17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 17:79

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور رات کے کچھ حصے میں (نماز) تہجد بھی پڑھا کرو۔ یہ تمہارے لئے نفل ہے۔ بعید نہیں کہ تمہارا رب (اس کی برکت سے) تمہیں مقام محمود پر فائز کردے۔

[58] تہجد کے معنی ہیں نیند توڑ کر اٹھنا۔ پس رات کے وقت تہجد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رات کا ایک حصہ سونے کے بعد پھر اٹھ کر نماز پڑھی جائے۔ [59] مقام محمود کے معنی پسندیدہ مقام کے ہیں اور مقام محمود پر فائز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسے مرتبہ پر پہنچا دے گا کہ آپ محمود خلائق ہو کر رہیں گے۔ کوئی ملک ہو، کوئی نسل ہو لیکن کروڑوں دلوں میں آپ کی ستائش ہوگی۔ یہ مقام انسانی عظمت کی انتہا ہے۔ احادیث صحیحہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود میں جگہ دے گا۔ مقام محمود سے مراد شفاعت کبُریٰ کا مقام ہے جو محشر میں تمام بنی آدم کے لئے آپ کو عطا ہوگا۔ میدان حشر میں جس وقت تمام انسان جمع ہوں گے اور ہر نبی و پیغمبر سے شفاعت کی درخواست کریں گے تو تمام انبیاء عذر کریں گے۔ صرف نبی ﷺ کو یہ شرف عطا ہوگا کہ وہ بنی آدم کی شفاعت کریں گے۔
Ayahs 17:80–84

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور دعا کرو کہ اے میرے رب، مجھے (جہاں کہیں پہنچا تو) سچائی کے ساتھ پہنچا اور (جہاں کہیں سے نکال تو) سچائی کے ساتھ نکال اور مجھے اپنے پاس سے ایک حکومت کی مدد عطا فرما۔

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اعلان کردو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم قرآن میں وہ کچھ نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لئے (روح کی ساری بیماریوں کی) شفا اور رحمت ہے مگر ظالموں کے لئے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس پر انعام کرتے ہیں تو (ہم سے) منہ پھیر لیتا اور پہلو تہی کرتا ہے اور جب اسے (کوئی) تکلیف پہنچتی ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے۔

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریقے پر عمل کررہا ہے۔ پس تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سیدھی راہ پر ہے۔

[60] یعنی خیر و خوبی کے ساتھ۔ [61] یعنی یا تو مجھے حکومت عطا کر یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنا دے کہ میں اس کی طاقت کے ذریعے برائی کو مٹا دوں اور تیرے قانون عدل و انصاف کو جاری کرسکوں۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سدباب کردیتا ہے جن کا سدباب قرآن سے نہیں کرتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے وہ صرف وعظ و نصیحت سے نہیں ہوسکتی بلکہ اس کو نافذ کرنے کے لئے حکومت کی طاقت بھی درکار ہے۔
Ayahs 17:85–95

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) لوگ تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ تم کہہ دو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور (اسرار کائنات کا) جو کچھ علم تمہیں دیا گیا ہے وہ بہت تھوڑا ہے (اس سے زیادہ تم نہیں پاسکتے) ۔

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جو کچھ ہم نے تم پر وحی کی ہے اگر ہم چاہیں تو اسے سلب کرلیں پھر تم اس کے لئے ہمارے مقابلے میں کوئی بھی حمایتی نہ پاؤ (جو اسے واپس دلا سکے)

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

مگر (یہ محض) تمہارے رب کی رحمت (ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتا) ۔ اس میں شک نہیں کہ تم پر اس کا بڑا ہی فضل ہے۔

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

تم کہہ دو کہ اگر تمام انسان اور جن جمع (ہو کر اس بات پر آمادہ) ہوں کہ اس قرآن کے مانند (کلام) بنا لائیں تو اس جیسا نہیں (بنا) لاسکتے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے ہر قسم کی مثالیں طرح طرح سے بیان کی ہیں لیکن اکثر لوگ انکار ہی کرتے رہے۔

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور (تم سے) کہا کہ ہم ہرگز تم پر ایمان نہ لائیں گے جب تک تم ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری نہ کردو

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا خود تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ (پیدا) ہو اور تم اس کے درمیان نہریں رواں کردو،

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا جیسا کہ تم کہا کرتے تھے آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہم پر لا گراؤ، یا اللہ اور اس کے فرشتوں کو ہمارے سامنے لاکھڑا کرو،

