18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsبیان القرآن

Ayah 18:41

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس سے اس کا پانی بالکل اندر (زمین میں) اتر (کر خشک ہو) جاوے پھر تو اس کی کوشش بھی نہ کرسکے۔ (ف 4)

ف 4۔ حاصل یہ ہوا کہ تیرا مبنائے پندار یہ دولت و ثروت ہے، جو تیرے پاس ہے، اور میرے پاس نہیں، سو اس کا منشاء سمجھنا ہی غلط ہے، کیونکہ اول تو یہاں ہی ممکن ہے کہ عکس ہوجاوے، پھر کبھی نہ کبھی تو یہ فنا ہونے والی ہے، اور آخرت کی نعمتیں کبھی فنا نہ ہوں گی، اس لئے اعتبار وہاں کا ہے یہاں کا نہیں۔
Ayahs 18:42–43

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

اور اس شخص کے سامان تمول کو آفت نے آگھیرا (ف 5) پھر اس نے جو کچھ اس باغ پر خرچ کیا تھا اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور وہ باغ اپنی ٹٹیوں پر گرا ہوا پڑا تھا اور کہنے لگا کہ خوب ہوتا کہ میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیراتا۔ (ف 6)

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اور اس کے پاس کوئی ایسا مجمع نہ ہوا کہ خدا کے سوا اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود (ہم سے) بدلہ لے سکا۔

ف 5۔ معلوم نہیں کیا آفت تھی، لیکن ظاہرا اس کے ابہام سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی عظیم آفت تھی۔ 6۔ مراد یہ کہ کفر نہ کرتا، مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمجھ گیا کہ یہ آفت کفر کے انتقام میں آئی ہے، اس لئے اس پر نادم ہوتا ہے کہ اگر کفر نہ کرتا تو یا تو آفت نہ آتی یا آتی تو اس کا بدل آخرت میں ملتا، اب خسر الدینا والاخرة کا مضمون ہوگیا، یہ باتیں مومن سے اس کے کان میں پڑی ہوں گی، اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مومن ہوگیا کیونکہ یہ ندامت ضرر کی وجہ سے ہے۔ کفر کے مذموم ہونے کیو جہ سے ندامت ثابت نہیں۔
Ayah 18:44

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

ایسے موقع پر مدد کرنا اللہ برحق ہی کا کام ہے اسی کا ثواب سب سے اچھا اور اس کا نتیجہ سب سے اچھا ہے۔ (ف 7)

ف 7۔ یعنی اگر اس کے مقبولین کا کوئی نقصان ہوجاتا ہے تو دونوں جہان میں ثمرہ نیک ملتا ہے، بخلاف کافر کے کہ بالکل خسارہ میں رہ گیا۔
Ayah 18:45

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی حالت بیان فرمائیے کہ وہ ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا ہو پھر اس کے ذریعے سے زمین کی نباتات خوب گنجان ہوگئی ہوں پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجاوے کہ اس کو ہوا اڑا لیے پھرتی ہو (ف 8) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔

ف 8۔ یہی حال دنیا کا ہے، کہ آج ہری بھری نظر آتی ہے، پھر اس کا نام و نشان بھی نہ رہے گا۔
Ayahs 18:46–48

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور اولاد حیات دنیا کی ایک رونق ہے اور جو اعمال صالحہ باقی رہنے والے ہیں وہ آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی ہزار درجہ بہتر ہیں اور امید کے اعتبار سے بھی ہزار درجہ بہتر ہیں۔ (ف 1)

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور اس دن کو یاد کرنا چاہیئے جس دن ہم پہاڑوں کو ہٹا دیں گے اور آپ زمین کو دیکھیں گے کہ کھلا میدان پڑا ہے اور ہم ان سب کو جمع کردیں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے۔

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور سب کے سب آپ کے رب کے روبرو برابر برابر کھڑے کر کے پیش کیے جاویں گے دیکھو تم آخر ہمارے پاس آئے بھی جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا بلکہ تم یہی سمجھتے رہے کہ ہم تمہارے لیے کوئی وقت موعود نہ لائیں گے۔

ف 1۔ یعنی اعمال صالحہ پر جو جو امیدیں وابستہ ہوتی ہیں وہ آخرت میں پوری ہوں گی اور اس سے بھی زیادہ ثواب ملے گا۔ بخلاف متاع دنیا کے کہ اس سے کود دنیا ہی میں امیدیں پوری ہوتیں اور آخرت میں تو احتمال ہی نہیں ہے۔ اس لئے دنیا سے دلچسپی یا اس پر فخر نہ کرنا چاہئے، بلکہ آخرت کا اہتمام کرنا چاہئے۔
Ayah 18:49

