19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 19:37–43

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر (ایسا ہوا کہ مختلف) گروہ لگے آپس میں اختلاف کرنے۔ تو جن لوگوں نے کفر کیا تو ان کے لئے خرابی ہے ایک بڑے (سخت) دن کی حاضری سے

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

جس دن یہ لوگ ہمارے حضور میں حاضر ہوں گے تو یہ خوب سن بھی رہے ہوں گے اور دیکھ بھی رہے ہوں گے مگر آج یہ ظالم (اندھے اور بہرے بنے ہوئے) کھلی گمراہی میں (پڑے) ہیں۔

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) ان لوگوں کو اس پچھتاوے کے دن سے ڈراؤ جب کہ فیصلہ کردیا جائے گا۔ (اس وقت تو) یہ لوگ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لا رہے ہیں۔

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

(بالآخر) ہم ہی زمین کے اور اس پر رہنے والوں کے وارث ہوں گے اور ہماری ہی طرف (سب) لوٹائے جائیں گے۔

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اس کتاب میں ابراہیم کا ذکر (بھی لوگوں سے) کرو۔۔ بلاشبہ وہ نہایت راست باز (بندہ اور) نبی تھا۔

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

(وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب اس نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ '' ابا جان، آپ کیوں ان (بتوں) کی پرستش کرتے ہیں جو نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکتے ہیں۔

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

ابا جان، میرے پاس (اللہ کی طرف سے) وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا۔ پس آپ میرے پیچھے چلیں، میں آپ کو (دین کا) سیدھا راستہ بتاؤں گا۔

[17] عیسائیوں میں کئی فرقے ہوگئے جن کے جھگڑوں سے کلیسا کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ [18] یعنی روز قیامت۔
Ayahs 19:44–50

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

اے ابا جان، آپ شیطان کی عبادت نہ کریں شیطان تو ( اللہ) رحمن کا نافرمان ہے۔

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

اے ابا جان، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں (ایسا نہ ہو کہ اللہ) رحمن کی طرف سے آپ کو کوئی عذاب آ لگے اور آپ (آخرکار جہنم میں) شیطان کے ساتھی بن جائیں ''۔

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

(باپ نے) کہا، اے '' ابراہیم، کیا تو میرے معبودوں سے پھرا ہوا ہے۔ (یاد رکھ، ) اگر تو باز نہ آیا تو تجھے سنگسار کر ڈالوں گا اور (اپنی خیر چاہتا ہے تو) ہمیشہ کے لئے مجھ سے الگ ہوجا ''۔

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا، '' (اچھا تو) آپ کو میرا سلام، (میں الگ ہوجاتا ہوں پھر بھی) میں اپنے رب سے آپ کی مغفرت کی دعا کروں گا۔ بیشک وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور میں آپ لوگوں سے بھی کنارہ کرتا ہوں اور ان (ہستیوں) سے بھی جنہیں آپ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔ میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کر محروم نہ رہوں گا ''۔

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

پھر جب ابراہیم ان لوگوں سے اور ان (بتوں) سے جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجا کرتے تھے کنارہ کش ہوگیا تو ہم نے اسے اسحاق اور (پوتا) یعقوب عطا فرمایا اور ہر ایک کو نبی بنایا

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سچی ناموری عطا کی۔

[19] ظاہر ہے کہ شیطان کی تو کوئی بھی عبادت نہیں کرتا سب اس پر لعنت ہی کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد اور ان کی قوم کے لوگ اگرچہ پرستش بتوں کی کرتے تھے لیکن کیونکہ وہ اطاعت شیطان کی کر رہے تھے اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی اطاعت شیطان کو بھی عبادت شیطان قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے احکام اور رہنمائی کا اتباع کرنا دراصل اس کی اطاعت و بندگی ہے۔ لفظ '' عبادت '' کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 11۔
Ayahs 19:51–58

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اس کتاب میں موسیٰ کا ذکر (بھی لوگوں سے) کرو۔ بلاشبہ وہ ہمارا خاص (بندہ) تھا اور رسول نبی تھا۔

