18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 18:39–41

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو یہ کیوں نہ کہا : ماشاء اللہ 39 لاقوہ الا باللہ (وہی ہوتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ کی توفیق کے بغیر کسی کا کچھ زور نہیں) بھلا دیکھو ! اگر میں مال اور اولاد میں تم سے کمتر ہوں

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو عین ممکن ہے کہ میرا پروردگار مجھے تیرے باغ سے بہتر باغ عطا کردے اور تیرے باغ پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے۔ جس سے وہ چٹیل میدان بن کر رہ جائے۔

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

اس کا پانی گہرا چلا جائے اور تو پانی نکال بھی نہ سکے۔

39 نعمت کے حصول پر بطور شکرانہ ماشاء اللہ کہنا :۔ موحد ساتھی اپنے مشرک ساتھی کو سمجھانے لگا کہ تمہیں چاہیے تو یہ تھا کہ جب تم اپنے باغ میں داخل ہو رہے تھے تو شیخیاں بگھارنے اور اپنے آپ کو مجھ سے بہتر ثابت کرنے کی بجائے اللہ کا شکر ادا کرتے اور کہتے کہ یہ سب کچھ اللہ کی دین ہے مگر تم نے مجھ پر اپنی برتری ثابت کرنا شروع کردی کیا یہ ممکن نہیں کہ اگر میں تمہارے خیال کے مطابق تم سے مال و اولاد میں کم تر ہوں تو اللہ مجھے تیرے باغوں سے بہتر باغ عطا فرما دے اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ تمہارے اس تکبر کی سزا کے طور پر اللہ تیرے اس باغ پر کوئی آسمانی آفت بھیج کر اسے خاکستر کر دے یا اس نہر کا پانی ہی خشک کردے تو تمہارا یہ ہرا بھرا باغ تھوڑے ہی عرصہ میں مرجھا کر ویران ہوجائے۔
Ayahs 18:42–44

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

(آخر یوں ہوا کہ) باغ کے پکے ہوئے پھل کو عذاب نے آگھیرا اور جو کچھ وہ باغ پر خرچ کرچکا تھا اس پر اپنے دونوں ہاتھ ملتا رہ گیا۔ وہ باغ انہی ٹٹیوں پر گرا پڑا تھا 40 ۔ اب وہ کہنے لگا : کاش ! میں نے اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا ۔

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی جماعت ایسی نہ تھی جو اس کی مدد کرتی اور وہ خود بھی اس آفت کا مقابلہ نہ کرسکا۔

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

اب اسے معلوم ہوا کہ مکمل اختیار تو اللہ برحق کو ہے۔ وہی اچھا ثواب دینے والا اور انجام بخیر دکھانے والا ہے۔

40 تکبر کی سزا :۔ چناچہ موحد کے منہ سے نکلے ہوئے کلمات اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آئے کہ اس کے منہ سے نکلی ہوئی بات فوراً مستجاب ہوگئی اور مشرک کو اس کے تکبر اور غرور کی سزا مل کے رہی۔ جن درختوں کے پھلوں اور اپنی پیداوار کو دیکھ کر وہ اتنا خوش ہو رہا تھا اور کفر کے کلمے بک رہا تھا۔ اس سارے کے سارے باغ پر قہر الٰہی نازل ہوا جس نے اسے زمین بوس کردیا اور صرف موجودہ تیار فصل کا ہی نقصان نہ ہوا بلکہ جو کچھ اس باغ پر خرچ کرچکا تھا سب کچھ ضائع اور برباد ہوگیا اس وقت وہ کف افسوس ملتے ہوئے کہنے لگا۔ کاش میں نے اپنے پروردگار کو حقیقی معنوں میں پروردگار اور نفع و نقصان کا مالک سمجھا ہوتا۔ اس کے کھڑے کھڑے اور آنکھوں سے دیکھتے اس کے باغ پر آفت نازل ہوئی تو اس وقت وہ کچھ بھی اس کا بچاؤ نہ کرسکا اور جب سب کچھ تباہ ہوگیا تب جاکر اسے یہ سمجھ آئی کہ حقیقتاً تو ہر چیز پر اختیار صرف اللہ ہی کو ہے۔ یہ تھی وہ مثال جو قریش مکہ کو سمجھانے کے لیے پیش کی گئی اور انھیں اس مثال میں تنبیہ یہ ہے کہ اگر ان کے پاس آج مال و دولت ہے، عزت ہے چودھراہٹ ہے تو وہ دوسروں کو حقیر مت سمجھیں کسی وقت بھی ان کے فخر و استکبار کی وجہ سے ان سے یہ نعمتیں چھن بھی سکتی ہیں جیسا کہ اگلی آیت میں بیان کردہ مثال سے بھی یہی کچھ واضح ہوتا ہے۔
Ayah 18:45

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

نیز ان کے لئے دنیا کی زندگی کی یہ مثال بیان کیجئے : جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا جس سے زمین کی نباتات گھنی ہوگئی۔ پھر وہی نباتات ایسا بھس بن گئی جسے ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر مکمل اختیار 41 رکھتا ہے۔

41 زندگی کے مراحل دنیا کی زندگی کی مثال نباتات سے :۔ دنیا کی زندگی کی مثال نباتات سے اس لیے دی گئی ہے کہ اس کی سب کو فوراً سمجھ آجاتی ہے ورنہ اس دنیا کی ہر جاندار اور بےجان چیز جس میں نباتات بھی شامل ہے انھیں مراحل سے گزرتی ہے۔ زمین پر بارش برسنے سے نباتات اگ آتی ہے پھر وہ بڑی ہوتی اور لہلہاتی ہے جو بن پر آتی ہے تو ہر ایک کو بہت بھلی معلوم ہوتی ہے پھر عروج کے بعد اس میں زوال آنا شروع ہوجاتا ہے اور وہ زرد ہونا شروع ہوجاتی ہے اب اگر اس زرد فصل کو پہلے کی طرح پانی سے سیراب کیا بھی جائے تو دوبارہ اس میں کبھی بہار یا ہریاول نہیں آئے گی اس لیے کہ اس کے انحطاط یا زوال کا دور شروع ہوچکا ہے پھر وہ فصل کاٹ دی جاتی ہے اور اس کا آخری انجام یہ ہوتا ہے کہ ہوا اس کے ریزوں اور ذروں کو اڑائے پھرتی ہے۔ انسان کا اپنا بھی یہی حال ہے پیدا ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ اس پر جوانی آتی ہے، قوت آتی ہے۔ اس وقت وہ سب کو خوبصورت لگتا ہے اور سب چیزیں اسے حسین لگتی ہیں ہیں لیکن ایک مقررہ حد پر جاکر اس کا قد و قامت اور اس کی قوت سب کچھ رک جاتا ہے پھر بڑھاپے کا یعنی زوال و انحطاط کا وقت آتا ہے تو اب عمدہ سے عمدہ غذائیں کھائے لیکن اس میں نہ افزائش ہوگی اور نہ وہ اپنے زوال کو روک سکے گا کیونکہ ہر چیز کے طے شدہ اندازے اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھے ہیں ان سے کوئی چیز تجاوز نہیں کرسکتی۔ غرض یہ کہ اس دنیا کی ہر چیز زوال پذیر ہے جو چیز پیدا ہوئی ہے وہ فنا بھی ضرور ہوگی لہذا دنیا کے مال و دولت یا اس دنیا کی زندگی پر کبھی گھمنڈ نہ کرنا چاہیے۔
Ayah 18:46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

