16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 16:1–2

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

اللہ کا حکم آپہنچا، پس اس کے لئے جلدی نہ مچاؤ۔ پاک اور برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کررہے ہیں۔

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہ اپنے حکم سے فرشتوں کے ذریعے وحی اپنے جس بندے پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے (اس ہدایت کے ساتھ) کہ لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ کردو کہ ہمارے سوا کوئی معبود نہیں، پس ہم سے ڈرو۔

[1] نبی ﷺ جب کفار مکہ کو اس حقیقت سے آگاہ فرماتے کہ میں جس بات کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں اگر تم نے اسے قبول نہ کیا تو مہلت کی مدت گزر جانے کے بعد تم پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا تو سرکش لوگوں کی طرف سے آپ کو یہ جواب ملتا کہ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ لاتے کیوں نہیں۔ اس پر ارشاد ہوا کہ عذاب الٰہی کا فیصلہ ہوچکا ہے لہذا اس کے لئے جلدی نہ مچاؤ۔ سنت الٰہی چلی آرہی ہے کہ کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت ہی میں یہ بات مضمر ہوتی ہے کہ جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے وہ نجات پائیں گے اور جو لوگ اس کی تکذیب کریں گے وہ ہلاک کردیئے جائیں گے۔ رسول حق و باطل کے درمیان امتیاز کے لئے ایک کسوٹی اور اتمام حجت کا آخری ذریعہ ہوتا ہے۔ اسی لئے رسول کی بعثت کے بعد اس قوم کے لئے دو ہی راہیں باقی رہ جاتی ہیں، یا تو لوگ اس پر ایمان لائیں اور نجات حاصل کریں ورنہ پھر اللہ کی پکڑ میں آئیں اور اپنی سرکشی کا برا انجام دیکھیں۔ [2] یعنی لوگ اس خبط میں مبتلا نہ رہیں کہ جن ہستیوں کو یہ اللہ کا شریک بنائے بیٹھے ہیں وہ انھیں عذاب سے بچا لیں گی۔ اللہ ان کے بنائے ہوئے شریکوں سے پاک و برتر ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔
Ayah 16:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔ وہ بہت بلندو برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کررہے ہیں۔

[3] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 25 صفحہ 328۔
Ayah 16:4

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا پھر وہ دیکھتے ہی دیکھتے کھلم کھلا (اللہ ہی کے مقابلے میں) ایک جھگڑالو ہستی بن گیا۔

[4] یعنی منی کی بوند سے۔ [5] اس آیت میں قدرت الٰہی کی اس کرشمہ سازی پر توجہ دلائی ہے کہ اللہ نے نطفے کے ایک حقیر قطرے سے انسان کو پیدا کیا ہے وہ خود اللہ ہی کے مقابلہ میں جھگڑنے پر اتر آتا ہے۔ جس میں بحث و نزاع کی قوت ہوتی ہے اور جو بال کی کھال نکالنے لگتا ہے۔
Ayahs 16:5–7

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور اس نے چوپائے پیدا کئے جن میں تمہارے جاڑے کا سامان بھی ہے اور طرح طرح کے فائدے بھی اور ان میں سے (بعض کو) تم کھاتے (بھی) ہو

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور جب تم شام کے وقت انھیں (میدانوں سے چرا کر) واپس لاتے ہو اور جب صبح کو (میدانوں میں) چرانے لے جاتے ہو تو ان کی وجہ سے تمہارے لئے رونق (بھی) ہے۔

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور تمہارے بوجھ (بھی) اٹھا کر ایسے (دور دراز) شہروں تک لے جاتے ہیں جہاں (تم خود بھی) نہیں پہنچ سکتے تھے مگر بڑی جانکاہی کے ساتھ۔ بلاشبہ تمہارا رب بڑا ہی شفیق (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[6] یعنی جن کی کھال اور اون میں۔ [7] یعنی کوئی چوپایہ ہل چلانے کے کام آتا ہے، کوئی سواری کے، کوئی باربرداری کے اور کسی کی جلد سے جوتے، بکس اور دوسری قسم کا چرمی سامان بنتا ہے، وقس علیٰ ہذا۔
Ayahs 16:8–11

