Ayah 18:11 سورة کہف کی فضیلت میں مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
1۔ براء بن عازب کہتے ہیں کہ ایک شخص رات کو گھر میں یہ سورت پڑھ رہا تھا اور گھوڑا بھی وہیں بندھا ہوا تھا گھوڑا بدکنے لگا۔ اس نے اوپر جو سر اٹھا کر دیکھا تو ایک نور دکھائی دیا جو بادل کی طرح سایہ کیے ہوئے تھا صبح اس نے یہ واقعہ رسول اللہ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ سکینہ (نور اطمینان) ہے جو اس کے پڑھنے سے نازل ہوئی تھی۔ (ترمذی، ابو اب فضائل القرآن۔ باب ماجاء فی سورة کہف) اس واقعہ کو بخاری اور مسلم نے بھی روایت کیا ہے۔
2۔ سیدنا ابو الدرداء کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص اس سورة کی ابتدائی تین آیات پڑھتا رہے وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا (ترمذی، ابو اب فضائل القرآن۔ باب ماجاء فی سورة الکہف) اور مسلم میں اس طرح ہے کہ جو شخص سورة کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرے وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔ (مسلم بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب فضائل القرآن۔ پہلی فصل)
3۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص جمعہ کے دن سورة کہف پڑھے دو جمعوں کے درمیان اس کے لیے نور روشن ہوجاتا ہے۔ (بیہقی فی الدعوات الکبیر۔ بحوالہ مشکوۃ کتاب فضائل القرآن۔ تیسری فصل)
1۔ الف یعنی اللہ تعالیٰ کے مستحق حمد و ثنا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے مطالب صاف صاف بیان کرتی ہے نہ اس کے مطالب میں کوئی پیچ و خم ہے اور نہ اس کے انداز بیان میں کوئی پیچیدگی یا الجھاؤ ہے۔
Ayahs 18:2–32 قرآن سابقہ کتابوں کے لئے معیار :۔ قیما بہت وسیع المعنی لفظ ہے اس کا ایک معنی تو ترجمہ میں بیان ہوا ہے دوسرا معنی یہ ہے کہ سابقہ آسمانی کتابوں کے لیے ایک معیار اور کسوٹی کا کام دیتی ہے ایک تو اس میں سابقہ تعلیمات کا خلاصہ موجود ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ کتاب سابقہ کتب کے صرف صحیح اور منزل من اللہ مضامین کی تصدیق کرتی ہے اور اگر کہیں تضاد ہوگا تو وہ اہل کتاب کی تحریف لفظی یا معنوی کی وجہ سے ہوگا یا پھر ان کا اپنی طرف سے اضافہ ہوگا۔
3 یعنی اس کتاب کا بھی اور اسی طرح جملہ آسمانی کتابوں کی تعلیم کا لب لباب یہی ہے کہ قیامت یقیناً آنے والی ہے اس دن تمام لوگوں کو ان کے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ ضرور ملنے والا ہے لہذا ہر شخص کے لیے لازم ہے کہ وہ اللہ کے حضور جواب دہی کی وجہ سے اس دنیا میں اللہ سے ڈرتے ہوئے اپنی زندگی بسر کریں اور جو اللہ کے فرماں بردار بن کر رہیں انھیں جنت اور دائمی خوشیوں کی بشارت بھی دیتی ہے۔
Ayah 18:44 اللہ کی اولاد قرار دینے والے فرقے :۔ اس آیت کے مخاطب عیسائی بھی ہیں جنہوں نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ابن اللہ ہونے کو اپنے عقیدہ کا لازمی جزو قرار دے لیا ہے مشرکین مکہ بھی جنہوں نے اللہ کے لیے بیٹوں کے بجائے کئی بیٹیاں تجویز کر رکھی تھیں جیسے لات، عزیٰ اور منات وغیرہ اور یہود بھی جو سیدنا عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے گویا قرآن کے نزول کا مقصد عام لوگوں کو ڈرانا تو ہے ہی اور بالخصوص ان لوگوں کو ڈرانا ہے جو اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں۔
Ayah 18:55 کیونکہ اللہ کے لیے اولاد قرار دینا انتہائی گستاخی کی بات ہے اور یہ ایسی بات ہے جس کا الہامی کتابوں کی سچی تعلیم میں کہیں ڈھونڈے سے بھی سراغ نہیں مل سکتا اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ ان لوگوں کے بزرگوں اور آباؤ اجداد میں سے کسی نے ایسی بات کہہ دی اور بلا تحقیق کہہ دی۔ بعد میں آنے والی نسلوں میں یہی بلاتحقیق جھوٹی اور انہونی بات ان کے عقیدہ میں شامل ہوگئی۔
Ayahs 18:6–76 آپ کو کفار مکہ کے ایمان نہ لانے کا افسوس :۔ جن حالات میں یہ سورت نازل ہوئی اس آیت میں انہی حالات کا اجمالی منظر پیش کیا گیا ہے مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے تھے اور کفار مکہ اپنی ساری قوتیں اسلام کے استیصال پر صرف کر رہے تھے ان حالات میں آپ کی انتہائی آرزو یہ تھی کہ ان سرداران قریش کو یا ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ اسلام لانے کی توفیق عطا فرما دے جس سے آپ کے سامنے بالخصوص دو فوائد تھے ایک یہ کہ لوگ اللہ کی گرفت سے بچ جائیں جو پیہم نافرمانیوں کی صورت میں یقیناً واقع ہوجاتی ہے اور دوسرے یہ کہ اس طرح اسلام کو تقویت حاصل ہو اور مسلمانوں پر سختیوں میں کمی واقع ہوجائے۔ دن رات آپ کو یہی فکر لاحق رہتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں کی ہدایت کی فکر میں آپ اپنے آپ کو ہلکان کرنا چھوڑ دیں اللہ خود اپنے دین کا محافظ ہے اس کی ان حالات پر کڑی نظر ہے اور وہی کچھ ہو کر رہے گا جو وہ چاہے گا آپ بس اپنا تبلیغ رسالت کا کام کرتے جائیے کسی کو ہدایت دینا اللہ کا کام ہے آپ کا نہیں۔
Ayah 18:87 کل من علیھا فان :۔ یہ لوگ اس وقت آسودہ حال ہیں اور دنیا کی لذتوں اور دلچسپیوں میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ ان کی یہ حالت بدستور قائم رہے اور اسلام کے غلبہ میں انھیں اپنی اس آسودہ حالی کی زندگی اور عزو جاہ کی موت نظر آتی ہے حالانکہ دنیا کی انہی دلچسپیوں کو ہم نے ایسے لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ بنادیا ہے ہم تو یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ عیش و عشرت کی ان فراوانیوں میں پھنس کر کوئی اللہ کی طرف بھی رجوع کرتا ہے یا نہیں اور یہ دنیا اور اس کی بہار تو محض ایک وقتی، عارضی اور فانی چیز ہے اور ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب اس زمین پر نہ لہلہاتے کھیت ہوں گے، نہ مہکتے ہوئے باغ، نہ مال و مویشی، بس یہ ایک چٹیل میدان ہوگی کسی کی ملکیت میں کوئی بھی چیز نہ ہوگی۔ یہ مال و اولاد، یہ غلام اور مویشی، یہ عزو جاہ کے سب وسائل ناپید ہوجائیں گے اس وقت اگر کوئی چیز کارآمد ہوگی تو انسان کے اچھے اعمال ہوں گے جو اس کے ساتھ جائیں گے لہذا انسان کو اپنی توجہ فانی چیزوں کی بجائے باقی رہنے والی چیزوں پر صرف کرنی چاہیے۔
