16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 16:41–42

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

اور (یاد رکھو، ) جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی بعد اس کے کہ ان پر (ان کے ایمان لانے کی وجہ سے) ظلم کیا گیا تھا تو ہم ضرور ان کو دنیا میں (بھی) اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر (جو ان کو ملنے والا ہے) وہ (اس سے) کہیں بڑھ کر ہے۔ اگر یہ لوگ جان لیتے

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے (مصیبت میں) صبر کیا اور جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

[22] یہاں ذکر ان مومنین صادقین کا ہے جنہوں نے کفار مکہ کے ظلم سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ کے حکم سے حبش کی جانب ہجرت کی تھی۔ [23] یعنی اجر آخرت کے تفصیلی حالات جان لیں۔
Ayah 16:43

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے تم سے پہلے بھی (تمہاری طرح کے) آدمی ہی رسول بنا کر بھیجے تھے جن پر ہم وحی بھیجتے تھے۔ پس (ان منکرین سے کہو کہ) اگر (یہ بات) تمہیں معلوم نہیں تو اہل ذکر سے پوچھ دیکھو۔

[24] خطاب مشرکین مکہ سے ہے اور ان سے ارشاد ہو رہا ہے کہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ جنہیں تم بھی اہل علم سمجھتے ہو ان سے پوچھ لو کہ رسول انسان ہی ہوتے تھے یا کچھ اور۔
Ayahs 16:44–46

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

(ان رسولوں کو ہم نے) روشن نشانیوں اور کتابوں کے ساتھ (بھیجا تھا) اور (اسی طرح اب) یہ ذکر (یعنی قرآن) تم پر نازل کیا ہے تاکہ جو (تعلیم) لوگوں (کی ہدایت) کے لئے ان کی طرف بھیجی گئی ہے تم اس کی تشریح و توضیح ان کے سامنے کرتے جاؤ اور تاکہ وہ (خود بھی) غور و فکر کریں (اور ہدایت پالیں) ۔

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

پھر جو لوگ (اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف اپنے) برے مقاصد کے لئے تدبیریں کررہے ہیں کیا وہ اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ انھیں زمین میں دھنسا دے یا ایک ایسی راہ سے ان پر عذاب لے آئے جس کا انھیں وہم و گمان بھی نہ ہو،

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

یا ان کو چلتے پھرتے پکڑ لے کہ پس وہ (اللہ کو اپنی تدبیروں سے) عاجز نہیں کرسکتے

[25] یہ آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ نبی ﷺ کی حیثیت حامل وحی یا '' خط رساں '' ہی کی نہیں بلکہ شارح کی بھی ہے تاکہ آپ اپنے قول و عمل سے قرآنی تعلیمات کی تشریح و توضیح بھی کرتے رہیں۔ اس سے خود بخود یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت قرآن کی مستند سرکاری تشریح ہے۔
Ayah 16:47

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا ان کو ڈرانے کے بعد پکڑ لے۔ بلاشبہ تمہارا رب بڑا ہی شفیق (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[26] یعنی یہ اس کی شفقت و رحمت ہے کہ وہ فوراً عذاب کی گرفت میں نہیں لے لیتا بلکہ رجوع و توبہ کے لئے بار بار مہلت دیتا ہے۔
Ayah 16:48

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اللہ کی مخلوقات میں سے کسی چیز کی طرف نظر نہیں کی کہ اس کا سایہ اللہ کے آگے سجدہ کرتا ہوا (کبھی) داہنی طرف اور (کبھی) بائیں طرف ڈھلتا ہے اور (یہ کہ سب کے سب) اس کے آگے عاجزی کا اظہار کررہے ہیں

