13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 13:1–2

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ میم۔ را۔ (اے پیغمبر، ) یہ کتاب (الٰہی) کی آیتیں ہیں اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا جاتا ہے وہ (سرتاسر) حق ہے مگر اکثر لوگ (اس پر) ایمان نہیں لاتے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

(وہ) اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کیا (جیسا کہ) تم دیکھ رہے ہو، پھر عرش (بریں) پر متمکن ہوگیا اور سورج اور چاند کو (ایک قانون کا پابند بنا کر) کام میں لگا دیا کہ ہر ایک وقت مقرر تک کے لئے (اپنی اپنی راہ) چلا جا رہا ہے۔ وہی ہر کام کی تدبیر کرتا ہے (اور اپنی قدرت کی) نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو۔

[1] مطلب یہ ہے کہ جو قادر مطلق ہے ایسی ایسی عظیم الشان مخلوقات کے پیدا کرنے پر قادر ہے اس کے لئے انسان کا دوبارہ پیدا کرنا کچھ دشوار نہیں۔
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) وہی ہے جس نے زمین کو پھیلا دیا اور اس میں پہاڑ اور دریا رکھ دیئے اور ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کئے (اور) وہی رات کو دن کا پردہ پوش کرتا ہے۔ یقینا ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے (بڑی) نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔

[2] اس اعتبار سے بھی کہ تمام پھل دو قسموں کے ضرور ہوتے ہیں۔ مثلاً کھٹے اور میٹھے، خوش ذائقہ اور بد ذائقہ، اچھی قسم کے اور گری ہوئی قسم کے۔
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) زمین میں خطے ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے (لیکن اثرات کے لحاظ سے مختلف) اور (ان میں) انگور کے باغ ہیں، اور کھیتیاں ہیں، اور کھجور ایک جڑ سے دو شاخوں والی اور بغیر دو شاخوں کی، (حالانکہ سب) ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں اور (پھر بھی) ہم بعض پھلوں کو بعض پر مزے میں برتری دے دیتے ہیں۔ یقینا ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے (بڑی) نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

[3] یعنی ایک جڑ سے دو شاخیں یا دو درخت نکلے ہوئے۔ [4] یعنی کائنات ہستی کے ان تمام کارخانوں کا اس عجیب و غریب کارفرمائی کے ساتھ انتظام پانا کیا اس حقیقت کا اعلان نہیں ہے کہ یہاں ایک پرورش کنندہ اور مدبر ہستی موجود ہے اور یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہے ؟ اس میں رد آگیا ان '' نیچری '' مذاہب کا جو کائنات کو محض قوانین طبعی کا نتیجہ (بغیر کسی قانون ساز کے) سمجھتے ہیں۔
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اگر (کسی بات پر) تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل ان (منکروں) کا یہ قول ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہوگئے تو کیا ہم (پھر) نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا اور یہی لوگ ہیں جن کی گردنوں میں (قیامت کے دن) طوق (پڑے) ہوں گے اور یہی لوگ ہیں دوزخی، ہمیشہ (ہمیشہ) دوزخ میں رہنے والے۔

[5] جب یہ کارخانہ ہستی ایک سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہے تو یہ بغیر کسی مصلحت و مقصد کے نہیں ہوسکتا لہذا ضروری ہے کہ انسان کی زندگی صرف اتنی نہ ہو کہ پیدا ہو، کھائے پئے اور فنا ہوجائے ورنہ تدبیر و مصلحت کا یہ سارا کارخانہ باطل ہوجاتا ہے۔ پس عجیب بات یہ نہیں ہے کہ مرنے کے بعد پھر انسان پر ایک دوسری زندگی طاری ہوگی کیونکہ اس کی شہادت تو دنیا کی ہر چیز دے رہی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ انسان سمجھ لے کہ اس کی پیدائش سے جو کچھ مقصود تھا وہ صرف اتنا ہی تھا کہ ایک مرتبہ پیدا ہو، کھائے پئے اور مرجائے۔
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) یہ لوگ خیر سے پہلے شر کے لئے تم سے جلدی مچاتے ہیں، حالانکہ ان سے پہلے (منکرین حق پر اللہ کے عذاب کی عبرتناک) مثالیں گزر چکی ہیں (مگر یہ ہیں کہ عبرت نہیں پکڑتے) ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ تمہارا رب لوگوں کے حق میں باوجود ان کی زیادتیوں کے درگزر کرنے والا ہے اور اس میں شک نہیں کہ تمہارا رب سزا دینے میں سخت بھی ہے۔

