14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 14:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ را ( اے پیغمبر، یہ قرآن) ایک کتاب ہے جسے ہم نے تم پر نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی میں لاؤ اس زبردست (اور) خوبیوں والے کی راہ کی طرف،

Ayah 14:2

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

(یعنی اس) اللہ (کی طرف) کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین ہے۔ (اور دیکھو، ) عذاب سخت کی مصیبت ہے کافروں کے لئے

Ayah 14:3

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کے راستے سے (لوگوں کو) روکتے ہیں اور اس میں (اپنی خواہشات کے مطابق) کجی (پیدا کرنا) چاہتے ہیں۔ یہی لوگ (ہیں جو) پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں۔

Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے کوئی پیغمبر (دنیا میں) نہیں بھیجا مگر (اس طرح کہ) وہ اپنی قوم ہی کی زبان میں (پیغام حق پہنچانے والا تھا) تاکہ ان کو (اچھی طرح) سمجھا سکے۔ پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

[1] کیونکہ اللہ بالادست ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم و دانا بھی ہے اس لئے وہ اپنی بالادستی کو اندھا دھند استعمال نہیں کرتا کہ بغیر کسی معقول وجہ کے جسے چاہے ہدایت دے دے اور جسے چاہے خواہ مخواہ بھٹکا دے۔ اس نے ہر شخص کے اندر ہدایت حاصل کرنے کی صلاحیتیں ودیعت کی ہیں۔ جو شخص ان سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے وہ ہدایت کا مستحق ہوتا ہے اور جو شخص ان کی قدر نہیں کرتا وہ گمراہی کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
Ayahs 14:5–8

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) یہ واقعہ ہے کہ ہم ہی نے موسیٰ کو (بھی) اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تھا (اور اسے حکم دیا تھا) کہ اپنی قوم کو (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی میں لاؤ اور ان کو اللہ کے (یادگار) ایام کی یاد دلاؤ۔ ان میں ہر صبروشکر کرنے والے کے لئے (عبرت و موعظت کی بڑی ہی) نشانیاں ہیں۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور (ان ہی وقتوں کا مذکور یہ بھی ہے کہ) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ (لوگو، ) اللہ نے تم پر جو احسان کئے ہیں انھیں یاد کرو جب کہ اس نے تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں (بڑی) بری تکلیفیں پہنچاتے تھے، تمہارے لڑکوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب تمہارے رب نے (اپنے اس قانون کا) اعلان کیا تھا کہ اگر تم ہمارا شکر کرو گے تو ہم تمہیں اور زیادہ (نعمتیں) دیں گے اور اگر تم نے ناشکری کی تو (پھر یاد رکھو کہ) ہمارا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ نے (ان سے یہ بھی) کہا کہ اگر تم اور جتنے لوگ (روئے) زمین پر ہیں وہ سب (کے سب مل کر بھی) کفران نعمت کریں تو اللہ (کو ذرا بھی پروا نہیں کیونکہ وہ) بےنیاز (اور) سب خوبیوں والا ہے۔

[2] یعنی وہ تاریخی ایام جن میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوموں پر عذاب نازل فرمائے اور اہل ایمان کو ان کے ظلم و ستم سے نجات بخشی۔ [3] صبر کے معنی ہیں مشکلات و مصائب کے معاملے میں جمے رہنا اور شکر کے معنی ہیں اللہ کی بخشی ہوئی قوتوں کی قدر کرنا اور انھیں ٹھیک ٹھیک کام میں لانا۔ مطلب یہ ہے کہ ان نشانیوں سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو اللہ کی آزمائشوں سے صبر اور پامردی کے ساتھ گزرنے والے اور اللہ کی نعمتوں کو ٹھیک ٹھیک محسوس کر کے ان کی قدر کرنے والے ہوں۔
Ayahs 14:9–12

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

کیا تمہیں ان لوگوں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے (گزر چکے) ہیں (یعنی) قوم نوح، عاد، ثمود اور (دوسری وہ قومیں) جو ان کے بعد ہوئیں (اور) جن کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا کہ (جب) ان کے رسول ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے منہ میں دبالئے اور کہا کہ جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہمیں اس سے انکار ہے اور جس (دین) کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس کی طرف سے ہم (سخت) الجھن ڈالنے والے شک میں ہیں۔

