Ayah 19:11 اس سورة کا نام مریم اس لئے ہے کہ اس میں سیدہ مریم کے حالات کا تفصیلی ذکر آیا ہے اور یہی ایک خاتون ہیں جن کا قرآن میں نام مذکور ہے اور کم از کم تیس مقامات پر ان کا نام آیا ہے۔
2 ہجرت حبشہ :۔ یہ سورت مکہ میں ہجرت حبشہ یعنی 5 نبوی سے پیشتر نازل ہوئی تھی۔ قریش کے ناروا مظالم اور سختیوں میں مسلمان پس رہے تھے اور کوئی غلام تھا یا آزاد، کمزور تھا یا قوی سب مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا۔ بالآخر آپ ﷺ نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ وہاں کا عیسائی بادشاہ جسے مسلمان نجاشی کہتے تھے۔ اپنے عدل کی وجہ سے مشہور تھا اور حبشہ کی طرف ہجرت کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ وہاں تبلیغ کے لئے میدان کھلا تھا۔ چناچہ پہلی دفعہ سیدنا عثمان ؓ کی سر کردگی میں جو وفد حبشہ کو روانہ ہوا اس میں گیارہ مرد اور چار عورتیں شامل تھیں۔ ان عورتوں میں سیدنا عثمان ؓ کی بیوی یعنی رسول اللہ ﷺ کی بیٹی رقیہ بھی شامل تھیں۔ اسی موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا : سیدنا ابراہیم کے بعد یہ پہلا جوڑا ہے جو اللہ کی راہ میں ہجرت کے لئے نکلا رفتہ رفتہ ان مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ چند ہی ماہ میں 83 مرد اور 11 عورتیں حبشہ کو منتقل ہوگئے جن میں سات غیر قریشی مسلمان بھی تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ میں صرف 40 آدمی رہ گئے۔ اس صورت حال نے کفار مکہ کو سخت بےچین کردیا۔ کیونکہ ہجرت کرنے والے تقریبا ً سب ہی کسی نہ کسی گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ کسی کا بیٹا، کسی کا داماد، کسی کی بیٹی، کسی کی بہن وغیرہ تھے۔ اس صدمہ سے متاثر ہو کر کچھ لوگ تو مسلمان ہوئے اور زیادہ تعداد ان لوگوں کی تھی جنہوں نے مسلمانوں پر سختیوں میں مزید اضافہ کردیا۔ ایک تجویز طے ہوئی کہ جیسے بھی بن پڑے مہاجرین حبشہ کو یہاں واپس مکہ لایا جائے۔
ہجرت حبشہ اور قریشی وفد کی ناکامی :۔ اس غرض کے لئے دو ماہرین سفارت عبداللہ بن ابی ربیعہ (ابوجہل کا ماں جایا بھائی) اور عمرو بن عاص (فاتح مصر، جو ابھی تک اسلام نہ لائے تھے) کا انتخاب کیا گیا۔ یہ دونوں بادشاہ اور پادریوں کے لئے تحفے تحائف لے کر حبشہ پہنچے۔ پہلے پادریوں سے ملے اور انھیں تحفے تحائف دے کر اس بات پر آمادہ کرلیا کہ جب ہم بادشاہ کے سامنے اپنی عرضداشت پیش کریں تو وہ ان کی ہاں میں ہاں ملا دیں۔ چناچہ دوسرے دن اس وفد نے بادشاہ کے سامنے حاضر ہو کر نذرانے پیش کرنے کے بعد عرض کی کہ ہمارے چند مجرموں نے مکہ سے بھاگ کر آپ کے ہاں پناہ لی ہے۔ وہ ہمیں واپس کردیئے جائیں۔ ساتھ ہی رشوت خور درباریوں اور پادریوں نے ہاں میں ہاں ملا دی۔ مگر نجاشی انصاف پسند انسان تھا۔ ان کی باتوں میں نہ آیا اور کہہ دیا کہ جب تک میں ان لوگوں کی بات نہ سن لوں ان کی واپسی کا کیسے حکم دے سکتا ہوں۔ چناچہ مسلمانوں کو بلایا گیا اور ان سے صورت حال دریافت کی گئی۔ مسلمانوں نے سیدنا جعفر طیار کو اپنا نمائندہ یا ترجمان مقرر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم فلاں فلاں قسم کی گمراہیوں میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان نبی مبعوث کیا جس پر ہم ایمان لے آئے تو یہ لوگ ہاتھ دھو کر ہمارے پیچھے پڑگئے۔ انہی لوگوں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر ہم نے آپ کے ملک میں پناہ لی ہے۔ نجاشی کہنے لگا : تمہارے نبی پر جو کلام نازل ہوا ہے۔ اس کا کچھ حصہ تو سناؤ چناچہ سیدنا جعفر طیار نے اسی سورة مریم کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں جن میں سیدنا زکریا اور سیدہ مریم کا ذکر ہے۔ یہ کلام سن کر نجاشی پر رقت طاری ہوگئی۔ سنتا جاتا تھا اور روتا جاتا تھا حتیٰ کہ اس کی داڑھی تر ہوگئی اور جب سیدنا جعفر طیار نے تلاوت ختم کی تو کہنے لگا : یہ کلام اور وہ کلام جو سیدنا عیسیٰ ( علیہ السلام) پر نازل ہوا دونوں ایک ہی منبع سے پھوٹے ہیں۔ واللہ ! میں ان لوگوں کو تمہارے حوالہ نہ کروں گا