[6] منکرین کہتے تھے کہ اگر انکار و بدعملی کا برا نتیجہ نکلنے والا ہے تو وہ نتیجہ کہاں ہے ؟ کیوں پیش نہیں آجاتا ؟ فرمایا کہ یہ نادان خیر سے پہلے شر مانگتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے ان کو سنبھلنے کے لئے جو مہلت دی جا رہی ہے اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مہلت کو جلد ختم کردیا جائے۔ [7] یعنی اللہ تعالیٰ میں دونوں صفات موجود ہیں جن کا ظہور اپنے اپنے موقع پر ہوتا ہے۔
Ayahs 13:7–8

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جن لوگوں نے (تمہاری رسالت کا) انکار کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری ؟ (حالانکہ) تم تو (انکار و بدعملی کے نتائج سے) محض خبردار کرنے والے ہو اور ہر قوم کا ایک رہنما ہوتا ہے (اور اپنی قوم کے رہنما تم ہو) ۔

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

(لوگو، ) اللہ (کے علم کا تو یہ حال ہے کہ وہ) ہر حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے، (جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے) اور جو کچھ پیٹ میں کمی بیشی ہوتی ہے اسے بھی اور اس کے ہاں ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر ہے۔

[8] بچے میں یا مدت میں۔ مثلاً کبھی ایک بچہ پیدا ہوتا ہے کبھی ایک سے زیادہ۔ کبھی جلدی ہوتا ہے کبھی دیر میں۔
Ayahs 13:9–11

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ ظاہر و پوشیدہ (سب) کا جاننے والا، (سب سے) بڑا اور بلندو برتر ہے۔

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

تم میں سے کوئی شخص آہستہ بات کرے یا زور سے اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا (بیٹھا) ہو یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو (اس کے نزدیک سب) یکساں ہیں۔

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

(انسان کسی حالت میں بھی ہو) اس کے آگے اور پیچھے باری باری سے آنے والے (فرشتے) مقرر ہیں (جو) اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کررہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے اللہ کسی قوم کی (اچھی) حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود ہی اپنے (اوصاف) کو نہ بدل ڈالے۔ اور جب اللہ کسی قوم پر (ان کی تغیر اوصاف کی پاداش میں) کوئی مصیبت ڈالنے کا ارادہ کرے تو وہ (کسی کے ٹالے) ٹل نہیں سکتی اور نہ اللہ کے مقابلے میں اس قوم کا کوئی (حامی و) مددگار (ہو سکتا) ہے۔

[9] یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ اللہ ہر شخص کو ہر حال میں براہ راست خود دیکھ رہا ہے بلکہ مزید برآں اللہ کے مقرر کئے ہوئے فرشتے بھی ہر شخص کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور اس کے پورے کارنامہ زندگی کا ریکارڈ محفوظ کرتے جاتے ہیں۔ لہذا جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی کے سامنے اپنے اعمال کے لئے جواب دہ نہیں دراصل اپنی شامت آپ بلاتے ہیں۔
Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہ ( اللہ) ہی ہے جو تمہیں بجلی (کی چمک) دکھاتا ہے جس سے خوف بھی ہوتا ہے اور امید بھی۔ اور (وہی ہے جو پانی سے بھرے ہوئے) بوجھل بادلوں کو اٹھاتا ہے

[10] خوف اس لئے کہ کہیں گر کر سامان ہلاکت نہ بن جائے اور امید اس بات کی کہ اب تیز بارش ہوگی اور اس سے سرسبزی اور شادابی پھیلے گی۔
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور (بادلوں کی) گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کی ہیبت سے (اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں) ۔ وہ (آسمان سے) بجلیاں بھیجتا ہے، پھر جس پر چاہتا ہے ان کو گرا دیتا ہے اور وہ (منکر ہیں کہ ان ساری نشانیوں سے آنکھیں بند کئے ہوئے) اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں اور اس کی چال بڑی زبردست ہے۔

