16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 16:81–82

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں سے تمہارے لئے سائے بنائے، پہاڑوں میں تمہارے لئے پناہ گاہیں بنائیں اور تمہیں (وہ) پیراہن عطا کئے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور (وہ) پیراہن (بھی) جو تمہاری حفاظت تمہاری (آپس کی) جنگ میں کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی نعمتیں تم پر پوری کرتا ہے۔ تاکہ تم (اس کے) فرماں بردار بنو۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

پھر اگر (یہ لوگ اتنے سمجھانے پر بھی) منہ موڑیں تو (اے پیغمبر، ) تمہارے ذمے صاف صاف (پیغام حق) پہنچا دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔

[49] یعنی زرہیں۔ [50] یعنی وہ تمہاری فطرت کی ہر مانگ پوری کرتا ہے۔
Ayah 16:83

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

یہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں پھر بھی ان سے انکار کرتے ہیں اور ان میں اکثر ناشکرے ہیں۔

[51] مشرکین اس بات کے منکر نہ تھے کہ تمام نعمتیں اللہ ہی کی دی ہوئی ہیں مگر ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ نعتیں ان کے دیویوں، دیوتاؤں، بزرگوں اور ولیوں کی مداخلت سے انھیں ملی ہیں۔ اس لئے وہ ان نعمتوں کے شکریئے میں غیر اللہ کو بھی شریک کرتے تھے۔
Ayah 16:84

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

(لوگو، اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے، پھر کافروں کو اجازت نہ دی جائے گی (کہ کچھ عذر و معذرت پیش کرسکیں) اور نہ ہی ان سے توبہ کرنے کو کہا جائے گا۔

[52] یہ گواہ اسی امت کا رسول ہوگا جو گواہی دے گا کہ اس نے تمام احکام کی تبلیغ پوری پوری کردی تھی اس پر بھی امت منکر و باغی ہی رہی۔ [53] مطلب یہ ہے کہ ان کے جرائم ایسی صریح اور ناقابل تردید شہادتوں سے ثابت کردیئے جائیں گے کہ ان کے لئے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے گی۔ [54] کیونکہ وہ دن فیصلے کا ہوگا معافی طلب کرنے کا نہیں۔
Ayah 16:85

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور ظالم لوگ (قیامت کے دن) جب عذاب دیکھ لیں گے تو (کچھ بھی کریں، ) نہ ان سے (عذاب ہی) ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔

[55] یعنی کفار۔
Ayahs 16:86–87

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے (دنیا میں) شرک کیا تھا جب اپنے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو بول اٹھیں گے کہ اے ہمارے رب، یہی ہیں وہ ہمارے شریک جنہیں ہم تیرے سوا (دنیا میں اپنی حاجت روائی کے لئے) پکارا کرتے تھے۔ اس پر (وہ شریک ان کی) بات (الٹی) ان کی طرف پھینک دیں گے کہ تم جھوٹے ہو۔

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اس وقت یہ (مشرکین) اللہ کے آگے سرتسلیم خم کردیں گے اور وہ ساری افترا پردازیاں ان سے گم ہوجائیں گی جو وہ (دنیا میں) کیا کرتے تھے۔

[56] یعنی ہم نے تم سے کبھی یہ نہ کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر اپنی حاجت روائی کے لئے ہمیں پکارو۔ آیت کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں '' شرکاء '' سے مراد بت نہیں ہیں بلکہ وہ انبیاء، اولیاء، شہداء اور صالحین ہیں جن کو ان کے معتقدین ان کی وفات کے بعد انھیں نہ معلوم کیا کیا قرار دے کر اپنی حاجت روائی کے لئے پکارتے رہے۔
Ayahs 16:88–89

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا ہم (ان کے) عذاب پر (ایک اور) عذاب بڑھا دیں گے اس فساد کی پاداش میں جو وہ دنیا میں برپا کرتے رہے۔

