17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsبیان القرآن

Ayahs 17:1–3

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 17:1 in the Quran reader

وہ پاک ذات ہے جو اپنے بندہٴ (محمد ﷺ کو شب کے وقت مسجد حرام (یعنی مسجد کعبہ سے) مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گرد (ف 5) اگر ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم ان کو اپنے کچھ عجائبات قدرت دکھلاویں (ف 6) بیشک اللہ تعالیٰ بڑے سننے والے بڑے دیکھنے والے ہیں۔ (ف 7)

وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ Open ayah 17:2 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (یعنی توریت) دی اور ہم نے اس کو بنی اسرائیل کے لیے (آلہٴ) ہدایت بنایا کہ تم میرے سوا (اپنا) کوئی کارساز مت قرار دو ۔

ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا Open ayah 17:3 in the Quran reader

اے ان لوگوں کی نسل جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ سوار کیا تھا وہ نوح (علیہ السلام) بڑے شکر گزار بندے تھے۔

ف 5۔ یعنی ملک شام کو۔ 6۔ دینی برکت یہ کہ وہاں کثرت انبیاء مدفوں ہیں۔ دنیوی برکت یہ کہ وہاں اشجار و انہار و پیداوار کی کثرت ہے۔ 7۔ مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے جانے کو اسراء کہتے ہیں اور آگے آسمانوں پر جانے کو معراج کہتے ہیں۔ اور گاہے دونوں لفظ مجموعہ پر اطلاق کئے جاتے ہیں۔
Ayahs 17:4–5

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں یہ بات بطور (پیشن گوئی) بتلا دی تھی کہ تم سر زمین (شام) میں دو بار خرابی کرو گے (ف 8) اور بڑا زور چلانے لگو گے۔ (ف 1)

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

پھر جب ان دو بار میں سے پہلی بار کی میعاد آوے گی ہم تم پر اپنے ایسے بندوں کو مسلط کریں گے اور بڑے جنگ جو ہوں گے پھر وہ گھروں میں گھس پڑیں گے اور یہ ایک وعدہ ہے جو ضرور ہو کر رہے گا۔

ف 8۔ ایک بار شریعت موسویہ کی مخالفت، دوسری بات شریعت عیسویہ کی مخالفت۔ 1۔ یعنی زیادتیاں کرو گے، پس لتفسدن میں حقوق اللہ کے اور لتعلن میں حقوق العباد کے ضائع کرنے کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 17:6–7

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

پھر ہم (دوبارہ) پھر ان پر تمہارا غلبہ کردیں گے اور مال اور بیٹوں سے ہم تمہاری امداد کریں گے (ف 2) اور ہم تمہاری جماعت بڑھا دیں گے۔ (ف 3)

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

اگر اچھے کام کرتے رہو گے تو اپنے ہی نفع کے لیے اچھے کام کرو گے اور اگر (پھر) تم برے کام کرو گے تو بھی اپنے ہی لیے پھر جب پچھلی بار کی میعاد آوے گی ہم پھر دوسروں کو مسلط کردیں گے تاکہ (مار مار کر) تمہارے منہ بگاڑ دیں اور جس طرح وہ لوگ مسجد (بیت المقدس) میں گھسے تھے یہ لوگ بھی اس میں گھس پڑیں اور جس جس پر ان کا زور چلے سب کو برباد کر ڈالیں۔

ف 2۔ یعنی یہ چیزیں تم کو واپس ملیں گی اور ان سے تم کو قوت پہنچے گی۔ 3۔ پس جاہ اور مال اور اولاد اور اتباع سب میں ترقی ہوگی۔
Ayahs 17:8–11

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

عجب نہیں کہ تمہارا رب تم پر رحم فرما دے اور اگر تم پھر وہی (شرارت) کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے اور ہم نے جہنم کو (ایسے) کافروں کا جیل خانہ بنا (ہی) رکھا ہے۔ (ف 4)

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

بلاشبہ یہ قرآن ایسے طریقے کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے (یعنی اسلام) اور ایمان والوں کو جو نیک کام کرتے ہیں یہ خوشخبری دیتا ہے کہ ان کو بڑا بھاری ثواب ملے گا۔

