Ayahs 19:1–21 حضرت زکریا (علیہ السلام) " بنی اسرائیل " کے جلیل القدر انبیاء میں سے ہیں۔ نجاری (بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ سے محنت کر کے کھاتے تھے۔ ان کا قصہ پہلے سورة آل عمران میں گزر چکا۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کرلیے جائیں۔
Ayah 19:32 کہتے ہیں رات کی تاریکی اور خلوت میں پست آواز سے دعاء کا اصل قاعدہ ہے۔ (اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً ) 7 ۔ الاعراف :55) ایسی دعاء ریا سے دور اور کمال اخلاص سے معمور ہوتی ہے۔ شاید یہ بھی خیال ہو کہ بڑھاپے کی عمر میں بیٹا مانگتے تھے۔ اگر نہ ملے تو سننے والے ہنسیں، اور ویسے بھی عموماً بڑھاپے میں آواز پست ہوجاتی ہے۔
Ayah 19:43 یعنی بظاہر موت کا وقت قریب ہے، سر کے بالوں میں بڑھاپے کی سفیدی چمک رہی ہے اور ہڈیاں تک سوکھنے لگیں۔
4 یعنی آپ نے اپنے فضل و رحمت سے ہمیشہ میری دعائیں قبول کیں اور مخصوص مہربانیوں کا خوگر بنائے رکھا اس آخری وقت اور ضعف و پیرانہ سالی میں کیسے گمان کروں کہ میری دعاء رد کر کے مہربانی سے محروم رکھیں گے۔ بعض مفسرین نے (وَّلَمْ اَكُنْۢ بِدُعَاۗىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا) 19 ۔ مریم :4) کے معنی یوں کیے ہیں کہ اے پروردگار آپ کی دعوت پر میں کبھی شقی ثابت نہیں ہوا یعنی جب آپ نے پکارا برابر امتثال امر اور طاقت و فرمانبرداری کی سعادت حاصل کی۔
Ayah 19:55 ان کے بھائی بند قرابت دار نااہل ہوں گے۔ ڈر یہ ہوا کہ وہ لوگ ان کے بعد اپنی بد اعمالیوں اور غلط کاریوں سے راہ نیک نہ بگاڑ دیں اور جو دینی و روحانی دولت یعقوب (علیہ السلام) کے گھرانے میں منتقل ہوتی ہوئی حضرت زکریا (علیہ السلام) تک پہنچی تھی اسے اپنی شرارت اور بدتمیزی سے ضائع نہ کردیں۔
Ayah 19:66 یعنی میں بوڑھا ہوں، بیوی بانجھ ہے، ظاہری سامان اولاد ملنے کا کچھ نہیں لیکن تو اپنی لامحدود قدرت و رحمت سے اولاد عطا فرما جو دینی خدمات کو سنبھالے اور تیری مقدس امانت کا بوجھ اٹھا سکے۔ میں اس ضعف و پیروی میں کیا کرسکتا ہوں، جی یہ چاہتا ہے کہ کوئی بیٹا اس لائق ہو جو اپنے باپ دادوں کی پاک گدی پر بیٹھ سکے۔ ان کے علم و حکمت کے خزانوں کا مالک اور کمالات نبوت کا وارث بنے (تنبیہ) احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ان کی وراثت دولت علم میں چلتی ہے۔ خود شیعوں کی مستند کتاب " کافی کلینی " سے بھی " روح المعانی " میں اس مضمون کی روایات نقل کی ہیں۔ لہذا متعین ہے کہ " یَرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ " میں وراثت مالی مراد نہیں۔ جس کی تائید خود لفظ " آل یعقوب " سے ہو رہی ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے تمام " آل یعقوب " کے اموال و املاک کا وارث تنہا حضرت زکریا (علیہ السلام) کا بیٹا کیسے ہوسکتا تھا بلکہ نفس وراثت کا ذکر ہی اس موقع پر ظاہر کرتا ہے کہ مالی وراثت مراد نہیں۔ کیونکہ یہ تو تمام دنیا کے نزدیک مسلم ہے کہ بیٹا باپ کے مال کا وارث ہوتا ہے۔ پھر دعاء میں اس کا ذکر کرنا محض بیکار تھا۔ یہ خیال کرنا کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اپنے مال و دولت کی فکر تھی کہ کہیں میرے گھر سے نکل کر بنی اعمام اور دوسرے رشتہ داروں میں نہ پہنچ جائے، نہایت پست اور ادنیٰ خیال ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کی شان یہ نہیں ہوتی کہ دنیا سے رخصت ہوتے وقت دنیا کی متاع حقیر کی فکر میں پڑجائیں کہ ہائے یہ کہاں جائے گی اور کس کے پاس رہے گی۔ اور لطف یہ ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) بڑے دولت مند بھی نہ تھے، بڑھئی کا کام کر کے محنت سے پیٹ پالتے تھے بھلا ان کو بڑھاپے میں کیا غم ہوسکتا تھا کہ چار پیسے رشتہ داروں کے ہاتھ نہ پڑجائیں۔ العیاذ باللّٰہ۔
