12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 12:1–2

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ را۔ یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

بیشک ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم (عرب کے لوگ مادری زبان ہونے کی وجہ سے اسے بخوبی) سمجھ سکو (اور تمہارے ذریعے سے دوسرے لوگ اسے سمجھیں) ۔

[1] قرآن کے اصل معنی ہیں پڑھنا۔ یہ مصدر ہے قَرَأَ یَقْرَأُ سے۔ مصدر کو جب نام کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مصدری معنی میں بدرجہء کمال کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ پس کتاب کا نام قرآن رکھنے کا مطلب یہ ہوا کہ یہ بکثرت پڑھی جانے والی کتاب ہے۔
Ayahs 12:3–4

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) ہم تمہیں اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے ایک بہترین قصہ سناتے ہیں، ورنہ اس سے پہلے تم اس سے بالکل ہی بیخبر تھے۔

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

(یہ اس وقت کا ذکر ہے) جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا '' ابا جان، میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو (خواب میں) دیکھا ہے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ یہ سب مجھے سجدہ کررہے ہیں ''

[2] یوسف (علیہ السلام) بن یعقوب (علیہ السلام) بن اسحاق (علیہ السلام) بن ابراہیم (علیہ السلام) ، پیغمبر زادے اور خود بھی پیغمبر تھے۔ یہ شرف نبوت خاندان میں تین پشتوں سے چلا آ رہا تھا۔ [3] تورات میں ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی عمر سترہ برس کی تھی جب خواب کا معاملہ پیش آیا۔
Ayah 12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

(باپ نے) کہا، '' بیٹا، کہیں یہ خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہہ دینا ورنہ وہ تیرے ساتھ کوئی چال چل کر رہینگے۔ اس میں شک نہیں کہ شیطان انسان کا صریح دشمن ہے (اسے تیرے بھائیوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے کیا دیر لگتی ہے) ۔

[4] یوسف (علیہ السلام) کے دس بھائی سوتیلے تھے اور ایک سگا بھائی ان سے چھوٹا تھا۔ یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کو سب بیٹوں سے زیادہ چاہتے تھے اور یہ بات سوتیلے بھائیوں پر بہت شاق تھی۔ اسی لئے یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو روکا تھا کہ اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہیں۔ خواب میں گیارہ ستاروں سے مراد یوسف (علیہ السلام) کے گیارہ بھائی اور سورج اور چاند سے مراد یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی بیوی (یوسف (علیہ السلام) کی سوتیلی ماں) ہیں۔
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور (جیسا تو نے خواب میں دیکھا ہے) اسی طرح تیرا رب تجھے برگزیدہ کرے گا اور معاملہ فہمی اور حقیقت رسی کی تعلیم دے گا اور اپنی نعمت تجھ پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا جیسا کہ وہ اس سے پہلے تیرے بزرگوں ابراہیم اور اسحاق پر پوری کرچکا ہے۔ بلاشبہ تیرا رب (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے ''۔

[5] اصل میں '' تاویل الاحادیث '' کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کے معنی محض تعبیر خواب ہی کا علم نہیں جیسا کہ بعض مفسرین کا خیال ہے۔ لفظ احادیث کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے، علم و حکمت و فہم کے مسائل سب اس میں شامل ہیں۔
Ayah 12:7

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ یوسف اور اس کے بھائیوں (کے قصے) میں پوچھنے والوں کے لئے (موعظت و عبرت کی بڑی ہی) نشانیاں ہیں۔

[6] مراد ہیں یہود جنہوں نے امتحان کی غرض سے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تھا۔
Ayahs 12:8–12

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

(یہ قصہ یوں شروع ہوتا ہے) جب انہوں نے (آپس میں) کہا کہ ہمارے والد کو یوسف اور اس کا بھائی (بنیامین) ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں۔ یقینا ہمارے والد صریح غلطی پر ہیں

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

(پس بہتر یہ ہے کہ) یوسف کو قتل کر ڈالو یا کسی جگہ پھینک آؤ (تو پھر) تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی اور اس کے بعد (پھر) نیک ہوجانا۔

