— Muhammad Taqi Usmani

And how many a generation We have destroyed before them! Do you sense (the presence of) any one of them, or hear from them even a whisper?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And how many a generation before them have We destroyed! Can you find a single one of them or hear even a whisper of them

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And how many a generation before them have We destroyed! Canst thou (Muhammad) see a single man of them, or hear from them the slightest sound?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And how many have We destroyed before them of generations? Do you perceive of them anyone or hear from them a sound?

— Saheeh International

How many generations living before them did We destroy? Do you find anyone of them around or do you even hear any word from them?

— Muhammad Sarwar

And how many a generation have We destroyed before them! Do you see any one of them or hear a sound of them?

— Muhammad Habib Shakir

And how many a generation have We destroyed before them! Perceivest thou of them anyone or hear of them a whisper? *Chapter: 20

— Abdul Majid Daryabadi

But how many (countless) generations before them have We destroyed? Canst thou find a single one of them (now) or hear (so much as) a whisper of them?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:98

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 96–98

اللہ تعالیٰ کا امین فرشتہ۔ فرمان ہے کہ جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کردیں گے۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو حضرت جبرائیل ؑ کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ۔ اللہ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے پھر آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے تو جبرائیل ؑ سے فرماتا ہے کہ اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 96–98

سورة مَرْیَم 53 یعنی آج مکہ کی گلیوں میں وہ ذلیل و رسوا کیے جارہے ہیں۔ مگر یہ حالت دیر پا نہیں ہے۔ قریب ہے وہ وقت جبکہ اپنے اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کی وجہ سے وہ محبوب خلائق ہو کر رہیں گے۔ دل ان کی طرف کھنچیں گے۔ دنیا ان کے آگے پلکیں بچھائے گی۔ فسق و فجور، رعونت اور کبر، جھوٹ اور ریا کاری کے بل پر جو سیادت قیادت چلتی ہو وہ گردنوں کو چاہے جھکالے، دلوں کو مسخر نہیں کرسکتی۔ اس کے برعکس جو لوگ صداقت، دیانت، اخلاص اور حسن اخلاق کے ساتھ راہ راست کی طرف دعوت دیں، ان سے اول چاہے دنیا کتنی ہی اپرائے، آخر کار وہ دلوں کو موہ لیتے ہیں اور بد دیانت لوگوں کا جھوٹ زیادہ دیر تک ان کا راستہ روکے نہیں رہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا، رکز وہ مخفی آواز ہے جو سمجھ میں نہ آئے جیسے مرنے والے کی زبان لڑکھڑانے کے بعد جو آواز ہوتی ہے مطلب آیت کا یہ ہے کہ یہ سب حکومت و سلطنت والے اور شوکت و حشمت اور طاقت و قوت والے جب اللہ کے عذاب میں پکڑے گئے اور فنا کئے گئے تو ایسے ہوگئے کہ ان کی کوئی مخفی آواز اور حس و حرکت بھی سنائی نہیں دیتی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۔ " رکز " کے معنی آہٹ، سن گن اور کھٹکے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنا فرض انذار وتبشیر ادا کردو۔ جو لوگ تمہاری بات نہیں سنیں گے، وہ اپنا انجام خود دیکھیں گے۔ تاریخ میں ان کے لیے کافی سامانِ عبرت موجود ہے۔ ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہمارے عذاب کی زد میں آچکی ہیں تو کیا تم آج ان میں سے کسی کی کہیں بو بھی محسوس کرتے ہو یا ان کی کہیں آہٹ بھی سنتے ہو ! اسی طرح یہ بھی تمہاری تکذیب کی پاداش میں بےنام و نشان ہوجائیں گے۔ ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ اللہم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

98۔ 1 احساس کے معنی ہیں، حس کے ذریعے سے معلومات حاصل کرنا۔ یعنی کیا تو ان کو آنکھوں سے دیکھ سکتا یا ہاتھوں سے چھو سکتا ہے ؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ان کا وجود ہی دنیا میں نہیں ہے کہ تو انھیں دیکھ یا چھو سکے یا دیکھ سکے یا اس کی ہلکی سی آواز ہی تجھے کہیں سے سنائی دے سکے۔ حضرت عمر ؓ کے قبول اسلام کے متعدد اسباب بیان کئے گئے ہیں۔ بیض تاریخ وسیر کی روایتات میں اپنی بہن اور بہنوئی کے گھر میں سورة طہ کا سننا اور اس سے مثاثر ہونا بھی مذکور ہے۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 96–98