یہ مال اور بیٹے تو محض دنیا کی زندگی کی زینت 42 ہیں ورنہ آپ کے پروردگار کے ہاں باقی رہنے والی نیکیاں ہی ثواب کے لحاظ سے بھی بہتر ہیں اور اچھی امیدیں لگانے کے لحاظ سے بھی

42 باقیات صالحات :۔ یہ مال و دولت اور بیٹے وغیرہ انسان کے لیے دلچسپی کا سامان ضرور ہیں لیکن ان چیزوں پر ایسا فریفتہ نہ ہونا چاہیے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو اور اخروی زندگی کو بھول ہی جائے اور انہی چیزوں پر تکیہ کر بیٹھے بلکہ اسے ایسی چیزوں پر امید وابستہ رکھنی چاہیے جو فنا ہونے والی نہیں بلکہ باقی رہنے والی ہیں اور وہ اس کے نیک اعمال ہیں جن کا بدلہ بھی بہت اچھا ملے گا اور ان پر توقع بھی لگائی جاسکتی ہے اور آپ نے فرمایا کہ یہ کلمات : (سبحان اللّٰہ والحمد للّٰہ ولا الّٰہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ) باقیات صالحات ہیں۔ بعض دفعہ انسان ایسے نیک اعمال کی داغ بیل ڈال جاتا ہے کہ بعد میں مدتوں لوگ اس سے مستفیض ہوتے رہتے ہیں ایسے اعمال کا اجر اسے اس کی موت کے بعد بھی ملتا رہتا ہے جیسے کوئی شخص نیک اولاد چھوڑ جائے جو اس کے حق میں دعا کرتی رہے یا کوئی دینی مدرسہ قائم کر جائے جب تک اس میں تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رہے گا اس کو حصہ رسدی ثواب پہنچتا رہے گا یا کوئی رفاہ عامہ کا کام کر جائے جیسے کنواں یا سرائے، ہسپتال یا باغ یا کوئی اور چیز عام لوگوں کے فائدہ کے لیے وقف کر جائے (مسلم کتاب الوصیۃ باب م اے لحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ) یہی چیزیں اس لائق ہیں جن میں انسان کو اپنی کوششیں صرف کرنا چاہییں۔ دنیا کی فانی چیزوں میں مستغرق نہ ہونا چاہیے۔
Ayah 18:47

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے 43 اور آپ زمین کو بالکل چٹیل اور ہموار دیکھیں گے اور ہم لوگوں کو جمع کریں گے تو ان میں سے کسی کو بھی باقی نہیں چھوڑیں گے۔

43 یعنی پہاڑوں جیسی سخت چیزوں پر اللہ کا قانون زوال جاری وساری ہوگا وہ بھی اپنی جگہ سے اکھڑ کر فضا میں یوں اڑتے پھریں گے جیسے بادل اڑتے پھرتے ہیں (27: 88) زمین کے سب نشیب و فراز ہموار ہوجائیں گے زمین بالکل چٹیل میدان کی طرح بن جائے گی یہی یوم حشر ہوگا جس میں تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا اور کوئی متنفس اس حشر سے بچ نہ سکے گا۔
Ayahs 18:48–49

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور وہ اپنے پروردگار کے حضور صف بستہ پیش کئے جائیں گے (تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے) آخر تم ہمارے پاس اسی طرح آگئے جیسے ہم نے پہلی بار 44 تمہیں پیدا کیا تھا۔ بلکہ تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ہم نے تمہارے لیے کوئی 45 وعدہ کا وقت مقرر ہی نہیں کیا تھا۔

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور نامہ اعمال (ہر ایک کے سامنے) رکھ دیا جائے گا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ اعمال نامہ کے مندرجات سے ڈر رہے ہیں اور کہیں گے ہائے ہماری بدبختی اس کتاب نے نہ تو کوئی چھوٹی بات چھوڑی ہے اور نہ بڑی، سب کچھ ہی ریکارڈ کرلیا ہے۔ اور جو کام وہ کرتے رہے سب اس میں موجود پائیں گے اور آپ کا پروردگار کسی پر (ذرہ بھر بھی) ظلم نہیں کرے گا۔

44 ننگے بدن حشر :۔ جس طرح پہلی بار اکیلے پیدا ہوئے تھے صحیح وسالم پیدا ہوئے تھے بالکل برہنہ پیدا ہوئے اسی طرح ان کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا چناچہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ نے فرمایا : قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن بن ختنہ اکٹھے کیے جائیں گے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس طرح تو مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے آپ نے فرمایا : وہ وقت اتنا سخت ہوگا کہ ان باتوں کی کسی کو ہوش ہی نہ ہوگی (بخاری، کتاب الرقاق، باب کیف الحشر) 45 اس وقت آخرت کے منکروں سے یہ کہا جائے گا کہ جس بات کا تم انکار کرتے رہے تھے۔ کیا اب وہ بات حقیقت بن کر تمہارے سامنے نہیں آگئی ؟
Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

