18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsبیان القرآن

Ayah 18:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

تمام خوبیاں اس اللہ کے لیے ثابت ہیں جس نے اپنے (خاص) بندے پر یہ کتاب نازل فرمائی اور اسمیں ذرا بھی کجی نہیں رکھی۔

Ayah 18:2

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

بالکل استقامت کے ساتھ موصوف بنایا تاکہ وہ ایک سخت عذاب سے جو کہ منجانب اللہ ہوگا ڈرائے اور ان اہل ایمان کو جو نیک کام کرتے ہیں یہ خوشخبری دے کہ ان کو اچھا اجر ملے گا۔

Ayah 18:3

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

Ayah 18:4

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جو یوں کہتے ہیں کہ (نعوذ بالله) اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے۔

Ayah 18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

نہ تو اس کی کوئی دلیل ان کے پاس ہے اور نہ ان کے باپ داداؤں کے پاس تھی بڑی بھاری بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے (اور) وہ لوگ بالکل ہی جھوٹ بکتے ہیں۔

Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

اور آپ جو ان پر اتنا غم کھاتے ہیں) سو شاید آپ ان کے پیچھے اگر یہ لوگ اس مضمون (قرانی) پر ایمان نہ لائے غم سے اپنی جان دے دیں گے (یعنی اتنا غم نہ کریں کہ قریب بہ ہلاک کر دے) ۔

Ayah 18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

ہم نے زمین پر کی چیزوں کو اس کے لیے باعث رونق بنایا تاکہ ہم لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں زیادہ اچھا عمل کون کرتا ہے۔ (ف 4)

ف 4۔ یعنی کون تو اس کے اسباب زینت میں مشغول ہو کر حق تعالیٰ سے غافل ہوجاتا ہے، اور کون اس پر فریفتہ نہ ہو کر حق تعالیٰ کی طرف مشغول ہوتا ہے۔ غرض یہ عالم ابتلاء ٹھہرا، پس ضرور ہوا کہ کوئی مبتلائے کفر ہو، اور کوئی مشرف بایمان ہو، پھر غم بیکار، آپ اپنا کام کئے جایئے اور ان کے کفر کے نتیجے کی فکر میں نہ پڑیئے کہ اس کا مرتب کرنا ہمارا کام ہے، آپ کا فرض دعوت و تبلیغ ہے۔
Ayah 18:8

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور ہم زمین پر کی تمام چیزوں کو ایک صاف میدان (یعنی فنا) کردیں گے۔ (ف 5)

ف 5۔ کفار قریش نے تعلیم یہود امتحان نبوت ہی کے لئے آپ سے تین سوال کئے تھے، ایک روح کے متعلق جس کا جواب سورت سابقہ میں گزر چکا ہے، ایک اصحاب کہف کا قصہ جو ابھی مذکور ہوتا ہے، ایک ذو القرنین کا قصہ جو اس سورت کے آخر میں آوے گا۔
Ayahs 18:9–10

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ غار والے اور پہاڑ والے ہماری عجائبات میں سے کچھ تعجب کی چیز تھے۔ (ف 6)

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

وہ وقت قابل ذکر ہے جب کہ نوجوانوں نے اس غار میں جا کر پناہ لی پھر کہا کہ ہمارے پروردگار ہم کو اپنے پاس سے رحمت کا سامان عطا فرمائیے اور ہمارے لیے (اس) کام میں درستی کا سامان مہیا کر دیجیئے۔

ف 6۔ غار والے اور پہاڑ والے دونوں ایک ہی جماعت کے لقب ہیں۔
Ayahs 18:11–12

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

سو ہم نے اس غار میں ان کے کانوں پر سالہا سال تک نیند کا پردہ ڈال دیا۔ (ف 1)

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ ان دونوں گروہ میں کون سا گروہ ان کی رہنے کی مدت سے زیادہ واقف تھا۔

ف 1۔ یعنی ایسے غرق ہو کر سوئے کہ کوئی آواز ان کے کان میں نہ پہنچتی تھی، اور اس میں زیادہ مبالغہ ہے بہ نسبت اس کے کہ کہا جاوے کہ آنکھ پر پردہ ڈال دیا کیونکہ آنکھ تو بدون نوم ثقیل کے بھی مبصرات سے معطل ہوجاتی ہے۔
Ayahs 18:13–16

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم ان کا واقعہ آپ سے ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں (ف 2) وہ لوگ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اور ترقی کردی تھی۔

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیے جب کہ وہ (دین میں) پختہ ہو کر کہنے لگے کہ ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم تو اس کو چھوڑ کر اور معبود کی عبادت نہ کریں گے کیوں کہ اس صورت میں ہم نے یقیناً بڑی بےجا بات کہی۔

