18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 18:99–100

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

اور (جس دن یہ بات ظہور میں آئے گی تو) اس دن ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ وہ (سمندر کی لہروں کی طرح) ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوجائیں گے اور صور پھونکا جائے گا پھر ہم سب انسانوں کو (میدان حشر میں) جمع کریں گے۔

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور اس دن ہم دوزخ کو کافروں کے سامنے لائیں گے۔

[35] جب اس دیوار کے انہدام کا وقت آجائے گا تو یاجوج ماجوج ایک دم سے نکل پڑیں گے اور ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوجائیں گے۔ [36] صور کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة طٰہ حاشیہ 45 صفحہ 740۔
Ayahs 18:101–104

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

(ان کافروں کے سامنے) جن کی آنکھوں پر (دنیا میں) ہماری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا اور وہ سن بھی نہیں سکتے تھے۔

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

کیا پھر بھی کافر یہ خیال رکھتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ کر ہمارے بندوں کو اپنا کارساز بنالیں (اور ان سے کچھ باز پرس نہ ہو ؟ انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ) ہم نے دوزخ کو کافروں کی مہمانی کے لئے تیار کر رکھا ہے۔

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان سے) کہو کہ کیا ہم تمہیں ایسے لوگ بتائیں جو اعمال کے اعتبار سے بڑے گھاٹے میں ہیں ؟

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

(یہ) وہ لوگ ہیں جن کی ساری کوششیں دنیا کی زندگی میں کھو گئیں اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔

[37] یعنی دنیا میں کافر نہ تو دین حق کو دیکھتے تھے نہ دعوت حق کو سنتے تھے۔
Ayahs 18:105–108

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں اور اس کی ملاقات کا انکار کیا، اس لئے ان کے (سارے) اعمال اکارت گئے۔ پس قیامت کے دن ہم ان (کے اعمال) کو کوئی وزن نہ دیں گے۔

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

ان کا بدلہ جہنم ہے بہ سبب اس کے کہ انہوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا تھا اور ہماری آیتوں اور ہمارے رسولوں کا مذاق اڑایا تھا۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے ان کی مہمانی کے لئے فردوس (بریں) کے باغ ہوں گے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

جن میں وہ ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے اور ان سے کہیں اور نکلنا نہ چاہیں گے۔

[38] یعنی ایسے لوگ جن کی ساری جدوجہد، تگ و دو ، کاوش و کوشش دنیا کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی اور جنہوں نے دنیا کی کامیابیوں اور خوشحالیوں کو اپنا مقصود بنایا اور رضائے الٰہی اور فلاح آخرت کا خیال تک نہ کیا تو ان کا سب کیا کرایا دنیائے فانی کے ساتھ ہی فنا ہوگیا۔ آخرت میں تو وہی اعمال وزن پائیں گے جو انہوں نے رضائے الٰہی کے لئے کئے ہوں اور نتائج کو مقصود بنا کر کئے ہوں جو آخرت میں نکلنے والے ہیں۔ ایسے اعمال اگر ان کے حساب میں نہیں ہیں تو ان کی وہ ساری سعی و جہد بلاشبہ اکارت گئی جو انہوں نے دنیا میں کی تھی۔
Ayahs 18:109–110

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ میرے رب کی باتوں کے (لکھنے کے) لئے اگر تمام سمندر روشنائی بن جائیں تو قبل اس کے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں سمندر کا پانی ختم ہوجائے گا اگرچہ ہم ویسا ہی (اور سمندر اس کی) مدد کو لے آئیں۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ Open ayah 18:110 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ میں تو بس تمہارے ہی جیسا انسان ہوں (مگر مجھ میں اور تم میں اتنا فرق ہے کہ) میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے۔ پس جو کوئی اپنے رب سے ملنے کی آرزو رکھتا ہے اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرے۔

[39] اصل میں لفظ '' کلمات '' استعمال ہوا ہے جس سے مراد اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی وہ نشانیاں ہیں جو آفاق وانفس میں پھیلی ہوئی ہیں۔