46 اور (وہ واقعہ یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے اسے سجدہ کیا۔ وہ جنوں سے 47 تھا اس لئے اپنے پروردگار کے حکم سے سرتابی کی۔ کیا تم مجھے چھوڑ کر اسے اور اس کی اولاد کو اپنا دوست 48 بناتے ہو، حالانکہ وہ تمہارا دشمن ہے ؟ یہ کیسا برا بدل ہے 49 جسے ظالم لوگ اختیار کر رہے ہیں۔

46 اعمال کا بلا کم وکاست اندراج :۔ نہ تو یہ ہوگا کہ ایک کے جرم کی سزا دوسرے کو دے دی جائے نہ یہ کہ کسی کا جرم کم ہو اور اسے سزا دے دی جائے نہ یہ کہ کسی کو بےگناہ ہی دھر لیا جائے یعنی ظلم کی کوئی قسم وہاں روا نہیں رکھی جائے گی اعمال نامہ میں جو کچھ فرشتوں نے درج کیا ہوگا بعینہ اسی کے مطابق اسے بدلہ دیا جائے گا۔ 47 فرشتوں کو سجدہ کا حکم ابلیس کا انکار حالانکہ وہ فرشتہ نہیں تھا :۔ وہ فرشتوں کی اصل سے نہیں تھا کیونکہ فرشتے فطری طور پر اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار مخلوق ہے وہ اللہ کے حکم کی نہ نافرمانی کرتے ہیں نہ کرسکتے ہیں اللہ کی اطاعت کرنے یا نہ کرنے کا اختیار صرف جنوں اور انسانوں کو دیا گیا ہے اس لیے احکام ہدایت جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں نازل فرمائے ہیں خواہ ان کا تعلق اوامر سے ہو یا نواہی سے صرف جنوں اور انسانوں سے ہی متعلق ہیں۔ ابلیس چونکہ جنوں کی نسل سے تعلق رکھتا تھا اور اللہ کا حکم ماننے یا نہ ماننے کا اختیار رکھتا تھا لہذا اس نے اپنے اس اختیار کو غلط طور پر استعمال کرتے ہوئے اللہ کا حکم تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور اس کے انکار کی وجہ اس کا تکبر اور فخر و غرور تھا اور وہ آدم کو اپنے آپ سے حقیر سمجھتا تھا جبکہ اصل حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ یہ قصہ پہلے کئی مقامات پر گزر چکا ہے اور یہاں اس لیے ذکر کیا جارہا ہے کہ سرداران قریش نے بھی تکبر اور استکبار کی روش اختیار کر رکھی تھی اور بیکس مسلمانوں کو اپنے سے حقیر تر سمجھتے تھے حالانکہ یہاں بھی حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم تو فرشتوں کو دیا گیا تھا یہ ابلیس کی بات کہاں سے چل نکلی تو اس کا جواب دو طرح سے دیا جاتا ہے ایک یہ کہ ابلیس اپنی کثرت عبادت گزاری کی بنا پر فرشتوں کی صفوں میں داخل ہوگیا تھا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ آدم کی پیدائش سے پہلے دو ہی عقل والی مخلوق پیدا کی گئی تھیں۔ ایک فرشتے دوسرے جن۔ اور فرشتے بہرحال جنوں سے افضل مخلوق تھے پھر جب افضل مخلوق کو سیدنا آدم کو سجدہ کرنے کا حکم ہوا تو یہی حکم از خود بالواسطہ مفضول مخلوق یا جنوں کے لیے بھی تھا۔ 48 اعتقاداً یا زبانی طور پر تو کوئی بھی شیطان کو اپنا دوست یا مطاع یا سرپرست کہنے کو تیار نہیں ہوتا بلکہ سب اس پر لعنت ہی بھیجتے ہیں۔ مگر عملاً جب انسان اللہ کی بتائی ہوئی راہ کے علی الرغم دوسری راہیں اختیار کرتا اور اس کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے تو یہ عملاً شیطان ہی کی پیروی ہوتی ہے کیونکہ نافرمانی اور سرکشی کی روش اسی نے اختیار کی تھی۔ 49 یہاں ظالموں سے مراد شیطان یا ابلیس کے مطیع فرمان اور اس کے چیلے چانٹے ہیں اور اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ انسان کو چاہیے تو یہ تھا کہ اپنے پروردگار کی اطاعت کرتے مگر ان ظالموں نے ان کے عوض اپنے ازلی دشمن کی پیروی کی روش اختیار کی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان ظالموں کو بہت برا بدلہ ملنے والا ہے۔
Ayah 18:51

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے تو انھیں نہ اس وقت گواہ بنایا تھا جب آسمان اور زمین پیدا کئے تھے اور نہ اس وقت جب خود انھیں پیدا کیا تھا اور میں گمراہ کرنے والوں 50 کو اپنا مددگار بنانے والا بھی نہیں۔

50 یعنی جب میں نے زمین و آسمان پیدا کیے تھے تو اس وقت میں نے نہ تمہارے معبودوں سے کوئی مشورہ لیا تھا نہ اس وقت موجود تھے بلکہ ان کو پیدا ہی بڑی مدت بعد کیا گیا تھا۔ پھر جب انھیں پیدا کیا تو اس وقت بھی ان سے یہ مشورہ نہیں لیا تھا کہ تمہیں کس طرح کا بنایا جائے۔ پھر یہ میرے شریک کیسے بن گئے ؟ اور اگر بالفرض محال میں نے کسی کو اپنا مددگار بنانا بھی ہوتا تو ان بدبختوں کو بناتا جو لوگوں کی گمراہی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ؟
Ayahs 18:52–53

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور جس دن اللہ تعالیٰ (مشرکوں سے) فرمائے گا : ان معبودوں کو تو بلاؤ جنہیں تم میرا شریک خیال کرتے تھے وہ انھیں پکاریں گے تو سہی مگر وہ (معبود) انھیں کوئی جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان 51 ہلاکت کا گڑھا بنادیں گے۔

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور مجرم جب دوزخ کو دیکھیں گے تو انھیں یقین ہوجائے گا کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے بچاؤ کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔