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور (لوگو، اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر امت میں خود اسی کے اندر سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے اور (اے پیغمبر، ) ان لوگوں کے مقابلے میں (جو تمہیں آج جھٹلا رہے ہیں) ہم تمہیں گواہ بنا کر لائیں گے۔ اور (یہی بات ہے جس کے لئے) ہم نے تم پر (یہ) کتاب نازل کی ہے، (دین کی) تمام باتیں بیان کرنے والی اور مسلمانوں کے لئے ہدایت و رحمت اور خوشخبری۔

[57] ایک عذاب کفر کا اور دوسرا لوگوں کو راہ حق سے روکنے کا۔
Ayahs 16:90–91

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

(مسلمانو، ) اللہ حکم دیتا ہے عدل اور احسان اور رشتہ داروں کو (ان کے حقوق) دینے کا، اور منع فرماتا ہے بےحیائی (کے کاموں، ) بری باتوں اور ظلم و زیادتی سے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ تم (ان باتوں کا) خیال رکھو۔

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور جب تم آپس میں قول وقرار کرو تو (سمجھ لو کہ یہ اللہ کے نزدیک ایک عہد ہوگیا۔ تو) اللہ کا عہد پورا کرو اور (اپنی) قسمیں پکی کرنے کے بعد انھیں توڑ نہ ڈالو حالانکہ تم اللہ کو گواہ بنا چکے ہو۔ بیشک اللہ کو معلوم ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

[58] اس سے پہلے کی آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ ہم نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے دین کی تمام باتیں بیان کرنے والی۔ یہ آیت اس کا ایک نمونہ ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک خیر و شر کو اس آیت میں اکٹھا کردیا ہے۔ تین بھلائیوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن پر پورے انسانی معاشرے کی درستی کا انحصار ہے۔ پہلی چیز عدل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے تمام عقائد، اعمال، اخلاق، معاملات و جذبات اعتدال و انصاف کی ترازو میں تلے ہوں۔ افراط و تفریظ سے کوئی پلہ جھکنے یا اٹھنے نہ پائے۔ سخت سے سخت دشمن کے ساتھ بھی معاملہ کرے تو انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ اس کا ظاہر و باطن یکساں ہو۔ جو بات اپنے لئے پسند نہ کرتا ہو اپنے بھائی کے لئے بھی پسند نہ کرے۔ دوسری بھلائی احسان ہے۔ جس سے مراد ہے نیک برتاؤ، فیاضانہ معاملہ، رواداری، خوش خلقی، درگزر اور دوسرے کو اس کے حق سے کچھ زیادہ دینا اور خود اپنے حق سے کچھ کم پر راضی ہوجانا۔ یہ عدل سے زائد ایک چیز ہے جس کی اہمیت اجتماعی زندگی میں عدل سے بھی زیادہ ہے۔ عدل اگر معاشرے کی اساس ہے تو احسان اس کا جمال اور اس کا کمال ہے۔ تیسری بھلائی جس کا اس آیت میں حکم دیا گیا ہے صلہ رحمی ہے جس کا مطلب صرف یہی نہیں کہ آدمی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے بلکہ اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ ہر صاحب استطاعت شخص اپنے مال پر نہ صرف اپنی ذات اور اپنے بال بچوں ہی کا حق نہ سمجھے بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق بھی تسلیم کرے۔ شریعت ہر خاندان کے خوش حال افراد کو اس امر کا ذمہ دار قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لوگوں کو بھوکا ننگا نہ چھوڑیں۔ وہ یہ اصول پیش کرتی ہے کہ ہر خاندان کے غریب افراد کا پہلا حق اپنے خاندان کے خوشحال افراد پر ہے۔ پھر دوسروں پر ان کے حقوق عائد ہوتے ہیں۔ اوپر کی تین بھلائیوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تین برائیوں سے روکتا ہے جو انفرادی حیثیت سے افراد کو اور اجتماعی حیثیت سے معاشرے کو خراب کرنے والی ہیں۔ پہلی برائی '' فحشاء '' ہے جس کا اطلاق تمام بےہودہ اور شرمناک افعال پر ہوتا ہے۔ مثلاً زنا، برہنگی اور عریانی، عمل قوم لوط، محرمات سے نکاح، چوری، شراب نوشی، گالیاں بکنا اور بدکلامی کرنا۔ نیز علی الاعلان برے کام کرنا اور برائیوں کو پھیلانا، بدکاریوں پر ابھارنے والے افسانے، ڈرامے اور فلمیں، عریاں تصاویر کی نمائش، عورتوں کا بن سنور کر منظر عام پر آنا، سٹیج پر عورتوں کا ناچنا اور تھرکنا، یہ سب فحشیات میں داخل ہیں۔ دوسری برائی '' منکر '' ہے۔ اس سے مراد ہر وہ برائی ہے جسے انسان بالعموم برا جانتے ہیں اور تمام شریعتوں نے جس سے منع کیا ہے۔ تیسری برائی '' بغی '' ہے۔ جس کے معنی ہیں۔ اپنی حد سے تجاوز کرنا اور دوسرے کے حقوق پر دست درازی کرنا چاہے وہ حقوق خالق کے ہوں یا مخلوق کے۔
Ayah 16:92

