Explained with ayahs 96–98
اللہ تعالیٰ کا امین فرشتہ۔
فرمان ہے کہ جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کردیں گے۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو حضرت جبرائیل ؑ کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ۔ اللہ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے پھر آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے تو جبرائیل ؑ سے فرماتا ہے کہ اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
سورة مَرْیَم 53
یعنی آج مکہ کی گلیوں میں وہ ذلیل و رسوا کیے جارہے ہیں۔ مگر یہ حالت دیر پا نہیں ہے۔ قریب ہے وہ وقت جبکہ اپنے اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کی وجہ سے وہ محبوب خلائق ہو کر رہیں گے۔ دل ان کی طرف کھنچیں گے۔ دنیا ان کے آگے پلکیں بچھائے گی۔ فسق و فجور، رعونت اور کبر، جھوٹ اور ریا کاری کے بل پر جو سیادت قیادت چلتی ہو وہ گردنوں کو چاہے جھکالے، دلوں کو مسخر نہیں کرسکتی۔ اس کے برعکس جو لوگ صداقت، دیانت، اخلاص اور حسن اخلاق کے ساتھ راہ راست کی طرف دعوت دیں، ان سے اول چاہے دنیا کتنی ہی اپرائے، آخر کار وہ دلوں کو موہ لیتے ہیں اور بد دیانت لوگوں کا جھوٹ زیادہ دیر تک ان کا راستہ روکے نہیں رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا، یعنی ایمان اور عمل صالح پر قائم رہنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کردیتے ہیں دوستی اور محبت، یعنی ایمان اور عمل صالح جب مکمل ہوں اور بیرونی عوارض سے خالی ہوں تو ان کا خاصہ یہ ہے کہ مومنین صالحین کے درمیان آپس میں بھی الفت و محبت ہوجاتی ہے۔ ایک نیک صالح آدمی دوسرے نیک آدمی سے مانوس ہوتا ہے اور دوسرے تمام لوگوں اور مخلوقات کے دلوں میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی محبت پیدا فرما دیتے ہیں۔
بخاری، مسلم، ترمذی، وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ جب کسی بندے کو پسند فرماتے ہیں تو جبرئیل امین سے کہتے ہیں کہ میں فلاں آدمی سے محبت…
Read the full tafseer →إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا۔
فتحمند ٹیم کا حال : اب یہ ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو اس کسمپرسی اور نفسی نفسی کی حالت سے محفوظ ہوں گے۔ فرمایا کہ البتہ وہ لوگ جنہوں نے ایمان و عمل صالح کی زندگی گزاری ہوگی ان کے لیے خدائے رحمان ہر طرف مہر و محبت کی فضا پیدا کردے گا۔ یہاں بات اجمال کے ساتھ ارشاد ہوئی ہے لیکن دوسرے مقامات میں تصریح ہے کہ ا دن اہل ایمان کا خیر مقدم فرشتے بھی سلام و تحیت کے ساتھ کریں گے، رب العزت کی طرف سے بھی ان کو سلام کہلایا جائے گا اور خود اہل ایمان بھی ایک فتحمند ٹیم کی طرح ایک دوسرے کو مبارک باد دیں گے۔ غرض ہر طرف فضا…
Read the full tafseer →96۔ 1 یعنی دنیا میں لوگوں کے دلوں میں اس کی نیکی اور پارسائی کی وجہ سے محبت پیدا کر دے گا، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے ' جب اللہ تعالیٰ کسی (نیک) بندے کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے تو اللہ جبرائیل ؑ کو کہتا ہے، میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ پس جبرائیل ؑ بھی اس سے محبت کرنی شروع کردیتے ہیں پھر جبرائیل ؑ آسمان میں منادی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، پس تمام آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لئے قبولیت اور پذیرائی رکھ دی جاتی ہے ' (صحیح بخاری)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