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے کہا، کیا (تمہیں) اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ؟ وہ تمہیں (اپنی طرف) بلا رہا ہے تاکہ تمہارے گناہ معاف کرے اور ایک مقررہ وقت تک (زندگی و کامرانی کی) مہلت دے۔ (اس پر وہ) کہنے لگے کہ تم بھی تو ہماری (ہی) طرح کے آدمی ہو۔ تم چاہتے ہو کہ جن (معبودوں) کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ان (کی پرستش) سے ہمیں روک دو ۔ (اچھا اگر ایسا ہی ہے) تو کوئی صریح سند پیش کرو۔

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ بیشک ہم تمہاری ہی طرح کے آدمی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے اور ہمارے بس میں نہیں کہ اللہ کے حکم کے بغیر تمہیں کوئی سند لا دیں اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہمارے لئے کیا (عذر ہوسکتا) ہے کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اسی نے ہماری (زندگی کی) راہوں میں ہماری رہنمائی کی ہے ؟ ہم ان ایذاؤں پر صبر کریں گے جو تم ہمیں دے رہے ہو اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔

[4] یہاں سے اب مشرکین مکہ سے خطاب شروع ہوتا ہے۔ [5] یعنی غصے میں آ کر اپنے ہاتھ کاٹنے لگے یا تعجب سے دانتوں میں انگلیاں رکھ لیں۔ [6] یعنی جس پیغام کے ساتھ تم اللہ کی طرف سے بھیجے جانے کے مدعی ہو۔
Ayahs 14:13–14

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور (آخر کار) منکرین نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تمہیں اپنے ملک سے ضرور نکال باہر کریں گے یا پھر تم ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ (جب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا) تو ان (رسولوں) پر ان کے رب نے وحی بھیجی کہ ہم ضرور (ان) ظالموں کو ہلاک کردیں گے

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ان کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے۔ یہ (صلہ) ہر اس شخص کے لئے ہے جو ہمارے حضور میں (جواب دہی کے لئے) کھڑے ہونے سے ڈرتا ہو اور ہمارے وعدئہ عذاب کا خوف رکھتا ہو۔

[7] اس کا یہ مطلب نہیں کہ انبیاء بھی کبھی کفرو شرک میں مبتلا رہ چکے ہوتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ نبوت سے پہلے پیغمبر رائج مذہب اور حکومت سے بےتعلقی رکھتے تھے اور ایک طرح کی خاموش زندگی بسر کرتے تھے اس لئے ان کی قوم کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ بہرحال ہیں ہمارے ہی مذہب پر۔
Ayahs 14:15–17

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور انہوں نے فیصلہ چاہا تھا اور ہر سرکش ضدی نامراد ہوا۔

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

(یہ تو دنیا کی سزا تھی اور) اس کے بعد (اس کے لئے) دوزخ ہے۔ (وہاں) اسے پیپ کا (سا) پانی پلایا جائے گا

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

جسے وہ گھونٹ گھونٹ پئے گا اور حلق سے اتار نہ سکے گا اور (دیکھو، ) موت ہر طرف سے اس پر آئے گی مگر وہ مرے گا نہیں اور اس کے پیچھے ایک سخت عذاب (لگا ہوا) ہے۔

[8] یعنی پیغمبروں نے۔
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر (کا رویہ اختیار) کیا ہے ان کے (نیک) اعمال کی مثال راکھ ( کے ڈھیر) کی سی ہے جسے آندھی کے دن ہوا لے اڑے۔ (اسی طرح) جو کچھ انہوں نے (اپنے نیک اعمال کے ذریعے دنیا میں) کمایا ہے ان میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہ آئے گا۔ یہی پرلے درجے کی گمراہی ہے۔

[9] کیونکہ ان کے اعمال روح ایمان سے یکسر خالی ہوں گے اور بغیر ایمان کے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی عمل قابل قبول نہیں۔
Ayahs 14:19–21

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

(لوگو، ) کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے ؟ وہ اگر چاہے تو تم (سب) کو فنا کر دے اور (تمہاری جگہ) ایک نئی مخلوق لے آئے۔

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

یہ اللہ پر (کچھ بھی) دشوار نہیں۔

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور (قیامت کے دن) سب لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے تو جو لوگ (دنیا میں) کمزور تھے وہ ان لوگوں سے جو بڑے بنتے تھے کہیں گے کہ (دنیا میں) ہم تو تمہارے تابع تھے، پھر کیا آج اللہ کے عذاب میں سے کچھ (تھوڑا سا) ہم پر سے ہٹا سکتے ہو ؟ وہ جواب دیں گے کہ (ہم تو خود ہی عذاب میں مبتلا ہیں، ) اگر اللہ ہمیں (نجات کی) کوئی راہ دکھاتا تو (وہ راہ) ہم بھی تمہیں دکھا دیتے۔ (اب تو) روئیں پیٹیں یا صبر کریں، ہمارے لئے (دونوں حالتیں) برابر ہیں ہمیں عذاب سے کسی طرح چھٹکارا نہیں۔

