18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 18:23–41

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) کسی کام کے بارے میں کبھی ایسا نہ کہو کہ میں اس (کام) کو کل کردوں گا

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر (ہاں یوں کہا کرو) یہ کہ اللہ چاہے (تو اس کام کو کل کروں گا) اور اگر (ان شاء اللہ کہنا) کبھی بھول جاؤ تو (جب یاد آجائے تو فوراً ) اپنے رب کو یاد کرو اور کہو کہ امید ہے میرا رب اس سے قریب تر بھلائی کی طرف میری رہنمائی فرمائے گا۔

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور (بعض کہتے ہیں کہ) وہ اپنے غار میں تین سو برس رہے اور (کچھ مدت کے شمار میں) نو سال اور بڑھ گئے ہیں۔

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تم کہہ دو کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت رہے۔ آسمانوں اور زمین کا علم غیب اسی کو ہے۔ (اللہ اکبر ! ) کیا ہی (خوب) ہے وہ دیکھنے اور سننے والا ! اس کے سوا لوگوں کا کوئی کارساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے۔

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تمہارے رب کی کتاب جو تم پر وحی کی گئی ہے اس کی تلاوت میں لگے رہو۔ اللہ کی باتیں کوئی بدل نہیں سکتا اور (اگر کسی کی خاطر تم احکام الٰہی میں ردوبدل کرو گے تو) اس کے سوا تم کوئی جائے پناہ نہ پاؤ گے۔

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ان لوگوں کی صحبت پر اپنے جی کو قانع کرلو جو اپنے رب کی رضا جوئی کے لئے صبح و شام اسے پکارتے ہیں۔ ان کی طرف سے کبھی تمہاری نظر (التفات) نہ ہٹنے پائے کہ دنیوی زندگی کی رونقیں ڈھونڈنے لگو۔ کسی ایسے شخص کا ہرگز کہنا نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہش (نفس) کے پیچھے پڑگیا ہے اور جس کا معاملہ حد سے گزر گیا ہے۔

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ان لوگوں سے کہہ دو کہ یہ (قرآن) حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، اب جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کافر رہے۔ ہم نے ظالموں کے لئے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپٹیں انھیں گھیر لیں گی اور اگر وہ (پانی کے لئے) فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا (اور) منہ کو بھون ڈالے گا۔ (تو دیکھو، ) پینے کی (کیا ہی) بری چیز (انہیں ملی) اور آرام کی (کیا ہی) بری جگہ !

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے (تو ان کے لئے کوئی اندیشہ نہیں) ۔ جس نے اچھے کام کئے ہوں ہم کبھی اس کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لئے ہمیشگی کے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ان کو وہاں (بادشاہوں کی طرح) سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے، وہ باریک اور دبیز سبز ریشمی کپڑے زیب تن کریں گے (اور) وہاں تختوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے۔ (کیا ہی) اچھا صلہ (انہیں ملا) اور (کیا ہی) عمدہ آرام (و آسائش) کی جگہ (انہوں نے پائی) !

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ان لوگوں سے ان دو شخصوں کی مثال بیان کرو جن میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دے رکھے تھے اور انھیں کھجور (کے درختوں) سے گھیر رکھا تھا اور ہم نے ان دونوں (باغوں) کے درمیان کھیتی (بھی) لگا رکھی تھی۔

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ اپنے پھل (خوب) لائے اور پھل (لانے) میں کسی طرح کی کمی نہ کی۔ اور دونوں (باغوں) کے درمیان (آب پاشی کے لئے) ہم نے نہر بھی جاری کر رکھی تھی۔

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

(نتیجہ یہ ہوا کہ) وہ (آدمی) دولت مند ہوگیا۔ تب (ایک دن گھمنڈ میں آ کر) اپنے دوست سے (جسے یہ خوشحالیاں میسر نہ تھیں) باتیں کرتے کرتے بول اٹھا، '' (دیکھو، ) میں تم سے زیادہ مالدار ہوں اور (میرا) جتھا (بھی) بڑا زبردست (جتھا) ہے ''۔

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور (یہ باتیں کرتا ہوا) وہ اپنے باغ میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا، '' میں نہیں سمجھتا کہ یہ (باغ) کبھی بھی برباد ہوگا

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور میں (یہ بھی) نہیں سمجھتا کہ قیامت برپا ہوگی اور اگر (ایسا ہوا بھی تو جب) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا جاؤں گا تو یقینا (وہاں) اس (باغ) سے (بھی) بہتر جگہ پاؤں گا ''۔

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

اس کا دوست جو اس سے باتیں کرتا جاتا تھا (یہ سن کر) بول اٹھا، '' کیا تم اس (ہستی) کا انکار کرتے ہو جس نے تمہیں (پہلے) مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا (اور) پھر تمہیں پورا آدمی بنا کھڑا کیا ؟

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

لیکن (میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ) وہی اللہ میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے (یہ) کیوں نہ کہا کہ وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے اس کی مدد کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ اگر تم مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کمتر دیکھتے ہو

