19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsبیان القرآن

Ayahs 19:1–6

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کھیٰعص

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

یہ تذکرہ ہے آپ کے پروردگار کے مہربانی کا اپنے بندے زکریا (علیہ السلام) پر۔

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جب کہ انہوں نے اپنے پروردگار کو پوشیدہ طور پر پکارا۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

جس میں یہ عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں (بوجہ پیری کے) کمزور ہوگئیں اور سر میں بالوں کی سفیدی پھیل گئی اور ( اس سے قبل کبھی میں) آپ کے مانگنے میں اے میرے رب ناکام نہیں رہا ہوں۔

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور میں اپنے بعد (اپنے) رشتہ داروں (کی طرف) سے اندیشہ رکھتا ہوں اور میری بی بی بانجھ ہے (سو اس صورت میں) آپ مجھ کو خاص اپنے پاس سے ایک ایسا وارث (یعنی بیٹا) دے دیجیئے کہ وہ (میرے علوم خاصہ میں) میرا وارث بنے۔

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

اور ( میرے جد) یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان کا وارث بنے (ف 3) اور اس کو اے میرے رب (اپنا) پسندیدہ بنائیے۔ (ف 4)

ف 3۔ یعنی علوم سابقہ و لاحقہ اس کو حاصل ہوں۔ 4۔ یعنی عالم بھی ہو اور عامل بھی ہو۔
Ayah 19:7

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

اے زکریا (علیہ السلام) ہم تم کو ایک فرزند کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا کہ اس کے قبل ہم نے کسی کو اس کا ہم صفت نہ بنایا ہوگا۔ (ف 5)

ف 5۔ یعنی جس علم و عمل کی تم دعا کرتے ہو وہ تو اس فرزند کو ضرور ہی عطا کریں گے، اور مزید برآں کچھ اوصاف خاصہ بھی عنایت کئے جاویں گے۔
Ayahs 19:8–9

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

زکریا نے عرض کیا کہ اے میرے رب میرے اولاد کس طور پر ہوگی حالانکہ میری بی بی بانجھ ہے اور (ادھر) میں بڑھاپے کے انتہائی درجے کو پہنچ چکا ہوں۔

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

ارشاد ہوا حالت (موجودہ) یونہی رہے گی (اور پھر اولاد ہوگی اے زکریا (علیہ السلام) تمہارے رب کا قول ہے کہ یہ (امر) مجھ کو آسان ہے اور میں نے تم کو پیدا کیا حالانکہ تم (پیدائش کے قبل) کچھ بھی نہ تھے۔ (ف 1)

ف 1۔ جب معدوم کو موجود کرنا آسان ہے تو ایک موجود سے دوسرا موجود کردینا کیا مشکل ہے۔ یہ سب ارشاد تقویت رجا کے لئے تھا نہ کہ رفع شبہہ کے لئے کیونکہ زکریا (علیہ السلام) کو کوئی شبہہ نہ تھا۔
Ayahs 19:10–12

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

جب زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے رب میرے لیے کوئی علامت مقرر فرما دیجیئے ارشاد ہوا کہ تمہاری (وہ) علامت یہ ہے کہ تم تین رات (اور تین دن تک) آدمیوں سے بات نہ کرسکو گے۔

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

حالانکہ تندرست ہو گے پس حجرے میں سے اپنی قوم کے پاس برآمد ہوئے اور ان کو اشارے سے فرمایا کہ تم لوگ صبح اور شام خدا کی پاکی بیان کرو۔

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحییٰ کتاب کو مضبوط ہو کرلو (ف 2) اور ہم نے ان کو (ان کے) لڑکپن ہی میں (دین کی) سمجھ۔

ف 2۔ یعنی توریت کہ اس وقت وہی کتاب شریعت تھی، اور انجیل کا نزول بعد میں ہوا۔
Ayahs 19:13–14

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور خاص اپنے پاس سے رقت قلب اور پاکیزگی (اخلاق کی) عطا فرمائی تھی (ف 3) اور وہ بڑے پرہیزگار۔

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور اپنے والدین کے خدمت گزار تھے (ف 4) اور وہ (خلق کے ساتھ) سرکشی کرنے والے (یا حق تعالیٰ کی) نافرمانی کرنے والے نہ تھے۔

