Ayah 19:1(19:1) کھیعص۔ حروف مقطعات ہیں۔ جن کے معنی خدا اور اس کا رسول ﷺ جانتے ہیں۔
Ayah 19:2(19:2) ذکر رحمۃ ربک عبدہ زکریا۔ اس میں ھذا (محذوف) مبتدا ہے اور ذکر رحمۃ۔۔ زکریا۔ اس کی خبر ہے۔ عبدہ مفعول ہے رحمۃ کا اور زکریابدل ہے عبدہکا۔ ترجمہ یوں ہوا۔ یہ ذکر ہے تیرے رب کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا پر فرمائی۔
Ayah 19:3(19:3) نادی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ نادی ینادی مناداۃ (مفاعلۃ) وندائ۔ اس نے پکارا۔ اس نے دعا مانگی۔ ندائپکار۔ دعا۔ آواز ندیمادہ۔ خفیا۔ پوشیدہ۔ چھپی ہوئی۔ خفائ (مصدر) سے جس کے معنی خفیہ اور پوشیدہ ہونے اور چھپنے کے ہیں۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ چپکے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مثلاً ادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ۔ (7:55) اپنے پروردگار سے عاجزی اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔
Ayah 19:4(19:4) رب۔ اصل میں یا ربی تھا۔ حرف ندائ ( یا) اور مضاف الیہ ( یضمیر واحد متکلم) کو اختصار کے لئے حذف کیا گیا۔
وھن۔ وھن یھن (ضرب) وھن سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب (میری ہڈی) کمزور ہوگئی ہے۔ عظم۔ ہڈی۔ عظام ہڈیاں۔ بروزن سھم، سھام۔ وھن العظم منی میری ہڈی کمزور پڑگئی ہے۔ اشتعل۔ باب افتعال سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اشتعال کے معنی شعلہ بھڑکنے کے ہیں۔ اشتعل۔ اس نے آگ پکڑی۔ شعلہ نکلا۔ مجازًا رنگت کے لحاظ سے بڑھاپے کے بالوں کی سفیدی کو آگ سے تشبیہ دے کر اشتعال کا لفظ استعمال کیا ہے۔
شیبا۔ بڑھاپا۔ بالوں کی سفیدی۔ سر کے سفید ہونے کو شیب کہتے ہیں۔ شاب یشیب (ضرب) کا مصدر ہے۔ اشتعل الرأس شیبا۔ میرا سر بڑھاپے کی وجہ سے سفید ہوگیا ہے۔ شقیا۔ محروم۔ بدبخت۔ شقاوۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے اشقیائجمع ۔
لم اکن۔ مضارع نفی حجد بلم۔ واحد متکلم۔ اکناصل میں اکون تھا لم کی وجہ سے نساکن ہوگیا۔ اجتماع ساکنین سے حرف علت و ساقط ہوگیا۔ اکن ہوگیا۔ لم اکن میں نہیں ہوا۔ (یعنی میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا)
ولم اکن بدعائک رب شقیا۔ میرے پروردگار تجھ کو پکار کر میں (کبھی، نامراد نہیں ہوا۔ یعنی میں نے تجھ سے جب ہی دعا مانگی تو نے قبول فرمائی ہے۔
Ayahs 19:5–6(19:5) الموالی۔ مولیٰ کی جمع ہے وہ رشتہ دار جو ذوی الفروض ہوں وارثان کے بچے ہوئے مال کے وارث ہوں۔ چچا کے بیٹے۔ عام وارث۔ عام رشتہ دار۔ جو اپنی اولاد نہ ہونے کے باعث وارث بنیں۔ انی خفت الموالی من ورائی۔ میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں کی طرف سے اندیشہ رکھتا ہوں (یعنی مجھے ڈر ہے کہ میری اپنی اولاد نہ ہونے کی صورت میں میرے دوسرے رشتہ دار میرے بعد میرے اس مرکز توحید کی خدمات اور دینی علوم عالی کے فرائض کے بجا لانے میں قاصر رہیں گے۔ اور اس طرح میری ساری عمر کی محنت کو نقصان پہنچے گا) ۔
عاقرا۔ بانجھ۔ عقارۃ مصدر۔ یہ کانت کی خبر ہے لہٰذا منصوب ہے۔ رضیا۔ رضی سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بروزن فعیلبمعنی مفعول۔ پسندیدہ ای مرضیا عندک قولاوفعلا۔ یعنی قولاًو فعلاً تیرے نزدیک پسندیدہ ہو۔