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو (کوہ) طور کی داہنی جانب سے آواز دی اور راز کی گفتگو کے لئے (اپنے) قریب کیا

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور اپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر اس کو (مددگار کے طور پر) عنایت کیا۔

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اس کتاب میں اسماعیل کا ذکر (بھی لوگوں سے) کرو۔ بلاشبہ وہ اپنے وعدے کا سچا تھا اور رسول نبی تھا۔

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھا۔

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اس کتاب میں ادریس کا ذکر (بھی لوگوں سے) کرو۔ بلاشبہ وہ (بھی) بڑا سچا (بندہ اور) نبی تھا

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور ہم نے اسے بلند مقام تک اٹھایا تھا۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ (پیغمبر) ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا آدم کی نسل سے، اور ان لوگوں کی نسل سے جن کو ہم نے (طوفان کے وقت کشتی میں) نوح کے ساتھ سوار کیا تھا، اور ابراہیم اور اسرائیل کی نسل سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا۔ (ان کا حال یہ تھا کہ) جب ( اللہ) رحمن کی آیتیں انھیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو روتے ہوئے سجدے میں گرجاتے تھے۔

[20] رسول۔ صاحب شریعت ہوتا ہے لیکن نبی صاحب وحی ہوتا ہے۔ اپنے ساتھ شریعت نہیں لاتا بلکہ پچھلی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے جیسے بنی اسرائیل کے انبیاء شریعت موسوی کی تبلیغ کرتے تھے۔ بالفاظ دیگر ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔
Ayahs 19:59–60

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ایسے ناخلف جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہش نفس کی پیروی کی۔ پس عنقریب وہ گمراہی (کے انجام) سے دوچار ہوں گے۔

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل (بھی) کئے تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔

[21] یعنی نماز پڑھنی چھوڑ دی یا نماز سے غفلت برتنے لگے۔ یہ ہر امت کے زوال کا پہلا قدم ہے۔ نماز وہ اولین رابطہ ہے جو مومن کا تعلق اللہ کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے اور اسے توحید پرستی کے مرکز سے بچھڑنے نہیں دیتا۔ یہ بندھن ٹوٹتے ہی آدمی اللہ سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
Ayah 19:61

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

(اور جنت کیا ہے ؟ ) ہمیشگی کے باغ جن کا وعدہ ( اللہ) رحمن نے اپنے بندوں سے درپردہ کر رکھا ہے (اور) یقینا اس کا وعدہ پورا ہو کر رہنے والا ہے۔

[22] یعنی اللہ نے اپنے بندوں سے وعدہ اس حال میں کیا کہ جنت ان کی نگاہوں سے غائب ہے۔
Ayah 19:62

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

وہاں وہ کوئی بےہودہ بات نہ سنیں گے (ہر طرف سے) سلام ہی سلام (کی آوازیں چلی آئیں گی) اور وہاں ان کا کھانا صبح و شام (انہیں ملتا رہے گا) ۔

[23] اردو کی طرح عربی محاورے میں بھی صبح شام سے مراد دوام ہے۔
Ayah 19:63

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہی وہ جنت ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو متقی ہو۔

[24] اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کر کے جنت ان کے رہنے کے لئے عنایت فرمائی تھی۔ اسی لحاظ سے متقیوں کو جنت کا وارث بنایا۔
Ayah 19:64

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترا کرتے۔ اسی کا ہے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں۔

[25] وحی کے آنے میں دیر ہوتی تو رسول اکرم ﷺ پریشان رہتے۔ ایک روز آپ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ آپ زیادہ مرتبہ کیوں نہیں آتے ؟ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو سکھلایا کہ جواب میں یوں کہو کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر وحی نہیں لاسکتے اور اللہ کسی چیز سے غافل نہیں۔
Ayahs 19:65–70

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان سب کا جو ان دونوں کے درمیان ہیں۔ پس تم اسی کی عبادت کیا کرو اور اس کی عبادت پر قائم رہو۔ کیا اس نام کا کوئی اور جانتے ہو ؟