نجاشی کے انکار پر قریشی وفد سخت مایوس ہوگیا اور موجودہ صورتحال پر غور کرنے کے لئے سر جوڑ بیٹھے۔ عمرو بن عاص یکدم پکار اٹھا کہ بادشاہ سے دوبارہ ملاقات کی جائے میں کل ایسی بات پیش کروں گا جس سے یقینا ً ہم کامیاب ہوں گے۔ چناچہ دوسرے دن عمرو بن عاص نے رسائی حاصل کرکے بادشاہ سے کہا : حضور آپ کو یہ بھی علم ہے کہ یہ لوگ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق کیا اعتقاد رکھتے ہیں ؟
بادشاہ نے اس سوال کے جواب کے لئے دوبارہ مسلمانوں کو بلا بھیجا۔ انھیں بھی اس بات کی خبر ہوگئی تھی۔ بہرحال انہوں نے یہ طے کرلیا کہ حالات جیسے بھی پیش آئیں ہمیں سچی بات ہی کہنا چاہئے اور جب نجاشی نے یہ سوال کیا تو سیدنا جعفر طیار کہنے لگے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے، اس کے رسول، روح اللہ اور کلمۃ اللہ تھے یہ جواب سن کر نجاشی نے ایک تنکا اٹھایا اور کہا : واللہ ! جو کچھ تم نے کہا : عیسیٰ ( علیہ السلام) اس تنکے کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں ہیں نجاشی کے اس تبصرہ پر درباری لوگ برہم ہوئے مگر نجاشی نے اس کی کچھ پروا نہ کی۔ قریشی سفارت مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔ نجاشی نے ان کے تحائف انھیں واپس کردیئے اور مسلمانوں کو امن و اطمینان سے اس ملک میں رہنے کی اجازت دے دی۔
Ayah 19:23 سیدنا زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) نیز سیدہ مریم اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے واقعات پہلے سورة آل عمران کے رکوع نمبر 3 اور 4 میں گزر چکے ہیں۔ ان کے حواشی بھی مدنظر رکھے جائیں۔
سیدنا یحییٰ اور سیدنا عیسیٰ (علیہما السلام) دونوں کی پیدائش خرق عادت کے طور پر ہوئی تھی۔ مگر چونکہ سیدنا یحییٰ کی پیدائش نسبتا ً کم خرق عادت ہے۔ اس لئے اسے بطور تمہید پہلے ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 19:34 اس کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں۔ مثلا ً رات کی نماز تہجد میں جب انسان کو کوئی دیکھ نہیں رہا ہوتا اور وہ بڑی دلجمعی اور سکون کے ساتھ اپنے پروردگار کو پکارتا ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ بڑھاپے اور مایوسی کی عمر میں ایسی بات کی درخواست کی کہ اگر دوسرے لوگ سن لیں تو مذاق اڑائیں۔ اس لئے آہستہ آواز سے دعا کی۔ تیسرے یہ کہ جب سیدہ مریم کے پاس بےموسم میوے دیکھے تو دل ہی دل میں اللہ کو پکارنے لگے۔
Ayah 19:45 اشتعل الراس کا لفظی معنی سر کا شعلہ مارنا ہے مگر یہ بطور محاورہ استعمال ہوا ہے اور یہ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب بڑھاپے کی وجہ سے سر کے بال سفید اور چمکدار ہونے لگیں۔
6 اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جو ترجمہ میں مذکور ہوا۔ یعنی جب بھی میں نے تجھ سے دعا کی وہ ہمیشہ قبول ہوتی رہی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اے پروردگار جب بھی تو نے مجھے کسی کام کے کرنے کے لئے پکارا تو میں ہمیشہ بجا لاتا رہا اور کبھی شقی ثابت نہیں ہوا۔
Ayah 19:57 سیدنا زکریا کی بیٹے کے لئے دعا کرنا :۔ یعنی لڑکا طلب کرنے سے میری اصل غرض یہ ہے کہ وہ میرا صحیح جانشین ثابت ہو۔ کیونکہ دوسرے میرے بھائی بند جو مجھے نظر آرہے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو میرے بعد دعوت دین اور تبلیغ کے کام کو سنبھال سکے۔
Ayah 19:68 علماء انبیاء کے وارث ہیں :۔ یہاں وراثت سے مراد علم دین کی وراثت ہے۔ کیونکہ انبیاء کی یہی وراثت ہوتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد نبوی ہے ان العلماء ھم ورثۃ الانبیائ (بخاری، کتاب العلم، باب العلم قبل القول والعمل) یعنی علماء حضرات ہی انبیاء کے وارث ہوتے ہیں پھر میرے اس لڑکے کو اپنا پسندیدہ بھی بنایا اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کے اخلاق و کردار اس قدر پاکیزہ ہوں کہ وہ سب لوگوں کی نظر میں مقبول و محبوب اور پسندیدہ ہو۔
