18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsبیان القرآن

Ayahs 18:78–83

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

ان بزرگ نے کہا کہ یہ وقت ہماری اور آپ کی علیحٰدگی کا ہے (جیسا کہ خود آپ نے شرط کی تھی) میں ان چیزوں کی حقیقت بتلائے دیتا ہوں جن پر آپ کو صبر نہ ہوسکا۔ (ف 6)

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

وہ جو کشتی تھی سو چند آدمیوں کی تھی (اس کے ذریعہ سے) دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے سو میں نے چاہا کہ اس میں عیب ڈال دوں اور (وجہ اس کی یہ تھی کہ) ان لوگوں سے آگے کی طرف ایک (ظالم) بادشاہ تھا جو ہر (اچھی) کشتی کو زبردستی پکڑ رہا تھا۔

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور رہا وہ لڑکا سو اس کے ماں باپ ایمان دار تھے سو ہم کو اندیشہ (یعنی تحقیق) ہوا کہ یہ ان دونوں پر سرکشی اور کفر کا اثر ڈال دے۔

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

پس ہم کو یہ منظور ہوا کہ بجائے اس کے ان کا پروردگار ان کو ایسی اولاد دے جو پاکیزگی (یعنی دین) میں اس سے بہتر ہو اور ماں باپ کے ساتھ محبت کرنے میں اس سے بڑھ کر ہو۔

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور رہی دیوار سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو اس شہر میں (رہتے) ہیں اور اس دیوار کے نیچے ان کا کچھ مال مدفون تھا (جو ان کے ماں باپ سے میراث میں پہنچا ہے) اور ان کا باپ (جو مر گیا ہے وہ) ایک نیک آدمی تھا سو آپ کے رب نے اپنی مہربانی سے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی (کی عمر) کو پہنچ جاویں اور اپنا دفینہ نکال لیں اور (یہ سارے کام میں نے بالہام الہٰی کیے ہیں ان میں سے) کوئی کام میں نے اپنی رائے سے نہیں کیا لیجیئے یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا۔

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں آپ فرما دیجیئے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں۔

ف 6۔ عجب نہیں کہ ان اسرار کا بتلانا اس درخواست کا پورا کرنا بھی ہو جو موسیٰ (علیہ السلام) نے کی تھی تعلمن مما علمت گو نمونہ ہی کے طور پر سہی۔ اور زیادہ ساتھ رہنے میں غالبا وہ مناسب موقع پر خود ہی بتلاتے اور ہر واقعہ پر بتلاتے تو یہ علم زیادہ ہوتا۔ گو یہ علم موسوی کے برابر مفید عام نہ ہو، کیونکہ قابل اتباع نہیں تاہم اس معنی کو مفید خاص ضرور ہے کہ بعض حکمتیں مفصلا منکشف ہوتی ہیں، گو اجمالی عقیدہ کہ ہر واقعہ جو مشتمل حکمتوں پر ہوتا ہے قرب کے لئے کافی ہے۔
Ayahs 18:84–85

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے ان کو روئے زمین پر حکومت دی تھی (ف 1) اور ہم نے ان کو ہر قسم کا سامان (کافی) تھا۔

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

چناچہ وہ (بارداہٴ فتوحات ملک مغرب کی) ایک راہ پر ہو لیے۔

ف 1۔ ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین کوئی مقبول بزرگ بادشاہ ہیں، خواہ نبی ہوں یا ولی ہوں کسی دوسرے نبی کے متبع، پھر ولایت کی صورت میں یہ مکالمت بطور الہام ہوئی ہو یا کسی نبی کے ذریعے سے، اور شاید ذوالقرنین ان کا لقب اس لئے ہوا ہو کہ قرن جانب کو کہتے ہیں، اور تثنیہ سے مراد تکریر ہو، چونکہ انہوں نے جوانب ارض پر تسلط حاصل کیا تھا اس لئے ذوالقرنین لقب ہوگیا ہو۔
Ayahs 18:86–89

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب غروب آفتاب کے موقع پر پہنچے (ف 2) تو آفتاب ان کو ایک سیاہ رنگ کے پانی میں ڈوبتا ہوا دکھلائی دیا (ف 3) اور اس موقع پر انہوں نے ایک قوم دیکھی ہم نے (الہاماً ) یہ کہا اے ذوالقرنین خواہ سزا دو اور خواہ ان کے بارے میں نرمی کا معاملہ اختیار کرو۔