37: یعنی اس وقت تو مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ کفار ان کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔ لیکن عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب مخلوق خدا کے دلوں میں ان مسلمانوں کی محبت پیدا ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ ایک سخت جھٹکا ہے۔ اس کے بعد ایک مہیب سکوت اور خاموشی۔ گویا ہم تباہی اور ہلاکت کی وادی میں ہیں اور ان تمام وادویں کو ایک ایک کرکے دیکھ رہے ہیں جن کو صدیوں سے ہلاک و برباد کیا جاتارہا۔ ہلاکتوں کا یہ ایک طویل سلسلہ ہمارے پیش نظر ہے۔ ہمارا خیال ان اقوام کی زندگیوں ‘ ان کی ترقیوں اور رنگا رنگ سرگرمیوں کے ساتھ چلتا ہے۔ بڑے بڑے سہر اور ان میں آبادیاں اور پھر زندگی کی حرکت اور دوڑ دھوپ نظر آتی ہے اور پھر جب ان آبادیوں پر ‘ اللہ کی ہلاکت آتی ہے تو وہاں الو بولتا نظر آتا ہے۔ زندگی یکدم خاموش ہوجاتی ہے۔ ہر طرف موت ہی موت نظر آتی ہے۔ ہر طرف انسانی لاشیں ہیں ؟ ہڈیاں ہیں اور پھر سیاہ مٹی ہے ‘ نہ زندگی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی کتنی ہی بدبخت قومیں اپنے جرائم کی پاداش میں ہلاک کی جا چکیں۔ جن کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ آج ان کے پاؤں کی آہٹ یا ان کی لن ترانیوں کی ذرا سی بھٹک بھی سنائی نہیں دیتی۔ پس جو لوگ اس وقت نبی کریم ﷺ سے برسر مقابلہ ہو کر آیات اللہ کا انکار و استہزاء کر رہے ہیں، وہ بےفکر نہ ہوں۔ ممکن ہے ان کو بھی کوئی ایسا ہی تباہ کن عذاب آگھیرے جو چشم زدن میں تہس نہس کر ڈالے۔ تم سورت مریم بحسن توفیقہ ونصرہ فللہ الحمدوالمنہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 98 وَکَمْ اَہْلَکْنَا قَبْلَہُمْ مِّنْ قَرْنٍط ہَلْ تُحِسُّ مِنْہُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَہُمْ رِکْزًا ” کیا آج قوم ثمود کی کہیں آہٹ سنائی دیتی ہے ؟ یا قوم عاد کا کوئی نام و نشان نظر آتا ہے ؟ ماضی کی تمام نافرمان قوموں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر کے نسیاً منسیاً کردیا گیا ہے۔ چناچہ قریش مکہّ جو آج کفر و سرکشی میں حد سے بڑھے جا رہے ہیں وہ بھی اسی انجام سے دو چار ہوسکتے ہیں۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 97–98

83 قوما لُدّا سے مراد ہٹ دھرم، جھگڑالو اور کج بحثی کرنے والے قریشی سردار ہیں۔ جو ہر بات میں میں میخ نکالنے کے عادی تھے۔ انھیں ہی یہ تنبیہ کی جارہی ہے کہ تمہارے جیسی بہت سی اقوام کو ہم نے یوں تہس نہس کردیا کہ ان کا نام و نشان تک صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے۔ اور ان کی شیخیوں، گستاخیوں اور لن ترانیوں کی آج بھنک تک سنائی نہیں دیتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