Ayah 19:7(19:7) سمیا۔ ہم نام شریکا لہ فی الاسم جو نام میں اس کا شریک ہو آیت کے شروع میں فاجاب اللہ دعاء ہ وقالمقدر ہے
Ayah 19:8(19:8) انی یکون۔ کیف اومن این یکون۔ کیسے اور کہاں سے۔ کیونکر (میرے ہاں بیٹا ہوسکتا ہے) ۔
عتیا۔ عتا یعتوکا مصدر ہے۔ جوہری کا بیان ہے کہ یہ اصل میں عتوہی تھا۔ اس کے ایک ضمہ کو کسرہ سے بدلا۔ تو وائو بھی یاء سے بدل گیا۔ اور عتیاہو گیا۔ پھر ایک کسرہ کے ساتھ دوسرا کسرہ بھی لگا دیا گیا۔ تاکہ اس تبدیلی کی مزید تاکید ہوجائے اس طرح عتیاہو گیا۔ عتوکا معنی ہے سرکشی نافرمانی۔ اطاعت سے اکڑجانا۔ تکبر کرنا۔ حد سے بڑھ جانا۔ حکم عدولی کرنا۔
قرآن مجید میں ہے فعتوا عن امر ربہم۔ (5:44) تو انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی۔ دوسری جگہ ہے بل لجوا فی عتو ونفور (67:21) لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہاں عتیا سے کمال پیری مراد ہے۔ جب آدمی کے اعضاء قابو میں نہیں رہتے اور وہ اپنی مرضی سے ان سے کام نہیں لے سکتا۔ وقد بلغت من الکبر عتیا۔ اور میں بڑھاپے کی اس منزل تک پہنچ گیا ہوں جہاں آدمی کے اعضاء بھی اس کو جواب دے جاتے ہیں۔
Ayah 19:9(19:9) قال کذلک۔ کہا یوں ہی ہوگا۔ یا ایسے ہی ہوگا ۔ یعنی باوجود تمہاری پیرانہ سالی کے اور باوجود تمہاری زوجہ کے عاقر ہونے کے تمہیں لڑکے کی بشارت ہے۔ ھین۔ آسان ھون (نصر) سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 19:10(19:10) ایۃ۔ کوئی ایسی نشانی کہ جس سے معلوم ہو کہ میری التجاء منظور ہوگئی ہے تاکہ اس کا شکریہ ادا کروں۔ علامۃ علی تحقق المسئول لا شکرک (نشانی کہ جس سے میں سمجھ جائوں کہ اب ظہور وعدہ کا وقت آپہنچا اور میں بالکل مطمئن ہوجائوں کہ تیرے فرشتہ نے جو بشارت مجھے پہنچائی ہے وہ تیری ہی طرف سے ہے۔ (ضیا القرآن) ۔
الا تکلم الناس۔ ای ان لا۔ لا تکلم۔ مضارع منفی واحد مذکر حاضر۔ تو کلام نہیں کرسکے گا تو بول نہیں کرسکے گا۔ سویا۔ بھلا چنگا۔ جو مقدار اور کیفیت دونوں حیثیت سے افراط و تفریط سے محفوظ ہو۔ درست۔ تندرست۔ صحیح۔ سالم ۔ غیر ناقص۔ رجل سوی۔ وہ مرد جو اپنی خلقت میں ہر عیب۔ نقص، افراط تفریط سے پاک ہو۔ سویا حال ہے اور تکلم کا فاعل اس کا ذوالحال ہے۔
حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ سویا کا تعلق ثلث لیال سے ہے۔ یعنی تین کامل راتیں
فائدہ
آیت نمبر 4 میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا ہے اور قال سے مراد قال زکریا ہے۔ آیت نمبر 7 میں ی زکریا سے لے کر من قبل سمیاتک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے حضرت زکریا کی دعا کے جواب میں۔ اس سے قبل فاجاب اللہ دعاء ہ وقالمقدر ہے۔
آیت نمبر 9 میں۔ قال کذلک میں قال کی ضمیر فاعل کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے اور یہ کلام بلاواسطہ فرشتہ کے ارشاد فرمایا۔ ایسا ہی ہوگا۔ اور اگلی عبارت قال ربک ھو علی ھین وقد خلقتک من قبل ولم تک شیئا۔ بھی ارشاد ربانی کا حصہ ہی ہے ۔ ترجمہ یوں ہوگا۔ ارشاد ہوا۔ ایسا ہی ہوگا۔ تیرا پروردگار فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لئے آسان ہے اور اس سے پیشتر میں نے ہی تو تم کو پیدا کیا تھا درآنحالیکہ تم تو کچھ بھی نہ تھے۔ اسی طرح آیت نمبر 10 قال ایتک۔۔ سویا۔ میں قال کی ضمیر فاعل اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور یہ جواب بھی فرشتہ بشارت کے واسطہ سے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو دیا گیا۔
