12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 12:36–56

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور (دیکھو، ایسا اتفاق ہوا کہ) یوسف کے ساتھ دو جوان آدمی (اور بھی) قید خانے میں داخل ہوئے۔ (ایک دن) ان میں سے ایک نے (یوسف سے) کہا، '' میں نے (خواب) دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کررہا ہوں ''۔ دوسرے نے کہا، '' میں نے دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے ان میں سے (نوچ نوچ کر) کھا رہے ہیں۔ (دونوں نے کہا، '' یوسف، ) ہمیں اس کی تعبیر بتاؤ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تم نیک (آدمی) ہو ''۔

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا، ('' گھبراؤ نہیں، یہاں) کھانا (جو اَب) تمہیں ملنے والا ہے وہ تم تک آنے بھی نہ پائے گا کہ اس کے آنے سے (پہلے تمہارے) خوابوں کی تعبیر تمہیں بتادوں گا۔ یہ (تعبیر خواب بھی) ان (علوم) میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا فرمائے ہیں۔ (واقعہ یہ ہے کہ) میں نے (شروع ہی سے) ان لوگوں کا دین ترک کردیا جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور اپنے باپ دادوں (یعنی) ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے دین پر چلتا رہا ہوں۔ ہم (اولاد ابراہیم) کو کسی طرح زیبا نہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک ٹھہرائیں۔ یہ (عقیدہ توحید) اللہ کا فضل ہے ہم پر اور تمام انسانوں پر، لیکن اکثر لوگ (اس کی اس نعمت کا) شکر نہیں بجا لاتے۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اے قید خانے کے رفیقو، (تم نے اس بات پر بھی غور کیا کہ بہت سے) متفرق معبود اچھے یا اللہ (جو) یگانہ (اور) سب پر غالب (ہے) ؟

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو وہ تو بس (چند) نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ نے تو ان (کے معبود ہونے) کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ حکومت تو بس ایک اللہ ہی کی ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو یہی دین (کا) سیدھا (راستہ) ہے۔ مگر (افسوس، ) اکثر لوگ نہیں جانتے۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے قید خانے کے رفیقو، (اب اپنے اپنے خوابوں کی تعبیر سن لو۔ ) تم میں سے ایک تو (بدستور) اپنے آقا (کا ساقی بنا رہے گا اور اس) کو شراب پلایا کرے گا اور دوسرا (جس نے سر پر روٹیاں رکھی دیکھی ہیں) سولی دیا جائے گا اور پرندے اس کا سر (نوچ کر) کھائیں گے جس بات کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے وہ فیصل ہوچکی '' (اور فیصلہ یہی ہے) ''۔

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور ان میں سے جس کی نسبت یوسف نے سمجھا تھا کہ رہا ہوجائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر کرنا۔ مگر شیطان نے اس کو اپنے آقا سے تذکرہ کرنا بھلا دیا۔ پس یوسف کئی برس تک قید خانے میں پڑا رہا۔

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور (پھر ایسا ہوا کہ ایک دن) بادشاہ نے (اپنے تمام درباریوں کو جمع کر کے) کہا، '' میں (خواب میں کیا) دیکھتا ہوں کہ سات گائیں ہیں موٹی (تازی، ) انھیں سات دبلی پتلی (گائیں) کھا رہی ہیں اور (اناج کی) سات بالیں (ہیں) سبز اور دوسری (سات ہیں) خشک۔ اے اہل دربار، اگر تمہیں خوابوں کی تعبیر آتی ہے تو مجھ سے میرے خواب کی تعبیر کہو۔

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

وہ بولے '' (یہ تو) پریشان خواب ہیں اور ہم (ایسے) خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے ''۔