[10] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 25 صفحہ 328۔
Ayahs 14:22–23

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور جب (قیامت میں) تمام مقدمات کا فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان (اہل دوزخ سے ان کے گلے شکوؤں کے جواب میں) کہے گا کہ اللہ نے تم سے (جو) وعدہ کیا تھا (وہ) سچا وعدہ تھا (سو اس نے پورا کیا) اور وعدہ تو تم سے میں نے بھی کیا تھا مگر میں نے تمہارے ساتھ وعدہ خلافی کی۔ میرا تم پر کچھ زور تو تھا نہیں (کہ تم میری پیروی پر مجبور ہوگئے) ، بات تو اتنی ہی تھی کہ میں نے تمہیں (اپنی طرف) بلایا اور تم نے میرا بلاوا قبول کرلیا۔ پس (اب) مجھے ملامت نہ کرو، ملامت اپنے آپ کو کرو۔ آج کے دن نہ تو میں تمہارا فریاد رس ہوں نہ تم میرے فریاد رس۔ تم نے (اس سے) پہلے (دنیا میں) جو مجھے (اللہ کا) شریک ٹھہرا لیا تھا تو میں (تمہارے اس فعل سے) بیزار ہوں۔ بلاشبہ ظالموں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور (بخلاف اس کے) جو لوگ (دنیا میں) ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے تھے وہ ایسے باغوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ان میں وہ اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے (اور) وہاں ان کا استقبال سلامٌ علیکم سے ہوگا۔

[11] شیطان کو عقیدۃ ً تو کوئی بھی اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا نہ اس کی پرستش کرتا ہے بلکہ لوگ اس پر لعنت ہی بھیجتے ہیں لیکن دانستہ یا نادانستہ طور پر اس کی پیروی ضرور کی جاتی ہے۔ اعتقادی شرک کے مقابلے میں یہ عملی شرک ہے۔
Ayah 14:24

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ نے کیسی (اچھی) مثال کلمہ طیبہ کی بیان فرمائی کہ وہ ایک اچھے درخت کے مشابہ ہے جس کی جڑ (زمین میں) جمی ہوئی ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں۔

[12] کلمہ طیبہ کے معنی ہیں پاکیزہ بات، مراد اس سے کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ ہے۔ [13] مراد اس سے صرف بلندی کی سمت ہے۔
Ayah 14:25

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنا پھل لاتا رہتا ہے۔ اللہ لوگوں کے لئے مثالیں (اس لئے) بیان کرتا ہے تاکہ وہ (ان سے) سبق لیں۔

[14] یعنی ایک اچھی ذات کے درخت کی طرح جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے۔ کلمہ توحید کی بھی اس طرح ایک جڑ ہوتی ہے یعنی اعتقاد جو قلب مومن میں راسخ ہوتا ہے اور اس کی شاخیں یعنی اعمال صالحہ بارگاہ قبولیت میں آسمان کی طرف لے جائے جاتے ہیں پھر ان پر رضائے الٰہی کا ثمرہ دائماً مرتب ہوتا رہتا ہے۔
Ayah 14:26

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک خراب درخت کی سی ہے کہ (جب چاہا) زمین کے اوپر (اوپر) سے اکھاڑ پھینکا، اس کے لئے کوئی جماؤ نہیں۔

[15] کلمہ خبیثہ یعنی گندی بات۔ مراد اس سے ہر وہ باطل عقیدہ ہے جس کو انسان اپنے نظام زندگی کی بنیاد بنائے، چاہے وہ بت پرستی ہو، دہریت و الحاد ہو یا کوئی اور ایسا نظریہ ہو جو انبیاء کے واسطے سے نہ آیا ہو۔
Ayahs 14:27–28

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

اللہ ایمان لانے والوں کو پکی بات کے ذریعے مضبوط رکھتا ہے دنیوی زندگی میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم نے ان لوگوں (کی حالت) پر نظر نہیں کی جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفران نعمت سے بدل ڈالا اور (آخر کار) اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لے جا اتارا