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور یہ بھی بتلاتا ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لیے ایک دردناک سزا تیار کررکھی ہے۔

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور (بعضا) انسان برائی (یعنی عذاب) کی ایسی درخواست کرتا ہے جس طرح بھلائی کی درخواست اور انسان (کچھ طبعاً ہی) جلد باز (ہوتا) ہے۔

ف 4۔ چناچہ حضور کے وقت میں انہوں نے آپ کی مخالفت کی، پھر قتل اور قید اور ذلیل ہوئے۔
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایاسو رات کی نشانی کو تو ہم نے دھندلا بنایا اور دن کی نشانی کو ہم نے روشن بنایا تاکہ (دن کو) اپنے رب کی روزی تلاش کرو اور تاکہ برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرلو اور ہم نے ہر چیز کو خوب تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ (ف 5)

ف 5۔ خواہ لوح محفوظ میں، پس کل شیء عام ہے، اور یا قرآن میں، پس کل سی سے مراد ضروری ہے، اول صورت میں مطلب یہ ہے کہ لوح محفوظ میں ہر شے کا جدا جدا وقت معین لکھا ہے اور دوسری صورت میں یہ کہ دیکھو قرآن میں کیسے مفید مضامین ہدایت آگئیں شبہات میں موجب تسکین مذکور ہیں۔
Ayahs 17:13–15

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہم نے ہر انسان کا عمل اس کے گلے کا ہار کر کے رکھا ہے (ف 6) اور (پھر) قیامت کے دن ہم اس کا نامہٴ اعمال اس کے واسطے نکال کر سامنے رکھ دیں گے جس کو وہ کھلا ہوا دیکھ لے گا۔

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

اپنا نامہٴ اعمال (خود) پڑھ لے گا آج تو خود اپنا آپ ہی محاسب کافی ہے۔

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو شخص (دنیا میں) راہ پر چلتا ہے وہ اپنے نفع کے لیے راہ پر چلتا ہے اور جو شخص بےراہی کرتا ہے سو وہ بھی اپنے ہی نقصان کے لیے بےراہ ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ہم (کبھی) سزا نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو نہیں بھیج لیتے۔

ف 6۔ یعنی ہر شخص کا عمل اس کے ساتھ لازم ہے۔
Ayah 17:16

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوش عیش لوگوں کو حکم دیتے ہیں (ف 1) پھر (جب) وہ لوگ وہاں شرارت مچاتے ہیں تب ان پر حجّت تمام ہوجاتی ہے پھر اس بستی کو تباہ اور غارت کر ڈال دیتے ہیں۔

ف 1۔ یعنی امیرو رئیس لوگوں کو۔
Ayahs 17:17–18

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی امتوں کو نوح (علیہ السلام) کے بعد کفر و معصیت کے سبب ہلاک کیا ہے (ف 2) اور آپ کا رب اپنے بندوں کے گناہوں کا جاننے والا دیکھنے والا کافی ہے۔

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو شخص دنیا (کے نفع) کی نیت رکھے گا ہم ایسے شخص کو دنیا میں جتنا چاہیں گے جس کے واسطے چاہیں گے فی الحال ہی دے دیں گے پھر ہم اس کے لیے جہنم تجویز کریں گے وہ اس میں بد حال راندہٴ (درگاہ) ہو کر داخل ہوگا۔

ف 2۔ جیسے عاد وثمود وغیرہ اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ہلاک ہونا مشہور و معروف ہی ہے۔
Ayah 17:19

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو شخص آخرت (کے ثواب) کی نیت رکھے گا اس کے لیے جیسے سعی کرنا چاہیے ویسے ہی سعی بھی کرے گا بشرطیکہ وہ شخص مومن بھی ہو (ف 3) ایسے لوگوں کی یہ سعی مقبول ہوگی۔ (ف 4)

