19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsسراج البیان

Ayah 19:1

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کہیعص ،

Ayahs 19:2–4

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

یہ تیرے رب کی رحمت کا بیان ہے ۔ اس کے بندہ زکریا پر (ف 1) ۔

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جب اس نے اپنے رب کو ہلکی آواز سے پکارا ۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

بولا اے رب میرے بدن کی ہڈیاں سست ہوگئیں ، اور سر سے بڑھا پے کا شعلہ بھڑک اٹھا ، اور میں کبھی تجھ سے اسے رب دعا کر کے محروم نہیں رہا ۔

اللہ کے اندازہ ہائے بخشش : (ف 1) سورة مریم کا آغاز جس واقعہ سے کیا ہے ، حقیقت میں یہ سابقہ آیت کی تفسیر ہے ، جس میں بتایا گیا تھا ، کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا کوئی مقرر و متعین اندازہ نہیں ، ہم اس کی وسعتوں کا صحیح صحیح جائزہ نہیں لے سکتے ، ہم نہیں جانتے کہ اس کی بخششیں کن طریقوں اور واسطوں سے ہوتی ہیں ، ہمارا علم محدود ہے اور اس کے دینے اور بخشنے کے انداز لا محدود ہیں ۔ حل لغات : وھن العظم : ضعف وناتوانی سے تعبیر ہے کیونکہ بڑھاپے میں ہڈیوں میں قوت حیات کم ہوجاتی ہے ۔ واشتعل الراس : بالوں کی سفیدی کو شعلہ زنی سے تشبیہ دینا کمال بلاغت ہے ، اور حقیقت یہ ہے کہ بالکل اچھوتی تشبیہ ہے ۔
Ayahs 19:5–6

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور میں اپنے بعد وارثوں سے ڈرتا ہوں ، اور میری عورت بانجھ ہے سو تو اپنی طرف سے مجھے ایک وارث بخش (ف 1) ۔

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو میرا وارث ہو اور اولاد یعقوب کا بھی وارث ہو ، اور اے رب اسے پسندیدہ کر ۔

(ف 1) واقعہ یہ ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) جب بوڑھے ہوگئے ، اور دیکھا کہ قوم ہنوز اصلاح وہدایت کی محتاج ہے اور یہ بھی دیکھا کہ ان کے بعد ان کا کوئی صالح جانشین نہیں ، جو ان کے کام کو سنبھال سکے ، تو بیٹے کی خواہش دل میں پیدا ہوئی ، اللہ سے دعا مانگی اور کہا ، خدایا میں کمزور اور بہت بوڑھا ہوگیا ہوں ، پیری نے حوصلے پست اور ولولوں کو افسردہ کردیا ہے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی مخالفت سے ڈرتا ہوں ، کہ کہیں عمر بھر کی سعی تبلیغ رائیگاں نہ ہوجائے ، اس لئے چاہتا ہوں کہ میرے بعد نیک اور مستعد اولاد ہو ، جو اس بار عظیم کو اپنے کندھوں پر اٹھالے ، اور میں دین کی جانب سے بالکل مطمئن ہو کر دنیا سے رخصت ہوں ، ساتھ ہی مشکل بھی ہے کہ بیوی بانجھ ہے اور خود بوڑھے ہیں ؟
Ayahs 19:7–10

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

اے زکریا (علیہ السلام) ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں اس کا نام یحیٰ (علیہ السلام) ہوگا ، اس وقت سے پہلے ہم نے کوئی آدمی اس کا ہم نام نہیں کیا (ف 2) ۔

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

بولا ، اے رب میرے لڑکا کیونکر ہوگا ، حالانکہ میری عورت بانجھ ہے اور میں بوڑھا ہوگیا یہاں تک کہ اکڑ گیا (یعنی سوکھ گیا)

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

فرمایا یوں ہی ہوگا ، تیرے رب نے کہا ہے کہ یہ کام مجھ پر آسان ہے اور میں نے تجھے پہلے بنایا اور تو کچھ چیز نہ تھا ۔

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

بولا اے رب میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر کہا ، تیری نشانی یہ ہے کہ تو چنگا بھلا لوگوں سے تین رات بول نہ سکے گا ۔