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور اس عورت جیسے نہ بنو جس نے بڑی محنت سے سوت کاتا اور پھر اسے (آپ ہی) آپ ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ تم آپس کے معاملے میں اپنی قسموں کو مکر و فساد کا ذریعہ بناتے ہو تاکہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ جائے۔ (یاد رکھو، ) اللہ اس (عہد و پیمان) کے ذریعے سے تمہاری (راست بازی اور استقامت کی) آزمائش کرتا ہے اور جن چیزوں میں تم اختلاف کرتے رہے ہو قیامت کے دن وہ ضرور تم پر (ان کی اصل حقیقت) ظاہر کردے گا۔

[59] مکہ میں ایک دیوانی عورت تھی۔ دن بھر مشقت سے سوت کا تتی اور پھر اپنے ہاتھوں سے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی۔ اولین مخاطب قرآن اس سے خوب واقف تھے۔ اس کی مثال دے کر فرمایا کہ کہیں تم اپنا حال اس کا سا نہ کرلینا۔
Ayah 16:93

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اگر اللہ چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی امت بنا دیتا (اور مختلف گروہوں اور مختلف طریقوں کا اختلاف ظہور ہی میں نہ آتا) ۔ لیکن (تم دیکھ رہے ہو کہ اس نے ایسا نہیں چاہا) وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو کچھ تم (دنیا میں) کرتے رہے ہو اس کی تم سے ضرور باز پرس ہو کر رہے گی۔

[60] یعنی اگر اللہ اپنے جبر و زور سے کام لینا چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا لیکن اس نے تمہیں اختیار بخشا ہے اور اس طرح تمہارا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ تم اپنی سمجھ بوجھ سے کام لے کر ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہو یا ضلالت کی۔ پھر تم میں سے جو ہدایت کے طالب بنتے ہیں ان کو ہدایت کی توفیق بخشتا ہے اور جو ضلالت پر جمے رہنا چاہتے ہیں ان کو اسی پر چھوڑ دیتا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو سورة ابراہیم حاشیہ 1۔
Ayahs 16:94–96

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) آپس کے معاملات میں اپنی قسموں کو مکر و فساد کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) پاؤں جمنے کے بعد اکھڑ جائیں۔ اور اس بات کی پاداش میں کہ تم نے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکا تمہیں برائی (کے نتائج کا مزا) چکھنا پڑے اور (آخرت میں) تمہیں بڑا عذاب ہو۔