37: یعنی اس وقت تو مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ کفار ان کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔ لیکن عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب مخلوق خدا کے دلوں میں ان مسلمانوں کی محبت پیدا ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →یہاں محبتوں کے تحفے فضا کو معطر بنا دیتے ہیں۔ اللہ کی رضا مندی کی روح انسانی نفوس کے اندر سرایت کرج اتی ہے۔ عالم بالا میں اس روح کا دور دورہ ہوتا ہے۔ پھر یہ روح زمین پر اترتی ہے اور لوگوں میں پھییل جاتی ہے۔ تمام فضا ‘ پوری سوسائٹی اور پوری زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلاتا ہے اور کہتا ہے جبرائیل ! میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں ‘ پس تم بھی اس سے محبت رکھو۔ فرمایا تو جبرائیل اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر آسمان والوں میں منادی کی جاتی ہے کہ سنو ‘ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے ‘ اس سے…
Read the full tafseer →3 یعنی ان کو اپنی محبت دے گا، یا خود ان سے محبت کرے گا، یا خلق کے دل میں ان کی محبت ڈالے گا۔ احادیث میں ہے کہ جب حق تعالیٰ کسی بندہ کو محبوب رکھتا ہے تو اول جبرائیل کو آگاہ کرتا ہے کہ میں فلاں بندہ سے محبت کرتا ہوں تو بھی کر، وہ آسمانوں میں اس کا اعلان کرتے ہیں۔ آسمانوں سے اترتی ہوئی اس کی محبت زمین پر پہنچ جاتی ہے اور زمین والوں میں اس بندہ کو حسن قبول حاصل ہوتا ہے۔ یعنی بےتعلق لوگ جن کا کوئی خاص نفع و ضرر اس کی ذات سے وابستہ نہ ہو، اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس قسم کے حسن قبول کی ابتداء مومنین صالحین اور خدا پرست لوگوں سے ہوتی ہے، ان کے قلوب میں اول اس کی محبت ڈالی جاتی ہے، بعدہ ' قبول عام…
Read the full tafseer →آیت 96 اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا ”
یہ فرمان مکہ کے کٹھن حالات میں مؤمنین کے لیے ایک خوش خبری تھی کہ بلاشبہ ابھی اہل ایمان کے لیے بہت مشکل وقت ہے ‘ انہیں ہر طرف سے مخالفت اور طعن وتشنیع کا سامنا ہے ‘ لیکن بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب یہی لوگ محبوبان خلائق ہوں گے۔ ابوبکر رض کی شخصیت پر لوگ عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کریں گے ‘ اور بلال رض کی تعظیم و تکریم دلوں پر راج کرے گی۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ”جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے : مجھے اپنے فلاں بندے سے محبت ہے ‘ لہٰذا تم بھی اسے محبوب…
Read the full tafseer →82 انبیاء اور صالحین سے لوگ محبت اور بدکرداروں سے نفرت کیوں کرتے ہیں ؟:۔ یہ آیت اس دور میں نازل ہوئی جب صحابہ کرام ؓ مجبور و مقہور تھے۔ قریشی سرداروں کے ہاتھوں ستم رسیدہ تھے اور ان کی نگاہوں میں حقیر تھے۔ اس آیت میں ان کے لئے ایک بہت بڑی خوشخبری بھی ہے اور پیشین گوئی بھی پھر ایک وقت آیا جب صحابہ کرام ؓ کو اللہ تعالیٰ نے وہ عزت عطا فرمائی کہ سارا جہان ان سے محبت رکھنے اور ان کے گن گانے لگا۔ آج تک یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ یہ بات صرف صحابہ کرام ؓ سے ہی مخصوص نہیں بلکہ جو بھی ایماندار اعمال صالحہ بجا لائے گا۔ ابتداء ً خواہ لوگ اس کی طرف متوجہ نہ ہوں یا اسے اس راہ میں تکلیفیں بھی پہنچیں لیکن جلد…
Read the full tafseer →129۔ (خلائق کے قلوب میں بلااسباب ظاہری کے) مشاہدہ ہے کہ بےغرض، متدین، مخلص، خادم خلق و عبادت گذار سے لوگوں کو محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ متقیوں کے علاوہ دوسروی کو جہاں کہیں محبوبیت حاصل ہوتی ہے، وہاں کوئی نہ کوئی قریبی سبب ظاہری موجود ہوتا ہے۔ مثلا عزیز داری، ذاتی دوستی، ہم وطنی، ہمسائگی وغیرہا۔ یحبھم ویحببھم الی المومنین (ابن عباس ؓ سیحدث لھم فی القلوب مودۃ (کشاف) ” یہ تفسیر حدیث میں آئی ہے اور اس کا نعمت ہونا بلکہ اعظم نعمت ہونا ظاہر ہے۔ کیونکہ مغز نعمت کا راحت اور امن ہے۔ اور ظاہر ہے کہ محبوبیت اس کے اعظم اسباب سے ہے۔ اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے کسی کو بغض نہ ہوگا۔ بلکہ مقصود قرآن و حدیث کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
