18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 18:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

ساری تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں (کسی طرح کی) کجی نہیں رکھی۔

Ayah 18:2

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

بالکل سیدھی بات (کہنے والی کتاب، ہر طرح کے پیچ و خم سے پاک، اور اس لئے نازل کی) تاکہ اللہ کی طرف سے (جو) عذاب شدید (کافروں پر نازل ہونے والا ہے لوگوں کو اس) سے خبردار کر دے اور جو ایمان والے ہیں اور نیک عمل (بھی) کرتے ہیں ان کو (اس بات کی) خوشخبری دے دے کہ (اللہ کے ہاں) ان کے لئے (بڑا) اچھا اجر ہے۔

Ayah 18:3

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

(یعنی بہشت) جس میں وہ ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔

Ayah 18:4

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

(نیز) ان لوگوں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈرا دے جو کہتے ہیں اللہ (بھی) اولاد رکھتا ہے۔

Ayah 18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

اس (دعوے) پر کوئی دلیل نہ تو ان کے پاس ہے نہ ان کے باپ دادوں کے پاس (تھی) ۔ بڑی (ہی سخت) بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے۔ وہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔

Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) اگر (یہ لوگ) اس تعلیم پر ایمان نہ لائے تو تم مارے غم کے ان کے پیچھے اپنی جان ہلاک کر ڈالو گے۔

Ayahs 18:7–8

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ (روئے) زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے۔

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور (پھر ایک دن) ہم تمام چیزوں کو جو (روئے) زمین پر ہیں (نابود کر کے زمین کو) چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔

[1] یعنی امتحان اس بات کا ہے کہ کون اس دنیا کی زینت اور رونق میں کھو کر اللہ کی یاد سے اور آخرت سے غافل ہوجاتا ہے اور کون نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا عالم ابتلا ہے۔ اس میں تو تکویناً لازمی ہے کہ کوئی مومن ہوگا اور کوئی کافر رہے گا۔ اس لئے غم کرنا بیکار ہے۔ آپ اپنا کام کئے جایئے۔
Ayahs 18:9–10

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور کتبے والے ہماری (قدرت کی) نشانیوں میں سے (ایک) عجیب (نشانی) تھے ؟

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب (ایسا ہوا تھا کہ) چند نوجوان غار میں جا بیٹھے تھے اور انہوں نے دعا کی تھی کہ اے ہمارے رب، ہم پر اپنی جناب سے رحمت نازل فرما اور ہمارے کام میں درستی کا سامان مہیا کردے،

[2] مشرکین مکہ نے یہود کے اشارے سے نبی ﷺ سے چند سوالات کئے تھے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ اصحاب کہف کون اور کیا تھے۔ قرآن ان کے جواب میں صحیح قصہ بیان کرتا ہے۔ یہ چند نوجوان تھے جنہوں نے اپنا ایمان بچانے کے لئے ایک غار میں پناہ لی تھی بعد میں لوگوں نے اس غار پر ایک تختی لگا دی تھی جن پر ان کے نام و نسبت اور مختصر حکایت درج تھی۔
Ayahs 18:11–12

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

تو ہم نے اس غار میں ان کے کانوں پر سالہا سال تک (نیند کا) پردہ ڈال رکھا۔

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے انھیں اٹھا کھڑا کیا تاکہ ہم دیکھ لیں کہ (ان کے) دو گروہوں میں سے کون سا (گروہ غار میں) رہنے کی مدت (کا ٹھیک) شمار کرتا ہے۔

[3] یعنی ایسے بیخبر ہو کر سوئے کہ کوئی آواز بھی ان کے کان میں نہ پہنچتی تھی۔ اس اسلوب بیان میں زیادہ مبالغہ ہے بہ نسبت اس کے کہ کہا جائے کہ آنکھ پر پردہ ڈال دیا۔
Ayahs 18:13–16

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

(اے پیغمبر، اب) ہم ان کا حال ٹھیک ٹھیک تم سے بیان کرتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی دی تھی۔

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے دلوں کی (صبر و استقامت میں) بندش کردی۔ وہ جب (راہ حق میں) کھڑے ہوئے تو انہوں نے (صاف صاف) کہہ دیا کہ ہمارا رب (تو وہی ہے جو) آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا (اپنی حاجت روائی کے لئے) کسی (دوسرے) معبود کو پکارنے والے نہیں۔ اگر ہم ایسا کریں تو ہم نے بڑی ہی بےجا بات کہی۔