7 یعنی ایسا لڑکا دیجئے جو اپنے اخلاق و اعمال کے لحاظ سے میری اور تیری اور اچھے لوگوں کی پسند کا ہو۔
Ayah 19:78 یعنی دعاء قبول ہوئی اور لڑکے کی بشارت پہنچی۔ جس کا نام (یحییٰ ) قبل از ولادت حق تعالیٰ نے تجویز فرما دیا۔ نام بھی ایسا انوکھا جو ان سے پہلے کسی کا نہ رکھا گیا تھا۔ بعض سلف نے یہاں " سمی " کے معنی " شبیہ " کے لیے ہیں۔ یعنی اس شان و صفت کا کوئی شخص ان سے پہلے نہیں ہوا تھا۔ شاید یہ مطلب ہو کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے کوئی ایسا لڑکا اس وقت تک پیدا نہیں کیا گیا تھا۔ یا بعض خاص احوال وصفات (مثلاً رقت قلب اور غلبہ بکا وغیرہ) میں ان کی مثال پہلے نہ گزری ہوگی۔ واللہ اعلم۔
Ayah 19:89 آدمی کا قاعدہ ہے کہ جب غیر متوقع اور غیر معمولی خوشخبری سنے تو مزید طمانیت و استلذاذ کے لیے بارہا پوچھتا اور کھود کرید کیا کرتا ہے۔ اس تحقیق و تفحّص سے لذت تازہ حاصل ہوتی اور بات خوب پکی ہوجاتی ہے یہ ہی منشاء حضرت زکریا (علیہ السلام) کے سوال کا تھا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " انوکھی چیز مانگتے تعجب نہ آیا۔ جب سنا کہ ملے گی تب تعجب کیا۔ "
Ayah 19:910 تعجب کی کوئی بات نہیں۔ ان ہی حالات میں اولاد مل جائے گی اور مشیت ایزدی پوری ہو کر رہے گی۔
11 یہ فرشتہ نے کہا۔ یعنی تمہارے نزدیک ظاہری اسباب کے اعتبار سے ایک چیز مشکل ہو تو خدا کے یہاں مشکل نہیں۔ اس کی قدرت عظیمہ کے سامنے سب آسان ہے۔ انسان اپنی ہستی ہی کو دیکھ لے۔ ایک زمانہ تھا کہ یہ کوئی چیز نہ تھی اس کا نام و نشان بھی کوئی نہ جانتا تھا۔ حق تعالیٰ اس کو پردہ عدم سے وجود میں لایا۔ پھر جو قادر مطلق لاشئی محض کو شئی بنا دے کیا وہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا نہیں کرسکتا۔ اس پر تو بطریق اولیٰ قدرت ہونی چاہیے۔
Ayah 19:101 یعنی باوجود تندرست ہونے کے جب کامل تین رات دن لوگوں کے ساتھ زبان سے بات چیت نہ کرسکے اس وقت سمجھ لینا کہ حمل قرار پا گیا ہے۔ اس کے متعلق مفصل کلام " آل عمران " کے فوائد میں گزر چکا۔ ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayah 19:112 یعنی جب وہ وقت آیا تو زبان گفتگو کرنے سے رک گئی۔ حجرہ سے باہر نکل کر لوگوں کو اشارہ سے کہا کہ صبح و شام اللّٰہ کو یاد کرو۔ نمازیں پڑھو۔ تسبیح و تہلیل میں مشغول رہو۔ یہ کہنا یا تو حسب معمول سابق وعظ و نصیحت کے طور پر ہوگا یا نعمت الٰہیہ کی خوشی محسوس کر کے چاہا کہ دوسرے بھی ذکر و شکر میں ان کے شریک حال ہوں۔ کیونکہ جیسا " آل عمران " میں گزرا حضرت زکریا کو حکم تھا کہ ان تین دن میں خدا کو بہت کثرت سے یاد کریں۔ اور خاص تسبیح کا لفظ شاید اس لیے اختیار کیا ہو کہ اکثر عجیب و غریب سماں دیکھنے پر آدمی " سبحان اللّٰہ " کہا کرتا ہے۔
Ayah 19:123 یعنی تورات اور دوسرے آسمانی صحیفوں کو جو تم پر یا دوسرے انبیاء پر نازل کیے گئے ہوں، خوب مضبوطی اور کوشش سے تھامے رکھو۔ ان کی تعلیمات پر خود عمل کرو اور دوسروں سے کراؤ۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی علم کتاب لوگوں کو سکھلانے لگا زور سے۔ یعنی باپ ضعیف تھے اور یہ جوان۔ "