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور ان دو (قیدیوں) میں سے جو رہا ہوگیا تھا اور (اب) اس کو ایک عرصے کے بعد (یوسف کی بات) یاد آگئی تو وہ (بادشاہ اور درباریوں کی گفتگو سن کر) بول اٹھا، '' میں (ابھی) آپ کو اس کی تعبیر بتاتا ہوں، مجھے ذرا (قید خانے میں یوسف کے پاس) بھیج دیجئے ''۔

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

(چنانچہ وہ قید خانے میں آیا اور یوسف سے کہا، ) '' اے یوسف، اے سراپا راستی، ہمیں اس (خواب) کا مطلب بتا کہ سات موٹی گایوں کو سات دبلی (گائیں) کھا رہی ہیں اور سات بالیں سبز ہیں اور دوسری (سات ہیں) خشک، تاکہ میں (ان) لوگوں کے پاس واپس جاؤں (جنہوں نے مجھے بھیجا ہے) ، کیا عجب کہ وہ (تیری قدرو منزلت) جان لیں ''۔

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا، ('' اس خواب کی تعبیر اور اس کی بنا پر جو کچھ تمہیں کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ) تم لوگ سات سال متواتر کھیتی باڑی کرتے رہو گے (اور ان برسوں میں خوب بڑھتی ہوگی) پس (جب فصل کاٹنے کا وقت آیا کرے تو) جو کچھ کاٹو تو اسے اس کی بالیوں ہی میں لگا رہنے دو (تاکہ اناج گلے سڑے نہیں، ) مگر تھوڑی مقدار کے جو تمہاری خوراک کے لئے (ضروری) ہو۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر سات برس (قحط کے) بڑے سخت آئیں گے جو اس (ذخیرے) کو کھا جائیں گے جو تم نے پہلے سے ان (برسوں) کے لئے جمع کر رکھا ہوگا بجز اس تھوڑی مقدار کے جو تم (بیج کے لئے) چھوڑو گے۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں کے لئے خوب بارش ہوگی اور (کھیتی کے علاوہ انگور بھی خوب پھلیں گے اور شراب کے لئے) لوگ اس میں (انگوروں کا) رس نچوڑیں گے ''۔

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

(جب اس آدمی نے یہ بات بادشاہ تک پہنچائی تو) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو ہمارے حضور میں لا کر حاضر کرو۔ لیکن جب (شاہی) قاصد یوسف کے پاس (یہ حکم لے کر) پہنچا تو اس نے کہا، ('' میں یوں ہی نہیں جاؤں گا، ) تم اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور (میری طرف سے) ان سے دریافت کرو کہ ان عورتوں کا معاملہ کیا تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے ؟ (میں چاہتا ہوں پہلے اس کا فیصلہ ہوجائے) ۔ بیشک میرا رب ان کے چلترَّ سے خوب واقف ہے ''۔

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

(اس پر بادشاہ نے ان عورتوں کو طلب کر کے ان سے) پوچھا، ('' صاف صاف بتلاؤ) تمہیں کیا معاملہ پیش آیا تھا جب تم نے یوسف کو رجھانے کی کوشش کی تھی ''؟ وہ بولیں، '' معاذ اللہ، ہم نے اس میں کسی طرح کی برائی نہیں پائی ''۔ (یہ سن کر) عزیز کی بیوی (بےاختیار) بول اٹھی، '' اب تو حق بات ظاہر ہو (ہی) گئی ہے۔ (ہاں) وہ میں ہی تھی جس نے یوسف پر ڈورے ڈالے تھے۔ بلاشبہ وہ بالکل سچا ہے ''۔

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

(جب یوسف کو قید خانے میں تحقیقات کے نتیجے کی خبر ملی تو اس نے کہا، ) '' یہ (سب میں نے) اس لئے (کیا) کہ (بادشاہ) جان لے کہ میں نے (عزیز کے) پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں) خیانت نہیں کی اور یہ کہ اللہ خیانت کرنے والوں کی چالوں پر کبھی (کامیابی کی) راہ نہیں کھولتا۔