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور اللہ کے (نام پر کئے ہوئے) عہد کو (دنیا کے) تھوڑے سے فائدے کے بدلے نہ بیچ ڈالو۔ (راست بازی کا) جو (اجر) اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے حق میں (کہیں) بہتر ہے اگر تم جانو۔

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے پاس ہے (ایک نہ ایک دن) ختم ہوجائے گا اور جو (اجر) اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے۔ اور (یاد رکھو، ) جن لوگوں نے (دنیا میں) صبر کیا (اور زندگی کی مشکلات جھیل گئے) ہم (قیامت کے دن) ان کے اچھے کاموں کے عوض ان کا اجر ان کو ضرور دے کر رہیں گے۔

[61] یعنی کوئی شخص اسلام کی سچائی کا قائل ہوجانے کے بعد محض تمہاری بدعہدی سے اس دین سے برگشتہ نہ ہوجائے۔
Ayah 16:97

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جو شخص بھی نیک کام کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ ہو وہ مومن، تو (یاد رکھو، ) ہم ضرور اسے (دنیا میں) پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں بھی) ایسے لوگوں کو ان کے اچھے اعمال کا اجر ضرور دیں گے۔

[62] اس بشارت سے یہ مراد نہیں کہ مومن صالح کو کبھی فقر یا مرض طاری نہ ہوگا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اطاعت کی برکت سے اس کے قلب میں ایسا نور پیدا ہوگا جس سے وہ ہر حال میں صابر و شاکر اور تسلیم و رضا سے رہے گا۔ سکون و جمعیت خاطر کی اصل یہی رضا ہے۔ ایک مومن کی دنیوی زندگی بےایمان اور بدعمل لوگوں کے مقابلے میں کہیں بہتر رہتی ہے۔ جو ساکھ اور سچی عزت اپنی بےداغ سیرت کی وجہ سے اسے نصیب ہوتی ہے وہ بدعمل اور بےایمان کو نصیب نہیں ہوتی۔ وہ بوریا نشین ہو کر بھی قلب کے جس اطمینان اور ضمیر کی جس ٹھنڈک سے بہرہ مند ہوتا ہے وہ محل میں رہنے والا فاسق و فاجر شخص نہیں پاسکتا۔
Ayahs 16:98–101

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود (کے وسوسوں) سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

اس کا کچھ بھی قابو ان لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان لے آئے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

اس کا بس تو انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا رفیق بناتے ہیں اور اس کی وجہ سے شرک کرتے ہیں۔

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جب ہم ایک آیت کو بدل کر اس کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں۔۔ اور اللہ جو کچھ نازل فرماتا ہے اس (کی مصلحتوں) کو وہی خوب جانتا ہے۔۔ تو (کافر تم سے) کہتے ہیں کہ تم تو بس (اپنے جی سے) گھڑ لیا کرتے ہو نہیں بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) ان میں سے اکثر بےعلم ہیں۔

[63] یعنی دل سے تو ضرور اور بہتر یہ ہے کہ زبان سے بھی اعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم کہا جائے۔ یہاں یہ آیت جس غرض کے لئے آئی ہے وہ یہ ہے کہ آگے چل کر ان اعتراضات کا جواب دیا جا رہا ہے جو مشرکین قرآن پر کیا کرتے تھے۔ اس لئے تمہید کے طور پر فرمایا گیا کہ قرآن کو اس کی اصلی روشنی میں صرف وہی شخص دیکھ سکتا ہے جو شیطان سے چوکنا ہو اور اس کی وسوسہ اندازیوں سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ سے پناہ مانگے۔
Ayah 16:102

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

(اے پیغمبر، تم ان سے) کہو کہ اس (قرآن) کو روح القدس نے ٹھیک ٹھیک میرے رب کی طرف سے نازل کیا ہے تاکہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کو ثابت قدم رکھے اور (اللہ کے) فرماں بردار بندوں کے لئے ہدایت اور (نجات وسعادت کی) خوشخبری ہو۔