[11] یعنی بادل کی گرج اپنے خالق کی ہستی اور قدرت پر دلالت کرتی ہے اور یہی اس کی تسبیح و تقدیس ہے۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

اسی کو پکارنا برحق ہے۔ اور جو لوگ اس کے سوا (دوسروں کو) پکارتے ہیں وہ ان (کی پکار) کا کچھ بھی جواب نہیں دے سکتے۔ (ان کی مثال ایسی ہے) جیسے ایک آدمی (پیاس کی شدت میں) اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے تاکہ پانی (آپ سے آپ) اس کے منہ میں (اڑ کر) پہنچ جائے حالانکہ وہ (کسی طرح بھی) اس (کے منہ) تک پہنچنے والا نہیں۔ اور کافروں کی دعا (اس طرح) بھٹکی (بھٹکی) پھرا کرتی ہے، (کوئی سننے والا نہیں) ۔

[12] پکارنے سے مراد حاجت روائی کے لئے پکارنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حاجت روائی اور مشکل کشائی کے سارے اختیارات اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں اس لئے دعا صرف اسی سے مانگنی چاہئے۔ [13] کافروں کی جو دعائیں بظاہر مقبول معلوم ہوتی ہیں ان واقعات کا تعلق دعا سے بالکل نہیں ہوتا۔ ان کی وہ آرزوئیں بغیر دعا کے اور نظام ربوبیت کے اسباب و مصالح کے تحت پوری ہوجاتی ہیں۔
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور جو آسمانوں اور زمین میں ہیں (سب) چاروناچار اللہ ہی کے آگے سر بسجود ہیں اور (اسی طرح) صبح شام ان کے سائے بھی (اس کے آگے جھکتے ہیں) ۔

[14] سربسجود ہونے سے مراد مطیع ہونا اور سرتسلیم خم کرنا ہے۔ [15] اشیاء کے سایوں کا سجدہ کرنے سے مراد ان کا صبح و شام مشرق و مغرب کی طرف گزرنا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ تمام چیزیں اللہ کے قانون کی پابند ہیں۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) پوچھو کہ آسمان اور زمین کا رب کون ہے ؟ (یہ تو اس کا کیا جواب دیں گے) تم ہی (ان سے) کہو کہ اللہ، (اس کے سوا کوئی نہیں) ۔ پھر (ان سے) کہو (کہ جب حقیقت یہ ہے) تو پھر یہ کیا ہے کہ تم نے اس کے سوا دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے جو خود اپنی ذات کے لئے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ؟ (ان سے) کہو کہ کہیں اندھا اور آنکھوں والا بھی برابر (ہوسکتا) ہے ؟ کیا تاریکی اور روشنی برابر (ہوسکتی) ہے ؟ یا (پھر یہ بات ہے کہ) ان لوگوں نے اللہ کے ایسے شریک ٹھہرا رکھے ہیں، جنہوں نے اس کی سی مخلوقات پیدا کر رکھی ہیں جس کے سبب پیدا کرنے کا معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا (کہ صرف اللہ ہی کے لئے نہیں دوسروں کے لئے بھی ہوسکتا ہے ؟ ) ۔ (اے پیغمبر، تم ان سے) کہہ دو کہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور وہ اکیلا (ہے، کوئی اس کا شریک نہیں اور باوجود اس کے سب پر) غالب ہے۔