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں کچھ اپنے نفس کی پاکیزگی بیان نہیں کرتا کیونکہ نفس تو (آدمی کو) بدی پر اکساتا ہی ہے الاَّ یہ کہ میرا رب (کسی پر) رحم کرے۔ بلاشبہ میرا رب بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ''۔

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

اور (پھر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو ہمارے حضور میں حاضر کرو، ہم اس کو خالص اپنے (کام کے لیے) رکھیں گے پھر جب (یوسف آیا تو) بادشاہ نے اس سے گفتگو کی (اور) کہا '' آج (سے) تم ہماری نگاہوں میں بڑے معزز اور معتبر (انسان) ہو۔ ''

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا، '' مجھے ملک کے خزانوں پر مامور کردیجیے، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں (اور) علم بھی رکھتا ہوں۔ ''

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

(چنانچہ بادشاہ نے اسے مملکت کا مختار کردیا) اس طرح ہم نے یوسف کو سر زمین (مصر) میں اقتدار بخشا کہ اس میں جہاں چاہے رہے سہے۔ ہم اپنی رحمت سے جسے چاہیں فیض یاب کرتے ہیں اور نیکو کاروں کا اجر (تو دنیا میں بھی) ضائع نہیں کرتے۔

[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)
Ayahs 12:57–58

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور (بدعملیوں سے) بچتے رہے ان کے لیے تو آخرت کا اجر (اس سے کہیں) بہتر ہے۔

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور (پھر قحط کے سالوں میں ایسا ہوا کہ) یوسف کے بھائی (غلہ خریدنے مصر) آئے اور یوسف کے پاس حاضر ہوئے تو اس نے ان کو (دیکھتے ہی) پہچان لیا اور انہوں نے اس کو نہ پہچانا۔

[18] قحط صرف مصر ہی میں نہ تھا بلکہ ہمسایہ ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آگئے تھے اور وہاں کے باشندے بھی مصر میں آ کر غلہ حاصل کرتے تھے کیونکہ یقینا اس بات کا شہرہ دور دور تک پہنچ گیا ہوگا کہ مصر میں غلے کے وافر ذخیرے موجود ہیں۔ چناچہ کنعان سے یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی غلہ حاصل کرنے کے لیے مصر پہنچے۔ غالباً یوسف (علیہ السلام) نے غلہ تقسیم کرنے کا طریقہ کار جسے آج کل کی اصطلاح میں راشننگ کہا جاتا ہے یہ رکھا ہوگا کہ بیرونی ممالک میں خاص اجازت ناموں کے بغیر غلہ نہ جاسکتا ہوگا۔ چناچہ اس طرح کا اجازت نامہ حاصل کرنے کے لئے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو ان کے سامنے پیش ہونا ہوا ہوگا۔
Ayahs 12:59–60

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

اور جب یوسف نے ان کا سامان (غلہ) تیار کروا دیا تو ان سے کہا، ('' اب کے آنا تو) اپنے (سوتیلے) بھائی کو بھی ساتھ لانا۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں پورا ناپ کردیتا ہوں اور سب سے بہتر مہمان نواز بھی ہوں۔

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

اگر تم اسے میرے پاس نہ لائے تو تمہارے لئے کوئی ناپ (غلہ) نہیں اور (اس صورت میں) تم میرے قریب (بھی) نہ آنا ''

[19] ان دس بھائیوں کو جب ان کے حصے کا پورا غلہ مل گیا تو انہوں نے عرض کیا ہوگا کہ ہمارے بوڑھے باپ اور گیارہویں بھائی کا حصہ بھی عطا ہو۔ اس پر یوسف (علیہ السلام) نے کہا ہوگا کہ تمہارے والد کے خود نہ آنے کی وجہ تو سمجھ میں آسکتی ہے کہ وہ بوڑھے ہیں لیکن بھائی کے نہ آنے کا کیا معقول سبب ہوسکتا ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ بھائی کے نام سے اس کے حصے کا غلہ لے جانا چاہتے ہو ؟ اس لئے تاکید کی کہ اگلے پھیرے میں اس بھائی کو بھی لیتے آنا جسے کہتے ہو کہ ہم گھر چھوڑ آئے ہیں ورنہ تمہارا اعتبار جاتا رہے گا اور تمہیں غلہ نہ ملے گا۔
Ayahs 12:61–67