[64] روح القدس کے معنی ہیں پاک روح۔ اس سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنے کلام کو ایک ایسی ہستی کے ذریعے سے نازل کیا ہے جو بشریٰ کمزوریوں اور نقائص سے پاک اور امانت دار ہے۔
Ayahs 16:103–112

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ (تمہارے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ یہ) کہتے ہیں کہ اس شخص کو (قرآن) تو ایک آدمی سکھلا جاتا ہے، (حالانکہ) جس آدمی کی طرف اسے منسوب کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ قرآن فصیح عربی زبان (میں) ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

(اصل بات یہ ہے) کہ بیشک جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اللہ بھی انھیں راہ راست نہیں دکھایا کرتا اور (آخرت میں) ان کے لئے عذاب دردناک ہے۔

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

یقینا ( اس کے سوا نہیں کہ) وہی لوگ جھوٹ (بہتان) باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اور یہی لوگ (اصل میں) جھوٹے ہیں۔

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ سے منکر ہوا وہ اگر (کفر پر) مجبور کیا گیا ہو (اور بےبس ہو کر جان کے خوف سے کفر کی بات کہہ دے) مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تو اس سے مواخذہ نہیں) لیکن جس کا دل کفر پر رضا مند ہوگیا تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب اور ان کے لئے بڑا (سخت) عذاب ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں پسند کرلیا اور (نیز) اس وجہ سے کہ اللہ (کا قانون ہے کہ وہ) کافروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور یہی (اپنے انجام سے بالکل) غافل ہیں۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ آخرت میں (بھی) یہی لوگ خسارے میں ہوں گے۔

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

بخلاف اس کے جن لوگوں نے (کفر و ایمان کی) آزمائشوں میں پڑنے کے بعد ہجرت کی پھر (اللہ کی راہ میں) جہاد کیا اور (ہر طرح کی مصیبتوں میں) صبر سے کام لیا تو (اے پیغمبر، ) بیشک تمہارا رب ان (سب امتحانوں) کے بعد ان کے لئے یقینا (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

(یہ جزا اور سزا اس دن ہوگی) جس دن ہر شخص اپنی ہی طرف داری میں گفتگو کرے گا (یعنی کسی کو کسی کی فکر نہ ہوگی) اور ہر ایک کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور لوگوں پر (ذرہ برابر) ظلم نہ ہوگا۔

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اللہ ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ وہاں کے لوگ امن و اطمینان سے تھے، ہر طرف سے بافراغت ان کا رزق ان کے پاس چلا آتا تھا، پھر انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کو (ان کا) اوڑھنا (بچھونا) بنادیا

[65] یہاں کسی خاص شخص کا نام مذکور نہیں صرف اس کے عجمی ہونے کی تصریح ہے، مفسرین نے یہاں ایک سے زیادہ ناموں کا ذکر کیا ہے قرآن کو اس کے نام سے بحث نہیں صرف اعتراض سے بحث ہے اور اسی کا جواب اس نے دیا ہے مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ سے قرآن کے معانی اور حقائق تک تو پہنچنے کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی لیکن ان کو اپنی زبان دانی پر بڑا ناز ہے تو کم از کم اس کی زبان کی بےمثال فصاحت پر ہی غور کرتے تو ان پر اپنے اعتراض کی لغویت واضح ہوجاتی کہ عجمی تو درکنار خود ان کے کسی شاعر یا خطیب کے بس میں بھی یہ نہیں کہ اس طرح کا کلام پیش کرسکے۔ یہاں تک کہ خود پیغمبر کے اپنے کلام اور قرآن کے کلام میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
Ayahs 16:113–114

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور (پھر) ان کے پاس ایک رسول بھی انہی میں سے آیا (اور کامیابی وسعادت کی راہ کی دعوت دی) مگر انہوں نے اسے جھٹلایا۔ اس پر عذاب (الٰہی) نے ان کو آن پکڑا اس حال میں کہ وہ (اپنے حق میں) ظالم تھے۔