[16] یعنی کلمہ توحید۔
Ayahs 14:29–32

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

(یعنی) دوزخ جس میں وہ (سب) داخل ہوں گے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کے لئے (کچھ) ہمسر ٹھہرا لئے تاکہ وہ (لوگوں کو) اس کی راہ سے بھٹکائیں۔ (اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ چندے عیش کرلو پھر بالآخر تمہیں لوٹنا دوزخ ہی کی طرف ہے۔

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) ہمارے جو بندے ایمان لائے ہیں ان سے کہو کہ نماز قائم کریں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) پوشیدہ و علانیہ خرچ کرتے رہیں قبل اس کے کہ وہ (قیامت کا) دن آجائے جس میں (نجات کے لئے) نہ تو (کسی طرح کی) خریدو فروخت ہوگی اور نہ (کسی کی) دوستی (کام آئے گی) ۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

(لوگو) وہ اللہ (ہی) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی اتارا، پھر اس (پانی) سے تمہارے لئے (طرح طرح) کے پھل بطور رزق پیدا کئے اور تمہارے لئے کشتی کو مسخر کردیا کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلے اور تمہارے لئے نہروں کو مسخر کردیا

[17] اس آیت میں کفار قریش کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے ان میں سے ایک پیغمبر بھیج کر ان پر بڑا ہی احسان کیا تھا لیکن انہوں نے احسان کے بدلے میں ناشکری کی اور مخالفت پر اتر آئے۔ خود بھی گمراہ ہوئے اور اپنی قوم کو بھی گمراہی میں دھکیل دیا۔
Ayah 14:33

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور تمہارے لئے سورج اور چاند کو مسخر کردیا جو (ایک قانون کے تحت) برابر چلے جا رہے ہیں اور تمہارے لئے رات اور دن کو مسخر کردیا۔

[81] کشتی، دریا، سورج، چاند، رات اور دن کو آدمی کے لئے مسخر کردینے کے یہ معنی ہیں کہ اللہ نے ان کو ایسے قوانین کا پابند بنا رکھا ہے جن کی بدولت یہ انسان کے لئے نافع ہوگئے ہیں۔ اس آیت نے شرک کی بہت سی قسموں کی جڑ کاٹ دی اور اس حقیقت کو واضح کردیا کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہے سب انسان کی خدمات کے لئے ہیں نہ کہ اس لئے کہ الٹا انسان زمین آسمان، شجر حجر، دریا، سمندر، سورج اور چاند کی پرستش شروع کردے۔
Ayahs 14:34–35

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

غرضیکہ تمہیں ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو انھیں شمار نہ کر پاؤ گے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ناانصاف (اور) بڑا ہی ناشکرا ہے۔

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور (اے کفار مکہ، وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم نے (اللہ سے) دعا کی تھی کہ '' اے میرے رب، اس شہر (مکہ) کو امن والا بنا اور مجھے اور میری اولاد کو اس (بات) سے دور رکھ کہ ہم بتوں کو پوجنے لگیں۔

[19] یعنی تمہاری فطرت کی ہر مانگ پوری کی اور تمہاری زندگی کے لئے جو کچھ مطلوب تھا بقدر مناسب تمہیں دیا۔
Ayah 14:36

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے میرے رب کچھ شک نہیں کہ ان بتوں نے بہتیرے لوگوں کو گمراہ کیا ہے، (ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گمراہ کردیں) لہذا (ان میں سے) جو میری پیروی کرے وہ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو ( اس سے میرا کوئی رشتہ نہیں، اور) بیشک تو بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[20] یعنی بت ان کی گمراہی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ یہ مراد نہیں کہ بےجان بتوں نے قصداً کسی کو گمراہ کیا ہے۔
Ayahs 14:37–40

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے ہمارے رب، میں نے تیرے حرمت والے گھر کے پاس اپنی کچھ اولاد کو ایک بےآب وگیاہ میدان میں (لا کر) بسایا ہے تاکہ اے ہمارے رب، یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، پس تو (اپنے فضل و کرم سے) ایسا کر کہ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوجائیں اور انھیں (زمین کی) پیداوار سے (سامان) رزق (مہیا کر) دے تاکہ یہ (تیرا) شکر کریں۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے ہمارے رب تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں اور تجھ سے تو کوئی چیز بھی مخفی نہیں، نہ زمین میں نہ آسمان میں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

شکر ہے اس اللہ کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحقٰ (جیسے بیٹے) عطا فرمائے۔ بلاشبہ میرا رب (اپنے بندوں کی) دعائیں سننے والا ہے۔

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے میرے رب، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد کو بھی، اے ہمارے رب، میری دعا قبول فرما۔

[21] یعنی خانہ کعبہ کے نزدیک۔