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور (حقیقت سے غافل) انسان کہتا ہے کہ کیا جب میں مرجاؤں گا تو بھلا پھر زندہ کر کے (زمین سے) نکالا جاؤں گا ؟

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

(یہ) آدمی (اس وقت کو) یاد نہیں کرتا کہ ہم پہلے اسے پیدا کرچکے ہیں حالانکہ وہ کچھ بھی نہ تھا ؟

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تمہارے رب کی قسم، ہم ان کو (بھی) جمع کریں گے اور شیاطین کو (بھی) ، پھر ان (سب) کو دوزخ کے گرد لا حاضر کریں گے (اس حالت میں کہ وہ) گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (ہوں گے) ۔

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو الگ (نکال کھڑا) کریں گے جو ( اللہ) رحمن سے سرکشی میں سب سے بڑھے ہوئے تھے۔

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

پھر ہم انھیں بھی خوب جانتے ہیں جو اس (جہنم) میں جھونکے جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔

[26] یعنی کسی کو اس کے ساتھ اسمی شرکت بھی نہیں، اس کی وحدانیت اتنی ظاہر ہے کہ مشرکین نے بھی اپنے کسی معبود کا نام اللہ نہیں رکھا۔ پس جب اس کا کوئی شریک نہیں تو بندگی بھی اسی کی ہونی چاہئے۔
Ayahs 19:71–72

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور (یاد رکھو، ) تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اس (جہنم) پر سے ہو کر نہ گزرے۔ یہ ایک طے شدہ بات ہے (جس کا پورا کرنا) تمہارے رب پر لازم ہے۔

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر (ہم ایسا کریں گے کہ) جو لوگ (دنیا میں) متقی تھے انھیں ہم بچا لیں گے اور ظالموں کو دوزخ میں چھوڑ دیں گے (اس حالت میں کہ وہ) گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (ہوں گے) ۔

[27] اس آیت میں خطاب تمام بنی نوع انسان سے نہیں بلکہ ان منکرین حق سے ہے جن کا ذکر پہلے سے چلا آ رہا ہے لیکن بعض مفسرین نے آیت کا مخاطب تمام بنی نوع انسان کو مان لیا ہے۔ چناچہ وہ ہر شخص کے لئے خواہ وہ نیک ہو یا بد، جہنم پر سے گزرنا ضروری قرار دیتے ہیں لیکن یہ تفسیر ان کی غلط فہمی کی بنا پر ہے کیونکہ سورة انبیاء میں ارشاد ہوا ہے کہ وہ لوگ جن کے لئے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے جہنم سے دور رکھے جائیں گے اور اس کی بھنک بھی نہ سنیں گے (آیات 102-101)
Ayah 19:73

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جب لوگوں کو ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جو لوگ کافر ہیں وہ ایمان والوں سے کہتے ہیں، (یہ تو بتاؤ کہ ہم) دونوں فریقوں میں سے کس کے مکانات زیادہ اچھے ہیں اور (کس کی) مجلسیں زیادہ شاندار ہیں ؟

[28] کفار مکہ قرآن کی آیتیں سن کر جن میں ان کا برا انجام بتایا گیا ہے ہنستے اور بطور استہزا و تفاخر غریب مسلمانوں سے کہتے کہ تمہارے زعم کے مطابق آخرت میں جو کچھ پیش آئے گا وہ ہماری اور تمہاری موجودہ حالت اور دنیوی پوزیشن پر منطبق نہیں ہوتا۔ کیا آج ہمارے مکانات اور سازوسامان تم سے بہتر نہیں اور ہماری مجلس (یا سوسائٹی) تمہاری سوسائٹی سے معزز نہیں۔ یقینا ہم جو تمہارے نزدیک باطل پر ہیں تم اہل حق سے زیادہ خوشحال اور جتھے والے ہیں۔ لہذا یہ کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ تم جنت میں جاؤ گے اور ہم دوزخ میں ؟