ف 3۔ مطلب یہ کہ وہ عمل قواعد شرعیہ کے موافق کیا، کیونکہ آخرت کے لئے وہی سعی کرنا چاہئے جس کا امر ہوا ہو، بخلاف ان اعمال کے جو ہوائے انسانی کے موافق ہوں کہ وہ مقبول نہیں غرض شرع کے موافق عمل کیا۔ 4۔ غرض قبول سعی یعنی عمل کی تین شرطیں ہوئیں۔ 1 تصحیح نیت جس پر اراد الاخرة دال ہے۔ 2، تصحیح عمل حسب شرع جس پر سعیھا جس پر دال ہے۔ 3، تصحیح عقیدہ جس پر مومن دال ہے۔ پس شرائط قبول کے یہ ہیں اور بدون اس کے غیر مقبول۔
Ayahs 17:20–23

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

آپ کے رب کی (اس) عطا) (دنیوی) میں سے تو ہم ان کی بھی امداد کرتے ہیں (ف 5) اور ان کی بھی (ف 6) اور آپ کے رب کی ( یہ) عطا (دنیوی کسی پر) بند نہیں۔

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

آپ دیکھ لیجیئے کہ ہم نے ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دی ہے اور البتہ آخرت درجوں کے اعتبار سے بھی بہت بڑی ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی بہت بڑی ہے۔

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

اللہ (برحق) کے ساتھ کوئی معبود مت تجویز کر ورنہ تو بد حال بےمددگار ہو کر بیٹھا رہے گا۔

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور تیرے رب نے حکم کردیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کرو اور تم (اپنے) ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جاویں سو ان کو کبھی (ہاں سے) ہوں بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا۔

ف 5۔ یعنی مقبولین کی۔ 6۔ یعنی غیر مقبولین کے۔
Ayahs 17:24–26

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرمائیے جیسا انہوں نے مجھ کو بچپن میں پالا پرورش کیا ہے۔ (ف 1)

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

تمہارا رب تمہارے مافی الضمیر کو خوب جانتا ہے اگر تم سعادت مند ہو تو وہ توبہ کرنے والوں کی خطا معاف کردیتا ہے۔

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور قرابت دار کو اس کا حق (مالی و غیر مالی) دیتے رہنا اور محتاج اور مسافر کو بھی دیتے رہنا اور (مال کو) بےموقع مت اڑانا (کیوں کہ) ۔

ف 1۔ ارحمھما میں جو دعا کے لئے فرمایا ہے، ظاہر امر ندب و استحباب کے لئے ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ وجوب کے لئے، لیکن عمر بھر میں ایک بار دعا کرنے سے بھی واجب ادا ہوجائے گا۔ اور بدلائل شرعیہ یہ دعا کرنا متقید ہے ایمان ابوین کے ساتھ۔ البتہ اگر حالت کفر میں زندہ ہوں اور دعائے رحمت بمعنی دعائے ہدایت کی جاوے تو جائز ہے۔
Ayah 17:27

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

بیشک بےموقع اڑانے والے شیطانوں کے بھائی بند ہیں (ف 2) اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکر ہے۔

ف 2۔ اسراف و تبذیر کا حاصل ایک ہی ہے کہ محل معصیت میں خرچ کرنا خواہ وہ معصیت بالذات ہو جیسے شراب و قمار و زنا خواہ بالگیر ہو جیسے فعل مباح میں بہ نیت شہرت و تفاخر خرچ کرنا، اور بعض نے یہ فرق کیا ہے کہ اسراف میں جہل بالکمیة ہے کہ مقادیر حقوق سے تجاوز ہو، اور تبذیر میں جہل بالکیفیة ہے کہ محل و موقع نہ سمجے۔
Ayah 17:28

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور اگر اپنے رب کی طرف سے جس رزق کے آنے کی امید ہو اس کے انتظار میں تجھ کو ان سے پہلو تہی کرنا پڑے تو ان سے نرمی کی بات کہہ دینا۔ (ف 3)

ف 3۔ یعنی دلجوئی کے ساتھ ان سے وعدہ کرلینا کہ انشاء اللہ تعالیٰ کہیں سے آوے گا تو دیں گے اور دل آزار جواب مت دینا۔
Ayahs 17:29–30