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا تمہارا کوئی گھر ہی سونے کا ہو، یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے (آسمان پر) چڑھ جانے کا بھی یقین نہ کریں گے جب تک تم (وہاں سے) ہم پر ایک کتاب نہ اتار کرلے آؤ جسے ہم پڑھ لیں۔ (اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو، پاک ہے میرا رب ! میں اس کے سوا نہیں ہوں مگر صرف ایک بشر (اور) رسول (پیغام حق پہنچانے والا) ۔

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور جب کبھی لوگوں کے پاس (اللہ کی طرف سے) ہدایت آئی تو ان کو ایمان لانے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ لگے کہنے کہ کیا اللہ نے (ہماری طرح کا) ایک آدمی پیغمبر (بنا کر) بھیج دیا ؟

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

(اے پیغمبر، تم ان لوگوں کو) کہہ دو کہ اگر (ایسا ہوتا کہ) زمین میں (انسانوں کی جگہ) فرشتے (بسے) ہوتے اور اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو پیغمبر (بنا کر) ان پر اتارتے۔

[62] روح سے مراد یہاں وحی الٰہی ہے۔ یہی بات سورة نحل آیت 2، سورة مومن آیت 15 اور سورة شوریٰ آیت 52 میں بیان ہوئی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہاں روح سے مراد جان ہے لیکن سیاق وسباق کی مناسبت سے روح کے معنی وحی الٰہی کے زیادہ صحیح ہیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ ، قتادہ اور حسن بصری نے بھی یہی معنی اختیار کئے ہیں۔
Ayahs 17:96–99

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

(نیز ان سے یہ بھی) کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان (اب) اللہ ہی کی گواہی کافی ہے۔ وہ اپنے بندوں (کے حال) سے باخبر ہے (اور سب کچھ) دیکھ رہا ہے۔

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

جسے وہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہ کردے تو پھر (اے پیغمبر، ) ایسے لوگوں کے لئے تم اللہ کے سوا کسی کو بھی مددگار نہ پاؤگے۔ اور قیامت کے دن ہم ان کو منہ کے بل اٹھائیں گے اندھا، گونگا اور بہرا (کر کے) ۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جب (اس کی آگ) دھیمی ہونے لگے گی ہم ان کے لئے (اسے) اور بھڑکا دیں گے۔

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ جب ہم (مرنے کے بعد گل سڑ کر) صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہم از سرنو پیدا کر کے اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ؟

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ ان جیسے (آدمی دوبارہ) پیدا کردے ؟ اور اس نے ان کے (دوبارہ پیدا ہونے کے) لئے ایک میعاد مقرر کر رکھی ہے جس میں کسی طرح کا شک نہیں (کیا جاسکتا) ۔ اس پر (بھی یہ) ظالم انکار کئے بغیر نہ رہے۔

[63] یعنی اللہ جانتا ہے کہ میں واقعی اس کا رسول ہوں۔
Ayah 17:100

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ اگر میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے اختیار میں ہوتے تو ضرور تم خرچ ہوجانے کے ڈر سے انھیں روکے رکھتے اور (حقیقت یہ ہے کہ) انسان بڑا ہی تنگ دل (واقع ہوا) ہے۔

[64] مشرکین نبی ﷺ کی نبوت کے لئے جو بےسروپا اور بےہودہ مطالبات کر رہے تھے اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اگر آپ کو بلا حیل و حجت نبی مان لیتے تو ساتھ ہی آپ کی برتری بھی تسلیم کرنا پڑتی جس کے لئے وہ آمادہ نہ تھے۔ لہذا فرمایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کی بخیلی کا یہ حال ہے کہ کسی کی برتری کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا دل دکھتا ہے اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے خزانے ان کے حوالے کردیئے ہوتے تو وہ کسی کو پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے۔
Ayahs 17:101–104

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے موسیٰ کو نوکھلی نشانیاں دی تھیں۔ اب تم خود بنی اسرائیل سے پوچھ دیکھو کہ جب موسیٰ ان کے پاس آیا تھا تو فرعون نے اس سے کہا تھا کہ اے موسیٰ ، میں تو سمجھتا ہوں کہ تو ضرور سحرزدہ ہے

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

(اور) موسیٰ نے جواب دیا تھا کہ تو خوب جانتا ہے کہ یہ نشانیاں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی اور نے نہیں اتاری ہیں۔ اور اے فرعون، میں تو سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاکت زدہ ہے۔

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

تو (دیکھو، ) فرعون نے چاہا تھا کہ بنی اسرائیل کا قدم (اس) سرزمین سے اکھاڑ دے لیکن ہم نے اسے اور ان سب کو جو اس کے ساتھ تھے (سمندر میں) غرق کردیا

