19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 19:1

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کاف۔ ہا۔ یا۔ عین۔ صاد۔

Ayahs 19:2–4

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

(اے پیغمبر، یہ) ذکر ہے تمہارے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جب کہ اس نے چپکے چپکے اپنے رب کو پکارا۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

(اور) عرض کیا، '' اے میرے رب، میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر میں بالوں کی سفیدی پھیل گئی ہے۔ اور اے میرے رب، تیری جناب میں دعا کر کے میں (کبھی) نامراد نہیں رہا۔

[1] زکریا (علیہ السلام) کا قصہ سورة آل عمران آیت 38 تا 41 صفحہ 124 میں گزر چکا ہے۔
Ayah 19:5

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

مجھے اپنے (مرنے کے) بعد (اپنے) بھائی بندوں سے اندیشہ ہے اور میری بیوی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما

[2] کہ کہیں دین میں خرابی نہ ڈالیں۔
Ayahs 19:6–8

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو میرا (بھی) وارث ہو اور آل یعقوب کا بھی اور اے میرے رب اس کو ایک پسندیدہ انسان بنا ''۔

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا، ) '' اے زکریا، ہم تم کو ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی (آدمی) پیدا نہیں کیا ''۔

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

(زکریا نے) عرض کیا، '' اے میرے رب، میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا جب کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں ؟ ''۔

[3] یعنی اولاد یعقوب کی بھلائیاں بھی میراث میں پائے۔
Ayah 19:9

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

ارشاد ہوا، '' ایسا ہی ہوگا۔ تمہارا رب فرماتا ہے کہ یہ میرے لئے آسان ہے اور (اس سے) پہلے ہم تمہیں پیدا کرچکے ہیں حالانکہ تم کچھ بھی نہ تھے ''۔

[4] یعنی موجودہ حالات بدستور رہیں گے پھر بھی لڑکا پیدا ہوگا۔
Ayahs 19:10–11

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

(زکریا نے) عرض کیا، '' اے میرے رب، میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردے ''۔ فرمایا، '' تمہارے لئے نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے متواتر تین رات (دن) بات نہ کرسکو گے ''۔

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پھر (زکریا معمول کے مطابق وعظ و نصیحت کے لئے) حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آیا تو ان کو اشارے سے سمجھا دیا کہ صبح وشام (اللہ کی) پاکی بیان کرتے رہو۔

[5] جس سے میں سمجھ جاؤں کہ اب ظہور وعدہ کا وقت قریب آپہنچا اور میں بالکل مطمئن ہوجاؤں۔
Ayahs 19:12–16

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

(غرض یحییٰ پیدا ہوا تو ہم نے اسے حکم دیا، ) '' اے یحییٰ کتاب (الٰہی) کو مضبوطی سے تھام لے۔ چناچہ وہ ابھی لڑکا ہی تھا کہ ہم نے اپنی طرف سے اسے حکم،

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور نرم دلی اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ وہ بڑا ہی پرہیزگار

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور ماں باپ کا خدمت گزار تھا، سخت گیر اور نافرمان نہ تھا۔

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

سلام اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرا اور جس دن وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اس کتاب میں مریم کا ذکر (بھی لوگوں سے) کرو جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ایک شرقی مکان میں چلی گئی تھی۔

[6] کتاب سے مراد تورات ہے۔ خود یحییٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت نہ تھے ان کا عمل موسوی شریعت پر تھا۔ [7] یعنی دین کی سمجھ اور حق و باطل میں امتیاز کی قوت و صلاحیت۔
Ayahs 19:17–20

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

اور لوگوں سے پردہ کرلیا تھا تو ہم نے اپنی روح کو اس کے پاس بھیجا اور وہ ایک پورے انسان کی شکل میں اس کے سامنے آکھڑا ہوا۔

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

مریم (اسے دیکھ کر گھبرا گئی اور) بول اٹھی، '' اگر تو پرہیزگار ( آدمی) ہے تو میں تجھ سے رحمن ( اللہ) کی پناہ مانگتی ہوں ''۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

وہ بولا، '' میں تو بس تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں (اور اس لئے آیا ہوں) تجھے (اللہ کے حکم سے) ایک پاکیزہ لڑکا دوں ''۔

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

(مریم) بولی، '' میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا حالانکہ نہ تو مجھے کسی مرد نے چھوا اور نہ میں کبھی بدکار رہی ؟ ''۔

[8] یعنی لوگوں سے جدا ہو کر عبادت کے لئے خلوت میں بیٹھی تھیں۔ [9] روح یعنی فرشتہ۔
Ayahs 19:21–23

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

اس نے کہا، '' (جیسا میں کہتا ہوں) ایسا ہی ہوگا۔ تیرا رب فرماتا ہے کہ یہ میرے لئے آسان ہے اور (اس کے پیدا کرنے سے) غرض یہ ہے کہ ہم اسے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے (باعث) رحمت۔ اور یہ ایک طے شدہ بات ہے (جو پوری ہو کر رہے گی) ''۔

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

پھر مریم کو (آپ سے آپ بچے کا) حمل ٹھہر گیا اور وہ اسے لئے ہوئے ایک دور جگہ چلی گئی۔

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر درد زہ (کا اضطراب) اسے کھجور کے ایک درخت کی طرف لے آیا۔ اس نے کہا، '' کاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی !''