131۔ ابھی ابھی انذار، ڈرانے کا حکم آچکا ہے۔ اب ایک انذاری مضمون کے بیان میں تاریخ سے استشہاد ہورہا ہے کہ نافرمان قومیں کیسی کیسی پر قوت وپرشوکت، اپنی نافرمانیوں ہی کے پاداش میں روئے زمین سے کسی طرح مٹائی جاچکی ہیں۔ اور اثریات (آرکیالوجی) ان کے ایک ایک کھنڈر کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اور کھود کھود کر نکال رہا ہے ! 132۔ مطلب یہ ہے کہ دیکھو وہ کیسے بےنام ونشان ہو کر تہس نہس ہو کر رہے ! آج نہ خود ان کی کوئی دھیمی سی آواز ہی کسی کو آرہی ہے، نہ ان کے متعلق کوئی بھٹک کسی کے کان میں پڑجاتی ہے۔ والحاصل اھلکنھم فلایمن ولا خیر (روح) رکز کہتے ہیں آواز خفی کو۔ الرکز۔ الرکز الصوت الخفی (کشاف) جب نفی آواز خفی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–98

آیت نمبر 83 تا 98 ترجمہ : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے جو انہیں معصیت پر خوب اکساتے ابھارتے رہتے ہیں تو آپ ان پر عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کیجئے ہم تو خود ہی ان کے لیل و نہار یا سانس عذاب کے وقت تک (موت تک) شمار کر رہے ہیں، اس دن کا بھی تذکرہ کیجئے جس دن ہم متقیوں کو ان کے ایمان کی بدولت (بطور) مہمان سوار کر کے جمع کریں گے وفدٌ وافد کی جمع ہے معنی میں راکبٌ کے ہے اور مجرمین کو ان کے کفر کے سبب سے سخت پیاس کی حالت میں دوزخ کی طرف ہانکیں گے ورْدٌ واردٌ کی جمع ہے پیاسے پیدل کسی شخص کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا بجز اس شخص کے جس نے رحمٰن کے پاس سے اجازت لی ہو (اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکم اہلکنا قبلہم من قرن ہل تحس منہم من احد اور ہم نے ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو (عذاب سے) ہلاک کردیا ہے سو کیا آپ ان میں سے کسی کو دیکھتے ہیں۔ اس آیت میں کافروں کو ڈراوا ہے اور رسول اللہ کو پیام رسانی پر جرأت دلانا مقصود ہے ہل تُحِسُّکا یہ مطلب ہے کہ آپ اب ان میں سے کسی کو بھی محسوس کرتے ہیں۔ یا تحس بمعنی تری کے ہے کیا آپ اب ان میں سے کسی کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ یا آپ کسی کو پاتے ہیں یا کسی کا احساس کرتے ہیں۔ او تسع لہم رکزا۔ یا ان کی آہٹ سنتے ہیں۔ رکز : پست آواز ‘ پوشیدہ آواز ‘ لفظ رکز کی ساخت پوشیدگی کا مفہوم بتاتی ہے۔ رکز الرمح : نیزہ کی نوک زمین میں گاڑ دی (چھپا دی) ۔ رکاز : دفن کیا ہوا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ۔۔ : یہاں گزشتہ آیت میں مذکور سخت جھگڑالو قوم کو ان سے پہلی سخت جھگڑالو قوموں کی ہلاکت کا ذکر کرکے ڈرایا گیا ہے کہ ہم نے ان سے پہلے ایسی کتنی ہی سخت ضدی قوموں کو ہلاک کردیا۔ غور سے دیکھو ! ان میں سے کوئی تمہیں کہیں کھٹکتا ہے، یا اس کی بھنک ہی کان میں پڑتی ہے ؟ یہی حال اس زمانے کے کافروں کا ہونے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(تفسیر 98) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکم اھلکنا قبلھم من قرن قرن سے مراد امت ہے اور جماعت ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ڈرا رہا ہے۔ ھل تحس منھم من احدا و تسمع لھم رکزا۔ احد محل نصب میں ہے یعنی ھل تریٰ منھم احداً وتجد کیا ان میں سے کسی کو آپ دیکھتے ہیں۔ او تسمع لھم رکزا یا ان کے لیے کوئی آواز سنتے ہیں ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے یعنی وہ مر چکے ہیں اور اپنے اعمال پر اجر حاصل کرچکے ہیں۔ بعض نے فرمایا : الرکز وہ آواز یا حرکت جو سمجھی نھہ جاسکے یہ یزیدی اور ابو عبیدہ کا قول ہے جیسے رکز الکتیبۃ، لشکر کی آہٹ۔ ابو عبیدہ نے لبید کا شعر بطور استشہاد لکھا ہے : وتوجست رکز الانیس فرععھا عن ظھر غیب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل تحس منہم من احد “ یعنی کیا تو ان میں سے کسی کو دیکھتا ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ھل تحس منہم “ کو تاء کے ضمہ حاء کے کسرہ اور سین کے رفع کے ساتھ پڑھا اور اس میں ادغام کیا۔ 3:۔ عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” ھل تحس منہم من احد اوتسمع لہم رکزا “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم نے کسی آنکھ (یعنی کسی کے وجود) کو دیکھا یا کسی کی آواز کو سنا۔ 4:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ قوم چلی گئی (اب) نہ کوئی آواز باقی ہے اور نہ کوئی آنکھ۔ 5:۔ ابن منذر اور ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَكَمْ اَهْلَكْنَا : اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کیں ] [قَبْلَهُمْ : ان سے پہلے ] [مِّنْ قَرْنٍ : قومیں ] [هَلْ : (تو) کیا ] [تُـحِسُّ : آپ ﷺ محسوس کرتے ہیں ] [مِنْهُمْ : ان میں سے ] [مِّنْ اَحَدٍ : کسی ایک کو بھی ] [اَوْ : یا ] [تَسْمَعُ : آپ ﷺ سنتے ہیں ] [لَهُمْ : ان کی ] [رِكْزًا : کوئی بھنک ] ر ک ز [رَکْزًا : (ض۔ ن) ] رگ کا پھڑکنا۔ حرکت کرنا رِکْزٌ دھیمی آواز۔ آہٹ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 98