4 لڑکپن ہی میں ان کو حق تعالیٰ نے فہم ودانش علم وحکمت فراست صادقہ احکام کتاب اور آداب عبودیت وخدمت کی معرفت عطا فرمادی تھی لڑکوں نے ایک مرتبہ انھیں کھیلنے کو بلایا کہا ہم اس واسطے نہیں بنائے گئے۔ بہت سے علماء کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے عام عادت کے خلاف ان کو لڑکپن ہی میں نبوت بھی عطا فرمادی۔
Ayah 19:135 یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو شوق و ذوق، رحمت و شفقت، رقت و نرم دلی، محبت اور مجبوبیت عنایت فرمائی تھی، اور صاف ستھرا، پاکیزہ رُو، پاکیزہ خو، مبارک و سعید متقی و پرہیزگار بنایا، حدیث میں ہے کہ یحییٰ نے نہ کبھی گناہ کیا نہ گناہ کا ارادہ کیا۔ خدا کے خوف سے روتے روتے رخساروں پر آنسوؤں کی نالیاں سی بن گئی تھیں۔ علیہ وعلٰی نبینا الصلوٰۃ والسلام۔
Ayah 19:146 یعنی متکبر، سرکش اور خود سر نہ تھا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی آرزو کے لڑکے اکثر ایسے ہوا کرتے ہیں۔ " وہ ویسا نہ تھا۔
Ayah 19:157 اللّٰہ جو بندہ پر سلام بھیجے محض تشریف و عزت افزائی کے لیے ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اس پر کچھ گرفت نہیں۔ یہاں (يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوْتُ وَيَوْمَ يُـبْعَثُ حَيًّا) 19 ۔ مریم :15) سے غرض تعمیم اوقات و احوال ہے۔ یعنی ولادت سے لے کر موت تک اور موت سے قیامت تک کسی وقت اس پر خوردہ گیری نہیں۔ خدا کی پکڑ سے ہمیشہ مامون و مصؤن ہے۔
Ayah 19:168 یعنی غسل حیض کرنے کو یہ ہی پہلا حیض تھا 13 برس کی عمر تھی یا 15 برس کی شرم کے مارے مجمع سے الگ ہو کر ایک مکان میں چلی گئیں جو بیت المقدس سے مشرق کی طرف تھا اس لیے نصاری نے مشرق کو اپنا قبلہ بنا لیا
Ayah 19:179 حضرت جبرائیل نوجوان خوبصورت مرد کی شکل میں پہنچے، جیسا کہ فرشتوں کی عادت ہے کہ عموماً خوش منظر صورتوں میں متمثل ہوتے ہیں۔ اور ممکن ہے یہاں حضرت مریم (علیہا السلام) کی انتہائی عفت و پاکبازی کا امتحان بھی مقصود ہو کہ ایسے زبردست دواعی و محرکات بھی اس کے جذبات عفاف وتقویٰ کو ادنیٰ ترین جنبش نہ دے سکے۔
Ayah 19:1810 مریم نے اول وہلہ میں سمجھا کہ کوئی آدمی ہے۔ تنہائی میں دفعتاً ایک مرد کے سامنے آجانے سے قدرتی طور پر خوفزدہ ہوئیں اور اپنی حفاظت کی فکر کرنے لگیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ فرشتہ کے چہرہ پر تقویٰ و طہارت کے انوار چمکتے دیکھ کر اسی قدر کہنا کافی سمجھا کہ میں تیری طرف سے رحمان کی پناہ میں آتی ہوں۔ اگر تیرے دل میں خدا کا ڈر ہوگا (جیسا کہ پاک و نورانی چہرہ سے روشن تھا) تو میرے پاس سے چلا جائے گا اور مجھ سے کچھ تعرض نہ کرے گا۔
Ayah 19:1911 یعنی گھبراؤ نہیں میری نسبت کوئی برا خیال آیا ہو تو دل سے نکال دو ۔ میں آدمی نہیں، تیرے اس رب کا (جس کی تو پناہ ڈھونڈتی ہے) بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ اس لیے آیا ہوں کہ خداوند قدوس کی طرف سے تجھ کو ایک پاکیزہ، صاف ستھرا اور مبارک و مسعود لڑکا عطا کروں۔ (غُلٰمًا زَكِيًّا) 19 ۔ مریم :19) (پاکیزہ لڑکا) کہنے میں اشارہ ہوگیا کہ وہ حسب و نسب اور اخلاق وغیرہ کے اعتبار سے بالکل پاک و صاف ہوگا۔
Ayah 19:2012 مریم (علیہ السلام) کے دل میں خدا نے یقین ڈال دیا کہ بیشک یہ فرشتہ ہے، مگر تعجب ہوا کہ جس عورت کا شوہر نہیں جو اس کو حلال طریقہ سے چھو سکتا، اور بدکار بھی نہیں کہ حرام طریقہ سے بچہ حاصل کرلے، اس کو بحالت راہنہ پاکیزہ اولاد کیونکر مل جائے گی، جیسا کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اس سے کم عجیب بشارت پر سوال کیا تھا۔