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک بولا '' یوسف کو قتل نہ کرو۔ اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو ۔ کوئی (آتا جاتا) قافلہ اسے نکال لے (جائے) گا ''۔

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

(تب سب مل کر باپ کے پاس آئے اور) کہا کہ ابا جان، کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے (اور اسے ہمارے ساتھ کہیں جانے نہیں دیتے) حالانکہ ہم تو اس کے (دل سے) خیرخواہ ہیں ؟

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل ہمارے ساتھ اسے (جنگل میں) جانے دیجئے کہ کھائے پئے اور کھیلے کودے اور ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

[7] یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بکریاں جنگل میں چرانے لے جایا کرتے تھے۔ اس حیلے سے انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے جانا چاہا۔
Ayahs 12:13–18

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

(باپ نے) کہا '' (ایک تو) یہ بات مجھے غم میں ڈالتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور (پھر) مجھے یہ ڈر ہے (ایسا نہ ہو) کہ کہیں تم اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے ''۔

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اگر اسے بھیڑیا کھالے اور ہمارا ایک (پورا) جتھا (موجود) ہو تو تب ہم بالکل ہی گئے گزرے ہوئے۔

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

چناچہ جب وہ (اصرار کرکے) یوسف کو اپنے ساتھ لے گئے اور انہوں نے اس پر اتفاق کرلیا کہ اسے کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دیں (اور ایسا ہی کر گزرے) تو (اس وقت) ہم نے یوسف پر وحی کی کہ (تنگ دل نہ ہو، ایک وقت آئے گا کہ) تم ان لوگوں کو ان کی یہ بات جتلاؤ گے اور یہ نہیں جانتے (کہ کیا ہونے والا ہے) ۔

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

اور وہ (یوسف کو کنوئیں میں گرا کر) تھوڑی رات گئے روتے (پیٹتے) باپ کے پاس آئے

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

کہا کہ ابا جان ہم ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کے لئے دوڑ میں لگ گئے تھے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آ کر اسے کھا گیا۔ اور آپ تو ہماری بات کا یقین کریں گے نہیں اگرچہ ہم کتنے ہی سچے ہوں۔

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور وہ اس کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون (بھی لگا) لائے تھے۔ (باپ نے اسے دیکھتے ہی) کہا، '' ہاں (یہ کہو کہ) تم نے اپنے دل سے ایک بات بنا لی ہے (اور تم سمجھتے ہو چل جائے گی) ۔ خیر صبر ہی بہتر ہے، اور جو بات تم بنا رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے ''۔

[8] آیت میں خون آلودہ کرتے کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا کیونکہ اسی سے ان کا سارا جھوٹ کھل گیا تھا۔ اگر بھیڑئیے نے حملہ کیا تھا تو کرتا کیسے بچ رہا ؟ اس کے تو پرزے پرزے ہوجانے تھے۔ چناچہ یعقوب (علیہ السلام) کو کرتا دیکھتے ہی یقین ہوگیا کہ ساری کہانی من گھڑت ہے۔ علاوہ ازیں یعقوب (علیہ السلام) کو فراست نبوت سے یہ بات معلوم ہوگئی تھی کہ پچھلی بشارتیں یوسف (علیہ السلام) ہی کے ذریعے پوری ہونے والی ہیں اس لئے وہ کبھی باور نہیں کرسکتے تھے کہ اس طرح یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یعقوب (علیہ السلام) کو یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا بیان غلط ہونا معلوم ہوگیا تھا تو یوسف (علیہ السلام) کو تلاش کیوں نہ کیا۔ غالباً ان کو وحی سے اجمالاً معلوم ہوگیا ہوگا کہ ان کی قسمت میں طویل مفارقت مقدر ہے اس لئے یوسف (علیہ السلام) تلاش سے نہ ملیں گے۔
Ayahs 12:19–20