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا (وَ کَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْنٍ ) (اور ہم نے اس سے پہلے کتنے ہی گروہوں کو ہلاک کردیا) (ھَلْ تُحِسُّ مِنْھُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَھُمْ رِکْزًا) (کیا آپ ان میں سے کسی کو دیکھتے ہیں یا ان میں سے کسی کی کوئی آہٹ سنتے ہیں) ۔ مطلب یہ ہے کہ تکذیب کرنے والی بہت سی امتیں اور جماعت گزر چکی ہیں جو اپنی نافرمانی کی پاداش میں ہلاک کی گئیں آج ان کی کوئی بات سننے میں نہیں آتی وہ کہاں ہیں دنیا میں کیسی کیسی بولیاں بولا کرتے تھے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے ہر طرح کی بولتی بند ہوگئی اب نہ کہیں ان کی آواز ہے اور نہ کہیں آہٹ ہے قرآن کی تکذیب کرنے والوں کو ان ہلاک شدہ اقوام سے سبق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 81–98

ابطال عقیدۂ ابنیت وبیان ضلال و وبال منکرین وحدانیت و منکرین قیامت برائے تسلیہء نبی اکرم ﷺ قال اللہ تعالیٰ ۔ و اتخذوا من دون اللہ اٰلھۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ او تسمع لھم رکزا (ربط) شروع سورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبودیت اور بلا باپ کے ان کی ولادت کا ذکر فرمایا تاکہ ان کی والدۂ ماجدہ کی عصمت و نزاہت ثابت ہوجائے اور یہود بےبہبود کا رد ہو جو حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو ولد الزنا اور ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان لوگوں کے زعم فاسد کا رد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں اور اس پر گھمنڈ کرتے ہیں۔ نیز گزشتہ آیت میں قیامت اور خدا پرستوں کا حال اور مآل بیان فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

66:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ اس میں خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے۔ تخویف مشرکین کے ضمن میںحضور ﷺ سے ان کی ہلاکت کا وعدہ بھی ہے۔ یعنی اس سے قبل ایسے بیشمار معاندین کو ہلاک کرچکے ہیں جن کا دنیا سے نام و نشان مٹ چکا ہے۔ اور ان کا ذکر اذکار بالکلیہ محو ہوچکا ہے، آپ کے دشمنوں کا بھی یہی حشر ہوگا۔ والمعنی اھلکنھم بالکلیۃ واستصلنا ھم بحیث لاتری منھم احدا ولا تسمع منھم صوتا خفیا فضلا عن غیرہ (روح ج 16 ص 144) ۔ سورة مریم میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” کٓهٰیٰعٓصٓ۔ ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ عَبْدَهٗ زَکَرِیَّا “ الی آخر الایات۔ نفی تصرف از زکریا علیہ السلام۔ 2 ۔ ” اِنَّمَا اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِاَھَبَ لَکِ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 96–98

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اولاد تجویز کرنے والوں کا رد فرمایا کفر کی یہ بدترین صورت ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کا ذریعہ ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس قسم کا غلط عقیدہ رکھنے والوں کو ہم نے شمار کر رکھا ہے پھر قیامت کے دن جب تن تنہا اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو انہیں اس باطل عقیدے کی قباحت کا احساس ہوگا ، اب آگے اللہ نے اہل ایمان کی فضیلت ، مرتبہ اور ان کا انجام بیان فرمایا ہے اس کے ساتھ ساتھ بعض انعامات کا ذکر بھی کیا ہے جو اہل ایمان کی نصیب ہوتے ہیں ۔ (ایمان اصطلاح قرآن) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان الذین امنوا “۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے جس طرح کفر ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَمْ اَہْلَكْنَا قَبْلَہُمْ مِّنْ قَرْنٍ ۝ 0ۭ ہَلْ تُـحِسُّ مِنْہُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَہُمْ رِكْزًا۝ 98ۧ هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَکَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْنٍ ط ھَلْ تُحِسُّ مِنْھُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَہُمْ رِکْزًا (مریم : 98) (اور کتنی ہی قوموں کو ان سے پہلے ہم نے ہلاک کردیا، کیا آپ ان میں سے کسی کی (موجودگی) محسوس کرتے ہیں یا آپ ان کی بھنک سنتے ہیں ؟ ) کافروں کے انجام پر سابقہ امتوں سے استشہاد اے پیغمبر ! آپ ﷺ کا کام تبشیر و انذار ہے۔ جو لوگ آپ ﷺ کی دعوت کو قبول کرکے آپ ﷺ کے راستے پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اور پھر اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات پر صبر کرتے ہیں تو آپ ﷺ انھیں وہ بشارتیں پہنچا دیجیے جو قرآن کریم نے ایسے لوگوں کے لیے دی ہیں یا ان کا آپ ﷺ کے دل پر نزول…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–98

فہم القرآن ربط کلام : نزول قرآن کا مقصد، متقین کو خوشخبری سنانا اور مجرمین کو ان کے انجام سے آگاہ کرنا ہے۔ قرآن مجید میں بار ہا دفعہ رسول اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ یہی قرآن مجید کی دعوت اور اس میں بیان ہونے والے واقعات کا مدّعا ہے کہ لوگوں کے سامنے متقین کا عقیدہ اور کردار بیان کیا جائے ان کے مقابلہ میں کفار اور مشرکین کا عقیدہ کردار اور ان کا انجام ذکر کیا جائے تاکہ جرائم پیشہ لوگ اپنے برے عقیدہ اور گھناؤنے کردار سے باز آئیں۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی بغاوت کا راستہ اختیار کیا ان میں بڑی بڑی اقوام کو اس طرح تہس نہس کیا کہ آج…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تخویف کفار : 98: وَکَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْنٍ ( اور ہم نے ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کیا) اس میں اہل مکہ کیلئے تخویف و انذار ہے (کہ ان کو ان سے عبرت حاصل کرنا چاہیے) ھَلْ تُحِسُّ مِنْھُمْ مِّنْ اَحَدٍ (کیا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو) یعنی کیا تم پاتے ہو۔ نمبر 2۔ دیکھتے ہو نمبر 3۔ جانتے ہو۔ الاحساسؔ حاسہ سے کسی چیز کو جاننا۔ اَوْتَسْمَعُ لَھُمْ رِکْزًا یا (ان کی آہٹ سنتے ہو) ۔ رکزاؔ ہلکی آواز، الرکازؔ اسی سے ہے۔ یعنی جب ہمارا عذاب آیا تو کوئی ایسا شخص باقی نہ رہا جو نظر آسکے۔ اور کوئی آواز باقی نہ تھی جو سنائی دے۔ مطلب یہ ہے تمام ہلاکت کے گھاٹ اتر گئے۔ پس انکا حشر بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