51 یعنی مشرکوں اور ان کے معبودوں کے درمیان ایک گہری خندق بنادیں گے جس میں آگ بھڑک رہی ہوگی۔ اس طرح نہ عابد اپنے معبودوں سے کوئی تعلق قائم کرسکیں گے اور نہ معبود اپنے پیروکاروں سے، اور اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم ان عابد و معبود کے درمیان سخت عداوت ڈال دیں گے۔ دنیا میں تو عابد ان کی بہت عزت و احترام کرتے تھے اور انھیں خدائی کا درجہ دے رکھا تھا مگر اس دن وہ ان کے بدترین دشمن بن جائیں گے اور سمجھیں گے کہ انہی کی وجہ سے ہم مبتلائے عذاب ہوئے ہیں۔
Ayah 18:54

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالوں سے سمجھایا ہے مگر انسان اکثر باتوں 52 میں جھگڑالو واقع ہوا ہے۔

52 انسان فطرتا جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ مشیئت الہی کو بہانہ بنانا :۔ انسان کی ہدایت کے لیے اس کی عقل اور اس کے دل کو اپیل کرنے والی بہت سے دلیلیں مختلف پیرا یوں میں اور دل نشین انداز میں بیان کردی ہیں مگر انسان کچھ اس طرح کا جھگڑالو اور ہٹ دھرم واقع ہوا ہے کہ جس بات کو نہ ماننے کا تہیہ کرلے اس پر کئی طرح کے اعتراض وارد کرسکتا ہے۔ جھوٹے دلائل اور حیلوں بہانوں سے جواب پیش کرسکتا ہے۔ بات کا موضوع ہی بدل کر گندم کا جواب چنے میں دے سکتا ہے مگر حقیقت کو قبول کرلینا گوارا نہیں کرتا اور انسان کی یہ سرشت صرف ضدی، ہٹ دھرم اور مجرم قسم کے لوگوں میں نہیں ہوتی بلکہ بعض دفعہ ایک نیکو کار مومن بھی اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کوئی عذر تلاش کرلیتا ہے۔ چناچہ سیدنا علی فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہم دونوں (میں اور فاطمہ) کو مخاطب کرکے کہا کہ تم لوگ تہجد کی نماز کیوں نہیں پڑھتے میں نے جواب دیا یارسول اللہ ہمارے نفس اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہے گا کہ ہم اٹھیں تو اٹھ جائیں گے یہ سن کر آپ فوراً واپس ہوگئے اور اپنی ران پر ہاتھ رکھ کر فرمایا : ( وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا 54؀) 18 ۔ الكهف :54) (بخاری، کتاب التھجد۔ باب تحریض النبی علی قیام اللیل والنوافل) گویا سیدنا علی نے اپنے قصور کا اعتراف کرنے کی بجائے مشیئت الٰہی کا عذر پیش کردیا اور اس اختیار کی طرف توجہ نہ کی جو انھیں اور ہر انسان کو عطا کیا گیا ہے۔
Ayah 18:55

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو انھیں اس پر ایمان لانے اور اپنے پروردگار سے استغفار کرنے سے کس چیز نے روک دیا ؟ بجز اس کے کہ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ ان سے پہلے لوگوں کا سا معاملہ پیش آئے یا عذاب 53 ان کے سامنے آجائے

53 یعنی دلائل دینے کے لحاظ سے تو ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ایک طالب ہدایت کے لیے یہ دلائل بہت کافی ہے۔ مگر یہ لوگ محض دلائل سے راہ راست پر آنے والے نہیں ہیں۔ اب بس انھیں عذاب کا انتظار ہے۔ یہ لاتوں کے بھوت جوتے کھا کر ہی سیدھے ہوں گے۔ اس وقت انھیں حقیقت تو معلوم ہوجائے گی مگر اس وقت اس کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
Ayah 18:56

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

ہم رسولوں کو صرف اس لیے بھیجتے ہیں کہ وہ لوگوں کو بشارت دیں 54 اور ڈرائیں اور کافر لوگ ان رسولوں سے بےہودہ دلائل کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں تاکہ وہ ان سے حق کو نیچا دکھائیں اور انہوں نے میری آیات اور تنبیہات کو مذاق بنارکھا ہے۔

54 کافروں کا بےہودہ سوالوں سے رسولوں سے جھگڑا کرنا :۔ رسولوں کا اصل کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر جو پیغام نازل ہوا اس کے مطابق فرماں برداروں کو جنت کی خوش خبری سنائیں اور نافرمانوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔ یا اللہ کے احکام پر عمل کرکے لوگوں کو دکھادیں ان کا یہ کام نہیں ہوتا کہ کافروں کے مطلوبہ معجزے پورے کرکے دکھائیں اور کافر اور منکرین حق جو پیغمبروں سے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں یا ان کا امتحان لینے کے لیے ان سے طرح طرح کے سوال کرتے ہیں تو اس سے ان کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہوتا کہ اگر وہ معجزہ دکھلا دیا جائے یا ان کے سوالوں کا جواب دے دیا جائے تو وہ ایمان لے آئیں گے بلکہ وہ تو اس جستجو میں ہوتے ہیں کہ کسی طرح پیغمبر اور اس کی دعوت کو جھٹلایا جاسکے یا اگر ایسا نہ ہوسکے تو آیات الٰہی کا مذاق اڑا کر اور مسلمانوں پر پھبتیاں کس کر اپنا جی ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
Ayah 18:57

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اللہ کی آیات سے نصیحت کی جائے اور وہ اس سے منہ پھیر لے اور اپنے وہ سب کام بھول جائے جو اس نے آگے بھیجے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں 55 پر ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ قرآن کو سمجھ ہی نہیں سکتے اور ان کے کانوں میں گرانی ہے اور اگر آپ انھیں راہ راست کی طرف بلائیں بھی تو وہ کبھی اس راہ پر نہیں آئیں گے۔

55 یعنی جب کوئی انسان ہٹ دھرمی پر اتر آتا ہے اور حق کے مقابلہ میں جھوٹ اور مکر و فریب کے ہتھکنڈوں سے کام لینا چاہتا ہے مگر اسے حق بات کو قبول کرلینا کسی قیمت پر گوارا نہیں ہوتا تو ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کے متعلق متعدد مقامات پر مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں یعنی اللہ ان کے دلوں پر پردے ڈال دیتا ہے یا مہر لگا دیتا ہے یا قفل چڑھا دیتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب ان کے دل حق کو قبول کرنے پر قطعاً تیار نہ ہوں گے نہ ہی ان کے کان حق بات سننے پر آمادہ ہوتے ہیں۔
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار بہت بخشنے والا اور رحمت والا ہے ورنہ جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں اگر ان پر گرفت کرتا تو جلد ہی ان پر عذاب لے آتا۔ بلکہ ان کے لئے وعدہ کا وقت 56 مقرر ہے جس سے یہ لوگ کوئی پناہ کی جگہ نہ پاسکیں گے۔

