19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورة مریم سورة نمبر 19 آیات 98 رکوع 6 الفاظ وکلمات 762 حروف 3986 مقام نزول مکہ مکرمہ اس سورة میں دس انبیاء کرام کے نام اور چند انبیاء کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ادریس، حضرت ابراہیم، خلیل اللہ، حضرت اسماعیل، ذبیح اللہ، حضرت اسرائیل (یعقوب) ، حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت زکریا، حضرت عیسیٰ یہ سورة مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل کی گئی جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جا نثار صحابہ کرام کو اتنا زیادہ ستایا گیا اور تکلیفیں پہنچائی گئیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ وہ ملک حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔ چناچہ صحابہ کرام کی بڑی تعداد مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئی اور حبشہ کی طرف ہجرت کرگئی۔ حضرت زکریا علیہ اسللام بنی اسرائیل کے عظیم پیغمبر اور بیت المقدس کے متولی (نگران) تھے۔ جب ان کی نسبتی بہن کے گھر حضرت مریم پیدا ہوئیں تو حضرت مریم کی والدہ کی منت کی وجہ سے حضرت زکریا حضرت مریم کے نگران بنائے گئے۔ سورة مریم مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب کفار و مشرکین مکہ کا ظلم و ستم اس قدر بڑھ چکا تھا کہ صبر و تحمل کے پیکر اعظم حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنے جاں نثاروں پر اس ظلم و زیادتی کو برداشت نہ کرسکے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا کہ : ” تم مکہ مکرمہ سے نکل کر ملکہ حبشہ کی طرف چلے جاؤ۔ وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کی موجودگی میں کسی پر ظلم نہیں ہو سکتا۔ تمہارے لئے بھلائی کی زمین ہے جب تک اللہ تعالیٰ تمہاری اس مصیبت کو دور کرنے کی کوئی سبیل پیدا نہ کردیں اس وقت تک تم وہیں ٹھہرنا۔ “ چنانچہ ارشاد نبوی کے مطابق رجب ٥ ھ نبوی میں سب سے پہلے گیارہ (١١) مسلمان مردوں اور چار (٤) خواتین نے بیت اللہ کی سر زمین کو چھوڑ کر قریبی ملک حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ زیادہ عرصہ نہ گذارا تھا کہ کچھ اور صحابہ کرام و صحابیات نے مکہ سے ملک حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی اس طرح چند مہینوں میں تراسی (٨٣) مرد اور گیارہ (١١) خواتین جن میں سات (٧) غیر قریشی مسلمان بھی تھے حبشہ کی سر زمین پر جمع ہوگئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صرف چالیس صحابہ کرام رہ گئے۔ چونکہ مکہ مکرمہ کے تمام قبیلوں میں سے کسی نہ کسی قبیلے کے ایک یا دو افراد اس ہجرت میں شامل تھے اس سے تمام قبیلوں میں ایک کہرام مچ گیا وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف سینکڑوں لوگ مکہ چھوڑ جائیں گے بلکہ وہ مسلمان حبشہ میں ایک قوت بن جائیں گے اور قریش کے رعب اور دبدبہ کو سخت نقصان پہنچے گا۔ نیز مکہ والے یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ساری دنیا میں ان کی ہوا اکھڑ جائے گی۔ کفار مکہ اس توہین کو برداشت نہ کرسکے اور چند نہایت سمجھدار افراد پر مشتمل ایک وفد ترتیب دے کر ملک حبشہ میں شاہ نجاشی کے پاس بھیجا گیا اور بادشاہ کے لئے کچھ تحفے ساتھ کردیئے گئے۔ اس وفد کے ارکان نے بحشہ کے بادشاہ نجاشی سے یہ کہا کہ ہمارے کچھ غلام بھاگ کر آپ کے ملک میں آگئے ہیں براہ کرم ان کو واپس بھیج دیجیے۔ نجاشی بادشاہ نے کہا کہ جب تک میں ان لوگوں سے نہ مل لوں اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ چناچہ نجاشی نے مکہ سے آنے والوں کو بلا بھیجا۔ تمام صحابہ کرام بادشاہ کے پاس پہنچ گئے۔ بادشاہ کے پوچھنے پر حضرت جعفر طیار آگے بڑھے اور انہوں نے کہا کہ اے نجاشی ! ہم گراہ تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ ہم راہ ہدایت نصیب ہوئی۔ اس ہدایت پر چلنے کی وجہ سے مکہ کی سر زمین میں ہم پر اتنے ظلم و ستم کئے گئے کہ ہم اپنے گھر بار کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ اس موثر تقریر کے بعد حضرت جعفر طیار نے سورة مریم کی تلاوت بھی فرمائی۔ آیات کی تلاوت سن کر نجاشی بادشاہ اس قدر رویا کہ آنسوؤں سے اس کی داڑھی تر ہوگئی۔ تلاوت کے بعد نجاشی نے کہا یقینا یہ کلام اور جو کچھ حضرت عیسیٰ لے کر آئے تھے وہ ایک ہی سرچشمے سے نکلے ہیں۔ نجاشی نے کفار مکہ کے وفد سے کہا کہ اللہ کی قسم میں ان لوگوں کو تمہارے حوالے نہیں کروں گا۔ یہ کہہ کر اس نے مکہ والوں کے تحفے بھی واپس کردیئے۔ خلاف توقع مکہ کے لوگوں کو اس قدر ناکامی اور ذلت نصیب ہوئی کہ وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی سر توڑی کوششوں کے باوجود مسلمانوں کو حبشہ میں عزت و سربلندی سے نوازا۔ بادشاہ نے تمام مسلمانوں کو اپنے ملک میں رہنے کی اجازت دے دی۔ یہ وہ حالات تھے جن میں سورة مریم نازل کی گئی اور اللہ کے کلام کی حقانیت ثابت ہو کر رہی۔ اس سورة کا نام سورة مریم ہے۔ مریم کے معنی کنواری اور پاکیزہ کے آتے ہیں۔ اس سورت میں حضرت مریم کی شان اور عظمت کو بھی بیان فرمایا گیا ہے اور کچھ پیغمبروں کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس سورة کی ابتداء حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ کے ذکر سے فرمائی گئی ہے۔ حضرت زکریا بنی اسرائیل کے بڑے جلیل القدر اور عظیم پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر ہیں۔ آپ اس زمانہ میں بنی اسرائیل کے پیشوا، رہنما اور بیت المقدس کے متولی بھی تھے۔ حضرت زکریا اپنے ہاتھ سے روزی کماتے تھے اور بڑھئی کے کاموں سے جو کچھ ملتا اس پر گزارہ کرتے تھے۔ جب ان کی عمر مبارک ١٢٠ سال کی ہوگئی تو ان کی نسبتی بہن کے گھر حضرت مریم پیدا ہوئیں۔ حضرت مریم کی والدہ نے ان کی پیدائش سے پہلے یہ منت مان لی تھی کہ جو بھی اولاد پیدا ہوگی اسے میں بیت المقدس کے لئے وقف کر دوں گی۔ حضرت مریم کی پیدائش کے بعد منت کے مطابق ان کو بیت المقدس کے متولی حضرت زکریا جو حضرت مریم کے سگے خالو تھے ان کے حوالے کردی گئیں۔ جب وہ جوان ہوئیں تو ان کیلئے بیت المقدس میں ایک حجرے کا انتظام کردیا گیا جس میں وہ عبادت کرتی تھیں۔ حضرت مریم نہایت پاکیزہ صفت اور عبادت گذار خاتون تھیں۔ ایک دن حضرت زکریا ان کے حجرے میں گئے تو ان کے سامنے بےموسم کے پھل دیکھے۔ ان سے پوچھا کہ یہ پھل کہاں سے آئے ہیں ؟ انہوں نے نہایت معصومیت کے ساتھ جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم۔ یہ میرے اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ حضرت زکریا سوچنے لگے کہ جب اس جگہ جہاں کسی کے آنے کے امکانات نہیں ہے بےموسم کے پھل آسکتے ہیں تو میری زندگی کا اگرچہ موسم نکل گیا ہے کہ میرے گھر اولاد ہو مگر اللہ کی قدرت سے یہ بعید نہیں ہے۔ اس جگہ حضرت زکریا نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی۔ الٰہی ! میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ میری ہڈیاں تک سوکھ گئی ہیں۔ سر میں بالوں کی سفیدی پھیل گئی ہے۔ میری بیوی بانجھ ہے۔ اے رب ! آپ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے کبھی مایوس اور محروم نہیں کیا۔ میرے رشتہ داروں میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اس دین کا وارث بن سکے جو آپ نے مجھے عطا فرمایا ہے۔ آپ مجھے اپنی رحمت خاص سے ایک ایسا بیٹا عطا فرما دیجیے جو میرا اور آل یعقوب کی دینی عظمتوں کا وارث ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول فرمایا اور حضرت یحییٰ جیسا بیٹا عطا فرمایا۔ اللہ نے بتا دیا کہ وہ اللہ تمام قدرتوں کا مالک ہے وہ اسباب کا محتاج نہیں ہے وہ جب اور جس طرح چاہے اپنی قدرت کا اظہار فرما دیتا ہے۔ سورة مریم کی آیات اور حضرت زکریا کے اس واقعہ سے اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ جس اللہ پر تم ایمان لائے ہو وہ اتنی قدرت و طاقت والا ہے کہ ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے اور اسباب کا محتاج نہیں ہے۔ لہٰذا مستقبل اہل ایمان کا ہے۔ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ کی قدرت و طاقت پر بھروسہ رکھا جائے اور عمل صالح اختیار کیا جائے۔ اسی میں سب سے بڑی کامیابی ہے۔

