18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 18:60–75

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ان لوگوں کو وہ واقعہ سناؤ جو موسیٰ کو پیش آیا تھا) جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا کہ میں (اپنے ارادے سے) باز نہیں آؤں گا جب تک میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ورنہ میں زمانہ دراز تک چلتا ہی رہوں گا۔

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

پھر جب وہ دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو انھیں اپنی مچھلی کا خیال نہ رہا مچھلی نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنا لیا۔

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

پھر جب دونوں آگے بڑھ گئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا، '' لاؤ ہمارا ناشتہ (آج) اس سفر نے تو ہمیں بہت تھکا دیا ہے ''۔

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

(خادم نے) کہا، '' کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جب ہم اس چٹان کے پاس ٹھہرے تھے تو اس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور مجھے بس شیطان ہی نے بھلا دیا کہ اس کا ذکر کرتا۔ اس (مچھلی) نے تو عجیب طریقے سے دریا میں جانے کی راہ نکالی ''۔

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا، '' وہی تو وہ (مقام) تھا جس کی ہمیں تلاش تھی ''۔ پھر دونوں اپنے قدموں کے نشان پر واپس ہوئے۔

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

(جب وہ چٹان کے پاس پہنچے) تو انہوں نے ہمارے (خاص) بندوں میں سے ایک بندے (خضر) کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنے پاس سے ایک (خاص) علم عطا کیا تھا۔

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ نے اس سے کہا، '' کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ جس دانش کی تعلیم آپ کو (من جانب اللہ) دی گئی ہے اس میں سے آپ مجھے بھی سکھا دیں ؟ ''

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

(خضر نے) جواب دیا، '' (ہاں، ) مگر تم میرے ساتھ (رہ کر) ہرگز صبر نہ کرسکو گے۔

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور جو چیز تمہاری سمجھ کے دائرے سے باہر ہے اس پر تم صبر کر بھی کیسے سکتے ہو ''۔

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا، '' ان شاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کروں گا ''۔

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

(خضر نے) کہا، '' اچھا اگر تمہیں میرے ساتھ رہنا ہے تو مجھ سے کسی بات کی نسبت سوال نہ کرنا جب تک میں (خود) اس کا تذکرہ تم سے نہ کروں ''۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

پھر وہ دونوں روانہ ہوئے یہاں تک کہ (دریا کے کنارے پہنچے اور) ایک کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) اس میں سوراخ کردیا۔ (موسیٰ نے) کہا، '' کیا آپ نے اس لئے سوراخ کردیا کہ کشتی والوں کو ڈبو دیں ؟ یہ تو آپ نے بڑی ہی (خطرناک) بات کی ''

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

(خضر نے) کہا، '' کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ (رہ کر) ہرگز صبر نہ کر سکوگے ؟ ''

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا، '' میری بھول چوک پر مجھے نہ پکڑیئے اور میرے (اس) معاملے میں مجھ پر زیادہ تنگی نہ ڈالیئے ''۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

(اس کے بعد) پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ انھیں ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا، '' آپ نے ایک بےگناہ کی جان لی (اور وہ بھی) کسی کے (خون کے) بدلے میں نہیں۔ یہ تو آپ نے بڑی ہی بےجا حرکت کی ''۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

(خضر نے) کہا، '' کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ (رہ کر) ہرگز صبر نہ کر سکوگے ؟ ''

[23] حدیث میں یوں آیا ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کوئی آپ سے زیادہ بھی علم رکھتا ہے ؟ فرمایا میں نہیں جانتا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہی سب سے بڑے عالم ہیں۔ اس پر وحی آئی کہ دو دریاؤں کے سنگم پر ہمارا ایک بندہ خضر ہے جو تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے ملنے کے مشتاق ہوئے اور پوچھا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ساتھ لے کر سفر کرو۔ جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں ملاقات ہوگی۔
Ayahs 18:76–79