[16] مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین عرب سے بھی اگر یہ سوال کرو کہ زمین و آسمان کا مالک کون ہے تو یہ باوجود اپنے شرک کے اس کے قائل نکلیں گے کہ وہ تو اللہ ہی ہے۔ پس اس پر ان کی گرفت کرو اور کہو کہ اس صحیح بنیادی عقیدے کے باوجود پھر یہ کیا بات ہے کہ تم دوسرے چھوٹے چھوٹے معبودوں کے چکر میں پھنسے ہوئے ہو ؟ [17] یعنی کافر و مومن۔ [18] یعنی کفر و ایمان۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اسی ( اللہ) نے آسمان سے پانی برسایا تو اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے، پھر سیلاب (میل کچیل کے) جھاگ کو اوپر لے آیا، اور (دیکھو، ) یہ جو (لوگ) زیور یا دوسرے سازوسامان (بنانے) کے لئے (دھاتوں کو) آگ میں تپاتے ہیں ان میں بھی ایسا ہی جھاگ (اٹھتا) ہے۔ یوں حق و باطل کی مثال اللہ بیان کرتا ہے۔ سو (میل کچیل کا) جھاگ (جو کسی کام کا نہ تھا) رائیگاں جاتا ہے اور (پانی) جو لوگوں کے لئے نافع ہے زمین میں ٹھہر جاتا ہے۔ اس طرح اللہ (لوگوں کی سمجھ بوجھ کے لئے) مثالیں بیان کرتا ہے۔

[19] حاصل ان دو مثالوں کا یہ ہے کہ جس طرح جھاگ کچھ دیر کے لئے اصل جز کے اوپر نظر آتا ہے لیکن آخر کار وہ ناکارہ سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے اور اصل چیز باقی رہ جاتی ہے اسی طرح گو باطل چند روز کے لئے حق پر غالب آجائے لیکن انجام کار باطل مغلوب ہی ہو کر رہتا ہے اور حق باقی و ثابت رہتا ہے۔
Ayahs 13:18–20

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مان لیا ان کے حق میں بہتر (ہی بہتر) ہے اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا (ان کے تمام اعمال رائیگاں جائیں گے اور قیامت کے دن ان کا یہ حال ہوگا کہ) وہ اگر (سارے کا) سارا جو روئے زمین پر ہے ان کے اختیار میں ہو اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور، تو (عذاب سے بچنے کے لئے) وہ اس کو (خوشی سے) فدیہ میں دے ڈالیں۔ یہی لوگ ہیں جن سے بری طرح حساب لیا جائے گا اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہی ہے وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو (اس حقیقت کے مشاہدے سے) اندھا ہے ؟ نصیحت تو بس دانش مند لوگ ہی قبول کرتے ہیں۔

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

(یہ) وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اپنا عہد (عبودیت) پورا کرتے ہیں اور اس عہد کو نہیں توڑتے،

[20] عہد سے مراد وہ عہد ہے جو انسان روز ازل اللہ سے کرچکا ہے اور جس کا ذکر سورة اعراف کی آیت 172 میں کیا گیا ہے۔
Ayahs 13:21–30

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور (یہ) وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے جن (تعلقات) کو جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے انھیں جوڑے رکھتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے اور (قیامت کے دن) سخت حساب (لئے جانے) کا اندیشہ رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی رضا مندی کے لئے صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ روزی ہم نے انھیں دے رکھی ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں، پوشیدہ طور پر بھی اور علانیہ بھی، اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں۔ (بلاشبہ) آخرت کا گھر انہی لوگوں کے لئے ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

(یعنی) ہمیشگی کے باغ جن میں وہ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں گے (سب ان کے ساتھ جائیں گے، ) اور (جنت کے ہر) ہر دروازے سے فرشتے ان کے پاس آئیں گے۔

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

(اور ان سے کہیں گے، ) سلامتی ہو تم پر، (دنیا کی زندگی میں) جو تم صبر کرتے رہے ہو (یہ) اسی کا صلہ ہے۔ پس کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر !

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن (تعلقات) کے جوڑے رکھنے کا حکم اللہ نے دیا ہے انھیں کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے (آخرت میں بہت) برا ٹھکانا ہے۔

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی چاہتا ہے) نپی تلی کردیتا ہے۔ اور یہ لوگ دنیوی زندگی میں مگن ہیں حالانکہ دنیوی زندگی آخرت کے مقابلے میں متاع (حقیر) کے سوا کچھ بھی نہیں۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جن لوگوں نے (تمہاری رسالت کا) انکار کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری ؟ (تم ان سے) کہو کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور اپنی طرف پہنچنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