Ayah 19:79 یحییٰ اللہ کا اپنا تجویز کردہ نام :۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کرکے بیٹے کی بشارت دی تو ساتھ ہی نام بھی خود ہی تجویز فرما دیا اور نام بھی ایسا انوکھا کہ پہلے کسی آدمی کا یہ نام نہیں رکھا گیا تھا۔ یحییٰ : دعائیہ نام ہے یعنی اللہ کرے تادیر زندہ رہے۔ جیسے ہمارے ہاں جیونا یا جیونی نام رکھتے ہیں اور عرب میں عائش اور عائشہ، نیز اسم بمعنی صفت بھی ہوسکتا ہے جیسے وللّٰہ الاسماء الحسنیٰ کے معنی اللہ کے بہترین نام بھی ہوسکتے ہیں اور بہترین صفات بھی، اس لحاظ سے اس کا معنی یہ ہوگا کہ ایسی اچھی سیرت والاآدمی پہلے کوئی نہیں ہوا۔
Ayah 19:810 سیدنا زکریا کے تعجب کی وجہ :۔ یعنی جب دعا کی تھی اس وقت تو تعجب نہ ہوا اور جب قبول ہوگئی اور بشارت ملی تو تعجب کرنے لگے۔ اور یہ تعجب اس لئے نہ تھا کہ آپ کو اللہ کی قدرت میں شک تھا ورنہ ایسی دعا ہی نہ کرتے بلکہ یہ تعجب اس فطری داعیہ کی بنا پر تھا کہ انسان کی عادت ہے کہ جب وہ کوئی غیر معمولی خوشخبری سنے تو مزید اطمینان اور مزید خوشی کے حصول کے لئے اس بات کو کرید کرید کر بار بار پوچھتا ہے۔
Ayah 19:911 یہاں خلقتک سے مراد سیدنا زکریا بھی ہوسکتے ہیں اور سیدنا آدم بھی۔ دونوں صورتوں میں اس واقعہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی حیران کن قدرت کاملہ کا اظہار ہوتا ہے نیز یہاں تو پھر وسائل (یعنی سیدنا زکریا اور ان کی بیوی) موجود ہیں۔ ان کی زائل شدہ قوتوں کو از سر نو زندہ یا بحال کردینا اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں۔
Ayahs 19:10–1112 سیدنا زکریا کا حمل کی علامت پوچھنا :۔ یعنی ایسی نشانی جس سے معلوم ہوجائے کہ اب حمل قرار پا گیا ہے۔ چناچہ علامت یہ بتائی گئی کہ تمہاری قوت گویائی بحال رہنے کے باوجود تم لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو گے البتہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے زبان چلتی رہے گی۔ چناچہ جب وہ وقت آگیا تو آپ ہر وقت ذکر الٰہی میں مشغول رہنے لگے۔ اور دوسروں کو اشارہ سے تاکید کردی کہ ہر وقت اللہ کی یاد میں مشغول رہیں اور اللہ کا شکر ادا کرنے میں ان کے ساتھ شریک ہوں۔
Ayah 19:1213 سیدنا یحییٰ کے اوصاف :۔ یعنی اللہ کی کتاب کو خود بھی سیکھو دوسروں کو بھی سکھاؤ۔ اس کے احکام پر خود بھی پوری طرح عمل کرو دوسروں کو بھی اس کی دعوت دو ۔ یہی وہ مشن تھا جس کے لئے سیدنا زکریا ( علیہ السلام) نے دعا کی تھی۔ چناچہ اللہ نے سیدنا یحییٰ کو سن رشد پر پہنچتے ہی منصب نبوت پر سرفراز فرما کر یہ حکم دے دیا تھا۔ اور ساتھ ہی قوت فیصلہ، قوت اجتہاد، تفقہ فی الدین، معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کی صلاحیت اور معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا۔
Ayah 19:1314 حنانا سے مراد مہربانی، شفقت اور محبت کی وہ قسم ہے جو ماں کو اپنے بچہ سے ہوتی ہے۔ یعنی سیدنا یحییٰں لوگوں کے حق میں اس قدر ہمدرد، غمگسار اور نرم دل تھے جیسے ماں اپنی اولاد کے حق میں ہوتی ہے۔ پاکیزہ اخلاق کے مالک اور ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ سیدنا یحییٰں نے نہ کبھی کوئی گناہ کا کام کیا اور نہ گناہ کا ارادہ کیا اور اللہ کے ڈر سے روتے رہنے کی وجہ سے ان کے رخساروں پر نشان پڑگئے تھے۔
Ayah 19:1415 بڑھاپے کی اولاد، اور بالخصوص ایسی اولاد جو اللہ سے دعائیں مانگ مانگ کر حاصل ہو، کے عادات واطوار ماں باپ کے زیادہ لاڈ پیار کی وجہ سے اچھے نہیں ہوتے لیکن یحییٰ میں ایسی کوئی بات نہ تھی۔ وہ ماں باپ کے انتہائی فرمانبردار، ان سے بہتر سے بہتر سلوک کرنے والے تھے۔ نافرمانی یا سرکشی کی ان میں بو تک نہ تھی۔
Ayahs 19:15–1616 انسان پر تین ہی مشکل گھڑیاں پیش آتی ہیں۔ جو بہرحال مشکل ہوتی ہیں۔ ایک پیدائش کا وقت اس کے اپنے آپ پر اور اس کی ماں پر۔ دوسرے موت کا وقت اور تیسرے بعث الموت کا وقت گویا اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بھی وہ اس قدر پسندیدہ تھے کہ اس دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی کوئی وقت ایسا نہیں آیا یا نہیں آئے گا جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر سلامتی نازل نہ ہوتی ہو۔