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا، '' اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا۔ آپ میری طرف سے (حَدِّ ) عذر کو پہنچ چکے ''۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر وہ (اور) آگے بڑھے یہاں تک کہ جب ایک بستی میں پہنچے تو وہاں کے لوگوں سے کھانا مانگا مگر انہوں نے ان کی ضیافت سے انکار کردیا۔ اتنے میں انھیں اس (بستی) میں ایک دیوار ملی جو گرا چاہتی تھی تو (خضر نے) اس کو (پھراز سرنو) کھڑا کردیا۔ (اس پر موسیٰ نے) کہا، '' اگر آپ چاہتے تو (ان لوگوں سے) اس (کام) کی اجرت ہی لے لیتے ''۔

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

(خضر نے) کہا، '' (بس) یہ (وقت) میری اور تمہاری جدائی کا ہے، (ہاں) جن (باتوں) پر تم سے صبر نہ ہوسکا ان کی حقیقت میں تمہیں بتائے دیتا ہوں۔

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

وہ جو کشتی تھی وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو (اس کے ذریعے سے) دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے سو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں کیونکہ ان کے آگے ایک (ایسے) بادشاہ (کا علاقہ) ہے جو ہر (بےعیب) کشتی کو زبردستی پکڑ لیتا ہے۔

[24] مطلب یہ ہے کہ اگر تیسری بار مجھ سے ایسا قصور ہو تو آپ کو میرے جدا کرنے کا اختیار ہے اس صورت میں آپ معذور سمجھے جائیں گے اور مجھے آپ سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔
Ayahs 18:80–81

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور وہ جو لڑکا تھا تو اس کے والدین مومن ہیں تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ (بڑا ہو کر) وہ ان دونوں پر بھی (اپنی) سرکشی اور کفر (کا اثر) ڈال دے گا۔

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

اس لئے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے میں ان کو (ایسا فرزند) عطا فرمائے (جو) دینداری اور صلہ رحمی میں اس سے بہتر (ہو) ۔

[25] اور وہ دونوں اپنی طبعی محبت سے اس کا ساتھ بےدینی میں دینے لگیں گے۔
Ayah 18:82

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور رہی وہ دیوار تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی ہے اور اس (دیوار) کے نیچے ان کا خزانہ گڑا ہوا ہے اور ان کا باپ (ایک مرد) صالح تھا اس لئے تمہارے رب نے چاہا کہ دونوں لڑکے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ (یہ سارے کام) تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر (کئے گئے) ہیں۔ (ان میں سے) کوئی کام میں نے اپنے اختیار سے نہیں کیا۔ یہ حقیقت ہے ان (باتوں) کی جن پر تم صبر نہ کرسکے۔

[26] یعنی ان افعال خلاف شریعت ظاہر میں سے کوئی عمل بھی میری ذاتی رائے یا اجتہاد کا نہیں۔ سب الہامات الٰہی کے تابع ہوئے ہیں۔ [27] یہ قصہ سنانے سے کفار اور مومنین دونوں کو اس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ اس دنیا میں معاملات کی حقیقت وہی نہیں ہوا کرتی جو بظاہر دکھائی دیا کرتی ہے۔ کتنی ہی اچھائیاں ہیں جو فی الحقیقت برائیاں ہوتی ہیں اور کتنی ہی برائیاں ہیں جو فی الحقیقت اچھائیاں ہوتی ہیں۔ انسانی عقل صرف ظواہر دیکھ کر حکم لگا دیتی ہے مگر نہیں جانتی کہ ان ظواہر کی تہہ میں کیسے حقائق پوشیدہ ہیں۔ سرکشوں کے لئے اس وقت کامرانیاں ہیں اور مومنوں کے لئے محرومیاں۔ لیکن کیا فی الحقیقت سرکشوں کی کامرانیاں کامرانیاں ہیں اور مومنوں کی محرومیاں محرومیاں ؟ اگر ظواہر کا پردہ اٹھ جائے تو حقیقت حال منکشف ہوجائے۔ لیکن حکمت الٰہی یہی ہے کہ پردہ نہ اٹھے کیونکہ اسی پردے سے عمل کی ساری آزمائش ہے۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ خضر (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے جن احکام کے تحت کام کئے تھے ان کی حیثیت تشریعی نہ تھی کیونکہ کسی شریعت میں بھی کسی انسان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی کی مملوکہ چیز کو خراب کردے اور کسی دوسرے انسان کو بےقصور قتل کر ڈالے۔ اس لئے یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ یہ احکام اپنی نوعیت میں اللہ تعالیٰ کے ان تکوینی احکام سے مشابہت رکھتے ہیں جن کے تحت دنیا میں کسی کو بیمار کیا جاتا ہے، کسی کو تندرست کیا جاتا ہے، کسی کو موت دی جاتی ہے، کسی کو زندگی سے نوازا جاتا ہے، کسی کو تباہ و برباد کیا جاتا ہے اور کسی پر نعمتیں نازل کی جاتی ہیں۔ اب اگر یہ تکوینی احکام ہیں تو ان کے مخاطب صرف فرشتے ہی ہوسکتے ہیں جن کے بارے میں شرعی جواز و عدم جواز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور کیونکہ قرآن میں اور صحیح احادیث میں اس بات کی تصریح نہیں کہ خضر (علیہ السلام) انسان تھے اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ خضر (علیہ السلام) انسان نہ تھے بلکہ فرشتوں میں سے یا اللہ کی کسی اور ایسی مخلوق میں سے تھے جو شریعت کی مکلف نہیں ہے۔
Ayahs 18:83–85