Ayah 18:98 قریش مکہ کے تین تاریخی سوال :۔ اس تمہید کے بعد اب کفار مکہ کے ان سوالوں کے جوابات کا آغاز ہو رہا ہے جو انہوں نے اہل کتاب سے پوچھ کر اور ان کے مشورہ سے آپ سے پوچھے تھے کفار مکہ دراصل یہ چاہتے تھے کہ وہ آپ سے قرون گذشتہ کے متعلق کچھ ایسے تاریخی سوال کریں جن کا کم از کم مشرکین مکہ اور عام اہل عرب کو کچھ علم نہ تھا۔ چناچہ انہوں نے اس معاملہ میں اہل کتاب کے عالموں سے مدد لی۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ سے ایسے سوال کرنے سے پتہ چل جائے گا کہ آیا یہ شخص فی الواقع نبی ہے یا نہیں۔ اگر یہ جواب نہ دے سکے تو اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہوجائے گا اور اگر درست جواب دے دے تو معلوم ہوجائے گا کہ اس کے پاس واقعی کوئی علم غیب کا ذریعہ موجود ہے۔ گویا ان سوالوں سے دراصل ان کا مقصود آپ کی نبوت کا امتحان تھا چناچہ اہل کتاب نے جو سوالات قریش مکہ کو بتائے ان میں سرفہرست اصحاب کہف کا قصہ تھا پھر دوسرے نمبر پر قصہ موسیٰ و خضر اور تیسرے نمبر پر ذوالقرنین کا قصہ تھا۔ بعض روایات کے مطابق دوسرا سوال قصہ موسیٰ و خضر کے بجائے روح کے متعلق تھا جس کا ذکر پہلے سورة بنی اسرائیل میں گذر چکا ہے یہ بات اس لیے درست معلوم نہیں ہوتی کہ ان دونوں سورتوں کے نزول کے درمیان ایک طویل مدت ہے۔ ترتیب نزولی کے لحاظ سے سورة بنی اسرائیل کا نمبر 50 جبکہ اس سورة کا نمبر 69 ہے علاوہ ازیں اس سورة میں ان ہی تین قصوں کا ذکر آیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان تین سوالوں کا جواب ہی نازل نہیں فرمایا بلکہ ایسے امور کی بھی ساتھ ساتھ وضاحت کردی ہے جو انسانی ہدایت کے لیے نہایت ضروری ہیں جیسا کہ قرآن کریم کے انداز بیان کا خاصہ ہے علاوہ ازیں ان قصوں کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ جو بہت حد تک قریش مکہ کے حالات سے مطابقت رکھتے تھے۔
کہف اور رقیم کے معنی :۔ کہف کسی پہاڑ کی اس کھوہ کو کہتے ہیں جو کھلی اور کشادہ ہو اور اگر تنگ ہو تو اسے غار کہتے ہیں اور رقیم، مرقوم کے معنوں میں ہے یعنی یہ اصحاب کہف یک دم معاشرہ سے غائب ہوگئے اور تلاش بسیار کے باوجود ان کا پتہ نہ چل سکا تو ان سرکاری مفرور مجرموں کے نام اور پتے قلمبند کرلیے گئے جو مدتوں حکومت کے ریکارڈ میں رہے اور بعض لوگوں کے خیال کے مطابق یہ نام اس وقت ریکاڑد کیے گئے تھے جب لوگوں کو ان کا پتہ چل گیا ان کا چرچا عام ہوا اور یہ لوگ دوبارہ اس غار میں داخل ہوگئے تو لوگوں نے ان کے نام اور پتے وغیرہ لکھ کر غار سے باہر کتبہ لگا دیا اور ان کے مختصر حالات بھی درج کردیئے گئے۔
غار والوں کا قصہ چونکہ بعث بعد الموت پر ایک واضح دلیل اور خرق عادت امر تھا لہذا اس قصہ کا آغاز ہی اس جملہ سے کیا گیا کہ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قصہ اللہ تعالیٰ کی حیران کن نشانیوں میں سے ایک بڑی اہم نشانی تھی ؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دوسری نشانیاں اس واقعہ سے بہت زیادہ حیران کن ہیں جو کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی ہیں اور خود ان کی اپنی جانوں کے اندر بھی موجود ہیں۔ بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ جو کچھ پہلے تخلیق کرچکا ہے اس کے مقابلے میں بعث بعدالموت اس کے لیے بہت آسان اور حقیر چیز ہے۔
Ayah 18:109 اصحاب کہف کا غار میں پناہ لینا۔ عام روایات، کتب سیر اور قرآن کریم کے اشارہ کے مطابق یہ نوجوان سات تھے توحید پرست تھے اور عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے جبکہ ان کے معاشرہ میں ہر سو شرک اور بت پرستی کا دور دورہ تھا اس وقت کا رومی بادشاہ دقیانوس (Decius) (عہد حکومت 249 ء تا 251 ئ) خود بت پرست اور مشرک تھا عیسائیوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے معاملہ میں اس کا عہد بہت بدنام ہے۔ ان ایام میں عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث تاہنوز وضع نہیں ہوا تھا یہ عقیدہ مدتوں بعد چوتھی صدی عیسوی میں رائج ہوا لہذا ان ایام میں عیسائی توحیدپرست ہی ہوتے تھے ان نوجوانوں نے جب دیکھا کہ توحید پرستوں پر کس طرح سختیاں کرکے انھیں شرک و بت پرستی پر مجبور کیا جارہا ہے تو انہوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے مناسب یہی سمجھا کہ لوگوں کی نظروں سے روپوش ہوجائیں چناچہ انہوں نے ایک پہاڑ کی ایک کھلی غار میں روپوش ہوجانے پر اتفاق کرلیا اور اپنے گھر بار چھوڑ کر منتخب کردہ غار میں جا پناہ لی اور یہ طے کیا کہ ہم میں سے باری باری ایک شخص اپنا بھیس بدل کر شہر جایا کرے وہاں سے کچھ کھانے کو بھی لے آئے اور اپنے متعلق لوگوں کی چہ میگوئیاں بھی سن آئے اور موجودہ صورت حال سے باقی ساتھیوں کو بھی مطلع کرتا رہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اللہ سے دعا بھی کرتے جاتے تھے کہ ہمیں اس معاملہ میں ثابت قدم رکھ اور ہم پر اپنی رحمت فرما اور ہماری صحیح رہنمائی کے سامان بھی مہیا فرما۔
Ayah 18:1110 دعا کی قبولیت اور طویل مدت کے لئے نیند یہ لوگ غار میں داخل تو اس نیت سے ہوئے تھے کہ گاہے گاہے ان میں سے ایک شخص بھیس بدل کر اشیائے خوردنی لایا کرے گا اور یہ معلوم کرے گا کہ اب ان کے متعلق لوگوں میں کیا چرچا ہو رہا ہے اور حالات کس رخ پر جارہے ہیں مگر ہوا یہ کہ جب یہ لوگ اللہ سے دعا کرتے ہوئے غار میں داخل ہوئے تو آرام کرنے کی خاطر وہاں لیٹ گئے تو اللہ نے ان پر ایک طویل مدت کے لیے نیند طاری کردی اور ان کے کانوں پر یوں تھپکی دی جیسے ماں بچے کو تھپک تھپک کر سلاتی ہے چناچہ وہ سالہا سال تک اسی طرح پڑے سوئے رہے اور یہ ان کی دعا کی قبولیت کا نتیجہ تھا کہ اللہ نے انھیں طویل مدت تک سلا کر حکومت کے ظلم و تشدد سے انھیں نجات دلائی۔