Ayah 19:1717 سیدہ مریم کی بیت المقدس کے حجرہ میں عبادت :۔ سیدنا یحییٰں کی خرق عادت پیدائش کے بعد اب سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی معجزانہ بغیر باپ پیدائش کا آغاز ہو رہا ہے۔ سیدہ مریم ( علیہ السلام) بیت المقدس کے مشرقی جانب کے ایک حجرہ میں گوشہ نشین ہو کر اللہ کی عبادت میں مشغول رہا کرتیں۔ پھر اس کمرہ میں بھی ایک پردہ ڈال لیا تاکہ دوسرے لوگوں سے بھی الگ تھلگ رہ کر پوری یکسوئی سے ذکر و فکر میں مشغول رہ سکیں اور اس کا دوسرا مطلب یہ لیا گیا ہے کہ جب جوان ہوئیں تو انھیں حیض آگیا اور بہت زیادہ شرم محسوس ہوئی تو اس وقت سب لوگوں سے پردہ کرلیا۔ پھر اسی علیحدگی میں غسل حیض بھی کیا۔
18 یہاں روح سے مراد فرشتہ ہے۔ سیدنا جبریل ایک نوجوان اور خوبصورت مرد کی شکل میں اسی پردہ کے مقام پر نمودار ہوگئے اور فرشتے جب انسانی شکل میں نبیوں یا برگزیدہ ہستیوں کے پاس آتے ہیں تو عموما خوش منظر صورتوں میں ہی آتے ہیں۔
Ayah 19:1819 سیدہ مریم اور جبرئیل کا مکالمہ :۔ یہ صورت حال دیکھ کر سیدہ مریم ( علیہ السلام) سخت خوفزدہ ہوگئیں اور ان کے لئے یہ انتہائی نازک وقت تھا۔ خود بھی نوجوان تھیں، سامنے نوجوان اور خوش شکل مرد کھڑا تھا۔ تنہائی تھی، کوئی دوسرا پاس موجود بھی نہ تھا۔ نووارد کا نورانی چہرہ دیکھ کر اندازہ کیا کہ آدمی تو کوئی پرہیزگار ہی معلوم ہوتا ہے۔ لہذا اسے اللہ کا واسطہ دے کر کہا کہ میں تیری طرف سے رحمن کی پناہ میں آتی ہوں۔ یعنی اس بات سے کہ تو مجھ پر کسی قسم کی دست درازی کرے۔
Ayah 19:1920 فرشتے نے جواب دیا۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ اگر میرے متعلق کوئی برا خیال آیا ہے تو اسے نکال دو ۔ میں آدمی نہیں بلکہ تمہارے پروردگار کا فرستادہ فرشتہ ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تجھے ایک پاکیزہ لڑکا عطاکروں۔ یہاں جبریل ( علیہ السلام) نے لڑکا عطا کرنے کی نسبت جو اپنی طرف کی ہے تو اس سے یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ فرشتے اللہ کے شریک ہیں اور اللہ نے انھیں کچھ اختیارات تفویض کر رکھے ہیں جیسا کہ مشرکین سمجھتے ہیں یا مشرکین مکہ سمجھتے تھے۔ کیونکہ یہاں ساتھ ہی یہ وضاحت موجود ہے کہ میں تیرے پروردگار کا فرستادہ ہوں یعنی اس کام پر مامور ہوا ہوں۔ مجھے اس کام کا حکم دیا گیا ہے۔ گویا مدبرات امرکام کی نسبت کبھی براہ راست اللہ کی طرف کرتے ہیں، کبھی اپنی طرف اور جب اپنی طرف کریں تو وہ بھی حقیقتا اللہ ہی کی طرف ہوتی ہے۔ جیسے اسی واقعہ کی نسبت ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کرتے ہوئے فرمایا : (فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا 12ۧ) 66 ۔ التحریم :12)
Ayah 19:2021 یعنی سیدہ مریم کا پہلا خوف تو دور ہوگیا کہ یہ کوئی بدکار آدمی نہیں بلکہ اللہ کا فرستادہ فرشتہ ہے اب حیرت اس بات پر ہوئی کہ لڑکا ہو کیسے سکتا ہے ؟ جب تک کسی مرد سے صحبت نہ ہو خواہ یہ بالجبر کی صورت میں ہو یا بالرضا کی صورت میں ؟ اور یہ دونوں باتیں یہاں مفقود تھیں۔
Ayah 19:2122 سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش خود ایک معجزہ تھی :۔ یعنی ناممکن ہونے کے باوجود ممکن ہے اور ایسا ہو کے رہے گا کیونکہ اللہ کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ اور یہ اس لئے ہوگا کہ ہم اس لڑکے کو تمام لوگوں کے لئے ایک زندہ جاوید معجزہ بنادیں۔ پھر یہ لڑکا ہماری طرف سے تمہارے لئے از راہ رحم و کرم عطیہ بھی ہے اور تمام لوگوں کے لئے بھی رحمت ثابت ہوگا۔
واضح رہے کہ تخلیق کے لئے چار ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔
ایک یہ کہ ماں اور باپ دونوں سے پیدا ہو، یہ صورت عام ہے اور سب انسان یا جاندار ایسے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ دوسری یہ کہ ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہو۔ اس طرح سیدنا آدم کو پیدا کیا گیا۔ تیسری یہ کہ صرف مرد سے پیدا ہو۔ جیسے سیدہ حوا کو آدم سے پیدا کیا گیا۔ اور چوتھی یہ کہ صرف عورت سے پیدا ہو۔ یہ صورت ابھی تک وجود میں نہ آئی تھی جو سیدنا عیسیٰ کی پیدائش سے پوری ہوگئی۔