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور (اس نے) گھوڑے اور خچر اور گدھے (پیدا کئے) تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (ویسے سواری کے علاوہ) یہ چیزیں تمہارے لئے (موجب) زینت (بھی) ہیں اور وہ (ایسی بہت سی چیزیں) پیدا کرتا رہتا ہے جن کی تمہیں خبر تک نہیں۔

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اللہ ہی کے لئے ہے سیدھا راستہ بتانا جب کہ راستے ٹیڑھے بھی (موجود) ہیں۔ وہ اگر چاہتا تو تم سب کو (ایک ہی) راہ دکھا دیتا (اور مختلف راہیں یہاں پیدا ہی نہ ہوتیں۔ لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ مختلف راہیں ہوئیں کیونکہ اس کی حکمت کا ایسا ہی فیصلہ ہوا) ۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لئے پانی برسایا، اس میں سے کچھ تو (تمہارے) پینے کا ہے اور (کچھ ایسا ہے کہ) اس سے درخت (پرورش پاتے ہیں) جن (کے جنگلوں) میں تم (اپنے مویشیوں کو) چراتے ہو۔

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

اس (پانی) سے وہ تمہارے لئے (ہر طرح کے غلوں کی) کھیتیاں بھی اگاتا ہے اور زیتون، کھجور، انگور اور ہر طرح کے پھل (بھی پیدا کرتا ہے) ۔ ان چیزوں میں ان لوگوں کے لئے (اللہ کی قدرت و حکمت کی بڑی) نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں۔

[8] اس میں وہ تمام چیزیں آگئیں جو آدمی کے نفع و راحت اور آسائش کے کام آتی ہیں اور اس وقت تک موجود نہیں ہوئی تھیں اور اللہ تعالیٰ کو ان کا پیدا کرنا منظور تھا، جیسے دخانی جہاز، ریلیں، موٹر، ہوائی جہاز، برقی آلات اور معلوم نہیں اس کے علاوہ اسے کیا کیا پیدا کرنا منظور ہے۔
Ayahs 16:12–13

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اسی نے تمہارے لئے رات اور دن اور سورج اور چاند مسخر کردیئے اور (اسی طرح) ستارے (بھی) اس کے حکم سے مسخر ہوگئے ہیں۔ بلاشبہ اس میں (بڑی) نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور (بہت سی) رنگ برنگ کی چیزیں بھی (مسخر کردی ہیں) جنہیں اس نے تمہارے لئے زمین پر پھیلا دیا۔ بلاشبہ ان میں (بھی) نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو نصیحت پکڑنے والے ہیں۔

[9] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ابراہیم حاشیہ 18 صفحہ 585۔
Ayahs 16:14–15

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) وہی ہے جس نے سمندر تمہارے لئے مسخر کردیا تاکہ اس میں سے تروتازہ گوشت (نکال کر) کھاؤ اور اس میں سے (موتیوں کا) گہنا نکالو جنہیں تم پہنتے ہو۔ نیز تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں پانی کو پھاڑتی ہوئی سمندر میں چلی جا رہی ہیں تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور (اس کی نعمتوں کی قدر بجا لا کر) شکرگزار بنو۔

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اسی نے زمین میں پہاڑ رکھ دیئے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈگمگانے نہ لگے اور (اسی نے) نہریں (رواں کیں) اور (قدرتی) راستے (نکال دیئے) تاکہ تم (تری اور خشکی کی راہیں طے کر کے) منزل مقصود کو پہنچو۔

[10] یعنی حلال دریائی جانوروں کا گوشت۔ [11] یعنی ان بحری سواریوں سے تجارت کرو۔
Ayahs 16:16–20

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور (اسی نے قطع مسافت کے لئے زمین میں طرح طرح کی) علامتیں (رکھ دیں) اور ستاروں سے بھی لوگ رہنمائی پاتے ہیں۔