Ayah 19:11(19:11) خرج علی قومہ۔ اپنی قوم کی طرف نکل آیا۔ المحراب۔ اسم مفرد محاریبجمع۔ کمرہ ۔ بالاخانہ۔ کوٹھڑی۔ اوحی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اوحی یوحی ایحاء (افعال) اس نے وحی بھیجی۔ اس نے حکم دیا۔ اس نے اشارہ سے کہا ان کو۔
ان سبحوا۔ سبحوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ کہ تم تسبیح پڑھو۔ تم پاکی بیان کرو۔ تم عبادت کرو۔ بکرۃ۔ دن کا اول حصہ۔ صبح۔
عشیا۔ شام۔ امام راغب (رح) نے اس کے معنی زوال سے لے کر صبح تک کے لکھے ہیں۔
Ayah 19:12(19:12) الحکم۔ حکمت ، دانائی۔ فراست، عقل وفہم۔ صبیا۔ بچہ۔ لڑکا۔ وہ بچہ جو بلوغ کو نہ پہنچا ہو۔ صبا۔ یصبوا صبو صبو وصبائ۔ مصدر۔ بچپن کی طرف مائل ہونا۔ بچوں کی خصلت والا۔ صبی بروزن فعیلصفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اس کی جمع صبیان۔ صبیۃ ہے۔
Ayah 19:13(19:13) حنانا۔ حن یحن (ضرب) کا مصدر ہے۔ رحمت ۔ شفقت ۔ مہربانی۔ اس کا عطف الحکم پر ہے اور تنوین تفخیم (تعظیم و تکریم) کے لئے ہے۔ زکوۃ۔ ستھرائی ۔ پاکیزگی۔ اس کا عطف بھی الحکم پر ہے۔ یعنی ہم نے اس کو دانائی نرم دلی۔ اور پاکیزگی بچپن میں ہی عطا فرمادی۔ تقیا۔ پرہیزگار۔ متقی۔ وقایۃ مصدر وقی مادہ۔ وقایۃ کے معنی ہر اس چیز سے حفاظت کرنا۔ جو ایذا دے یا ضرر پہنچائے۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Ayahs 19:14–15(19:14) برا۔ البر۔ یہ بحر کی ضد ہے اور اس کے معنی خشکی کے ہیں۔ پھر معنی کی وسعت کے اعتبار سے اس سے البرکا لفظ مشتق کیا گیا۔ جس کے معنی وسیع پیمانے پر نیکی کرنے کے ہیں۔ اس کی نسبت کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے۔ جیسے انہ ھو البر الرحیم۔ (52:28) بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے۔ اور کبھی بندہ کی طرف جیسے بر العبد ربہبندے نے اپنے رب کی خوب اطاعت کی۔
البر۔ (نیکی) دو قسم پر ہے۔ اعتقادی اور عملی۔ اور آیت کریمہ لیس البر ان تولوا وجوہکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من امن بااللہ والیوم الاخر۔ والملئکۃ والکتب والنبیین واتی المال علی حبہ۔۔ الخ (2:177) نیکی یہ نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف کرو۔ بلکہ نیکی یہ ہے کہ جو شخص اللہ اور قیامت کے دن اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائے اور اس کی محبت میں مال صرف کرے۔۔ الخ اس میں دونوں قسم کی نیکی کا بیان ہے۔
برالوالدین۔ کے معنی ہیں ماں باپ کے ساتھ نہایت اچھا برتائو اور احسان کرنا۔ برا بوالدیہ۔ اپنے والدین کے ساتھ نہایت اچھا سلوک اور احسان کرنے والا۔ برا صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اس کا عطف کان کی خبر تقیا پر ہے۔ اور بدیں وجہ منصوب ہے۔