آیت نمبر 83 تا 98
ترجمہ : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے جو انہیں معصیت پر خوب اکساتے ابھارتے رہتے ہیں تو آپ ان پر عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کیجئے ہم تو خود ہی ان کے لیل و نہار یا سانس عذاب کے وقت تک (موت تک) شمار کر رہے ہیں، اس دن کا بھی تذکرہ کیجئے جس دن ہم متقیوں کو ان کے ایمان کی بدولت (بطور) مہمان سوار کر کے جمع کریں گے وفدٌ وافد کی جمع ہے معنی میں راکبٌ کے ہے اور مجرمین کو ان کے کفر کے سبب سے سخت پیاس کی حالت میں دوزخ کی طرف ہانکیں گے ورْدٌ واردٌ کی جمع ہے پیاسے پیدل کسی شخص کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا بجز اس شخص کے جس نے رحمٰن کے پاس سے اجازت لی ہو (اور…
Read the full tafseer →ان الذین امنوا وعملوا الصلحت سیجعل لہم الرحمن ودا۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک
کام کئے یقیناً اللہ ان کے لئے مؤمنوں کے دلوں میں محبت (پیدا) کر دے گا۔ یا محب (پیدا) کر دے گا جو ان سے محبت کریں گے۔
صاحب قاموس نے لکھا ہے وُدَّ اور وداو محبت اور محبت کرنے والا۔ واو کی تینوں حرکات صحیح ہیں وُدْ وَدْ وِدْ (یعنی یہ مصدر بھی ہے اور صیغۂ صفت بھی) اور ودید کی طرح کثیر محبت کرنے والے کو بھی ود کہتے ہیں (یعنی صیغۂ مبالغہ بھی ہے) اس آیت میں حضرت عبدالرحمن کے لئے پیام تسلی ہے اور اس امر کا وعدہ ہے کہ بجائے کافروں کے اللہ مؤمنوں کے دلوں میں محبت ڈال دے گا اور ان کو تمہارا دوست بنا دے گا۔
طبرانی نے الاوسط میں…
Read the full tafseer →(96) بیشک جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو اللہ تعالیٰ ان سے محبت فرمائے گا اور ان کے لیے مومنین کے دلوں میں خاص طور پر محبت پیدا کر دے گا۔
شان نزول (آیت) ”۔ ان الذین وعملوا الصلحت“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے عبدالرحمن بن عوف سے روایت کیا ہے کہ جب انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو مکہ مکرمہ سے اپنے ساتھیوں کی جدائی کی وجہ سے جن میں سے شیبہ، عتبہ، امیہ بن خلف تھے، افسوس ہوا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے اللہ تعالیٰ ان کے لیے محبت پیدا کر دے گا یعنی مسلمانوں کے دلوں میں ان کے لیے محبت پیدا کر دے گا۔
Read the full tafseer →سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا : ”وُدٌّ“ اور ”حُبٌّ“ ہم معنی ہیں۔ ”وُدًّا“ کی تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ کافروں کے برے عقائد و اعمال اور ان کے انجام بد کا ذکر کرنے کے بعد ایمان اور عمل صالح والوں پر اپنے انعامات کا ذکر فرمایا۔ اس آیت کے تین معنی ہوسکتے ہیں اور تینوں درست ہیں، جن کی قرآن و حدیث سے تائید ہوتی ہے۔ اللہ کے کلام سے بڑھ کر جامع کلام کوئی نہیں کہ جس کے تھوڑے سے کلمات میں بہت سے معانی جمع ہیں۔ پہلا معنی یہ ہے کہ جو لوگ صدق دل سے ایمان لائے اور انھوں نے اس دعویٰ کی تصدیق کے لیے کتاب و سنت کے مطابق اخلاص کے ساتھ عمل کیے (کیونکہ عمل صالح کے تین اجزا ہیں : ایمان، اخلاص اور اتباع کتاب و…
Read the full tafseer →(تفسیر 96) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الذین امنوا، یعنی جنہوں نے تصدیق کی۔ وعملوا الصلحت سیجعل لھم الرحمن ودا۔ یعنی اپنے بندوں کے دلوں میں محبت پیدا فرما دے گا جیسا کہ امام ترمذی نے حضرت سعد اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے حدیث روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبریل سے فرماتا ہے میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ “ فرمایا : ” پھر آسمان میں ندا دیتا ہے پھر اس کے لیے محبت کو اہل زمین میں اتارتا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کا ارشاد اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے : سیجعل لھم الرحمن ودا۔ ” اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو ناپسند فرماتا ہے تو جبریل سے فرماتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–97