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

پھر (بتلاؤ کہ) جو (خدا اتنی مخلوقات) پیدا کرے وہ اس جیسا ہوجائے جو پیدا نہیں کرتا ؟ پھر کیا تم لوگ (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے ؟

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گننی چاہو تو (وہ اتنی ہیں کہ کبھی) گن نہ سکو۔ بلاشبہ اللہ بڑا ہی غفورُ رَّحیم ہے۔

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو اللہ (سب کچھ) جانتا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اللہ کے سوا جن (ہستیوں) کو یہ لوگ (حاجت روا سمجھ کر) پکارتے ہیں (ان کا حال یہ ہے کہ) وہ کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے اور خود کسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔

[12] یعنی راستوں کی شناخت کے لئے ٹیلے، پہاڑیاں، درخت، چشمے وغیرہ سب علامات راہ (Land Marks) کا کام انجام دیتے ہیں۔ [13] یہاں تک بہت سی نشانیاں جو پے درپے بیان کی گئی ہیں ان سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ جو پروردگار ہستی انسان کی تمام جسمانی ضرورتوں اور آسائشوں کا انتظام کررہی ہے تو کیا ضروری نہ تھا کہ انسان کی روحانی سعادت و زندگی کا بھی سروسامان کردیتی ؟ جس اللہ نے تمہاری مادی زندگی میں تمہاری رہنمائی کے لئے جو کچھ انتظامات کئے ہیں کیا وہ تمہاری اخلاقی زندگی سے اتنا بےپروا ہوسکتا ہے کہ تمہاری ہدایت کا کچھ بھی انتظام نہ کرے ؟ یہی سروسامان و انتظام ہے جو ہدایت وحی اور بعثت رسل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
Ayahs 16:21–23

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

وہ مردہ ہیں نہ کہ زندہ، اور (ان کو اتنی بھی) خبر نہیں کہ کب (دوبارہ زندہ کر کے انہیں) اٹھایا جائے گا۔

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

(لوگو، ) تمہارا معبود تو ایک ہی معبود ہے (اس کے سوا کوئی نہیں) ۔ پھر جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل (معقول بات سے) منکر ہو رہے ہیں اور وہ (سچائی کے مقابلے میں) گھمنڈ کر رہے ہیں۔

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

یہ لوگ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں اللہ یقینا (سب کچھ) جانتا ہے۔ وہ غرور کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔

[14] آیت کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ جن معبودان باطل کی تردید کی جا رہی ہے وہ نہ تو لکڑی یا مٹی کے بت ہیں اور نہ ہی جن و فرشتے۔ کیونکہ بتوں کے معاملے میں مرنے کے بعد زندہ کر کے اٹھائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہے جن و فرشتے تو وہ زندہ ہیں۔ لہذا جن ہستیوں کو حاجت روا سمجھ کر پکارا جاتا ہے وہ لامحالہ گزرے ہوئے انسان ہی ہوسکتے ہیں جیسے انبیاء اولیائے کرام اور بزرگان دین وغیرہ۔ جن کو نہ معلوم کیا کیا قرار دے کر اپنی حاجت روائی کے لئے پکارنا شروع کردیتے ہیں چناچہ مشرکین عرب کے بہت سے معبود گزرے ہوئے انسان ہی تھے۔ بخاری میں سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ ود ' سواع ' یغوث ' یعوق ' نسریہ سب گزرے ہوئے اولیاء کے نام ہیں جن کے بعد کی نسلوں نے بت بنا لئے اور ان کی پوجا کرنے لگے۔ اسی طرح کی روایات مشرکین عرب کے مشہور بتوں لات اور عزیٰ ، اساف اور نائلہ کے بارے میں بھی ہیں۔
Ayahs 16:24–27

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے (قرآن کے بارے میں) پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے (یہ) کیا چیز نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ (کچھ نہیں، ) محض اگلوں کے قصے ہیں۔

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

(ان کے اس کہنے کا) نتیجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن (اپنے گناہوں کا) پورا پورا بوجھ اٹھائیں اور ان لوگوں کے بوجھ کا بھی ایک حصہ جنہیں (اس طرح کی باتیں کہہ کر) یہ علم سے کام لئے بغیر گمراہ کررہے ہیں۔ تو دیکھو، کیا ہی برا (بوجھ) ہے جو یہ اپنے اوپر لادے جا رہے ہیں !

