Explained with ayahs 96–98
اللہ تعالیٰ کا امین فرشتہ۔
فرمان ہے کہ جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کردیں گے۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو حضرت جبرائیل ؑ کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ۔ اللہ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے پھر آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے تو جبرائیل ؑ سے فرماتا ہے کہ اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
سورة مَرْیَم 53
یعنی آج مکہ کی گلیوں میں وہ ذلیل و رسوا کیے جارہے ہیں۔ مگر یہ حالت دیر پا نہیں ہے۔ قریب ہے وہ وقت جبکہ اپنے اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کی وجہ سے وہ محبوب خلائق ہو کر رہیں گے۔ دل ان کی طرف کھنچیں گے۔ دنیا ان کے آگے پلکیں بچھائے گی۔ فسق و فجور، رعونت اور کبر، جھوٹ اور ریا کاری کے بل پر جو سیادت قیادت چلتی ہو وہ گردنوں کو چاہے جھکالے، دلوں کو مسخر نہیں کرسکتی۔ اس کے برعکس جو لوگ صداقت، دیانت، اخلاص اور حسن اخلاق کے ساتھ راہ راست کی طرف دعوت دیں، ان سے اول چاہے دنیا کتنی ہی اپرائے، آخر کار وہ دلوں کو موہ لیتے ہیں اور بد دیانت لوگوں کا جھوٹ زیادہ دیر تک ان کا راستہ روکے نہیں رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا، یعنی ایمان اور عمل صالح پر قائم رہنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کردیتے ہیں دوستی اور محبت، یعنی ایمان اور عمل صالح جب مکمل ہوں اور بیرونی عوارض سے خالی ہوں تو ان کا خاصہ یہ ہے کہ مومنین صالحین کے درمیان آپس میں بھی الفت و محبت ہوجاتی ہے۔ ایک نیک صالح آدمی دوسرے نیک آدمی سے مانوس ہوتا ہے اور دوسرے تمام لوگوں اور مخلوقات کے دلوں میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی محبت پیدا فرما دیتے ہیں۔
بخاری، مسلم، ترمذی، وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ جب کسی بندے کو پسند فرماتے ہیں تو جبرئیل امین سے کہتے ہیں کہ میں فلاں آدمی سے محبت…
Read the full tafseer →فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْمًا لُدًّا۔
یَسَّرْنَاهُ ، میں ضمیر کا مرجع قرٓن ہے۔ اگرچہ مرجع لفظوں میں مذکور نہیں ہے لیکن سورة میں چونکہ شروع سے یہ بحث چلی ٓ رہی ہے کہ تمام انبیاٗ کی اصل دعوت یہی رہی ہے جو قرٓن دے رہا ہے ت گویا زیر بحث یہاں قرٓن ہی ہے۔ اس قسم کے سیاق میں ضمیر بلا مرجع لانا نہ صرف یہ کہ کوئی عیب نہیں ہے بلکہ یہ تقاضائے بلاغت ہے یہ اسلوب مرجع کی شان پر دلیل ہوتا ہے کہ ہرچند وہ مذکور نہیں لیکن بغیر ذکر کے بھی ہر شخص جانتا ہے۔ قرآن میں اس کی مثالیں عام ہیں۔
" تیسیر " کے معنی عام طور پر لوگوں نے آسان بنانا سمجھا ہے اور آیت…
Read the full tafseer →97۔ 1 قرآن کو آسان کرنے کا مطلب اس زبان میں اتارنا ہے جس کو پیغمبر جانتا تھا یعنی عربی زبان میں، پھر اس کے مضمون کا کھلا ہونا، واضح اور صاف ہونا۔
97۔ 2 لُدَّا (أَلَدُّ کی جمع) کے معنی جھگڑا لو کے ہیں مراد کفار و مشرکین ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
37: یعنی اس وقت تو مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ کفار ان کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔ لیکن عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب مخلوق خدا کے دلوں میں ان مسلمانوں کی محبت پیدا ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →یہ سورة ایک ایسے منظر پر ختم ہوتی ہے جس کو دیکھ کر ہر انسان ایک طویل وقفے کے لئے غور کرتا ہے اور انسانی شعور و وجدان کے اندر ایک طویل تاثر قائم رہتا ہے اور ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ انسان سوچتاہی رہ جاتا ہے اور دیر تک غور کرتارہتا ہے۔
