15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 15:1–2

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ را۔ یہ آیتیں ہیں کتاب (الٰہی) اور قرآن مبین کی۔

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

ایک وقت آنے والا ہے کہ جن لوگوں نے (اس کتاب کی سچائی سے) انکار کردیا ہے وہ تمنا کریں گے کہ کاش ہم (دنیا میں) مسلمان ہوتے۔

[1] یعنی ایسا قرآن جو اپنی ساری باتوں میں واضح اور روشن ہے۔
Ayahs 15:3–7

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) انھیں (ان کے حال پر) چھوڑ دو ، وہ کھائیں (پئیں) اور مزے اڑائیں اور (جھوٹی) امید انھیں بھلاوے میں ڈالے رکھے۔ عنقریب انھیں معلوم ہوجائے گا (کہ وہ کس دھوکے میں پڑے ہوئے تھے) ۔

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور جو بستی بھی ہم نے ہلاک کی ہے اس (کی تباہی) کے لئے ایک میعاد مقرر (پہلے سے) لکھی ہوئی تھی۔

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی قوم نہ تو اپنے وقت (مقرر) سے آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

(یہ منکرین پیغمبر سے) کہتے ہیں کہ اے شخص، جس (کا دعویٰ ہے کہ اس) پر قرآن نازل ہوا ہے، تو یقینا دیوانہ ہے۔

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

اگر تو (اپنے دعوے میں) سچا ہے تو فرشتوں کو ہمارے سامنے کیوں نہیں لے آتا ؟

[2] یعنی مرنے کے ساتھ ہی۔
Ayahs 15:8–11

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق کے ساتھ۔ اور (جب فرشتے نازل ہوں گے تو) اس وقت انھیں مہلت نہیں ملے گی۔

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بیشک ہم ہی نے یہ ذکر (قرآن) نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) یہ واقعہ ہے کہ ہم تم سے پہلے بھی اگلے (لوگوں کے بہت سے) گروہوں میں پیغمبر بھیج چکے ہیں۔

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

اور کوئی رسول ان کے پاس ایسا نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو۔

[3] یعنی وہ اللہ کا برحق فیصلہ لے کر اترتے ہیں اور اس وقت اترتے ہیں جب لوگ اندھے بہرے بن جاتے ہیں اور عذاب کے سوا ان کے لئے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ جاتی۔ اس وقت فرشتے اللہ کا فیصلہ لے کر آتے ہیں اور وہ قوم ہلاک کردی جاتی ہے۔ [4] یعنی فرمائشی نزول تو فرشتوں کا ہوتا ہی نہیں۔ فرشتے تو نافرمان قوموں پر اتمام حجت کے بعد عذاب ہی لے کر ان کی ہلاکت کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ چناچہ ان پر اگر فرشتے نازل ہوتے تو یہ لوگ معاً ہلاک کردیئے جاتے۔
Ayahs 15:12–15

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

(چنانچہ اب بھی ایسا ہو رہا ہے تو دیکھو، ) اس طرح ہم مجرموں کے دلوں میں اس (ذکر) کو (گرم سلاخ کے مانند) گزارتے ہیں۔

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

یہ اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں اور یہ دستور اگلوں سے چلا آیا ہے۔

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اگر ہم ان پر آسمان کا ایک دروازہ کھول دیں اور یہ دن دہاڑے اس (آسمان) پر چڑھ بھی جائیں (جب بھی یہ نہ مانیں گے، ) ۔

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

البتہ کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کردی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو ہوا ہے۔

[5] یعنی جو لوگ ارتکاب جرائم سے باز نہیں آتے وہ اس ذکر کو سنتے ہی بھڑک اٹھتے ہیں، گویا ایک گرم سلاخ ان کے دل کے پار ہوگئی۔
Ayahs 15:16–17