Ayah 19:2223 سیدہ مریم میں روح جبرئیل نے پھونکی تھی یا اللہ تعالیٰ نے ؟ روایات میں ہے کہ یہ کہہ کر سیدنا جبریل نے سیدہ مریم کی قمیص کے گریبان میں روح پھونکی جسے سورة تحریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا : (فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا 12ۧ) 66 ۔ التحریم :12) ۔ یعنی یہ روح ہم نے پھونکی تھی۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ جبریل نے یہ کیوں کہا تھا تاکہ میں تجھے ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں اس نفخہ جبریل یا نفخہ الٰہی سے سیدہ مریم کو حمل قرار پا گیا۔ اسی وجہ سے آپ کو روح اللہ کہتے ہیں۔
حمل کی وجہ سے سیدہ مریم کا بیت المقدس سے چلے جانا :۔ جب آپ حاملہ ہوگئیں تو اب شرم کے مارے وہاں رہنا گوارا نہ کیا اور آپ بیت المقدس کا حجرہ چھوڑ کر دور کسی مقام پر چلی گئیں۔ کہتے ہیں کہ یہ مقام بیت اللحم تھا جو وہاں سے تقریبا آٹھ میل دور ہے۔
Ayahs 19:23–2524 یعنی زچگی کے درد سے بےتاب ہو کر اٹھیں اور ایک کھجور کے تنے کا سہارا لیا۔ کیفیت یہ تھی ایک تو درد زہ کی شدت کی تکلیف، دوسرے تنہائی و بیکسی، تیسرے اشیائے خوردنی اور دیگر ضروریات کا فقدان۔ حتی ٰ کہ پانی تک موجود نہ تھا اور سب سے زیادہ پریشان کن بات آئندہ بدنامی اور رسوائی کا تصور تھا۔ اب سب باتوں سے آپ اس قدر پریشان ہوئیں کہ بےاختیار منہ سے یہ الفاظ نکل گئے۔ کاش میں آج سے پہلے ہی مرچکی ہوتی اور لوگوں کے حافظہ سے بھی اتر چکی ہوتی۔
جو حضرات معجزات کے منکر ہیں۔ وہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کو قرآنی تصریحات کے علی الرغم فطری پیدائش قرار دیتے ہیں اور اس سلسلہ میں انھیں اناجیل کی روایات قبول کرنے میں بھی کچھ باک نہیں ہوتا۔ پھر لطف کی بات یہ ہے کہ انجیل میں تو فقط سیدہ مریم کی یوسف نجار سے منگنی کا ذکر ہے مگر یہ حضرات باقاعدہ نکاح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور سیدہ مریم کے اس جملہ کاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور میرا نام و نشان بھی باقی نہ رہتا کی تعبیر یہ پیش کرتے ہیں کہ یہ جملہ انہوں نے درد زہ کی شدت کی وجہ سے کہا تھا۔ یہ تعبیر اس لحاظ سے غلط ہے کہ درد زہ ہر عورت کو ہوتی ہے اور ہر وضع حمل کے وقت ہوتی ہے۔ لیکن صرف اس درد کی بنا پر کسی عورت نے کبھی موت کی آرزو نہیں کی۔ بلکہ عورتیں ایسے موقعوں پر ہمیشہ یہ درد خوشی کے ساتھ برداشت کرتی ہیں بالخصوص اس صورت میں کہ بچہ بھی پہلونٹی کا ہو اور پھر اولاد بھی نرینہ ہو۔ لہذا منکرین معجزات یا نیچری حضرات کی یہ تاویل صرف اللہ کی آیات کا مذاق ہی نہیں بلکہ تجربہ کی کسوٹی پر بھی غلط ثابت ہوتی ہے۔
Ayah 19:2625 زچگی کے دوران خوردونوش کے لئے اللہ کی معجزانہ مدد :۔ جس کھجور کے درخت کے تنے سے سیدہ مریم نے سہارا لیا تھا وہ قدرے بلندی پر واقع تھا اس کے نیچے سے پھر اسی فرشتہ کی آواز سنائی دی جس نے لڑکے کی بشارت دی تھی اور جس کی بشارت شاید اس وقت سیدہ مریم بھول گئی تھیں۔ اور وہ آواز یہ تھی کہ ذرا نیچے تو دیکھو اللہ نے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا چشمہ جاری کردیا ہے یہ تمہارے پینے کے لئے ہے اور اسی کھجور کے تنے کو زور سے ہلاؤ تو تازہ پکی کھجوریں جھڑنے لگیں گی۔ یہ سیدہ مریم کے کھانے کا سامان کیا گیا اور یہ دونوں چیزیں معجزانہ طور پر پیدا کی گئی تھیں۔ جو اس حالت زچگی کے لئے ایک سادہ غذا بھی تھی اور مناسب و متوازن بھی۔
26 پیدائش کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے امداد کی صورتیں اور چپ کا روزہ :۔ اللہ کی مہربانی سے بچہ پیدا ہوگیا۔ فرشتہ کی آمد سے تنہائی میں کمی واقع ہوئی۔ کھانے پینے کا سامان بھی مہیا ہوگیا اور چوتھی اور سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ تھی کہ بدنامی سے بچاؤ کی کیا صورت ہو اور لوگ جو دیکھیں گے اور پوچھیں گے تو انھیں کیا جواب دیا جائے۔ اس کا علاج اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا اور فرشتے نے سیدہ مریم کو ہدایت کی کہ اگر کوئی آدمی دیکھے تو اس کو اشارہ سے یہ کہہ دینا کہ میں نے آج چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ لہذا کسی آدمی سے بات کرنا مجھے منع ہے۔ واضح رہے کہ چپ کا روزہ پہلی امتوں میں مشروع تھا مگر شریعت محمدیہ میں مشروع نہیں۔ ایسے روزہ میں انسان ذکر اذکار اور اللہ سے دعا وغیرہ تو کرسکتا تھا، مگر لوگوں سے بات چیت نہیں کرسکتا تھا جیسا کہ سیدنا زکریا کو بھی سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے حمل کی علامت ایسا ہی تین دن کا روزہ بتایا گیا تھا۔ ایسے روزہ میں فرشتوں سے بات چیت ممنوع نہیں تھی۔