Ayah 18:1211 اسی حالت میں سوئے ہوئے انھیں صدیاں گزر گئیں پھر جب اللہ نے چاہا انھیں بیدار کردیا۔ بیدار کرنے کے بعد ان کا آپس میں پہلا سوال یہ تھا کہ ہم کو اس حالت میں سوئے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہوگا ؟ اس مدت کے تعین میں ان میں اختلاف واقع ہوگیا اس لیے کہ ان کے پاس یہ مدت معلوم کرنے یا اس کی تعین کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا سوا اس کے کہ وہ دھوپ سے وقت کے متعلق کچھ اندازہ کرسکیں۔
Ayahs 18:13–1512 مزید رہنمائی سے مراد اپنے ایمان پر ڈٹ جانا ہے جیسا کہ اگلی آیت میں ان کے اعلان سے معلوم ہو رہا ہے انھیں زبان سے کفر و شرک کا کلمہ کہنا اس قدر دشوار تھا کہ انہوں نے ایسی بات کہنے پر اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑنے کو ترجیح دی اور سوسائٹی کی نظروں سے روپوش ہوگئے۔
Ayah 18:1613 ڈائنا دیوی کے مندر کی شہرت اور شرکیہ رسوم ورواج :۔ جس زمانے میں ان توحید پرست نوجوانوں نے غار میں پناہ لی تھی اس وقت شہر افسُسْ جس کے یہ لوگ باشندے تھے، ایشیائے کوچک میں بت پرستی اور جادوگری کا سب سے بڑا مرکز تھا وہاں ڈائنا دیوی کا ایک عظیم الشان مندر تھا جس کی شہرت تمام دنیا میں پھیلی ہوئی تھی اور دور دور سے لوگ اس کی پوجا پاٹ کے لیے آتے تھے۔ وہاں کے جادوگر، عامل، فال گیر اور تعویذ لکھنے والے دنیا بھر میں مشہور تھے۔ شام و فلسطین اور مصر تک ان کا کاروبار چلتا تھا اور اس کاروبار میں یہودیوں کا بھی خاصا حصہ تھا جو اپنے فن کو سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے تھے شرک اور اوہام پرستی کے اس ماحول میں توحید پرستوں کا جو حال ہو رہا تھا اس کا اندازہ اس فقرے سے کیا جاسکتا ہے جو اگلے رکوع میں آرہا ہے کہ اگر انھیں ہم پر اختیار مل گیا تو وہ لوگ یا تو ہمیں سنگسار کر ڈالیں گے یا پھر ہمیں اسی بت پرستی اور شرک والے مذہب میں واپس چلے جانے پر مجبور کردیں گے۔
14 چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انھیں اپنے دامن رحمت میں لے کر صدیوں تک ان پر نیند طاری کردی اور جب جاگے تو یہ توحید اور توحید پرستوں کا دشمن بادشاہ دقیانوس مرکھپ چکا تھا اور جو موجودہ بادشاہ تھا اس نے عیسائیت کا مذہب قبول کرلیا تھا اس بادشاہ کا نام قیصر تھیوڈوسیس (Theodosius) ثانی بتایا جاتا ہے۔ اس کے دور میں پوری رومی سلطنت نے عیسائیت کا مذہب قبول کرلیا تھا لہذا اب توحید پرستوں پر کوئی ایسی سختی نہ رہی تھی جو دقیانوس کے زمانہ میں تھی۔
Ayah 18:1715 غار کا محل وقوع اور ہوا کی آمد ورفت :۔ اس غار کا منہ شمال کی جانب تھا اور دوسری طرف کچھ چھوٹے موٹے سوراخ تھے لیکن وہ اتنے تنگ تھے کہ ان میں سے آدمی گزر نہیں سکتا تھا اس طرح غار میں ہوا کی آمدورفت بھی رہتی تھی اور گاہے گاہے سورج کی روشنی اور دھوپ بھی اندر پہنچ جاتی تھی لیکن چونکہ اس کا دہانہ شمال کی جانب تھا لہذا دھوپ کی شدت اور تمازت سے یہ لوگ بالکل محفوظ تھے۔ سانس لینے کے لیے جس قدر تازہ ہوا یا آکسیجن کی ضرورت تھی وہ بھی انھیں مہیا ہو رہی تھی اور صحت کے لیے جتنی دھوپ ضروری تھی وہ بھی چھوٹے موٹے سوراخ سے اندر پہنچ جاتی تھی۔
16 یعنی اللہ تعالیٰ کا ان توحید پرستوں کو ایسی غار کی جانب رہنمائی کردینا پھر انھیں صدیوں تک سلائے رکھنا یہ باتیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے تعلق رکھتی ہیں اس طرح اللہ تعالیٰ نے انھیں راہ ہدایت پر ثابت قدم رکھا بلا شبہ جو شخص راہ ہدایت پر ڈٹ جانے کا عزم کرلیتا ہے تو اللہ اس کے لیے کوئی راہ پیدا فرما دیتا ہے جس سے اس کی مشکل آسان ہوجاتی ہے۔
Ayah 18:1817 سونے والوں اور پہرہ دار کتے کی آنکھیں بھی کھلی رہتی تھیں :۔ اگرچہ ان لوگوں پر گہری نیند کا غلبہ تھا تاہم ان کی آنکھیں کھلی رہتی تھیں جس سے دیکھنے والے کو یہ شبہ پڑتا تھا کہ وہ جاگ رہے ہیں سوئے ہوئے نہیں ہیں پھر غار کے دہانے پر ان کا محافظ کتا بھی ایسے بیٹھا تھا جیسے جاگنے کی حالت میں کتے بیٹھتے ہیں۔ اس کی آنکھیں بھی کھلی تھیں اور ادھر سے کسی کا گزر ہوتا تو اسے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ غار کے اندر کوئی ڈاکو چھپے بیٹھے ہیں اور یہ کتا ان کی رکھوالی کر رہا ہے اگر کوئی ان کے نزدیک گیا تو یہ کتا پھاڑنے اور کاٹنے کو آئے گا اور اس کی آواز سے اس کا مالک خبردار ہو کر ممکن ہے حملہ کر دے گویا یہ ایسا وحشت ناک منظر اور تصور تھا کہ وہاں کوئی نزدیک جانے کی جرأت بھی نہ کرتا تھا اور نیند کے اس طویل عرصہ کے دوران ان کی کیفیت بالکل ویسی ہی تھی جیسے ایک عام حالت میں سونے والے کی ہوتی ہے اور وہ حسب ضرورت اور بہ تقاضائے جسم نیند کی حالت میں دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں اپنی کروٹ بدلتا رہتا ہے۔