ف 4۔ اس میں حقوق اللہ و حقوق العباد دونوں کی طرف اشارہ ہوگیا۔
Ayah 19:15

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

اور ان کو اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچے جس دن کہ وہ پیدا ہوئے اور جس دن کے وہ انتقال کریں گے اور جس دن (قیامت میں) زندہ ہو کر اٹھائے جاویں گے۔ (ف 5)

ف 5۔ وہ عنداللہ ایسے وجیہ و مکرم تھے کہ ان کے حق میں من جانب اللہ یہ ارشاد ہوتا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچے جس دن کہ وہ پیدا ہوئے اور جس دن وہ انتقال کریں گے اور جس دن قیامت میں زندہ ہو کر اٹھائے جاویں گے۔
Ayahs 19:16–19

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ اس کتاب میں مریم (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجیئے جب کہ وہ اپنے گھر والوں سے علیحدٰہ (ہو کر) ایسے مکان میں جو مشرق کی جانب میں تھا (غسل کے لئے) گئیں۔

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

پھر ان (گھر والے) لوگوں کے سامنے سے انہوں نے پردہ ڈال لیا پس (اسی حالت میں) ہم نے ان کے پاس اپنے فرشتہ جبرائیل کو بھیجا اور وہ ان کے سامنے ایک پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا۔

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

کہنے لگیں کہ میں تجھ سے (اپنے خدائے رحمان) کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو (کچھ) خدا ترس ہے (تو یہاں سے ہٹ جاوے گا) ۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

فرشتہ نے کہا میں تمہارے رب کا بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں تاکہ تم کو ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔ (ف 6)

ف 6۔ یعنی تمہارے منہ میں یا گریبان میں دم کردوں کہ اس کے اثر سے باذن اللہ حمل رہ جاوے گا اور لڑکا پیدا ہوگا۔
Ayahs 19:20–23

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

وہ (تعجباً ) کہنے لگیں کہ (بھلا) میرے لڑکا کس طرح ہوجا وے گا حالانکہ مجھ کو کسی بشر نے بھی ہاتھ تک نہیں لگایا اور نہ میں بد کار ہوں۔

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

فرشتہ نے کہا کہ یوں ہی (اولاد) ہوجائے گی تمہارے رب نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ بات مجھ کو آسان ہے اور اس طور پر اس لیے پیدا کریں گے تاکہ ہم اس فرزند کو لوگوں کے لیے ایک نشانی (قدرت کی) بنادیں اور باعث رحمت بنادیں اور یہ ایک طے شدہ بات ہے (جو ضرور ہوگی) ۔

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

پھر ان کے پیٹ میں لڑکا رہ گیا پھر اس حمل کو لیے ہوئے (اپنے گھر سے) کسی دور جگہ میں چلی گئیں۔

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر درد زہ کے مارے کھجور کے درخت کی طرف آئیں (ف 7) (گھبرا کر) کہنے لگیں کاش میں اس (حالت) سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور ایسی نیست و نابود ہوجاتی کہ کسی کو یاد بھی نہ رہتی۔

ف 7۔ تاکہ اس کے سہارے بیٹھیں اٹھیں۔
Ayah 19:24

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

پھر جبرائیل (علیہ السلام) نے ان کے (اس) پائیں (مکان) سے پکارا کہ تم مغموم مت ہو (ف 1) تمہارے رب نے تمہارے پائیں میں سے ایک نہر پیدا کردی ہے۔

ف 1۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ان کے احترام کی وجہ سے سامنے نہیں گئے بلکہ جس مقام پر حضرت مریم (علیہا السلام) تھیں اس سے اسفل مقام میں آڑ میں آئے۔
Ayahs 19:25–26

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور اس کھجور کے تنہ کو (پکڑ کر) اپنی طرف کو ہلاؤ اس سے تم پر خرمائے تر و تازہ جھڑیں گے۔

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

پھر (اس کا پھل) اور (وہ پانی) پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو (ف 2) پھر اگر تم آدمیوں میں سے کسی کو بھی (اعتراض کرتا) دیکھو تو کہہ دینا میں نے تو اللہ کے واسطے روزے کی منت مان لی رکھی ہے سو آج میں کسی آدمی سے نہیں بولوں گی۔ (ف 3)