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو عجب نہیں کہ میرا رب تمہارے باغ سے بہتر (باغ) مجھے عطا فرمائے اور تمہارے باغ پر (تمہاری ناشکری کی سزا میں) آسمان سے کوئی (ایسی) بلا نازل کردے کہ وہ چٹیل میدان ہو کر رہ جائے،

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا (بربادی کی کوئی) اور ناگہانی صورت نکل آئے (مثلاً ) اس (کی نہر) کا پانی بالکل نیچے اتر جائے اور پھر تم اسے ہرگز تلاش نہ کرسکو ''۔

[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔
Ayahs 18:42–44

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

اور (دیکھو، ایسا ہی ہوا کہ) اس (کے باغ) کی پیداوار کو (آفت نے) گھیر لیا تو وہ اس لاگت پر جو اس نے باغ (کی درستگی) میں لگائی تھی اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا اور (باغ کا یہ حال ہوگیا کہ) وہ اپنی ٹٹیوں پر گرا ہوا پڑا تھا۔ اب وہ کہنے لگا، '' اے کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا !''

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) کوئی جتھا اس کے ساتھ نہ ہوا کہ اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود (ہم سے) بدلہ لے سکا،

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

یہاں (معلوم ہوگیا کہ) کارسازی اللہ برحق ہی کا کام ہے۔ وہی بہتر ہے ثواب دینے میں اور وہی بہتر ہے بدلہ دینے میں۔

[13] جب انسان اللہ سے غافل ہوتا ہے تو اس گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ جو سازوسامان اور مال و اسباب مجھے حاصل ہیں وہ میری محنت، تدبر اور صلاحیت کا نتیجہ ہیں۔ یہی خناس اس شخص کے دماغ میں بھی سمایا ہوا تھا جس کا یہاں ذکر ہے۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ وہ کونسا شرک تھا جس پر وہ اظہار پشیمانی کررہا ہے کیونکہ اس پورے قصہ میں کسی دیوی دیوتا کا ذکر نہیں ہے۔ اس کا شرک یہ تھا کہ اس نے فاعل حقیقی اور مسبب الاسباب اللہ کو چھوڑ کر اپنے باغ اور کھیتی کو اپنی محنت و صلاحیت کا ثمر سمجھا۔
Ayah 18:45

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی مثال بیان کرو۔ (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا تو اس سے زمین کی نباتات گھنی ہوگئیں (اور خوب پھلی پھولی) ۔ پھر (وہی نباتات) بھس بن کر رہ گئی جسے ہوائیں اڑائے اڑائے پھرتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

[14] سو یہی حال دنیا کا ہے کہ آج ہری بھری نظر آتی ہے۔ کل اس کا نام و نشان بھی نہ رہے گا۔
Ayah 18:46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) مال و اولاد، دنیوی زندگی کی دلفریبیاں ہیں (مگر چند روزہ، ناپائیدار) ۔ اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تمہارے رب کے نزدیک بہ اعتبار ثواب کے ( متاع دنیا سے) کہیں بہتر ہیں اور امید کے اعتبار سے بھی کہیں بہتر۔

[15] یعنی اعمال صالحہ سے جو امیدیں وابستہ ہوتی ہیں وہ آخرت میں ضرور پوری ہوں گی۔ بخلاف متاع دنیا کے کہ اس سے دنیا میں بھی انسانی امیدیں پوری نہیں ہوتی اور آخرت میں تو کوئی احتمال ہی نہیں۔
Ayah 18:47

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

(لوگو، اس دن کی فکر سے غافل نہ رہو) جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور (اے پیغمبر، ) تم زمین کو دیکھو گے کہ کھلا میدان ہے۔ اور (اس وقت) ہم تمام انسانوں کو (اپنے حضور) اکٹھا کریں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے

[16] یعنی پہاڑ، دریا، ٹیلے، عمارتیں، درخت وغیرہ سب ناپید ہوچکے ہوں گے۔
Ayahs 18:48–49

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور (سب کے سب) صف بصف تمہارے رب کے روبرو پیش کئے جائیں گے۔ (تب ہم ان سے کہیں گے، ) '' آخر آگئے نا تم ہمارے پاس اسی طرح جیسا ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔ لیکن تم یہ خیال کرتے رہے کہ ہم نے تمہارے (دوبارہ زندہ کرنے کے) لئے کوئی وقت نہیں ٹھہرایا ہے ''۔

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور (اس وقت) نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا تو (اے پیغمبر، ) تم مجرموں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں (لکھا) ہے اس سے ہراساں ہو رہے ہوں گے اور کہتے جاتے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی ! یہ کیسا نوشتہ ہے کہ اس نے نہ کسی چھوٹے ہی (گناہ) کو چھوڑا اور نہ بڑے ہی کو جو اس میں درج نہ ہوگیا ہو۔ غرضیکہ جو کچھ انہوں نے (دنیا میں) کیا تھا وہ (سب لکھا ہوا) موجود پائیں گے اور تمہارا رب کسی پر (ذرا) ظلم نہ کرے گا۔

[17] مطلب یہ ہے کہ جیسے بےسروسامان دنیا میں بھیجے گئے تھے ویسے ہی بےسروسامان ہمارے حضور میں آموجود ہوئے۔
Ayahs 18:50–54

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور (وہ دن یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا) ۔ (کیونکہ) وہ جنوں کی قسم میں سے تھا اس لئے اپنے رب کے حکم سے نکل بھاگا۔ تو (لوگو، ) کیا تم ہمیں چھوڑ کر اسے اور اس کی نسل کو (اپنا) دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ؟ (دیکھو) ظالموں کو (کیا ہی) برا بدل ملا !