جبارا عصیا۔ جبار۔ سرکش۔ زبردست دبائو والا۔ انسانوں میں جبار وہ شخص ہے جو اپنے نقص کو علو مرتبت کے ادعا سے پورا کرنا چاہے جس کا وہ مستحق نہیں۔ اس معنی میں جبار کا استعمال بطور مذمت ہوتا ہے۔ اور صفت باری تعالیٰ میں جو وصف جبار مذکور ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ارادہ کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں قادر مطلق ہے۔ جبار۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔ عصیا۔ بڑا نافرمان۔ بہت بےحکم
معصیۃ اور عصیان سے بروزن فعیل یا مفعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ صاحب البحر المحیط رقمطراز ہیں عصیا کے معنی ہیں کثیر العصیان عاصی کے ہیں۔ یعنی ایسا نافرمان جو بڑی نافرمانی کرے۔ یہ اصل میں عصوی تھا۔ بروزن فعولجو مبالغہ کے لئے ہے۔ اور اس کا احتمال بھی ہے کہ بروزن فعیلہو اور یہ بھی مبالغہ کا صیغہ ہے :
علامہ قرطبی (رح) نے امام کسائی سے نقل کیا ہے کہ عصی اور عاصدونوں کے معنی ایک ہیں۔ اس صورت میں یہ صفت مشبہ کا صیغہ ہوگا۔ جبارا وعصیاہر دو بوجہ خبر کے منصوب ہیں۔
Ayah 19:16(19:16) واذکر فی الکتاب مریم۔ یہاں سے خطاب سے رسول مقبول ﷺ سے ہے ای اقرأ علیہم یا محمد فی القران قصۃ مریم۔ ان کو پڑھ کر سنائیے قصہ حضرت مریم کا۔ جو اس کتاب میں مذکور ہے۔ الکتاب سے مراد یا قرآن ہے یا سورة ہذا۔
انتبذت۔ انتباذ (افتعال) مصدر سے۔ ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ اعتزلت۔ یک سو ہوئی۔ ایک طرف ہوگئی تخلت تخلیہ میں ہوگئی۔ جدا ہوگئی۔ نبذ مادہ۔ النبذ کے معنی اصل میں کسی چیز کو درخور اعتناء نہ سمجھتے ہوئے پھینک دینے کے ہیں۔ جیسے فنبذوہ وراء ظہورہم۔ (3:178) توا نہوں نے (ناقابل التفات سمجھ کر) اسے پس پشت پھینک دیا۔ مکانا شرقیا۔ منصوب بوجہ اسم ظرف
Ayahs 19:17–18(19:17) فاتخذت حجاباپردہ کرلیا۔ من دونہم۔ ای من دون اھلھا اہل خانہ کی طرف سے پردہ کرلیا۔ روحناجبرئیل (علیہ السلام)
فتمثل۔ تمثل یتمثل تمثل (تفعل) سے ماضی واحد مذکر غائب کسی دوسری چیز کی صورت پکڑنے کو تمثیل کہتے ہیں۔ اس معنی میں جب تمثیل کا استعمال ہوتا ہے تو اس کا تعدیہ لام سے ہوتا ہے۔ تمثل لھا۔ وہ ظاہر ہوا اس کے سامنے بشرا سویا چنگا بھلا تندرست انسان بن کر۔ نیز ملاحظہ ہو (19:10) مذکورہ بالا۔
Ayah 19:19(19:19) لاھب۔ اھب۔ مضارع واحد اھب۔ مضارع واحد متکلم۔ منصوب بوجہ لام عاقبت۔ (یعنی انجام کار ظاہر کرنے کے لئے) وھب یھب (فتح) وھب جس کے معنی دینے اور بخشنے کے ہیں۔ لاھب لک تاکہ میں دے جائوں۔
Ayah 19:20(19:20) لم یمسسنی۔ مضارع نفی حجد بلم۔ لم یمسس۔ مضارع نفی حجد بلم واحد مذکر غائب۔ ن وقایہ۔ یضمیر واحد متکلم۔ مجھے چھوا نہیں۔ مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔ مجھ سے قربت نہیں کی۔ مس مصدر باب فتح۔
لم اک۔ مضارع نفی حجد بلم۔ واحد متکلم ۔ اک اصل میں اکون تھا۔ لم کے عمل سے نون ساکن ہوگیا۔ اجتماع ساکنین سے وائو حرف علت گرگیا۔ اکن رہ گیا۔ نکو اختصارا ساقط کردیا گیا اکرہ گیا۔ بغیا۔ بدکار۔ بغی سے صفت مشبہ کا صیغہ۔ بغیمیانہ روی سے بڑھنے کی خواہش کرنے کو بغی کہتے ہیں۔