Read the full tafseer →4 یعنی قرآن کریم نہایت سہل و صاف زبان میں کھول کھول کر پرہیزگاروں کو بشارت سناتا اور جھگڑالو لوگوں کو بد کرداریوں کے خراب نتائج سے خبردار کرتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 97 فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِکَ ”
قرآن کی زبان سہل ممتنع کا خوبصورت نمونہ ہے۔ عام قرآنی عبارت سلیس اور آسان عربی زبان میں ہے۔ اس میں ثقیل اور مشکل الفاظ شاذ ہی کہیں نظر آتے ہیں۔
لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیْنَ وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا ”
یعنی آپ ﷺ کی دعوت کا ذریعہ اور وسیلہ ‘ آپ ﷺ کی تعلیمات کا مرکز و محور اور آپ ﷺ کا آلۂ انقلاب یہی قرآن ہے۔ آپ ﷺ اسی کے ذریعے سے وعظ و تذکیر کا فریضہ انجام دیں اور اسی کی مدد سے انذار وتبشیر کا حق ادا کریں : فَذَکِّرْ بالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ قٓ ”تو آپ ﷺ نصیحت کرتے رہیں قرآن کے ساتھ ہر اس شخص کو جو ڈرتا ہے میری وعید سے“۔ قرآن ایک مؤثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
83 قوما لُدّا سے مراد ہٹ دھرم، جھگڑالو اور کج بحثی کرنے والے قریشی سردار ہیں۔ جو ہر بات میں میں میخ نکالنے کے عادی تھے۔ انھیں ہی یہ تنبیہ کی جارہی ہے کہ تمہارے جیسی بہت سی اقوام کو ہم نے یوں تہس نہس کردیا کہ ان کا نام و نشان تک صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے۔ اور ان کی شیخیوں، گستاخیوں اور لن ترانیوں کی آج بھنک تک سنائی نہیں دیتی۔
Read the full tafseer →130۔ آیت سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ قرآن کی آسانی صاحب قرآن پر اسی غرض سے ہے کہ وہ اس کے مطالب کو سمجھ کر ان سے بشارت اور انذار دونوں کا کام لیں۔ اور اسی سے فقہاء نے یہ نکالا ہے کہ جس پر قرآن آسان ہوجائے یعنی علماء وماہرین فن۔ ان پر واجب ہے کہ قرآن کی تعلیم وتذکیر کرتے رہیں (آیت) ” المتقین “۔ مراد مومنین ہیں کہ شرک وکفر سے متقی ہر مومن ہوتا ہی ہے۔ المتقین ال مومنین (مدارک) (آیت) ” قوما لدا “۔ بڑی جھگڑا لو قوم سے مراد کون سی قوم ہے ؟ ظاہر ہے کہ کل وہ منکر اسلام قومیں جو رسول اللہ ﷺ کی مخاطب اول تھیں لیکن جس تفصیل اور شدت کے ساتھ اس سورت میں عقیدہ ولدیت الہی کا رد کیا گیا ہے اس سے اشارہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
آیت نمبر 83 تا 98
ترجمہ : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے جو انہیں معصیت پر خوب اکساتے ابھارتے رہتے ہیں تو آپ ان پر عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کیجئے ہم تو خود ہی ان کے لیل و نہار یا سانس عذاب کے وقت تک (موت تک) شمار کر رہے ہیں، اس دن کا بھی تذکرہ کیجئے جس دن ہم متقیوں کو ان کے ایمان کی بدولت (بطور) مہمان سوار کر کے جمع کریں گے وفدٌ وافد کی جمع ہے معنی میں راکبٌ کے ہے اور مجرمین کو ان کے کفر کے سبب سے سخت پیاس کی حالت میں دوزخ کی طرف ہانکیں گے ورْدٌ واردٌ کی جمع ہے پیاسے پیدل کسی شخص کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا بجز اس شخص کے جس نے رحمٰن کے پاس سے اجازت لی ہو (اور…
Read the full tafseer →فانما یسرنہ بلسانک لتشبربہ المتقین وتنذربہ قوماً لدا۔ سو ہم نے اس قرآن کو آپ