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

اور پھر (ایسا ہوا کہ) ایک قافلہ (اس جگہ) آ نکلا اور قافلہ والوں نے اپنا پانی لانے والا آدمی (کنوئیں پر) بھیجا۔ اس نے (جو) اپنا ڈول (کنوئیں میں) ڈالا (اور یہ سمجھ کر کہ پانی سے بوجھل ہوچکا ہے اوپر کھینچا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک جیتا جاگتا لڑکا اس میں بیٹھا ہے تو وہ) پکار اٹھا، '' آہا ! یہ تو ایک لڑکا (نکل آیا) ہے ''۔ اور قافلے والوں نے اسے مال تجارت سمجھ کر چھپالیا (کہ کوئی دعویدار نہ نکل آئے) اور اللہ خوب جانتا تھا جو کچھ وہ کررہے تھے۔

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور (پھر) انہوں نے اسے بہت کم داموں (یعنی) گنتی کے چند درہم میں فروخت کردیا اور وہ اس معاملے میں (کچھ زیادہ قیمت کے) خواہشمند نہ تھے۔

[9] مطلب یہ ہے کہ انہوں نے مصر پہنچتے ہی یوسف (علیہ السلام) کو نہایت حقیر قیمت کے عوض بیچ دیا۔ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو حاصل کرنے پر کچھ دام تو خرچ نہیں کئے تھے کہ اپنے دام وصول کرنے اور اس پر کچھ مزید نفع حاصل کرنے کی فکر ہوتی۔ ایک چیز مفت ہاتھ آئی تھی وہ جس قیمت پر بک گئی ان کے لیے نفع تھی۔
Ayahs 12:21–22

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور مصر کے جس شخص نے یوسف کو (قافلہ والوں سے) خریدا (وہ اسے لے کر اپنے گھر آیا اور) اپنی بیوی سے کہا، '' اس کو اچھی طرح رکھنا۔ کیا عجب کہ (بڑا ہو کر) ہمارے کام آئے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ''۔ (دیکھو، ) اس طرح ہم نے سرزمین (مصر) میں یوسف کا قدم جما دئیے تاکہ ہم اسے باتوں (خوابوں) کی تعبیر کرنا سکھائیں۔ اور اللہ اپنے ارادے (کے نافذ کرنے) پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب یوسف اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم عطا کیا اور ہم نیکو کاروں کو اسی طرح (ان کی نیک عملی کا) بدلہ دیا کرتے ہیں۔

[10] '' علم '' سے مراد وہ علم ہے جو انبیاء کو وحی کے ذریعہ سے عطا ہوتا ہے۔
Ayahs 12:23–24

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

اور (پھر ایسا ہوا کہ) جس عورت کے گھر میں یوسف (رہتا) تھا وہ اس پر (ریجھ گئی اور) ڈورے ڈالنے لگی اور (ایک دن) اس نے (گھر کے) دروازے بند کردیئے اور بولی، '' آجا ''۔ (یوسف نے) کہا، '' معاذ اللہ ! وہ (تمہارا شوہر) میرا آقا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے (اور میں یہ کام کروں ! ایسے) ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے ''۔

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور بیشک وہ (عورت) تو اس کے ساتھ ارادہ (بد) کر ہی چکی تھی اور وہ بھی اس کے ساتھ ارادہ (بد) کر بیٹھا ہوتا اگر اسے اپنے رب کی دلیل (اس وقت) نہ سوجھ گئی ہوتی۔ (تو دیکھو، ) اس طرح ہم نے پھیر دی اس سے برائی اور بےحیائی (تاکہ اس کو اس سے دور رکھیں) ۔ بلاشبہ وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھا۔

[11] رب کی دلیل سے مراد اللہ تعالیٰ کی سجھائی ہوئی دلیل ہے جس کی بنا پر یوسف (علیہ السلام) نے اس عورت کی پیش کش کو ٹھکرا دیا اور وہ دلیل پچھلی آیت میں گزر چکی ہے کہ '' تیرا شوہر میرا آقا ہے اور اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے اور میں یہ کام کروں۔ اور ایسے ظالم کبھی فلاح پایا نہیں کرتے۔ ''
Ayah 12:25