56 اللہ کا قانون امھال و تدریج ہر بات میں حتی کہ عذاب میں بھی جاری وساری ہے :۔ جس طرح اللہ کا قانون امہال و تدریج ہر کام میں جاری وساری ہے۔ رات آتی ہے تو یکدم مکمل تاریکی نہیں چھا جاتی۔ دن آتا ہے تو یکدم تیز دھوپ اور روشنی نہیں ہوتی۔ اسی طرح اس کے عذاب کا قانون ایسا نہیں کہ ادھر کسی نے کوئی جرم کیا تو ادھر فوراً اسے سزا دے دی جائے بلکہ اس معاملہ میں اللہ کا وہی قانون امہال و تدریج کام کرتا ہے اگر اس دوران بھی مجرم اپنے جرم سے باز آجائے تو پھر سزا ٹل جاتی ہے کیونکہ اللہ بخشنے والا بھی ہے اور مہربان بھی اور اگر باز نہ آئے تو عذاب اللہ کے مقرر کردہ قانون کے مطابق اپنے مقررہ وقت پر آئے گا خواہ لوگ اس کے لیے جلدی مچائیں یا نہ مچائیں اور جب وہ وقت آجائے گا تو پھر نہ وہ مؤخر ہوگا اور نہ ہی مجرم اس سے کہیں بچ کے جاسکیں گے۔ علاوہ ازیں سب مجرموں پر عذاب نہیں آیا کرتا۔ صرف ان پر آتا ہے جو حد سے بڑھ جاتے ہیں سب پر اس لیے نہیں آتا کہ یہ دنیا دارالجزاء نہیں ہے بلکہ دارالعمل ہے نیز اگر سب پر آتا تو دنیا کبھی آباد ہی نہ رہ سکتی۔
Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ 57 (عذاب رسیدہ) بستیاں ہیں جب انہوں نے ظلم کیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر ڈالا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے ایک وقت معین کر رکھا تھا۔

57 ان تباہ شدہ بستیوں سے مراد وہ بستیاں ہیں جن پر اہل مکہ کا گذر ہوتا رہتا تھا اور وہ ان کی تباہی کے آثار بچشم خود دیکھ سکتے تھے اور یہ بستیاں قوم عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب (علیہم السلام) کی تھیں، اور قریش کو بتایا یہ جارہا ہے کہ ان لوگوں کو بھی ہم نے ان کی نافرمانی پر یکدم ہی ہلاک نہیں کر ڈالا تھا بلکہ ان کی ہلاکت کے لیے بھی ایک معین وقت مقرر تھا اسی طرح اگر ابھی تک تمہیں عذاب سے دو چار نہیں ہونا پڑا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر تمہارے یہی کرتوت رہے تو تم عذاب سے بچ سکو گے۔
Ayah 18:60

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور (وہ قصہ بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے 58 اپنے خادم سے کہا : میں تو چلتا ہی جاؤں گا تاآنکہ دو دریاؤں کے سنگھم 59 پر نہ پہنچ جاؤں یا پھر میں مدتوں چلتا ہی رہوں گا۔