(ایسے ہی لوگ ہیں) جو ایمان لاتے ہیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں۔ یاد رکھو، اللہ کے ذکر ہی سے دل چین پاتے ہیں۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام (بھی) کئے ان کے لئے (آخرت میں) خوشحالی ہے اور بہت اچھا ٹھکانا۔

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر، جس طرح ہم نے اور پیغمبر بھیجے تھے) اسی طرح ہم نے تمہیں بھی ایک (ایسی) امت میں (پیغمبر بنا کر) بھیجا ہے جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں، تاکہ تم ان لوگوں کو وہ (کتاب) پڑھ کر سناؤ جو ہم نے تم پر وحی کی ہے ہرچند کہ وہ ( اللہ) رحمان کا انکار کررہے ہیں۔ تم (ان سے) کہو کہ وہی ( اللہ) میرا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اس کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔

[21] یعنی اس کی بندگی سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور اس کی صفات اور اختیارات و حقوق میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں۔
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اگر کسی قرآن (کی برکت) سے پہاڑ چلنے لگتے یا زمین کی (بڑی بڑی) مسافتیں طے ہوجاتیں یا مردے بول اٹھتے (تو ضرور اس قرآن سے بھی ایسا ہی ہوتا) ، مگر نہیں، سارا اختیار اللہ ہی کو ہے۔ پھر کیا اہل ایمان (جو کفار کے فرمائشی معجزوں کی طلب کے جواب میں کسی معجزے کی آس لگائے بیٹھے ہیں) یہ جان کر مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا ؟ اور جن لوگوں نے کفر (کا رویہ اختیار) کیا ہے ان کو ان کے کرتوتوں کی پاداش میں کوئی نہ کوئی مصیبت پہنچتی ہی رہے گی یا ان (کو نہ پہنچے گی تو ان) کے گھر کے قریب آ نازل ہوگی، یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ بلاشبہ اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

[23] بہت سے سادہ دل مسلمان یہ تمنا کئے ہوئے تھے کہ اگر کفار کی فرمائش پر معجزات کا ظہور ہوجاتا تو شاید وہ ایمان لے آتے۔ ان کے جواب میں ارشاد ہو رہا ہے کہ اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی کہ ہر انسان کو اس کی طرف سے کسی طلب کے بغیر اور غیر شعوری طور پر ازخود ہدایت ہوجائے تو اس کے لئے معجزوں کی کیا حاجت تھی۔ یہ کام تو اس طرح بھی ہوسکتا تھا کہ اللہ سارے انسانوں کو مومن ہی پیدا کردیتا لیکن جب اللہ نے ہر انسان کے لئے طلب ہدایت لازمی رکھ دی ہے اور اس دنیا کو اس کے لئے دارالامتحان بنا رکھا ہے تو اب ان معاندین سے جن پر دین کی حقانیت روز روشن کی طرح واضح ہوچکی ایمان کی توقع ہی عبث ہے۔ [32] یعنی وعدہ قیامت۔
Ayahs 13:32–33

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تم سے پہلے بھی پیغمبروں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے مگر ہم نے (اپنے مقررہ قانون کے مطابق) پہلے انھیں ڈھیل دی پھر انھیں پکڑ لیا۔ تو دیکھ لو ہماری سزا کیسی (سخت) تھی۔

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

پھر کیا وہ (ہستی) جو ہر جان پر نگاہ رکھتی ہے کہ اس نے (اپنے عملوں سے) کیسی کمائی کی (ان ہستیوں کے برابر ہوسکتی ہے جنہیں ان لوگوں نے معبود بنا رکھا ہے ؟ ) اور انہوں نے اللہ کے لئے شریک ٹھہرا رکھے ہیں۔ (اے پیغمبر، ان سے) کہو کہ ان (شریکوں) کے نام تو لو (کہ وہ کون ہیں ؟ ) یا تم اللہ کو ایسے شریکوں (کے ہونے) کی خبر دے رہے ہو جنہیں وہ جانتا (تک) نہیں (کہ) زمین میں (کدھر بستے ہیں) ، یا محض ایک دکھاوے کی بات ہے (جس کی تہہ میں کوئی اصلیت نہیں، ) اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے ان کی نظر میں ان کا مکر خوشنما کر دکھایا گیا ہے اور (یوں) وہ راہ (راست) سے روک دیئے گئے ہیں۔ اور جس کو اللہ گمراہ کرے تو کوئی اس کا راہ دکھانے والا نہیں۔

