17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 17:1

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 17:1 in the Quran reader

پاک ہے (عجز و درماندگی کے عیب سے) وہ (ذات) جو لے گیا اپنے بندے (یعنی پیغمبر اسلام) کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے ماحول کو ہم نے (بڑی) برکت دی ہے، تاکہ ہم اسے کچھ اپنی نشانیاں دکھائیں (اور اسے بعض اسرار غیب معلوم ہوں ورنہ) حقیقت یہ ہے کہ سننے اور دیکھنے والا تو وہی ( اللہ) ہے۔

[1] مسجد اقصیٰ یعنی دور کی مسجد۔ مراد ہے بیت المقدس جو مکہ سے بہت دور فلسطین کے شہر یروشلم میں ہے۔ [2] برکت کے تحت میں مادی و روحانی ہر قسم کی برکتیں آگئیں۔ وہاں کی سرزمین کی شادابی مادی برکت کی مثال ہوئی اور انبیاء کرام کا کثرت سے اس سرزمین سے اٹھنا اور اسی کی خاک میں مدفون ہونا اس کی روحانی برکتوں کو واضح کرتا ہے۔ [3] ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے نبی ﷺ کو یہ واقعہ پیش آیا جو عام طور پر معراج کے نام سے مشہور ہے۔ اس معاملہ سے مقصود یہ تھا کہ آپ اللہ کی نشانیوں کا عینی مشاہدہ کرلیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ معاملہ وحی کی تکمیل تھا۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ '' ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ''۔ یعنی اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کا معاملہ وحی بھی کوہ طور کے اعتکاف میں مکمل ہوا تھا اور انھیں کتاب شریعت دی گئی تھی۔ اس آیت میں صرف مسجد حرام یعنی بیت اللہ سے مسجد اقصیٰ تک نبی اکرم ﷺ کے جانے کا ذکر ہے لیکن مسجد اقصیٰ سے آسمانوں کا سفر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور میں آپ کی حاضری کا مفصل ذکر احادیث صحیحہ سے ثابت ہے جو حدِّ تواتر تک پہنچ گئی ہیں۔ رہی یہ بات کہ یہ واقعہ عالم بیداری میں پیش آیا یا عالم خواب میں ؟ صرف روح پر طاری ہوا تھا یا جسم بھی اس میں شریک تھا ؟ اکثر صحابہ وتابعین اس طرف گئے ہیں کہ روح و جسم دونوں پر طاری ہوا تھا اور خود قرآن کے الفاظ بھی اس کے حق میں ہیں۔ آیت کی ابتداء ان الفاظ سے کہ '' وہ ذات عجز و درماندگی سے پاک ہے '' خود بتارہی ہے کہ یہ کوئی بہت بڑا غیر معمولی واقعہ تھا، ورنہ اگر یہ معاملہ خواب کا ہوتا تو اسے بیان کرنے کے لئے اس تمہید کی ضرورت نہ ہوتی۔ نیز یہ الفاظ کہ '' راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا '' صریحاً جسمانی سفر پر دلالت کرتے ہیں۔ [4] یعنی معراج کی غایت یہ تھی کہ نبی ﷺ کو بعض اسرار غیب معلوم ہوں لیکن باایں ہمہ ان کا یہ علم محدود ہے۔ اصل میں عالم الغیب اللہ ہے اور اس کا علم درجہ کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ سمع و بصر کی خصوصیت اس وجہ سے ہے کہ عام طور پر یہی دو ذریعے علم حاصل کرنے کے ہیں۔
Ayah 17:2

وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ Open ayah 17:2 in the Quran reader

اور (اسی طرح) ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور ہم نے اس (کتاب) کو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنایا تھا (اور انھیں حکم دیا تھا) کہ ہمارے سوا کسی (اور) کو (اپنا) کار ساز نہ ٹھہرا لینا۔

[5] یعنی تورات۔
Ayah 17:3

ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا Open ayah 17:3 in the Quran reader

(تم) ان لوگوں کی نسل (ہو) جن کو ہم نے (طوفان کی ہلاکت سے نجات دی تھی اور) نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا اور بیشک وہ (ہمارا) ایک شکر گزار بندہ تھا۔

[6] لہذا اس کی ذرّیت پر لازم ہے کہ وہ اپنے جدِّ محترم کے طریقے پر قائم رہے۔
Ayah 17:4