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

یہ جو ہماری قوم ہے انہوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود قرار دے رکھے ہیں یہ لوگ ان معبودوں پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے تو اس شخص سے زیادہ کون غضب ڈھانے والا ہوگا جو اللہ پر جھوٹ تہمت لگادے۔

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور جب تم ان لوگوں سے الگ ہوگئے ہو اور ان کے معبودوں میں سے بھی مگر اللہ سے تو تم (فلاں) غار میں چل کر پناہ لو تم پر تمہارا رب اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے لیے تمہارے اس کام میں بھی کامیابی کا سامان درست کرے گا۔

ف 2۔ چونکہ لوگوں نے اس کو مختلف طور پر مشہور کیا تھا اس لئے فرمایا کہ ٹھیک وہ جو قرآن میں ہے۔
Ayah 18:17

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور اے مخاطب جب دھوپ نکلتی ہے تو تو اس کو دیکھے گا کہ وہ داہنی جانب کو بچی رہتی ہے (ف 3) اور جب چھپتی ہے تو بائیں طرف ہٹتی رہتی ہے (ف 4) اور وہ لوگ اس غار کے ایک فراخ موقع میں تھے یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پاتا ہے اور جس کو وہ بےراہ کردیں تو آپ اس کے لیے کوئی مددگار راہ بتانے والا نہ پاویں گے۔

ف 3۔ یعنی غار کے دروازے سے الگ رہتی ہے۔ 4۔ یعنی اس وقت بھی دروازے پر نہیں پڑتی تاکہ دھوپ سے ایذا نہ ہو۔ غار کی داہنی اور بائیں جانب یا تو اس میں داخل ہونے والے کے اعتبار سے پس تقدیر اول پردہ غار شمال الرویہ ہوگا، اور تقدیر ثانی پر جنوب رویہ، اور شرق رویہ ہونے میں طلوع کے وقت ان پر دھوپ پڑتی اور غروب رویہ ہونے میں غروب کے وقت اور مقصود اس سے اس جگہ کا محفوظ ہونا ہے۔
Ayah 18:18

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور اے مخاطب تو ان کو جاگتا ہوا خیال کرتا حالانکہ وہ سوتے تھے اور ہم ان کو (کبھی) داہنی اور (کبھی) بائیں طرف کروٹ بدل دیتے تھے اور ان کا کتا دہلیز پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا اگر (اے مخاطب) تو ان کو جھانک کر دیکھتا تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوتا اور تیرے اندر ان کی دہشت سما جاتی۔ (ف 5)

ف 5۔ غالبا یہ سب امور ان کے اسباب حفاظت ہیں، اس آیت میں عام لوگوں کو خطاب ہے، پس اس سے حضور ﷺ کا مرعوب ہونا لازم نہیں آتا۔
Ayahs 18:19–21

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ان کو جگا دیا تاکہ وہ آپس میں پوچھ پاچھ کریں ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ تم کس قدر رہے ہوگے بعضوں نے کہا (غالباً ) ایک دن یا ایک دن سے بھی کچھ کم رہے ہوں گے دوسرے بعضوں نے کہا کہ یہ تو تمہارے خدا ہی کو خبر ہے کہ تم کس قدر رہے اب اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کی طرف بھیجو پھر وہ شخص تحقیق کرے کہ کون سا کھانا حلال ہے (ف 1) سو اس میں سے تمہارے پاس کچھ کھانا لے آوے اور (سب) کام خوش تدبیری سے کرے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے۔

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

(کیونکہ) وہ لوگ کہیں تمہاری خبر پا جاویں گے تو تم کو پتھروں سے مار ڈالیں گے یا تم کو (جبراً ) اپنے طریقے میں پھیر لیں گے اور ایسا ہوا تو تم کو فلاح نہ ہوگی۔

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان پر مطلع کردیا تاکہ وہ لوگ اس بات کا یقین کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت میں کوئی شک نہیں ․وہ وقت بھی قابل ذکر ہے کہ جب کہ اس زمانہ کے لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑ رہے تھے (ف 2) سو ان لوگوں نے یہ کہا کہ ان کے پاس کوئی عمارت بنوا دو ان کا رب ان کو خوب جانتا تھا جو لوگ اپنے کام پر غالب تھے انہوں نے کہا (ف 3) کہ ہم تو ان کے پاس ایک مسجد بنادیں گے۔ (ف 4)

ف 1۔ کیونکہ ان کے زمانہ پوشیدگی غار میں بتوں کا ذبیحہ بکثرت بکتا تھا۔
Ayahs 18:22–23

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

بعضے لوگ تو کہیں گے کہ وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا ہے اور بعضے کہیں گے کہ پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا (اور) یہ لوگ بےتحقیق بات کو ہانک رہے ہیں اور بعضے کہیں گے کہ وہ سات ہیں آٹھواں ان کا کتا ہے آپ کہہ دیجیئے کہ میرا رب ان کا شمار خوب صحیح صحیح جانتا ہے ان کو بہت قلیل لوگ جانتے ہیں (ف 5) سو آپ ان کے بارے میں بجز سرسری بحث کے زیادہ بحث نہ کیجیئے (ف 6) اور آپ ان کے بارے میں ان لوگوں میں سے کسی سے بھی نہ پوچھیئے۔