Ayah 19:21(19:21) قال۔ ای قال الجبریل۔ کذلک۔ یہ یوں ہی ہوگا۔ یعنی باوجود اس امر کے کہ تجھے کسی بشر نے نہیں چھوا تیرے بچہ ہوگا۔ نیز ملاحظہ ہو (19:9) ۔ لنجعلہ۔ لام تعلیل کا ہے۔ نجعلمضارع منصوب جمع متکلم۔ نصب بوجہ عمل ان مقدرہ ہُ ضمیر منفعول واحد غائب۔ تاکہ ہم بنادیں اس کو (1) لوگوں کے لئے ایک نشانی بوجہ خارق عادت پیدائش کے اور (2) ہماری طرف سے سراپا رحمت اسرائیل کی بھٹکی ہوئی قوم کے لئے۔ وکان امرا مقضیا۔ اور یہ ایک طے شدہ بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کردیا ہے اور اب یہ ہو کر رہے گا۔ اس میں تردد کرنے کی ضرورت نہیں۔
Ayah 19:22(19:22) فحملتہ۔ پس اس نے اس کو اٹھایا۔ اس کو پیٹ میں رکھا۔ حملت حمل سے ہے۔ جس کا معنی پیٹ کا بچہ۔ حمل (احمال) جمع ہے۔ ماضی واحد مؤنث غائب ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ جس کا مرجع پیٹ کا بچہ ہے۔
انتبذت۔ ملاحظہ ہو 19:16 ۔ انتبذت بہ۔ اس کو لے کر ایک طرف الگ ہوگئی۔ قصیا۔ القصی کے معنی بعید۔ دور کے ہیں۔ اس کی جمع اقصاء ہے۔ مؤنث قصیۃ ہے اس کی جمع قصایا ہے قصومادہ۔ قصا یقصوا (نصر) قصو وقصو وقصائمصدر مکانا قصیا۔ دور جگہ۔
Ayah 19:23(19:23) فاجاء ھا۔ پس وہ لے آیا اس کو۔ اجاء ماضی واحد مذکر غائب ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ اجاء ۃ سے جس کے معنی لانے اور آنے پر مجبور کرنے کے ہیں۔ ج۔ ی۔ ء مادہ ۔
المخاض۔ مخض یمخض مخاض ومخاض۔ حاملہ کا دروزاہ میں مبتلاہونا۔ المخاض۔ دروازہ۔ جذع۔ تنا۔ ٹہنا۔ شاخ۔ جذوع جمع شاخیں۔ مت۔ ماضی واحد متکلم موتمصدر۔ میں مرگئی ہوتی۔ یہ ابواب ضرب، سمع، نصر ہر سہ میں مستعمل ہے۔
مت۔ یا تو باب ضرب سے ہے ای مات یمیت جیسے جاء یجییء یا باب سمع سے ہے مات یماتجی سے خاف یخاف۔ موت ۔ اجوف واوی ہے۔ اجوف میں جو وائو اور ی متحرک ہو اور ماقبل اس کا مفتوح ہو تو وہ واو۔ ی۔ الف سے بدل جائے گی یعنی خوف خافہوجائے گا اور موت مات ہوجائے گا اور موت مات۔ پھر چھٹے صیغے سے لے کر آخر تک۔ عین کلمہ گر کرکلمہ ابواب ضرب وسمع میں مکسور ہوجائے گا۔ یعنی خوفن خفنبن جائے گا۔ اور موتن متن ہوجائے گا۔ اور موتت متہوجائے گا۔ اگر اس کا استعمال باب نصر سے ہے تو قرات متہوگی۔ جیسا کہ ابن کثیر ۔ وبو عمرو۔ ابن عامر۔ ابوبکر یعقوب کا قول ہے۔
یلیتنی۔ یا حرف نداء ہے لیتحرف طمع یا تمنا ہے یعنی گذشتہ کوتاہی پر اظہار تأسف کے لئے آتا ہے۔ یہ حرف مشبہ بالفعل ہے۔ اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ نیاسم۔ یلیتنی مت قبل ھذا۔ اے کاش میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا (25:28) کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اور ویقول الکافر یلیتنی کنت ترابا (78:40) اور کافر کہے گا کہ کاش میں مٹی ہوتا۔
نسیا۔ اسم۔ بھولی ہوئی۔ ایسی متروک یا حقیر شے جس کو نہ کوئی پہچانے نہ یاد کرے۔ نسی ینسی نسیان سے۔ منسیا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ بھولی بسری ۔ فراموش کردہ۔ کنت نسیا منسیا۔ میں نسیا کے معنی ہیں کہ میں اس حقیر چیز کے بمنزلہ ہوتی جس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیتا۔ اگرچہ وہ بھولی ہوئی نہ ہو۔ پھر بھولی بسری چیز کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے منسیا کا لفظ لایا گیا۔