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

یہ ہماری قوم کے لوگ ہیں جو اللہ کے سوا (دوسرے) معبودوں کو پکڑے بیٹھے ہیں۔ (یہ لوگ) ان (کے معبود ہونے) کی کوئی واضح دلیل کیوں نہیں پیش کرتے ؟ پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جو اللہ پر جھوٹ تہمت لگائے۔

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور (پھر وہ آپس میں کہنے لگے کہ) جب تم نے ان (لوگوں) سے اور اللہ کے سوا جن (معبودوں) کی یہ لوگ پرستش کرتے ہیں ان سے کنارہ کشی کرلی ہے تو (چلو فلاں) غار میں چل کر پناہ لو۔ تمہارا رب اپنی رحمت (کا سایہ) تم پر پھیلا دے گا اور تمہارے کام میں سہولت (کے سامان) مہیا کردے گا۔

[4] روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب کہف صحیح دین مسیح (علیہ السلام) پر تھے اور ان کا زمانہ بعد المسیح ہے۔ رومی شہنشاہ ڈی سیس (DECIUS) یا دقیانوس (متوفی 152 ئ) سخت مشرک تھا۔ مسیحی مذہب نیا نیا اس کے زمانے میں سلطنت روم میں پھیلنا شروع ہوا تو اس نے عیسائی موحدین پر سختی شروع کی۔ اس سے تنگ آ کر چند شریف نوجوان شہر سے نکل کھڑے ہوئے اور قریب کے ایک غار میں جا کر پناہ لی۔
Ayahs 18:17–20

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، وہ جس غار میں جا کر بیٹھے وہ اس طرح واقع ہوا ہے کہ) جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ وہ ان کے داہنے جانب سے ہٹا ہوا رہتا ہے اور جب ڈوبے تو بائیں جانب کترا کر نکل جاتا ہے اور وہ غار کے اندر ایک کشادہ جگہ میں (لیٹے) ہیں۔ یہ (بھی) اللہ کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پاتا ہے اور جسے بھٹکا دے تو (اے پیغمبر، ) اس کے لئے تم کوئی کارساز، راہ بتانے والا نہ پاؤ گے۔

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور تم (انہیں دیکھتے تو) سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سوئے ہوئے تھے اور ہم انھیں دائیں بائیں کروٹیں دلواتے رہتے تھے اور ان کا کتا چوکھٹ پر اپنے دونوں بازو پھیلائے (بیٹھا) تھا۔ اگر تم انھیں جھانک کر دیکھتے تو ضرور الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر (اس منظر سے) دہشت چھا جاتی۔

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور (دیکھو، جس طرح ہم نے انھیں اپنی قدرت سے سلا دیا تھا) اسی طرح ہم نے انھیں اٹھا کھڑا کیا تاکہ آپس میں پوچھ گچھ کریں۔ (چنانچہ) ان میں سے ایک بولنے والا بول اٹھا، '' (کیوں بھئی، ) بھلا (اس غار میں) کتنی مدت رہے ہوگے ؟ '' وہ بولے، '' ہم (بہت) رہے (ہوں گے تو) ایک دن یا ایک دن سے بھی کم۔ (پھر جب ٹھیک ٹھیک مدت معلوم نہ کرسکے تو) بولے کہ ہمارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنی مدت (غار میں) رہے۔ اچھا اب اپنے میں سے ایک آدمی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر بھیجو کہ وہ (جا کر) دیکھے کہ کسی کے ہاں اچھا کھانا (مل سکتا) ہے تو وہاں سے (تھوڑا بہت) کھانا لے آئے اور (سب کام) خوش تدبیری سے کرے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے۔

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

بیشک اگر لوگوں نے تمہاری خبر پا لی تو وہ تمہیں سنگسار کر ڈالیں گے یا (زبردستی) تمہیں اپنے دین میں واپس لے جائیں گے اور ایسا ہوا تو پھر تم کبھی فلاح نہ پا سکو گے۔

[5] یعنی ان کے غار کا دہانا شمال کے رخ تھا جس کی وجہ سے سورج کی روشنی کسی موسم میں بھی اندرنہ پہنچتی تھی اور باہر سے گزرنے والا یہ نہ دیکھ سکتا تھا کہ اندر کون ہے۔
Ayah 18:21

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور (پھر دیکھو، ایسا ہوا کہ ان کی بات پوشیدہ نہ رہ سکی) ، اس طرح ہم نے (اہل شہر کو) ان (کے حال) سے مطلع کیا۔ تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت (کے آنے) میں کچھ بھی شبہ نہیں۔ (مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی) اس وقت لوگ ان کے بارے میں آپس میں بحث کرنے لگے (کہ ان کے معاملے میں کیا کیا جائے) ۔ (کچھ) لوگوں نے کہا کہ ان کے (غار کے) اوپر ایک دیوار چن دو (اور ان کے حال کی زیادہ تفتیش نہ کرو) ۔ ان کے حال کو ان کا رب (ہی) بہتر جانتا ہے۔ مگر جو لوگ ان کے معاملات پر غالب تھے انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کے اوپر ایک عبادت گاہ بنائیں گے۔