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) یہ لوگ تم سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ تم (ان سے) کہو کہ میں اس کا حال (کلام الٰہی میں) پڑھ کر سنائے دیتا ہوں۔

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

(اللہ فرماتا ہے کہ) بیشک ہم نے اسے زمین میں اقتدار عطا کیا تھا اور اسے ہر طرح کا سازو سامان دے رکھا تھا۔

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

چناچہ اس نے (پہلے ایک مہم کے لئے) سرو سامان کیا

[28] ذوالقرنین کے لفظی معنی ہیں دو سینگوں والا ایک معنی قوت کے بھی لئے گئے ہیں۔ قرآن کی تصریحات سے اتنا تو بہرحال معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی دیندار اور بڑی کشور کشا شخصیت تھی مگر اس سے زیادہ تعین قرآن میں نہیں۔ سب سے پہلا حل طلب مسئلہ جو مفسرین کے سامنے آیا وہ اس کا لقب تھا۔ عربی میں بھی اور عبرانی میں بھی '' قرن '' کے معنی سینگ کے ہیں۔ پس ذوالقرنین کا مطلب ہوا دو سینگوں والا۔ لیکن چونکہ تاریخ میں کسی ایسے بادشاہ کا سراغ نہیں ملا جس کا ایسا لقب ہو پھر چونکہ فتوحات کی وسعت اور مشرق و مغرب کی حکمرانی کے لحاظ سے سکندر مقدونی کی خصیت سب سے زیادہ مشہور رہی ہے اس لئے ہمارے مفسرین کی نظریں اسی کی طرف اٹھ گئیں۔ چناچہ امام رازی نے سکندر ہی کو ذوالقرنین قرار دیا حالانکہ کسی اعتبار سے بھی قرآن کا ذوالقرنین سکندر مقدونی نہیں ہوسکتا۔ نہ تو وہ توحید پرست تھا نہ عادل تھا نہ مفتوح قوموں کے لیے فیاض تھا اور نہ ہی اس نے کوئی دیوار بنائی۔ بہرحال مفسرین ذوالقرنین کی شخصیت کا سراغ نہ لگا سکے لیکن سن 905 قبل از مسیح میں ایک غیر معمولی شخصیت غیر معمولی حالات کے اندر ابھری اور تمام دنیا کی نگاہیں اس کی طرف اٹھ گئیں۔ یہ پارس کے ایک امیر نیز خاندان کا ایک نوجوان کو رش تھا جسے یونانیوں نے سائرس، عبرانیوں نے خورش اور عربوں نے کیخسرو کے نام سے پکارا۔ قرآن میں ذوالقرنین کے جو اوصاف بیان ہوئے ہیں ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سائرس میں وہ تمام اوصاف تھے۔ وہ ایک مومن، موحد اور آخرت پر یقین رکھنے والا بادشاہ تھا۔ سائرس زردشت کا ہم عصر اور اس کا پیرو تھا۔ زردشت کی اصل تعلیمات میں ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ کا صحیح تصور ملتا ہے۔ اگرچہ بعد میں دوسرے مذاہب کی طرح یہ مذہب بھی تحریفات کی دستبرد سے محفوظ نہیں رہا بلکہ ثنویت (یعنی اہرمن و یزداں) کے تصورات اس پر غالب آگئے۔ تخت نشینی کے بعد سب سے پہلی جنگ جو اسے پیش آئی وہ لیڈیا کے بادشاہ کروئسیس سے تھی۔ تمام مورخین اس پر متفق ہیں کہ حملہ کروئسیس کی طرف سے ہوا تھا اور اس نے سائرس کو دفاع پر مجبور کردیا تھا۔ لیڈیا سے مقصود ایشیائے کوچک کا مغربی اور شمالی حصہ ہے جو یونانی تمدن کا ایشیائی مرکز بن گیا تھا۔ اس جنگ میں سائرس فتح یاب رہا لیکن رعایا کے ساتھ کسی طرح کی بدسلوکی نہیں کی گئی البتہ کروئسیس کی نسبت یونانی روایت ہے کہ اس کے عزم و ہمت کی آزمائش کے لئے سائرس نے حکم دیا تھا کہ چتا تیار کی جائے اور اسے جلا دیا جائے لیکن جب اس نے دیکھا کہ وہ مردانہ وار چتا پر بیٹھ گیا ہے تو فوراً اس کی جاں بخشی کردی اور اس نے بقیہ زندگی عزت و احترام کے ساتھ بسر کی۔ اس پر سائرس کو مشرق کی طرف متوجہ ہونا پڑا کیونکہ گیڈر وسیا (مکران) اور بکڑیا (بلخ) کے وحشی قبائل نے سرکشی کی تھی۔ تقریباً یہی زمانہ تھا جب باشندگان بابل نے اس سے درخواست کی کہ بیل شازار کے مظالم سے انھیں نجات دلائے۔ نینوا کی تباہی نے ایک نئی بابلی شہنشاہی کی بنیادیں استوار کردی تھیں اور بخت نصر کی قاہرانہ فتوحات نے تمام مغربی ایشیا کو فتح کرلیا تھا۔ وہ قوموں کو غلام بناتا اور ملکوں کو تباہ کر ڈالتا تھا۔ باشندگان شہر اس کے ظلم سے تنگ آگئے تھے اور سائرس کے لئے چشم براہ تھے اس لئے انہوں نے ہر طرح سے اس کا ساتھ دیا۔ سائرس کے پہنچنے سے پہلے اس کی فوج شہر میں داخل ہوگئی۔ قبل اس کے کہ سائرس خود شہر میں پہنچے شہر فتح ہوچکا تھا۔ بابل کی فتح کے بعد سائرس کی عظمت تمام مغربی ایشیا میں مسلم ہوئی۔ 935 قبل مسیح میں صرف اسی کی تنہا شخصیت عظمت و حکمرانی کے عالمگیر تخت پر نمایاں نظر آتی ہے۔ فتح بابل کے بعد تقریباً دس برس زندہ رہا اور 925 قبل مسیح میں انتقال کر گیا۔ سائرس نے جب دنیا چھوڑی تو اس کی مملکت روز بروز وسیع ہوتی گئی۔ اس کی فتوحات میں صرف مصر کا خانہ خالی رہ گیا۔ اس کے فرزند کیقباد نے اسے بھی بھر دیا۔ سائرس کی فتوحات نے جو اینٹیں چن دی تھیں وہ دو سو برس تک نہ ہل سکیں۔ لیکن سکندر کے دم توڑتے ہی اس کی مملکت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔
Ayahs 18:86–89

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

(اور پچھم کی طرف نکل کھڑا ہوا) یہاں تک کہ (چلتے چلتے) جب وہ سورج کے ڈوبنے کی جگہ پہنچ گیا تو اسے سورج سیاہ پانی میں ڈوبتا دکھائی دیا اور اس کے قریب اسے ایک قوم (بھی) ملی۔ ہم نے کہا، '' اے ذوالقرنین، (یہ لوگ تیرے اختیار میں ہیں، ) تو چاہے (انہیں) عذاب دے یا ان کے ساتھ حسن سلوک کرے ''۔