(ف 2) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ، دعا قبول ہے ، تیرے لڑکا ہوگا اس کا نام یحیٰ رکھنا ، بڑا سعادت مند اور نام اور بچہ ہوگا ، زکریا ان کو حیران ہوجاتے ہیں ، فرط حیرت سے پوچھتے ہیں ، کیا ان قدرتی موانع کے باوجود بھی مجھے اولاد عطا کی جائے گی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، ہاں میرے لئے یہ کوئی مشکل بات نہیں ، ایسا ہی ہوگا ، ۔ غور فرمائیے کیا واقعی اس کی صفات لا محدود نہیں ، اب تک یہ سمجھا جاتا تھا ، کہ اولاد کے لئے ایک وقت مقرر ہے ، جب انسان اس وقت معین سے تجاوز کر جائے ، تو اولاد سے مایوس ہوجاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی گوناگون حکمتوں نے ثابت کردیا ، کہ اس کے اندازہ ہائے بخشش تمہارے احاطہ علم میں نہیں آسکتے ۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا ، کہ انسان کو کسی حالت میں مایوس نہیں ہونا چاہئے ، اور ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی بخششوں کا امیدوار رہنا چاہئے ۔ حل لغات : عاقرا : عقر کے معنے چلنے سے باز رکھنے اور مجروح کرنے اور بلند یا ویران عمارت کے ہیں ، یہاں مراد ہے کہ بیوی ناقابل اولاد ہے ، رضیا : خوش آواز اور پسندیدہ خو ۔
Ayahs 19:11–12

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پھر وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آیا پھر ان کی طرف اشارہ کیا ، کہ صبح اور شام تسبیح کرتے رہو (ف 1) ۔

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحی زور سے کتاب تھام لے ، اور ہم نے طفلی میں اسے حکم دیا (یعنی نبوت)

انسانی تقاضے : (ف 1) اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی سن لی ، اور ان کو بشارت دی اور فرمایا ہاں ضرور ایک سعادت مند لڑکا ہوگا ، حضرت زکریا (علیہ السلام) نے فرمایا کیا بڑھاپے میں بھی ایسا ہو سکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جوابا ارشاد فرمایا (آیت) ” ھو علی ھین “۔ کہ اس قسم کے خرق عادات ہمارے لئے کچھ بھی دشوار نہیں ، حضرت زکریا (علیہ السلام) اس جواب سے گو مطمئن ہوگئے مگر تقاضائے بشریت سے مزید تسلی کے لئے پوچھا کہ اس وقت سعادت کی علامتیں کیا ہوں گی ؟ کیونکر انبیاء (علیہم السلام) جہاں نبوت سے سرفراز ہوتے ہیں اور تائید الہی سے نوازے جاتے ہیں ، وہاں بشری تقاضے بھی ان میں موجود رہتے ہیں ، اور قدرتا ان کے دل میں بھی وہی سوالات پیدا ہوتے ہیں جو ایک انسان کے دل میں پیدا ہو سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : عدم تکلم “ علامت ہے ، عدم تکلم کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) سے ان دونوں گفتگو کی قوت سلب کرلی جائے اور وہ لوگوں سے مخاطب نہ ہو سکیں اور دوسری یہ کہ عمدا گفتگو سے پرہیز کریں اور ایک قسم کا روزہ رکھیں ، بہرحال مقصد یہ ہے کہ ان اوقات میں حضرت زکریا (علیہ السلام) اللہ کی حمد وثنا میں مصروف رہیں ۔
Ayahs 19:13–17

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور اپنی طرف سے شفقت اور ستھرائی (بھی) اور وہ پرہیز گار تھا (ف 2) ۔

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور اپنے والدین سے نیکی کرتا تھا اور سرکش و نافرمان نہ تھا ۔

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

اور سلام ہے اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے گا اور جس دن جی کر اٹھ کھڑا ہوگا ۔

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور کتاب (قرآن) میں مریم (علیہا السلام) کو یاد کر ، جب وہ اپنے لوگوں سے ایک شرقی مکان میں الگ ہو بیٹھی ۔

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

پھر ان کی طرف سے ایک پردہ ڈال دیا پھر ہم نے اسکی طرف اپنی روح کو بھیجدیا پھر وہ ہماری روح پورا انسان بنکر اس کے سامنے آئی ،