Ayahs 18:19–2018 طویل نیند کے بعد بیداری کھانے کی فکر اور ایک آدمی کو شہر بھیجنا :۔ جس طرح ہم نے مشکل وقت میں ان پر ایک طویل عرصہ کے لیے نیند طاری کی تھی۔ اسی طرح جب حالات ان کے حق میں ساز گار ہوئے تو انھیں جگا بھی دیا جاگنے پر سب سے پہلا سوال جو ان کے ذہن میں آیا یہ تھا کہ ہم کتنا عرصہ سوئے رہے انہوں نے اس عرصہ کو عام حالات پر قیاس کیا کہ انسان خواہ کتنا ہی تھکا ماندہ ہو ایک دن سے زیادہ سو نہیں سکتا اور عام حالات میں یہی کوئی آٹھ نو گھنٹے سو لیتا ہے۔ لہذا کسی نے کہا کہ ہم دن بھر سوئے رہے ہیں اور کسی نے کہا اتنا کب سوئے ہیں بس کوئی چند گھنٹے ہی سوئے ہوں گے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آخر اس بحث کا کوئی فائدہ بھی ہے ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے کہ ہم اس مدت کی صحیح تعیین کرسکیں یہ بات اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور اب جو کرنے کا کام ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں بھوک ستا رہی ہے لہذا کھانا لانے کے لیے کسی کو شہربھیجو جو کسی صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھنے والے دکاندار سے کھانا لائے اور جو شخص بھی شہر جائے وہ بھیس بدل کر جائے اور اس سکہ کے بدلے جو کچھ بھی مل سکے وہ لے آئے۔ دکاندار سے کچھ جھگڑا نہ کرے نہ کسی دوسرے آدمی سے کوئی بات یا جھگڑا کرے اور اگر اس نے ایسا نرم رویہ اختیار نہ کیا تو ممکن ہے کہ لوگوں کو ہمارا پتہ چل جائے تو وہ ہمارے لیے کوئی نئی مصیبت کھڑی کردیں گے اور پہلے کی طرح ہمیں بت پرستی پر مجبور کردیں گے یا ہماری جان کے لاگو بن جائیں گے۔
Ayah 18:2119 سلطنت کی تبدیلی اور حالات کی سازگاری :۔ جب کھانا لانے والا شہر پہنچا تو وہاں دنیا ہی بدل چکی تھی۔ لوگوں کے تہذیب و تمدن لباس اور وضع قطع میں نمایاں فرق واقع ہوچکا تھا۔ زبان میں خاصا فرق پڑگیا تھا اور جب لوگوں نے اس نوجوان کو دیکھا تو سب اس کی طرف متوجہ ہوگئے لیکن وہ ان سے گریز کرتا رہا پھر جب اس نے کھانا خریدنے کے وقت کئی صدیاں پہلے کا سکہ پیش کیا تو دکاندار اور آس پاس والے سب آدمی اس نوجوان کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگے انھیں یہ شبہ ہوا کہ شاید اس شخص کو پرانے زمانے کا کوئی دفینہ مل گیا ہے چناچہ اسی شک و شبہ کی بنا پر لوگوں نے اسے پکڑ کر حکام بالا کے سامنے پیش کردیا اور جب اس نوجوان نے بھی اپنا بیان دیا تو یہ معاملہ کھلا کہ یہ تو وہی پیروان مسیح ہیں جو کئی صدیاں پیشتر یکدم روپوش ہوگئے تھے اور جن کا ریکارڈ اب تک سرکاری دفتروں میں منتقل ہوتا چلا آرہا تھا۔ یہ خبر آناً فاناً ساری عیسائی آبادی میں پھیل گئی جس بات سے وہ لوگ بچنا چاہتے تھے اللہ نے سب لوگوں کو ان کے حال سے باخبر کردیا۔ فرق یہ تھا کہ جب وہ مفرور اور روپوش ہوئے تھے اس وقت وہ معاشرہ اور حکومت کے مجرم تھے لیکن اس وقت وہ سب کی نظروں میں اپنے ایمان پر ثابت قدم رہنے والے اور محترم تھے۔
20 بعث بعد الموت کے جھگڑے کی نوعیت روحانی ہوگا یا جسمانی ؟ ان دنوں اگرچہ سرکاری مذہب عیسائیت تھا اور عیسائی قیامت اور روز آخرت کے قائل ہوتے ہیں۔ تاہم روز قیامت کے متعلق عجیب عجیب قسم کی اور فلسفیانہ قسم کی بحثیں چھڑی ہوئی تھیں کچھ بےدین قسم کے لوگ تو سرے سے بعث بعد الموت کے منکر تھے جیسا کہ ہر مذہب میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں خواہ یہ انکار عملاً ہو یا قولاً بھی ہو۔ باقی بعث بعد الموت پر ایمان رکھنے والوں میں یہ اختلاف تھا کہ آیا یہ روحانی قسم کا ہوگا یا جسمانی قسم کا ؟ اور اس پر مناظرے بھی ہوتے تھے لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہونے پا رہا تھا۔ بادشاہ خود چاہتا تھا کہ اس اختلاف کا کوئی حتمی فیصلہ ہوجائے۔ انھیں ایام میں ان نوجوانوں کی دریافت والا مسئلہ سب کے سامنے آگیا جس نے جسمانی طور پر بعث بعد الموت کے عقدے کا ناقابل انکار ثبوت فراہم کردیا۔
21 مسجد کی تعمیر بطور یادگار :۔ اب یہ اصحاب کہف سب لوگوں کی نظروں میں محترم تھے اور اولیاء اللہ سمجھے جانے لگے تھے لوگوں نے ان سے غار میں جاکر ملاقات کی یا نہیں کی یا ان لوگوں نے غار سے نکل کر لوگوں کو علیک سلیک کی یا نہیں کی، یہ تفصیل کہیں بھی مذکور نہیں البتہ راجح قول یہی معلوم ہوتا ہے کہ کھانا لانے والا بھی واپس غار میں چلا گیا وہ پھر پہلے کی طرح لیٹ گئے اور وہیں ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی لوگوں نے یہ خیال کیا کہ یہ سب مقدس ہستیاں تھیں لہذا اس غار پر کوئی یادگار عمارت تعمیر کردینا چاہیئے۔ اس بات پر پھر اختلاف ہوا کہ یہ یادگار تعمیر کس قسم کی ہو اور جو لوگ بااثر اور صاحب رسوخ تھے ان کی رائے ہی غالب آئی اور وہ رائے یہ تھی کہ اس غار کے پاس ایک مسجد یا عبادت خانہ یادگار کے طور پر بنادیا جائے جسے ان بااثر لوگوں نے خود بنانے کا ذمہ لیا۔
اس طرح اصحاب کہف کو اولیاء اللہ کی اور ان کی غار کو آستانے یا ان کے مقبرے کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ آستانوں یا خانقاہوں اور مزاروں وغیرہ کے قریب یا ان پر مسجد بنانا یا کسی مسجد میں کسی کو ولی اللہ سمجھ کر اس کی قبر بنادینا ایسے کام ہیں جن سے رسول اللہ نے بڑی سختی سے منع فرمایا ہے وجہ یہ ہے کہ ایسے کاموں سے شرک کی بہت سی راہیں کھلتی ہیں جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔
1۔ قبروں پر مسجدیں تعمیر کرنا پرانی شرکیہ رسم ہے :۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ بعض ازواج مطہرات نے رسول اللہ سے ذکر کیا کہ انہوں نے حبشہ میں ماریہ نامی ایک کنے سہ (یہودیوں کی عبادت گاہ) دیکھا ہے جس میں مجسمے تھے تو آپ نے فرمایا : جب ان لوگوں میں سے کوئی صالح مرد مرجاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے ایسے لوگ اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں (مسلم، کتاب الصلوٰۃ) اور اسی حدیث کو امام بخاری نے یوں ذکر کیا ہے :
سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ام حبیبہ ؓ اور ام سلمہ ؓ نے آپ سے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے ملک حبش میں دیکھا تھا اور اس میں مورتیاں تھیں۔ آپ نے فرمایا ان لوگوں کا قاعدہ یہ تھا کہ جب ان میں سے کوئی صالح آدمی مرجاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنالیتے اور اس میں مورتیاں رکھ لیتے۔ قیامت کے دن اللہ کے ہاں یہ لوگ سب مخلوق سے بدتر ہوں گے۔ (بخاری، کتاب الصلوۃ، باب ھلے نبش قبور مشرکی اھل الجاھلیہ۔ نیز باب الصلوۃ فی البیعۃ)