[27] جو چیز ٹھیک دوپہر کے وقت کھڑی ہے اس کا سایہ بھی کھڑا ہے۔ جب دن ڈھلا سایہ جھکا، پھر جھکتے جھکتے شام تک زمین پر پڑگیا جیسے نماز میں کھڑے سے رکوع اور رکوع سے سجدہ۔ اسی طرح ہر چیز آپ کھڑی ہے اور اپنے سایہ سے نماز ادا کر رہی ہے۔ کسی ملک میں اور کسی موسم میں سایہ داہنی طرف جھکتا ہے اور کہیں بائیں طرف۔ مطلب یہ ہے کہ تمام جسمانی اشیاء کے سائے اس بات کی علامت ہیں کہ سب کے سب حکم الٰہی کے مطیع ہیں۔ ان میں کسی کا اللہ کی بادشاہی میں کوئی حصہ نہیں۔
Ayahs 16:49–50

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اور آسمانوں میں اور زمین میں جتنے جاندار ہیں اور جتنے فرشتے ہیں (سب) اللہ کے آگے سر بسجود ہیں اور وہ سرکشی نہیں کرتے۔

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

وہ اپنے رب سے جو کہ ان پر (بالا دست) ہے (ہر وقت) ڈرتے رہتے ہیں اور (اس کی جناب سے) جو حکم ان کو دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔

[28] یعنی مطیع ہیں۔
Ayah 16:51

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور (لوگو، ) اللہ نے حکم دیا ہے کہ دو معبود (اپنے لئے) نہ بناؤ۔ معبود تو صرف ایک ہی ہے پس صرف ہم ہی سے ڈرو۔

[29] جیسا مجوس اور دوسرے بددین فرقوں کا عقیدہ ہے۔ نیز دو معبودوں کی نفی میں دو سے زیادہ معبودوں کی نفی آپ سے آپ شامل ہے۔
Ayahs 16:52–56

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی فرماں برداری لازم ہے۔ تو کیا (پھر بھی) تم اللہ کے سوا (دوسری ہستیوں سے) ڈرتے رہو گے ؟

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور نعمتوں میں سے جو کچھ تمہارے پاس ہے سو اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی سے فریاد کرتے ہو۔

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

پھر جب وہ تم سے تکلیف کو ہٹا دیتا ہے تو تم میں سے ایک گروہ (اس مہربانی کے شکریئے میں دوسری ہستیوں کو) اپنے رب کے ساتھ شریک کرنے لگتا ہے

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

تاکہ جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے اس کی (پوری طرح) ناشکری کرلیں۔ اچھا، (چند روز) عیش کرلو، عنقریب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے (کہ اس ناشکری کا انجام کیا ہونا ہے) ۔

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے اس میں یہ ان (ہستیوں) کا حصہ بھی ٹھہراتے ہیں جن (کی حقیقت) کی انھیں خبر نہیں۔ (اے مشرکو، ) اللہ کی قسم تم سے ضرور پوچھا جائے گا کہ (حقیقت کے خلاف) کیسی افترا پردازیاں کرتے رہے تھے ؟

[30] شرک کی بنیاد غیر اللہ کے خوف پر ہوتی ہے۔ مشرک سمجھتا ہے کہ فلاں فلاں طاقتیں ایسی ہیں جو مجھے نقصان پہنچا سکتی ہیں لہذا انھیں راضی رکھنے کے لئے ان کے آگے یوں نذر ماننی چاہئے، یوں بھینٹ چڑھانی چاہئے، وقس علیٰ ہذا۔
Ayahs 16:57–58

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور یہ (مشرکین) اللہ کے لئے بیٹیاں ٹھہراتے ہیں۔ اللہ پاک ہے، (اللہ کے لئے بیٹیاں ! ) اور خود ان کے لئے (کیا ؟ ) وہ جس کے یہ بڑے خواہشمند ہیں

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ Open ayah 16:58 in the Quran reader

اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا ہونے) کی خوشخبری دی جاتی ہے تو (مارے رنج کے) اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ غصہ سے بھر جاتا ہے

[31] یعنی بیٹے۔
Ayahs 16:59–60

یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 16:59 in the Quran reader

(اور) جس چیز کی اسے خبر دی گئی ہے اس کی عار سے وہ لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ آیا اس (مولود) کو ذلت کے ساتھ لئے رہے یا اسے مٹی میں دبا دے۔ دیکھو تو، (اللہ کے بارے میں) یہ کیسا برا حکم لگاتے ہیں۔