کی زبان میں اس لئے آسان کیا ہے کہ آپ اس سے متقیوں کو خوش خبری سنائیں نیز اس سے جھگڑا لو لوگوں کو خوف دلائیں۔
بِلِسَانِکَیعنی آپ کی زبان پر اس کو آسان کردیا ہے ‘ اس صورت میں ب بمعنی علیٰ (پر) ہوگا یا آپ کی زبان (یعنی عربی) میں آسان کردیا ہے ‘ یعنی سہولت آگیں کیفیت میں نازل کیا ہے۔
میں کہتا ہوں بِلِسَانِکَکا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی امت پر آسان کردیا ہے آپ کی زبان میں اتار کر (دوسری زبانوں میں نہیں اتارا کہ عرب کو سمجھنے میں دشواری ہوتی)
لُدّ (الد کی جمع ہے) سخت جھگڑالو لوگ جو حق واضح ہونے کے بعد بھی اس کو قبول…
Read the full tafseer →(97) اور ہم نے اس قرآن کریم کی قرأت کو آپ پر اس لیے آسان کیا ہے تاکہ آپ اس سے کفر وشرک اور برائیوں سے بچنے والوں کو خوشخبری سنائیں اور اس کے ذریعے سے جھگڑا لو لوگوں کو خوف دلائیں۔
Read the full tafseer → فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ۔۔ : یہ ساری سورت بلکہ پورا قرآن متقین کو خوش خبری اور منکرین کو ڈرانے کے لیے ہے۔ اس آیت سے پہلی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ کی اولاد بتانے والوں کی تردید اور ان کا انجام بد مذکور ہے اور ایمان اور عمل صالح والوں کو حصول محبت کی خوش خبری دی گئی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے قرآن مجید میں تین خوبیاں رکھنے کا ذکر فرمایا، تاکہ بشارت و نذارت بہترین طریقے سے ہو سکے۔ پہلی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے آسان کردیا ہے اور اللہ کی آسان کی ہوئی چیز سے زیادہ آسان کیا چیز ہوگی۔ دیکھیے سورة قمر (17) دوسری یہ کہ اسے رسول اللہ ﷺ کی زبان ”عربی“ میں اتارا جس سے زیادہ…
Read the full tafseer →(تفسیر 97) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانما یسرنہ بلسانک یعنی ہم نے آپ کی عربی زبان میں قرآن کو بیان کیا اور ہم نے اسے غورو فکر کرنے والے پر آسان بنا دیا۔ بعض علماء نے فرمایا : ہم نے اسے تجھ پر عرب کی زبان میں نازل کیا تاکہ ان پر اس کا سمجھنا آسان ہوجائے۔ لتبشر بہ المتقین یعنی اس کے ساتھ آپ مومنین کو بشارت دیں۔ وتنذربہ قوماا لدا۔ اللد جمع ہے الالد کی سخت جھگڑالو آدمی ؛ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الد الخصام، شاعر نے کہا :
ابیت نجیا لھموم کائنی اخاصم اقواماً وی جدل لدا
ابو عبیدہ نے کہا : الالدا سے کہتے ہیں جو حق کو قبول نہ کرتا ہو اور باطل کا دعویٰ کرتا ہو۔ حسن نے کہا : اللد حق سننے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–97
1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عباسؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد جئتم شیئا ادا “ یعنی بڑی بات (اور فرمایا) (آیت) ” تکاد السموت یتفطرن منہ “ یعنی شرک سے آسمان زمین پہاڑ اور ساری مخلوق خوف زدہ ہوجاتی ہے مگر انسان اور جنات (خوف زدہ نہیں ہوتے) اور قریب ہے کہ اس شرک کی وجہ سے اللہ کی عظمت کے لئے (سب چیزیں) نیچے گرپڑیں اور جیسے کہ مشرک کی کوئی نیکی شرک کے ساتھ نفع نہیں دیتی اسی طرح ہم امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ موحدین کے گناہوں کو بخش دیں کے (اور فرمایا) (آیت) ” وتخر الجبال ھدا “ یعنی گرپڑنا۔
اللہ تعالیٰ کے ذکر کرنے والوں سے پہاڑ کا خوش ہونا :
2:۔ ابن مبارک، سعید بن منصور، ابن ابی…