[6] وہ شخص جو سکہ لے کر کھانا خریدنے چلا تھا جب بازار پہنچا تو کیونکہ قرنہا قرن کی مدت گزر چکی تھی، شہریوں کے وضع، لباس، زبان اور مکانات سب کی ہیئت بالکل بدل چکی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت کا تختہ الٹ چکا تھا اور بادشاہت اب بجائے دشمنان مسیحیت کے خود مسیحیوں کی قائم تھی، وہ شخص اپنی سج دھج، لباس اور زبان سے ایک تماشا بن گیا اور جب اس نے جیب سے پرانے زمانے کا سکہ کھانا خریدنے کے لئے نکالا تو لوگوں کی حیرت بدرجہا بڑھ گئی۔ سب نے اسے گھیر لیا اور اسے مجبوراً اپنا پتہ بتانا پڑا اور اپنی سرگزشت دہرانی پڑی۔ کچھ لوگ اس کے بیان کی تصدیق کے لئے اس کے ساتھ غار کے دہانے تک آئے۔ اب جو اصحاب کہف کو معلوم ہوا کہ وہ کئی سو برس بعد سو کر اٹھے ہیں تو وہ اپنے مسیحی بھائیوں کو سلام کر کے لیٹ گئے اور ان کی روح پرواز کرگئی۔ [7] یعنی اصحاب کہف کے بارے میں۔ [8] انداز کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صالحین نصاریٰ کا قول تھا۔ ان کی رائے یہ تھی کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اصحاب کہف کس مرتبہ کے انسان ہیں اور کس جزا کے مستحق ہیں لہذا مناسب یہی ہے کہ انھیں لیٹا رہنے دو اور غار کے دہانے پر دیوار چن دو ۔ [9] اس سے مراد اہل حکومت اور مذہبی پیشوا ہیں جن کے مقابلے میں عیسائی موحدین کی بات نہ چلی کیونکہ اس وقت کلیسا میں شرک اور اولیاء پرستی کا پورا زور تھا۔ [10] چناچہ ان شرک کے علم برداروں نے فیصلہ کیا کہ اصحاب کہف کا مقبرہ بنا کر اس کو عبادت گاہ بنادیا جائے۔ پرانے بتوں کی جگہ یہ نئے معبود انھیں پوجنے کو مل گئے۔
Ayah 18:22

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

(بعض لوگ) کہیں گے کہ (اصحاب کہف) تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتا تھا اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے (اور) چھٹا ان کا کتا تھا۔ یہ (سب) غیب کی باتوں میں اٹکل (کے تکے) چلاتے ہیں۔ اور (ہاں بعض) کہتے ہیں کہ وہ سات تھے (اور) آٹھواں ان کا کتا تھا۔ (اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ میرا رب ہی ان کا شمار خوب جانتا ہے۔ ان (کی صحیح تعداد) کو کم ہی لوگ جانتے ہیں (اور جب صورت حال یہ ہے) تو (اے پیغمبر، ) تم ان کے بارے میں زیادہ بحث نہ کرو۔ بجز سرسری بحث کے (کہ اس میں کچھ مضائقہ نہیں) اور ان کے بارے میں کسی سے پوچھ گچھ بھی نہ کرو۔

[11] مطلب یہ ہے کہ اصل چیز یہ نہیں ہے کہ اصحاب کہف کتنے تھے، ان کے نام کیا تھے، ان کا کتا کس رنگ کا تھا وغیرہ وغیرہ، بلکہ اصل چیز وہ اسباق ہیں جو اس قصے سے ملتے ہیں۔ پہلا سبق یہ ہے کہ مومن کو کسی حال میں حق سے منہ موڑنے اور باطل کے آگے سرنگوں نہ ہونا چاہئے اگرچہ حالات بظاہر کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نافذ کئے ہوئے قوانین فطرت کو جب چاہے معطل کر کے جو غیر معمولی اور فوق الفطرت کام کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ اس کے لئے یہ کوئی بڑا کام نہیں ہے کہ کسی کو کئی سو برس سلا کر اٹھا کھڑا کرے۔ لہذا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے یہ بھی بعید نہیں کہ قیامت کے دن وہ تمام انسانوں کو بیک وقت زندہ کرکے اٹھا کھڑا کرے۔