Ayahs 19:24–25(19:24) نادھا۔ اس (فرشتہ جبریل علیہ السلام) نے اس (حضرت مریم علیہما السلام) کو پکارا ۔ من تحتھا۔ ای من مکان اسفل منھا۔ یعنی جہاں وہ تھیں اس مقام کی پائیں سے۔ ان لا تحزنی۔ فعل نہیں واحد مؤنث حاضر۔ کہ تو غم مت کھا۔ حزن۔ غم۔ رنج۔
سریا۔ ایک چشمہ۔ اس کی جمع اسریۃ اور سریان ہے بعض نے اس کے معنی جدول (چھوٹی نہر) کے لئے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر اہل لغت کا یہی قول ہے۔ چناچہ انہوں نے اس کی تفسیر چھوٹی نہر سے کی ہے جو نخلستان کی طرف رواں ہو۔ اس صورت میں یہ سری (لام کلمہ ی) سے ہے۔ بعض کے نزدیک یہ سرو (لام کلمہ واو) سے ہے۔ اور سروبمعنی رفعت کے ہے۔ جس سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ یعنی تیرے رب نے تیرے سے ایک رفیع الشان بلند مرتبت لڑکا پیدا کرنے والا ہے۔
(19:25) ھزی۔ فعل امر۔ واحد مؤنث حاضر۔ ھزمصدر۔ تو ہلا۔ باب نصر سے ہے۔ بنفسہ وبالباء متعدی ہے۔ ہلانا۔ ھزہ وھزبہ اس کو ہلایا۔ جذع النخلۃ۔ مضاف مضاف الیہ۔ کھجور کا تنہ۔
تسقط۔ مضارع واحد مؤنث غائب مجزوم بوجہ جواب امر۔ وہ گرائے گی۔ وہ ڈالے گی۔ مساقطۃ (مفاعلۃ) سے جس کے معنی گرانے کے ہیں۔ ضمیر مؤنث نخلتہ کے لئے ہے اور جگہ جگہ قرآن مجید میں ہے۔ فاسقط علینا کسفا من السمائ (26:187) تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے گرا لائو۔
رطبا۔ تازہ خرما۔ تازہ کھجوریں ۔ پکی ہوئی کھجوریں۔ جمع۔ رطبۃ واحد۔ لطاب و الطاب۔ جمع الجمع۔ جن یا۔ تازہ چنا ہوا میوہ۔ روزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ جنی تازہ پھل جو حال ہی میں توڑا گیا ہو۔ جنی مصدر۔
Ayah 19:26(19:26) کلی اشربی۔ قری۔ (کھا۔ پی اور ٹھنڈا کر) میں کھانے پینے کا حکم بظاہر اباحت کے لئے ہے۔ قری قر سے ہے۔ جس کے معنی خنکی کے ہیں۔ قر یقر (ضرب) قر بمعنی سردی۔ سردی چونکہ سکون کو چاہتی ہے جیسا کہ اس کے برکس حر (گرمی) حرکت کو چاہتی ہے۔ اس لئے قرفی مکانہ کے معنی کسی جگہ جم کر ٹھہر جانا کے ہیں۔ فاما۔ پس اگر۔ ترین۔ مضارع واحد مؤنث حاضر بانون ثقیلہ۔ رؤیۃ مصدر۔ (پس اگر) تو دیکھے۔ نذرت۔ ماضی واحد متکلم۔ نذرمصدر (ضرب ونصر) میں نے نذر مانی میں نے منت مانی۔
فقولی۔ یعنی تو اشارہ سے کہہ دینا۔ کیونکہ اگلا جملہ فلن اکلم الیوم انسیا (آج میں کسی انسان سے گفتگو نہیں کروں گی) اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جو روزہ حضرت مریم نے نذر کے طور پر رکھا تھا۔ اس میں بولنا منع تھا۔ یاد رہے کہ بنی اسرائیل میں چپ کے روزہ رکھنے کا طریقہ رائج تھا۔
Ayah 19:27(19:27) اتت بہ۔ ب مریم سے حال ہے (درآں حالیکہ وہ اسے گود میں اٹھائے ہوئے تھی) ۔ فریا۔ گھڑی ہوئی۔ بناوٹی۔ من گھڑت۔ عظیم (جوہری) عجیب۔ حیران کن۔ (راغب) بہت قبیح فعل (ابن حیان) ہر بڑا کام خواہ وہ برا ہو یا اچھا ۔ قول ہو یا فعل (روح المعانی)
Ayah 19:28(19:28) یاخت ہارون۔ اے ہارون کی بہن۔ اخت بوجہ منادی مضاف ہونے کے منصوب ہے۔ اور ہارون کا نصب بوجہ اس کے غیر منصرف ہونے کے ہے۔