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا، '' ہم اس کے والد سے اس کے بارے میں عرض معروض کریں گے اور ہم ضرور (اس کے لانے کا انتظام) کریں گے۔ ''

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور (یوسف نے) اپنے خادموں سے کہا، '' ان لوگوں کی (جمع) پونجی (جس کے بدلے میں انہوں نے غلہ مول لیا ہے چپکے سے) ان ہی کی بوریوں میں رکھ دو ۔ '' (یہ یوسف نے اس امید پر کیا) کہ جب یہ لوگ اپنے گھر لوٹیں گے تو اپنی (واپس کی ہوئی) پونجی پہچان لیں گے (اور اس فیاضی پر احسان مند ہوں گے) اور عجب نہیں کہ پھر دوبارہ آئیں۔

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

پھر جب وہ اپنے باپ کے پاس لوٹ کر گئے تو کہا کہ اباجان، (آئندہ) ہمارے لیے غلہ بند کردیا گیا ہے لہذا آپ ہمارے بھائی (بنیامین) کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ ہم (دوبارہ) غلہ لے کر آئیں اور اس کی حفاظت کے ہم ذمے دار ہیں۔

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

(باپ نے) جواب دیا، '' کیا میں اس کے بارے میں بھی اسی طرح تمہارا اعتبار کرلوں جس طرح پہلے اس کے بھائی (یوسف) کے بارے میں کرچکا ہوں ؟ سو بہتر محافظ (تو) اللہ (ہی) ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔ ''

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھتے (کیا) ہیں کہ ان کی پونجی بھی ان کو لوٹا دی گئی ہے۔ (یہ دیکھ کر) وہ بول اٹھے، '' ابا جان، ہمیں (اور) کیا چاہئے، (دیکھئے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں لوٹا دی گئی ہے۔ (اب ہمیں اجازت دیجئے کہ بنیامین کو ساتھ لے کر جائیں) اور اپنے اہل (و عیال) کے لیے رسد لے کر آئینگے۔ ہم اپنے بھائی کی (بھی) حفاظت کریں گے اور (اس کے حصے کا) ایک بار شتر غلہ اور لیں گے۔ یہ غلہ (جو اس مرتبہ ہم لائے ہیں) تھوڑا ہے۔

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

(باپ نے) کہا، '' میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم اللہ کی قسم کھا کر مجھ سے عہد نہ کرو کہ تم ضرور اسے میرے پاس لے آؤ گے، ہاں بجز اس کے کہ تم (خود) ہی (کہیں) گِھر جاؤ۔ '' پھر جب انہوں نے (قسم کھا کر) باپ کو اپنا قول دے دیا تو اس نے کہا، ('' دیکھو، ) ہمارے اس قول (وقرار) پر اللہ نگہبان ہے۔ ''

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور (باپ نے) انھیں (چلتے وقت) کہا، '' اے میرے بیٹو، (دیکھو، جب مصر پہنچو تو شہر کے) ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ اور اللہ کے مقابلے میں میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتا۔ حکم تو بس اللہ ہی کا (چلتا) ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو چاہئے کہ اسی پر بھروسہ کریں۔ ''

[20] غالباً یہ اس خیال سے کہا کہ اس قحط کے زمانے میں ایک پورا جتھا دیکھ کر مصریوں کو شبہ ہوگا کہ یہ لوگ لوٹ مار کرنے کی غرض سے آئے ہیں۔
Ayah 12:68