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن ہی سے باندھ لینا چاہیئے (ف 4) اور نہ بالکل ہی کھول دینا چاہیئے (ف 5) ورنہ الزام خوردہ تہی دست ہو کر بیٹھ رہو گے۔ (ف 6)

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

بلاشبہ تیرا رب جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے اور وہی تنگی کردیتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے دیکھتا ہے۔

ف 4۔ کہ غایت بخل سے بالکل ہی ہاتھ روک لیا جاوے۔ 5۔ کہ اسراف کیا جاوے 6۔ اس سے یہ مقصود نہیں کہ کوئی کسی کا غم نہ کرے بلکہ مطلب یہ ہے کہ دوسرے کے نفع کے لئے اپنے کو دینی ضرر پہنچانا یا ایسی دنیوی ضرر برداشت کرنا جس کا انجام دینی ضرر ہو یہ ممنوع ہے۔
Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور اپنی اولاد کو ناداری کے اندیشے سے قتل مت کرو (کیونکہ) ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی بیشک ان کا قتل کرنا بڑا بھاری گناہ ہے۔ (ف 7)

ف 7۔ جاہلیت میں بعضے آدمی بیٹیوں کو خوف فقر سے مار ڈالتے تھے، پس اولاد سے مراد بنات ہوں گی۔ اور اولاد کے عنوان سے تعبیر کرنا اظہار وتعلق و اختصاص کے لئے ہے کہ جوش ترحم ہو۔
Ayah 17:32

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے پاس بھی مت پھٹکو (ف 8) بلاشبہ وہ بڑی بےحیائی کی بات ہے اور بری راہ ہے۔

ف 8۔ یعنی اس کے مبادی و مقدمات سے بھی بچو۔
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور جس شخص (کے قتل) کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق پر (ف 9) اور جو شخص ناحق قتل کیا جاوے تو ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (ف 10) سو اس کو قتل کے بارے میں حد (شرع) سے تجاوز نہ کرنا چاہیئے وہ شخص طرفداری کے قابل ہے۔

ف 9۔ یعنی جب وجوب یا اجاحت قتل کا کوئی سبب شرعی پایا جاوے تو قتل کرنا درست ہے، اور اس وقت وہ حرم اللہ میں داخل نہیں۔ 10۔ ولی سے مراد وہ شخص ہے جس کو حق قصاص ہو اور کوئی واراث ہو، تو وہ ورنہ سلطان۔
Ayahs 17:34–35

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ (ف 1) مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے یہاں تک کہ وہ اپنے سن بلوغت کو پہنچ جاوے اور عہد (مشروع) کو پورا کرو (ف 2) بیشک (ایسے) عہد کی باز پرس ہونے والی ہے۔

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جو ناپ تول کردو تو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تول کردو یہ (فی نفسہ بھی) اچھی بات ہے اور انجام بھی اس کا اچھا ہے۔

ف 1۔ یعنی اس میں تصرف مت کرو۔ 2۔ عہد میں تمام احکام الہیة اور تمام عقد جو فیما بین العباد ہیں داخل ہوگئے۔
Ayahs 17:36–39

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور جس بات کی تجھ کو تحقیق نہ ہو اس پر عمل درآمد مت کیا کرو کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ہر شخص سے ان سب کی (قیامت کے دن) پوچھ ہوگی۔ (ف 3)

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر اتراتا ہوا مت چل (کیونکہ تو) نہ زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ (بدن کو تان کر) پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتا ہے۔

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

یہ سارے برے کام تیرے رب کے نزدیک (بالکل) ناپسند ہیں۔

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

یہ باتیں اس حکمت میں کی ہیں جو خدائے تعالیٰ نے آپ پر وحی کے ذریعہ بھیجی ہیں اور اللہ برحق کے ساتھ کوئی اور معبود تجویز مت کرنا ورنہ تو الزام خوردہ اور راندہ ہو کر جہنم میں پھینک دیا جاوے گا۔

ف 3۔ اس لئے بےتحقیق بات پر وثوق کر کے اس پر عملدر آمد مت کر۔