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور (پھر ایسا ہوا کہ) دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف دوڑے اور عورت نے (پکڑنا چاہا تو) پیچھے سے یوسف کا کرتہ (کھینچ کر) پھاڑ دیا اور دونوں نے عورت کے شوہر کو دروازے کے پاس (کھڑا) پایا۔ (تب عورت نے اپنا جرم چھپانے کے لئے فوراً بات بنائی اور) کہا، '' کیا سزا ہے اس آدمی کی جو تیری گھر والی کے ساتھ بدکاری کا ارادہ کرے بجز اس کے کہ اسے قید کیا جائے یا (کوئی اور) درد ناک سزا (دی جائے) ''۔

[12] آگے آگے یوسف (علیہ السلام) بھاگ کر بچنا چاہتے تھے اور پیچھے پیچھے وہ عورت دوڑ کر پکڑنا چاہتی تھی۔
Ayahs 12:26–27

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

(اس پر یوسف نے) کہا، اس نے مجھے میرے نفس (کی حفاظت) سے پھسلایا۔ (اس وقت) اس (عورت) کے کنبہ والوں میں سے گواہ (کے طور پر ایک شخص) نے شہادت پیش کی کہ یوسف کا کرتہ (دیکھا جائے، ) اگر آگے سے پھٹا ہے تو عورت سچی ہے اور یوسف جھوٹا

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہے تو عورت جھوٹی ہے اور یوسف سچا۔

[13] جدید قانونی اصطلاح میں ایسی قانونی شہادت کو قرینے کی شہادت (Circumstantial evidence) کہتے ہیں۔ یہ شخص گواہ تو صرف اس معنی میں تھا کہ اس نے فریقین کے متضاد بیانات کے متعلق فیصلے کا ایک عاقلانہ طریقہ بتلا دیا۔ مطلب یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا کرتا اگر سامنے سے پھٹا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اقدام یوسف (علیہ السلام) کی جانب سے تھا اور عورت اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اگر یوسف (علیہ السلام) کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) بھاگ کر بچنا چاہتے تھے اور عورت اس کو پیچھے سے روکنا چاہتی تھی۔
Ayahs 12:28–31

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

پس جب (عورت کے شوہر نے) یوسف کے کرتے کو پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا (تو اصلیت پا گیا اور بیوی سے) کہا، '' کچھ شک نہیں یہ تم عورتوں کے چلِتَّر ہیں اور تم عورتوں کے چلِتَّر واقعی بڑے (غضب کے) ہوتے ہیں۔

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

یوسف، اس (بات) کو جانے دے۔ اور (اے عورت، ) تو اپنے قصور کی معافی مانگ، بلاشبہ تو ہی خطاوار ہے ''۔

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور (پھر جب اس معاملے کا چرچا پھیلا تو) شہر کی عورتیں آپس میں کہنے لگیں کہ (دیکھو، ) عزیز کی بیوی اپنے غلام پر ڈورے ڈال رہی ہے کہ اسے رجھا لے۔ اس (اپنے غلام) کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہمارے نزدیک تو وہ صریح غلطی میں ہے۔

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

جب (عزیز کی) بیوی نے ان (عورتوں) کی مکارانہ باتیں سنیں تو انھیں (اپنے ہاں) بلوا بھیجا اور ان کے لئے ایک محفل کی تیاری کی اور (ضیافت میں دستور کے مطابق) ہر ایک کے آگے ایک ایک چھری رکھ دی اور (پھر عین اس وقت جب کہ وہ پھل کاٹ کر کھا رہی تھیں اس نے یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے نکل آ۔ جب (یوسف نکل آیا اور) عورتوں نے اسے دیکھا تو اس کی عظمت سے مبہوت ہو کر رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور (بےساختہ) پکار اٹھیں، '' سبحان اللہ ! یہ بشر تو نہیں ( ہو نہ ہو) یہ ضرور کوئی معزز فرشتہ ہے ''۔