نیک اولاد : (ف 2) حضرت یحیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے بوڑھے باپ کی آغوش روحانیت میں تربیت پائی سن رشد کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب کتاب و رسالت کو قوت کے ساتھ تھام اور صبر و استقلال کے ساتھ تبلیغ میں مصروف ہوجاؤ اس کے بعد ان کے اوصاف بیان کئے ہیں کہ وہ لڑکپن ہی سے سمجھدار تھے ، نرم دل اور پاکیزہ اعمال تھے پرہیزگار تھے والدین کے اطاعت گزار تھے ، اور طبیعت میں سرکشی وبغاوت کا عنصر قطعا موجود نہ تھا ۔ درحقیقت ان اوصاف کا پیغمبر کی ذات میں نبوت سے قبل جمع ہونا ضروری ہے تاکہ آگے چل کر وہ دنیا کے لئے خیروبرکت کا باعث ہو سکے ۔ حل لغات : العراب : زاویہ عبادت یاحجرہ ۔ الحکم : سمجھ ، سلیقہ ، دانائی ، ۔ عصیا : نافرمان عصیان سے ہے ۔
Ayahs 19:18–22

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

مریم (علیہا السلام) نے کہا میں تجھ سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو پرہیز گار ہے (ف 1) ۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

کہا میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں ‘ تاکہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا بخشوں ۔

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

وہ بولی میرے لڑکا کیونکر ہوگا اور کسی آدمی نے مجھے نہیں چھوا اور میں ہرگز بدکار بھی نہیں ۔

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

بولا یوں ہی ہوگا ، تیرے رب نے کہا ہے کہ یہ کام مجھ پر آسان ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس لڑکے کو آدمیوں کیلئے معجزہ اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں ، اور اس پیداش کا معاملہ ازل سے ٹھہرا ۔

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

پھر مریم (علیہا السلام) نے اس لڑکے کو پیٹ میں لیا پھر اسی لیکر کسی دور کے مکان میں کنارے ہوئی ہوں ۔

مسیح (علیہ السلام) کا تولد : (ف 1) ان آیات میں حسب ذیل نکات کا ذکر ہے ۔ 1۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کا کسی جنسی یا غیر جنسی ضرورت کے لئے خلوت اختیار کرنا ، 2۔ جبرئل (علیہ السلام) کا انسانی شکل میں نمودار ہونا ، اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا از راہ پاکبازی ان سے اپنے خوف کا اظہار کرنا ۔ 3۔ جبرئیل (علیہ السلام) کا فرمانا کہ میں ایک خاص ضرورت سے آیا ہوں یعنی تم کو ایک پاکباز لڑکے کی خوشخبری سناؤں ۔ 4۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کا اظہار تعجب کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے جبکہ میں شادی شدہ نہیں ہوں اور نہ کسی مرد سے میرا کبھی تعلق ہوا ۔ 5۔ جبرائیل (علیہ السلام) کا فرمانا کہ یہ بات تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بالکل سہل ہے وہ باوجود ان موانع کے اولاد پیدا کرسکتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ انداز بیان غیر معمولی واقعہ پر دلالت کرتا ہے شادی کا پیغام نہیں جیسا کہ بعض کوتاہ فہم لوگوں نے سمجھا ہے ، فرشتے کا خلوت میں ملنا اور جنسی خواہشات کے وقت اس کے معنے یہ ہیں کہ اس وقت متخیلہ پر خوشخبری زیادہ اثر انداز ہو سکتی ہے ، حضرت مریم (علیہ السلام) کا انکار وتعجب اس لئے ہے کہ وہ نہ شادی شدہ ہے اور نہ کلیسا کے شروط کے مطابق شادی شدہ ہوسکتی ہے ، اللہ تعالیٰ کا (آیت) ” کذلک “ فرمانا اس کے معنی یہ ہیں کہ باوجود شادی شدہ نہ ہونے کے ایسا ہوگا تاکہ مادیت پرست یہودی ابتدا ہی سے مسیح (علیہ السلام) سے متعارف ہوجائیں ۔ واقعات کا یہ رنگ بتارہا ہے کہ یہ چیزیں بالکل بطور خرق عادت کے ہیں ، عام واقعات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قادر مطلق جان لینے کے بعد قدرت کی وسعتوں کو خاص صورتوں اور شکلوں میں محدود سمجھ لینا نادانی ہے ، اللہ چاہے تو آسمان سے انسان برسا سکتا ہے ، زمین سے پیدا کرسکتا ہے وہ پہاڑوں کی صلابت کو روئی کی سی نرمی سے تبدیل کر دے تو کون مانع ہو سکتا ہے ، پھر ایک عورت کے پیٹ سے بچے کا تولد کیوں حیرت انگیز ہو ۔ خدا کے کام کچھ آلات پر نہیں موقوف ابو البشر ہوئے بےمادر وپدر پیدا ۔ حل لغات : انتبذت : علیحدگی اختیار کرنا ، الگ ہوکر ۔ نبذ سے مشتق ہے ، بغیا : بدکار ۔
Ayahs 19:23–25