Read the full tafseer →[فَانمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [يَسَّرْنٰهُ : ہم نے آسان کیا اس (قرآن) کو ] [بِلِسَانكَ : آپ ﷺ کی زبان میں ] [لِتُبَشِّرَ : تاکہ آپ ﷺ بشارت دیں ] [بِهِ : اس سے ] [الْمُتَّقِيْنَ : متقی لوگوں کو ] [وَتُنْذِرَ : اور تاکہ آپ ﷺ خبردار کریں ] [بِهٖ : اس سے ] [قَوْمًا لُّدًّا : ایک انتہائی ہٹ دھرم قوم کو ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا) (سو ہم نے قرآن کو آپ کی زبان پر آسان کردیا تاکہ آپ اس کے ذریعہ متقی لوگوں کو بشارت دیں اور اس کے ذریعہ جھگڑالو قوم کو ڈرائیں) ۔
قرآن مجید عربی زبان میں ہے جو سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان تھی آپ نے کسی سے پڑھا نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے آپ کے لیے آسان فرما دیا اور آپ کی امت کے لیے بھی آسان کردیا عربی اور عجمی چھوٹے بڑے سبھی پڑھتے ہیں اور اس کے مضامین سمجھتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ متقین کو یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو بشارت دیتے رہے اور جھگڑالو قوم کو ڈراتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–98
ابطال عقیدۂ ابنیت وبیان ضلال و وبال منکرین وحدانیت و منکرین قیامت برائے تسلیہء نبی اکرم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ۔ و اتخذوا من دون اللہ اٰلھۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ او تسمع لھم رکزا
(ربط) شروع سورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبودیت اور بلا باپ کے ان کی ولادت کا ذکر فرمایا تاکہ ان کی والدۂ ماجدہ کی عصمت و نزاہت ثابت ہوجائے اور یہود بےبہبود کا رد ہو جو حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو ولد الزنا اور ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان لوگوں کے زعم فاسد کا رد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں اور اس پر گھمنڈ کرتے ہیں۔
نیز گزشتہ آیت میں قیامت اور خدا پرستوں کا حال اور مآل بیان فرمایا۔…
Read the full tafseer →65:۔ یہ تمام سورت سے متعلق ہے اور اس آیت میں نہایت اختصار سے اس مضمون کو ذکر کیا گیا ہے جو سورة کہف کی ابتدائی آیتوں میں مذکور ہے۔ یعنی شرک سے بچنے والوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف اتخاذ ولد کی نسبت سے احتراز کرنے والوں کو خوشخبری سنانا اور اللہ تعالیٰ کی طرف ولد اور نائب کی نسبت کرنے والے مشرکین کو ڈر سنانا۔ یہاں پہلی جماعت کو المتقین سے اور دوسرے فریق کو ” قَوْمًا لُّدًّا “ سے تعبیر کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اولاد تجویز کرنے والوں کا رد فرمایا کفر کی یہ بدترین صورت ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کا ذریعہ ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس قسم کا غلط عقیدہ رکھنے والوں کو ہم نے شمار کر رکھا ہے پھر قیامت کے دن جب تن تنہا اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو انہیں اس باطل عقیدے کی قباحت کا احساس ہوگا ، اب آگے اللہ نے اہل ایمان کی فضیلت ، مرتبہ اور ان کا انجام بیان فرمایا ہے اس کے ساتھ ساتھ بعض انعامات کا ذکر بھی کیا ہے جو اہل ایمان کی نصیب ہوتے ہیں ۔
(ایمان اصطلاح قرآن)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان الذین امنوا “۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے جس طرح کفر ،…
Read the full tafseer →فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِيْنَ وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا 97
سير
السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير
( س ی ر ) السیر
( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے والے آدمی کو سائر وسیار کہا جاتا ہے ۔ اور ایک ساتھ چلنے والوں کی جماعت کو سیارۃ کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ( اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب ) ایک قافلہ دار ہوا ۔
لسن
اللِّسَانُ : الجارحة وقوّتها،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
1 ؎ وہ محبوب خلائق ہوجائیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ 12۔
Read the full tafseer →فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰـہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیْنَ وَتُنْذِرَبِہٖ قَوْمًا لُّدًّا۔ (مریم : 97)
(پس ہم نے اس قرآن کریم کو آپ ﷺ کی زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کو بشارت دیں اور جھگڑالو قوم کو انذار کریں۔ )
یَسَّرْنٰـہُ … میں ضمیر کا مرجع قرآن کریم ہے کیونکہ بِلِسَانِکَ اس پر قرینہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کے منصبی فرائض قرآن کریم نے شمار کیے ہیں ان میں پہلا فرض قرآن کریم لوگوں کو پڑھ کر سنانا ہے اور اس کی تبلیغ و دعوت دینی ہے۔ اور یہ کام زبان کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ تو اس سے خودبخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب یہ کہا جائے گا کہ آپ ﷺ کی زبان پر اس کو ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
فہم القرآن
ربط کلام : نزول قرآن کا مقصد، متقین کو خوشخبری سنانا اور مجرمین کو ان کے انجام سے آگاہ کرنا ہے۔
قرآن مجید میں بار ہا دفعہ رسول اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ یہی قرآن مجید کی دعوت اور اس میں بیان ہونے والے واقعات کا مدّعا ہے کہ لوگوں کے سامنے متقین کا عقیدہ اور کردار بیان کیا جائے ان کے مقابلہ میں کفار اور مشرکین کا عقیدہ کردار اور ان کا انجام ذکر کیا جائے تاکہ جرائم پیشہ لوگ اپنے برے عقیدہ اور گھناؤنے کردار سے باز آئیں۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی بغاوت کا راستہ اختیار کیا ان میں بڑی بڑی اقوام کو اس طرح تہس نہس کیا کہ آج…
Read the full tafseer →97: فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰـہُ (پس ہم نے اس قرآن کو آسان کیا ہے) ہٗ کی ضمیر کا مرجع قرآن ہے کہ ہم نے اس قرآن کو آسان کردیا۔ بِلِسَانِکَ (آپ کی زبان میں) آپ کی لغت میں۔
نحو : یہ حال ہے لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیْنَ (تاکہ آپ اس سے متقین کو خوشخبری سنائیں) متقین سے مومن مراد ہیں۔ وَتُنْذِرَبِہٖ قَوْمًا لُّدًّا ( اور آپ ڈرائیں جھگڑالو قوم کو) جو باطل جھگڑے میں بڑے سخت ہیں جو کہ ہر جھگڑے اور اختلاف میں پڑے ہیں جدال ہو یا دکھلاوا۔ لُدّا یہ اَلَد کی جمع ہے۔ مراد اس سے اہل مکہ ہیں۔
Read the full tafseer →97۔ فانما یسرناہ بلسانک، ، کہ ہم نے قران کو آپ کی زبان پر آسان کردیا، اے محمد، ، لتبشر بہ المتقین ، ، اس سے مومنین مراد ہیں۔ وتنذر بہ قومالدا، ، سخت جھگڑالو ، یہ الد کی جمع ہے۔ حسن کا قول ہے کہ حق سے بہرہونا مجاہد کا قول ہے کہ الدا، اس ظالم کو کہتے ہیں جو کبھی راہ راست پر نہ آئے ۔ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ الد وہ شخص ہے جو باطل کا مدعی ہو اور حق کامنکر ہو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