[14] ان کی گفتگو کو مکا ّرانہ اس لئے کہا کہ عزیز کی بیوی پر طعن کر کے گویا اپنی پارسائی کا اظہار مقصود تھا حالانکہ یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کا شہرہ جس عورت کے کان میں پڑتا تھا ان کی دید کا اشتیاق دل میں چٹکیاں لینے لگتا تھا۔ کچھ بعید نہیں کہ طعن وتشنیع اور نکتہ چینی کرنے والیوں میں یہی غرض پوشیدہ ہو کہ عزیز کی بیوی کو غصہ دلا کر کسی ایسی حرکت پر آمادہ کریں جو یوسف (علیہ السلام) کے دیدار کا سبب بن جائے یا عزیز کی بیوی کے دل میں یوسف (علیہ السلام) کی نفرت بٹھا کر اپنی طرف مائل کرنے کا موقعہ نکالیں۔ [15] عام طور پر واقعہ یوں سمجھا جاتا ہے کہ وہ عورتیں یوسف (علیہ السلام) کا جمال صورت دیکھ کر ایسی بےخود ہوئیں کہ پھلوں کی جگہ اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے، مگر قرآن حکیم سے ایسا ثابت نہیں ہوتا۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس واقعہ کے بعد ہی دعا مانگی : والا تصرف عنی کیدھن اصب الیھن۔ اے اللہ اگر ان عورتوں کے مکرو فریب سے تو نے نہ بچایا تو ممکن ہے کہ میں ان پر جھک پڑوں۔ یہاں ان عورتوں کے معاملہ کو " کید " کہا۔ لیکن اگر وہ تاب نظارہ جمال نہ لا کر بےخود ہوگئی تھیں تو اس میں " کید " کی کونسی بات تھی ؟ پھر اللہ فرماتا ہے " فصرف عنہ کیدھن " ہم نے ان عورتوں کے کید کو اس کی طرف سے ہٹا دیا۔ پھر قید خانے میں بادشاہ کے پیا مبر سے کہاـ: ما بال النسوہ التی قطعن ایدیھن، ان ربی بکید ھن علیم یعنی پہلے اس معاملہ کو صاف کرلو کہ وہ جو عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے تو اس کی حقیقت کیا تھی ؟ میرا پروردگار ان کے مکر کو خوب جانتا ہے۔ ان دونوں مقامات میں بھی اس معاملہ کو کید سے تعبیر کیا اور آخری آیت میں تو صاف قطع ید کو یو سف (علیہ السلام) " کید " کہہ رہے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جب حسب تحریک یو سف (علیہ السلام) بادشاہ نے ان عورتوں سے معاملہ کی تحقیق چاہی تو ان لفظوں میں پوچھا : ما خطبکن اذراو دتن یوسف عن نفسہ ؟ بتلاؤ کیا حال تھا جب تم لوگوں نے یوسف (علیہ السلام) کو پھسلانا چاہا تھا ؟ یہاں وہی " راودتن عن نفسہ " کا لفظ ہے جو ان عورتوں نے امراۃ العزیز کی نسبت کہا تھا : تراود فتا ھا عن نفسہ اور دا ودتہ التی ھو فی بیتھا عن نفسہ اور ولقد راود تہ عن نفسہ فاستعصم پس اگر وہ عورتیں صورت ہی دیکھ کر محوو بیخود ہوگئی تھیں تو اس میں پھسلانے اور بہلانے کا مکر کیا ہوا ؟ اگر کہا جائے کہ ہاتھ کا ٹنے کے بعد انہوں نے پھسلانا چاہا تھا تو یہ قرآن میں کہیں نہیں ہے۔ وہاں تو صرف اس اعتراف پر معاملہ ختم ہوجا تا ہے کہ ان ھذا الاملک کریم اور بلاغت قرآنی کے خلاف ہے کہ ایک غیر متذکرہ و مجہول واقعہ کی طرف جا بجا اشارہ کیا جائے۔ پس اس آیت کی یہ تفسیر کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتی۔ صاف بات یہ ہے کہ ملامت کرنے والی عورتوں کے دلوں میں دراصل پہلے سے کھوٹ تھا۔ وہ خود یو سف (علیہ السلام) پر فریفۃ تھیں، مگر بظاہر امراۃ العزیز کو طعنہ دیا کرتی تھیں کہ ایک نو خیز غلام پر مرنے لگی اور اس کو قابو میں نہ لاسکی۔ یعنی ہم ہوتیں تو ایک ہی چلِتَّر میں پاکبازی کی ساری دھوم ختم کر دیتیں۔ فلما سمعت بمکرھن جب امراۃ العزیز نے ان کی اس مکاری کا حال سنا تو یوسف (علیہ السلام) سے مقابلہ کرا دیا کہ اچھا میں تو اس کو قابو میں نہ لاسکی۔ اگر اس کی پا کبازی ایسی ہی پھسل پڑنے والی ہے تو تم بھی اپنے سارے داؤ آزما دیکھو۔ جب یو سف (علیہ السلام) سامنے آئے تو اکبر نہان کی عصمت و پاکی کی عظمت نے ان کو قائل کردیا۔ وقطعن اید یھن جب اظہار عشق و فریفتگی کے سارے چلتِرَّ ناکام رہے تو پھر یہ کیا کہ اپنا کمال عشق جتانے کے لئے اپنے ہاتھ کاٹ لئے۔ یعنی زخم لگا کر خون بہا دیا۔ یہ بھی ایک چلتِرَّ تھا کہ نہ ما نو گے تو یہی چھری ہوگی اور ہماری جان۔ لیکن جب وہ کو ہِ عصمت اس پر بھی اپنی جگہ سے نہ ہلا تو بےاختیار پکار اٹھیں : ماھذا بشرًاط ان ھذا الا ملک کریم ! ہم نے تو وہ ناز و عشوہ دکھلائے اور وہ وہ چلتِرَّ کئے کہ کوئی کیسا ہی انسان ہوتا اپنے کو قابو میں نہیں رکھ سکتا تھا۔ لیکن یہ تو پاکی وقدوسیت کا فرشتہ ہے جس کو گناہ کا کوئی دام بھی پھنسا نہیں سکتا ! اس پر امراۃ العزیز بولی : فذٰ لکن الذی لمتننی فیہ۔ دیکھا ! یہ ہے پیکر عصمت اور مجسمہ ملکوتیت جس کے لئے مجھ کو ملامت کیا کرتی تھیں !
Ayahs 12:32–35