1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عباسؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد جئتم شیئا ادا “ یعنی بڑی بات (اور فرمایا) (آیت) ” تکاد السموت یتفطرن منہ “ یعنی شرک سے آسمان زمین پہاڑ اور ساری مخلوق خوف زدہ ہوجاتی ہے مگر انسان اور جنات (خوف زدہ نہیں ہوتے) اور قریب ہے کہ اس شرک کی وجہ سے اللہ کی عظمت کے لئے (سب چیزیں) نیچے گرپڑیں اور جیسے کہ مشرک کی کوئی نیکی شرک کے ساتھ نفع نہیں دیتی اسی طرح ہم امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ موحدین کے گناہوں کو بخش دیں کے (اور فرمایا) (آیت) ” وتخر الجبال ھدا “ یعنی گرپڑنا۔
اللہ تعالیٰ کے ذکر کرنے والوں سے پہاڑ کا خوش ہونا :
2:۔ ابن مبارک، سعید بن منصور، ابن ابی…
Read the full tafseer →[ان : بیشک ] [الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [وَعَمِلُوا : اور انھوں نے عمل کئے ] [الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [سَيَجْعَلُ : عنقریب بنا دے گا ] [لَهُمُ : ان کے لئے ] [الرَّحْمٰنُ : رحمن ] [وُدًّا : ایک چاہت ]
نوٹ۔ 1: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو پسند فرماتے ہیں تو جبرئیل (علیہ السلام) سے کہتے ہیں کہ میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو۔ جبرئیل (علیہ السلام) سارے آسمانوں میں اس کی منادی کرتے ہیں اور سب آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر یہ محبت زمین پر نازل ہوتی ہے۔ (یعنی، زمین والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں) ۔ پھر آپ ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
اہل ایمان کا اکرام، قرآن مجید کی تیسیر، ہلاک شدہ امتوں کی بربادی کا اجمالی تذکرہ
پہلی آیت میں اہل ایمان کی ایک فضیلت بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا) بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ ان کے لیے محبت پیدا فرما دے گا یعنی تمام فرشتے جو آسمانوں کے رہنے والے ہیں اور تمام مومن بندے جو زمین پر رہتے اور بستے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے قلوب میں ان حضرات کی محبت ڈال دے گا اور یہ اللہ کی محبت کے بغیر نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ خود بھی ان سے محبت فرمائے گا اور اپنے نیک بندوں کے دلوں میں بھی ان کی محبت ڈال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–98
ابطال عقیدۂ ابنیت وبیان ضلال و وبال منکرین وحدانیت و منکرین قیامت برائے تسلیہء نبی اکرم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ۔ و اتخذوا من دون اللہ اٰلھۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ او تسمع لھم رکزا
(ربط) شروع سورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبودیت اور بلا باپ کے ان کی ولادت کا ذکر فرمایا تاکہ ان کی والدۂ ماجدہ کی عصمت و نزاہت ثابت ہوجائے اور یہود بےبہبود کا رد ہو جو حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو ولد الزنا اور ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان لوگوں کے زعم فاسد کا رد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں اور اس پر گھمنڈ کرتے ہیں۔
نیز گزشتہ آیت میں قیامت اور خدا پرستوں کا حال اور مآل بیان فرمایا۔…