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

ذوالقرنین نے عرض کیا (بہت اچھا اول دعوت ایمان ہی کروں گا) لیکن جو ظالم رہے گا سو اس کو تو ہم لوگ سزا دیں گے پھر وہ اپنے مالک حقیقی کے پاس پہنچا جاوے گا پھر وہ اس کو (دوزخ کی) سخت سزا دے گا۔

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو شخص ایمان لے آوے گا اور نیک عمل کرے گا تو اس کے لیے (آخرت میں بھی) بدلے میں بھلائی ملے گی اور ہم (دنیا میں بھی) اپنے برتاؤ میں اسکو آسان (اور نرم) بات کہیں گے۔

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر ایک (دوسری) راہ پر ہو لیے۔

ف 2۔ یعنی جہت مغرب میں منتہائے آبادی پر۔ 3۔ مراد اس سے غالبا سمندر ہے کہ اس کا رنگ اکثر جگہ سیاہ ہے، اور سمندر میں گو حقیقة غروب نہیں ہوتا لیکن جہاں سمندر سے آگے نگاہ نہ جاتی ہو تو بادی النظر میں سمندر ہی میں غروب ہوتا معلوم ہوگا۔
Ayahs 18:90–92

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب (مسافت قطع کر کے) طلوع آفتاب کے موقع پر پہنچے (ف 4) آفتاب کو ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتے دیکھا (ف 5) جن کے لیے ہم نے آفتاب کے اوپر کوئی آڑ نہیں رکھی۔ (ف 1)

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

یہ قصہ اسی طرح ہے اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ (سامان وغیرہ) تھا ہم کو اس کی پوری خبر ہے۔

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر (مشرق و مغرب فتح کر کے) ایک اور راہ پر ہو لیے۔

ف 4۔ یعنی جہت مشرق میں منتہائے آبادی پر۔ 5۔ یعنی وہاں ایک ایسی قوم آبادی تھی۔ 1۔ ظاہرا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ مکان وغیرہ بنانا نہ جانتے تھے کہ آفتاب کی گرمی سے پناہ لے سکیں۔
Ayahs 18:93–98

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچے تو ان پہاڑوں سے اس طرف ایک قوم کو دیکھا جو کوئی بات سمجھنے کے قریب بھی نہیں پہنچے۔ (ف 2)

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

انہوں نے (ذوالقرنین سے) عرض کیا کہ اے ذوالقرنین قوم یاجوج و ماجوج (جو اس گھاٹی کے اس طرف رہتے ہیں ہماری) اس سر زمین میں (کبھی کبھی) بڑا فساد مچاتے ہیں سو کیا ہم لوگ آپ کے لیے کچھ چندہ جمع کردیں اس شرط پر کہ آپ ہمارے درمیان میں کوئی روک بنادیں (وہ پھر نہ آنے پاویں) ۔

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

ذوالقرنین نے جواب دیا کہ جس مال میں میرے رب نے مجھے جتنا اختیار دیا ہے وہ بہت کچھ ہے سو (مال کی تو مجھے ضرورت نہیں) البتہ ہاتھ پاؤں سے میری مدد کرو۔

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

(تو) میں تمہارے اور ان کے درمیان میں خوب مضبوط دیوار بنا دوں (اچھا تو) تم لوگ میرے پاس لوہے کی چادریں لاؤ یہاں تک کہ جب (ردے ملاتے ملاتے) ان کے دونوں سروں کے بیچ (کے خلا) کو برابر کردیا تو حکم دیا کہ دھونکو (دھونکنا شروع ہوگیا) یہاں تک کہ جب اس کو لال انگارا کردیا تو (اس وقت) حکم دیا کہ اب میرے پاس پگھلتا ہوا تانبا لاؤ (جو پہلے سے تیار کرا لیا گیا ہوگا) کہ اس پر ڈال دوں۔

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

سو نا تو یاجوج ماجوج اس پر چڑھ سکتے ہیں اور (غایت استحکام کے باعث) نہ اس میں نقب دے سکتے ہیں۔