یہاں ہارون سے مراد حضرت ہارون برادر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہیں ہے کیونکہ ان کا زمانہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے بہت پہلے کا ہے۔ علماء کے نزدیک یا تو یہ نام حضرت مریم کے بھائی کا تھا۔ یا اسے حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف نسبت دینے کے لئے استعمال ہوا ہے کیونکہ اہل عرب جب قبیلہ کے کسی فرد کو قبیلہ کی طرف منسوب کرتے ہیں تو اخ کا لفظ استعمال کرتے ہیں مثلاً یا اخا مضمر (اے قبیلہ مضر کے آدمی) یا اخت ہارون اے حضرت ہارون کے خاندان کی لڑکی۔
امرأ سوئ۔ بدکار آدمی۔ سوء برا ہونا۔ ساء یسوء کا مصدر۔ عمل سوء قبیح فعل۔ رجل سوئ۔ برا آدمی۔ بدفعل۔ بدکار۔
بغیا۔ بدکار۔ زانی۔ (ملاحظہ ہو 19:20) ۔
Ayah 19:29(19:29) المھد۔ گہوارہ جو بچے کے لئے تیار کیا جاوے۔ فی المھد گہوارہ میں ہونا کا مطلب ہے۔ شیر خوارگی کا زمانہ ۔ جب بچہ ماں کی گود میں ہوتا ہے۔ المھد والمھاد۔ ہموار اور درست کی ہوئی زمین کو بھی کہتے ہیں۔ قرآن میں ہے۔ الذی جعل لکم الارض مھدا (20:53) وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا۔ اور الم نجعل الارض مھادا (78:6) کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا۔ من کان فی المھد صبیا۔ جو ابھی ماں کی گود میں دودھ پیتا بچہ ہے۔
Ayah 19:30(19:30) اتنی۔ اس نے مجھ کو دی۔ اثی ماضی واحد مذکر غائب (باب افعال) نوقایہ یمتکلم کی۔ ضمیر فاعل اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے
Ayah 19:31(19:31) ما دمت۔ فعل ناقص۔ واحد متکلم۔ ما دمت حیا۔ جب تک میں زندہ رہوں۔ حیابوجہ خبر کے منصوب ہے۔
Ayah 19:32(19:32) برا بوالدتی۔ دیکھیں (19:14 ) برا بوالدیہ۔ جبارا۔ ملاحظہ ہو (19:14)
شقیا۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے بدبخت ۔ محروم۔ شقاوۃ سے بدبختی۔ سعادۃ کی ضد ہے۔ شقی یشقی (سمع) شقوۃ وشقاوۃ وشقاء مصدر۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے غلبت علینا شقوتنا (23:106) ہم پر ہماری کم بختی غالب ہوگئی۔
Ayah 19:33(19:33) ابعث۔ مضارع مجہول واحد متکلم۔ بعث مصدر۔ مجھے اٹھایا جائے گا۔
Ayah 19:34(19:34) ذلک۔ اسم اشارہ ۔ جس کا مشار الیہ وہ ذات ہے جس کی اوصاف جلیلہ اوپر مذکور ہوئی ہیں (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) یہ مبتدا ہے اور عیسیٰ خبر اول۔ اور ابن مریم خبر ثانی۔ یا بدل ہے یا عطف بیان۔ یعنی یہ ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو ان صفات سے متصف ہیں نہ کہ وہ ایسے ہیں جیسے کہ نصاریٰ انہیں بیان کرتے ہیں۔ کہ ان کو ابن اللہ کہتے ہیں۔
قول الحق۔ مضاف مضاف الیہ۔ قول سے مراد کلمۃ اور الحق سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں۔ ای کلمۃ اللہ (کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن سے بغیر باپ کے وجود میں آئے) قول بوجہ عیسیٰ سے حال کے منصوب ہے۔
یا قول مصدر ہے تاکید کے لئے لایا گیا ہے اور یہ بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلام ہے ای واقول قول الحق۔ اس صورت میں ذلک عیسیٰ ابن مریم جملہ معترضہ ہوگا۔ یمترون۔ مضارع جمع مذکر غائب امتراء (افتعال) مصدر۔ وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہ شک کرتے ہیں۔
Ayahs 19:35–36(19:35) ما کان للہ۔ اللہ کی یہ شان نہیں ہے۔ قضی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ قضاء مصدر۔ صلات کے اختلاف اور سیاق کی مناسبت سے مختلف معانی مراد ہوتے ہیں۔ بنانا۔ پورا کرنا۔ عزم کرنا۔ فیصلہ کرنا۔ حکم دینا وغیرہ یہاں بمعنی وہ فیصلہ کرلیتا ہے (ماضی بمعنی حال)