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور (دیکھو، یہ ہماری ہی کارفرمائی ہے کہ) ہم نے آسمان میں برج بنا دیئے اور اسے دیکھنے والوں کے لئے (ستاروں سے) آراستہ کیا۔

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہر شیطان مردود سے اسے محفوظ کردیا (کہ کوئی شیطان وہاں جانے نہیں پاتا) ،

[6] برج عربی زبان میں قلعے، قصر اور مستحکم عمارت کو کہتے ہیں غالباً اس سے مراد عالم بالا کے وہ خطے ہیں جن میں سے ہر خطے کو نہایت مستحکم سرحدوں نے دوسرے خطے سے جدا کر رکھا ہے اگرچہ یہ سرحدیں غیر مرئی طور پر کھچی ہوئی ہیں لیکن ان کو پار کر کے کسی چیز کا ایک خطے سے دوسرے خطے میں چلا جانا نہایت مشکل ہے۔ اس مفہوم کے لحاظ سے بروج کو محفوظ خطوں میں لینا زیادہ صحیح ہے۔
Ayahs 15:18–21

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

ہاں مگر چوری چھپے سن گن لینے کی کوشش کرے تو دہکتا ہوا شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے زمین کو پھیلا دیا (کہ انسان اور جانور اس میں بسیں) ، اور اس میں (میخ کی طرح) پہاڑ گاڑ دیئے (کہ ڈانواں ڈول نہ ہونے پائے) اور اس میں ہر چیز ایک معین مقدار سے اگائی،

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور اس میں معیشت کا سامان مہیا کردیا، تمہارے لئے بھی اور ان (مخلوقات) کے لئے بھی جن کے روزی رساں تم نہیں ہو۔

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کے ذخیرے ہمارے پاس نہ ہوں مگر ہم اسے ایک ٹھہرائے ہوئے اندازے کے مطابق ہی اتارتے ہیں۔

[7] شہاب اس ستارے کو کہتے ہیں جو رات کے وقت ٹوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ زمانہ حال کے مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کے ستارے جو خلا سے زمین کی طرف آتے ہیں ان کی تعداد کا اوسط دس کھرب روزانہ ہے جن میں سے دو کروڑ کے قریب ہر روز زمین کے بالائی خطے میں داخل ہوتے ہیں اور بمشکل ایک زمین کی سطح تک پہنچتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ شہابوں کی یہی بارش عالم بالا کی طرف شیاطین کی پرواز میں مانع ہوتی ہو۔
Ayah 15:22

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم ہی بار آور ہواؤں کو بھیجتے ہیں، پھر ہم ہی آسمان سے پانی برساتے ہیں، پھر ہم ہی وہ (پانی) تمہیں پلاتے ہیں اور تم نے اسے ذخیرہ کر کے نہیں رکھا تھا۔

[8] اصل میں لفظ لواحقہ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں حمل آور۔ پس الریاح لواقحہ کے معنی ہوئے حاملہ کردینے والی ہوائیں۔ آج سے تقریباً دو سو سال پہلے اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ تمام پھول والے پودوں میں جن کی انواع ڈھائی لاکھ کے قریب ہیں کچھ نر ہوتے ہیں اور کچھ مادہ۔ نر میں زرد رنگ کے ذرات ہوتے ہیں جو پولن (Pollen) کہلاتے ہیں۔ اگر یہ ذرات مادہ تک نہ پہنچیں تو بیج اور پھل نہیں لگتے۔ قدرت ان ذرات کو مادہ تک پہنچانے کے لئے کئی طریقے استعمال کرتی ہے۔ عموماً ہواؤں سے کام لیا جاتا ہے جو پولن کو اڑا کر مادہ پھولوں پر ڈال دیتی ہیں۔ کیونکہ پولن کی تقسیم کا سب سے بڑا ذریعہ ہوائیں ہیں، اس لئے قرآن نے انہی کے ذکر پر اکتفا کی ہے۔ قرآن میں ایک ایسی حقیقت کا ذکر جس کا انکشاف صرف دو سو سال پہلے ہوا تھا، قرآن کے منجانب اللہ ہونے کا صریح ثبوت ہے۔
Ayahs 15:23–25