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

ذوالقرنین نے کہا (یہ تیاری دیوار کی) میرے رب کی ایک رحمت ہے پھر جس وقت میرے رب کا وعدہ آئے گا (یعنی اس کے فنا کا وقت آئے گا) تو اس کو ڈھا کر (زمین کے) برابر کر دے گا اور میرے رب کا ہر وعدہ برحق ہے۔

ف 2۔ یعنی غیر زبان ہونے کی وجہ سے تو بات سمجھتے اور وحشی اور قلیل الفہم ہونے کی وجہ سے سمجھنے کے لگ بھگ بھی نہیں پہنچتے، ورنہ عاقل آدمی رموز و قرائن سے کچھ قریب قریب سمجھ لیتا ہے۔
Ayahs 18:99–100

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

اور ہم اس روز ان کی یہ حالت کریں گے کہ ایک میں ایک گڈ مڈ ہوجاویں گے (ف 3) اور صور پھونکا جاوے گا پھر ہم سب کو ایک ایک کر کے جمع کرلیں گے۔

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور دوزخ کو اس روز کافروں کے سامنے پیش کردیں گے۔

ف 3۔ یعنی جب اس دیوار کے انہدام کا وقت موعود آوے گا اور یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا تو اس روز ان کی یہ حالت کریں گے کہ ایک میں ایک گڈ مڈ ہوجاویں گے بوجہ اس کے کہ کثرت سے ہوں گے اور ایک دم سے نکل پڑیں گے۔
Ayah 18:101

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

جن کی آنکھوں پر (دنیا میں) ہماری یاد سے (یعنی دین حق کے دیکھنے سمجھنے سے) پردہ پڑا ہوا تھا اور وہ سن بھی نہ سکتے تھے۔ (ف 4)

ف 4۔ یعنی امر حق کا ذرا ادراک کرنا نہ چاہتے تھے۔
Ayahs 18:102–108

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

سو کیا پھر بھی ان کافروں کا خیال ہے کہ مجھ کو چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز (یعنی معبود و حاجت روا) قرار دیں ہم نے (تو) کافروں کی دعوت کے لیے دوزخ کو تیار کر رکھا ہے۔ (ف 5)

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

آپ (ان سے) کہیئے کہ کیا ہم تم کو ایسے لوگ بتائیں جو اعمال کے اعتبار سے بالکل خسارے میں ہیں۔

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں جن کی دنیا میں کی کرائی محنت سب گئی گزری ہوئی اور وہ (بوجہ جہل کے) اسی خیال میں ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو رب کی آیتوں کا (یعنی کتب الہیٰہ کا) اور اس کے ملنے کا (یعنی قیامت کا) انکار کر رہے سو (اس لیے) ان کے سارے کام غارت ہوگئے تو قیامت کے روز ہم ان کے نیک اعمال کا ذرا بھی وزن قائم نہ کریں گے۔

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

(بلکہ) ان کی سزا وہی ہوگی یعنی دوزخ اس سبب سے کہ انہوں نے کفر کیا تھا اور (یہ کہ) میری آیتوں اور پیغمبروں کا مذاق بنایا تھا۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے انکی مہمانی کے لیے فردوس (یعنی بہشت) کے باغ ہوں گے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے (نہ ان کو کوئی نکالے گا اور) نہ وہاں سے کہیں اور جانا چاہیں گے۔

ف 5۔ دعوت بطور تہکم کے فرمایا۔
Ayahs 18:109–110

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

آپ (ان) سے کہہ دیجیئے اگر میرے رب کی باتیں (ف 1) لکھنے کے لیے سمندر (کا پانی) روشنائی (کی جگہ) ہو تو میرے رب کی باتیں ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجاوے (اور باتیں احاطہ میں نہ آویں) اگرچہ اس سمندر کی مثل دوسرا سمندر (اسکی) مدد کے لیے ہم لے آویں۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ Open ayah 18:110 in the Quran reader

اور آپ (یوں بھی) کہہ دیجیئے کہ میں تو تم ہی جیسا بشر ہوں میرے پاس بس یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (برحق) ایک ہی معبود ہے سو جو شخص اپنے رب سے ملنے کی آرزو رکھے تو نیک کام کرتا رہے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔

ف 1۔ یعنی وہ کلمات و عبادات جو اوصاف و کمالات الہیہ پر دال ہوں اور ان سے ان کی تعبیر کی جاوے۔