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور نامہٴ اعمال رکھ دیا جاوے گا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ اس میں جو کچھ ہے اس سے ڈرتے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی اسی نامہٴ اعمال کی عجیب حالت ہے کہ بےقلمبند کیے ہوئے نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا گناہ (چھوڑا) اور جو کچھ انہوں نے کیا وہ سب (لکھا ہوا) موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ (ف 2)

ف 2۔ کہ بے کیا ہوا گناہ لکھ دے یا کی ہوئی نیکی جبکہ شرائط کے ساتھ کی جاوے نہ لکھے۔ خلاصہ یہ کہ روساء مشرکین جس چیز پر فخر کرتے ہیں انہوں نے اس کا مال سن لیا، اور جن غربا کو حقیر سمجھتے ہیں ان کے باقیات صالحات کا لازوال ہونا معلوم کرلیا، اب بھی عقل نہ آوے تو گولی ماریئے۔
Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور جب ملائکہ کو ہم نے حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرو سو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے وہ جنات میں سے تھا سو اس نے اپنے رب کے حکم سے عدول کیا سو کیا پھر بھی تم اس کو اور اس کے چیلے چانٹوں کو دوست بناتے ہو مجھ کو چھوڑ کر حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (ف 3) یہ ظالموں کے لیے بہت برا بدل ہے۔

ف 3۔ یعنی میرے اتباع کو چھوڑ کر عقیدة اس کا اتباع کرتے ہو کہ شرک محض ہے۔
Ayahs 18:51–54

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے ان کو نہ تو آسمان اور زمین پیدا کرنے کے وقت بلایا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت (بلایا) اور میں ایسا (عاجز) نہ تھا کہ (کسی کو خصوص) گمراہ کرنے والوں کو اپنا (دست و) بازو بناتا۔ (ف 4)

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور اس دن کو یاد کرو کہ حق تعالیٰ فرماوے گا کہ جن کو تم ہمارا شریک سمجھا کرتے تھے ان کو پکارو پس وہ ان کو پکاریں گے سو وہ ان کو جواب ہی نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان میں ایک آڑ کردیں گے۔

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور اس (وقت) مجرم لوگ دوزخ کو دیکھیں گے پھر یقین کریں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس میں سے کوئی بچنے کی راہ نہ پاویں گے۔

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی ہدایت کے واسطے ہر قسم کے (ضروری) عمدہ مضامین طرح طرح سے بیان فرمائے ہیں اور اس پر بھی منکر آدمی جھگڑے میں سب سے بڑھ کر ہے۔

ف 4۔ یعنی معین تو وہ ڈھونڈے جو قادر نہ ہو۔
Ayahs 18:55–57

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور لوگوں کو بعد اس کے کہ ان کو ہدایت پہنچ چکی ایمان لا نے سے اور اپنے پروردگار سے (کفر وغیرہ کی) مغفرت مانگنے سے اور کوئی امر مانع نہیں رہا بجز اس کے کہ ان کو اس کا انتظار ہوا کہ اگلے لوگوں (وغیرہ کا معاملہ) انکو بھی پیش آئے یا یہ کہ عذاب الہیٰ رو در رو ان کے سامنے آکھڑا ہو۔ (ف 1)

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور رسولوں کو تو ہم صرف بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا کرتے ہیں اور کافر لوگ ناحق کی باتیں پکڑ پکڑ کر جھگڑے نکالتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے حق بات کو بچلا دیں اور انہوں نے میری آیتوں کو اور جس (عذاب) سے ان کو ڈرایا گیا تھا اس کو دل لگی بنا رکھا ہے۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جس کو اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جاوے پھر وہ اس سے رو گردانی کرے اور جو کچھ اپنے ہاتھوں (گناه) سمیٹ رہا ہے اس کے نتیجہ کو بھول جائے ہم نے اس (حق بات) کے سمجھنے سے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں اور (اس کے سننے سے) ان کے کانوں میں ڈاٹ رکھی ہے اور (اسی وجہ سے) اگر آپ ان کو راہ راست کی طرف بلاویں تو ایسی حالت میں ہرگز کبھی راہ پر نہ آویں۔

ف 1۔ مطلب یہ کہ کیا اس لئے ایمان نہیں لاتے کہ ایسے امور کا وقوع ہو تب ایمانلاویں گے، جیسا کہ ان کے حال سے مترشح ہے اور کہہ بھی ڈالتے تھے کہ ایسے امور کیوں نہیں واقع ہوتے۔
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور آپ کا رب بڑا مغفرت کرنے والا اور رحمت والا ہے (ف 2) اگر ان سے ان کے اعمال پر دادروگیر کرنے لگتا تو ان پر فوراً ہی عذاب واقع کردیتا (مگر ایسا نہیں کرتا) بلکہ ان کے واسطے ایک معین وقت ہے (یعنی یوم قیامت) کہ اس سے اس طرف (یعنی پہلے) کوئی پناہ کی جگہ کہیں پاسکتے۔

