19. Surah Maryam
مريمMary · 98 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورة مریم سورة نمبر 19 آیات 98 رکوع 6 الفاظ وکلمات 762 حروف 3986 مقام نزول مکہ مکرمہ اس سورة میں دس انبیاء کرام کے نام اور چند انبیاء کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ادریس، حضرت ابراہیم، خلیل اللہ، حضرت اسماعیل، ذبیح اللہ، حضرت اسرائیل (یعقوب) ، حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت زکریا، حضرت عیسیٰ یہ سورة مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل کی گئی جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جا نثار صحابہ کرام کو اتنا زیادہ ستایا گیا اور تکلیفیں پہنچائی گئیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ وہ ملک حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔ چناچہ صحابہ کرام کی بڑی تعداد مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئی اور حبشہ کی طرف ہجرت کرگئی۔ حضرت زکریا علیہ اسللام بنی اسرائیل کے عظیم پیغمبر اور بیت المقدس کے متولی (نگران) تھے۔ جب ان کی نسبتی بہن کے گھر حضرت مریم پیدا ہوئیں تو حضرت مریم کی والدہ کی منت کی وجہ سے حضرت زکریا حضرت مریم کے نگران بنائے گئے۔ سورة مریم مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب کفار و مشرکین مکہ کا ظلم و ستم اس قدر بڑھ چکا تھا کہ صبر و تحمل کے پیکر اعظم حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنے جاں نثاروں پر اس ظلم و زیادتی کو برداشت نہ کرسکے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا کہ : ” تم مکہ مکرمہ سے نکل کر ملکہ حبشہ کی طرف چلے جاؤ۔ وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کی موجودگی میں کسی پر ظلم نہیں ہو سکتا۔ تمہارے لئے بھلائی کی زمین ہے جب تک اللہ تعالیٰ تمہاری اس مصیبت کو دور کرنے کی کوئی سبیل پیدا نہ کردیں اس وقت تک تم وہیں ٹھہرنا۔ “ چنانچہ ارشاد نبوی کے مطابق رجب ٥ ھ نبوی میں سب سے پہلے گیارہ (١١) مسلمان مردوں اور چار (٤) خواتین نے بیت اللہ کی سر زمین کو چھوڑ کر قریبی ملک حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ زیادہ عرصہ نہ گذارا تھا کہ کچھ اور صحابہ کرام و صحابیات نے مکہ سے ملک حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی اس طرح چند مہینوں میں تراسی (٨٣) مرد اور گیارہ (١١) خواتین جن میں سات (٧) غیر قریشی مسلمان بھی تھے حبشہ کی سر زمین پر جمع ہوگئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صرف چالیس صحابہ کرام رہ گئے۔ چونکہ مکہ مکرمہ کے تمام قبیلوں میں سے کسی نہ کسی قبیلے کے ایک یا دو افراد اس ہجرت میں شامل تھے اس سے تمام قبیلوں میں ایک کہرام مچ گیا وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف سینکڑوں لوگ مکہ چھوڑ جائیں گے بلکہ وہ مسلمان حبشہ میں ایک قوت بن جائیں گے اور قریش کے رعب اور دبدبہ کو سخت نقصان پہنچے گا۔ نیز مکہ والے یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ساری دنیا میں ان کی ہوا اکھڑ جائے گی۔ کفار مکہ اس توہین کو برداشت نہ کرسکے اور چند نہایت سمجھدار افراد پر مشتمل ایک وفد ترتیب دے کر ملک حبشہ میں شاہ نجاشی کے پاس بھیجا گیا اور بادشاہ کے لئے کچھ تحفے ساتھ کردیئے گئے۔ اس وفد کے ارکان نے بحشہ کے بادشاہ نجاشی سے یہ کہا کہ ہمارے کچھ غلام بھاگ کر آپ کے ملک میں آگئے ہیں براہ کرم ان کو واپس بھیج دیجیے۔ نجاشی بادشاہ نے کہا کہ جب تک میں ان لوگوں سے نہ مل لوں اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ چناچہ نجاشی نے مکہ سے آنے والوں کو بلا بھیجا۔ تمام صحابہ کرام بادشاہ کے پاس پہنچ گئے۔ بادشاہ کے پوچھنے پر حضرت جعفر طیار آگے بڑھے اور انہوں نے کہا کہ اے نجاشی ! ہم گراہ تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ ہم راہ ہدایت نصیب ہوئی۔ اس ہدایت پر چلنے کی وجہ سے مکہ کی سر زمین میں ہم پر اتنے ظلم و ستم کئے گئے کہ ہم اپنے گھر بار کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ اس موثر تقریر کے بعد حضرت جعفر طیار نے سورة مریم کی تلاوت بھی فرمائی۔ آیات کی تلاوت سن کر نجاشی بادشاہ اس قدر رویا کہ آنسوؤں سے اس کی داڑھی تر ہوگئی۔ تلاوت کے بعد نجاشی نے کہا یقینا یہ کلام اور جو کچھ حضرت عیسیٰ لے کر آئے تھے وہ ایک ہی سرچشمے سے نکلے ہیں۔ نجاشی نے کفار مکہ کے وفد سے کہا کہ اللہ کی قسم میں ان لوگوں کو تمہارے حوالے نہیں کروں گا۔ یہ کہہ کر اس نے مکہ والوں کے تحفے بھی واپس کردیئے۔ خلاف توقع مکہ کے لوگوں کو اس قدر ناکامی اور ذلت نصیب ہوئی کہ وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی سر توڑی کوششوں کے باوجود مسلمانوں کو حبشہ میں عزت و سربلندی سے نوازا۔ بادشاہ نے تمام مسلمانوں کو اپنے ملک میں رہنے کی اجازت دے دی۔ یہ وہ حالات تھے جن میں سورة مریم نازل کی گئی اور اللہ کے کلام کی حقانیت ثابت ہو کر رہی۔ اس سورة کا نام سورة مریم ہے۔ مریم کے معنی کنواری اور پاکیزہ کے آتے ہیں۔ اس سورت میں حضرت مریم کی شان اور عظمت کو بھی بیان فرمایا گیا ہے اور کچھ پیغمبروں کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس سورة کی ابتداء حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ کے ذکر سے فرمائی گئی ہے۔ حضرت زکریا بنی اسرائیل کے بڑے جلیل القدر اور عظیم پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر ہیں۔ آپ اس زمانہ میں بنی اسرائیل کے پیشوا، رہنما اور بیت المقدس کے متولی بھی تھے۔ حضرت زکریا اپنے ہاتھ سے روزی کماتے تھے اور بڑھئی کے کاموں سے جو کچھ ملتا اس پر گزارہ کرتے تھے۔ جب ان کی عمر مبارک ١٢٠ سال کی ہوگئی تو ان کی نسبتی بہن کے گھر حضرت مریم پیدا ہوئیں۔ حضرت مریم کی والدہ نے ان کی پیدائش سے پہلے یہ منت مان لی تھی کہ جو بھی اولاد پیدا ہوگی اسے میں بیت المقدس کے لئے وقف کر دوں گی۔ حضرت مریم کی پیدائش کے بعد منت کے مطابق ان کو بیت المقدس کے متولی حضرت زکریا جو حضرت مریم کے سگے خالو تھے ان کے حوالے کردی گئیں۔ جب وہ جوان ہوئیں تو ان کیلئے بیت المقدس میں ایک حجرے کا انتظام کردیا گیا جس میں وہ عبادت کرتی تھیں۔ حضرت مریم نہایت پاکیزہ صفت اور عبادت گذار خاتون تھیں۔ ایک دن حضرت زکریا ان کے حجرے میں گئے تو ان کے سامنے بےموسم کے پھل دیکھے۔ ان سے پوچھا کہ یہ پھل کہاں سے آئے ہیں ؟ انہوں نے نہایت معصومیت کے ساتھ جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم۔ یہ میرے اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ حضرت زکریا سوچنے لگے کہ جب اس جگہ جہاں کسی کے آنے کے امکانات نہیں ہے بےموسم کے پھل آسکتے ہیں تو میری زندگی کا اگرچہ موسم نکل گیا ہے کہ میرے گھر اولاد ہو مگر اللہ کی قدرت سے یہ بعید نہیں ہے۔ اس جگہ حضرت زکریا نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی۔ الٰہی ! میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ میری ہڈیاں تک سوکھ گئی ہیں۔ سر میں بالوں کی سفیدی پھیل گئی ہے۔ میری بیوی بانجھ ہے۔ اے رب ! آپ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے کبھی مایوس اور محروم نہیں کیا۔ میرے رشتہ داروں میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اس دین کا وارث بن سکے جو آپ نے مجھے عطا فرمایا ہے۔ آپ مجھے اپنی رحمت خاص سے ایک ایسا بیٹا عطا فرما دیجیے جو میرا اور آل یعقوب کی دینی عظمتوں کا وارث ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول فرمایا اور حضرت یحییٰ جیسا بیٹا عطا فرمایا۔ اللہ نے بتا دیا کہ وہ اللہ تمام قدرتوں کا مالک ہے وہ اسباب کا محتاج نہیں ہے وہ جب اور جس طرح چاہے اپنی قدرت کا اظہار فرما دیتا ہے۔ سورة مریم کی آیات اور حضرت زکریا کے اس واقعہ سے اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ جس اللہ پر تم ایمان لائے ہو وہ اتنی قدرت و طاقت والا ہے کہ ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے اور اسباب کا محتاج نہیں ہے۔ لہٰذا مستقبل اہل ایمان کا ہے۔ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ کی قدرت و طاقت پر بھروسہ رکھا جائے اور عمل صالح اختیار کیا جائے۔ اسی میں سب سے بڑی کامیابی ہے۔
كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader
کاف۔ ھا۔ یا۔ عین۔ صاد۔
ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ یہ آپ کے رب کی رحمت کا تذکرہ ہے۔
اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader
اس کے بندے زکریا پر۔ جب انہوں نے اپنے پروردگار کو آہستہ سے پکارا
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader
اور عرض کیا اے میرے رب ! (بڑھاپے کی وجہ سے) میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں۔ میرا سر سفید بالوں کی وجہ سے بھڑک اٹھا ہے اور میرے پروردگار میں آپ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔
وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader
اور یقینا میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے اندیشہ رکھتا ہوں۔ میری بیوی بانجھ ہے۔ مجھے اپنی رحمت سے ایک وارث عطا فرما
یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader
جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بن جائے۔ اور میرے رب اس کو میرے لئے پسندیدہ بنا دیجیے گا۔
یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader
(اللہ نے فرمایا) اے زکریا۔ بیشک ہم تمہیں ایک ایسے بیٹے کی خوش خبری دے رہے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا اس سے پہلے ہم نے یہ نام کسی کو نہیں دیا۔
قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader
(زکریا نے ) عرض کیا اے میرے رب میرے (گھر) لڑکا کیسے ہوگا جب کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہائی (عمر) تک پہنچ گیا ہوں۔
قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader
اللہ نے فرمایا اسی طرح ہوگا۔ اللہ نے فرمایا یہ بات مجھ پر آسان ہے اور اس سے پہلے میں نے تمہیں پیدا کیا تھا جب کہ تمہارا وجود ہی نہ تھا۔
قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader
عرض کیا اے میرے رب ! میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردیجیے۔ فرمایا اس کی نشانی یہ ہوگی کہ تم مسلسل تین راتوں تک لوگوں سے بات نہ کرسکو گے۔
فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader
پھر وہ (زکریا) عبادت گاہ سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے۔ انہوں نے اشارہ سے بتایا کہ تم صبح و شام اللہ کی پاکیزگی بیان کرو۔
یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader
اے یحییٰ اس کتاب (توریت) کو پوری قوت سے سنبھال لو۔ ہم نے ان کو اپنے پاس سے بچپن ہی سے دین کی سمجھ،
وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader
شفقت و محبت، پاکیزگی عطا کی تھی اور وہ پرہیز گار تھے۔
وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader
وہ اپنے والدین سے اچھا سلوک کرتے اور سرکش و نافرمان نہ تھے۔
وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader
جس دن وہ پیدا ہوئے۔ جب ان کو موت آئے گی اور جس دن وہ (قیامت میں) زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ان پر سلامتی ہی سلامتی ہے۔
وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ کتاب (قرآن ) میں مریم کا حال بیان کیجیے۔ جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ایک مشرقی مکان میں گئیں
فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader
اور ان لوگوں یک طرف سے ایک پردہ ڈال لیا۔ پھر ہم نے ان کے پاس ایک فرشتے کو بھیجا۔ وہ ان کے سامنے ایک مکمل آدمی کی شکل میں آیا۔
قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader
(مریم نے) کہا میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ اگر تیرے (دل میں اللہ کا) خوف ہے (تو یہاں سے ہٹ جا)
قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader
(فرشتے نے) کہا میں تمہارے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ لڑکے کی خوشخبری دوں۔
قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader
(مریم نے ) کہا کہ میرے بیٹا کیسے ہوگا جب کہ مجھے کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ اور نہ میں بدکار ہوں۔
قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader
(فرشتے نے) کہا اسی طرح ہوگا۔ (جیسے اللہ چاہے گا) جو تمہارے رب کے لئے نہایت آسان ہے (تمہارا رب کہتا ہے) تاکہ ہم اس کو لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں اور اپنی طرف سے رحمت عطا کردیں اور یہ کام ہو کر رہنے والا ہے۔
فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader
پھر (مریم کو) حمل رہ گیا اور وہ اسے لے کر ایک دور کی مشرقی جگہ پر چلی گئیں۔
فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader
پھر ان کو زچگی کا درد ہوا تو وہ ان کو کھجور کے درخت کی جڑ کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں اے کاش میں (اس وقت کو دیکھنے سے) پہلے ہی مر جاتی یا میرا نام و نشان مٹ جاتا۔
فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader
(فرشتے نے ان کو) نیچے سے آواز دی کہ تمہارے رب نے تمہارے نیچے (پانی کا) ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔
وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader
کھجور کے تنے کو ہلاؤ تاکہ ترو تازہ کھجوریں جھڑ کر گر پڑیں۔
فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader
تم ان کو کھاؤ اور پیو اور آنکھوں کو ٹھنڈا رکھو۔ پھر اگر کوئی آدمی تمہیں دیکھے تو کہہ دینا کہ میں نے رحمٰن کے لئے روزہ کی منت مان رکھی ہے۔ آج میں کسی سے بات نہ کروں گی۔
فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader
پھر وہ (مریم) اسے اٹھا کر اپنی قوم کے پاس آئیں (قوم کے لوگ) کہنے لگے کہ اے مریم تو ایک بڑے گناہ کی چیز لے کر آئی ہو۔
یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader
اے ہارون کی بن نہ تمہارے والد برے آدمی تھے اور نہ تمہاری ماں بد کار تھیں۔
فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader
(مریم نے) اس بچے کی طرف اشارہ کردیا (کہ اس سے پوچھ لو) کہنے لگے کہ جو بچہ اپنے گہوارہ میں کہہ رہا ہے اس سے کس طرح ہم بات کرسکتے ہیں
قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader
(حضرت عیسیٰ نے کہنا شروع کیا) بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس اللہ نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے
وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader
اور میں جہاں بھی رہوں گا بابرکت رہوں گا اور اللہ نے مجھے نماز اور زکوۃ کا حکم دیا ہے جب تک میں زندہ رہوں
وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader
اور اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اس نے مجھے سرکش اور بدنصیب نہیں بنایا
وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader
اور مجھ پر سلامتی ہے جس دن میں پیدا ہوا ۔ جس دن میں مروں گا اور جس دن میں زندہ کر کے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔
ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader
یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم، یہ لوگ ایک سچی بات میں شک کر رہے ہیں۔
مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader
اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ وہ ذات تو ہر طرح کے عیب سے پاک ہے۔ وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے ” ہوجا “ اور وہ چیز ہوجاتی ہے
وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader
اور بیشک میرا رب اور تمہارا رب ایک اللہ ہی ہے تم اسی کی عبادت و بندگی کرو۔ یہی صراط مستقیم ہے۔
فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader
پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے آپس میں اختلاف شروع کردیا۔ قیامت کا دن جو بڑا عظیم دن ہے
اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader
اس دن کی حاضری کے وقت وہ کیا کچھ نہیں سنیں گے اور کیا کچھ نہ دیکھیں گے۔ جس دن وہ ہمارے سامنے آئیں گے تو ظالم اپنے آپ کو کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھیں گے۔
وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ ان کو اس حسرت والے دن سے ڈرائیں جب کام کا فیصلہ (جنت اور جہنم کا فیصلہ) کردیا جائے گا۔ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے۔
اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader
بیشک اس زمین میں اور جو کچھ اس پر ہے اس سب کے وارث ہم ہی ہونگے اور ان سب کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