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے بنی اسرائیل کو (اپنی) کتاب میں یہ جتلا دیا تھا کہ تم ضرور دو مرتبہ ملک میں فساد کرو گے اور (لوگوں پر) بڑی زیادتیاں کروگے۔

[7] یعنی تورات۔
Ayahs 17:5–6

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

پھر جب ان دو وقتوں میں سے پہلا وقت آگیا تو (اے بنی اسرائیل، ) ہم نے تم پر اپنے ایسے بندے بھیج دیئے جو بڑے جنگجو تھے پس وہ (تمہارے) شہروں میں ہر طرف پھیل گئے اور (ہمارا) وعدہ پورا ہونا ہی تھا۔

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

پھر (دیکھو، ) ہم نے (تمہیں) دشمنوں پر (غلبہ دے کر دوبارہ) تمہارے دن پھیرے اور مال و اولاد (کی کثرت) سے تمہاری مدد کی اور تمہیں بڑا جتھے والا بنادیا۔

[8] اس سے مراد وہ تباہی و بربادی ہے جو 685 ق۔ م میں بابل کے بادشاہ بنوکدنزر (بخت نصر) کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر نازل ہوئی۔
Ayah 17:7

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

اگر (اس وقت) تم نے بھلائی کے کام کئے تو اپنے ہی لئے کئے اور اگر برے کام کئے تو بھی اپنے ہی لئے کئے۔ پھر جب ہمارے دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے اپنے دوسرے بندوں کو بھیج دیا) کہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور وہ گھس جائیں مسجد (اقصیٰ ) میں جس طرح پہلی مرتبہ (حملہ آور) اس میں گھسے تھے (اور اس کو لوٹا کھسوٹا تھا) اور جس چیز پر قابو پائیں اسے تہس نہس کر ڈالیں۔

[9] یہ دوسری تباہی 70 ء میں ٹائیٹس رومی کے ہاتھوں ہوئی۔ پہلی سزا شریعت موسوی کے ترک و تحریف پر ملی تھی اور دوسری سزا رسالت عیسوی کے انکار پر دی گئی۔
Ayahs 17:8–10

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

(اگر اب بھی باز آجاؤ تو) کچھ عجب نہیں کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے لیکن اگر تم پھر (سرکشی و فساد کی طرف) لوٹے تو ہم بھی پھر (وہی) کریں گے جو پہلے کیا تھا۔ اور (یاد رکھو، ) ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے جہنم کا قید خانہ تیار کر رکھا ہے۔

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

بلاشبہ یہ قرآن اس راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو بالکل سیدھی ہے اور ایمان والوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لئے بڑا (بھاری) اجر ہے

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور یہ بھی (بتاتا ہے) کہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے عذاب درد ناک تیار کر رکھا ہے۔

[10] خطاب اب ان اسرائیلیوں سے ہے جو قرآن کے معاصر اور براہ راست مخاطب تھے۔ ان سے ارشاد ہو رہا ہے کہ پچھلی تباہیاں جو آنا تھیں آچکیں۔ اب بھی کچھ نہیں گیا ہے۔ خاتم النبین پر اگر آج ایمان لے آؤ تو اب بھی یہ ادبار ٹل سکتا ہے۔ [11] یعنی تم نے بھی اگر سرکشی و مخالفت حق کی راہ ترک نہ کی تو پھر وہی ہلاکت و بربادی اب بھی تمہارے لئے موجود ہے۔ بدنصیب یہود عرب نے اس آخری تنبیہہ کو نہ سنا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے سارے طاقت ور قبیلے ایک ایک کر کے قلیل ہی مدت کے اندر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔
Ayah 17:11

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) انسان (اپنے حق میں) شر کی اس طرح درخواست کرتا ہے جس طرح خیر کی درخواست۔ اور حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی جلد باز ہے۔

[12] نبی ﷺ کفار کو عذاب الٰہی سے ڈرایا کرتے تو وہ عذاب کے لئے جلدی مچاتے اور کہتے کہ لے آؤ وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔ یہاں اسی کا ذکر ہے۔
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے رات اور دن کو (اپنی قدرت و حکمت کی) دو نشانیاں بنا رکھا ہے۔ سو رات کی نشانی کو تو ہم نے دھندلا بنایا (کہ راحت و سکون کا وقت بن جائے) اور دن کی نشانی کو ہم نے روشن کردیا کہ (اس کے اجالے میں) تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو، نیز برسوں کا شمار اور (برسوں کے شمار سے ہر طرح کا) حساب بھی معلوم کرلو۔ اور ہم نے (قرآن میں) ہر چیز کو خوب تفصیل سے بیان کردیا ہے۔