2۔ قبور سے تعلق رکھنے والی احادیث :۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے اپنی اس مرض میں جس سے تندرست ہو کر نہیں اٹھے فرمایا : یہود پر اللہ لعنت کرے انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں یا سجدہ گاہیں بنا لیا
سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ آپ کی قبر کو سجدہ گاہ بنالیں گے تو آپ کی قبر مرجع خاص و عام بنادی جاتی (بخاری، کتاب المغازی۔ باب مرض النبی )
اس کی وضاحت یہ ہے کہ رسول اللہ کی قبر مبارک سیدہ عائشہ ؓ کے گھر میں تھی۔ اس کی صورت یہ تھی کہ پیچھے قبر، اس سے آگے سیدہ عائشہ ؓ کی رہائش اور اس سے آگے بیرونی دروازہ تھا اور قبر تک سوائے سیدہ عائشہ ؓ یا رشتہ داروں کے علاوہ دوسرے لوگ جا ہی نہ سکتے تھے کیونکہ قبر کے پیچھے پھر دیوار تھی۔ اسی بنا پر سیدہ عائشہ ؓ فرما رہی ہیں کہ اگر آپ کی قبر کے متعلق یہ خطرہ نہ ہوتا کہ کچھ عرصہ گزرنے پر لوگ آپ کی قبر کو سجدہ کرنے لگیں گے تو بغرض زیارت پچھلی دیوار کھول دی جاتی۔
3۔ درج ذیل حدیث میں قبر پرست یہود کے علاوہ عیسائیوں کا بھی ذکر ہے : سیدہ عائشہ ؓ اور سیدنا ابن عباس ؓ دونوں سے روایت ہے کہ جب آپ پر بیماری آن پڑی اور وفات کی علامات ظاہر ہوئیں تو آپ اپنی چادر سے اپنا منہ ڈھانپ لیتے اور جب بیزاری بڑھتی تو اسے چہرے سے ہٹا دیتے اور یوں فرماتے : اللہ تعالیٰ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد یا سجدہ گاہیں بنا لیا۔ اس قول سے آپ ہمیں اس برے کام سے ڈراتے تھے جو یہود و نصاریٰ نے کیا تھا۔ (بخاری۔ حوالہ ایضاً )
4۔ اور صحیح مسلم، کتاب الصلوٰۃ میں سیدنا جندب کی جو روایت ہے اس میں نبیوں کے ساتھ ولیوں کی قبروں کا بھی ذکر ہے، الفاظ یہ ہیں :
سن لو ! تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور بزرگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا، خبردار ! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا۔ میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں
5۔ سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : تمام روئے زمین نماز کے قابل ہے سوائے قبرستان اور حمام کے (ترمذی، ابو داؤد، دارمی، بحوالہ مشکوۃ، کتاب الصلٰوۃ باب المساجد و مواضع الصلوٰۃ فصل ثانی)
6۔ رسول اللہ نے اپنے متعلق ارشاد فرمایا کہ میری قبر کو عید (عرس یا میلہ) نہ بنانا اور جہاں کہیں تم ہو وہیں سے درود پڑھ لیا کرو۔ تمہارا درود مجھے پہنچا دیا جاتا ہے (نسائی بحوالہ مشکوٰۃ۔ باب الصلوٰۃ علی النبی و فضلہا۔ فصل ثانی)
7۔ نیز آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی فرمائی کہ : یا اللہ ! میری قبر کو وثن (آستانہ) نہ بنادینا کہ لوگ آکر پوجا کرنے لگیں (مالک، بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب الصلوٰۃ، باب المساجد و مواضع الصلوٰۃ، تیسری فصل)
ان سب احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ نے قبر، مقبرہ، مزار، روضہ، آستانہ پر لوگوں کے اس کو مقدس سمجھ کر جمع ہونے، ان پر عرس یا میلہ لگانے حتیٰ کہ وہاں نماز ادا کرنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ کسی قبر یا مزار یا آستانہ پر مسجد بنانا حرام ہے کیونکہ یہ کام محض صاحب قبر کی تعظیم کی وجہ سے کیا جاتا ہے اور قبرستان میں نماز نہیں ہوتی جبکہ ہمارے ہاں دستور یہ ہے کہ ہر مزار پر مسجد ہوتی ہے یا مسجد میں ہی کسی بزرگ کو دفن کردیا جاتا ہے۔ ایسی سب صورتیں ممنوع ہیں، مزاروں پر جو لوگ اکٹھے ہوتے ہیں وہ ان بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر ہی وہاں جاتے ہیں۔ نیز ایسے آداب یا عبادات بجالاتے ہیں جو صرف اللہ کے لیے سزاوار ہیں یا بیت اللہ کے لیے مثلاً وہاں نذریں، نیازیں یعنی مالی قربانی بھی دیتے ہیں۔ قبروں کی صفائی، انھیں مزیں کرنا، ان پر چراغاں کرنا سب شرعاً حرام ہیں جو وہاں بجا لاتے ہیں اور بعض بدبخت تو قبروں کا بیت اللہ کی طرح طواف کرتے، غلاف چڑھاتے حتیٰ کہ سجدہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور غالباً یہی وجوہ ہیں جن کی بنا پر قبرستان میں نماز کو ممنوع اور مزارات اور آستانوں کی تعمیر کو حرام قرار دیا گیا ہے اور آج کل تو بعض مزارات پر عرس کے بجائے حج کے پورے مناسک بھی ادا کیے جاتے ہیں اور اسے حج ہی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔
Ayahs 18:22–2322 اصحاب کہف کی تعداد اور بیکار بحثوں سے اجتناب کا حکم :۔ اصحاب کہف سے متعلق ایک بحث یہ بھی چھڑی ہوئی تھی کہ ان کی تعداد کتنی تھی۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں ان قلیل لوگوں میں سے ہوں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ اصحاب کہف کی صحیح تعداد جانتے ہیں اور وہ سات تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تین یا پانچ کہنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد رجماً بالغیب کا لفظ فرمایا ہے مگر سات کہنے والوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا، بعض علماء نے اور بھی کئی وجوہ سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ فی الواقع سات ہی تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس بحث میں دلچسپی لینے سے منع فرما دیا اور یہ بھی فرما دیا کہ یہ بات کسی اور سے بھی پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ بحث اس لحاظ سے بالکل بیکار ہے کہ اس پر کسی عمل کی بنیاد نہیں اٹھتی۔
اسی طرح کی بیکار بحثوں کی ایک مثال یہ ہے کہ جس درخت سے اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم کو منع کیا تھا وہ کون سا درخت تھا ؟ یا یہ کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا نام کیا تھا ؟ یا یہ کہ نماز وسطی کون سی ہے ؟ اور اس بات پر بعض مفسرین نے صفحوں کے صفحے سیاہ کردیئے ہیں جن کا ماحصل یہ نکلتا ہے کہ پانچوں نمازیں ہی مختلف ترتیب سے نماز وسطی بن سکتی ہیں حالانکہ احادیث میں یہ صراحت موجود ہے کہ نماز وسطی سے مراد نماز عصر ہے یا یہ بحث کہ آیا کوا حلال ہے یا حرام ؟ حالانکہ اگر یہ حلال ثابت ہو بھی جائے تو کوئی اسے کھانا گوارا نہیں کرے گا۔ اسی طرح کی ایک بحث گوہ کے حلال یا حرام ہونے کی ہے جس پر بحث و تکرار اور مناظرے بھی ہوچکے ہیں حالانکہ عملی زندگی سے ان باتوں کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