Ayahs 19:1–10

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کاف۔ ھا۔ یا۔ عین۔ صاد۔

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ یہ آپ کے رب کی رحمت کا تذکرہ ہے۔

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

اس کے بندے زکریا پر۔ جب انہوں نے اپنے پروردگار کو آہستہ سے پکارا

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

اور عرض کیا اے میرے رب ! (بڑھاپے کی وجہ سے) میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں۔ میرا سر سفید بالوں کی وجہ سے بھڑک اٹھا ہے اور میرے پروردگار میں آپ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور یقینا میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے اندیشہ رکھتا ہوں۔ میری بیوی بانجھ ہے۔ مجھے اپنی رحمت سے ایک وارث عطا فرما

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بن جائے۔ اور میرے رب اس کو میرے لئے پسندیدہ بنا دیجیے گا۔

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا) اے زکریا۔ بیشک ہم تمہیں ایک ایسے بیٹے کی خوش خبری دے رہے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا اس سے پہلے ہم نے یہ نام کسی کو نہیں دیا۔

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

(زکریا نے ) عرض کیا اے میرے رب میرے (گھر) لڑکا کیسے ہوگا جب کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہائی (عمر) تک پہنچ گیا ہوں۔

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا اسی طرح ہوگا۔ اللہ نے فرمایا یہ بات مجھ پر آسان ہے اور اس سے پہلے میں نے تمہیں پیدا کیا تھا جب کہ تمہارا وجود ہی نہ تھا۔