[13] یعنی تلاش معاش میں مشغول رہو جس کی صورتیں بیشمار ہیں۔ [14] یعنی ہر وہ چیز جو انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے ضروری ہے۔
Ayahs 17:13–15

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہم نے ہر انسان کا اعمال نامہ اس کی گردن سے لگا رکھا ہے اور قیامت کے دن ہم (اس کے نامہ اعمال کی) ایک کتاب نکال کر اس کے سامنے پیش کردیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

(اور اس سے کہا جائے گا) پڑھ اپنا اعمال نامہ، آج اپنا حساب لگانے کے لئے خود تیرا وجود ہی کافی ہے۔

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو سیدھے راستے چلا تو اپنے (ہی) لئے چلا اور جو بھٹک گیا تو بھٹکنے کا خمیازہ بھی وہی اٹھائے گا اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہ اٹھائے گا، اور ہم کبھی (کسی قوم کو) عذاب دینے والے نہیں جب تک کہ (حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لئے اس میں) رسول نہ بھیج دیں۔

[15] یعنی انسان کسی جگہ اور کسی حال میں رہے اس کا نامہء اعمال اس کے ساتھ رہتا ہے جس میں اس کا ہر عمل، نیک ہو یا بد، لکھا جاتا رہتا ہے اور جب وہ مرتا ہے تو بند کر کے رکھ دیا جاتا ہے۔ پھر قیامت کے دن ہر انسان کا نامہء اعمال اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔
Ayahs 17:16–18

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہم نے ارادہ کیا کہ کسی بستی کو ہلاک کریں تو اس (بستی) کے خوشحال لوگوں کو حکم بھیج دیا پھر (بجائے اس کے کہ وہ اس کی تعمیل کرتے) انہوں نے اس (بستی) میں نافرمانی (کی راہ اختیار) کی۔ پس اس (بستی) پر (عذاب کی) بات ثابت ہوگئی اور ہم نے اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

(دیکھ لو، ) نوح کے بعد سے ہم نے کتنی ہی امتوں کو (ان کے کفر و سرکشی کے سبب) ہلاک کر مارا۔ اور (اے پیغمبر، ) تمہارا رب اپنے بندوں کے گناہ جاننے اور دیکھنے کے لئے کافی ہے (اسے کسی اور کی اعانت کی ذرا بھی حاجت نہیں) ۔

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو کوئی فوری فائدہ (اسی دنیا میں) چاہتا ہے تو ہم جسے (دینا) چاہیں (اور) جتنا دینا چاہیں اسی (دنیا) میں اسے دے دیتے ہیں، پھر (آخر کار) ہم نے اس کے لئے جہنم (تیار) کر رکھی ہے جس میں وہ داخل ہوگا بدحال اور ٹھکرایا ہوا۔

[16] یعنی جب کسی قوم کی شدت کفر و سرکشی کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو اس کا فنا کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے تو پہلے کسی رسول کے ذریعے سے اسے ایمان و اطاعت احکام کا حکم دیا جاتا ہے اور سب سے پہلے اس قوم کے امراو اغنیاء اس حکم کو توڑتے ہیں۔ یعنی نافرمانی خوشحال لوگوں سے شروع ہوتی ہے پھر عوام ان کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ اور کیونکہ اللہ بندوں کا اور ان کے افعال کا خالق ہے یعنی بندے برا بھلا جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ ہی نے ان کو کرنے کی قدرت دی ہے اس لئے فرمایا کہ ہم خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ نافرمانی کرنے لگتے ہیں۔
Ayah 17:19

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو آخرت کا طالب ہو اور اس کے لئے جیسی کوشش کرنی چاہئے ویسی اس کے لئے کوشش بھی کرے اور ہو وہ مومن، تو (اس کے لئے دائمی کامیابیاں ہیں اور) ایسے ہی لوگ ہیں جن کی کوشش (اللہ کے ہاں) مقبول ہوگی۔