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

ذوالقرنین نے کہا، '' جوان میں سے سرکشی کرے گا اسے ہم ضرور سزا دیں گے۔ پھر وہ اپنے رب کے حضور لوٹا کر لایا جائے گا تو وہ اسے (بڑا ہی) سخت عذاب دے گا

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اس کے لئے (آخرت میں) اچھا بدلہ ہے اور ہم (بھی) اپنے کاموں میں اسے آسان آسان کام کرنے کو کہیں گے ''۔

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر اس نے ایک (اور مہم کے لئے) سروسامان کیا

[29] مطلب یہ ہے کہ وہ خشکی کے آخری سرے پر پہنچ گیا جس کے آگے سمندر تھا۔ [30] یعنی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سورج سمندر کے سیاہی مائل گدلے پانی میں ڈوب رہا ہے۔
Ayahs 18:90–93

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

(اور پورب کی طرف نکل کھڑا ہوا) یہاں تک کہ (چلتے چلتے) سورج کے نکلنے کی جگہ جا پہنچا تو اس نے سورج کو ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتے دیکھا جن کے لئے ہم نے (سورج کے) ادھر کوئی آڑ نہیں رکھی تھی۔

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

یہ تھی ان کی حالت، اور جو کچھ ذوالقرنین کے پاس تھا اس کی ہمیں پوری پوری خبر تھی۔

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر اس نے ایک (اور مہم کے لئے) سروسامان کیا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ (چلتے چلتے) دو پہاڑوں کے درمیان جا پہنچا تو ان کے آس پاس اسے ایک قوم ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی۔

[31] یعنی مشرق کی انتہائی سرحد تک۔ [32] یعنی وہ لوگ مکان وغیرہ بنانا نہ جانتے تھے کہ دھوپ سے بچاؤ کرسکیں۔
Ayahs 18:94–97

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

انہوں نے کہا، '' اے ذوالقرنین، یاجوج ماجوج (ہمارے) ملک میں (آ کر) بڑا فساد مچاتے ہیں تو کیا ہم تیرے لئے کچھ خراج مقرر کردیں کہ تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک روک بنا دے ؟ ''

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

(ذوالقرنین نے) کہا، '' میرے رب نے جو کچھ مجھے دے رکھا ہے وہ بہت کچھ ہے (میں تمہارے خراج کا محتاج نہیں۔ ہاں اگر میری مدد کرنی ہے) پس تم طاقت سے میری مدد کرو۔ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار کھڑی کردوں گا۔

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

تم لوگ مجھے لوہے کی چادریں لادو ''۔ (چنانچہ وہ چادریں لے آئے اور کام شروع ہوگیا) یہاں تک کہ جب دونوں پہاڑوں کے درمیان (خلا) کو اس نے پاٹ دیا تو حکم دیا کہ (بھٹی سلگاؤ اور) اسے دھونکو۔ یہاں تک کہ جب اس (آہنی دیوار) کو (لال) انگارا کردیا تو کہا، '' (اب) میرے پاس پگھلا ہوا تانبا لاؤ تاکہ اس (دیوار) پر انڈیل دوں ''۔

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

چناچہ (اسی طرح ایسی اونچی اور مضبوط دیوار تیار ہوگئی کہ) یاجوج ماجوج نہ تو اس پر چڑھ سکتے تھے نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے

[33] یا جوج ماجوج سے مراد وہ منگول قبائل ہیں جو قدیم زمانے سے متمدن ممالک پر حملہ کرتے رہے ہیں۔
Ayah 18:98

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

(ذوالقرنین نے اس آہنی دیوار کو دیکھ کر) کہا، '' یہ (جو کچھ ہوا تو فی الحقیقت) میرے رب کی مہربانی ہے مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس (دیوار) کو ڈھا کر برابر کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے ''۔

[34] '' وعدے کا وقت '' ذومعنی ہے۔ اس سے مراد اس دیوار کی تباہی کا وقت بھی ہے اور وہ گھڑی بھی جو اللہ نے ہر چیز کی موت اور فنا کے لئے ٹھہرا دی ہے، یعنی قیامت۔