Ayah 19:211 یہ وہی جواب ہے جو حضرت زکریا (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا۔ گذشتہ رکوع میں دیکھ لیا جائے۔
2 یعنی یہ کام ضرور ہو کر رہے گا، پہلے سے طے شدہ ہے، تخلف نہیں ہوسکتا۔ ہماری حکمت اسی کو مقتضی ہے کہ بدون مس بشر کے محض عورت کے وجود سے بچہ پیدا کیا جائے۔ اور وہ دیکھنے اور سننے والوں کے لیے ہماری قدرت عظیمہ کی ایک نشانی ہو کیونکہ تمام انسان مرد و عورت کے ملنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ آدم (علیہ السلام) دونوں کے بدون پیدا ہوئے اور حوا کو صرف مرد کے وجود سے پیدا کیا گیا۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ جو حضرت مسیح میں ظاہر ہوئی کہ مرد کے بدون صرف عورت کے وجود سے ان کا وجود ہوا۔ اس طرح پیدائش کی چاروں صورتیں واقع ہوگئیں۔ پس حضرت مسیح (علیہ السلام) کا وجود قدرت الٰہیہ کا ایک نشان اور حق تعالیٰ کی طرف سے دنیا کے لیے بڑی رحمت کا سامان ہے۔
Ayah 19:223 کہتے ہیں فرشتہ نے پھونک ماری حمل ٹھہر گیا۔ وفی البحر۔ " وَذَکَرُوْا اَنَّ جِبْرَءِ یْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ نَفَخَ فِیْ جَیْبِ دَرْعِہَا اَوْفِیْہِ وَفِیْ کُمِّہَا۔ والظاہران المسندالیہ لنفخ ہو اللّٰہ تعالیٰ لقولہ فنفخنا (ص 181/6) کما قال فی ادم ونفخت فیہ من روحی واللّٰہ اعلم۔
4 یعنی جب وضع حمل کا وقت قریب آیا شرم کے مارے سب سے علیحدہ ہو کر کسی بعید مکان میں چلی گئی۔ شاید وہ ہی جگہ ہو جسے " بیت اللحم " کہتے ہیں۔ یہ مقام " بیت المقدس " سے آٹھ میل ہے ذکرہ ابن کثیرعن وہب۔
Ayah 19:235 یعنی دردزہ کی تکلیف سے ایک کھجور کی جڑ کا سہارا لینے کے لیے اس کے قریب جاپہنچی۔ اس وقت درد کی تکلیف، تنہائی و بیکسی، سامان ضرورت و راحت کا فقدان، اور سب سے بڑھ کر ایک مشہور پاکباز عفیفہ کو دینی حیثیت سے آئندہ بدنامی اور رسوائی کا تصور سخت بےچین کیے ہوئے تھا۔ حتی کہ اسی کرب و اضطراب کے غلبہ میں کہہ اٹھی (يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا) 19 ۔ مریم :23) (کاش میں اس وقت کے آنے سے پہلے ہی مرچکی ہوتی کہ دنیا میں میرا نام و نشان نہ رہتا اور کسی کو بھولے سے بھی یاد نہ آتی) شدت کرب و اضطراب میں گذشتہ بشارات بھی جو فرشتہ سے سنی تھیں یاد نہ آئیں۔
Ayahs 19:24–256 وہ مقام جہاں حضرت مریم (علیہا السلام) کھجور کے نیچے تشریف رکھتی تھیں قدرے بلند تھا، اس کے نیچے سے پھر اسی فرشتہ کی آواز سنائی دی کہ غمگین و پریشان مت ہو، خدا کی قدرت سے ہر قسم کا ظاہری و باطنی اطمینان حاصل کر۔ نیچے کی طرف دیکھ، اللّٰہ تعالیٰ نے کیسا چشمہ یا نہر جاری کردی ہے۔ یہ تو پینے کے لیے ہوا، کھانے کے لیے اسی کھجور کو ہلاؤ، پکی اور تازہ کھجوریں ٹوٹ کر گریں گی۔ (تنبیہ) بعض سلف نے " سری " کے معنی " عظیم الشان سردار " کے لیے ہیں۔ یعنی خدا تعالیٰ تجھ سے ایک بڑا سردار پیدا کرنے والا ہے۔ جنہوں نے " سری " کے معنی چشمہ یا نہر کے لیے ظاہر یہ ہے کہ وہ چشمہ بطور خرق عادت نکالا گیا اور کھجوریں بھی خشک درخت پر بےموسم لگ گئیں۔ ان خوارق کا دیکھنا مریم کی تسکین و اطمینان اور تفریح کا سبب تھا۔ اور جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے اس حالت میں یہ چیزیں مریم (علیہا السلام) کے لیے مفید تھیں اور انھیں ضرورت بھی ہوگی۔