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

عرض کیا اے میرے رب ! میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردیجیے۔ فرمایا اس کی نشانی یہ ہوگی کہ تم مسلسل تین راتوں تک لوگوں سے بات نہ کرسکو گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 ذکر یاد، تذکرہ۔ وھن کمزوری، بیماری، خرابی۔ العضم ہڈی، ہڈیاں، اشتعل پھیل گیا، یا بھڑک اٹھا۔ شیب سفید بال، بڑھاپا۔ شقی محروم، نامراد۔ الموالی رشتہ دار۔ عاقر بانجھ (اولاد سے مایوس) ۔ سمی نام ، رکھنا۔ عتی انتہائی بڑھاپا۔ ھین آسان، سہل۔ سوی ٹھیک ہونا۔ برابر ہونا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 10 اللہ تعالیٰ نے سورة مریم کا آغاز حروف مقطعات سے کیا ہے جن کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ پھر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے کیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) تمام قوم بنی اسرائیل کے پیشوا، رہنما اور بیت المقدس کے متولی اور نگران تھے۔ حضرت زکریا حضرت مریم کے سگے خالو تھے۔ جب حضرت زکریا کی عمر مبارک 120 سال کی ہوگئی اس وقت اللہ نے حضرت زکریا کو حضرت یحییٰ جیسا عظیم بیٹا عطا فرمایا جن کا نام بھی اللہ نے رکھا اور ان کو نبوت کی بہت سی اعلیٰ صفات عطا فرمائی گئیں۔ اہل ایمان کو حضرت زکریا کا واقعہ سنا کر بتایا جا رہا ہے کہ اللہ نے ان کو بڑھاپے کی انتہاؤں پر بیٹا عطا کیا جو بظاہر ناممکن تھا لیکن اللہ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ اس میں ان کو یہ تسلی بھی دی گیء ہے کہ اللہ ہر چیز پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے اس کائنات میں تصرف فرماتا ہے اسی کی قدرت ہے جس نے بغیر ماں باپ کے آدم (علیہ السلام) کو اور بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کیا ہے ۔ جو بھی اس کی بارگاہ میں جھک کر اور عاجزی اور انکساری سے مانگتا ہے وہ ضرور عطا کرتا ہے اور کوئی شخص اس کی رحمت اور اس کے کرم سے محروم نہیں رہتا۔ گویا جان نثاران مصطفیٰ ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ اے اصحاب رسول ! تم انبیاء کے راستے پر چل رہے ہو اور اس کے لئے ہر طرح کی قربانیاں پیش کر رہے ہو تو یہ مت سمجھنا کہ اللہ تمہاری قربانیوں اور ایثار سے بیخبر ہے بلکہ اس کو تمہاری ہر کیفیت کا علم ہے اور وہ تمہیں بہت جلد عظمت کی بلندیوں تک پہنچائے گا۔ مگر اس کے لئے وقت کا انتظار اور ایثار و قربانی سے کام لے کر صبر و تحمل سے حالات کو برداشت کرنا ہوگا۔ پھر یہی لوگ تمہارے قدموں پر جھکنے کیلئے مجبور ہوجائیں گے۔ قرآن کریم میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کی تفصیل یہ بیان کی گئی ہے کہ حضرت مریم کی والدہ نے حضرت مریم کی پیدائش سے پہلے یہ منت مان لی تھی کہ اے اللہ میرے گھر میں جو بھی اولاد پیدا ہوگی اس کو میں بیت المقدس کی خدمت کیلئے وقف کر دوں گی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو پیدا کیا تو حضرت مریم کی والدہ بہت پریشان ہوگئیں کہ لڑکی کو میں بیت المقدس کے لئے کیسے وقف کر دوں۔ حسن اتفاق کہ اس وقت بیت المقدس کے متولی اور نگران حضرت زکریا (علیہ السلام) تھے جو حضرت مریم کے سگے خالو تھے ۔ چناچہ ان کو حضرت زکریا (علیہ السلام) کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ حضرت مریم انتہائی نیک اور پارسا تھیں وہ دن رات اپنے حجرے میں اللہ کی عبادت و بندگی کرتی رہتی تھیں۔ حضرت زکریا اکثر حضرت مریم کے حجرے میں خیریت معلوم کرنے جاتے رہتے تھے ۔ ان دن انہوں نے دیکھا کہ حضرت مریم کے پاس بےموسم کے پھل رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے حیرت سے پوچھا کہ مریم ! یہ تمہارے پاس کہاں سے آئے ہیں ؟ حضرت مریم نے کہا کہ یہ سب اللہ کی طرف سے آئے ہیں حضرت زکریا (علیہ السلام) جو اللہ کے نبی تھے سمجھ گئے کہ حضرت مریم پر اللہ کا خاص فضل و کرم ہے اور بےموسم کے پھل دیکھ کر اللہ کے سامنے جھک گئے اور کچھ اس طرح دعا کی الٰہی ! (اگر آپ مریم کو بےموسم پھل دے سکتے ہیں تو) بیشک میں بوڑھا ہوگیا ہوں میرے سر کے بال بھی انتہائی سفید ہوگئے ہیں، میری بیوی بانجھ ہے جس کے ہاں اولاد ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن آپ کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ مجھے ایک وارث عطا فرما دیجیے جو میرے مقصد اور مشن کو آگے لے کر چلے اور وہ ان علوم کا صحیح وارث بن سکے جو آپ نے مجھے عطا فرمائے ہیں کیونکہ مجھے قوم بنی اسرائیل میں سے کوئی بھی اس کا اہل نظر نہیں آتا جو اس علم کی میراث کو لے کر چل سکے۔ ظاہر ہے اس دعا میں آپ اپنا وارث مال و دولت کے لئے نہیں مانگ رہے تھے کیونکہ انبیاء کرام اللہ کے علوم کے وارث ہوتے ہیں وہ علم چھوڑ کر جاتے ہیں درہم و دینار نہیں چھوڑتے۔ انہیں اپنے مشن اور مقصد سے پیار ہوتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کی زندگی میں اور بعد کی زندگی میں راہ مستقیم کو نہ چھوڑیں۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اس مشن اور مقصد کے لئے اللہ سے دعا فرمائی۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) جو پوری عاجزی و انکساری سے دعا فرما رہے تھے۔ اس بات سے مطمئن ہوگئے کہ اللہ نحے ان کی دعا ضرور قبول کرلی ہوگی کیونکہ اس دعا کا مقصد صرف دنیا کی غرض اور سکون نہیں تھا بلکہ بنی اسرائیل کے لئے رشد و ہدایت کی درخواست تھی چنانچہ ایک دن حضرت زکریا عبادت میں مشغول تھے کہ اللہ کے فرشتے نے ان کو دعا کی قبولیت کی خوش خبری سنائی اور کہا کہ اللہ نے آپ کی دعا قبول کرلی ہے اور ایک ایسا بیٹا عطا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ یہ سنا تو حیرت، تعجب اور شوق سے پوچھا کہ کیا میرے گھر ایک ایسا بیٹا ہوگا۔ جس کا نام بھی اللہ خود ہی نے رکھ دیا ہے ؟ یہ کیسے ممکن ہوگا۔ ؟ کیونکہ میں انتہائی بوڑھا ہوچکا ہوں۔ میری بیوی بانجھ ہے۔ فرشتے نے کہا کہ یہ تو مجھے معلوم نہیں البتہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہ کام اسی طرح ہو کر رہے گا اور ایسا کرنا اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ اللہ کے لئے آسان ہے۔ فرمایا کہ تم خود اپنے وجود پر غور کرلو کہ تم کچھ بھی نہ تھے لیکن آج تم ایک انسانی شکل میں موجود ہو۔ جب حضرت زکریا کو پورا اطمینان ہوگیا تو عرض کیا الٰہی ! اس کی علامت کیا ہوگی ؟ اللہ نے فرمایا کہ اس کی ایک نشانی یہ ہوگی کہ تم تین راتوں تک سوائے اشاروں کے کسی سے بات نہ کرسکو گے۔ اس طرح اللہ نے تمام اہل ایمان کو بتا دیا کہا للہ جب کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو اس کو دنیا کے لوگوں کی طرح اسباب اور وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو اس کے ہونے کا حکم دیتا ہے اور وہ چیز وجود اختیار کرلیتی ہے۔
Ayahs 19:11–15