ف 2۔ پس مہلت اس لئے دی ہے کہ اگر مسلمان ہوجاویں تو ان کی مغفرت کردوں گا دوسرے خود رحمت بھی مقتضی ہے کہ ایمان نہ لانے پر بھی دنیا میں عذاب شدید سے مہلت دی جاوے۔
Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور بستیاں (جن کے قصے مشہور مذکور ہیں) جب انہوں نے (یعنی ان کے باشندوں نے) شرارت کی تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا (ف 3) اور ہم نے ان کے ہلاک ہونے کے لیے وقت معین (ف 4) کیا تھا۔

ف 3۔ پس کفر کا موجب ہلاک ہونا ثابت ہوا۔ 4۔ اوپر روسا کفار کی اس درخواست کی تقبیح تھی کہ ہماری مجلس تعلیم میں فقراء مسلمین نہ رہنے پاویں آگے موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک قصہ سے اس تقبیح کی زیادہ توضیح ہے کہ انہوں نے تو اپنے چھوٹے کو بعض خاص علوم میں استاد بنانے سے بھی عار نہیں فرمائی۔ اور تم کو ان غریبوں کے شریک تعلیم ہونے سے عار آتی ہے۔ و نیز اس مقصود کے ساتھ اس قصہ میں آپ کی نبوت پر بھی دلالت ہوگئی جس کی وجہ ظاہر ہے۔
Ayahs 18:60–65

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے فرمایا کہ میں (اس سفر میں) برابر چلا جاؤں گا یہاں تک کہ اس موقع پر پہنچ جاؤں جہاں دو دریا آپس میں ملے ہوں یا یوں ہی زمانہ دراز تک چلتا رہوں گا۔ (ف 5)

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

پس جب (چلتے چلتے) دونوں دریاؤں کے جمع ہونے کے موقع پر پہنچے اس اپنی مچھلی کو دونوں بھول گئے اور مچھلی نے دریا میں اپنی راہ لی اور چل دی۔

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

پھر جب دونوں (وہاں سے) آگے بڑھ گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے فرمایا کہ ہمارا ناشتہ لاؤ ہم کو تو اس سفر میں (یعنی آج کی منزل میں) بڑی تکلیف پہنچی۔

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

خادم نے کہا لیجیئے دیکھیئے (عجیب بات ہوئی) جب ہم اس پتھر کے قریب ٹھیرے تھے سو میں اس مچھلی (کے تذکرہ) کو بھول گیا اور مجھ کو شیطان ہی نے بھلا دیا کہ میں اس کو ذکر کرتا اور (وہ قصہ یہ ہوا کہ) اس مچھلی نے (زندہ ہونے کے بعد) دریا میں عجیب طور پر اپنی راہ لی۔

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے (حکایت سن کر) فرمایا کہ یہی وہ موقع ہے جس کی ہم کو تلاش تھی سو دونوں اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے الٹے لوٹے۔

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

سو (وہاں پہنچ کر) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جن کو ہم نے اپنی خاص رحمت (یعنی مقبولیت) دی تھی . اور ہم نے ان کو اپنے پاس سے ایک خاص طور کا علم سکھایا تھا۔

ف 5۔ وجہ اس سفر کی یہ ہوئی تھی کہ ایک بار موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل میں وعظ فرمایا تو کسی نے پوچھا کہ اس وقت آدمیوں میں سب سے بڑا عالم کون شخص ہے۔ آپ نے فرمایا میں۔ مطلب یہ تھا کہ ان علوم میں کہ جن کو قرب الی اللہ کی تحصیل میں دخل ہے میرے برابر کوئی نہیں۔ اور یہ فرمانا صحیح تھا، لیکن چونکہ ظاہرا لفظ مطلق تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ آپ کو احتیاط فی الکلام کی تعلیم دی جائے، ارشاد ہوا کہ مجمع البحرین میں ایک بندہ ہمارا تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے، مطلب یہ تھا کہ بعض علوم میں وہ زیادہ ہے، گو ان علوم کو قرب الہی میں دخل نہہو، لیکن اس بناء پر جواب میں مطلقا تو اپنے کو اعلم نہ کہنا چاہئے تھا۔ غرض موسیٰ (علیہ السلام) ان کے ملنے کے مشتاق ہوئے، اور پوچھا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے، ارشاد ہوا کہ ایک بےجان مچھلی اپنے ساتھ لیکر سفر کرو، جہاں وہ مچھلی گم ہوجاوے وہ شخص وہاں ہے۔
Ayah 18:66