Ayah 19:267 یعنی تازہ کھجوریں کھا کر چشمہ کے پانی سے سیراب ہو، اور پاکیزہ بیٹے کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کر، آگے کا غم نہ کھا، خدا تعالیٰ سب مشکلات کو دور کرنے والا ہے۔
8 یعنی اگر کوئی آدمی سوال کرے تو اشارہ وغیرہ سے ظاہر کردینا کہ میں روزہ سے ہوں۔ مزید گفتگو نہیں کرسکتی۔ ان کے دین میں یہ نیت درست تھی کہ نہ بولنے کا بھی روزہ رکھتے تھے۔ ہماری شریعت میں ایسی نیت درست نہیں۔ اور " کہیو میں نے مانا ہے " کا مطلب یہ ہے کہ روزہ کی نذر کر کے ایسا کہہ دینا۔ " انسیا " کی قید شاید اس لیے لگائی کہ فرشتہ سے بات کرنا منع نہ تھا۔
Ayah 19:279 یعنی جب بچہ کو گود میں اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے سامنے آئی تو لوگ ششدر رہ گئے، کہنے لگے " مریم (علیہ السلام) تو نے غضب کردیا، یہ بناوٹ کی چیز کہاں سے لے آئی۔ اس سے زیادہ جھوٹ طوفان کیا ہوگا کہ ایک لڑکی کنواری رہتے ہوئے دعویٰ کرے کہ میرے بچہ پیدا ہوا ہے۔ "
Ayah 19:2810 یعنی بدگمان ہو کر کہنے لگے کہ تیرے ماں باپ اور خاندان والے ہمیشہ سے نیک رہے ہیں، تجھ میں یہ بری خصلت کدھر سے آئی ؟ بھلوں کی اولاد کا برا ہونا محل تعجب ہے (تنبیہ) مریم (علیہا السلام) کو " اخت ہارون " اس لیے کہا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نسل سے تھی۔ گویا " اُخت ہارون " سے مراد " اُخت قوم ہارون " ہوئی۔ جیسے (وَاذْكُرْ اَخَا عَادٍ ) 46 ۔ الاحقاف :21) میں ہود (علیہ السلام) کو " عاد " کا بھائی کہا ہے۔ حالانکہ " عاد " ان کی قوم کے مورث اعلیٰ کا نام تھا۔ اور ممکن ہے " اُخت ہارون " کے ظاہری معنی لیے جائیں جیسا کہ بعض احادیث صحیحہ سے ظاہر ہوتا ہے یعنی مریم کے بھائی کا نام ہارون تھا۔ جیسے ہمارے زمانہ میں رواج ہے۔ اس وقت بھی لوگ انبیاء و صالحین کے ناموں پر نام رکھتے تھے۔ کہتے ہیں کہ مریم کا وہ بھائی ایک مرد صالح تھا۔ تو حاصل کلام یہ ہوا کہ تیرا باپ پاکباز تھا، ماں پارسا تھی، بھائی ایسا نیک ہے اوپر جا کر تیرا نسب ہارون (علیہ السلام) پر منتہی ہوتا ہے، پھر یہ حرکت تجھ سے کیونکر سرزد ہوئی۔
Ayah 19:2911 یعنی مریم (علیہا السلام) نے ہاتھ سے بچہ کی طرف اشارہ کیا کہ خود اس سے دریافت کرو۔
12 یعنی اس شرمناک حرکت پر یہ ستم ظریفی ؟ کہ بچہ سے پوچھ لو۔ بھلا ایک گود کے بچہ سے ہم کیسے سوال و جواب کرسکتے ہیں۔ (تنبیہ) مَنْ کَانَ فِیْ الْمَہْدِ صَبِیًّا میں " کَانَ " کا لفظ اس پر دلالت نہیں کرتا کہ تکلم کے وقت وہ صبی نہیں رہا تھا۔ قرآن میں بہت جگہ مثلاً (وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4 ۔ النسآء :96) یا (وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ) 17 ۔ الاسراء :32) یا (اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيْدٌ) 50 ۔ ق :37) میں کان کا استعمال ایسے مضمون کے لیے ہوا ہے جس کا سلسلہ زمانہ ماضی کے گزرنے کے ساتھ منقطع نہیں ہوا۔ اور یہاں مَنْ کَانَ فِیْ الْمَہْدِ صَبِیًّا سے تعبیر کرنے میں نکتہ یہ ہے کہ کہنے والوں نے نفی تکلم کو ایک ضابطہ کے رنگ میں پیش کیا۔ یعنی نہ صرف عیسیٰ بلکہ ہر اس شخص سے جو گود میں بچہ ہو کلام کرنا عادۃً محال ہے۔