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور ہم ہی (ہاں ہم ہی) جلاتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی (سب کے) وارث ہوں گے۔

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم تمہارے اگلوں کو بھی خوب جانتے ہیں اور انھیں بھی جو (تمہارے) پیچھے آنے والے ہیں۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) یقینا تمہارا رب (قیامت کے دن) ان (سب) کو (اپنے سامنے) جمع کرے گا۔ بیشک وہ حکمت والا (اور) علم والا ہے۔

[9] یعنی جب تمام انسان فنا ہوجائیں گے تو صرف ہماری ذات بابرکات رہ جائے گی اور ان کا تمام مال و متاع ہمارے قبضے میں ہوگا۔
Ayahs 15:26–28

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور یہ واقعہ ہے کہ ہم نے انسان کو سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور (اس سے) پہلے ہم جنوں کو آگ کی لپٹ سے پیدا کرچکے تھے۔

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، وہ وقت یاد کرو) جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ ہم سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک آدمی پیدا کرنے والے ہیں

[10] یعنی انسان اول آدم (علیہ السلام) ۔ [11] اصل الفاظ ہیں حماً مسنون۔ حماً عربی زبان میں اس سیاہ کیچڑ یا گارے کو کہتے ہیں جس میں بو پیدا ہوگئی ہو اور خمیر اٹھ آیا ہو۔ مسنون کے دو معنی ہیں : (1) ایسی سڑی ہوئی مٹی جس میں لیس پیدا ہوگیا ہو۔ (2) قالب میں ڈھلی ہوئی مٹی۔ [12] اصل لفظ صلصال استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں بجنے والی خشک مٹی۔ [13] آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان اول کا پتلا سڑی ہوئی لیس دار مٹی سے بنایا جو بننے کے بعد خشک ہوا اور پھر اسی خشک بجنے والی مٹی کے پتلے میں روح پھونکی گئی جیسا کہ اگلی آیت میں مذکور ہے۔ بالفاظ دیگر انسان اول کی براہ راست تخلیق (Direct Creation) کی گئی تھی۔ پھر اسی ابو البشر سے انسانی نسل چلی۔ قرآن کے اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ انسان حیوانی منازل سے ترقی کرتا ہوا بشریت کی حدود میں نہیں آیا ہے جیسا کہ آج کل کے مفسرین قرآن ڈارون (Darwin) کے نظریہ ارتقاء سے متاثر ہو کر ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں بلکہ اس کی تخلیق براہ راست ارضی مادوں سے ہوئی ہے۔
Ayahs 15:29–38

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

تو جب ہم اسے پورا بنا چکیں اور اس میں اپنی روح سے (کچھ) پھونک دیں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

چناچہ سارے فرشتوں نے سجدہ کیا

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

(اس پر اللہ نے) فرمایا، '' اے ابلیس، تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ؟ ''

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

وہ بولا، '' میرا یہ کام نہیں کہ ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے ''۔

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

فرمایا، '' نکل جا یہاں سے کہ (آج سے) تو راندہ درگاہ ہے

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور روز جزا تک تجھ پر لعنت ہے ''۔

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

وہ بولا، '' میرے رب، مجھے اس دن تک کے لئے مہلت دے جب ( تمام انسان دوبارہ) اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ''۔

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

فرمایا، '' (منظور، ) تجھے مہلت دی گئی

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

اس مقررہ دن تک کے لئے ''۔

[14] انسان کے اندر جو روح پھونکی گئی ہے وہ دراصل صفات الٰہی کا ایک عکس یا پرتو ہے اور اس پرتو کی وجہ سے انسان زمین پر اللہ کا خلیفہ قرار پایا ہے۔