[17] اس آیت سے معلوم ہوا کہ عمل کی مقبولیت کے لئے چار شرطیں ہیں۔ پہلی شرط طالب آخرت ہونا یعنی خالص ثواب آخرت کی نیت جس میں اغراض نفسانی شامل نہ ہوں۔ دوسری شرط اس نیت کے لئے عمل اور کوشش کرنا۔ صرف نیت و ارادہ سے کام نہیں ہوتا جب تک اس کے لئے عمل نہ کرے۔ تیسری شرط تصحیح عمل یعنی سعی و عمل کا شریعت و سنت کے مطابق ہونا اور چوتھی شرط جو سب سے زیادہ اہم ہے وہ تصحیح عقیدہ یعنی ایمان ہے۔ ان شرائط کے بغیر کوئی عمل اللہ کے ہاں مقبول نہیں۔
Ayah 17:20

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) وہ (دنیا کے طالب) اور یہ (آخرت کے طالب) سب ہی کو ہم تمہارے رب کی بخشش سے (دنیا میں امداد) دیئے جا رہے ہیں اور تمہارے رب کی بخشش (عام ہے کسی پر) بند نہیں۔

[18] یہاں یہ قانون بیان ہوا ہے کہ نیک و بد، مومن و کافر سب کو کارخانہ ربوبیت کا فیضان مل رہا ہے۔ لہذا کفار کو دنیا کی نعمتیں حاصل ہونا ان کے اعمال کی مقبولیت کی علامت نہیں۔
Ayahs 17:21–22

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تم دیکھ لو کہ ہم نے کس طرح (دنیوی بخشش میں بلا شرط کفر و ایمان کے) بعض لوگوں کو بعض پر برتری دی ہے اور البتہ آخرت کے درجے کہیں بڑھ کر ہیں اور (اس کی) فضیلت (بھی) کہیں بڑھ کر ہے۔

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنانا ورنہ بدحال اور بےیارومددگار ہو کر بیٹھ رہو گے۔

[19] مطلب یہ ہے کہ دنیا میں اکثر کفار مومنین سے زیادہ دولت و ثروت رکھتے ہیں کیونکہ اللہ کی نظر میں یہ چیزیں قابل وقعت نہیں، اصل چیز آخرت ہے جو مقبولین بارگاہ کے ساتھ خاص ہے۔ وہ درجات کے اعتبار سے بھی بڑی ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی۔ اس لئے مومن کی نظر آخرت پر رہنی چاہئے اور اسی کے لئے اہتمام کرنا چاہئے۔
Ayahs 17:23–25

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور تمہارے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ (لوگو، ) اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک رکھو، ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچیں تو انھیں اف تک نہ کہو اور نہ ان کو جھڑکو اور ان سے ادب کے ساتھ بات چیت کرو،

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور ان کے سامنے شفقت اور انکساری کے ساتھ جھکے رہو اور ان کے حق میں (ہمیشہ) دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب، جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں پالا پرورش کیا ہے (اور میرے حال پر رحم کرتے رہے ہیں) اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

(لوگو، ) تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ اگر تم (حقیقت میں) سعادت مند ہو (اور تم سے ماں باپ کے حق میں بھولے سے فروگزاشت بھی ہوگئی ہو) وہ تم کو معاف کر دے گا کیونکہ وہ توبہ کرنے والوں کے لئے بڑا ہی بخشنے والا ہے۔

[20] یعنی ان کی کوئی بات کتنی ہی ناگوار گزرے مگر حرف شکایت زبان پر نہ لاؤ۔
Ayahs 17:26–27

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور رشتہ داروں کو (بھی) ان کا حق ادا کرو اور مسکین و مسافر کو (بھی ان کا حق دو ) اور فضول خرچی نہ کرو۔

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔

[21] یعنی رشتہ داروں اور مسکینوں کی اعانت واجب ہے۔ ان کا حق ہے کہ وہ مالداروں سے اعانت طلب کریں اور مالداروں پر لازم ہے کہ ان پر احسان رکھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر ان کی اعانت کریں۔ مسکین کے بعد ابن السبیل یعنی مسافر کا حق ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ مسافر صرف مسافر ہونے کی بنا پر حقدار بنتا ہے اس امر میں شبہ نہیں ہے کہ حالت سفر بجائے خود ایسی چیز ہے جو عام حالات میں آدمی کو دوسروں کا محتاج بنا دیتی ہے۔
Ayah 17:28

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور اگر تمہیں (ان حقداروں سے) پہلو تہی کرنا پڑے (اس بنا پر) کہ اپنے رب کی مہربانی کی جس کے تم امیدوار ہو راہ دیکھ رہے ہو، تو نرمی سے انھیں سمجھا دو