Ayahs 19:27–2827 یہود کی بہتان تراشیاں :۔ جس وجہ سے سیدہ مریم اس دور کے مکان میں جاگزیں ہوئی تھیں وہ تو پورا ہوچکا۔ اب وہ اسے اٹھائے ہوئے اور فرشتہ کی ہدایت کو پلے باندھے ہوئے اپنی قوم کے لوگوں کے ہاں آگئیں۔ اس امید پر کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے پہلے بروقت مدد فرمائی ہے اب بھی کوئی راہ نکال دے گا۔ جب وہ اپنے لوگوں کے پاس بچہ کو اٹھائے ہوئے پہنچیں تو انہوں نے بچہ کو دیکھ کر بغیر کچھ پوچھے ہی طعن و ملامت شروع کردی اور آسمان سر پر اٹھا لیا اور کہا کہ ہارون جیسے پاکیزہ خاندان کی اولاد ہوتے ہوئے یہ تو نے کیا گل کھلا دیا تم نے ہمارے پورے خاندان کی ناک کٹوا دی اور ہماری عزت خاک میں ملا دی۔ غرض بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی تھیں۔ کسی نے کہا کہ تمہاری ماں (عمران کی بیوی) بھی ایک پاک باز اور عفیفہ عورت تھی اور باپ (عمران) بھی بڑا شریف آدمی تھا۔ پھر تجھ میں یہ بری خصلت کہاں سے آگئی ؟ غرض جتنے منہ اتنی باتیں ہوتی رہیں اور سیدہ مریم خاموشی اور تحمل سے یہ باتیں سنتی رہیں اور یہ باتیں کچھ غیر متوقع بھی نہ تھیں۔
سیدہ مریم ہارون کی بہن کیسے تھیں ؟ کہتے ہیں کہ سیدہ مریم کے ایک بھائی کا نام بھی ہارون تھا۔ اسی وجہ سے لوگوں نے سیدہ مریم کو اے ہارون کی بہن کہا تھا۔ ممکن ہے یہ بات بھی صحیح ہو مگر اس سے بہتر توجیہ وہی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے اسی توجیہ کی تائید عام محاورہ عرب سے بھی ہوتی ہے۔ نیز درج ذیل حدیث بھی اسی توجیہ کی تائید کرتی ہے۔
سیدنا مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے نجران کے عیسائیوں کی طرف (مناظرہ کے لئے) بھیجا تو انہوں نے کہا : تم جو یا اخت ہارون پڑھتے ہو تو موسیٰ اور عیسیٰ میں تو کافی مدت ہے ؟ (پھر مریم ہارون یعنی موسیٰ کے بھائی، کی بہن کیسے ہوئی ؟ ) اور میں نہیں سمجھتا تھا کہ انھیں کیا جواب دوں۔ پھر میں نبی اکرم کے پاس آیا اور انھیں بتایا تو آپ نے فرمایا : تم نے انھیں یہ نہ بتایا کہ وہ لوگ اپنے سے پہلے کے نبیوں اور بزرگوں کے نام رکھا کرتے تھے (یعنی موسیٰ کے بھائی ہارون اور تھے اور مریم کا بھائی ہارون اور تھا) (ترمذی، ابو اب التفسیر)
Ayah 19:2928 سیدہ مریم نے فرشتہ کی ہدایت کے مطابق ان کی کڑوی کسیلی باتوں میں سے کسی کا جواب نہ دیا بلکہ اس نومولود بچے کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ خود جواب دے گا۔ اس بات پر لوگ اور زیادہ برہم ہوئے اور کہنے لگے ایک تو خود مجرم ہو دوسرے ہمارا مذاق اڑاتی ہو۔ یہ بچہ جو ابھی پیدا ہوا ہے بھلا ان باتوں کا کیا جواب دے سکتا ہے ؟
Ayahs 19:30–3229 سیدنا عیسیٰ نے کلام فی المھد سے اپنی والدہ کی بہتان سے مکمل بریّت کردی :۔ تب اس نومولود بچے کو اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے قوت گویائی عطا فرمائی اور پہلی بات جو اس نے کی وہ یہ تھی کہ میں اللہ کا بندہ ہوں بالفاظ دیگر میں نہ اللہ ہوں اور نہ ابن اللہ ہوں اور یہ ایسی بنیادی بات تھی جو بعد میں اس کے پیروکاروں میں ہی متنازعہ فیہ بن گئی۔ کسی نے انھیں اللہ ہی کہہ دیا اور کسی نے اللہ کا بیٹا۔ آپ نے اپنے اس معجزانہ کلام کے آغاز میں ہی اس کی تردید فرما دی تھی۔ نیز یہ بھی بتایا کہ اللہ نے مجھے کتاب دی ہے اور اپنا نبی بھی بنایا ہے اس کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ نے مجھے کتاب تورات کا علم عطا فرمایا اور دوسرا یہ کہ اللہ مجھے کتاب انجیل بھی عطا فرمانے والا ہے اور نبوت بھی۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ کلام دراصل ان کی سب بہتان تراشیوں کا مکمل جواب تھا اور اس کلام میں ان کی والدہ سیدہ مریم کی مکمل بریّت کا اظہار مقصود تھا یعنی اگر ایک نومولود بول سکتا ہے اور ایسا مبنی برحقیقت کلام کرسکتا ہے تو یہ بھی عین ممکن ہے کہ وہ پیدا بھی معجزانہ طور پر بن باپ کے ہوا ہو۔ بالفاظ دیگر اسی عمر میں ایسے کلام کرنے کے معجزہ سے معجزانہ پیدائش کی توثیق مقصود تھی۔