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ (اب) تم زمین میں (بےکھٹکے) رہو بسو پھر جب آخرت کا وعدہ (وقوع میں) آجائے گا تو ہم تم (سب) کو سمیٹ کر (اپنے حضور میں) لاکھڑا کریں گے۔

[65] یہاں پھر مشرکین کے معجزوں کے مطالبے کا جواب دیا گیا ہے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ جن معجزوں کا مطالبہ تم کررہے ہو تو فرعون کو بھی ایسے ہی نو صریح معجزات دکھائے گئے تھے پھر بھی اس نے پیغمبر کو جھٹلایا۔ ان نو معجزات کی تفصیل سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔
Ayahs 17:105–106

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اس (قرآن) کو ہم نے سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے اور سچائی ہی کے ساتھ یہ نازل بھی ہوا ہے۔ اور (اے پیغمبر، ) ہم نے تمہیں بس (ایمان و عمل صالح کے نتائج کی) خوشخبری دینے والا اور (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے (اس لئے تم پر کسی کے ایمان لانے نہ لانے کی ذمہ داری نہیں) ۔

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو (الگ الگ ٹکڑوں میں) منقسم کردیا تاکہ تم ٹھہر ٹھہر کر لوگوں کو سناتے رہو اور (یہی وجہ ہے کہ) ہم نے اسے بتدریج اتارا ہے۔

[66] یعنی قرآن کی جتنی باتیں ہیں سب بالکل ٹھیک اور سچی ہیں۔ کوئی بات خلاف واقعہ نہیں اور جیسا یہ کاتب کے پاس سے چلا تھا اسی طرح مکتوب الیہ تک پہنچ گیا اور درمیان میں کوئی تغیر و تبدل و تصرف اس میں نہیں ہوا۔
Ayah 17:107

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہہ دو کہ تم اس (قرآن) کو (کلام الٰہی) مانو یا نہ مانو (لیکن) جن لوگوں کو اس سے پہلے (آسمانی کتابوں کا) علم دیا گیا ہے (ان کا تو یہ حال ہے کہ) جب یہ ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ (بےاختیار) ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں

[67] سجدہ کی اصل ہیئت کو محاورہ عرب کے مطابق '' ٹھوڑیوں کے بل سجدہ '' سے ادا کیا گیا ہے۔
Ayahs 17:108–109

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور پکار اٹھتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا رب، بیشک ہمارے رب کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا۔

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور وہ ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے گرجاتے ہیں اور یہ (قرآن) ان کی عاجزی اور زیادہ کردیتا ہے۔

[68] یعنی قرآن کی پیشین گوئی اگلی آسمانی کتابوں میں موجود تھی اور اہل کتاب قرآن اور پیغمبر آخرالزماں کے منتظر تھے۔ تو جو ان میں حق شناس تھے وہ اس کلام کو سن کر سمجھ گئے کہ یہ اسی وعدے کا ایفا ہے اور سجدہ شکر بجا لائے۔
Ayahs 17:110–111

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہو کہ تم اللہ (کہہ کر) پکارو یا رحمن (کہہ کر) ، جس (نام) سے بھی پکارو، اس کے (سارے) نام اچھے (ہی اچھے) ہیں۔ اور (اے پیغمبر، ) نہ تو اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھو اور نہ ہی بالکل چپکے چپکے بلکہ ان (دونوں) کے درمیان ایک (متوسط) طریقہ اختیار کرو۔

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور کہو کہ ساری تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو نہ اولاد رکھتا ہے اور نہ حکومت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ اس سبب سے کہ وہ کمزور ہے کوئی اس کا مددگار ہے۔ (وہ ان ساری باتوں سے بےنیاز ہے) ۔ اور اس کی بڑائی بیان کرو، کمال درجے کی بڑائی۔

[69] عرب میں اللہ کا لفظ بطور اسم ذات کے شروع سے چلا آ رہا تھا۔ یہود کے ہاں اسم الرحمن کا استعمال رائج تھا۔ اسلام نے دونوں الفاظ استعمال کرنے شروع کئے تو مشرکین نے کہنا شروع کیا کہ توحید کامل کے دعویٰ کے ساتھ یہ دو دو اِلٰہ کیسے ؟ اسی کا جواب یہاں دیا گیا ہے۔ [70] شروع شروع میں نماز جہری میں قرآن مجید کی بلند قرات سے مشرکین چڑتے تھے اور طرح طرح کی خرافات بکنے لگتے تھے۔ اس لئے نبی ﷺ کو ہدایت کی گئی کہ نماز میں جہر بس اس حد تک رکھیں کہ نمازیوں کے کان تک آواز پہنچ جائے اور ان کی تعلیم میں کمی نہ رہ جائے۔