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 16:60 in the Quran reader

(حقیقت یہ ہے کہ) جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کا حال برا ہے (کہ اللہ کو بری صفات سے متصف کریں) حالانکہ اللہ کے لئے تو سب سے برتر صفات ہیں۔ وہ بڑا زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

[32] یعنی کفر کے ساتھ کمال بدتمیزی بھی ہے کہ اپنے لئے تو بیٹے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے جو مطلقاً اولاد سے پاک ہے اور اس کیلئے اولاد تجویز کرنا عیب لگانا ہے اس کے لئے اولاد بھی وہ تجویز کرتے ہیں جسے اپنے لئے حقیر اور سبب عار جانتے ہیں۔
Ayah 16:61

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 16:61 in the Quran reader

اور اگر (ایسا ہوتا کہ) اللہ لوگوں کو ان کے ظلم پر (فوراً ) پکڑ لیا کرتا تو زمین پر کوئی حرکت کرنے والا جاندار نہ چھوڑتا۔ لیکن وہ وقت مقرر تک انھیں مہلت دیتا ہے۔ پھر جب ان کا (وہ) وقت آ پہنچتا ہے تو (اس سے) ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔

[33] یعنی بدکار تو بہرحال بدی کی پاداش میں ہلاک کر ہی دیئے جاتے اور جب وہ باقی ہی نہ رہ جاتے تو نیکوکاروں کا وجود بھی بےمعنی رہ جاتا کیونکہ اگر دنیا میں ظلم اور ظالم کا وجود باقی نہ رہے تو کوئی انصاف کس کے مقابلے میں کرے گا ؟ دنیا میں کوئی مفلس باقی نہ رہے تو صفت فیاضی کے ظہور کی کیا صورت باقی رہے گی ؟ مصیبت زدوں کے وجود سے دنیا خالی ہوجائے تو کوئی ہمدردی اور شفقت کے لئے کس کو تلاش کرے گا ؟ غرض انسانی آبادی تو ساری کی ساری یوں ختم ہوجاتی اور جب کوئی انسان زندہ نہ رہتا تو پھر حیوانات کی ضرورت بھی باقی نہ رہ جاتی جو تمام تر انسان ہی کی خدمت کے لئے ہیں۔ [34] یعنی اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو ان کی سرکشیوں اور بداعمالیوں پر فوراً پکڑلے اور عذاب نازل کردے بلکہ وہ ان کو پکڑنے سے پہلے سنبھلنے کا کافی موقع دیتا ہے اور اپنے رسولوں کے ذریعے تنبیہات بھیجتا ہے اور ان کی رسی ڈھیلی چھوڑے رکھتا ہے۔ یہ قانون امہال یعنی مہلت عمل کا قانون اچھائی اور برائی دونوں کے لئے ہے۔ اچھائی کے لئے اس لئے تاکہ وہ اور زیادہ نشوونما پائے۔ برائی کے لئے اس لئے کہ آدمی متنبہ اور خبردار ہو کر اصلاح و تلافی کا سامان کرے۔
Ayahs 16:62–64

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ Open ayah 16:62 in the Quran reader

اور (دیکھو، یہ لوگ) اللہ کے لئے ایسی باتیں تجویز کرتے ہیں جنہیں خود (اپنے لئے) پسند نہیں کرتے اور جھوٹ کہتی ہیں ان کی زبانیں کہ ان کے لئے (آخرت میں) بھلائی (ہی بھلائی) ہے۔ (بھلائی تو نہیں) البتہ ان کے لئے (دوزخ کی) آگ ہے اور ضرور یہ سب سے پہلے اس میں پہنچنے والے ہیں۔