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو (سلام کیا اور) ان سے فرمایا کہ میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں (ف 1) اس شرط سے کہ جو علم مفید آپ کو (منجانب الله) سکھلایا گیا ہے اس میں سے آپ مجھ کو بھی سکھلادیں۔

ف 1۔ یعنی آپ ساتھ رہنے کی اجازت دیجئے۔
Ayah 18:67

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

ان بزرگ نے جواب دیا آپ سے میرے ساتھ رہ کر (میرے افعال پر) صبر نہ ہو سکے گا۔ (ف 2)

ف 2۔ یعنی آپ مجھ پر روک ٹوک کریں گے، اور معلم پر تعلیم کے متعلق کی روک ٹوک کرنے سے مصاحبت مشکل ہے۔
Ayah 18:68

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور (بھلا) ایسے امور پر آپ کیسے صبر کریں گے جو آپ کے احاطہ واقفیت سے باہر ہیں۔ (ف 3)

ف 3۔ یعنی ظاہر میں وہ امور بوجہ منشاء معلوم نہ ہونے کے خلاف شرع نظر آویں گے اور آپ خلاف شروع امور سکوت کرسکیں گے۔
Ayahs 18:69–75

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا انشاء اللہ آپ مجھ کو صابر (یعنی ضابط) پاویں گے اور میں کسی بات میں آپ کے خلاف حکم نہ کروں گا۔ (ف 4)

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

ان بزرگ نے فرمایا کہ (اچھا) اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہیں تو (اتنا خیال رہے کہ) مجھ سے کسی بات کی نسبت کچھ پوچھنا نہیں جب تک کہ اس کے متعلق خود ہی ابتداءً ذکر نہ کروں۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

پھر دونوں (کسی طرف) چلے یہاں تک کہ جب دونوں کشتی میں سوار ہوئے تو ان بزرگ نے اس کشتی میں چھید کردیا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا آپ نے اس کشتی میں اس لیے چھید کیا ہوگا کہ اس کے بیٹھنے والوں کو غرق کردیں آپ نے بڑی بھاری (یعنی خطرہ کی) بات کی۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

ان بزرگ نے کہا میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ سے میرے ساتھ صبر نہ ہو سکے گا۔

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (کہ مجھ کو یاد نہ رہا تھا سو) آپ میری بھول چوک پر گرفت نہ کیجیئے اور میرے اس معاملہ میں مجھ پر زیادہ تنگی نہ ڈالیے۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر دونوں (کشتی سے اتر کر آگے) چلے یہاں تک کہ جب ایک (کم سن) لڑکے سے ملے تو ان بزرگ نے اس کو مارڈالا موسیٰ (علیہ السلام) (گھبرا کر) کہنے لگے کہ آپ نے ایک بےگناہ بچے کو مار ڈالا (اور وہ بھی) بےبدلے کسی جان کے بیشک آپ نے (یہ تو) بڑی بےجا حرکت کی۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

ان بزرگ نے فرمایا کہ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ سے میرے ساتھ صبر نہ ہو سکے گا۔

ف 4۔ یعنی مثلا اگر روک ٹوک سے منع کردیں گے تو میں روک ٹوک نہ کروں گ، اسی طرح اور کسی بات میں بھی خلاف نہ کروں گا۔
Ayahs 18:76–77

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ (خیر اب کے اور جانے دیجیئے) اگر اس مرتبہ کے بعد آپ سے کسی امر کے متعلق پوچھوں تو آپ مجھ کو اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا بیشک آپ میری طرف سے عذر (کی) انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ (ف 5)

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر دونوں (آگے) چلے یہاں تک کہ جب ایک گاؤں والوں پر گزر ہوا تو وہاں سے کھانے کو مانگا (کہ ہم مہمان ہیں) سو انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کردیا اتنے میں ان کو وہاں ایک دیوار ملی جو گرا ہی چاہتی تھی تو ان بزرگ نے اس کو (ہاتھ کے اشارے سے) سیدھا کردیا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر آپ چاہتے تو اس (کام) پر کچھ اجرت ہی لے لیتے۔

ف 5۔ یعنی آپ نے بہت درگزر کی، اب اگر اب ساتھ نہ رکھیں گے تو معذور ہیں۔ فائدہ۔ اب کی بار نسیان کا عذر نہ کرنے سے معلوم ہوا کہ نسیان نہ ہوا تھا۔