خمعتزلہ اور مسئلہ خلق قرآن :۔ اور جب ایسی باتیں صفات الٰہی کے بارے میں چھڑ جاتی ہیں تو فرقہ بازی تک نوبت جاپہنچتی ہے اور اپنے ایمان تک کو سلامت رکھنا غیر محفوظ ہوجاتا ہے جیسے کچھ مدت پیشتر یہ بحث چھڑ گئی کہ اللہ تعالیٰ تو ہر بات پر قادر ہے تو کیا وہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے اور اسی مسئلہ پر دو متحارب فریق بن گئے۔ ایسی ہی ایک بحث یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ جو ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو کیا وہ جادو کا علم بھی جانتا ہے ؟ اور اس کی سب سے واضح مثال مسئلہ خلق قرآن ہے جو معتزلہ نے پیدا کیا تھا اور وہ قرآن کو غیر مخلوق سمجھنے والوں کو مشرک قرار دیتے تھے۔ خلفائے بنو عباس بالخصوص مامون الرشید معتزلہ کے عقائد سے شدید متاثر تھا۔ اس نے بہت سے علماء کو محض اس بنا پر قتل کردیا تھا کہ وہ قرآن کو غیر مخلوق سمجھتے تھے اور امام احمدبن حنبل نے اسی مسئلہ کی خاطر مدتوں قید و بند اور مارپیٹ کی سختیاں جھیلی تھیں۔ بالآخر خلیفہ واثق باللہ کے عہد میں ایک سفید ریش بزرگ خلیفہ کے پاس آیا اور درباری معتزلی عالم ابن ابی دؤاد سے مناظرہ کی اجازت طلب کی۔ خلیفہ نے اجازت دے دی تو اس بزرگ نے ابن ابی دؤاد سے کہا : میں ایک سادہ سی بات کہتا ہوں جس بات کی طرف نہ اللہ کے رسول نے دعوت دی اور نہ خلفائے راشدین نے، تم اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہو اور اسے منوانے کے لیے زبردستی سے کام لیتے ہو تو اب دو ہی باتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ان جلیل القدر ہستیوں کو اس مسئلہ کا علم تھا لیکن انہوں نے سکوت اختیار فرمایا تو تمہیں بھی سکوت اختیار کرنا چاہیے۔ اور اگر تم کہتے ہو کہ ان کو علم نہ تھا تو اے گستاخ ابن گستاخ ! ذرا سوچ جس بات کا علم نہ اللہ کے رسول کو تھا اور نہ خلفائے راشدین کو ہوا تو تمہیں کیسے اس کا علم ہوگیا ؟ ابن ابی دؤاد سے اس کا کچھ جواب نہ بن پڑا۔ واثق باللہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور دوسرے کمرہ میں چلا گیا وہ زبان سے باربار یہ فقرہ دہراتا تھا کہ جس بات کا علم نہ اللہ کے رسول کو ہوا نہ خلفائے راشدین کو ہوا اس کا علم تجھے کیسے ہوگیا ؟ مجلس برخاست کردی گئی خلیفہ نے اس بزرگ کو عزت و احترام سے رخصت کیا اور اس کے بعد امام احمد بن حنبل پر سختیاں بند کردیں اور حالات کا پانسا پلٹ گیا اور آہستہ آہستہ مسئلہ خلق قرآن کا فتنہ جس نے بیشمار مسلمانوں کی ناحق جان لی تھی، ختم ہوگیا۔
غور فرمائیے کہ اس مسئلہ کا انسان کی عملی زندگی سے کچھ تعلق ہے ؟ بفرض محال اس کے مخلوق ثابت ہوجانے کے بعد اس کے احکام میں کوئی فرق پڑ سکتا ہے ؟ بس ایسی بیکار بحثوں میں پڑنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ایسی بحثوں میں پڑنے کا ہدایت سے کچھ تعلق نہیں ہوتا بلکہ شیطانی راہیں بیشمار کھل جاتی ہیں۔
Ayah 18:2423 وعدہ کے وقت انشاء اللہ کہنے کی ہدایت :۔ ہوا یہ تھا کہ جب کفار مکہ نے آپ سے اصحاب کہف وغیرہ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے انھیں جواب دیا کہ میں کل ان کا جواب دوں گا۔ آپ کا خیال یہ تھا کہ دریں اثناء شاید جبرئیل آئے تو ان سے پوچھ کر بتادوں گا یا اللہ تعالیٰ از خود کل تک بذریعہ وحی مطلع کر دے مگر کل تک ان دونوں میں کوئی بات بھی نہ ہوئی پھر چند دن بعد جبرئیل وحی لے کر اس سورة کی آیات لے کر آئے اور ساتھ ہی آپ کے لیے یہ ہدایت بھی نازل ہوئی کہ کسی سے ایسا حتمی وعدہ نہ کیا کریں کہ میں کل تک یہ کام کردوں گا اور اگر وعدہ کرنا ہی ہو تو ساتھ الا ماشاء اللہ ضرور کہا کریں (یعنی اگر اللہ کو منظور ہوا تو فلاں وقت تک فلاں کام کروں گا) اور اگر کبھی آپ یہ بات کہنا بھول جائیں تو جس وقت یاد آئے اسی وقت کہہ لیا کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ہر کام اللہ کی مشیئت کے تحت ہی ہوتا ہے لہذا اس بات کو ہر وقت ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ یہ ہدایت اس لیے دی گئی تھی کہ کسی کو یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ وہ کل تک یا فلاں وقت تک فلاں کام کرسکے گا یا نہیں یا کسی کو غیب کا علم حاصل ہے اور نہ کوئی اپنے افعال میں خود مختار ہے کہ جو چاہے کرسکے لہذا کوئی شخص خواہ پورے صدق دل اور سچی نیت سے بھی کوئی وعدہ یا مستقبل کے متعلق بات کرے تو اسے انشاء اللہ ضرور کہہ لینا چاہیئے۔
ان شاء اللہ کو بطور ڈھال استعمال کرنا :۔ مگر افسوس ہے کہ بعض بدنیت قسم کے لوگوں نے اس کلمہ استثناء کو اپنی بدنیتی پر پردہ ڈالنے کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے مثلاً ایک شخص اپنے سابقہ قرضہ کی ادائیگی یا نئے قرض کے لیے قرض خواہ سے ایک ماہ کا وعدہ کرتا ہے اور ساتھ انشاء اللہ بھی کہہ دیتا ہے مگر اس کے دل میں یہ بات ہوتی ہے کہ اپنا کام تو چلائیں پھر جو ہوگا دیکھا جائے گا اور جب مدت مقررہ کے بعد قرض خواہ اپنے قرض کا مطالبہ کرتا ہے تو کہہ دیتا کہ اللہ کو منظور ہی نہ ہوا کہ میرے پاس اتنی رقم آئے کہ میں آپ کو ادا کرسکوں وغیرہ وغیرہ عذرپیش کردیتا ہے اور بدنیت لوگوں نے اس کلمہ استثناء کو اس قدر بدنام کردیا ہے کہ جب کوئی اپنے وعدہ کے ساتھ انشاء اللہ کہتا ہے تو سننے والا فوراً سمجھ جاتا ہے کہ اس کی نیت بخیر نہیں ہے یہ اللہ کی آیات سے بدترین قسم کا مذاق ہے جس کا ایک ایمان دار آدمی تصور بھی نہیں کرسکتا۔