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر جننے کا درد اسے ایک کھجور کی جڑ کے پاس لے آیا ، بولی ، کاش کہ میں اس سے پہلے مر چکتی ، اور بھولی بسری ہوجاتی (ف 1) ۔

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

پھر اس کے نیچے سے (اس لڑکے نے) اس کو آواز دی کہ غم نہ کھا تیرے رب نے تیرے نیچے ایک پانی کا چشمہ جاری کیا ہے ۔

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور تو اپنی طرف کھجور کا تنہ ہلا تجھ پر پکی کھجوریں گری گی ،

بغیر باپ تولید کے امکانات : (ف 1) اللہ تعالیٰ کو جب یہ منظور ہوا کہ مسیح (علیہ السلام) کو بطور خرق عادت کے پیدا کرے تو پہلے حضرت مریم (علیہ السلام) کو اس کی اطلاع دی اس کو یقین دلایا ، کہ تو لوگوں کے اعتراضات کا ہدف بنے گی ، اور پھر قدرت کا اظہار فرمایا ، فحملتہ : سے مراد طبعی مدت حمل سے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے ، یہ ہو سکتا ہے کہ حضرت مریم (علیہ السلام) میں بیک وقت اللہ تعالیٰ نے افعل وانفعال کی قوتیں پہناں رکھی ہوں ، اس قسم کی مثالیں آج کل تو بکثرت مل رہی ہیں کہ بہت سے نوجوان مرد عورت بن گئے اور بتہ ہی شادی شدہ عورتیں مردوں کی صورت میں تبدیل ہوگئیں ، یہ نظریہ استحالہ شخصیت اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض عورتوں میں قدرت کی جانب سے تذکیر کا مادہ موجود ہوتا ہے ۔ بعض اوقات جب عورت حد سے زیادہ ذہین ہو ، اور اس کی قوت کو بدرجہ غایت نازل ہو ، تو اس وقت بھی محض یقین اور خیالی قوت سے حمل ٹھہر سکتا ہے طبیعت خود بخود اس نوع کے عناصر پیدا کرلیتی ہے جو اس تبدیلی کے لئے ضروری ہیں ۔ قوت خیال کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے ، اور جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک حساس عورت کو یقین ہوجائے اور نفخہ روح کا عمل بھی بروئے کار آجائے تو پھر بغیر مرد کے حمل ٹھہر جانا مشکل نہیں ، بہرحال اس باب میں اصلی چیز قرآن کی تصریحات ہیں جب قرآن نے اس تبدیلی کا ذکر تفصیل ووضاحت سے فرمایا ہے تو پھر اب مسلمان کے لئے شک اور تاویل کی گنجائش نہیں ہے ۔ حل لغات : قصیا : دور کی جگہ اقصے ال مدینہ ۔ نسیا : بھول جانے کے لائق جو چیز ہو ۔ سریا : چشمہ یا نہر ، بعض سلف سے سریا کے معنی شریف اور کریم النفس شخص کے بھی آئے ہیں مگر یہ کچھ صحیح نہیں معلوم ہوتے کیونکہ تحتک کا لفظ بچے کے لئے کوئی عمدہ تعبیر نہیں ہوسکتی ، نیز اس کے بعد بطور لف و نشر مرتب کے کلی واشربی کا لفظ آیا ہے جو اس بات پر دال ہے کہ سریا کے معنی چشمہ یا نہر کے ہوں ۔
Ayahs 19:26–32

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

سو کھا ، اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ ، اور جو تو کسی آدمی کو دیکھے تو کہیو کہ میں نے خدا کے لئے روزہ کی منت مانی ہے ، سو آج میں ہرگز کسی آدمی سے نہ بولوں گی ۔ (ف 1) ۔

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر مریم (علیہ السلام) لڑکے کو اپنے لوگوں کے پاس گود میں لائی ، بولے اسے مریم (علیہا السلام) تونے بہت بری حرکت کی ،