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:63 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) اللہ کی قسم تم سے پہلے (بھی) ہم نے امتوں کی طرف (رسول) بھیجے تھے تو شیطان نے (لوگوں کو) ان کے اعمال (بد) خوشنما کر دکھائے، سو وہی شیطان آج (بھی) ان (منکروں) کا رفیق (بنا ہوا) ہے اور (بالآخر) ان کے لئے عذاب درد ناک ہے۔

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:64 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے تم پر (یہ) کتاب اس لئے نازل کی ہے کہ جن باتوں میں (یہ لوگ) اختلاف کررہے ہیں تم ان (کی حقیقت ان) پر واضح کردو۔ نیز (یہ کتاب) ایمان والوں کے لئے (موجب) ہدایت و رحمت ہے۔

[35] مطلب یہ ہے کہ کسی اخروی زندگی کے اول تو یہ قائل ہی نہیں اور جو قائل ہیں بھی تو وہاں اپنے لئے چین ہی چین سمجھ رہے ہیں۔
Ayahs 16:65–66

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

اور (دیکھو، برسات میں) اللہ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو جو مردہ ہوچکی تھی (ازسرنو) زندہ کردیا۔ بلاشبہ اس میں (قدرت الٰہی کی) نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو (صدائے حق کو جی لگا کر) سنتے ہیں۔

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور بلاشبہ تمہارے لئے مویشیوں میں (غورو فکر کا بڑا) سبق (موجود) ہے۔ ان کے پیٹ میں جو گوبر اور خون (کا مادہ) ہے اس کے درمیان میں سے خالص دودھ ہم تمہیں پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لئے نہایت خوشگوار ہے۔

[36] آیت 64 میں فرمایا تھا کہ قرآن ہدایت و رحمت ہے۔ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ یہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسے باران رحمت کا نزول، جو خشک اور مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اور یہ قرآن مردہ دلوں کو زندہ کردیتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے بعثت بعد الموت پر استدلال کیا ہے۔ یعنی اللہ جس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اسی طرح وہ تمام انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔
Ayahs 16:67–68

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم نشہ آور چیز (شراب) بھی بنا لیتے ہو اور پاک رزق بھی۔ بلاشبہ اس میں (بھی قدرت الٰہی کی) نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) تمہارے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی ہے کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ان اونچی اونچی ٹٹیوں میں جو لوگ بناتے ہیں چھتے بنا۔

[37] اس میں ایک ضمنی اشارہ شراب کی حرمت کا بھی ہے کہ وہ پاک رزق نہیں ہے۔
Ayahs 16:69–70

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

پھر ہر طرح کے پھولوں سے رس چوستی پھر، پھر اپنے رب کے (ٹھہرائے ہوئے) راستوں پر پوری فرماں برداری کے ساتھ گامزن ہوجا۔ (تو دیکھو، ) اس کے پیٹ سے رنگ برنگ کا ایک مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں (کی بہت سی بیماریوں) کیلئے شفا ہے۔ بلاشبہ اس میں (بھی قدرت الٰہی کی) نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

(لوگو، ) اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے اور تم میں سے کوئی (ایسا بھی ہوتا ہے جو بڑھاپے کی) بدترین عمر کو پہنچا دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ بیشک اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور ہر بات کی) قدرت رکھنے والا ہے۔

[38] شہد کی مکھی کی یہ صنعت گری جدوجہد، نظم و ضبط اور سرگرمی کا ایک پورا سلسلہ ہے جو عرصے تک جاری رہتا ہے اس لئے اس کے کاموں کو سبل سے تعبیر کیا یعنی عمل کی راہوں سے۔ یعنی اس کے لئے جو راہ عمل ٹھہرا دی گئی ہے اس پر ٹھیک ٹھیک چلتی رہتی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ذرا بھی ادھر ادھر ہو۔
Ayah 16:71

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اللہ نے (تکوینی مصلحتوں سے) تم میں سے کسی کو کسی پر رزق کے معاملے میں فضیلت دے رکھی ہے۔ تو جن لوگوں کو فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق اپنے غلاموں کی طرف پھیر دیا کرتے ہوں تاکہ وہ (سب) اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ پھر بھی اللہ کی نعمت سے انکار کرتے ہیں ؟