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پھر وہ (زکریا) عبادت گاہ سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے۔ انہوں نے اشارہ سے بتایا کہ تم صبح و شام اللہ کی پاکیزگی بیان کرو۔

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحییٰ اس کتاب (توریت) کو پوری قوت سے سنبھال لو۔ ہم نے ان کو اپنے پاس سے بچپن ہی سے دین کی سمجھ،

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

شفقت و محبت، پاکیزگی عطا کی تھی اور وہ پرہیز گار تھے۔

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

وہ اپنے والدین سے اچھا سلوک کرتے اور سرکش و نافرمان نہ تھے۔

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

جس دن وہ پیدا ہوئے۔ جب ان کو موت آئے گی اور جس دن وہ (قیامت میں) زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ان پر سلامتی ہی سلامتی ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 15 المحراب عبادت کرنے کی جگہ ۔ اوحی اس نے اشارہ کیا۔ سبحوا تسبیح کرو۔ عبادت کرو۔ بکرۃ صبح۔ عشی شام۔ خذ لے لو۔ پکڑو۔ الحکم حکمت و دانئای۔ صبی بچپن۔ حنان شفقت و محبت۔ برا نیکی کرنا۔ جبار سرکشی کرنے والا۔ عصی نافرمان۔ ولد پیدا کیا گیا۔ یبعث دوبارہ اٹھائے گا۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 15 جب حضرت زکریا (علیہ السلام) کی عمر مبارک ایک سو بیس سال کے قریب ہوئی اس وقت آپ نے عاجزی و انکساری سے اللہ کی بارگاہ میں یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ مجھے ایک بیٹا عطا فرما دیجیے تاکہ وہ توریت کی تعلیمات کو عام کرسکے اور میرے اسلامی مقصد اور مشن کے لئے میرا صحیح جانشین اور وارث بن سکے۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت جب کہ وہ بڑھاپے کی انتہائی عمر تک پہنچ چکے تھے۔ ان کی بیوی بانجھ تھیں یعنی ظاہری اسباب میں اس کا کوئی امکان نہ تھا کہ اس عمر میں ان کے گھر کوئی اولاد پیدا ہو۔ مگر اللہ نے اپنی قدرت کا اظہار کرتے ہوئے اس ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتوں نے جب اولاد کی خوشخبری سنائی تو اس خبر پر انہیں خوشی کے ساتھ تعجب بھی ہوا۔ انہوں نے عرض کیا الٰہی ! میرے لئے کوئی ایسی نشانی مقرر کردیجیے جس سے مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ میرے گھر ولادت ہونے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی علامت اور نشانی یہ ہوگی کہ تم تین راتوں تک تندرست ہونے کے باوجود کسی سے بات نہ کرسکو گے۔ جب ایسا ہو سمجھ لینا کہ حمل قرار پا گیا ہے۔ یہ واقعہ جہاں حضرت زکریا (علیہ السلام) کے لئے انتہائی خوشی اور مسرت کا تھا وہیں پوری قوم بنی اسرائیل کے بھی نہایت سکون، خوشی اور مسرت کا پیغام تھا چناچہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) کے لئے یہ وقت آیا اور بات چیت سے زبان رک گئی تو آپ نے اپنی عبادت گاہ سے نکل کر قوم بنی اسرائیل کو اشاروں سے بتایا کہ وہ بھی صبح و شام اللہ کی حمد وثناء کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کو قبول کرتے ہوئے ایک ایسے بیٹے کی خوشخبری عطا فرمائی جن کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے خود ہی تجویز کر کے ارشاد فرمایا کہ اس سے پہلے یحییٰ کسی کا بھی نام نہ تھا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جو اللہ کے نبی تھے بچپن ہی سے نبوت کی بہت سی خصوصیات کے حامل تھے چناچہ قرآن کریم اور احادیث رسول اللہ ﷺ میں فرمایا گیا ہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) بچپن ہی سے نہایت ذہین و ذکی سمجھدار دانا و بینا تھے۔ بچپن کی عمر میں بچے کھیل کود میں لگے رہتے ہیں لیکن حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا کھیل کود میں دل نہ لگتا تھا انہیں فضول اور غلط باتوں سے سخت نفرت تھی اور جس بات میں سنجیدگی اور وقار نہ ہوتا وہ اس بات کے قریب بھی نہ جاتے تھے ان کا دل پیدائشی طور پر اللہ کے خوف سے بھرا ہوا تھا وہ ہر بات کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ وہ توریت کے ہر حکم پر پوری طرح عمل فرماتے تھے۔ جن باتوں سے پرہیز کرنے کے لئے کہا گیا تھا اس سے پرہیز کرتے تھے۔ نہایت متین، سنجیدہ اور باوقار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی میں اور موت کے بعد بھی سلامتی عطا فرمائی اور قیامت میں بھی ان کو سلامتی عطا کی جائیگی۔ وہ مشکل وقت میں صحیح رائے قائم کرتے اور ہر معاملہ میں صحیح فیصلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔
Ayahs 19:16–21