Ayah 19:301 قوم کی طرف سے یہ ہی گفتگو ہو رہی تھی کہ خود مسیح (علیہ السلام) کو حق تعالیٰ نے گویا کردیا۔ آپ نے اس وقت جو کچھ فرمایا اس میں تمام غلط اور فاسد خیالات کا رد تھا جو آئندہ ان کی نسبت قائم ہونے والے تھے۔ " میں بندہ ہوں اللّٰہ کا " یعنی خود اللّٰہ یا اللّٰہ کا بیٹا نہیں جیسا کہ اب نصاریٰ کا عقیدہ ہے، چناچہ اسی عقیدہ کی تردید کے لیے پہلے حضرت مسیح کی ولادت وغیرہ کے تفصیلی حالات بیان فرمائے۔ اور " مجھ کو خدا نے نبی بنایا " یعنی مفتری اور کاذب نہیں جیسا کہ یہود گمان کرتے ہیں۔ (تنبیہ) سورة " آل عمران " اور " مائدہ " میں حضرت مسیح کے تکلم فی المہد کے متعلق کلام کیا جا چکا ہے۔ وہاں دیکھ لیا جائے۔ صحیح بخاری کی حدیث میں نبی کریم ﷺ نے جن تین بچوں کے مہد میں کلام کرنے کا ذکر فرمایا ہے ان میں ایک حضرت مسیح ابن مریم ہیں۔ آج جو لوگ قرآن و حدیث کے خلاف حضرت مسیح کے تکلم فی المہد کا انکار کرتے ہیں ان کے ہاتھ میں نصاریٰ کی کو رانہ تقلید کے سوا کچھ نہیں۔
Ayah 19:312 یعنی جب تک زندہ ہوں، جس وقت اور جس جگہ کے مناسب جس قسم کی صلوٰۃ و زکوٰۃ کا حکم ہو، اس کی شروط و حقوق کی رعایت کے ساتھ برابر ادا کرتا رہوں۔ جیسے دوسری جگہ مومنین کی نسبت فرمایا (الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ دَاۗىِٕمُوْنَ ) 70 ۔ المعارج :23) اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر آن اور ہر وقت نمازیں پڑھتے رہتے ہیں۔ بلکہ یہ مراد ہے کہ جس وقت جس طرح کی نماز کا حکم ہو ہمیشہ پابندی سے تعمیل حکم کرتے ہیں اور اس کی برکات و انوار ہمہ وقت ان کو محیط رہتی ہیں۔ کوئی شخص کہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں۔ نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج وغیرہ کے مامور ہیں کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ ہر ایک مسلمان مامور ہے کہ ہر وقت نماز پڑھتا ہے، ہر وقت زکوٰۃ دیتا ہے (خواہ نصاب کا مالک ہو یا نہ ہو) ہر وقت روزے رکھتا ہے، ہر وقت حج کرتا ہے۔ حضرت مسیح کے متعلق بھی (مَا دُمْتُ حَيًّا) 19 ۔ مریم :31) کا ایسا ہی مطلب سمجھنا چاہیے۔ یاد رہے کہ لفظ " صلوٰۃ " کچھ اصطلاحی نماز کے ساتھ مخصوص نہیں، قرآن نے ملائکہ اور بشر سے گزر کر تمام جہان کی طرف صلوٰۃ کی نسبت کی ہے۔ (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّيْرُ صٰۗفّٰتٍ ۭ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسْبِيْحَهٗ ) 24 ۔ النور :44) اور یہ بھی بتلا دیا کہ ہر چیز کی تسبیح و صلوٰۃ کا حال اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کی صلوٰۃ و تسبیح کس رنگ کی ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ کے معنی بھی اصل میں طہارت، نماز، برکت و مدح کے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک معنی کا استعمال قرآن و حدیث میں اپنے اپنے موقع پر ہوا ہے۔ اسی رکوع میں حضرت مسیح کی نسبت " غُلَامًا زَکِیًّا " کا لفظ گزر چکا جو زکوٰۃ سے مشتق ہے۔ اور یحيٰ (علیہ السلام) کو فرمایا (وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَكٰوةً ) 19 ۔ مریم :13) سورة کہف میں ہے (خَيْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّاَقْرَبَ رُحْمًا) 18 ۔ الکہف :81) اسی طرح کے عام معنی یہاں بھی زکوٰۃ کے لیے جاسکتے ہیں۔ اور ممکن ہے (۠وَاَوْصٰىنِيْ بالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ ) 19 ۔ مریم :31) سے اَوْصَانِیْ بِأَنْ اٰمُرَ بالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مراد ہو جیسے اسماعیل (علیہ السلام) کی نسبت فرمایا (وَكَانَ يَاْمُرُ اَهْلَهٗ بالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ ) 19 ۔ مریم :55) پھر لفظ " اوصانی " اپنے مدلول لغوی کے اعتبار سے اس کو مقتضی نہیں کہ وقت ایصاء ہی سے اس پر عمل درآمد شروع ہوجائے۔ نیز بہت ممکن ہے کہ " مَادُمْتُ حَیًّا " سے یہ ہی زمینی حیات مراد لے لی جائے۔ جیسے ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ جابر ؓ کے والد کو اللّٰہ نے شہادت کے بعد زندہ کر کے فرمایا کہ مجھ سے کچھ مانگ، اس نے کہا مجھے دوبارہ زندہ کر دیجئے کہ دوبارہ تیرے راستہ میں قتل کیا جاؤں۔ اس زندگی سے یقینا زمینی زندگی مراد ہے ورنہ شہداء کے لیے نفس حیات کی قرآن میں اور خود اسی حدیث میں تصریح موجود ہے۔ یہ ہی مطلب حیات کا " لَوْکَانَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی حَیِّیْنِ الخ " میں سمجھو۔ اگر بالفرض اس کا حدیث ہونا ثابت ہوجائے۔ " بالفرض " ہم نے اس لیے کہا کہ اس کی اسناد کا کتب حدیث میں کہیں پتہ نہیں۔ واللّٰہ اعلم۔
Ayah 19:323 چونکہ باپ کوئی نہ تھا اس لیے صرف ماں کا نام لیا۔
4 یہ سب جملے جو بصیغہ ماضی لائے گئے بیشک اس کے معنی ماضی ہی کے لیے جائیں گے۔ لیکن اس طرح کہ مستقبل متقین الوقوع کو گویا ماضی فرض کرلیا گیا۔ جیسے " اتی اَمْرُاللّٰہ فَلَا تَسْتَعْجِلُوہ " میں۔ اس طرح مسیح (علیہ السلام) نے بچپن میں ماضی کے صیغے استعمال کر کے متنبہ کردیا کہ ان سب چیزوں کا آئندہ پایا جانا ایسا قطعی اور یقینی ہے کہ اسے یہ ہی سمجھنا چاہیے کہ گویا پائی جا چکی۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی اس خارق عادت گفتگو سے اور ان اوصاف و خصال سے جو بیان کیے نہایت بلاغت کے ساتھ اس ناپاک تہمت کا رد ہوگیا جو ان کی والدہ ماجدہ پر لگائی جاتی تھی۔ اول تو ایک بچہ کا بولنا، اور ایسا جامع و موثر کلام طبعًا دشمنوں کو خاموش کرنے والا تھا پھر جس ہستی میں ایسی پاکیزہ خصال پائی جائیں، ظاہر ہے۔ وہ العیاذ باللہ ولدالزنا کیسے ہوسکتی ہے جیسا کہ خود ان کے اقرار (مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّمَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِيًّا) 19 ۔ مریم :28) سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فروع کو اصول کے موافق دیکھنا چاہتے تھے۔
Ayah 19:335 اس جملہ کے ہم معنی جملہ پہلے حضرت یحییٰ کے ذکر میں گزر چکا۔ فرق اتنا ہے کہ وہاں خود حق تعالیٰ کی طرف سے کلام تھا۔ یہاں حق تعالیٰ نے مسیح کی زبان سے وہ ہی بات فرمائی۔ نیز " سَلَامٌ" اور " اَلسَّلَامُ " کا فرق بھی قابل لحاظ ہے۔
Ayah 19:346 یعنی حضرت مسیح (علیہ السلام) کی شان و صفت یہ ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ ایک سچی اور کھلی ہوئی بات میں لوگوں نے خواہ مخواہ جھگڑے ڈال لیے۔ اور طرح طرح کے اختلافات کھڑے کردیے۔ کسی نے ان کو خدا بنادیا کسی نے خدا کا بیٹا، کسی نے کذاب و مفتری کہا، کسی نے نسب وغیرہ پر طعن کیا۔ سچی بات وہ ہی ہے جو ظاہر کردی گئی کہ خدا نہیں، خدا کے مقرب بندے ہیں۔ جھوٹے مفتری نہیں، سچے پیغمبر ہیں۔ ان کا حسب نسب سب سے پاک و صاف ہے۔ خدا نے ان کو " کلمۃ اللہ " فرمایا ہے اور ممکن ہے " قول الحق " کے معنی بھی یہاں " کلمۃ اللہ " کے ہوں۔