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن ، تیرا باپ بدآدمی نہ تھا اور تیری ماں بھی بدکار نہ تھی ۔

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

اس پر مریم (علیہا السلام) نے لڑکے کی طرف اشارہ کیا وہ بولے ہم اس سے جو گہوارہ میں بچہ ہے کیونکر کلام کریں ۔

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

بچہ بولا میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے مجھے کتاب (انجیل) دی اور نبی بنایا ہے ۔

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور مجھے مبارک کیا جہاں کہیں میں ہوں اور مجھے نماز اور زکوۃ کا حکم دیا ، جب تک میں زندہ ہوں ۔

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور مجھے ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا ٹھہرایا اور مجھے ظالم بدبخت نہیں بنایا ۔

(ف 1) حضرت مریم (علیہ السلام) درد زہ کی وجہ سے بےقرار ہوگئیں ، اور جنگل کی طرف نکل کھڑی ہوئیں ، وہیں حضرت مسیح (علیہ السلام) تولد ہوئے ، اس طرح سے بچہ کی پیدائش بجائے خود حضرت مریم (علیہ السلام) کے لئے خوش آیندہ نہ تھی ، اس پر مزید یہ کھٹکا کہ لوگ کیا کہیں گے ، اور پھر بےسروسامانی کا یہ عالم کہ اپنے پاس کوئی موجود نہیں جو دلداری کرسکے ، اس لئے انسانی فطرت کی کمزوری سے انہوں نے اضطرار یہ کہا کہ (آیت) ” یلیتنی مت قبل ھذا وکنت نسیا منسیا “۔ تو بالکل بجا فرمایا حالات کا تقاضا یہی تھا کہ ان کے منہ سے اس قسم کے کلمات نکلیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تسلی دی ، حضرت مریم (علیہ السلام) کو فرشتہ نے پکار کر کہا کہ غم نہ کرو ، اس بےسروسامانی میں بھی دو چیزیں موجود ہیں تروتازہ کھجوریں اور چشمہ کا صاف اور شریں پانی ، اور سب سے زیادہ غلط کرنے والا اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والا لخت جگر ، ۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کا چپ رہنا اور اس کو ” صوم “ کے لفظ سے تعبیر کرنا ، اس کے معنے یہ ہیں کہ اس زمانے میں روزہ کی یہ شکل بھی موجود تھی غالبا حضرت زکریا (علیہ السلام) کو بھی اسی روزہ کی تلقین کی کی گئی تھی ۔ حل لغات : امراسوہ : بڑا آدمی ، سوء کا لفظ گوعام برائی کے لئے موضوع ہے ، مگر اس کا انتساب جب انسان کی طرف ہو ، تو اس سے مراد اخلاق کی برائی ہوتی ہے ۔ بغیا : بدکار ۔ برا : نیک صالح ، حقوق آشنا ۔
Ayah 19:33

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور مجھ پر سلام ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں جی اٹھوں گا (ف 1) ۔

حضرت کا مسیح (علیہ السلام) کا بولنا : (ف 1) بدبخت اور بدشعار یہودیوں نے جب پاکباز مریم پر اعتراض کیا کہ یہ کیا قصہ ہے ؟ تمہاری گود میں یہ کیسا بچہ ہے ؟ تمہارا باپ تو ایسا نہ تھا اور تمہاری ماں بھی یقینا نیک اور صالح تھی ، پھر یہ بچہ کہاں سے آگیا ؟ حضرت مریم (علیہ السلام) چپ ہوگئیں ، اور بچہ کی جانب اشارہ کیا کہ اس سے پوچھو ، غالبا یہ بالکل وجدانی حرکت تھی ، حضرت مریم (علیہ السلام) نے یہ سوچا ہوگا کہ جب خرق عادت کے طور پر بچہ پیدا ہوسکتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے اس بچہ کو خاص طور پر پیدا فرمایا ہے تو پھر کیا اس صورت حالات میں اللہ میری برات نہ فرمائے گا ، اور ایسا نہ ہو سکے گا کہ بچہ خود بول کر حقیقت حال واضح کر دے ، یہودی اس جواب پر ہنسے انہوں نے کہا بھلا ہم بچے کو کسی طرح پوچھیں ، یہ اس صغر سنی میں ہمارے شبہات کا جواب کیسے دے سکتا ہے ، حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ہونٹ ہلے اور آپ نے پکار کر کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے مجھے نبوت کے منصب پر فائز کیا ہے اور کتاب عنایت فرمائی ہے ، میرا وجود قوم کے لئے ہر حالت میں باعث برکت وسعادت ہے میں نماز اور زکوۃ کے تفام پر عمل پیرا رہوں گا ، اور اس کو دنیا میں پھیلاؤں گا والدہ کے حق میں بہتر سلوک کروں گا ، اور میری ولادت اور موت اور اس کے بعد بعثت یہ سب چیزیں میرے لئے اللہ کی جانب سے سل امتی کی باعث ہیں ۔ ظاہر ہے یہ جواب یہودیوں کے لئے حیران کن اور مسکت ہوگا ۔ مسیح (علیہ السلام) کا اس وقت بولنا اس بات کا ثبوت ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) میں ابتداء ہی سے استعداد موجود ہوتی ہے اور ان کے نہاں خانہ دماغ میں پیغمبری کا چراغ ہمیشہ روشن رہتا ہے ، وہ بچپن میں بھی نبوت کی جانب رجحانات رکھتے ہیں اگرچہ وہ اس عہدہ جلیلہ پر فائز نہیں ہوتے ، مگر غیر مرئی طور پر ان میں تمام کمالات نبوت موجود ہوتے ہیں جن کی ایک پیغمبر کو ضرورت ہوتی ہے ،
Ayahs 19:34–40