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ کتاب (قرآن ) میں مریم کا حال بیان کیجیے۔ جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ایک مشرقی مکان میں گئیں

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

اور ان لوگوں یک طرف سے ایک پردہ ڈال لیا۔ پھر ہم نے ان کے پاس ایک فرشتے کو بھیجا۔ وہ ان کے سامنے ایک مکمل آدمی کی شکل میں آیا۔

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

(مریم نے) کہا میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ اگر تیرے (دل میں اللہ کا) خوف ہے (تو یہاں سے ہٹ جا)

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

(فرشتے نے) کہا میں تمہارے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ لڑکے کی خوشخبری دوں۔

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

(مریم نے ) کہا کہ میرے بیٹا کیسے ہوگا جب کہ مجھے کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ اور نہ میں بدکار ہوں۔

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

(فرشتے نے) کہا اسی طرح ہوگا۔ (جیسے اللہ چاہے گا) جو تمہارے رب کے لئے نہایت آسان ہے (تمہارا رب کہتا ہے) تاکہ ہم اس کو لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں اور اپنی طرف سے رحمت عطا کردیں اور یہ کام ہو کر رہنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 21 انتبذت الگ ہوگئی۔ حجاب پردہ۔ تمثل ڈھل گیا۔ سوی ٹھیک ٹھیک۔ تقی پرہیز گار۔ اھب میں دوں گا۔ زکی پاک باز، پاکیزہ۔ لم یمسسنی مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔ بغنی بدکردار، بدکار، امر معاملہ، کام مقضی فیصلہ کیا گیا۔ طے شدہ۔ تشریح : آیت نمبر 16 تا 21 گزشتہ آیات میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے متعلق ارشاد فرمایا گیا تھا کہ ان کی زندگی قدرت کی کھلی ہوئی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو ایک سو بیس سال کی عمر میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا جب کہ ان کی بیوی بانجھ تھیں اور اس بڑھاپے میں اولاد ہونے کا دور دور تک امکان نہ تھا لیکن اللہ نے جو اس کائنات کے ذرے ذرے کا مالک ہے اور ہر طرح کی قدرتیں رکھتا ہے اس نے حضرت زکریا کی دعا کو قبول کرتے ہوئے اس ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ اسی طرح اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ اللہ نے ان کی زندگی کو ایک نشانی بنا کر ساری دنیا کو بتا دیا کہ وہ اللہ انسانوں کی طرح ظاہری اسباب کا محتاج نہیں ہے۔ اگر وہ چاہے تو بغیر ماں باپ کے حضرت آدم اور حضرت حوا کو پیدا کرسکتا ہے اور بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کرسکتا ہے قرآن کریم اور احادیث میں اس کی تفصیل یہ ارشاد فرمائی گئی کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے خاندان میں عمران نام کے ایک شخص تھے جو نہایت عابد و زاہد نیک پرہیز گار تھے اور ان کی بیوی جو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی حقیقی خالہ تھیں جن کا نام حنہ آتا ہے۔ عمران کی اور ان کی بیوی کی خواہش تھی کہ ان کے ہاں کوئی اولاد پیدا ہوجائے۔ کیونکہ ابھی تک وہ اولاد کی دولت سے محروم تھے۔ ایک مرتبہ حضرت حنہ نے یہ منت مان لی کہ اگر ان کے گھر کوئی اولاد ہوگی تو وہ اس کو بیت المقدس کے لئے وقف کردیں گی۔ اللہ نے ان کی دعا کو قبول فرما لیا اور ان کے گھر میں حضرت مریم پیدا ہوئیں حضرت حنہ اس تصور سے سخت پریشان ہوگئیں کہ ان کے گھر لڑکی پیدا ہوگئی ہے۔ وہ اس کو بیت المقدس کے لئے کیسے وقف کرینگی چونکہ منت مان لی گئی تھی اور اس زمانے میں دستور کے مطابق اس کو ہر حال میں بیت المقدس کے لئے وقف کرنا لازمی اور ایک بہت بڑی نیکی اور بھلائی سمجھا جاتا تھا۔ حسن اتفاق کہ اس وقت بیت المقدس کے بیت المقدس کے لئے کیسے وقف کریں گی چونکہ منت مان لی گئی تھی اور زمانے میں دستور کے مطابق اس کو ہر حال میں بیت المقدس کے لئے وقف کرنا لازمی اور ایک بہت بڑی نیکی اور بھلائی سمجھا جاتا تھا۔ حسن اتفاق کہ اس وقت بیت المقدس کے متولی اور نگران حضرت زکریا علیہ اسلام تھے جو حضرت مریم کے سگے خالو تھے۔ بعض لوگوں کی خواہش تھی کہ وہ حضرت مریم جیسی بچی کو اپنی پرورش میں لے کر نیکی اور سعادت حاصل کریں۔ اختلاف ہونے کی صورت میں قرعہ ڈالا گیا۔ طریقہ یہ تھا کہ ہر شخص پانی کے بہاؤ پر اپنے لکھنے کا قلم ڈالتا تھا۔ جس کا قلم پانی کے بہاؤ کے خلاف جاتا وہ کامیاب سمجھا جاتا۔ چناچہ سب نے اپنے اپنے قلم پانی میں ڈال دیئے حضرت زکریا کے علاوہ سب کے قلم پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہہ گئے اور کئی مرتبہ قرعہ اندازی میں کامیابی کے بعد حضرت مریم کو حضرت زکریا علیہ اسلام کی پرورش میں دے دیا گیا۔ بیت المقدس میں ایک کمرہ حضرت مریم کے لئے وقف کردیا گیا تھا دن بھر وہ اس کمرے میں عبادت کرتیں اور رات کو حضرت زکریا ان کو لے کر گھر چلے جاتے تھے۔ جب حضرت مریم کی عمر مبارک بارہ تیرہ سال کی ہوئی تو وہ ہر وقت اللہ کی عبادت اور بندگی میں لگی رہتی تھیں۔ حضرت مریم بچپن ہی سے نہایت پاکیزہ صفت اور نیک تھی اور اللہ کی عبادت اور بندگی کے سوا ان کو کوئی اور کام نہ تھا۔ ایک دن جب کہ حضرت مریم اپنے حجرے میں تھیں یا بعض روایات کے مطابق وہ غسل کرچکی تھیں۔ حضرت جبرئیل خوبصورت انسانی شکل میں ان کے پاس آئے حضرت مریم ایک اجنبی مرد کو دیکھ کر گھبرا گئیں اور اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے کہنے لگیں کہا گر تمہارے دل میں ذرا بھی خوف الٰہی ہے تو یہاں سے چلے جاؤ۔ حضرت مریم کی گھبراہٹ دیکھتے ہوئے حضرت جبرائیل نے اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تم مت گھبراؤ میں اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ میں تمہیں ایک لڑکے کی خوشخبری دینے آیا ہوں۔ حضرت مریم نے بےساختہ کہا کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا۔ جبکہ آج تک مجھے کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا ۔ نہ تو میرا نکاح ہوا ہے اور نہ میں برے کردار والی ہوں۔ حضرت جبرائیل نے جواب دیا کہ میں تو اللہ کا یہ پیغام لیکر آیا ہوں جس میں اللہ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اسی طرح ہو کر رہے گا۔ اللہ کا یہ فیصلہ اس کی قدرت کا ملہ کا اظہار ہے۔ وہ تمہیں اور تمہارے بیٹے کو اپنی قدرت کا نمونہ بنا کر پیش کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے اور اس فیصلے پر عمل کرنا اللہ کے لئے بہت آسان ہے کوئی چیز اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔ اس واقعے کی بقیہ تفصیلات اس سے آگے کی آیات میں آرہی ہیں۔
Ayahs 19:22–36