Ayah 19:357 جس کے ایک " کُنْ " (ہو جا) کہنے میں ہر چیز موجود ہو، اسے بیٹے پوتوں کی کیا ضرورت لاحق ہوگی۔ کیا (العیاذ باللّٰہ) اولاد ضعیفی میں سہارا دے گی ؟ یا مشکلات میں ہاتھ بٹائے گی ؟ یا اس کے بعد نام چلائے گی ؟ اور اگر شبہ ہو کہ عموماً آدمی ماں باپ سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر حضرت مسیح (علیہ السلام) کا باپ کسے کہیں ؟ اس کا جواب بھی اسی جملہ " کُنْ فَیَکُوْنُ " میں آگیا۔ یعنی ایسے قادر مطلق کے لیے کیا مشکل ہے کہ ایک بچہ کو بن باپ پیدا کر دے۔ اگر عیسائی خدا کو باپ اور مریم کو ماں کہتے ہیں تو کیا (معاذ اللّٰہ) دوسرے تعلقات زنا شوئی کا بھی اقرار کریں گے ؟ باپ مان کر بھی بہرحال تخلیق کا طریقہ وہ تو نہ ہوگا جو عموماً والدین میں ہوتا ہے۔ پھر بدون باپ کے پیدا ہونے میں کیا اشکال ہے۔
Ayahs 19:36–378 یہ کس نے کہا ؟ بعض کے نزدیک یہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کا مقولہ ہے۔ گویا پیشتر حضرت مسیح کی جو گفتگو (قَالَ اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰهِ ڜ اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ وَجَعَلَنِيْ نَبِيًّا) 19 ۔ مریم :28) سے نقل کی گئی تھی، یہ اس کا تکملہ ہوا۔ درمیان میں مخاطبین کی تنبیہ کے لیے (ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ ) 19 ۔ مریم :34) سے حق تعالیٰ کا کلام تھا۔ میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ اس کو (وَاذْكُرْ فِى الْكِتٰبِ مَرْيَمَ ۘاِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا) 19 ۔ مریم :16) کے ساتھ لگایا جائے۔ یعنی (اے محمد ﷺ کتاب میں مریم و مسیح کا حال سنا کر جو مذکور ہوچکا، کہہ دو کہ میرا اور تمہارا سب کا رب اللہ ہے۔ تنہا اسی کی بندگی کرو۔ بیٹے، پوتے مت بناؤ۔ سیدھی راہ توحید خالص کی ہے جس میں کچھ ایچ پیچ نہیں۔ سب انبیاء اسی کی طرف ہدایت کرتے آئے لیکن لوگوں نے بہت سے فرقے بنا لیے اور جدی جُدی راہیں نکال لیں۔ سو جو لوگ توحید کا انکار کر رہے ہیں، انھیں بڑے ہولناک دن (روز قیامت) کی تباہی سے خبردار رہنا چاہیے جو یقینا پیش آنے والی ہے۔
Ayah 19:389 یعنی آج تو جبکہ سننا اور دیکھنا مفید تھا، بالکل اندھے، بہرے بنے ہوئے ہیں اور قیامت کے دن جب دیکھنا سننا کچھ فائدہ نہ دے گا، آنکھیں اور کان خوب کھل جائیں گے اس وقت وہ باتیں سنیں گے جن سے جگر پھٹ جائیں اور وہ منظر دیکھیں گے جس سے چہرے سیاہ ہوجائیں نعوذ باللہ منہ۔
Ayah 19:3910 کافروں کو پچھتانے کے بہت مواقع پیش آئیں گے۔ آخری موقع وہ ہوگا جب موت کو مینڈھے کی صورت میں لا کر بہشت و دوزخ کے درمیان سب کو دکھا کر ذبح کیا جائے گا اور ندا آئے گی کہ بہشتی بہشت میں اور دوزخی دوزخ میں ہمیشہ کے لیے رہ پڑے، اس کے بعد کسی کو موت آنے والی نہیں۔ اس وقت کافر بالکل ناامید ہو کر حسرت سے ہاتھ کاٹیں گے۔ لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت۔
11 یعنی اس وقت انھیں یقین نہیں کہ واقعی ایسا دن آنے والا ہے وہ غفلت کے نشہ میں مخمور ہیں اور بڑی بھاری بھول میں پڑے ہیں۔ کاش اس وقت آنکھیں کھولتے اور اپنے نفع نقصان کو سمجھتے اس دن پچھتانے سے حسرت و افسوس کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ " اَلْئٰنَ قَدْ نَدِمْتَ وَمَایَنْفَعُ النَّدَمُین "
Ayah 19:401 یعنی کسی کا ملک یا ملک باقی نہ رہے گی۔ ہر چیز براہ راست مالک حقیقی کی طرف لوٹ جائے گی۔ وہی بلاواسطہ حاکم و متصرف علی الاطلاق ہوگا۔ جس چیز میں جس طرح چاہے گا اپنی حکمت کے موافق تصرف کرے گا۔ دنیا کے جن سامانوں نے تم کو غفلت میں ڈال رکھا ہے سب کا ایک ہی وارث باقی رہ جائے گا۔ ملک و ملک کے لمبے چوڑے دعوے رکھنے والے سب فنا کے گھاٹ اتار دیے جائیں گے۔