97۔ 98:۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش میں کے بعضے لوگ قرآن کی آیتیں سن کر طرح طرح کے جھگڑے نکالتے ہیں اور بعضوں کی ہدایت قرآن کی نئی نئی آیتوں سے دن بدن بڑھتی جاتی ہے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن عربی زبان میں اس آسانی کے لیے نازل کیا گیا ہے کہ تم عقبیٰ کی خرابی سے ڈرا کر نیک کام کرنے والوں کو عذاب آخرت سے نجات اور جنت میں داخل ہونے کی خوشی اور جھگڑالو لوگوں کو عذاب آخرت کا ڈر سنا دو اس پر بھی ان میں کے جو لوگ سرکشی اور بےجا جھگڑوں سے ہو کر آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوچکے ہیں کہ دنیا میں کہیں ان کا نشان تک باقی نہیں رہا اگر یہ لوگ بھی ان پچھلی قوموں کے قدم بقدم چلیں گے تو یہی انجام ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
آیت 97
(1) صحیح البخاری، الادب، باب المقۃ من اللہ تعالیٰ “ ح :6.30 و صحیح مسلم، البرو اصلۃ باب اذا اجب اللہ عبدا۔۔۔ ، ح :2638)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی نعمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی زبان اقدس پر اس قرآن کریم کو آسان کیا۔ اس کے الفاظ و معانی کو عام فہم بنایا تاکہ مقصد حاصل ہوا اور اس سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ (لتبشربہ المتقین) تاکہ آپ دنیاوی اور اخروی ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے متقین کو بشارت دیں اور ان اسباب کا ذکر کریں جو بشارت کے موجب ہیں۔ (وتنذربہ قوماً لداً ) تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جو اپنے باطل میں نہایت سخت اور اپنے کفر میں نہایت قوی ہیں۔ اس طرح ان پر حجت قائم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
قول باری ہے (ان الذین امنوا وعملوا الصلحات سیجعل لھم الرحمٰن وداً ۔ یقینا جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عمل صالح کر رہے ہیں عنقریب رحمان ا ن کے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا) ان کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو یہ کہ آخرت میں یہ ایک دوسرے سے اسی طرح محبت کریں گے جس طرح والد کو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے۔ دوسرا قول حضرت ابن عباس اور مجاہد کا ہے کہ دنیا کے اندر محبت پیدا کر دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
99 قرآن حکیم ذریعہ انذار وتبشیر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم جھگڑالو اور ضدی لوگوں کے لیے انذار اور متقی و پرہیزگار لوگوں کے لیے عظیم الشان بشارت ہے۔ پس جو حق اور اہل حق کے خلاف ضد وعناد اور اپنے جھگڑالو پن اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں ان کے لیے تو یہ انذار اور تنبیہ ہے۔ سو ان کو اس کلام حق و صدق ترجمان کے ذریعے ڈراتے اور خبر دار کرتے رہو تاکہ یہ راہ حق و صواب کی طرف لوٹ کر اپنے اس برے انجام سے بچ سکیں جس کی راہ پر یہ گامزن ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس انذار سے خود انہی کا بھلا مقصود ہے۔ پس اس کی تعلیمات مقدسہ کو اپنانے میں خود انہی لوگوں کا بھلا اور فائدہ ہے۔ اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–98
اللہ تعالیٰ رشتے ناتے سے بےنیاز ہے
تشریح : یہودی اور عیسائی مشرک ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے پیغمبر کی تعلیمات جو کہ توحید کا سبق دیتی ہیں ان کو چھوڑ کر پیغمبروں کو ہی اللہ اور اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ شرک اس قدر شدید گناہ ہے کہ اس سے دنیا تہس نہس ہوسکتی ہے۔ اللہ کیونکہ غفور الرحیم ہے، اس لیے وہ گنہگاروں، مشرکوں اور کافروں کو فوراً عذاب نہیں دیتا، مگر ان کے برے انجام کے بارے میں قرآن میں بار بار اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح توحید کی خصوصیات، نیک اور بد لوگوں کا انجام بہت دفعہ بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹرطارق السویڈان بیان کرتے ہیں۔