Ayah 19:3330 سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس وقت کے کلام کے باقی نکات یہ تھے کہ میں جہاں کہیں بھی رہوں گا اللہ کی مہربانی سے اس کی برکات میرے شامل حال رہیں گی اور مجھے یہ بھی تاکیدی حکم دیا گیا ہے کہ جب تک زندہ رہوں باقاعدگی کے ساتھ نمازیں اور زکوٰۃ ادا کرتا رہوں۔ اور اپنی والدہ سے بہتر سلوک کرتا رہوں (صرف والدہ کا ذکر اس لئے کیا کہ آپ کا والد تھا ہی نہیں ورنہ اس کا بھی ضرور ذکر کرتے) اللہ نے میری سرشت میں نہ سرکشی رکھی ہے اور نہ بدبختی۔ جب میں پیدا ہوا تھا تو اس دن بھی اللہ نے مجھ پر سلامتی نازل فرمائی تھی اور مرتے وقت حتیٰ کہ مرنے کے بعد اٹھتے وقت یعنی اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی بہرحال اللہ مجھ پر سلامتی نازل فرمائے گا۔ یہ تھا وہ پورا کلام جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت کیا تھا جبکہ آپ کی والدہ پر الزام تراشیاں کی جارہی تھیں۔
گود میں کلام کرنے والے تین بچے :۔ واضح رہے کہ بخاری و مسلم دونوں میں ایک طویل حدیث موجود ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ بنی اسرائیل کے تین بچوں نے مہد میں کلام کیا تھا۔ ان میں سے ایک تو یہی سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ ان کے مخاطب یہود تھے اور آپ کے اس کلام کا مقصود پہلے بیان ہوچکا ہے۔ دوسرا ابن جریج راہب کا قصہ ہے جسے بالخصوص مسلم نے بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ابن جریج راہب پر زنا کی تہمت لگائی گئی تو انہوں نے اللہ سے بریت کی دعا کی پھر حرامی نومولود بچہ کو کچوکا لگا کر پوچھا کہ بتاؤ کہ تمہارا باپ کون ہے ؟ تو بچہ بول اٹھا کہ فلاں چرواہا ہے۔ اس طرح اللہ نے ابن جریج راہب کو زنا کی تہمت سے بری فرما دیا۔ اور تیسرے بچہ کی مخاطب اس کی ماں تھی جو سامان دنیا پر ریجھی ہوئی تھی تو بچہ نے بول کر اپنی ماں کی گمراہ کن غلط فہمی کو دور کردیا۔
اور مہد میں کلام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ شیرخوارگی کے عالم میں کلام کرے جب کہ ابھی اس نے کلام کرنا نہ سیکھا ہو۔ اور یہ مہد کا کلام تینوں واقعات میں صرف ایک ہی بار وقوع پذیر ہوا۔ یہ نہیں کہ ان بچوں نے اس عالم میں متعدد بار کلام کیا ہو۔
Ayah 19:3431 سیدنا عیسیٰ کے بارے میں افراط وتفریط میں مبتلا فرقے ان کے جھگڑے اور کلام فی المہد کے اہم نکات :۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی حقیقت بالکل یہی ہے جو یہاں بیان کردی گئی۔ لیکن اہل کتاب نے اس میں کئی اختلاف اور جھگڑے کھڑے کردیئے۔ یہود نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو اتنا گھٹایا کہ نعوذ باللہ انھیں ولدالزنا قرار دے کر اس پر دلائل پیش کرنے لگے اور نصاریٰ نے ان کا درجہ اس قدر چڑھایا کہ انھیں عین اللہ قرار دے لیا یا کچھ دوسرے انھیں ابن اللہ کہنے لگے اور اپنے ایسے عقائد کے دلائل پیش کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دونوں گروہ افراط وتفریط اور غلو فی الدین میں مبتلا ہیں۔ جو کچھ اصل حقیقت تھی وہ یہاں بیان کردی گئی ہے۔ پھر اس اصل حقیقت کے بیان ہوجانے کے بعد اب مسلمانوں کے ایک فرقہ نے جو معجزات کے منکر ہیں اس حقیقت سے اختلاف کیا اور کہنے لگے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی معجزانہ طور پر نہیں بلکہ عام فطری دستور کے مطابق ہوئی تھی اور قرآن کے بیان کے علی الرغم قرآن ہی کی معنوی تحریف کرکے ایسے دلائل ڈھونڈنے لگے۔ ایسے تمام لوگوں کا اور ان کے اختلاف کا اب قیامت کے دن فیصلہ ہوگا۔ (سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی معجزانہ پیدائش کے منکرین کے سلسلہ میں دیکھئے سورة آل عمران کی آیت نمبر 55 کا حاشیہ)