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور آپ کسی کام کی نسبت یوں نہ کہا کیجیئے کہ میں اس کو کل کروں گا۔

ف 5۔ چونکہ کوئی فائدہ متعدد بہا اس کی تعیین کے متعلق نہ تھا لہذا اس اختلاف کا کوئی صریح فیصلہ آیت میں نہیں فرمایا۔ لیکن روایات میں حضرت عباس و حضرت ابو مسعود ؓ کا قول آیا ہے ” انا من القلیل سبعة “ یعنی میں ان قلیل میں سے ہوں اور وہ سات تھے اور آیت میں بھی اشارة اس کی صحت مفہوم ہوتی ہے، کیونکہ اس اخیر قول کو نقل کر کے اس کو رد نہیں فرمایا۔ 6۔ سرسری بحث سے یہ مراد ہے کہ آپ وحی کے مطابق ان کے روبرو قصہ بیان کردیجئے اور زیادہ سوال و جواب نہ کیجئے۔
Ayahs 18:24–27

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر خدا کے چاہنے کو ملا دیجیئے اور جب آپ بھول جاویں تو اپنے رب کا ذکر کیجیئے اور کہہ دیجیئے کہ مجھ کو امید ہے کہ میرا رب مجھ کو (نبوت کی) دلیل بننے کے اعتبار سے اس سے بھی نزدیک تر بات بتلا دے۔ (ف 7)

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور وہ لوگ اپنے غار میں تین سو برس تک رہے اور نو برس اوپر اور رہے۔

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیئے خدا تعالیٰ انکے رہنے کی مدت کو زیادہ جانتا ہے تمام آسمانوں اور زمین کا علم غیب اسی کو ہے وہ کیسا کچھ دیکھنے والا اور کیسا کچھ سننے والا ہے ان کا خدا کے سوا کوئی بھی مددگار نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کسی کو اپنے حکم میں شریک کرتا ہے۔

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور آپ کے پاس جو رب کی کتاب وحی کے ذریعہ سے آئی ہے وہ پڑھ دیا کیجیئے اس کی باتوں کو (یعنی وعدوں کو) کوئی بدل نہیں کرسکتا اور آپ خدا کے سوا اور کوئی جائے پناہ نہ پاویں گے۔

ف 7۔ آپ سے روح و اصحاب کہف و ذوالقرنین کا قصہ پوچھا گیا تو آپ نے وحی کے بھروسہ پر زبان سے انشاء اللہ بغیر کہے وعدہ فرمایا کہ کل جواب دوں گا۔ چناچہ پندرہ روز تک وحی نازل نہ ہوئی اور آپ کو بڑا غم ہوا، اس کے بعد جواب کے ساتھ یہ حکم بھی نازل ہوا کہ یہ لوگ آپ سے کوئی بات قابل جواب دریافت کریں اور آپ ان سے جواب کا وعدہ کریں تو اس کے ساتھ انشاء اللہ یا اس کے ہم معنی کوئی بات ملا لیا کریں۔
Ayah 18:28

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور آپ اپنے کو ان لوگوں کے ساتھ مقید رکھا کیجیئے جو صبح و شام (یعنی علی الدوام) اپنے رب کی عبادت محض اس کی رضا جوئی کے لیے کرتے ہیں (ف 1) اور دنیوی زندگانی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں (یعنی توجہات) ان سے ہٹنے نہ پائیں (ف 2) اور ایسے شخص کا کہنا نہ مانیے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہش پر چلتا ہے۔

ف 1۔ ” واصبر نفسہ “ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب تک یہ لوگ نہ اٹھیں گے آپ بیٹھے رہا کیجئے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ بدستور سابق ان کو اپنی طول مجالست سے مشرف رکھیئے۔ 2۔ رونق کے خیال سے مراد یہ کہ رئیس مسلمان ہوجاویں تو اسلام میں زیادہ جمال و کمال ہوگا، پس اس میں بتلا دیا کہ اس ظاہر سامان سے اسلام کا جمال و کمال نہیں بلکہ اس کا مدار اخلاص و اطاعت کا ملہ ہے، گو فقراء ہی سے ہو۔
Ayahs 18:29–30