(1) دنیا اور آخرت 115 دفعہ قرآن میں آیا ہے۔ (2) فرشتے اور شیطان 88…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
(انسان پر شیطان کا تسلط)
یہ ان کے کردار سے ظاہر ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ان کے بداعمال اور کفر کی سزا کے طور پر شیطانوں کو ان پر غلبہ دے دیا ہے اور وہ شیطان انہیں ہر لمحہ برُائی پر ابھارتے رہتے ہیں اور اسی کو ان کی نگاہوں میں سجاتے رہتے ہیں ۔ لہذا جلدی کی تو کوئی بات نہیں کہ پہلے ہی انسان کے پاس بہت محدود سی زندگی ہے اور وہ اوقات تو اسے پورا کرنے کی اجازت ہے نیز یہ اس روز قابل دید حال میں ہوں گے جب مومینن بہت عزت واحترام کے ساتھ اللہ کریم جو بہت رحم کرنے والا ہے کہ بارگاہ میں مہمانی سے مشرف ہو رہے ہوں گے اور یہ بدکار جہنم کی طرف پیاسے ہانکے جا رہے ہوں گے ایسی حالت میں…
Read the full tafseer →ف 11 جو کسی طرح حق بات نہیں ماننے اور اس میں میں میخ نکالتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو قرآن میں سخت وعید سنائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
(19:96) ودا۔ محبت۔ یسرناہ۔ ہم نے اسے آسان کردیا ہے۔ تیسیر تفعیل مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ۔ سے مراد القرآن ہے۔ بلسانک۔ تیری زبان میں۔ ای بلسانک العربی المبین۔
لدا۔ بہت جھگڑالو۔ جمع اس کا واحد الد ہے اس کا مادہ لدد ہے۔ گردن کے دائیں بائیں پہلو کو لددکہتے ہیں۔ شدید اللدد وہ شخص جس کی گردن کو کوئی پھیر نہ سکے۔ مراد وہ آدمی جس کو اس کے ارادہ سے باز نہ رکھا جاسکے۔ جس کو کوئی راستی پر نہ لاسکے۔ لد اس نے سخت جھگڑا کیا۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے وھوالد الخصام (2:2040) اور وہ سخت جھگڑالو ہے۔ قوما لداجھگڑالو لوگ۔ جھگڑالو قوم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–98
لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 98
اِد سخت، بھاری چیز۔ تکاد قریب ہے۔ یتفطرن پھٹ پڑیں گے۔ تنشق ٹکڑے ہوجائیں گے۔ تخر ڈھے پڑیں، گر جائیں۔ ھد دھڑام سے گرنا۔ ماینبغی شایان شان نہیں ہے۔ احصی اس نے شمار کر رکھا ہے۔ عد گنتی۔ ود محبت لد جھگڑالو آدمی۔ رکز آہٹ، سرسراہٹ۔
تشریح :- آیت نمبر 88 تا 98
سورة مریم کی آیات کو نصاریٰ کے اس قول اور عقیدے پر ختم کیا گیا ہے جس میں انہوں نے نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں) اللہ کا بیٹا ثابت کرنے کی مجرمانہ کوشش کی ہے۔ حالانکہ اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے گہوارے ہی میں اس بات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
ان آیتوں میں فرمایا :" اے رسول اللہ کے ! یہ قرآن عربی زبان میں اس آسانی کے لئے نازل کیا گیا کہ تم عقبیٰ کی خربی سے ڈرایا کرو ۔ نیک کام کرنے والوں کو عذاب آخرت سے نجات ، اور جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری، اور جھگڑالو لوگوں کو عذاب آخرت کا ڈر سنا دو ۔ اس پر بھی ان میں سے جو لوگ سرکشی اور بےجا جھگڑوں سے باز نہ آویں، تو ان کو یہ جتلا دیا جاوے کہ ان سے پہلے بہت سے جھگڑالو لوگ طرح طرح کے عذابوں سے اس طرح دنیا میں ہلاک ہو کر آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوچکے ہیں، کہ دنیا میں کہیں ان کا نشان تک باقی نہیں رہا۔ اگر یہ لوگ بھی ان پچھلی قوموں کے قدم بقدم چلیں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا۔ اللہ سچا ہے، اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