[24] اس شرک کو مکر اس لئے کہا گیا کہ کچھ چالاک لوگوں نے عوام کی کمائیوں میں حصہ بٹانے کے لئے کچھ معبود گھڑ لئے، لوگوں کو ان کا معتقد بنایا اور اپنے آپ کو ان کا نمائندہ ٹھہرا کر اپنا الو سیدھا کرنا شروع کردیا۔
Ayahs 13:34–36

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان لوگوں کے لئے دنیا کی زندگی میں (بھی) عذاب ہے اور آخرت کا عذاب (دنیا کے عذاب سے بھی) زیادہ سخت ہے اور اللہ (کے غضب) سے کوئی بھی ان کو بچانے والا نہیں۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

متقی انسانوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ (جیسے ایک باغ ہے اور) اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (جن کی آبیاری اس باغ کو ہمیشہ سرسبز و شاداب رکھتی ہے) ، اس کے پھل دائمی ہیں اور (اسی طرح) اس (کے درختوں) کا سایہ۔ یہ ہے انجام ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ کی راہ اختیار کی اور کافروں کا انجام (یہ ہے کہ ان کے لئے دوزخ کی) آگ ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جن لوگوں کو ہم نے (پہلے) کتاب دی تھی وہ اس (کتاب) سے خوش ہیں جو تم پر نازل ہوئی ہے اور ان جماعتوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اس کے بعض حصوں کا انکار کرتے ہیں۔ تم (ان منکرین سے) کہہ دو کہ مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور کسی کو اس کا شریک نہ کروں۔ میں (تم سب کو) اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔

[25] یہ ذکر ان لوگوں کا ہے جو سچے اہل کتاب تھے اور صحیح معنی میں اپنے دین و شریعت کے پیرو تھے۔ جب قرآن کی دعوت ان کے پاس پہنچی تو وہ بلا تامل ایمان لے آئے۔
Ayahs 13:37–38

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اسی طرح ہم نے یہ فرمان عربی (تم پر) نازل کیا ہے (تاکہ یہ اہل عرب آسانی سے سمجھیں، ) اور اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے ان کی خواہشوں کی پیروی کی تو (پھر) اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حمایتی ہوگا اور نہ (اس کی پکڑ سے) کوئی بچانے والا۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) یہ واقعہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بھی (بہت سے) رسول بھیجے تھے اور ان کو ہم نے بیوی بچوں والا ہی بنایا تھا۔ اور کسی رسول کے بس میں یہ نہ تھا کہ ایک آیت بھی بغیر اللہ کے حکم کے لاسکے۔ ہر زمانے کے لئے ایک کتاب ہے۔

[26] یہ کفار کے اعتراض کا جواب ہے جو وہ رسول اللہ ﷺ پر کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ آپ نبی ہوتے تو دنیا ترک کردیتے اور بیوی بچے نہ رکھتے۔ لہذا فرمایا کہ بیوی بچے رکھنا نبوت کے منافی نہیں جو رسول پہلے آ چکے ہیں وہ بھی نکاح کرتے تھے، ان کے بھی بیویاں اور بچے تھے۔ خود قریش ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہونے پر فخر کرتے تھے۔
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

اللہ جس حکم کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) باقی رکھتا ہے اور اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔

[27] یعنی لوح محفوظ کہ سب احکام اسی میں درج ہیں۔
Ayah 13:40

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جس بات کا ہم ان سے وعدہ کررہے ہیں اس کا کچھ حصہ ہم (تمہاری زندگی میں) تمہیں دکھا دیں یا (اس کے ظہور میں آنے سے پہلے) ہم تمہیں وفات دے دیں بہرحال تمہارے ذمہ (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمہ (ان سے) حساب لینا ہے۔

[28] یعنی انکار و بدعملی کے نتائج کے ظہور کا۔ [29] یعنی کفار مکہ سے۔