58 سیدنا موسیٰ کا اپنے آپ کو سب سے بڑا عالم قرار دینا :۔ یہاں سے اب قصہ موسیٰ و خضر کا آغاز ہو رہا ہے جو قریش مکہ کا دوسرا سوال تھا۔ اس کی تشریح کے لیے بخاری شریف کی درجہ ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ 1۔ اللہ کی طرف سے اس کے بندہ (خضر) سے کسب فیض کا حکم :۔ سیدنا سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کو کہا کہ نوف بکالی (کعب احبار کا بیٹا) کہتا ہے کہ جو موسیٰ خضر سے ملنے گئے تھے وہ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہ تھے۔ (بلکہ وہ موسیٰ بن افراثیم بن یوسف تھے) تو ابن عباس ؓ کہنے لگے : وہ اللہ کا دشمن جھوٹ بکتا ہے میں نے خود رسول اللہ سے سنا : آپ نے فرمایا ایک دفعہ موسیٰ نے کھڑے ہو کر خطبہ سنایا (سامعین میں سے) کسی نے پوچھا اس وقت لوگوں میں سب سے زیادہ عالم کون ہے ؟ موسیٰ نے کہا میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انھیں یہ بات اللہ کے حوالہ کرنا چاہیے تھی چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی کی کہ دو دریاؤں کے سنگھم پر میرا ایک بندہ (خضر) ہے جو تم سے زیادہ عالم ہے۔ موسیٰ نے عرض کی میں اسے کیسے مل سکتا ہوں ؟ فرمایا : اپنے ساتھ ایک مچھلی اپنی زنبیل میں رکھ لو جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں وہ بندہ ملے گا چناچہ موسیٰ نے ایک مچھلی اپنی زنبیل میں رکھ لی اور وہ خود اور ان کا خادم یوشع بن نون سفر پر روانہ ہوئے تاآنکہ وہ (راستہ میں) ایک چٹان پر پہنچے، وہاں وہ اس چٹان پر اپنا سر رکھ کر سو گئے اس وقت وہ مچھلی زنبیل میں سے تڑپ کر نکلی اور دریا میں جاگری اور سرنگ کی طرح کا بنا ہوا رستہ چھوڑ گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس رستہ سے پانی کی روانی کو روک دیا اور وہ راستہ ایک طاق کی طرح دریا میں بنا رہ گیا۔ جب موسیٰ بیدار ہوئے تو ان کا خادم (جو یہ منظر دیکھ رہا تھا) انھیں اس واقعہ کی اطلاع دینا بھول گیا اور وہ پھر سفر پر چل کھڑے ہوئے وہ دن کا باقی حصہ اور رات بھی چلتے رہے۔ قصہ موسیٰ وخضر سے ملاقات اور ہمراہی شرط :۔ دوسرے دن صبح موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا کھانا لاؤ ہم تو اس سفر سے بہت تھک گئے رسول اللہ نے فرمایا کہ : موسیٰ کو تھکن اس وقت سے شروع ہوئی جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے جہاں تک جانے کا اللہ نے انھیں حکم دیا تھا یوشع نے موسیٰ کو جواب دیا : دیکھئے کل جب ہم نے چٹان کے پاس دم لیا تھا تو اس وقت مچھلی عجیب طرح کا راستہ بناتی ہوئی دریا میں چلی گئی تھی اور شیطان نے مجھے ایسا بھلایا کہ اس واقعہ کو آپ سے ذکر کرنا مجھے یاد ہی نہ رہا رسول اللہ نے فرمایا : مچھلی نے جو یہ سرنگ جیسا راستہ بنایا تھا وہ ان دونوں کے لیے بڑا باعث تعجب تھا ۔ موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا : کہ وہی جگہ تو ہماری منزل مقصود تھی چناچہ وہ دونوں اپنے نقوش پا کو دیکھتے دیکھتے واپس اسی چٹان تک آگئے۔ وہاں انہوں نے ایک شخص کو کپڑا اوڑھے دیکھا تو موسیٰ نے اسے سلام کہا تو سیدنا خضر نے کہا تمہارے ملک میں سلام کہاں سے آیا ؟ موسیٰ نے کہا میں موسیٰ ہوں سیدنا خضر نے کہا بنی اسرائیل کے موسیٰ ؟ موسیٰ نے جواب دیا ہاں، میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ اللہ نے آپ کو بھلائی کی باتیں سکھائی ہیں ان میں سے کچھ مجھے بھی سکھادیں سیدنا خضر نے جواب دیا۔ موسیٰ دیکھو ! اللہ تعالیٰ نے اپنے علوم میں سے ایک علم مجھے سکھایا ہے جسے آپ نہیں جانتے اور ایک علم آپ کو سکھایا ہے جسے میں نہیں جانتا لہذا تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکو گے موسیٰ نے جواب دیا میں انشاء اللہ صبر کروں گا اور کسی معاملہ میں آپ سے اختلاف نہ کروں گا سیدنا خضر نے کہا اگر میرے ساتھ چلنا ہے تو پھر مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا تاآنکہ میں خود ہی اس کی حقیقت آپ سے بیان نہ کردوں ۔ سیدنا خضر کا کشی کا تختہ اکھیڑنا اور سیدنا موسیٰ کا اعتراض :۔ (یہ معاہدہ طے پانے کے بعد) وہ دریا کے کنارے کنارے چل کھڑے ہوئے کہ ان کا گزر ایک کشتی پر ہوا انہوں نے کشتی والوں سے کہا کہ ہمیں بھی سوار کرلو کشتی والوں نے سیدنا خضر کو پہچان کر بغیر کرایہ ہی سوار کرلیا ابھی کشتی میں سوار ہوئے ہی تھے کہ سیدنا خضر نے اپنا بسولا لے کر اس کشتی کا ایک پھٹہ توڑ دیا اور اسے عیب دار بنادیا۔ موسیٰ کہنے لگے کہ ان لوگوں نے تو ہمیں بغیر کرایہ لیے کشتی پر بٹھا لیا اور آپ نے ان کی کشتی کو توڑ دیا کہ سب کشتی والوں کو ڈبو دو یہ تم نے کیا عجیب حرکت کی ؟ سیدنا خضر نے جواب دیا میں نے آپ کو کہا نہ تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے موسیٰ نے کہا : مجھ سے بھول ہوگئی آپ درگزر کیجئے اور میرا کام مجھ پر دشوار نہ بنائیے موسی وخضر دونوں کے علم کے مقابلہ میں اللہ کے علم کی وسعت :۔ اور رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ بلاشبہ پہلا اعتراض موسیٰ (علیہ السلام) نے بھول کر کیا تھا۔ نیز آپ نے فرمایا اتنے میں ایک چڑیا آئی جس نے کشتی کے کنارے پر بیٹھ کر دریا میں سے اپنی چونچ میں پانی لیا جسے دیکھ کر سیدنا خضر نے موسیٰ سے کہا : اللہ کے علم کے مقابلہ میں میرا علم اور آپ کا علم دونوں مل کر اتنے ہی ہیں جیسے اس چڑیا نے اس دریا میں سے چونچ سے پانی لیا ہے خضر کا ایک نوجوان کو مارنا ڈالنا اور موسیٰ کا دوسرا اعتراض :۔ پھر وہ دونوں کشتی سے نکل آئے اور ساحل پر چلتے گئے راستہ میں سیدنا خضر نے ایک لڑکے کو دیکھا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ مل کر کھیل رہا تھا۔ سیدنا خضر نے اس لڑکے کے سر کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر مروڑا جو دیا تو اسے مار ہی ڈالا۔ موسیٰ کہنے لگے، ارے بھائی آپ نے ایک پاکیزہ جان کو ناحق ہی مار ڈالا یہ تو آپ نے بہت برا کیا سیدنا خضر کہنے لگے میں نے آپ کو کہا نہ تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے ؟ آپ نے فرمایا اور یہ کام تو پہلے کام سے بھی سخت تر تھا۔ موسیٰ کہنے لگے اگر آئندہ بھی میں نے آپ پر کوئی اعتراض کیا تو بیشک مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا کیونکہ آپ کی طرف سے مجھ پر اتمام حجت ہوجائے گا۔ خضر کا دیوار مرمت کردینا اور موسیٰ کا تیسرا اعتراض :۔ پھر وہ دونوں چل کھڑے ہوئے تاآنکہ وہ ایک بستی میں پہنچے اور بستی والوں سے کھانا طلب کیا لیکن انہوں نے انھیں کچھ بھی کھانے کو نہ دیا۔ اتفاق سے انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرا ہی چاہتی تھی۔ سدنا خضر نے اس دیوار کو قائم کردیا۔ موسیٰ نے کہا : ان لوگوں نے نہ تو ہمیں کھانا دیا اور نہ ضیافت کی اگر آپ چاہتے تو ان سے آپ دیوار قائم کرنے کی مزدوری بھی لے سکتے تھے (جس سے ہم کھانا کھا سکتے) سیدنا خضر کہنے لگے بس اب جدائی کی گھڑی آن پہنچی اب میں آپ کو ان واقعات کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کرسکے رسول اللہ نے فرمایا کہ ہم تو چاہتے تھے کہ موسیٰ صبر کیے جاتے تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کے اور زیادہ حالات ہم سے بیان کرتا (بخاری۔ کتاب التفسیر سورة الکھف) مذکورہ تین واقعات کی تاویل :۔ اس سے اگلی حدیث میں ان واقعات کی تاویل کا یوں ذکر ہے کہ سیدنا خضر نے موسیٰ سے کہا : کشتی کو عیب دار کرنے سے میری غرض یہ تھی کہ جب یہ کشتی اس ظالم بادشاہ کے سامنے جائے تو وہ اسے عیب دار سمجھ کر چھوڑ دے اور کشتی والے پھر سے اسے درست کرلیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ دوسرے واقعہ کی تاویل یہ ہے کہ اس لڑکے کے ماں باپ ایمان دار تھے اور لڑکے کی قسمت میں کفر لکھا تھا تو ہم ڈرے کہ کہیں یہ اپنے ماں باپ کو کفر اور سرکشی میں نہ پھنسا دے یعنی لڑکے کی محبت میں والدین بھی کفر میں مبتلا نہ ہوجائیں تو ہم نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اور زیادہ اچھا اور پاکیزہ لڑکا عطا کرے اور اس کے ماں باپ اس سے بھی زیادہ اس لڑکے پر مہربان ہوں۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ ترمذی، ابو اب التفسیر) 59 سیدنا موسیٰ کونسے دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچے ؟:۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ کی زندگی کے کس دور میں پیش آیا اور وہ دو دریا کون سے تھے ؟ ان سوالات کے جوابات سے کتاب و سنت خاموش ہیں۔ سیدنا موسیٰ کے بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کرلے جانے کے بعد اس قصہ اور اس طرح کے سفر کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔ لہذا اغلب خیال یہ ہے کہ یہ واقعہ مصر ہی میں پیش آیا ہوگا اور مصر میں دریاؤں کا سنگھم ایک ہی ہے اور وہ ہے موجودہ شہر خرطوم جہاں دریائے نیل کی دو شاخیں بحرابیض اور بحر ازرق آپس میں ملتی ہیں چونکہ یہ سنگھم کا علاقہ بھی کوئی مخصوص مقام نہ تھا بلکہ میلوں میں پھیلا ہوا تھا۔ لہذا سیدنا موسیٰ کو بذریعہ وحی یہ ہدایت دی گئی تھی کہ ایک مچھلی تل کر اپنے توشہ دان میں رکھ لیں جس مقام پر جاکر یہ مچھلی زندہ ہو کر دریا کے پانی میں چھلانگ لگا دے بس وہی مقام ہے جہاں تمہاری ہمارے بندے سیدنا خضر سے ملاقات ہوگی۔
Ayah 18:61