98۔ وکم اھلکنا قبلھم من قرن ھل تحس ، ، بعض نے کہا کہ کیا تم دیکھتے ہو۔ بعض نے کہا کہ کیا تم پاتے ہو۔ ” منھم من احد اوتسمع لھم رکزا۔ آواز کو کہاجاتا ہے اور یہ پست آواز کو کہتے ہیں ۔ حسن کا قول ہے کہ وہ سب ظاہر ہوجائیں نہ ان میں کوئی باقی بچ جائے گا اور نہ ہی ان کا کوئی نشان باقی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 97–98

97۔ 98:۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش میں کے بعضے لوگ قرآن کی آیتیں سن کر طرح طرح کے جھگڑے نکالتے ہیں اور بعضوں کی ہدایت قرآن کی نئی نئی آیتوں سے دن بدن بڑھتی جاتی ہے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن عربی زبان میں اس آسانی کے لیے نازل کیا گیا ہے کہ تم عقبیٰ کی خرابی سے ڈرا کر نیک کام کرنے والوں کو عذاب آخرت سے نجات اور جنت میں داخل ہونے کی خوشی اور جھگڑالو لوگوں کو عذاب آخرت کا ڈر سنا دو اس پر بھی ان میں کے جو لوگ سرکشی اور بےجا جھگڑوں سے ہو کر آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوچکے ہیں کہ دنیا میں کہیں ان کا نشان تک باقی نہیں رہا اگر یہ لوگ بھی ان پچھلی قوموں کے قدم بقدم چلیں گے تو یہی انجام ان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 97–98

آیت 97 (1) صحیح البخاری، الادب، باب المقۃ من اللہ تعالیٰ “ ح :6.30 و صحیح مسلم، البرو اصلۃ باب اذا اجب اللہ عبدا۔۔۔ ، ح :2638) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی نعمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی زبان اقدس پر اس قرآن کریم کو آسان کیا۔ اس کے الفاظ و معانی کو عام فہم بنایا تاکہ مقصد حاصل ہوا اور اس سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ (لتبشربہ المتقین) تاکہ آپ دنیاوی اور اخروی ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے متقین کو بشارت دیں اور ان اسباب کا ذکر کریں جو بشارت کے موجب ہیں۔ (وتنذربہ قوماً لداً ) تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جو اپنے باطل میں نہایت سخت اور اپنے کفر میں نہایت قوی ہیں۔ اس طرح ان پر حجت قائم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 96–98

قول باری ہے (ان الذین امنوا وعملوا الصلحات سیجعل لھم الرحمٰن وداً ۔ یقینا جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عمل صالح کر رہے ہیں عنقریب رحمان ا ن کے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا) ان کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو یہ کہ آخرت میں یہ ایک دوسرے سے اسی طرح محبت کریں گے جس طرح والد کو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے۔ دوسرا قول حضرت ابن عباس اور مجاہد کا ہے کہ دنیا کے اندر محبت پیدا کر دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

100 تاریخ سے سبق لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس سے ہلاک شدہ قوموں کی ہولناک تباہی سے درس عبرت لینے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ تو کیا تم اب ان بدبخت قوموں میں سے کسی بھی فرد کا کوئی وجود پاسکتے ہو ؟ یا ان کی کوئی بھنک ہی محسوس کرسکتے ہو۔ اور جب نہیں اور یقینا نہیں۔ تو پھر ان کے اس عبرتناک انجام سے دور حاضر کے ان کفار و منکرین کو سبق لینا چاہیئے جو اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے ہیں کہ جو انجام ان سے پہلے کے ان منکروں کا ہوچکا ہے وہ ان کا بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا قانون بےلاگ اور سب کے لئے ایک اور یکساں ہے۔ سو یہ راہ حق و ہدایت کو اپنا لیں قبل اس سے کہ عمر رواں کی فرصت محدود و مختصر ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 88–98