[22] یعنی تنگ دستی کی حالت میں ہو اور رزق کی جستجو کر رہے ہو۔ [23] یعنی جب وہ لوگ تم سے مالی امداد کے طالب ہوں اور عارضی طور پر تم خود اس وقت تہی دست ہو تو ایسی صورت میں ان کی دل شکنی نہ کرو اور نرمی کے ساتھ سمجھا دو ۔
Ayahs 17:29–31

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ لو اور نہ اسے بالکل ہی کھول دو ، (ایسا کرو گے) تو ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر رہ جاؤگے۔

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

تمہارا رب جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی چاہتا ہے) نپی تلی کردیتا ہے۔ بلاشبہ وہ اپنے بندوں (کے حال) سے باخبر ہے اور انھیں دیکھ رہا ہے۔

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

(لوگو، ) افلاس کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ہم ہی انھیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی۔ بیشک ان کا قتل بڑا بھاری گناہ ہے۔

[24] ہاتھ گردن سے باندھ لینا عربی میں کنایہ ہے بخل سے۔ [25] ہاتھ کھول دینا کنایہ ہے فضول خرچی سے۔
Ayah 17:32

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ یقینا وہ بڑی بےحیائی (کی بات) ہے اور (بہت ہی) برا چلن۔

[26] یہ نہیں فرمایا کہ زنا نہ کرو بلکہ فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو یعنی ان ابتدائی محرکات سے بھی بچو جو اس راستے کی طرف لے جاتے ہیں۔
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو جسے (قتل کرنا) اللہ نے حرام کیا ہے اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے والی (وارث) کو اختیار دے دیا ہے۔ سو (اسے چاہئے کہ) قتل (کا بدلہ لینے) میں زیادتی نہ کرے۔ بیشک اس کی مدد کی جائے گی۔

[27] یعنی ہم نے مقتول کے وارثوں کو قاتل کے اوپر پورا اختیار دے دیا ہے کہ وہ چاہیں تو اس سے قصاص لیں، چاہیں تو خوں بہا لیں اور اگر چاہیں تو معاف بھی کرسکتے ہیں۔ [28] یعنی یہ نہ کرے کہ جوش انتقام میں قاتل کے ساتھ غیر قاتل کو بھی قتل کر ڈالے یا قتل کے ایسے طریقے اختیار کرے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔ مثلاً قاتل کو عذاب دے کر مارنا یا آگ میں جلانا۔ [29] اس آیت سے یہ بات نکلتی ہے کہ اسلامی قانون میں قتل کے معاملے میں اصل مدعی کی حیثیت حکومت کی نہیں بلکہ مقتول کے وارثوں کی ہے۔ حکومت کا کام صرف یہ ہے کہ مقتول کے وارثوں کی مرضی ٹھیک ٹھیک نافذ کرا دے۔ حکومت مدعی صرف اس شکل میں ہوگی جب مقتول لاوارث ہو یا وارث ہوں تو سہی لیکن کسی سبب سے ان کو مقتول کے معاملے میں کوئی دلچسپی نہ رہ گئی ہو۔
Ayahs 17:34–35

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ پھٹکو مگر ہاں ایسے طریقے پر کہ (یتیم کے حق میں) بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جائے۔ اور (دیکھو، ) عہد کو پورا کیا کرو۔ بیشک (قیامت میں) عہد کی باز پرس ہوگی۔

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب ناپ کردو تو پیمانے کو پورا بھر دیا کرو اور (تول کردینا ہو تو) ترازو (کی ڈنڈی) سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ (معاملے کا) یہ بہتر طریقہ ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی (یہی) بہتر ہے۔

[30] یعنی اس کے خرچ کرنے کا ارادہ بھی نہ کرنا۔ [31] اور اپنے نفع نقصان کو خوب پہچاننے لگے اس وقت اس کی جائیداد اس کے حوالے کردی جائے گی۔
Ayahs 17:36–38

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جس بات کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ لگو۔ (یاد رکھو، ) کان، آنکھ اور دل ان سب سے (قیامت کے دن) باز پرس ہونی ہے۔

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر اکڑ کر نہ چلو۔۔ یقینا تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو۔

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یہ سارے برے کام تمہارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں۔

[32] یعنی بلا تحقیق ہر سنی سنائی بات کے پیچھے نہ ہو لیا کرو۔