15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 15:79

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

تو ان سے (بھی) ہم نے (نافرمانی کا) بدلہ لیا اور دونوں بستیاں کھلے راستے پر (واقع) ہیں۔

[24] یعنی قوم لوط اور اصحاب الایکہ کی بستیاں جو مدینہ سے شام کو جانے والے راستے پر واقع ہیں۔
Ayahs 15:80–84

وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 15:80 in the Quran reader

اور (اسی طرح) حجر کے لوگوں نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

اور (باوجودیکہ) ہم نے انھیں اپنی نشانیاں دکھائیں (مگر) پھر بھی وہ ان سے روگردانی کرتے رہے۔

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے کہ (ان میں) امن وچین سے رہیں۔

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

تو ان کو بھی ایک چنگھاڑنے صبح ہوتے ہوئے آلیا

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

اور جو کچھ انہوں نے (اپنی سعی و عمل سے) کمایا تھا وہ کچھ بھی ان کے کام نہ آیا۔

[25] یہ قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ [26] ایک پیغمبر کے نہ ماننے سے کل پیغمبروں کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ سب کا دین ایک تھا گو زمانے کے لحاظ سے شریعت بدلتی رہی ہے۔
Ayah 15:85

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے نہیں پیدا کیا ہے مگر حق کے ساتھ، اور قیامت یقینا آنے والی ہے۔ پس (اے پیغمبر، مخالفوں کی مخالفتوں کو) حسن و خوبی کے ساتھ درگزر کرو۔

[27] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 25 صفحہ 328۔
Ayah 15:86

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

یقینا تمہارا رب (سب کا) خالق ہے (اور سب کچھ) جانتا ہے۔

[28] یعنی اس کے احاطہ علم سے نہ تمہارا صبر و تحمل باہر رہ سکتا ہے نہ کفار کی شرارتیں اور شقاوتیں۔
Ayah 15:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے تمہیں سات آیتیں دی ہیں جو (نماز میں) دہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم (عطا کیا ہے۔ )

[29] سات آیتوں سے مراد سورة فاتحہ ہے جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔
Ayahs 15:88–90

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

اور تم آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو اس (متاع دنیا) کی طرف جن سے ہم نے مختلف لوگوں کو بہرہ مند کیا ہے اور نہ ان (کے حال) پر غم کھاؤ اور (انہیں چھوڑ کر) مومنوں کی طرف جھکو

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

اور اعلان کردو کہ میں تو (انکار و بدعملی کے نتائج سے) کھلم کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ہم نے اسی طرح یہ کلام تم پر نازل کیا ہے) جس طرح ان لوگوں پر (اپنا کلام) نازل کیا تھا جنہوں نے (دین حق کے) ٹکڑے ٹکڑے کردیئے

[30] آیت میں خطاب اگرچہ نبی ﷺ سے ہے مگر فی الحقیقت مومنوں کی وہ ابتدائی جماعت مخاطب ہے جو مکہ میں ایمان لائی تھی اور مظلومی و بےسروسامانی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ فرمایا تم دیکھتے ہو کہ مخالفوں کے پاس ہر طرح کی دنیوی آسائشیں ہیں اور تمہارے پاس ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں۔ لیکن تم بھولتے ہو، تمہارے پاس بھی ایک چیز ہے جس سے تمہارے مخالف یک قلم تہی دست ہیں اور وہ اللہ کا کلام ہے۔ اگر یہ نعمت تمہارے پاس موجود ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ تم مخالفوں کی موجودہ خوش حالیوں کو حسرت و رشک کی نظر سے دیکھو۔ [31] یعنی ان کے اس حال پر دل نہ کڑھاؤ کہ وہ اپنے خیر خواہ کو اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں اور اپنی بدعملیوں کو اپنی خوبیاں سمجھے بیٹھے ہیں۔ [32] یعنی ان سے شفقت سے پیش آؤ۔
Ayahs 15:91–97

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

اور (اپنے) قرآن کو پارہ پارہ کردیا

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر، ) قسم ہے تمہارے رب کی ہم ان سب سے ضرور باز پرس کریں گے۔

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

(ان کاموں کے بارے میں) جو وہ کرتے رہے

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

پس تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے صاف صاف سنا دو اور مشرکین کی مطلق پروا نہ کرو۔

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

ہم تمہاری طرف سے ان مذاق اڑانے والوں (کی خبر لینے) کے لئے کافی ہیں

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود قرار دیتے ہیں۔ عنقریب انھیں معلوم ہوجائے گا (کہ حقیقت حال کیا تھی) ۔

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم جانتے ہیں کہ (مشرکین) جیسی جیسی باتیں کہتے ہیں ان کی وجہ سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے

[33] یہ اشارہ یہود کی طرف ہے جنہوں نے حق کو چھپانے کے لئے اپنے قرآن یعنی تورات کی ترتیب کو بھی بدل ڈالا اور اس کو مختلف اجزا میں تقسیم کر کے اس کے بعض حصے کو چھپاتے اور بعض کو ظاہر کرتے۔ سورة انعام آیت 19 میں ان کی اس شرارت کا ذکر گزر چکا ہے۔ یہاں ضمناً یہود کے اس اعتراض کا بھی جواب آگیا کہ تورات کے بعد اب کسی اور قرآن کی کیا ضرورت باقی رہی۔ جواب یہ ہے کہ اول تو وہ قرآن اپنی اصل شکل میں باقی کہاں رہا جن پر ان کو ناز ہے۔ اس کے تو انہوں نے حصے بخرے کر ڈالے۔ اگر وہ اپنی صحیح صورت میں باقی ہوتا تو خود اس میں اس نئے قرآن کی ضرورت کا ثبوت بھی مل جاتا۔
Ayah 15:98

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

تو (اس کا علاج یہ ہے کہ) تم اپنے رب کی حمد (و ثنا) کے ساتھ اس کی تسبیح (و تقدیس) کرتے رہو اور اس کی جناب میں سجدے کرو

[34] یعنی نماز پڑھتے رہا کرو۔
Ayah 15:99

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

اور مرتے دم تک اپنے رب کی بندگی میں لگے رہو۔

[35] اصل الفاظ میں حتی یاتیک الیقین (یہاں تک کہ یقین تمہارے پاس آجائے) ۔ یقین یہاں بمعنی موت ہے اور اکثر ائمہ لغت کے نزدیک موت اس لفظ کے حقیقی معنی ہیں اور بعض کے نزدیک مجازی۔