Read the full tafseer →ف 64:۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں میں اپنی محبت ڈال دے گا یا خود ان سے محبت کریگا۔ یا لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت ڈال دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اولاد تجویز کرنے والوں کا رد فرمایا کفر کی یہ بدترین صورت ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کا ذریعہ ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس قسم کا غلط عقیدہ رکھنے والوں کو ہم نے شمار کر رکھا ہے پھر قیامت کے دن جب تن تنہا اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو انہیں اس باطل عقیدے کی قباحت کا احساس ہوگا ، اب آگے اللہ نے اہل ایمان کی فضیلت ، مرتبہ اور ان کا انجام بیان فرمایا ہے اس کے ساتھ ساتھ بعض انعامات کا ذکر بھی کیا ہے جو اہل ایمان کی نصیب ہوتے ہیں ۔
(ایمان اصطلاح قرآن)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان الذین امنوا “۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے جس طرح کفر ،…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا 96
أمن
والإِيمان
يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
1 ؎ وہ محبوب خلائق ہوجائیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ 12۔
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا۔ (مریم : 96)
(بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے عنقریب ان کے لیے خدائے رحمن مہر و محبت پیدا کردے گا۔ )
آیت کی وضاحت دو حوالوں سے
اس آیت کریمہ کی وضاحت دو حوالوں سے کی جاسکتی ہے اور اس عاجز کے خیال میں ان میں سے کوئی بھی غلط نہیں۔ ایک حوالہ تو یہ ہے کہ مشرکینِ مکہ مسلمانوں کی معاشی بدحالی اور معاشرتی بےکسی کا مذاق اڑاتے ہوئے ہمیشہ مسلمانوں پر طنز توڑتے تھے اور جیسے ہی کوئی غریب مسلمان ان کے قریب سے گزرتا جس کا لباس بوسیدہ، جوتے دریدہ اور جسم فاقہ زدہ ہوتا تو عمائدینِ قریش اپنے ساتھیوں کو متوجہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مجرم قیامت کے دن اکیلے اکیلے اپنے رب کے حضور پیش ہونگے اور ان کے درمیان کسی قسم کی کوئی محبت اور تعلق باقی نہیں رہے گا وہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں ان کے مقابلے میں مومنوں کے دل میں محبت پیدا کردی جائے گی۔
قرآن مجید اپنے مؤثر ترین انداز کے مطابق یہاں بھی کفار اور مشرکین کے کردار اور انجام کا ذکر کرنے کے بعد ایماندار بندوں کا کردار اور ان کا صلہ ذکر کرتا ہے۔ ایمان سے مراد خالی خولی دعویٰ نہیں بلکہ ایمان ایک جامع لفظ ہے جس کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ انسان عقیدہ توحید، سرور ﷺ دو عالم کی اطاعت اور آخرت پر یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرئے۔ اس لیے قرآن…
Read the full tafseer →رحمٰن کی حجت :
96: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ (جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے یقینا اللہ تعالیٰ ان کے لئے) لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا (محبت پیدا کر دے گا) اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کردیگا۔ ربیع کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت کریں گے اور ان کو لوگوں کے ہاں محبوب بنادیں گے۔
حدیث میں وارد ہے کہ مومن کی محبت ابرار کے دلوں میں ڈالتا ہے اور فجار کے دلوں میں انکا رعب طاری کردیتا ہے۔ قتادہ اور ھرم کہتے ہیں جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ بندوں کے دل اس کی طرف متوجہ کردیتے ہیں۔ کعب کہتے ہیں بندے کی تعریف زمین میں اس وقت…
Read the full tafseer →96۔ ان الذین آمنوا وعملوالصالحات سیجعل الھم الرحمن ودا۔۔ اس سے مراد محبت ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ بھی مومن بندوں سے محبت رکھتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ اپنے بندے سے محبت کرتے ہیں توجبرائیل سے کہتے ہیں کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتاہوں۔ آپ بھی اس کے ساتھ محبت رکھیے، اس کے ساتھ حضرت جبرائیل محبت کرتے ہی پھر حضرت جبرائیل آسمان پر آواز لگاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ آپ بھی ان کے ساتھ محبت کرو، آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔ پھر اس کی قبولیت آسمان میں سے زمین کی طرف ڈالی جاتی ہے۔ ھرم بن حیان کا قول ہے کہ…
