12. Surah Yusuf
يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر الکتاب
فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader
تب (کارندوں کے سردار نے) اس کے بھائی (بنیامین) کی بوری کی تلاشی لینے سے پہلے ان کی بوریوں کی تلاشی لینی شروع کی پھر اس کے بھائی کی بوری (دیکھی اور اس میں) سے کٹورا نکال لیا۔ (تو دیکھو، ) اس طرح ہم نے یوسف کے لیے (بھائی کو پاس رکھنے کی) تدبیر کردی (ورنہ) بادشاہ (مصر) کے قانون کی رو سے وہ اپنے بھائی کو روک نہیں سکتا تھا الاّیہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔ ہم جس کو چاہتے ہیں اس کے درجے بلند کردیتے ہیں، اور ہر صاحب علم کے اوپر ایک علم والی ہستی ہے (جس کا علم سب کو احاطہ کئے ہوئے ہے) ۔
قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader
(جب بنیامین کی بوری سے کٹورا نکل آیا تو بھائیوں نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی تو (کوئی تعجب کی بات نہیں، ) اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کرچکا ہے۔ تب یوسف نے (جس کے سامنے معاملہ پیش ہوا تھا) یہ بات اپنے دل میں رکھ لی اور (حقیقت) ان پر ظاہر نہ کی (کہ میرے منہ پر مجھے چوربنا رہے ہو) ۔ بس (زیرلب صرف) اتنا کہا، '' سب سے بدتر جگہ تمہاری ہوئی اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم بیان کر رہے ہو۔
قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader
انہوں نے کہا، اے عزیز، اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور ان کو اس سے بڑی محبت ہے) پس آپ (مہربانی فرما کر) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیے (مگر اسے نہ روکئے، ) ہم آپ کو (بڑا ہی) نیک نفس (انسان) پاتے ہیں۔
قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader
(یوسف نے) کہا، '' معاذ اللہ، (یہ کیسے ہوسکتا ہے) کہ ہم نے جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا (کسی اور کو) پکڑ کر رکھیں۔ ایسا کریں تو ہم ظالم ہوں گے۔ ''
فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader
پھر جب وہ اس سے مایوس ہوگئے (کہ یہ ماننے والا نہیں) تو الگ جا کر باہم مشورہ کرنے لگے۔ (آخر) جو ان میں بڑا تھا اس نے کہا، '' (بھائیو، ) کیا تمہیں معلوم نہیں کہ والد صاحب نے (بنیامین کے بارے میں) اللہ کی قسم لے کر تم سے عہد لیا ہے اور (اس سے) پہلے یوسف کے بارے میں تم سے جو تقصیر ہوچکی ہے (وہ بھی تمہیں معلوم ہے، ) سو میں تو (اس) سرزمین سے ٹلنے والا نہیں جب تک والد صاحب مجھے اجازت نہ دیں یا اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader
(تو بھائیو، ) تم (سب) والد صاحب کی خدمت میں لوٹ جاؤ اور (ان سے جا کر) عرض کرو کہ '' اباجان، آپ کے صاحب زادے نے چوری کی ہے اور ہم وہی بات عرض کرتے ہیں جو ہمیں (موقع پر) معلوم ہوئی اور ہمیں غیب کی خبر تو تھی نہیں (کہ وہ چوری کرے گا)
وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader
اور (یقین نہ آئے تو) آپ اس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجیے جہاں ہم (ٹھہرے) تھے اور اس قافلے سے (بھی) جس کے ساتھ ہم آئے ہیں اور ہم بالکل سچے ہیں۔ ''
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader
(چنانچہ بھائیوں نے ایسا ہی کیا اور گھر پہنچ کر ساری باتیں باپ سے کہہ دیں) اس نے (سن کر) کہا ('' نہیں) بلکہ تم نے دل سے ایک (اور) بات بنا لی ہے۔ تو صبر جمیل (یعنی شائستہ صبر) ہی بہتر ہے۔ اللہ (کے فضل) سے بعید نہیں کہ وہ (ایک دن) ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بلاشبہ وہی (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔ ''
وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader
اور (پھر) وہ ان کی طرف سے منہ پھیر کر الگ جا بیٹھا اور (کیونکہ اس نئے زخم کی خلش نے پچھلا زخم تازہ کردیا تھا اس لئے) پکار اٹھا، '' ہائے یوسف !'' اور شدت غم سے (روتے روتے) اس کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں اور وہ (جی ہی جی میں) گھٹا جا رہا تھا۔
قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader
(باپ کا یہ حال دیکھ کر بیٹے) کہنے لگے، اللہ کی قسم آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کئے جائیں گے یہاں تک کہ (اس کے غم میں) گھل (گھل کر جاں بلب ہو) جائیں یا اپنے آپ کو ہلاک کردیں۔
قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader
(باپ نے) کہا، میں تو اپنی پریشانی اور (رنج و) غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا اور اللہ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔
یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader
میرے بیٹو، (ایک بار پھر مصر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کی تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اللہ کی رحمت سے مایوس تو بس کافر ہی ہوا کرتے ہیں۔ ''
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader
پھر (برادران یوسف مصر پہنچے اور) جب یوسف کے پاس حاضر ہوئے تو عرض کیا، اے عزیز، ہم اور ہمارے گھر والے (قحط کی وجہ سے سخت) مصیبت میں مبتلا ہیں (لہٰذا مجبور ہو کر غلے کی طلب میں ہمیں پھر آنا پڑا) ۔ ہم تھوڑی سی پونجی لے کر آئے ہیں پس (اسے قبول کر لیجیے اور) غلے کی پوری تول عنایت کیجئے (اور اسے خریدو فروخت کا معاملہ نہ سمجھئے بلکہ) ہمیں (محتاج سمجھ کر) خیرات دیجئے، بیشک اللہ خیرات کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔
قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader
(یہ سن کر یوسف کا دل بھر آیا اور) اس نے کہا، '' تمہیں کچھ یاد بھی ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب کہ تم نادان تھے (اور تم میں سمجھ بوجھ نہ تھی ) ؟
قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader
(یہ سن کر بھائی چونک اٹھے اور) بولے، '' کیا واقعی تم ہی یوسف ہو ؟ '' اس نے کہا، ('' ہاں) میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر (بڑا ہی) احسان فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لیتا ہے تو اللہ (ایسے) نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ ''
قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader
وہ بولے، '' اللہ کی قسم ! اس میں شک نہیں کہ اللہ نے تم کو ہم پر برتری دی اور بیشک ہم ہی خطاکار تھے۔ ''
قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader
(یوسف نے) کہا، '' آج تم پر کوئی الزام نہیں۔ اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔
اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader
(اب تم یوں کرو کہ) میرا یہ کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے چہرے پر ڈال دو ، ان کی بصارت پلٹ آئے گی۔ اور (پھر) اپنے سب اہل (و عیال) کو میرے پاس لے آؤ۔ ''
وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader
اور یہ قافلہ (مصر سے) چلا ہی تھا کہ ان کا باپ (گھر کے لوگوں سے) کہنے لگا، '' اگر تم لوگ مجھے سٹھیا گیا ہوا نہ سمجھو (تو ایک بات کہوں کہ) میں یوسف کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں۔ ''
قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader
وہ بولے، اللہ کی قسم ! آپ تو (وہی) اپنے پرانے خبط میں (پڑے ہوئے) ہیں۔
فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader
پھر جب (یوسف کے زندہ و سلامت ہونے کی) خوشخبری لانے والا (یعقوب کے پاس) آپہنچا (اور) اس نے (یوسف کا) کرتہ یعقوب کے چہرے پر ڈال دیا تو (یکایک) اس کی بینائی عود کر آئی۔ (تب اس نے بیٹوں سے) کہا، '' کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اللہ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے ؟ ''
قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader
وہ بولے، '' اباجان، ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کیجئے۔ بیشک ہم ہی خطاکار تھے۔ ''
قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader
(یعقوب نے) کہا، '' میں جلد ہی اپنے رب سے تمہارے لئے دعائے مغفرت کروں گا۔ بیشک وہ (اللہ بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader
پھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، '' کہ اگر اللہ نے چاہا تو تم (سب) مصر میں امن کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ ''
وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader
اور (جب شہر میں داخل ہوئے تو) اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر تخت پر بٹھایا اور سب (اس وقت کے دستور کے مطابق یوسف کی تعظیم کے لئے) اس کے آگے سجدے میں گرگئے۔ (اس وقت یوسف کو اپنا خواب یاد آگیا) اور وہ (بےاختیار) پکار اٹھا، '' اباجان، یہ ہے تعبیر میرے اس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے سچ کر دکھایا اور میرے ساتھ احسان کیا کہ اس نے مجھے قید خانے سے نکالا اور آپ لوگوں کو صحرا سے نکال کر میرے پاس پہنچا دیا بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوا دیا تھا۔ بلاشبہ میرا رب جو چاہتا ہے اس کی عمدہ تدبیر کرتا ہے۔ بیشک وہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader
اے میرے رب، تو نے مجھے حکومت (بھی) عطا کی اور معاملہ فہمی اور حقیقت رسی کی تعلیم (بھی) دی۔ اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے، تو ہی میرا کارساز ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ مجھے اپنی فرماں برداری کی حالت میں (دنیا سے) اٹھانا اور صالحین کے ساتھ ملانا۔ ''
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader
(اے پیغمبر، ) یہ (قصہ) غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں، ورنہ (ظاہر ہے کہ) جب انہوں نے اپنا ارادہ پکا کرلیا تھا اور وہ (یوسف کے خلاف) خفیہ تدبیریں کر رہے تھے تو تم ان کے پاس (موجود) نہ تھے۔
وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader
بایں ہمہ اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ تم کتنا ہی چاہو (اور کتنی ہی دلیلیں پیش کرو) وہ کبھی ایمان لانے والے نہیں
وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader
حالانکہ تم ان سے (تبلیغ رسالت پر) کچھ معاوضہ نہیں مانگتے۔ یہ (قرآن) تو بس ایک نصیحت ہے دنیا جہان کے لئے۔
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader
اور (دیکھو، ) آسمانوں اور زمین میں (اللہ کی قدرت و حکمت کی) کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے لوگ گزر جاتے ہیں اور (ذرا) توجہ نہیں کرتے۔
وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader
اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان بھی لاتے ہیں مگر (ساتھ ہی) شرک بھی کئے جاتے ہیں۔
اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader
پھر کیا یہ لوگ اس بات سے نڈر ہوگئے کہ اللہ کے عذاب میں سے کوئی آفت ان پر چھا جائے یا ان پر قیامت اچانک آجائے اور انھیں خبر بھی نہ ہو۔
قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader
(اے پیغمبر، تم ان لوگوں سے) کہہ دو کہ میرا طریق تو یہ ہے کہ (لوگوں کو) اللہ کی طرف بلاتا ہوں بصیرت کے ساتھ، میں بھی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے میری پیروی کی ہے۔ اللہ (کی ذات) پاک ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader
(اے پیغمبر، ) ہم نے تم سے پہلے بھی نبی نہیں بھیجے مگر آدمی ہی انہی بستیوں والوں میں سے (اور) ہم ان پر وحی نازل کیا کرتے تھے۔ پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا کیسا (برا) انجام ہوا (جنہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا) ؟ اور کچھ شک نہیں کہ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے کہیں بہتر ہے جنہوں نے (پیغمبروں کی بات مان کر) تقویٰ کی روش اختیار کی۔ تو (لوگو، ) کیا تم (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے ؟
حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader
(پہلے لوگ بھی پیغمبروں کو جھٹلاتے رہے) یہاں تک کہ جب پیغمبر (ان کے ایمان لانے سے) مایوس ہوگئے اور لوگوں نے خیال کیا کہ ان سے جھوٹ بولا گیا تھا تو (پھر اچانک) ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی (اور عذاب موعود آ نازل ہوا) پس جسے ہم نے چاہا (عذاب سے) بچا لیا اور مجرموں (کے سر پر) سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جاسکتا۔
لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader
بلاشبہ (گزری ہوئی قوموں کے) ان قصوں میں عقل والوں کے لئے (بڑی) عبرت ہے۔ یہ (جو کچھ قرآن میں بیان کیا جا رہا ہے) کوئی گھڑی ہوئی بات تو ہے نہیں بلکہ جو (آسمانی کتابیں) اس سے پہلے (موجود) ہیں ان کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت۔