24 اس جملہ کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں مثلاً ایک یہ کہ آئندہ کوئی موقع ہی ایسا نہ آئے کہ میں انشاء اللہ یا ماشاء اللہ کہنا بھول جاؤں دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ اصحاب کہف سے بھی زیادہ حیران کن طریقہ سے میری مدد فرمائے جیسا کہ غار ثور کے قصہ میں ہوا۔ تیسرا یہ کہ جس کام کے کرنے کو آپ کہہ رہے ہیں آپ کو یہ علم نہیں کہ یہی کام بہتر ہے یا کوئی دوسرا کام اس سے بہتر ہے لہذا اللہ پر توکل کرتے ہوئے یوں کہا کرو کہ میرا رب اس معاملہ میں صحیح بات یا صحیح طرز عمل کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا۔
Ayah 18:2525 اصحاب کہف کے غار میں سونے کی مدت :۔ یہ مدت شمسی تقویم کا حساب رکھنے والوں کے مطابق تین سو سال تھی اور قمری تقویم کا حساب رکھنے والوں کے مطابق تین سو نو سال تھی۔
اس آیت میں مذکور مدت اس لحاظ سے تو ٹھیک ہے کہ اگر مہینوں اور دنوں کی کسور کو چھوڑ دیا جائے تو تین سو شمسی سالوں کے قمری سال تین سو نو ہی بنتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ آیا یہ مدت کی تعیین اللہ کا کلام ہے یا لوگوں کے اقوال ہیں جو یہاں اللہ تعالیٰ نے حکایتاً نقل فرمائے ہیں تو اس کا واضح جواب یہ ہے کہ یہ لوگوں کے اقوال ہیں اگر یہ اللہ کا قول ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس سے اگلی آیت میں یوں نہ فرماتے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنی مدت وہ (غار میں) ٹھہرے رہے
Ayah 18:2626 یعنی اللہ کو اصحاب کہف کی مدت قیام کا سب سے زیادہ صحیح علم اس لیے ہے کہ اس نے خود ہی تو انھیں سلایا تھا پھر خود ہی جگایا تھا ایسا تصرف و اختیار اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں کہ وہ کسی بات یا واقعہ کے متعلق صحیح صحیح خبریں بتاسکے۔
Ayah 18:2727 کافروں کا سمجھوتہ کی بات کرنا :۔ اصحاب کہف کا قصہ ختم ہونے کے بعد اب خطاب اگرچہ رسول اللہ کو ہے تاہم یہ ارشاد ان سرداران قریش کو سنایا جارہا ہے جو آپ سے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر سمجھوتہ کرنا چاہتے تھے وہ یہ کہتے تھے کہ ہم آپ کی بہت سی باتیں مان لیتے ہیں تم ہماری یہ بات مان لو کہ جن آیات میں ہمارے معبودوں کا ذکر ہے وہ نہ پڑھا کرو اس طرح ہم سب برادری میں پھوٹ پڑنے سے بچ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس مطالبہ پر جواب دیا کہ اس کے احکام اور ارشادات میں کسی قسم کے ردو بدل یا ترمیم و تنسیخ کا کسی کو کچھ بھی اختیار نہیں اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہ سکے گا۔ اگرچہ یہ موقع خاص تھا تاہم الفاظ میں عمومیت ہے یعنی جس دور میں بھی اور جو شخص بھی ایسی حرکت کرے گا اس کے لیے یہی حکم ہے حق اور باطل میں سمجھوتہ کی کوئی گنجائش نہیں جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے کہ :
باطل دوئی پرست ہے حق لا شریک ہے۔۔ شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
Ayah 18:2828 غریب اور مخلص مومنوں سے آپ کو وابستہ رہنے کی ہدایت :۔ یہ صبح و شام اللہ کے ذکر میں مشغول رہنے والے اور اللہ کی رضا چاہنے والے لوگ بموجب روایات سیدنا بلال بن رباح ؓ ، سیدنا صہیب رومی ؓ ، سیدنا خباب بن الارت ؓ ، سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ اور سیدنا عمار بن یاسر ؓ تھے جو سب کے سب غریب طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان میں سے اکثر سرداران قریش کے غلام یا آزاد کردہ غلام تھے جو اکثر اوقات آپ کی صحبت میں رہا کرتے تھے اب اونچی ناک والے قریشی سرداروں مثلاً عیینہ بن بدر اوراقرع بن حابس وغیرہ آپ سے یہ کہا کرتے تھے کہ ہر وقت یہ رذیل قسم کے لوگ آپ کے پاس بیٹھے ہوتے ہیں تو ان کی موجودگی میں ہم کیسے ان کے ساتھ آپ کے پاس بیٹھیں۔ ممکن ہے آپ کے دل میں کچھ ایسا خیال آبھی گیا ہو کہ یہ لوگ تو بہرحال خالص مومن ہیں۔ سرداروں کے آنے پر کچھ دیر انھیں الگ کردینے سے اگر یہ قریشی سردار میری بات غور سے سن لینے اور ایمان لانے پر تیار ہوجائیں تو کیا حرج ہے ؟ خصوصاً اس صورت میں کہ آپ ان قریشی سرداروں کے ایمان لانے پر حریص بھی تھے کہ اس طرح اسلام کو تقویت حاصل ہوگی لیکن اللہ تعالیٰ نے بروقت ہدایت فرما دی کہ ایسا خیال بھی دل میں نہ لائیے اپنا دل انہی غریب اور مخلص مومنوں کے ساتھ وابستہ رکھیے یہی لوگ قیمتی سرمایہ ہیں۔ قریشی سرداروں کے مطالبہ اور ان کی ٹھاٹھ باٹھ کی طرف مت دیکھئے کیونکہ ان کے اس مطالبہ سے ہی یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ ایمان لانے میں کس حد تک مخلص ہیں۔
29 یعنی جو شخص آخرت میں اللہ کے سامنے جوابدہی پر ایمان ہی نہیں رکھتا وہ تو جدھر اور جس طرح اپنا ذاتی مفاد دیکھے گا فوراً ادھر جھک جائے گا اور جو کچھ اس کا جی چاہے گا وہی کچھ وہ کرے گا اس کا کوئی کام اصول کے تحت یا حد اعتدال تک محدود نہ رہے گا لہذا ایسے لوگوں کی بات ہرگز نہ مانیے۔
Ayahs 18:29–3030 یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حق (قرآن) آیا ہے جو اسے ماننا چاہتا ہے اسے پورے کا پورا ماننا ہوگا، ورنہ نہ مانے۔ البتہ جو نہیں مانتا اسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ابھی سے اس کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے۔
31 سرادق کے معنی کسی خیمہ کی دیواریں ہیں یہاں مراد دوزخ کی چاردیواری ہے اور جہنم کے گرد یہ چار دیواری یا احاطہ اس لیے کیا جائے گا کہ دوزخیوں کے لیے آگ کی حرارت میں مزید اضافہ ہو اور اس آگ کی حرارت باہر نہ جانے پائے نیز باہر والے اس حرارت سے محفوظ رہیں۔
32 مہل کا معنی تانبا یا کوئی بھی دھات جو پگھلی ہوئی حالت میں ہو یا تیل کی تلچھٹ یا لاوا جو زمین کے اندر شدت حرارت سے پگھلی ہوئی دھاتوں کے ملغوبہ کی شکل میں ہو کیونکہ اس میں بنیادی طور پر دو باتیں پائی جاتی ہیں۔ ایک سرخی مائل ہونا دوسرے شدت حرارت اور دوزخیوں کو جو پانی پلایا جائے گا اس میں یہ دونوں خواص موجود ہوں گے۔