Ayah 19:37(19:37) الاحزاب۔ گروہ ، ٹولیاں ۔ جماعتیں۔ حزب کی جمع۔ من بینہم۔ آپس میں۔
ویل۔ ہلاکت۔ عذاب۔ دوزخ کی ایک وادی۔ عذاب کی شدت ۔ صمعی نے کہا ہے کہ ویل بےمعنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ حسرت کے موقعہ پر ویل۔ تحقیر کے موقعہ پر ویس اور ترحم کے موقعہ پر ویح کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً یویلنا من بعثنا من مرقدنا (36:52) واحسرتا ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے جگا اٹھایا۔ آیۂ ہذا میں ہلاکت و عذاب کے معنوں میں آیا ہے۔
مشھد۔ یہ مصدر میمی ہے بمعنی شھود۔ حاضر ہونا۔ موجود ہونا۔ (باب کرم، سمع) اسم ظرف مکان بھی ہوسکتا ہے۔ لوگوں کے حاضر ہونے کی جگہ۔ اور اسم ظرف زمان بھی ہوسکتا ہے۔ حاضری کا وقت۔
یوم عظیم۔ موصوف صفت ملکر مضاف الیہ۔ مشہد مضاف۔ یوم عظیم سے مراد یوم قیامت ہے۔ جو بوجہ طوالت کے بھی یوم عظیم ہوگا۔ اور بوجہ شدت وہول بھی عظیم ہوگا۔ مشہد یوم عظیم یعنی (اس) بڑے دن کی حاضری سے۔
Ayah 19:38(19:38) اسمع بہم وابصر (بہم) افعال تعجب ہیں یعنی ما اسمعہم وما ابصرہم۔ کیا ہی خوب سننے والے ہوں گے وہ اور کیا ہی خوب دیکھنے والے۔ یعنی اس روز ان کی قوت شنوائی اور قوت بینائی بدرجہ اتم ہوگی۔ جیسا کہ سورة ق میں بھی یہی مضمون آیا ہے۔ فکشفنا عنک غطاءک فبصرک الیوم حدید۔ (50:22) سو ہم نے تجھ پر سے تیرا پردہ ہٹا دیا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔
یوم یا توننا۔ جس روز وہ ہمارے پاس آئیں گے۔ الیوم۔ آج کے دن۔ آج (یعنی یہاں اس دنیا میں آج یہ غفلت میں پڑے ہیں اور ایمان نہیں لا رہے۔
Ayahs 19:39–40(19:39) یوم الحسرۃ۔ ای یوم القیامۃ۔ الحسرۃ مصدر ہے جس کے معنی ہیں غم۔ یا جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اس پر پشیمان اور نادم ہونا۔ الحسر۔ (نصر۔ ضرب) کے معنی کسی چیز کو ننگا کرنے اور اس سے پردہ اٹھانے کے ہیں۔ جیسے حسرت عن الذراع میں نے آستین چڑھائی۔ اسی سے حسیر بمعنی حاسرتھ کی ہوئی۔ درماندہ۔ اس تصور کے پیش نظر کہ اس نے اپنے قوی کو ننگا کردیا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے ینقلب الیک البصر وھو حسیر۔ (67:4) نظر (ہر بار) تیری طرف نکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔
انذرہم۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ہم۔ ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو ڈرا ۔ اذ قضی الامر۔ جب ہر بات کا اخیر فیصلہ کردیا جائے گا۔ یعنی جب جنت اور دوزخ دونوں کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ اہل جنت اور اہل دوزخ کو خلود کا حکم سنا کر موت کو ان کے سامنے ذبح کردیا جائے گا۔ اذ یا تو یوم کا بدل ہے یا الحسرۃ سے متعلق ہے۔ اور اس کا ظرف ہے۔
وہم فی غفلۃ وہم لا یؤمنون۔ یہ دونوں جملے یا تو انذرہم کے حال ہیں یعنی آپ انہیں ڈرائیے جب کہ ان کی حالت یہ ہے کہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایمان نہیں لا رہے۔ یا ان دونوں جملوں کا عطف فی ضلال مبین پر ہے اور انذرہم۔۔ الامر جملہ معترضہ ہے۔