اور عیسائی حضرات اللہ کو باپ سیدہ مریم کو ماں اور سیدنا عیسیٰ کو بیٹا کہتے ہیں۔ مگر سیدہ مریم کو اللہ کی بیوی نہیں کہتے۔ یعنی ماں باپ مان کر بھی ان کے ہاں سیدنا عیسیٰ کی پیدائش کا وہ طریقہ نہیں جو والدین کے واسطہ سے ہوتا ہے۔ پھر اگر کوئی بات خرق عادت ماننا ہی ہے تو بدوں باپ پیدائش مان لینے میں کیا اشکال ہے ؟
Ayahs 19:35–3632 اللہ کو بیٹے یا کسی مددگار کی قطعاً ضرورت نہیں :۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کو بیٹا بنانے کی قطعا ً ضرورت نہیں ہے، کیونکہ جب سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے ہی یہ کارخانہ کائنات ٹھیک طرح چل رہا تھا تو پھر بیٹا بنانے کی ضرورت کہاں سے آگئی ؟ علاوہ ازیں ایسی باتیں اللہ تعالیٰ کی شان کے شایان بھی نہیں ہیں وہ اس قسم کی کمزوریوں اور مجبوریوں سے بالاتر اور پاک ہے نیز جب اس کے سارے کام فقط کن کا حکم دینے سے ہوجاتے ہیں۔ فورا ً اسباب و وسائل مہیا ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور وہ چیز ہو کے رہتی ہے تو پھر اسے کسی کو بیٹا یا شریک بنانے کی ضرورت بھی کیا ہے ؟
Ayah 19:3733 سیدھی راہ یہ ہے کہ میرا اور تمہارا یعنی سب لوگوں کا خالق اور پروردگار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اب جو لوگ اس سیدھی راہ میں رخنے ڈالتے، اللہ کے لئے بیٹے، پوتے، بیٹیاں یا دوسرے شریک تجویز کرتے، پھر ان پر بحثیں کرکے جدا جدا فرقے بنا رہے ہیں انھیں قیامت کے دن کی ہولناک تباہیوں سے خبردار کیجئے اور اس ہلاکت سے ڈرائیے جو اس دن انھیں یقینا پیش آنے والی ہے۔
Ayah 19:3834 یعنی آج اس دنیا میں انھیں دیکھنے اور سننے کا فائدہ ہے مگر نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن خوب دیکھ اور سن رہے ہوں گے مگر اس دن دیکھنے اور سننے کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اس دن وہ ایسی ایسی باتیں سنیں گے جن سے ان کے جگر پھٹ جائیں گے اور ایسے منظر دیکھیں گے جن سے ان کے چہروں پر سیاہی اور مردنی چھا جائے گی۔
Ayah 19:3935 یوم حسرت۔ موت کو مینڈھے کی شکل میں ذبح کرنا ہے :۔ کافروں کے پچھتانے کے مواقع تو بہت ہوں گے۔ مگر آخری موقع غالبا ً وہ ہوگا جب اہل جنت کو جنت جانے کا اور اہل دوزخ کو دوزخ میں جانے کا فیصلہ سنا دیا جائے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث میں آیا ہے :
سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : (قیامت کے دن) موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لے کر آئیں گے۔ پھر ایک پکارنے والا پکارے گا : اے اہل جنت ! وہ ادھر دیکھیں گے تو فرشتہ کہے گا : تم اس مینڈھے کو پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے ہاں ۔ یہ موت ہے اور ہم سب اس کا مزہ چکھ چکے ہیں پھر وہ پکارے گا، دوزخ والو ! وہ لوگ بھی گردن اٹھا کر ادھر دیکھنے لگیں گے تو فرشتہ کہے گا : تم اس مینڈھے کو پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے : ہاں ! یہ موت ہے، ہم سب اس کو دیکھ چکے ہیں ۔ اس وقت وہ مینڈھا ذبح کردیا جائے گا۔ اس کے بعد وہ فرشتہ کہے گا : جنت والو ! تمہیں ہمیشہ بہشت میں رہنا ہے اور دوزخ والو ! تمہیں بھی ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے۔ اب کسی کو موت نہیں آئے گی۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ( وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ ۘ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ وَّهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ 39 ۔ ) 19 ۔ مریم :39) (بخاری۔ کتاب التفسیر، ترمذی، ابو اب التفسیر)
اس دن کافر سب کچھ خوب دیکھ رہے ہوں گے اور سن بھی رہے ہوں گے مگر ہر طرف سے ناامید ہو کر حسرت سے اپنے ہاتھ کاٹیں گے۔ مگر اس وقت کچھ فائدہ نہ ہوگا
Ayah 19:4036 یعنی اس دن نہ کسی کا ملک باقی رہے گا نہ ملک باقی رہے گی۔ ہر چیز براہ راست مالک حقیقی کی طرف لوٹ جائے گی۔ وہی علی الاطلاق ہر چیز کا مالک و مختار ہوگا۔ اور وہی ہر چیز کا وارث ہوگا۔ ملک وملک کے لمبے چوڑے دعویٰ رکھنے والے وہاں خالی ہاتھ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