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

پھر (مریم کو) حمل رہ گیا اور وہ اسے لے کر ایک دور کی مشرقی جگہ پر چلی گئیں۔

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر ان کو زچگی کا درد ہوا تو وہ ان کو کھجور کے درخت کی جڑ کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں اے کاش میں (اس وقت کو دیکھنے سے) پہلے ہی مر جاتی یا میرا نام و نشان مٹ جاتا۔

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

(فرشتے نے ان کو) نیچے سے آواز دی کہ تمہارے رب نے تمہارے نیچے (پانی کا) ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

کھجور کے تنے کو ہلاؤ تاکہ ترو تازہ کھجوریں جھڑ کر گر پڑیں۔

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

تم ان کو کھاؤ اور پیو اور آنکھوں کو ٹھنڈا رکھو۔ پھر اگر کوئی آدمی تمہیں دیکھے تو کہہ دینا کہ میں نے رحمٰن کے لئے روزہ کی منت مان رکھی ہے۔ آج میں کسی سے بات نہ کروں گی۔

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر وہ (مریم) اسے اٹھا کر اپنی قوم کے پاس آئیں (قوم کے لوگ) کہنے لگے کہ اے مریم تو ایک بڑے گناہ کی چیز لے کر آئی ہو۔

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بن نہ تمہارے والد برے آدمی تھے اور نہ تمہاری ماں بد کار تھیں۔

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

(مریم نے) اس بچے کی طرف اشارہ کردیا (کہ اس سے پوچھ لو) کہنے لگے کہ جو بچہ اپنے گہوارہ میں کہہ رہا ہے اس سے کس طرح ہم بات کرسکتے ہیں

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

(حضرت عیسیٰ نے کہنا شروع کیا) بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس اللہ نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور میں جہاں بھی رہوں گا بابرکت رہوں گا اور اللہ نے مجھے نماز اور زکوۃ کا حکم دیا ہے جب تک میں زندہ رہوں

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اس نے مجھے سرکش اور بدنصیب نہیں بنایا

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور مجھ پر سلامتی ہے جس دن میں پیدا ہوا ۔ جس دن میں مروں گا اور جس دن میں زندہ کر کے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم، یہ لوگ ایک سچی بات میں شک کر رہے ہیں۔

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ وہ ذات تو ہر طرح کے عیب سے پاک ہے۔ وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے ” ہوجا “ اور وہ چیز ہوجاتی ہے