[39] یعنی تم اپنے غلاموں اور نوکروں کو اپنے مال میں برابر کا درجہ نہیں دیتے تو اللہ کے احسانات کے شکریئے میں اس کے بندوں اور مملوکوں کو شریک کرنا کس طرح درست سمجھتے ہو ؟ ضمنی طور پر اس آیت سے یہ بات بھی نکل آئی کہ مال و دولت میں عدم مساوات فطری اور طبعی ہے اور تقسیم دولت میں مساوات کا دعویٰ بجائے خود بےبنیاد اور خلاف فطرت ہے۔ یہ آیت جڑ کاٹ رہی ہے اہل باطل کے اس معاشی نظام کی جس کا پرانا نام مزدکیت تھا اور جدید نام سوشلزم یا (انتہائی صورتوں میں) کمیونزم ہے۔ [40] یعنی اللہ کی نعمتوں کے شکریئے میں غیر اللہ کو شریک کرنا اللہ کی نعمتوں کا انکار ہے۔
Ayahs 16:72–73

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لئے جوڑے پیدا کئے اور تمہارے جوڑوں میں سے تمہارے لئے بیٹے اور پوتے پیدا کئے اور تمہیں اچھی (اچھی) چیزیں کھانے کو دیں تو کیا پھر بھی یہ لوگ باطل پر ایمان رکھیں گے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے رہیں گے

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور اللہ کو چھوڑ کر ان (معبودوں) کی پرستش کرتے رہیں گے جو آسمان و زمین سے ان کو رزق دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ ایسا کر ہی سکتے ہیں ؟

[41] یعنی شرک کے بےبنیاد عقیدے پر۔
Ayah 16:74

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

پس اللہ کے لئے مثالیں نہ گھڑو۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

[42] مشرکین کا ایک مایہ ناز استدلال اس وقت یہی تھا اور اب بھی ہے کہ آخر دنیا کے بادشاہوں کی خدمت میں براہ راست عرض و معروض کون کرسکتا ہے ؟ درمیانی واسطوں کی ضرورت پڑتی ہی ہے پھر جو سب بادشاہوں کا شہنشاہ ہے اس سے براہ راست اور بلاواسطہ تعلق پیدا کرنا کیونکر ممکن ہے ؟ استدلال کی خرافات بالکل ظاہر ہے۔ دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی آخر انسان ہی ہوتا ہے، بشر ہی کے سے محدود و ناقص قویٰ رکھتا ہے۔ وہ تو اس بات پر مجبور ہے کہ دوسروں کی اعانت حاصل کرے۔ اس کے برخلاف کہاں رب العالمین جو ہر قید سے ماوراء اور ہر اعتبار سے غیر محدود ! اس بےنیاز ہستی کو محتاج ہستیوں پر کس طرح قیاس کیا جاسکتا ہے ؟
Ayah 16:75

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے (اس پر غور کرو) ۔ ایک غلام ہے دوسرے کی ملک، جو کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا اور ایک دوسرا آدمی ہے (خود مختار) جسے ہم نے اپنے پاس سے اچھا رزق عطا کیا ہے تو اس میں سے چھپے اور کھلے (جس طرح چاہتا ہے) خرچ کرتا ہے۔ (بتاؤ) کیا یہ دونوں برابر ہیں ؟ (یہ مثال سن کر مشرکین ضرور بول اٹھیں گے کہ برابر تو نہیں۔ تو اے پیغمبر تم ان سے کہو، ) تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔ مگر (ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ) ان میں سے اکثر (اس سیدھی سی بات کو بھی) نہیں جانتے۔

[43] اس مثال میں اللہ تعالیٰ نے بتوں اور جھوٹے معبودوں کو غلام بےاختیار کے مانند ٹھہرایا ہے جو اپنے اختیار سے کچھ کر نہیں سکتا اور خود اپنی مثال اس بااختیار شخص کی سی دی ہے جو اپنے مال میں جس طرح چاہتا ہے تصرف کرتا ہے اور کسی کا محکوم نہیں۔
Ayah 16:76