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

تو (مسلمانو، ) اللہ نے تمہیں جو حلال اور پاک رزق عطا کیا ہے اسے کھاؤ اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اس کی فرماں برداری کا دم بھرتے ہو۔

[66] اللہ تعالیٰ نے جس بستی کی مثال بیان فرمائی ہے اس کے نام کی صراحت نہیں فرمائی لیکن خود مکہ اس کا مصداق معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی اہل مکہ امن و اطمینان سے رہتے تھے۔ تمام عرب میں لوٹ مار مچی رہتی تھی مگر خانہ کعبہ کی حرمت کی وجہ سے کوئی اہل مکہ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتا تھا اور باوجودیکہ سرزمین مکہ ریگستان ہے اور اس میں کھیتی باڑی کی صلاحیت نہیں تاہم اطراف و جوانب کی پیداوار بافراط مکہ کو کھنچی چلی آتی تھی۔ یہ امن و اطمینان اور روزی کا سامان اہل مکہ کے حق میں بڑا احسان الٰہی تھا مگر وہ حقیقی منعم اور محسن یعنی اللہ کو بھول کر بت پرستی کرنے لگے تو اللہ نے ان کی ہدایت کے لئے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا لیکن انہوں نے آپ کی قدر نہ جانی اور جھٹلا دیا تو اس کفران نعمت اور انکار رسول کی پاداش میں سات برس مبتلائے قحط ہوئے۔
Ayah 16:115

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سور کا گوشت حرام کیا ہے اور نیز وہ (جانور) جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ پھر جو شخص (بھوک سے) بےقرار ہوجائے اور حکم عدولی کرنے والا اور حد سے تجاوز کرنے والا نہ ہو تو بیشک اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[67] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 801 صفحہ 106۔
Ayahs 16:116–117

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور نہ کہو جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام، کہ اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھوٹ باندھنے لگو۔ (یاد رکھو، ) جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کبھی فلاح پانے والے نہیں۔

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

(یہ دنیا کا) چند روزہ عیش ہے اور (آخر کار) ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

[68] یعنی اپنی زبانوں کو کذب سرائی کے لئے بےلگام نہ چھوڑ دو کہ جس چیز کو چاہا اپنی رائے اور قیاس سے حرام ٹھہرا دیا اور جس کو چاہا حلال کہہ دیا۔ حلال و حرام ٹھہرانے کا حق اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔
Ayahs 16:118–119

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) یہودیوں پر ہم نے وہ چیزیں حرام کردی تھیں جو پہلے ہم تم سے بیان کرچکے ہیں اور (ان چیزوں کے حرام کرنے سے) ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے۔

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

ہاں، جن لوگوں نے نادانی کی بنا پر برا کام کیا، پھر اس کے بعد توبہ کی اور (توبہ کے بعد اپنی حالت کی) اصلاح بھی کرلی تو (اے پیغمبر، ) تمہارا رب۔۔ ہاں تمہارا رب۔۔ بیشک (ان کے لئے) (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[69] اشارہ ہے سورة انعام کی آیت 146 کی طرف۔ یہاں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے جو مشرکین مکہ نے مذکورہ بالا حکم پر کیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں جو چیزیں حرام تھیں تم نے انھیں حلال کر رکھا ہے۔ اگر ان کی شریعت اللہ کی طرف سے تھی اور تمہاری شریعت بھی اللہ کی طرف سے ہے تو پھر دونوں شریعتوں میں اختلاف کیسا ہے ؟
Ayah 16:120

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

بلاشبہ ابراہیم (اپنی شخصیت میں) ایک پوری امت تھا، اللہ کا فرماں بردار، یک سو اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔

[70] یعنی اللہ کی عبادت و فرماں برداری اور طاعات و حسنات میں پوری ایک جماعت کے برابر تھا۔