Read the full tafseer →96:۔ اوپر کی آیت میں متقی لوگوں کے ساتھ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جو محبت کرے گا اس کا ذکر گزر چکا ہے کہ قبروں سے ان کو اللہ تعالیٰ مہمانوں کی سی خاطر داری سے اٹھائے گا اس کے علاوہ نیک لوگوں سے جب اللہ محبت کرنے لگتا ہے تو ایسے نیک لوگوں کی طرف تمام مخلوق الٰہی کے دل مائل ہوجاتے ہیں اور دنیا بھر ایسے لوگوں کو عزیز رکھنے لگتی ہے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص سے اللہ تعالیٰ کو محبت ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ جبرئیل (علیہ السلام) کو جتلا دیتا ہے کہ مجھ کو فلاں بندہ سے محبت ہے جبرئیل اس بات کی تمام آسمانوں میں شہرت کردیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندہ سے…
Read the full tafseer →آیت 96
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے ان بندوں پر انعام ہے جنہوں نے ایمان و عمل صالح کو جمع کیا۔۔۔ کہ وہ ان کے لئے اپنے اولیاء اور زمین و آسمان کے رہنے والوں کے دلوں میں محبت اور مودت ڈال دیتا ہے۔ جب ان کے بارے میں دلوں میں محبت ہوجاتی ہے تو ان کے اکثر معاملات ان کے لئے آسان ہوجاتے ہیں اور ان کو بھلائی، دعائیں، راہنمائی اور امامت حاصل ہوجاتی ہے اس لئے ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ” جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل کو پکار کر کہتا ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر، پھر جبرئیل آسمان والوں کو پکار کر کہتا ہے کہ اللہ فلاں شخص سے مبحت کرتا ہے، اس لئے تم بھی اسے محبوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
قول باری ہے (ان الذین امنوا وعملوا الصلحات سیجعل لھم الرحمٰن وداً ۔ یقینا جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عمل صالح کر رہے ہیں عنقریب رحمان ا ن کے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا) ان کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو یہ کہ آخرت میں یہ ایک دوسرے سے اسی طرح محبت کریں گے جس طرح والد کو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے۔ دوسرا قول حضرت ابن عباس اور مجاہد کا ہے کہ دنیا کے اندر محبت پیدا کر دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
99 قرآن حکیم ذریعہ انذار وتبشیر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم جھگڑالو اور ضدی لوگوں کے لیے انذار اور متقی و پرہیزگار لوگوں کے لیے عظیم الشان بشارت ہے۔ پس جو حق اور اہل حق کے خلاف ضد وعناد اور اپنے جھگڑالو پن اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں ان کے لیے تو یہ انذار اور تنبیہ ہے۔ سو ان کو اس کلام حق و صدق ترجمان کے ذریعے ڈراتے اور خبر دار کرتے رہو تاکہ یہ راہ حق و صواب کی طرف لوٹ کر اپنے اس برے انجام سے بچ سکیں جس کی راہ پر یہ گامزن ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس انذار سے خود انہی کا بھلا مقصود ہے۔ پس اس کی تعلیمات مقدسہ کو اپنانے میں خود انہی لوگوں کا بھلا اور فائدہ ہے۔ اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–98
اللہ تعالیٰ رشتے ناتے سے بےنیاز ہے
تشریح : یہودی اور عیسائی مشرک ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے پیغمبر کی تعلیمات جو کہ توحید کا سبق دیتی ہیں ان کو چھوڑ کر پیغمبروں کو ہی اللہ اور اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ شرک اس قدر شدید گناہ ہے کہ اس سے دنیا تہس نہس ہوسکتی ہے۔ اللہ کیونکہ غفور الرحیم ہے، اس لیے وہ گنہگاروں، مشرکوں اور کافروں کو فوراً عذاب نہیں دیتا، مگر ان کے برے انجام کے بارے میں قرآن میں بار بار اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح توحید کی خصوصیات، نیک اور بد لوگوں کا انجام بہت دفعہ بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹرطارق السویڈان بیان کرتے ہیں۔