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اللہ ایک (اور) مثال بیان کرتا ہے۔ دو آدمی (ہیں) ایک ان میں سے گونگا ہے کسی کام کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اور اپنے آقا پر ایک بوجھ (بنا ہوا) ہے۔ وہ جہاں بھی اسے بھیجتا ہے کوئی کام وہ درست کر کے نہیں لاتا۔ کیا یہ شخص اور ایسا شخص برابر ہوسکتے ہیں جو عدل (و انصاف) کا حکم دیتا ہے اور خود بھی (عدل و درستی کی) سیدھی راہ پر ہے ؟

[44] اس مثال میں اللہ اور جھوٹے معبودوں کے فرق کو زیادہ کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بناوٹی معبود غلام بےاختیار ہونے کے علاوہ گونگے بہرے بھی ہیں جو نہ تمہاری پکار سنتے ہیں اور نہ اس کا جواب دے سکتے ہیں۔ دوسری طرف اللہ ہے جو ناطق ہے، عاقل ہے، قوت علمی و عملی کا جامع ہے، آپ بھی راہ راست پر ہے اور لوگوں کو بھی راستی اور عدل کا حکم دیتا ہے۔
Ayah 16:77

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں اللہ ہی کو (معلوم) ہیں اور قیامت کا واقع ہونا بس ایسا ہوگا جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

[45] مشرکین رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کرتے تھے کہ اگر واقعی قیامت آنے والی ہے تو وہ کب واقع ہوگی۔ یہاں ان کے سوال کو نقل کئے بغیر اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ توحید کے بیان کے درمیان یکایک قیامت کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ لوگ توحید اور شرک کے درمیان کسی ایک عقیدے کے انتخاب کو محض ایک نظری (Theoretical) سوال نہ سمجھ بیٹھیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ جب قیامت اچانک برپا ہوجائے گی اس وقت اس انتخاب کے صحیح یا غلط ہونے پر آدمی کی کامیابی و ناکامی کا دارومدار ہوگا۔
Ayahs 16:78–79

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اللہ ہی نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے نکالا (اور اس حال میں نکالا کہ) تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تمہیں کان دیئے، آنکھیں (دیں) اور دل (دیئے) تاکہ تم (اس کا) شکر بجا لاؤ۔

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے پرندوں (کے حال) پر نظر نہیں کی جو آسمان کی فضا میں مطیع و فرماں بردار (اڑ رہے) ہیں ؟ اللہ کے سوا کون (ہے جو) انھیں تھامے ہوئے ہے ؟ بلاشبہ اس میں ایمان والوں کے لئے (قدرت الٰہی کی بڑی ہی) نشانیاں ہیں۔

[46] قیامت کے ذکر کے بعد یہاں سے پھر وہی سلسلہ بیان شروع ہوجاتا ہے جو اوپر سے چلا آ رہا تھا۔ [47] شکر اس لئے کہ اس نے ان آلات کے ذریعے تمہاری بےعلمی علم سے بدل دی۔ سماعت اس لئے دی کہ اللہ کے احکام سنو، بصارت اس لئے دی کہ اس کی قدرت و حکمت کے نمونے مشاہدہ کرو اور دل اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس اور اس پر غور و فکر کرو۔
Ayah 16:80

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اللہ ہی نے تمہارے گھروں کو تمہارے لئے سکون کی جگہ بنایا، نیز تمہارے لئے جانوروں کی کھالوں سے گھر بنا دیئے جنہیں تم اپنے کوچ کے وقت اور اپنے ٹھہرنے کے وقت ہلکا پھلکا پاتے ہو، اور اس نے ان کی اون اور ان کے روؤں اور ان کے بالوں سے (تمہارے) بہت سے سامان اور ایک مدت تک چلنے والی مفید چیزیں بنائیں۔

[48] یعنی خیمے۔