اللہ تعالیٰ رشتے ناتے سے بےنیاز ہے تشریح : یہودی اور عیسائی مشرک ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے پیغمبر کی تعلیمات جو کہ توحید کا سبق دیتی ہیں ان کو چھوڑ کر پیغمبروں کو ہی اللہ اور اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ شرک اس قدر شدید گناہ ہے کہ اس سے دنیا تہس نہس ہوسکتی ہے۔ اللہ کیونکہ غفور الرحیم ہے، اس لیے وہ گنہگاروں، مشرکوں اور کافروں کو فوراً عذاب نہیں دیتا، مگر ان کے برے انجام کے بارے میں قرآن میں بار بار اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح توحید کی خصوصیات، نیک اور بد لوگوں کا انجام بہت دفعہ بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹرطارق السویڈان بیان کرتے ہیں۔ (1) دنیا اور آخرت 115 دفعہ قرآن میں آیا ہے۔ (2) فرشتے اور شیطان 88…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–98

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف (انسان پر شیطان کا تسلط) یہ ان کے کردار سے ظاہر ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ان کے بداعمال اور کفر کی سزا کے طور پر شیطانوں کو ان پر غلبہ دے دیا ہے اور وہ شیطان انہیں ہر لمحہ برُائی پر ابھارتے رہتے ہیں اور اسی کو ان کی نگاہوں میں سجاتے رہتے ہیں ۔ لہذا جلدی کی تو کوئی بات نہیں کہ پہلے ہی انسان کے پاس بہت محدود سی زندگی ہے اور وہ اوقات تو اسے پورا کرنے کی اجازت ہے نیز یہ اس روز قابل دید حال میں ہوں گے جب مومینن بہت عزت واحترام کے ساتھ اللہ کریم جو بہت رحم کرنے والا ہے کہ بارگاہ میں مہمانی سے مشرف ہو رہے ہوں گے اور یہ بدکار جہنم کی طرف پیاسے ہانکے جا رہے ہوں گے ایسی حالت میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:98) تحس۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ احساس افعالمصدر تو محسوس کرتا ہے۔ تو آہٹ پاتا ہے۔ تو دیکھتا ہے۔ رکزا۔ کھٹکا ۔ آہٹ ۔ پوشیدہ آواز ۔ آہستہ آواز ۔ بھنک۔ اسم ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 88–98

لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 98 اِد سخت، بھاری چیز۔ تکاد قریب ہے۔ یتفطرن پھٹ پڑیں گے۔ تنشق ٹکڑے ہوجائیں گے۔ تخر ڈھے پڑیں، گر جائیں۔ ھد دھڑام سے گرنا۔ ماینبغی شایان شان نہیں ہے۔ احصی اس نے شمار کر رکھا ہے۔ عد گنتی۔ ود محبت لد جھگڑالو آدمی۔ رکز آہٹ، سرسراہٹ۔ تشریح :- آیت نمبر 88 تا 98 سورة مریم کی آیات کو نصاریٰ کے اس قول اور عقیدے پر ختم کیا گیا ہے جس میں انہوں نے نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں) اللہ کا بیٹا ثابت کرنے کی مجرمانہ کوشش کی ہے۔ حالانکہ اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے گہوارے ہی میں اس بات کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 97–98