[33] یعنی لوگ ان کی طرف کھچیں گے اور وہ اپنے اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کی وجہ سے محبوب خلائق ہو کر رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
(ف 2) اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ان حقائق کو عربی میں کیوں جان کیا گیا ہے ؟ اس لئے کہ حضور ﷺ ان باتوں کو خوش اسلوبی سے دوسروں تک پہنچا سکیں ؟
حل لغات :
ودا : محبوبیت : ، محبت ، لدا : جمع الد ، جھگڑالو ، ضدی جدل کرنے والے ، رکزا : گن سن آواز ۔
Read the full tafseer →-97 سو اے پیغمبر ! ہم نے اس قرآن کریم کو آپ کی زبان میں اس لئے آسان کیا ہے تاکہ آپ اس کی وجہ سے متقیوں کو اور خدا سے ڈرنے والوں کو خوشخبری دے دیں اور خوشی سنا دیں اور اس قرآن کریم کے ذریعہ جھگڑالو اور جھگڑا کرنے والوں کو ڈرا دیں۔ یعنی قرآن کریم کو آپ کی زبان عربی میں اس لئے آسان کیا ہے تاکہ جو نیک لوگ بشارت کے مستحق ہیں ان کو بشارت سنا دیجیے اور جو جھگڑالو اور معاند ہیں ان کو عذاب الٰہی سے ڈرا دیجیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
ف 4۔ یہ کنایہ ہے بےنام و نشان ہونے سے۔
Read the full tafseer →قرآن کریم کو آپ کی زبان پر آسان کردیا ہے تاکہ اکھڑ قوم کو سمجھایا جائے :
97۔ زیر نظر آیت میں قرآن کریم کے نزول کی ضرورت اور اس کی تفہیم کا طریقہ بتا دیا گیا فرمایا ہم نے قرآن کریم کو آپ کی زبان پر اے پیغمبر اسلام ! بالکل آسان کردیا ہے تاکہ آپ ﷺ متقین کو مژدہ جاں افزا سنائیں کہ جنت کو خدائے رحمن نے اپنے بندوں کے لئے وراثت کے طور پر سنبھال رکھا ہے اور ان میں یقینا وہ تقسیم کردیا جائے گا اور یہ میراث میراث پانے والوں ہی کی قرار دی جائے گی اور اس دنیا کی قوموں میں ز سے جو اکھڑ اکھڑ قومیں ہیں ان میں ان کو ڈرایا گیا ہے تاکہ وہ ڈر کر اپنی حالت کو سنوار سکیں اور یہ کہ ان کے کان اچھی طرح کھول دیئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَـٰنُ وُدًّا
"For them the Rahman (All-Merciful) will create love." - 19:96.
It means that for those who are steadfast in their faith in Him, Allah creates an environment of friendship and love for each other, which consequently promotes mutual amity and goodwill among the true Muslims. Furthermore, by their conduct and behavior they command the admiration and respect of all those with whom they come into contact. Bukhari, Tirmidhi and others have related on the authority of Sayyidna Abu Hurairah ؓ that the Holy Prophet ﷺ once said that when Allah Ta’ ala is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
53. This is to comfort the righteous people who were being persecuted and insulted in the streets of Makkah. They are being assured that the time is coming near when the people will honor and love them because of their righteous deeds and good conduct. Hearts will be attracted towards them and the world will hold them in high esteem. And this will happen according to a universal principle. Those who are wicked, proud and haughty and try to rule over the people with falsehood and hypocrisy can never captivate the hearts of the people. On the other hand, those who invite the people to the right…
Read the full tafseer →