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ ہے عیسیٰ بن مریم (علیہا السلام) سچی بات ہے جس میں وہ (انصاری) شک کر رہے ہیں (ف 2) ۔

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

خدا کو لائق نہین کہ کوئی بیٹا رکھے ، وہ پاک ہے جب کوئی بات ٹھہراتا ہے تو اس کو کہتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتی ہے ۔

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ بیشک اللہ ہی میرا اور تمہارا رب ہے سو اس کی عبادت کرو ، یہ راہ راست ہے ،

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر فرقوں نے آپس میں اختلاف کیا ، سو بڑے دن کی حضور کے وقت کافروں کے لئے واویلا ہے ۔

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

جس دن ہمارے سامنے آئیں گے کیا کچھ سنیں گے اور کیا کچھ دیکھیں گے لیکن ظالم آج کے دن صریح گمراہی میں ہیں ۔

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو انہیں حسرت کے دن سے ڈرا جب مقدمہ فیصل ہوگا اور (اب تو) وہ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لاتے ۔

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

ہم ہی زمین کے اور ہر کسی شخص کے جو زمین پر ہے وارث ہوں گے اور وہ سب ہماری طرف آئیں گے ۔

(ف 2) حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش ایک طرف یہودیوں کے لئے ٹھوکر کا باعث ہوئی اور دوسری جانب مسیحی حضرات اس کی وجہ سے گمراہی کے عمیق غار میں جا گرے ۔ عیسائی مذہب کے مبلغین نے یہ سمجھا کہ مسیح (علیہ السلام) کی یہ حیرت انگیز ولادت کی خدائی پر دال ہے ، ورنہ ایک انسان کیونکر قوانین قدرت کو توڑ سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے بتایا ، یہ بات غلط ہے مسیح (علیہ السلام) کا تولد ہونا اس کی الوہیت پر دلالت نہیں کرتا ، بلکہ میری جلالت قدرت کا ایک ثبوت ہے میں جب چاہتا ہوں محض ارادہ سے بڑی سے بڑی کائنات کو پیدا کرلیتا ہوں میرے لئے کسی سہارے اور شریک کی مطلقا ضرورت نہیں ، قول الحق سے غرض یہ ہے کہ قرآن نے مسیح (علیہ السلام) کے متعلق جو کچھ بتایا ہے وہی صحیح ہے ۔ ان آیات میں اصل تعلیم کو واضح کیا اور بتایا کہ حقیقی مقصد اللہ کی توحید ہے ، اور وہ لوگ جو اس صراط مستقیم سے گریزاں ہیں ان کیلئے بڑی حسرت کا سامان ہے وہ اللہ کے حضور میں سرخرو اور بازیاب نہیں ہو سکیں گے ۔ حل لغات : الاحزاب : مختلف گروہ ، حزب کی جمع ہے ۔ اسمع و ابصر : تعجب کے لیے ہے یعنی اس وقت تو یہ لوگ حق کی سماعت سے محروم ہیں ۔ مگر اس وقت ان کی سماعت بینائی میں اضافہ ہوجائے گا ۔