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

پھر جب وہ (مصر میں) اسی طرح داخل ہوئے جس طرح باپ نے حکم دیا تھا تو یہ بات اللہ (کی مشیت) کے مقابلے میں ان کے کچھ بھی کام نہ آسکی مگر (ہاں) یعقوب کے دل میں ایک خیال (پیدا ہوا) تھا جسے اس نے پورا کرلیا اور بلاشبہ وہ بڑا صاحب علم تھا اس لیے کہ ہم نے اسے علم سے نوازا تھا لیکن اکثر لوگ (اس بات کی حقیقت کو) نہیں جانتے۔

[21] یعنی یعقوب (علیہ السلام) نے ایک خطرہ محسوس کیا تھا سو اپنی جگہ اس کی پیش بندی کرلی لیکن انہوں نے جو احتیاط کی تھی وہ گویا کام نہ دے سکی جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہوگا لیکن یہ قصور علم کی وجہ سے نہیں ہوا۔ علم کا مقتضا تو یہی تھا کہ تدبیر و احتیاط میں کمی نہ کرتے اور پھر سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیتے جیسا کہ فی الحقیقت انہوں نے کیا۔
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ یوسف کے حضور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس جگہ دی (اور چپکے سے اس سے) کہا، '' میں تیرا بھائی (یوسف) ہوں پس (اب تو ان باتوں کا) غم نہ کر جو یہ ( لوگ) کرتے رہے ہیں۔

[22] کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہم دونوں کو ملا دیا ہے۔ ملنے کے بعد دونوں بھائیوں میں خوب باتیں ہوئی ہوں گی اور ظاہر ہے کہ تخلیے میں ہوئی ہوں گی اور یہ تجویز زیربحث آئی ہوگی کہ آئندہ کے لئے ان ظالم بھائیوں سے بچ کر بنیامین کو یوسف (علیہ السلام) ہی کے پاس رہنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے۔ بالآخر ایک صورت طے پا گئی جس کا ذکر آگے آتا ہے۔
Ayahs 12:70–75

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب اس نے ان لوگوں کا سامان (غلہ) مہیا کردیا تو اپنے بھائی (بنیامین) کے سامان میں (پانی پینے کا) کٹورا رکھوا دیا (جو جواہرات سے مرصع اور سونے کا تھا اور اس سے اس وقت غلہ ناپنے کا کام لیا جاتا تھا۔ پھر جب یہ لوگ روانہ ہوگئے اور شاہی کارندوں نے کٹورا ڈھونڈا اور نہ پایا تو ان پر شبہ ہوا اور) ایک پکارنے والے نے کہا، '' اے قافلے والو، تم چور ہو۔ ''

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ پکارنے والے کی طرف پھرے اور پوچھا کہ تمہاری کیا چیز گم ہوئی ہے ؟

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

(شاہی کارندوں نے) کہا کہ ہمیں شاہی پیمانہ نہیں ملتا۔ (اور کارندوں کے سردار نے کہا) '' اور جو شخص اسے لاحاضر کرے اس کے لیے ایک بار شتر انعام ہے اور میں اس کا ضامن ہوں۔ ''

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

(یہ سن کر) وہ بولے، اللہ کی قسم ! تم لوگ جانتے ہو کہ ہم (تمہارے) ملک میں فساد کرنے کی غرض سے نہیں آئے ہیں اور نہ ہم چور ہیں۔

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

(کارندوں نے) کہا کہ (بھلا) اگر تم جھوٹے نکلے تو چور کی کیا سزا ہے ؟

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

وہ بولے، چور کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں سے چوری کا مال نکلے وہ آپ اپنی سزا ہے۔ (ہم تو اپنے ہاں) ایسے ظالموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔

[23] یہ شریعت اسرائیلی میں چور کی سزا تھی۔ یعنی جس کے پاس سے چوری کا مال نکلے وہ ایک سال تک غلام ہو کر رہے۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے بےتامل سزا کا ذکر کردیا کیونکہ انھیں پورا یقین تھا کہ وہ چور نہیں ہیں اور نہ چوری کا مال ان کے پاس سے برآمد ہوسکتا ہے۔