ان آیتوں میں فرمایا :" اے رسول اللہ کے ! یہ قرآن عربی زبان میں اس آسانی کے لئے نازل کیا گیا کہ تم عقبیٰ کی خربی سے ڈرایا کرو ۔ نیک کام کرنے والوں کو عذاب آخرت سے نجات ، اور جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری، اور جھگڑالو لوگوں کو عذاب آخرت کا ڈر سنا دو ۔ اس پر بھی ان میں سے جو لوگ سرکشی اور بےجا جھگڑوں سے باز نہ آویں، تو ان کو یہ جتلا دیا جاوے کہ ان سے پہلے بہت سے جھگڑالو لوگ طرح طرح کے عذابوں سے اس طرح دنیا میں ہلاک ہو کر آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوچکے ہیں، کہ دنیا میں کہیں ان کا نشان تک باقی نہیں رہا۔ اگر یہ لوگ بھی ان پچھلی قوموں کے قدم بقدم چلیں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا۔ اللہ سچا ہے، اللہ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 96–98

[33] یعنی لوگ ان کی طرف کھچیں گے اور وہ اپنے اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کی وجہ سے محبوب خلائق ہو کر رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 97–98

(ف 2) اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ان حقائق کو عربی میں کیوں جان کیا گیا ہے ؟ اس لئے کہ حضور ﷺ ان باتوں کو خوش اسلوبی سے دوسروں تک پہنچا سکیں ؟ حل لغات : ودا : محبوبیت : ، محبت ، لدا : جمع الد ، جھگڑالو ، ضدی جدل کرنے والے ، رکزا : گن سن آواز ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-98 اور ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں اور گروہوں کو تباہ ہلاک کرچکے ہیں سو کیا اے پیغمبر آپ ان ہلاک شدگان میں سے کسی کو دیکھتے اور کسی کی آہٹ پاتے ہیں یا آپ ان میں سے کسی کی ہلکی سی آواز اور بھننگ بھی سنتے ہیں۔ یعنی ایک ڈرانے کا طریقہ یہ بھی ہے کہ سرکش اور معاند قوموں کا انجام ان کو بتائو تاکہ یہ ان تباہ شدہ قوموں کے حالات سن کر عبرت پکڑیں جن کی نہ آج کوئی آواز ہے نہ کوئی آہٹ نہ وہ دیکھنے میں آتے ہیں اور نہ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی ہو خواہ وہ آواز کتنی ہی ہلکی اور پست ہو۔ تم تفسیر سورة مریم

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بڑی بڑی اکھڑ قومیں اس دھرتی پر گزریں کیا کسی کو بھنک بھی آپ ﷺ کے کانوں میں پڑی ؟ 98۔ قرآن کریم کے متعلق ارشاد فرمایا کہ اس کو ہم نے ایسا نہیں اتارا کہ کسی کو اس کی سمجھ ہی نہ آسکے لہذا اس کو بہتر سے بہتر غلاف میں بند کرکے طاق پر سجادیا جائے اور زیادہ سے زیادہ اس سے کام لیاجائے تو یہی کہ ایک مسلمان صبح اٹھتے ہی ہاتھ منہ دھو کر اس کو کھولے اور الٹے سیدھے چار لفظ پڑھ کر اور اس کے کاغذوں پر ہاتھ پھیر کر اپنے ہاتھوں اور چہرہ پر مل لیا کرے تاکہ دن میں جو جو اعمال بد اس کو انجام دینا ہیں ان میں اس سے برکت آئے اور پھر اس سے معاملہ آگے بڑھے اور اس کو دینے دلوانے کی ضرورت پڑے ‘ مجلس میں یا عدالت میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِ‌كْزًا "Or hear from them even a whisper" - 19:98. The word means a faint, unintelligible sound such as a death-rattle. The meaning of the verse is that there have been many kings who ruled vast empires, exercised unlimited authority and lived in great splendor, but when the wrath of Allah caught upon them for their sinful acts, they were annihilated in such a manner that not even a whisper or a feeble motion is now being heard of them. Alhamdulillah The Commentary on Surah Maryam Ends here.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 96–98

53. This is to comfort the righteous people who were being persecuted and insulted in the streets of Makkah. They are being assured that the time is coming near when the people will honor and love them because of their righteous deeds and good conduct. Hearts will be attracted towards them and the world will hold them in high esteem. And this will happen according to a universal principle. Those who are wicked, proud and haughty and try to rule over the people with falsehood and hypocrisy can never captivate the hearts of the people. On the other hand, those who invite the people to the right…

Read the full tafseer →