16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 16:121–123

شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 16:121 in the Quran reader

(وہ) اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا (تھا) اللہ نے اس کو چن لیا تھا اور (دین کا) سیدھا راستہ (بھی) دکھا دیا تھا۔

وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ Open ayah 16:122 in the Quran reader

دنیا میں اسے بھلائی دی تھی اور آخرت میں بھی وہ یقینا صالحین میں ہوگا۔

ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 16:123 in the Quran reader

پھر (اے پیغمبر، ) ہم نے تمہاری طرف (یہ) وحی بھیجی کہ ابراہیم یک سو کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔

[71] مشرکین مکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کرنے اور ان کی نسل میں ہونے کے مدعی تھے۔ یہاں مشرکین کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ ملت ابراہیمی میں وہ چیزیں حرام نہ تھیں جو یہودیوں کے ہاں حرام ہیں۔ مثلاً اونٹ کہ یہودی اونٹ کا گوشت نہیں کھاتے جب کہ شریعت ابراہیمی میں وہ حلال تھا۔
Ayah 16:124

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:124 in the Quran reader

رہا سبت تو (اس کا احترام) ہم نے انہی لوگوں پر عائد کیا تھا جنہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا تھا اور یقینا تمہارا رب قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے۔

[72] یہ کفار مکہ کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے۔ وہ کہتے تھے کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں سبت کا جو قانون تھا اس کو بھی تم نے ختم کردیا ہے۔ یہاں یہ بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی کہ سبت بھی یہودیوں کے لئے مخصوص تھا اور ملت ابراہیمی میں اس کے بارے میں کوئی حکم نہ تھا۔
Ayahs 16:125–128

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 16:125 in the Quran reader

اے پیغمبر، اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحتوں کے ذریعے سے (لوگوں کو) بلاؤ اور (اگر بحث آن پڑے تو) ان کے ساتھ ایسے طریقے پر بحث کرو جو بہترین ہو۔ تمہارا رب ہی جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور ہدایت پائے ہوؤں کو (بھی) وہی خوب جانتا ہے۔

وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ Open ayah 16:126 in the Quran reader

اور (مسلمانو، بحث و مباحثہ میں مخالفین کے ساتھ) سختی بھی کرو تو ویسی ہی سختی کرو جیسی تمہارے ساتھ کی گئی ہے اور اگر تم نے (لوگوں کی ایذاؤں پر) صبر کیا (اور سختی کا جواب سختی سے نہیں دیا) تو بلاشبہ صبر کرنے والوں کے لئے صبر ہی بہتر ہے۔

وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 16:127 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، تم مخالفین کی ایذاؤں پر) صبر کرو۔ اور تمہارا صبر تو بس اللہ (کی توفیق) سے ہے۔ اور ان (مخالفین کے حال) پر غم نہ کھاؤ اور جو چالیں یہ لوگ چلتے رہتے ہیں ان پر دل تنگ نہ ہو۔

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۠ Open ayah 16:128 in the Quran reader

یقینا اللہ انہی لوگوں کے ساتھ ہے جو متقی اور نیکوکار ہیں۔

[73] اس آیت سے معلوم ہوا کہ دعوت حق کا طریقہ حکمت و دانائی اور موعظہ حسنہ کا طریقہ ہے اور بحث و نزاع کی اجازت صرف اس صورت میں ہے جو احسن طریقے پر ہو۔ احسن طریقے سے مراد یہ ہے کہ ایسا اسلوب، ایسا لب و لہجہ اور اس طرح کے الفاظ اختیار نہ کئے جائیں جو مخالف کے دل کو دکھ پہنچانے والے ہوں یا اسے سننے والوں کی نظر میں ذلیل و رسوا کرنے والے ہوں۔ کیونکہ اگر بحث سے مقصود دعوت حق ہے تو مخاطب کے دل کو نرمی و محبت سے حق کی طرف متوجہ کرنا چاہئے نہ یہ کہ صدمہ پہنچانا، ضد میں لانا اور جوش نفرت سے بھر دینا۔