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور بیشک میرا رب اور تمہارا رب ایک اللہ ہی ہے تم اسی کی عبادت و بندگی کرو۔ یہی صراط مستقیم ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 36 انتبذت (انتباذ) الگ ہوگئی، جدا ہوگئی قصی دور کا فاصلہ۔ المخاض زچگی کا درد۔ دردزہ۔ جزع جڑ۔ نسیا منسیا بھولی بسری چیز۔ بےنام و نشان ہوجانا۔ سری پانی کا چشمہ۔ ھزی ہلالی۔ جھکادے۔ تساقط گرائی گی۔ رطب ترو تازہ۔ جنی پکا ہوا پھل۔ قری عین آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔ ترین تو دیکھے۔ نذرت میں نے منت مان رکھی ہے۔ تحملہ وہ اس کو اٹھا لائے۔ فری (افترائ) عجیب اور نرالی بات۔ المھد گود۔ صبی بچہ۔ اوصنی مجھے حکم دیا۔ مادمت حیا جب تک میں زندہ ہوں۔ شقی بدنصیب، بدنصیب، بدقسمت۔ یمترون وہ شک کرتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 36 حضرت مریم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتیں اور پاکیزگی، عفت و عصمت کی ایک مکمل تصویر تھیں۔ وہ لوگوں سے الگ ہو کر عبادت الٰہی کی خاطر ایک مکان میں بیٹھ گئیں۔ اس دوران حضرت جبرئیل اللہ کے حکم سے ایک مکمل انسان کی شکل میں حضرت مریم کے سامنے آگئے۔ اس اکیلے مکان میں ایک اجنبی آدمی کو دیکھ کر حضرت مریم گھبرا گئیں۔ شرم و حیا سے سمٹ کر کہہ اٹھیں اگر تمہارے دل میں ذرہ برابر بھی خوف الٰہی ہے تو یہاں سے چلے جاؤ۔ حضرت جبرئیل نے حضرت مریم کی گھبراہٹ کو دیکھ کر اپنے آپ کو ظاہر کردیا اور کہا کہ میں تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بھیجا ہوا آیا ہوں تاکہ تمہیں ایک بیٹے کی اطلاع اور خوشخبری سناؤں۔ حضرت مریم نے حیرت اور تعجب سے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے جب کہ مجھے آج تک کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا اور نہ میں کوئی بدکار عورت ہوں۔ فرشتے نے کہا ” کذالک “ یعنی ایسے ہی ہوگا ۔ آپ نے گزشتہ آیات میں پڑھ لیا ہے کہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اپنی اور اپنی بیوی کی حالت کو دیکھ کر تعجب سے پوچھا تھا کہ اس بڑھاپے میں ہمارے ہاں بیٹا کیسے ہوگا۔ اس پر فرشتے نے کہا تھا۔ ” کذالک “ اسی طرح ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ” کذالک “ کے معنی یہی ہے کہ اللہ تمام قدرتوں اور طاقوتوں کا مالک ہے۔ جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ اسی طرح ہوتا ہے جس طرح وہ چاہتا ہے کیونکہ وہ انسانوں کی طرح ہر کام میں اسباب اور وسائل کا محتاج نہیں ہے۔ اس جگہ یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اے مریم اس میں تعجب کی کیا بات ہے وہ اولاد کے پیدا کرنے میں اس اصول کا پابند نہیں ہے کہ ہر بچہ ماں اور باپ کے ملاپ سے پیدا ہو بلکہ وہ چاہے تو بغیر ماں باپ کے حضرت آدم علیہ اسلام اور حواء کو پیدا کر دے اور بغیر باپ کے تمہیں بیٹا عطا فرما دے۔ اس اللہ کی اتنی زبردست قوت ہے کہ وہ اپنے فیصلوں اور کام میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ اللہ نے اس کام کے کرنے کا فیصلہ فرما لیا ہے۔ تاکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کو ایک معجزہ اور نشانی بنا دیا جائے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ مقام جہاں حضرت مریم چلی گئی تھیں وہ بیت اللحم ہے جو بیت المقدس سے آٹھ میل کے فاصلے پر ہے۔ جب زچگی کا درد محسوس ہوا تو حضرت مریم بےتابانہ جنگل کی طرف نکل گئیں اور ایک کھجور کا درخت جو کسی قدر اونچائی پر واقع تھا اس کے سہارے بیٹھ گئیں ان کے منہ سے نکل گیا کاش میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی یا اس رسوائی سے پہلے مٹ گئی ہوتی آپ اس کشمکش میں تھیں کہ ٹیلے کے نیچے سے حضرت جبرئیل کی آواز آئی کہ گھبرانا مت اللہ نے آپ کے لئے راحت و آرام کے تمام اسباب کا انتظام فرما دیا ہے۔ آپ سے قریب ہی صاف و شفاف پانی کا چشمہ بہادیا گیا ہے اور تازہ کھجوروں کا یہ درخت جس کے نیچے آپ ہیں اس کو ہلائیے تو تازہ اور لذیذ کھجوریں گر پڑیں گی یہ اللہ نے آپ کے کھانے پینے کا انتظام کیا ہے۔ آپ اس کو کھائیے اور پیجئے اور اولاد سے آنکھیں ٹھنڈی رکھئے اللہ نے یہ بھی فرما دیا کہ اگر کوئی ادھر نکل آئے تو اس سے اشارے سے بتا دینا کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے اس شریعت میں روزہ رکھنے کا یہی طریقہ تھا کہ روزے کی حالت میں کسی سے بات نہ کی جاتی تھی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد جب حضرت مریم اپنے بچے کو لیکر واقف کاروں میں پہنچیں تو انہوں نے تعجب حیرت اور افسوس سے کہا کہ اے مریم تم نے یہ کیا غضب کیا ہم سب جانتے ہیں کہ تمہارے والد تو نہایت پاکیزہ صفت صالح اور نیک آدمی تھے تمہارے والدہ بھی نہایت شریف پاک دامن اور پارسا خاتون تھیں تم جیسی نیک خاندان کی لڑکی سے اس طرح کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی اس طرح لوگوں نے طرح طرح کے طعنے دینے شروع کردیئے جب سب لوگوں نے طرح طرح کی باتیں کیں تو حضرت مریم نے اللہ کے حکم سے اس بچے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمہیں میری پاکدامنی پر شبہ ہے تو تم خود اس بچے ہی سے پوچھ لو حضرت مریم جیسی سنجیدہ اور باوقار خاتون سے یہ جملہ سن کر سب کی زبان سے نکلا کہ بھلا وہ بچہ جو اپنے گہوارے میں ہمک رہا ہے وہ ہم سے کیسے بات کرے گا اور ہم اس سے کیسے پوچھیں گے۔ ابھی یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بولنے کی قوت اور طاقت عطا فرمائی اور انہوں نے کہنا شروع کیا میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے نبی بنا کر کتاب دینے کا فیصلہ کیا ہے او اس نے مجھے اس قدر خوش نصیب بنایا ہے کہ میں جہاں بھ یر ہوں گا وہیں خیر و برکت میرے ساتھ ساتھ رہے گی اس اللہ نے مجھے نماز ادا کرنے اور زکوۃ دینے کا حکم دیا ہے جب تک میں زندہ رہوں اور اس نے مجھے اپنی والدہ کیساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم بھی دیا ہے اور مجھے ہر طرح کی سرکشی اور بدنصیبی سے دور کررہا ہے۔ اس نے مجھے خوش خلق اور ہمدرد بنایا ہے اور فرمایا کہ اللہ کا مجھ پر کتنا کرم ہے کہ دنیا کی زندگی اور موت اور قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک میرے اوپر سلامتی ہی سلامتی رہے گی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ان آٹھ صفات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ ہیں وہ حضرت عیسیٰ ابن مریم جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا فرماں برادار اور انسانیت کا سچا خادم بتایا ہے۔ فرمایا کہ تم جس عیسیٰ کی بات کرتے ہو وہ تمہارے ذہن کا گھڑا ہوا جھوٹا تصور ہے بلکہ اصل عیسیٰ ابن مریم وہ ہیں جو اللہ کے فرماں بردار اور اطاعت گذار بندے ہیں وہ اللہ کے بیٹے نہیں تھے جیسے کہ تم کہتے ہو فرمایا کہ اس اللہ کو اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا، بیٹی یا بیوی بنائے کیونکہ وہ دنیا کے تمام اسباب سے بےنیاز ہے وہ جب کسی کام کے کرنے کا حکم دیتا ہے تو وہ صرف ” کن “ (ہو جا) کہتا ہے اور وہ چیز ہوجاتی ہے حکم دیا کہ لوگوں تم اسی کی عبادت اور بندگی کرو اور انسانوں کو معبود کا درجہ نہ دو کیونکہ اس صراط مستقیم سے ہٹ کر جو راستہ بھی تلاش کیا جائے گا وہ منزل تک نہیں پہنچا سکتا وہ منزل سے دور کر دے گا۔
Ayahs 19:37–40