(1) دنیا اور آخرت 115 دفعہ قرآن میں آیا ہے۔ (2) فرشتے اور شیطان 88…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
(انسان پر شیطان کا تسلط)
یہ ان کے کردار سے ظاہر ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ان کے بداعمال اور کفر کی سزا کے طور پر شیطانوں کو ان پر غلبہ دے دیا ہے اور وہ شیطان انہیں ہر لمحہ برُائی پر ابھارتے رہتے ہیں اور اسی کو ان کی نگاہوں میں سجاتے رہتے ہیں ۔ لہذا جلدی کی تو کوئی بات نہیں کہ پہلے ہی انسان کے پاس بہت محدود سی زندگی ہے اور وہ اوقات تو اسے پورا کرنے کی اجازت ہے نیز یہ اس روز قابل دید حال میں ہوں گے جب مومینن بہت عزت واحترام کے ساتھ اللہ کریم جو بہت رحم کرنے والا ہے کہ بارگاہ میں مہمانی سے مشرف ہو رہے ہوں گے اور یہ بدکار جہنم کی طرف پیاسے ہانکے جا رہے ہوں گے ایسی حالت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
ف 10 کافروں کے قبائح کو بیان کرنے کے بعد اب مومنین کے بعض مخصوص اعزا بیان فرمائے۔” ان کی محبت (لوگوں کے دلوں میں) ڈال دیگا۔ “ یعنی بدون کسی کوشش اور اسباب محبت کی مزاوات کے (شوکانی) جیسا کہ ایک حدیث میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل کو آواز دے کر فرماتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو وہ آسمان میں اس کا اعلان کردیتے ہیں پھر وہ زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کی محبت ڈال دیتاے۔ (بخاری مسلم بروایت ابوہریرہ) واضح رہے کہ یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی جہاں مسلمان انتہائی مظلومی و کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے، گویا اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
(19:96) ودا۔ محبت۔ یسرناہ۔ ہم نے اسے آسان کردیا ہے۔ تیسیر تفعیل مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ۔ سے مراد القرآن ہے۔ بلسانک۔ تیری زبان میں۔ ای بلسانک العربی المبین۔
لدا۔ بہت جھگڑالو۔ جمع اس کا واحد الد ہے اس کا مادہ لدد ہے۔ گردن کے دائیں بائیں پہلو کو لددکہتے ہیں۔ شدید اللدد وہ شخص جس کی گردن کو کوئی پھیر نہ سکے۔ مراد وہ آدمی جس کو اس کے ارادہ سے باز نہ رکھا جاسکے۔ جس کو کوئی راستی پر نہ لاسکے۔ لد اس نے سخت جھگڑا کیا۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے وھوالد الخصام (2:2040) اور وہ سخت جھگڑالو ہے۔ قوما لداجھگڑالو لوگ۔ جھگڑالو قوم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–98
لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 98
اِد سخت، بھاری چیز۔ تکاد قریب ہے۔ یتفطرن پھٹ پڑیں گے۔ تنشق ٹکڑے ہوجائیں گے۔ تخر ڈھے پڑیں، گر جائیں۔ ھد دھڑام سے گرنا۔ ماینبغی شایان شان نہیں ہے۔ احصی اس نے شمار کر رکھا ہے۔ عد گنتی۔ ود محبت لد جھگڑالو آدمی۔ رکز آہٹ، سرسراہٹ۔
تشریح :- آیت نمبر 88 تا 98
سورة مریم کی آیات کو نصاریٰ کے اس قول اور عقیدے پر ختم کیا گیا ہے جس میں انہوں نے نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں) اللہ کا بیٹا ثابت کرنے کی مجرمانہ کوشش کی ہے۔ حالانکہ اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے گہوارے ہی میں اس بات کا…
Read the full tafseer →خدا سے محبت کا نتیجہ اور محبوبان خدا کی شان : اوپر کی آیت میں متقی لوگوں کے ساتھ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جو محبت کرے گا اس کا ذکر گزر چکا ہے کہ ان مہمانوں کو مہمانوں کی سی خاطر داری سے اٹھاوے گا۔ اس کے علاوہ نیک لوگوں سے جب اللہ تعالیٰ محبت کرنے لگتا ہے تو ایسے نیک لوگوں کی طرف تمام مخلوق الہی کے دل مائل ہوجاتے ہیں ۔ اور دنیا ایسے لوگوں کو عزیز رکھنے لگتی ہے، اور فرشتے بھی اس شخص سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ بخاری ومسلم کی حدیث ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو محبوب کرتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) سے فرماتا ہے کہ :" فلاں میرا محبوب ہے " جبرائیل (علیہ السلام) اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر جبرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