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور اس کا (یہ) حال حد سے گزر گیا ہے اور آپ کہہ دیجیئے کہ (یہ دین حق) تمہارے رب کی طرف سے (آیا) ہے سو جس کا جی چاہے ایمان لے آوے اور جس کا جی چاہے کافر رہے (ف 3) بیشک ہم نے ایسے ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے کہ اس آگ کی قناتیں اس کو گھیرے ہوں گی (ف 4) اور اگر (پیاس سے) فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جاوے گی جو تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا مونہوں کو بھون ڈالے گا کیا ہی برا پانی ہوگا اور دوزخ (بھی) کیا ہی بری جگہ ہوگی۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے تو ہم ایسوں کا اجر ضائع نہیں کریں گے جو اچھی طرح کام کو کرے۔

ف 3۔ ہمارا کوئی نفع و نقصان نہیں بلکہ ایمان نہ لانے سے اپنا ہی ضرر اور ایمان لانے سے اپنا ہی نفع ہے۔ 4۔ یعنی وہ قناتیں بھی آگ ہی ہیں جیسا حدیث میں ہے، اور اس میں سے نکل نہ سکیں گے۔
Ayahs 18:31–34

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

(پس) ایسے لوگوں کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں ان کے (مساکن کے) نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جاوینگے اور سبز رنگ کے کپڑے (ف 5) باریک اور دبیز ریشم کے پہنیں گے اور وہاں مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے کیا ہی اچھا صلہ ہے اور (بہشت) کیا ہی اچھی جگہ ہے۔

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں سے دو شخصوں کا حال بیان کیجیئے ان دو شخصوں میں سے ایک کو ہم نے دو باغ انگور کے دے رکھے تھے اور ان دونوں (باغوں) کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنا رکھا تھا اور ان دونوں کے درمیان کھیتی بھی لگا رکھی تھی۔

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

(اور) دونوں باغ اپنا پورا پھل دیتے اور کسی کے پھل میں ذرا بھی کمی نہیں رہتی تھی اور ان لوگوں کے درمیان میں نہر چلا رکھی تھی۔

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور اس شخص کے پاس اور بھی تمول کا سامان تھا سو (ایک بار) اپنے اس (دوسرے) ملاقاتی سے ادھر ادھر کی باتیں کرتے کرتے کہنے لگا کہ میں تجھ سے مال میں بھی زیادہ ہوں مجمع بھی میرا زبردست ہے۔

ف 5۔ یہ جو فرمایا کہ سبز لباس ہوگا اس سے حصر مقصود نہیں کیونکہ آیات میں مصرح ہے کہ جس چیز کو جی چاہے گا وہ ملے گی۔
Ayahs 18:35–36

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور وہ اپنے اوپر جرم (کفر) قائم کرتا ہوا اپنے باغ میں پہنچا (اور) کہنے لگا کہ میرا خیال نہیں ہے کہ یہ باغ (میری مدت حیات میں) کبھی بھی برباد ہو۔ (ف 1)

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور میں قیامت کو خیال نہیں کرتا کہ آوے گی اور اگر میں اپنے رب کے پاس پہنچایا گیا تو ضرور اس باغ سے بہت زیادہ اچھی جگہ مجھ کو ملے گی۔

ف 1۔ یہ اس نے توحید کے مسئلہ میں کلام کیا کہ تو جو صانع عالم کا اور اس کی قدرت وغیرہ کا قائل ہے سو میں نہیں سمجھتا کہ اسباب طبعیہ کو کعئی معطل کرسکے، اور اس باغ وغیرہ کا کارخانہ جس کی آبادی کے سارے اسباب جمع ہیں کس طرح محتمل ویرانی کا ہو۔
Ayahs 18:37–40

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

اس سے اس ملاقاتی نے (جو کہ دین دار اور غریب تھا) جواب کے طور پر کہا کہ کیا تو اس ذات (پاک) کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھ کو (اول) مٹی سے پیدا کیا (ف 2) پھر نطفہ سے (ف 3) پھر تجھ کو صحیح سالم آدمی بنایا۔

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

لیکن میں تو عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ یعنی کہ اللہ تعالیٰ میرا (رب حقیقی) ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھیراتا۔

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور تو جس وقت اپنے باغ میں پہنچا تھا تو تو نے یوں کیوں نہ کہا کہ جو اللہ کو منظور ہوتا ہے وہی ہوتا ہے اور بدون خدا کی مدد کے (کسی میں) کوئی قوت نہیں اگر تو مجھ کو مال اور اولاد میں کمتر دیکھتا ہے۔

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو مجھ کو وہ وقت نزدیک معلوم ہوتا ہے کہ میرا رب مجھ کو تیرے باغ سے اچھا باغ دے دے اور اس (تیرے باغ) پر کوئی تقدیری آفت آسمان سے بھیج دے جس سے وہ باغ دفعتہً ایک صاف میدان ہو کر رہ جاوے۔

ف 2۔ جو کہ یرا مادہ بعید ہے بواسطہ آدم (علیہ السلام) کے۔ 3۔ جو کہ تیرا مادہ قریبہ ہے رحم مادر میں۔