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

پھر جب وہ دو دریاؤں کے سنگھم پر پہنچ گئے تو اپنی مچھلی 60 کو بھول گئے اور اس مچھلی نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنا لیا۔

60 مردہ مچھلی کا زندہ ہو کر دریا میں چھلانگ لگانا اور سمندر میں سوراخ بنانا :۔ جب وہ سنگھم پر پہنچ گئے تو موسیٰ ایک چٹان کے سایہ میں سو گئے اور ان کے خادم سیدنا یوشع بن نون جنہیں بعد میں نبوت بھی عطا ہوئی اور سیدنا موسیٰ کے خلیفہ بھی بنے۔ وہاں بیٹھے رہے۔ اسی دوران مچھلی میں حرکت پیدا ہوئی وہ تڑپی اور دریا میں چھلانگ لگادی پہلے تو سیدنا یوشع کو خیال آیا کہ سیدنا موسیٰ کو جگا کر انھیں مچھلی کے دریا میں جانے کی اطلاع کردوں۔ مگر جب وہ جاگے اور آگے سفر کرنے کو کہا تو یوشع مچھلی کی بات انھیں بتانا بھول گئے نہ ہی موسیٰ (علیہ السلام) کو خیال آیا کہ وہ اپنی علامتی مچھلی کو دیکھ لیں۔
Ayahs 18:62–70

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

پھر جب وہ وہاں سے آگے نکل گئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا : ہمارا کھانا لاؤ، اس سفر نے تو ہمیں 61 بہت تھکادیا ہے۔

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

خادم نے جواب دیا، بھلا دیکھو ! جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے تو میں آپ سے مچھلی کی بات کرنا بھول گیا۔ یہ شیطان ہی تھا جس نے مجھے آپ سے مچھلی کا ذکر کرنا بھلا دیا۔ (بات یہ ہوئی کہ) مچھلی نے بڑے عجیب طریقے سے دریا میں اپنی راہ بنا لی تھی۔

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : اسی چیز کی تو ہمیں تلاش تھی چناچہ وہ اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس چلے آئے۔

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا۔ اور اپنے ہاں سے ایک خاص علم سکھایا تھا۔

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ نے اس بندے (خضر) سے کہا : اگر میں آپ کی پیروی کروں تو کیا آپ اس بھلائی کا کچھ حصہ مجھے بھی سکھادیں گے جو آپ کو سکھائی گئی ہے۔

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

اس بندے (خضر) نے کہا : آپ میرے ساتھ کبھی صبر نہ کرسکیں گے۔

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور جس واقعہ کی حقیقت کا آپ کو علم نہ ہو اس پر آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں ؟

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : آپ انشاء اللہ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

(خضر نے) کہا : اچھا اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو پھر مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیں تاآنکہ میں خود ہی آپ سے اس کا ذکر کردوں۔

61 رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ تھکاوٹ آپ کو اس وقت ہوئی جب آپ اپنی منزل مقصود سے آگے نکلے جارہے تھے اس سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔
Ayahs 18:71–73

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

چناچہ وہ دونوں 62 چل کھڑے ہوئے حتیٰ کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) اس کشتی میں شگاف ڈال دیا۔ موسیٰ نے کہا، کیا تم نے اس لئے شگاف ڈالا ہے کہ کشتی والوں کو ڈبودو ؟ یہ تو تم 63 نے خطرناک کام کیا ہے

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

(خضر نے) کہا : میں نے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے۔

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا۔ مجھ سے جو بھول ہوگئی اس پر گرفت نہ کرو اور میرے لئے میرا کام مشکل نہ بناؤ۔