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

ان سے پہلے بھی (بہت سے) لوگوں نے (دعوت حق کے خلاف) چالیں چلی تھیں لیکن (کیا نتیجہ نکلا ؟ ) اللہ نے ان (کے منصوبوں) کی (ساری) عمارت جڑ سے اکھیڑ کر رکھ دی پس ان کے اوپر (انہی کی بنائی ہوئی) چھت آ گری اور ان پر عذاب اس طرف سے آیا جدھر سے (آنے کا) انھیں گمان بھی نہ تھا۔

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر (اسی پر بس نہیں، ) قیامت کے دن اللہ انھیں (اور بھی) رسوا کرے گا اور (ان سے) پوچھے گا کہ (بتلاؤ) کہاں ہیں وہ ہمارے شریک جن کے بارے میں تم (ایمان والوں سے) لڑا کرتے تھے ؟ (اس وقت) وہ لوگ جنہیں دنیا میں حق بات کا علم دیا گیا تھا پکار اٹھیں گے کہ بیشک آج کے دن کی رسوائی اور خرابی (سرتاسر) کافروں کے لئے ہے،

[15] باہر کے لوگ مشرکین مکہ سے قرآن کے بارے میں سوالات کیا کرتے تھے کہ یہ کس قسم کی کتاب ہے، اس کے مضامین کیا ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
Ayahs 16:28–32

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

(ان کافروں کے لئے) کہ جب فرشتے (دنیا میں) ان کی روحیں (اس حال میں) قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کررہے تھے تو اس وقت وہ جھک جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تو (اپنی دانست میں) کوئی برائی کی بات نہیں کی تھی۔ (اس پر فرشتے کہتے ہیں کہ) ہاں (تم نے ضرور کی تھی اور) اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے رہے تھے

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

پس (اب) تم جہنم کے دروازوں میں گھس جاؤ۔ تمہیں ہمیشہ (ہمیشہ) اس میں رہنا ہے۔ تو (دیکھو، ) گھمنڈ کرنے والوں کا کیا ہی برا ٹھکانا ہوا !

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور (دوسری طرف) جب متقیوں سے (قرآن کے بارے میں) پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے (یہ) کیا چیز نازل کی ہے تو کہتے ہیں، (سر تاسر) خیر (ہی خیر) ۔ (تو دیکھو، ) جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور (ان کے لئے) آخرت کا گھر (تو اس سے بھی کہیں) بہتر ہے۔ پس متقیوں کا (کیا ہی) اچھا ٹھکانا ہوا !

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

دائمی (راحت و سرور کے) باغ جن میں وہ داخل ہوں گے۔ ان (باغوں) کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی (اور) جو کچھ وہ چاہیں گے وہاں ان کے لئے (موجود) ہوگا۔ اس طرح بدلہ دیتا ہے اللہ متقیوں کو (ان کی نیک عملی کا) ۔

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

ان (متقیوں) کو جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں جب فرشتے قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں، '' تم پر سلامتی ہو، داخل ہوجاؤ جنت میں ان اعمال کے سبب جو تم (دنیا میں) کرتے رہے ہو ''۔

[16] یعنی موت کے وقت تک کفر و شرک میں مبتلا رہے تھے۔
Ayahs 16:33–34

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا (یہ منکرین) اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا تمہارے رب کا حکم ظہور میں آجائے ؟ ایسا ہی ان سے پہلے بھی لوگ کرچکے ہیں (کہ سرکشی سے باز نہ آئے یہاں تک کہ حکم الٰہی ظہور میں آگیا) ، اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے۔

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

آخر انھیں اپنے اعمال (بد) کی سزائیں ملیں اور انھیں اسی عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