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین پیدا کرتے وقت بلکہ خود شیاطین کی تخلیق کے وقت بھی ان (شیاطین) کو (اپنی مدد کے لئے) نہیں بلایا اور ہم (کچھ گئے گزرے) نہ تھے کہ گمراہ کرنے والوں کو (اپنا دست و) بازو بناتے۔

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

(پھر کیا کریں گے یہ لوگ) اس دن جب (اللہ ان سے) فرمائے گا کہ (اب) پکارو ان (ہستیوں) کو جنہیں تم ہمارا شریک سمجھا کرتے تھے۔ یہ ان کو پکاریں گے مگر وہ انھیں جواب نہ دیں گے اور ہم ان (دونوں) کے درمیان ایک آڑ حائل کردیں گے۔

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور مجرم لوگ آگ (دوزخ) کو دیکھیں گے اور سمجھ جائیں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے ہر قسم کی مثالیں طرح طرح سے بیان کی ہیں مگر انسان تمام مخلوقات سے زیادہ جھگڑالو ہے۔

[18] یعنی وہ فرشتوں کی طرح معذور نہ تھا کہ نافرمانی کر ہی نہ سکتا۔ انسان کی طرح جنوں کو کفر و ایمان اور اطاعت و معصیت دونوں کی قدرت بخشی ہے اس سلسلہ کلام میں قصہ آدم و ابلیس کا حوالہ دے کر کفار مکہ کو متنبہ کیا ہے کہ تم اپنے رحیم و شفیق پروردگار اور خیرخواہ پیغمبر کو چھوڑ کر اپنے ازلی دشمن ابلیس کی سنت کی پیروی کررہے ہو جس نے قیامت تک کے لئے اولاد آدم کو دشمنی کا کھلا چیلنج دے رکھا ہے۔ [19] یعنی بجائے طاعت الٰہی کے طاعت شیطان میں مبتلا ہیں۔
Ayahs 18:55–57

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آچکی تو (اب) ایمان لانے اور اپنے رب سے مغفرت مانگنے سے انھیں کس بات نے روک دیا ؟ مگر یہی کہ (وہ منتظر ہوں کہ) انھیں اگلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا (ہمارا) عذاب ان کے سامنے آموجود ہو۔

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم تو پیغمبروں کو صرف اس لئے بھیجتے ہیں کہ (ایمان و عمل صالح کی کامرانیوں کی) خوشخبری دیں اور (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کردیں۔ مگر جنہوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے وہ باطل (کے ہتھیار) کے ساتھ جھگڑتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو لڑکھڑا دیں۔ انہوں نے ہماری آیتوں کو اور (ہمارے عذاب کو) جس سے انھیں خبردار کیا گیا ہے مذاق بنا رکھا ہے۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیتوں (کے ذریعے) سے نصیحت کی جائے اور وہ ان سے روگردانی کرے اور ان (عملوں) کو بھول جائے جن کو اس کے ہاتھوں نے (زاد آخرت بنا کر) آگے بھیجا ہے۔ (جن لوگوں نے یہ روش اختیار کی ہے) ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں تاکہ وہ (حق بات) سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں (ایک طرح کی) گرانی (پیدا کردی) ہے (کہ حق بات سن نہ سکیں) ۔ اور (اے پیغمبر، ) تم انھیں کتنا ہی راہ راست کی طرف بلاؤ مگر وہ کبھی راہ پانے والے نہیں۔

[20] یعنی جو کچھ اگلی قوموں کو مسلسل نافرمانی کی پاداش میں آچکا تھا۔
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تمہارا رب بڑا ہی بخشنے والا (اور) رحمت والا ہے۔ اگر وہ انھیں ان کے کرتوتوں پر پکڑنا چاہتا تو فوراً ہی ان پر عذاب نازل کردیتا مگر ان کے لئے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے۔ اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے۔ (سب کو بالآخر اس مقررہ میعاد کی جگہ پہنچنا ہے) ۔

[21] یعنی یوم قیامت۔
Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ بستیاں (جنہیں تم اجڑا ہوا دیکھتے ہو) جب ان کے باشندوں نے ظلم (کا شیوہ اختیار) کیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر مارا اور ان کی ہلاکت کے لئے بھی ہم نے ایک وقت مقرر کر رکھا تھا۔

[22] یعنی عاد وثمود کی عذاب رسیدہ بستیاں۔