[10] یعنی مرد کے چھوئے بغیر لڑکا ہوگا۔ [11] یعنی زندہ معجزہ۔
Ayahs 19:24–25

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

چناچہ (ایک فرشتے نے) نیچے سے اسے پکار کر کہا، '' تُو غمگین نہ ہو، تیرے رب نے تیرے لئے ایک بڑی ہستی پیدا کردی ہے

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، تجھ پر تروتازہ کھجوریں گریں گی۔

[12] اصل میں لفظ '' سرّیا '' استعمال ہوا ہے جو عربی میں عظیم الشان انسانوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ لیکن '' سرّیا '' کے ایک معنی چھوٹی نہر کے بھی ہیں اس لئے اکثر مفسرین نے '' سرّیا '' کا ترجمہ نہر یا چشمہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ مریم (علیہ السلام) کا غم پانی نہ ملنے کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس حالت کی وجہ سے تھا جس میں وہ مبتلا ہوگئی تھیں۔ پس فرشتے کا یہ کہنا کہ غمگین نہ ہو تیرے پروردگار نے تیرے لئے ایک نہر جاری کردی ہے بالکل بےمعنی ہوجاتا ہے۔ جب پانی کا فقدان غم کا سبب ہی نہ تھا تو اس کی موجودگی کیوں وجہ تسکین ہو ؟ لہذا فرشتہ کا یہ کہنا کہ تیرے پروردگار نے تیرے لئے ایک بڑی ہستی پیدا کردی ہے وجہ تسکین بالکل واضح ہوجاتی ہے، آئمہ تابعین میں سے ایک جماعت نے یہی تفسیر اختیار کی ہے۔
Ayahs 19:26–27

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

پھر (مزے سے) کھا اور پی اور (بیٹے کو دیکھ کر) آنکھیں ٹھنڈی کر پھر اگر کوئی آدمی تجھے نظر آجائے (اور وہ پوچھ گچھ کرنے لگے) تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ میں نے ( اللہ) رحمن کے لئے روزے کی منت مان رکھی ہے اس لئے میں آج کسی آدمی سے نہ بولوں گی۔ ''

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر مریم بچے کو (گود میں) اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئی۔ لوگ (دیکھتے ہی) بول اٹھے، '' مریم، تو نے تو بڑی ہی عجیب حرکت کی۔

[13] اس وقت کی شریعت میں بولنے اور کلام نہ کرنے کا بھی روزہ ہوتا تھا۔
Ayahs 19:28–29

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن، نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی۔ (یہ تو کیا کر بیٹھی ! ) ''

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا (کہ جو کچھ پوچھنا ہے اس سے پوچھ لو) ۔ لوگوں نے کہا ہم اس سے کیا بات کریں جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے۔

[14] ہارون (علیہ السلام) ، مریم (علیہ السلام) کے بھائی نہایت پارسا شخص تھے۔ اس لئے ملامت کرنے والوں نے ان کی طرف نسبت دے کر ملامت کی۔
Ayahs 19:30–34

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

(اس پر بچہ) بول اٹھا، '' میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور پیغمبر بنایا

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور اسی نے مجھے بابرکت کیا میں جہاں کہیں بھی ہوں، اور اسی نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور (اسی نے) مجھے اپنی والدہ کا خدمت گزار بنایا اور سرکش و بدبخت نہیں بنایا۔

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

سلام ہے مجھ پر جس روز میں پیدا ہوا اور جس روز میں مروں گا اور جس روز میں زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا ''۔

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ ہے عیسیٰ ابن مریم (کی سرگزشت اور یہ ہے اس کے بارے میں وہ) سچی بات ہے جس میں لوگ شک کررہے ہیں۔

[15] یعنی انجیل۔
Ayahs 19:35–36

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

اللہ کے یہ شایان نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ وہ پاک (ذات) ہے۔ وہ جب کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس کو صرف اتنا ہی فرما دیتا ہے کہ ہوجا، اور وہ ہوجاتا ہے۔

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور (مسیح کی تو ساری پکار یہ تھی کہ) اللہ میرا رب ہے اور تمہارا رب بھی تو (لوگو، ) اسی کی بندگی کرو۔ یہی (دین کا) سیدھا راستہ ہے۔

[16] مطلب یہ ہے کہ معجزے سے کسی کا پیدا ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ اللہ کا بیٹا قرار پائے۔