[17] یعنی موت یا عذاب کے فرشتے آجائیں جس کے بعد ایمان مقبول نہیں ہوتا۔ [18] یعنی قیامت برپا ہوجائے یا عذاب دنیوی نازل ہوجائے۔
Ayahs 16:35–36

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور مشرکین کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم بغیر اس کے (حکم کے) کسی چیز کو (اپنے جی سے) حرام ٹھہرا لیتے۔ ایسے ہی (حیلے حوالے) ان سے پہلے بھی لوگ کرتے رہے ہیں۔ پھر (بتلاؤ) پیغمبروں پر صاف صاف (پیغام حق) پہنچا دینے کے سوا اور بھی کوئی ذمہ داری ہے ؟

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور (یہ واقعہ ہے کہ) ہم نے ہر امت میں (کوئی نہ کوئی) رسول ضرور مبعوث کیا (تاکہ اس پیام حق کا اعلان کردے) کہ (لوگو، ) اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت (کی بندگی) سے بچو۔ ان (امتوں) میں سے بعض کو تو اللہ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی مسلط ہوگئی۔ تو (لوگو، ذرا) زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ (رسولوں کے) جھٹلانے والوں کا کیسا (برا) انجام ہوا۔

[19] مشرکین کہتے تھے کہ اللہ کو اگر ہمارے طریقے ناپسند ہیں تو ہمیں ان چیزوں پر قدرت ہی کیوں دی، کیوں نہ ہمیں روک دیا ؟ یہ احمق اللہ کی مشیت اور اس کی رضا کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں کرتے تھے۔ خود ان کے عقائد کی رو سے بھی تو اللہ کو کچھ چیزیں پسند ہیں اور کچھ ناپسند، تو وہ اپنی ناپسندیدہ چیزوں کو واقع ہی کیوں ہونے دیتا ہے۔ [20] یعنی اللہ کے رسول اس لئے نہیں آتے کہ لوگوں سے برائی کرنے کی طاقت سلب کرلیں اور انھیں ایسا بنادیں کہ وہ برائی کر ہی نہ سکیں جب کہ اللہ کی مشیت یہی ہوئی کہ انسان کو کسی ایسی حالت پر مجبور نہ کیا جائے بلکہ ہر طرح کی حالت اختیار کرنے کی قدرت دی جائے۔
Ayahs 16:37–40

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے لئے کتنے ہی خواہش مند ہو لیکن (یہ راہ پانے والے نہیں کیونکہ) اللہ جس کو (اس کے انکار و سرکشی کی وجہ سے) گمراہ کرچکا ہے اسے ہدایت نہیں دیا کرتا اور ایسے لوگوں کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا (کہ انھیں عذاب سے بچا لے) ۔

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور (دیکھو، یہ منکرین) اللہ کی سخت سے سخت قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے اللہ اسے (زندہ کر کے) کبھی نہ اٹھا کھڑا کرے گا۔ (اے پیغمبر، ان سے کہو کہ) کیوں نہیں (کرے گا) ؟ یہ (اس کا) وعدہ ہے (اور اس کا پورا کرنا) اس پر لازم ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

(اور یہ مردوں کا جلا اٹھانا اس لئے ہوگا) کہ جن باتوں میں لوگ (دنیا میں) اختلاف کرتے رہے ہیں (قیامت کے دن) اللہ ان (کی حقیقت) کو ان پر ظاہر کردے اور تاکہ منکرین جان لیں کہ وہ (واقعی) جھوٹے تھے۔

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

(رہا مردوں کا جلا اٹھانا تو یہ ہمارے لئے کیا مشکل ہے) ہم جب کسی چیز (کے وجود میں لانے) کا ارادہ کرلیتے ہیں تو اس سے ہمارا کہنا بس اتنا ہی ہوتا ہے کہ '' ہوجا '' اور وہ ہوجاتی ہے۔

[21] یعنی اللہ کا قانون یہ نہیں ہے کہ جو شخص ہدایت کا طالب نہ ہو اور سرکشی وعناد پر اڑا ہوا ہو اسے جبراً ہدایت یافتہ بنادیا جائے۔