62 سیدنا خضر سے جب ان دونوں کی ملاقات ہوگئی اور سیدنا موسیٰ اور سیدنا خضر میں ابتدائی مکالمہ ہوا اس کے بعد سیدنا یوشع بن نون کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ اگلا سفر صرف سیدنا موسیٰ اور سیدنا خضر نے کیا تھا۔ شاید سیدنا موسیٰ نے سیدنا یوشع کو واپس بھیج دیا ہو۔ 63 خضر نے کشی کا تختہ کیوں توڑا ؟ کشی والوں نے سیدنا خضر کو پہچان کر ان دونوں سے کرایہ بھی نہ لیا اور کشتی میں سوار کرلیا۔ مگر جب یہ کشتی منزل مقصود کے قریب پہنچی تو سیدنا خضر نے کشتی کے پہلو سے ایک تختہ توڑ دیا۔ یہ شگاف نیچے پیندے میں نہ ڈالا گیا تھا۔ اس لیے کشتی جو پہلے ہی منزل مقصود پر پہنچنے والی تھی ڈوبنے سے تو بچ گئی مگر ڈوبنے کا خطرہ ضرور تھا اور سیدنا موسیٰ کا اعتراض صرف اس بنیاد پر نہ تھا کہ کشی والے ڈوب جائیں گے بلکہ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ کشتی والوں نے تو یہ احسان کیا کہ کرایہ بھی نہ لیا اور اس احسان کا بدلہ یوں دے رہے ہو کہ کشتی ہی کو عیب دار بنادیا۔
Ayahs 18:74–76

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

چناچہ وہ دونوں پھر چل کھڑے ہوئے تاآنکہ ایک لڑکے کو ملے 64 جسے (خضر نے) مار ڈالا۔ موسیٰ نے کہا : تم نے تو ایک بےگناہ شخص کو مار ڈالا، جس نے کسی کا خون نہ کیا تھا یہ تو تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

(خضر نے) کہا : میں نے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ کبھی صبر نہ کرسکو گے۔

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : اگر اس کے بعد میں نے کوئی بات پوچھی تو پھر مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا۔ اب میری طرف سے آپ پر کوئی عذر باقی نہ رہے گا۔

64 خضر نے نوجوان کو کیوں مارا ؟ :۔ یہ ایک خوبصورت نوجوان لڑکا تھا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ مل کر کھیل رہا تھا۔ سیدنا خضر نے اس لڑکے کو پکڑ کر اس کی گردن کو مروڑا۔ حتیٰ کہ اس کی جان نکل گئی۔ اب ظاہر ہے کہ ایک شریعت کا علمبردار اولوالعزم پیغمبر ایسی بات کیسے برداشت کرسکتا تھا۔ ؟ پہلے بھی ایک کام سیدنا موسیٰ کی طبیعت کے خلاف ہوچکا تھا اور یہ کام پہلے کام سے بھی سخت تر تھا لہذا سیدنا موسیٰ رہ نہ سکے اور یہ اعتراض کر ہی دیا بلکہ ہلکی سی ملامت بھی کردی۔
Ayah 18:77

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

چناچہ پھر وہ دونوں چل کھڑے ہوئے۔ یہاں تک کہ وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس آئے۔ اور ان سے کھانا مانگا۔ مگر ان لوگوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کردیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی۔ (خضر نے) اس دیوار کو پھر سے قائم کردیا۔ موسیٰ نے (خضر سے) کہا : اگر آپ چاہتے تو ان سے 65 اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔

65 بستی والوں کی بےمروتی اور ان پر احسان کیوں کیا ؟ :۔ یعنی بستی والوں کی بےمروتی کا تو یہ عالم ہے کہ ہم مسافروں کے کھانا طلب کرنے پر بھی انہوں نے ہمیں کھانا تک نہ کھلایا اور ایسے لوگوں پر آپ کے احسان کا یہ حال ہے کہ جس دیوار کے نیچے سے گزرنے سے بھی وہ لوگ ڈرتے تھے کہیں ہمارے اوپر ہی نہ گرپڑے اس دیوار کی مرمت کرکے آپ نے اسے قائم اور سیدھا کردیا حالانکہ اس کام پر اجرت لینا آپ کا حق تھا۔ بالخصوص ایسے بےمروت لوگوں سے تو یہ اجرت چھوڑنا ہی نہ چاہیئے تھی اور اس اجرت سے ہم اپنی بھوک بھی دور کرسکتے تھے۔
Ayah 18:78

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

(خضر نے) کہا : اب میرا اور تمہارا ساتھ ختم ہوا۔ اب میں آپ کو ان باتوں 66 کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کرسکے۔

66 دنیا کے حادثات کی ظاہری شکل اور ہے اور حقیقت اور ہے :۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے سیدنا خضر کی ہمراہی کے دوران جو واقعات پیش آئے۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ کو اپنے کارخانہ مشیئت کا پردہ اٹھا کر ذرا اس کی ایک جھلک دکھائی تھی تاکہ انھیں معلوم ہوجائے کہ اس دنیا میں جو کچھ شب و روز ہو رہا ہے وہ کیسے اور کن مصلحتوں کے تحت ہو رہا ہے اور کس طرح واقعات کی ظاہری شکل و صورت اصل حقیقت سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ ایک عام انسان جب یہ دیکھتا ہے کہ ظالموں اور نافرمانوں پر اللہ کے انعامات کی بارش ہو رہی ہے اور اللہ کے فرمانبرداروں پر سختیاں اور شدائد کا ہجوم ہے ظالم مسلسل ظلم کرتے جارہے ہیں اور ان کی سزا بےگناہوں کو ملتی ہے تو ایسے واقعات سے اکثر انسان یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ یہ دنیا اندھیر نگری ہے اگر اللہ موجود ہوتا اور وہ عادل و منصف ہے تو ایسے جگر خراش واقعات دنیا میں کیوں وقوع پذیر ہوتے ؟ ان واقعات میں ایسے ہی حالات سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ رہا اللہ کے عدل و انصاف کا معاملہ تو اگرچہ اس کا ظہور اس دنیا میں بھی وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے تاہم عدل و انصاف کا صحیح اور مقررہ وقت روز آخرت ہے اور روز آخرت کا قیام اسی لیے ضروری ہے۔