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے آپس میں اختلاف شروع کردیا۔ قیامت کا دن جو بڑا عظیم دن ہے

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

اس دن کی حاضری کے وقت وہ کیا کچھ نہیں سنیں گے اور کیا کچھ نہ دیکھیں گے۔ جس دن وہ ہمارے سامنے آئیں گے تو ظالم اپنے آپ کو کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھیں گے۔

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان کو اس حسرت والے دن سے ڈرائیں جب کام کا فیصلہ (جنت اور جہنم کا فیصلہ) کردیا جائے گا۔ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے۔

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

بیشک اس زمین میں اور جو کچھ اس پر ہے اس سب کے وارث ہم ہی ہونگے اور ان سب کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 37 تا 40 الاحزاب (حزب) جماعتیں، گروہ۔ ویل خرابی، بربادی۔ مشھد حاضر ہونے کی جگہ۔ اسمع بھم کیا کچھ سنیں گے۔ ابصربھم کیا کچھ دیکھیں گے۔ یوم الحسرۃ حسرت و افسوس کا دن۔ نرث ہم مالک ہوں گے۔ ہم وارث ہوں گے۔ تشریح : آیت نمبر 37 تا 40 نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ ان کے متعلق نصاریٰ کا یہ گمان کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں عقیدہ کی زبردست غلطی ہے جس کا انجام قیامت کے دن نظر آئے گا جس پر وہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس دن سوائے حسرت اور افسوس کے ان کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ فرمایا کہ عقیدے کی اس گندی میں مبتلا میں نصاریٰ اور یہود و جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مختلف گروہ بن گئے ہیں ان میں سے کسی کا عقیدہ ہے کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ان کی پیدائش جائز نہ تھی (نعوذ باللہ) ایسے لوگ قیامت کے دن نہ جانے کیا سنیں گے اور آنکھوں سے نہ جانے کیا کیا دیکھیں گے۔ یہ ان کے لئے ہولناک دن ہوگا۔ اس دن ان کو احساس ہوگا۔ کہ انہوں نے دنیا کی زندگی میں سوائے ظلم اور زیادتی اور غلط سوچ کے اور کچھ بھی نہیں کمایا۔ جب ان کے عقیدے کی وجہ سے جہنم میں بھیجنے کا فیصلہ کیا جائے گا تو اس وقت ساری حقیقت سامنے آجائے گی۔ فرمایا کہ یہ لوگ آج جو ذرا ذرا سی ملکیتوں پر اور مال اور دولت کی وجہ سے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں یہ سب کا سب انہیں اسی دنیا میں چھوڑ کر جانا ہے۔ اس کائنات کا اور اس کے ذرے ذرے کا مالک صرف ایک اللہ ہی ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے اپنے نظام کو چلاتا ہے اگر انہوں نے صبح عقیدے اور عمل کے ساتھ زندگی نہ گذاری تو یہ ساری چیزیں ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں گی۔ آج وہ جس غفلت میں پڑے ہوئے ہیں جب اس سے انہیں ہوش آئے گا تب ان کو اندازہ ہو سکے گا کہ انہوں نے سوائے حسرت و افسوس اور نقصان کے کچھ بھی حاصل نہیں کیا اور وہ دنیا سے خالی ہاتھ آئے ہیں۔ قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ کے بغیر باپ کے پیدائش کو اس قدر وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس میں شک کی گنجائش نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اگر کوئی شک کرتا ہے یا یہودیوں کی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ناجائز اولاد کہتا ہے یا قادیانیوں کی طرح حضرت عیسٰی (علیہ السلام) کی وفات کا قائل ہے درحقیقت وہ ایک کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہے جس کا انجام بہت جلد ان سب کے سامنے آجائے گا۔ قرآن کریم کا ہر شخص کے لئے یہی پیغام ہے کہ جو شخص سیدھی راہ پر چل کر جنت کا مستحق بننا چاہتا ہے وہ صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرے اور اس کا کسی کو کسی طرح شریک نہ بنائے۔ لوگ اپنے وقتی مفادات کی وجہ سے صراط مستقیم کو خود بھی چھوڑ دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کر کے سیدھے راستے سے بھٹکا دیتے ہیں۔ فرمایا کہ ان تمام باتوں کا اور مختلف فرقوں نے جن اختلافات پر جھگڑوں کو رواج دے رکھا ہے ان کے فیصلے کا وقت قریب ہے اور وہ سب اختلافات قیامت کے دن ختم ہو کر رہ جائیں گے۔ جب اس نظام کائنات کو توڑ دیا جائے گا اور قیامت قائم ہو جائیگی تو ہر انسان کے سامنے ساری حقیقت کھل کر آجائے گی اور جن چیزوں اور رشتہ داریوں پر یہ ناز کیا کرتا تھا اور سچائی کے راستے سے دور بھاگ رہا تھا وہ سب رشتے ناطے اسی دنیا میں رہ جائیں گے اور ان تمام چیزوں کا وارث اور مالک صرف اللہ ہوگا۔ فرمایا کہ اگر ان لوگوں نے قرآن کریم کی بتائے ہوئے سیدھے راستے کو اس دنیا میں تسلیم کر اپنی تو وہ قیامت کے دن ہر طرح کی حسرت، افسوس اور پچھتاوے سے محفوظ رہیں گے۔ لیکن اگر سب کچھ جاننے کے باوجود اس کا انکار کیا گیا تو قیامت کے دن پچھتانے اور شرمندہ ہونے سے کوئی بچا نہ سکے گا۔