Ayah 18:3133 سونے کے کنگنوں کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ قدیم زمانہ میں یہ دستور رہا ہے کہ بادشاہ سونے کے کنگن پہنا کرتے تھے گویا اہل جنت وہاں شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ سے رہیں گے۔ پہننے کے لیے اعلیٰ سے اعلیٰ ریشمی کپڑے ہوں گے اور بیٹھنے کے لیے اونچی اونچی مسندیں۔ واضح رہے کہ اس دنیا میں سونے اور ریشمی کپڑوں کا استعمال مردوں کے لیے جائز نہیں لیکن جنت میں جائز ہوگا بلکہ ایسے ہی جیسے اس دنیا میں شراب سب مردوں عورتوں پر حرام ہے مگر جنت کی شراب خالص اہل جنت کے لیے بیش بہا نعمت ہوگی۔
Ayahs 18:32–3434 ایک مال دار کافر اور غریب مومن کے طرز عمل کا موازنہ :۔ یہ مثال دراصل ان قریشی سرداروں پر منطبق ہوتی ہے جنہوں نے رسول اللہ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ کسی وقت ان مسکینوں کو اپنی مجالس سے اٹھا دیں تو ہم اطمینان سے آپ کی باتیں سنیں۔ اس مثال میں جن دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کافر و مشرک تھا۔ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور مالدار اور صاحب جائداد تھا جیسا کہ قریشی سردار تھے، دوسرا توحید پرست تھا، مومن تھا اللہ پر بھروسہ رکھنے والا تھا لیکن غریب اور مفلس تھا جیسا کہ صحابہ کرام ؓ تھے جن کے متعلق قریشی سرداروں نے آپ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آپ انھیں اپنی مجلس سے ہٹا دیں۔ رہی یہ بات کہ اس مثال میں جو دو کردار بیان کیے گئے ہیں یہ محض سمجھانے کے لیے بطور تمثیل بیان کیے گئے ہیں یا فی الواقع ایسے شخص اس دنیا میں کسی وقت موجود تھے ؟ اور یہ واقعہ اس دنیا میں پیش آیا تھا ؟ اس بات پر مفسرین کا اختلاف ہے اور جن لوگوں نے انھیں واقعہ تسلیم کیا ہے انہوں نے تو ان کے نام بھی لکھ دیئے ہیں کہ وہ دو حقیقی بھائی تھے۔ باپ کی طرف سے ورثہ ملا تھا۔ ایک جو دنیا دار تھا اس نے اس ورثہ سے جائداد خریدی پھر خوب محنت کی تو دو باغوں کا مالک بن گیا۔ دوسرا درویش منش انسان تھا اور اسے مال و دولت سے کچھ دلچسپی نہ تھی اسے جو ورثہ ملا وہ بھی اس نے اللہ کے راستہ میں خرچ کردیا تھا اور بعض کے نزدیک یہ دو آدمی ہمسائے تھے جن کی پوری طرز زندگی ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھی۔ جو بھی صورت ہو اس تمثیل سے جو اصل فائدہ مقصود ہے وہ حاصل ہو ہی جاتا ہے۔
35 جو شخص کافر و مشرک اور دو باغوں کا مالک تھا اس آیت میں اس کے باغوں کی بہار کا منظر پیش کیا گیا ہے یعنی ان دونوں کے درمیانی حصہ میں کھیتی باڑی ہوتی تھی اور غلہ اگتا تھا۔ ارد گرد پھل دار درخت تھے پھر ان باغوں کی چار دیواری کھجوروں کے درختوں کی تھی جن پر انگور کی بیلیں چڑھائی گئی تھیں۔ ان دونوں باغوں کے درمیان ایک نہر جاری تھی جو انھیں سیراب کرتی اور آپس میں ملاتی تھی۔ زمین زرخیز و شاداب تھی لہذا پھل دار درخت بھی بھرپور پھل لاتے اور غلہ بھی وافر مقدار میں پیدا ہوتا تھا۔ گویا اس شخص کو بیٹھنے کے لیے ٹھنڈی چھاؤں، پینے کے لیے ٹھنڈا پانی، کھانے کو باافراط غلہ پھل اور دیکھنے کو خوش نما منظر سب کچھ موجود تھا جس پر وہ پھولا نہ سماتا تھا۔
Ayahs 18:35–3636 ایک موحد اور ایک کافر و مشرک کی مثال :۔ ایک دن وہ اپنے باغ کے پاس کھڑا تھا کہ اس کے مفلس ہمسایہ کا ادھر سے گذر ہوا تو اس سے اپنی شیخی بگھارنے بیٹھ گیا اور اس سے کہنے لگا جیسی زندگی تم گزار رہے ہو میں بہرحال تم سے بہتر ہوں۔ مالدار بھی اور اولاد بھی کافی ہے یہی باتیں کہتے کہتے وہ اپنے ہمسایہ کو لیے ہوئے اپنے باغ میں داخل ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے اس باغ پر اتنی محنت کی ہے اور ایسے انتظامات مکمل کردیئے ہیں کہ کم از کم میری زندگی میں یہ باغ اجڑ نہیں سکتا اور جس قیامت کی تم باتیں کرتے رہتے ہو، اول تو مجھے اس کا یقین ہی نہیں اور اگر قائم ہوئی بھی جیسا کہ تم کہتے ہو تو جس خدا نے مجھ پر اس دنیا میں اتنی مہربانی اور اپنا فضل کیا ہے آخر وہ اس زندگی میں مجھ پر کیوں فضل نہ کرے گا ؟ اور قریشی سرداروں کا بھی یہی نظریہ تھا۔
اس آیت میں دراصل دنیا دار لوگوں کے اس غلط نظریہ کی تردید کی گئی ہے کہ اگر انھیں اس دنیا میں آسودہ حالی مہیا ہے تو یہ اللہ کی ان پر خوشنودی کی دلیل ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے سخت آزمائش میں پڑے ہوتے ہیں کہ آیا وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں یا اس کے نافرمان بن کر رہتے ہیں لیکن وہ یہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ جنت تو ہمیں مل ہی گئی ہے اب اور کون سی جنت ہے جسے حاصل کرنے کی فکر کریں۔
Ayah 18:3737 یہ مشرک مالدار اللہ کی ہستی کا منکر نہ تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ اللہ نے جو کچھ مجھے دے رکھا ہے۔ یہ اسی کی مہربانی ہے البتہ وہ روز آخرت اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا منکر تھا جسے اللہ کے انکار کے مترادف یا کفر قرار دیا گیا ہے کیونکہ آخرت میں سزا اور جزاء کا انکار دراصل اللہ کی صفت عدل کا انکار ہے علاوہ ازیں یہ سمجھ لینا کہ میرا مال و دولت اور شان و شوکت میری اپنی ہی قابلیت کا نتیجہ ہے کسی کا عطیہ نہیں اور کوئی مجھ سے چھیننے والا نہیں یہ بھی حقیقتاً اللہ کی کئی صفات کا انکار ہے اور ایسا شخص اللہ کو اپنا مالک آقا اور فرمانروا ہونے کی حیثیت سے نہیں مانتا۔
Ayah 18:3838 یعنی میں تو اسی پروردگار کو اپنا مالک، آقا اور فرمانروا سمجھتا ہوں وہی میرے اور تمہارے سب کے نفع و نقصان کا مالک ہے اس کی مشیئت کے بغیر نہ میری اپنی تدبیریں کچھ کام آسکتی ہیں نہ ہی کوئی دوسرا میری مدد یا حمایت کرسکتا ہے۔