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

(تب عزیز کی بیوی) بولی، '' (تم نے دیکھ لیا ؟ ) یہ ہے وہ آدمی جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کررہی تھیں۔ بیشک میں نے اسے رجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچا رہا اور (اب اسے سنا کے کہے دیتی ہوں کہ) اگر اس نے میرا کہا نہ مانا (اور اپنی ضد پر اڑا رہا) تو ضرور قید میں ڈالا جائے گا اور ذلیل و خوار (بھی) ہوگا ''۔

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

(یہ سن کر) یوسف نے دعا کی کہ '' اے میرے رب، مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس بات سے جس کی طرف (یہ عورتیں) مجھے بلا رہی ہیں۔ اگر تو نے ان کے چلِتَّر کو مجھ سے دفع نہ کیا تو (عجب نہیں کہ) میں ان کی طرف جھک پڑوں اور نادانوں میں (کا ایک نادان) ہوجاؤں ''۔

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

تو (دیکھو، ) اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمائی اور ان عورتوں کے چلِتَّر کو اس سے دفع کردیا۔ بلاشبہ وہ (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر (عزیز اور اس کے) لوگوں کو یہی مناسب معلوم ہوا کہ ایک مدت کے لئے یوسف کو قید میں ڈال دیں حالانکہ وہ (اس کی پاک دامنی کی صریح) نشانیاں دیکھ چکے تھے۔

[16] یعنی اپنی ناک بچانے کے لئے انھیں مصلحت اسی میں نظر آئی کہ کچھ عرصے کے لئے یوسف (علیہ السلام) کو جیل بھیجوا دیں۔ انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ اس طرح کچھ مدت کے بعد عزیز کی بیوی کے دل سے یوسف (علیہ السلام) کا خیال بھی نکل جائے گا اور جو لوگ اس میں دلچسپی لے رہے ہیں ان کی توجہ بھی ہٹ جائے گی اور وہ خیال کریں گے کہ قصور یوسف (علیہ السلام) ہی کا تھا چناچہ اس کو سزا ملی۔