ف 2۔ یعنی بچہ کے دیکھنے سے اور کھانے پینے سے اور علامت قبول عنداللہ ہونے سے خوش رہو۔ 3۔ بس تم اتنا جواب دے کر بےفکر ہوجانا۔ اللہ تعالیٰ اس مولود مسعود کو خرق عادت کے طور پر بولتا کردے گا جس سے ظہور اعجاز دلیل نزہت و عصمت ہوجاوے گی، غرض ہر غم کا علاج ہوگیا۔
Ayah 19:27

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر وہ ان کو گود میں لیے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں لوگوں نے کہا اے مریم (علیہ السلام) تم نے بڑے غضب کا کام کیا۔ (ف 4)

ف 4۔ یعنی نعوذباللہ بدکاری کی۔
Ayahs 19:28–30

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن تمہارے باپ کوئی برے آدمی نہیں تھے اور نہ تمہاری ماں بدکار تھیں۔

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

پس مریم (علیہ السلام) نے بچہ کی طرف اشارہ کردیا وہ لوگ کہنے لگے بھلا ہم ایسے شخص سے کیوں کر باتیں کریں جو ابھی گود میں بچہ ہی ہے۔

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

وہ بچہ (خود ہی) بول اٹھا میں اللہ کا خاص بندہ ہوں اس نے مجھ کو کتاب (یعنی انجیل) (ف 5) دی اور اس نے مجھ کو نبی بنایا (یعنی بناوے گا) ۔

ف 5۔ یعنی گو آئندہ دے گا مگر بوجہ یقینی ہونے کے ایسا ہی ہے کہ جیسے دے دی۔
Ayah 19:31

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور مجھ کو برکت والا بنایا (ف 6) میں جہاں کہیں بھی ہوں اور اس نے مجھ کو نماز اور زکوٰة کا حکم دیا جب تک میں (دنیا میں) زندہ رہوں۔

ف 6۔ یعنی مجھ سے خلق کو دین کا نفع پہنچے گا۔
Ayahs 19:32–34

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور مجھ کو میری والدہ کا خدمت گزار بنایا اور اس نے مجھ کو سرکش بدبخت نہیں بنایا۔

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور مجھ پر (الله کی جانب سے) سلام ہے جس روز میں پیدا ہوا اور جس روز مروں گا اور جس روز (قیامت) میں زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ ہیں عیسیٰ بن مریمٰ (علیہ السلام) (ف 7) میں (بالکل) سچی بات کہہ رہا ہوں جس میں یہ لوگ جھگڑ رہے ہیں۔

ف 7۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے مجموعہ اوصاف و احوال مذکورہ آیت سے نزاہت و طہارت حضرت مریم (علیہا السلام) کی ثابت ہوگئی۔ جو مقصود تھا اس تکلم خارق عادت سے، جس میں سب سے بڑھ کر دلالت علی المطلوب میں وصف نبوت ہے کیونکہ نبوت کے ساتھ فساد نسب جو کہ اعلی درجہ کا سبب عار ہے مجتمع نہیں ہوتا، اور عطاء نبوت کا تحقق اس تکلم خارق سے ہوتا ہے، کیونکہ بےگناہ سے خارق کا صدور دلیل مقبولیت ہے، اور مقبول ہونا کاذب ہونے کے منافی ہے۔
Ayahs 19:35–36

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ (کسی کو) اولاد اختیار کرے وہ (بالکل) پاک ہے وہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو بس اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتا ہے۔

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور بیشک اللہ تعالیٰ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے سو (صرف) اس کی عبادت کرویہی (دین کا) سیدھا راستہ ہے۔ (ف 8)

ف 8۔ یعنی خالص خدا کی عبادت کرنا یا توحید اختیار کرنا دین کا سیدھا رستہ ہے۔
Ayah 19:37

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

سو (پھر بھی) مختلف گروہوں نے (اس بارے میں) باہم اختلاف ڈال لیا (ف 9) سو ان کافروں کے لیے ایک بڑے دن کے آنے سے بڑی خرابی ہونے والی ہے۔ (ف 10)

ف 9۔ یعنی انکار توحید کا کر کے طرح طرح کے مذاہب ایجاد کرلیئے۔ 10۔ مراد اس سے قیامت ہے کہ باعتبار امتداد و اشتداد کے عظیم ہوگا۔