[33] یعنی لوگ ان کی طرف کھچیں گے اور وہ اپنے اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کی وجہ سے محبوب خلائق ہو کر رہیں گے۔
Read the full tafseer →(ف 1) یعنی اللہ کے پاکباز بندے محبوبیت اور مودت کا عالی مقام حاصل کرلیتے ہیں اور خدا ان لوگوں کے دلوں میں جذبات عقیدت و محبت پیدا کردیتا ہے ۔
Read the full tafseer →-96 بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے اور نیک عمل کے پابند رہے تو رحمان ان کے لئے محبت پیدا کر دے گا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ان سے محبت کرے گا یا ان کے دل میں اپنی محبت پیدا کرے گا یا خلق کے دل میں ان کی محبت ڈالے گا۔ 12
خلاصہ ! یہ کہ جو لوگ ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کی پابندی کرتے ہیں ان کو علاوہ بیشمار نعمتوں کے یہ بہت بڑی نعمت عطا کی جاتی ہے کہ ان کے ساتھ محبوبیت کا سلوک اور برتائوہوتا ہے یہ مرتبہ بہت بلند ہے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے کسی کو بغض نہ ہوگا بلکہ مقصود یہ ہے کہ عام خلائق جن کا نہ کوئی نفع اس مومن سے وابستہ ہے نہ کوئی ضرر وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے رحمن کی دوستی میں ہوں گے :
96۔ فرمایا بلاشبہ جن لوگوں نے اپنی زندگیاں محفوظ طریقہ سے گزاری ہوں گی ان کے لئے اللہ رب العزت صاحب ذوالجلال والاکرام نے مہر و محبت کی فضا پیدا کردی ہوگی کہ ان کا استقبال اللہ تعالیٰ کی فرشتے بھی کریں گے اور خود رب کریم کی طرف سے بھی سلام وتحیت ان کو پہنچایا جائے گا اور خود اہل ایمان بھی جب آپس میں ملیں گے تو ایک دوسرے کو مبارکبادیاں دیتے ہوں گے اور فضا اہلا سہلا مرحبا کے کلمات سے گونج رہی ہوگی گویا یہ وہ لوگ آرہے ہیں جو فتح مند ہو کر آئے ہیں ۔
شاید آپ نے غور کیا ہوگا یا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی میں سے اسم ” رحمن “ بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَـٰنُ وُدًّا
"For them the Rahman (All-Merciful) will create love." - 19:96.
It means that for those who are steadfast in their faith in Him, Allah creates an environment of friendship and love for each other, which consequently promotes mutual amity and goodwill among the true Muslims. Furthermore, by their conduct and behavior they command the admiration and respect of all those with whom they come into contact. Bukhari, Tirmidhi and others have related on the authority of Sayyidna Abu Hurairah ؓ that the Holy Prophet ﷺ once said that when Allah Ta’ ala is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
53. This is to comfort the righteous people who were being persecuted and insulted in the streets of Makkah. They are being assured that the time is coming near when the people will honor and love them because of their righteous deeds and good conduct. Hearts will be attracted towards them and the world will hold them in high esteem. And this will happen according to a universal principle. Those who are wicked, proud and haughty and try to rule over the people with falsehood and hypocrisy can never captivate the hearts of the people. On the other hand, those who invite the people to the right…
Read the full tafseer →