17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsبیان القرآن

Ayah 17:80

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور آپ یوں دعا کیجیے کہ اے رب مجھ کو خوبی کے ساتھ پہنچائیو اور مجھ کو خوبی کے ساتھ لے جائیو (ف 7) اور مجھ کو اپنے پاس سے ایسا غلبہ دیجیو جس کے ساتھ نصرت ہو۔ (ف 8)

ف 7۔ یعنی مکہ سے جانے کے بعد۔ 8۔ جس سے وہ غلبہ بڑہتا ہی جاوے، ورنہ خارجی غلبہ تو کفار کو بھی ہوجاتا ہے، مگر وہ منصور من اللہ نہیں ہوتے، اس لئے جلد زائل ہوجاتا ہے، اس میں تفویض کا حکم ہوگیا۔
Ayah 17:81

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور کہہ دیجیئے کہ حق آیا اور باطل گیا گزرا ہوا (اور) واقعی باطل چیز تو یونہی آتی جاتی رہتی ہے۔ (ف 9)

ف 9۔ چناچہ ہجرت کے بعد مکہ فتح ہوا، اور سب وعدے پورے ہوگئے۔
Ayah 17:82

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور ہم قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں کہ وہ ایمان والوں کے حق میں تو شفا اور رحمت ہے (ف 10) اور ناانصافوں کو اس سے اور الٹا نقصان بڑھتا ہے۔

ف 10۔ کیونکہ وہ اسے مانتے ہیں جس سے حق تعالیٰ کی رحمت ان پر ہوتی ہے، اور عقائد و اعمال فاسدہ سے شفا ہوتی ہے۔
Ayahs 17:83–84

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور آدمی کو جب ہم نعمت ادا کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے اور کروٹ پھیر لیتا ہے اور جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے۔ (ف 11)

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

آپ فرما دیجیئے کہ ہر شخص اپنے طریقے پر کام کر رہا ہے سو تمہارا رب خوب جانتا ہے جو زیادہ ٹھیک رستہ پر ہو۔

ف 11۔ یہ دونوں امر دلیل ہیں اللہ سے بےتعلقی کے، اور یہی بےتعلقی اصل سبب ہے ہدایت کی طرف متوجہ نہ ہونے کا اور حق میں غور نہ کرنے کا، اور اسی سے کفر وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔
Ayahs 17:85–94

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور یوں لوگ آپ سے روح کو (امتحاناً ) پوچھتے ہیں آپ فرما دیجیئے روح میرح رب کے حکم سے بنی ہے (ف 12) اور تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ (ف 13)

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو جس قدر آپ پر وحی بھیجی ہے سب سلب کرلیں پھر اس کے (واپس لانے کے) لیے آپ کو ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ ملے۔

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

مگر (یہ) آپ کے رب ہی کی رحمت ہے (کہ ایسا نہیں کیا) بیشک آپ پر اس کا بڑا فضل ہے۔

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

آپ فرما دیجیئے کہ اگر تمام انسان اور جنات سب اس بات کے لیے جمع ہوجاویں کہ ایسا قرآن بنا لا دیں تب بھی ایسا نہ لا سکیں گے اگرچہ ایک دوسرے کا مددگار بھی بن جاوے۔

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں کو (سمجھانے کے) لیے اس قرآن میں ہر قسم کا مضمون طرح طرح سے بیان کیا ہے پھر بھی اکثر لوگ بےانکار کیے ہوئے نہ رہے۔

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہ لاویں گے جب تک آپ ہمارے لیے (مکہ کی) زمین سے کوئی چشمہ نہ جاری کردیں۔

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا خاص آپ کے لیے کھجور اور انگوروں کا کوئی باغ نہ ہو پھر اس باغ کے بیچ بیچ میں جگہ جگہ بہت سی نہریں آپ جاری کردیں۔

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا جیسا کہ آپ کہا کرتے ہیں آپ آسمان کے ٹکڑے ہم پر نہ گرا دیں یا آپ اللہ کو اور فرشتوں کو (ہمارے) سامنے نہ لا کھڑا کردیں۔

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا آپ کے پاس کوئی سونے کا بنا ہوا گھر نہ ہو یا آپ آسمان پر (ہمارے سامنے) نہ چڑھ جاویں اور ہم تو آپ کے (آسمان پر) چڑھنے کا بھی کبھی باور نہ کریں جب تک کہ (وہاں سے) آپ ہمارے پاس ایک نوشتہ نہ لادیں جس کو ہم پڑھ بھی لیں آپ فرما دیجیئے کہ سبحان اللہ میں بجز اس کے کہ آدمی ہوں (مگر) پیغمبر ہوں اور کیا ہوں۔

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور جس وقت ان لوگوں کے پاس ہدایت پہنچ چکی اس وقت ان کو ایمان لانے سے بجز اس کے اور کوئی (قابل التفات) بات مانع نہیں ہوئی کہ انہوں نے کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔

ف 12۔ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اسی روح کے متعلق سوال تھا جس سے انسان زندہ ہے کیونکہ جب روح مطلق بولتے ہیں، یہی مفہوم ہوتی ہے اور جواب سے ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ نصوص میں اس کی حقیقت ظاہر نہ کرنے کی وجہ بتلائی، اور ضروری عقیدہ اس کے حدوث کا ظاہر کردیا گیا ہے۔ اب یہ امر کہ کسی دوسرے طریقہ سے اس کا انکشاف ہوسکتا ہے، یا ہوتا ہے۔ آیت اس کے اثبات و نفی دونوں سے ساکت ہے۔ پس دونوں امر محتمل ہیں اور کوئی شق معارض نص کے نہیں۔ 13۔ یہاں جو علم کو قلیل فرمایا تو یہ نسبت علم الہی کے اور دوسری آیت میں جو علم کو خیر کثیر فرمایا تو یہ نسبتیں متاع و دنیا کے۔ پس دونوں میں تصادم نہیں۔
Ayahs 17:95–96

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

آپ فرما دیجیئے کہ اگر زمین پر فرشتے (رہتے) ہوتے کہ اس میں چلتے بستے تو البتہ ہم ان پر آسمان سے فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتے۔ (ف 1)

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

آپ (آخیر بات) کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان کافی گواہ ہے (کیونکہ) وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے خوب دیکھتا ہے۔

ف 1۔ یہ ایک شبہ متعلقہ رسالت کا جواب ہے، وہ شبہہ یہ کہ رسول بشر نہ ہونا چاہئے، فرشتہ ہونا چاہئے۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ مرسل الیہم فرشتے ہوتے تو رسول بھی فرشتہ وہتا۔ جبکہ مرسل الیہم بشر ہیں تو رسول بھی بشر ہونا چاہئے، اگر وسوسہ ہو کہ جب مناسبت کی ضرورت سے مجانست کی رعایت ہوئی تو پھر رسول کے پاس کہ بشر ہوتا ہے فرشتہ کیسے آتا ہے اور کیونکہ فیض ہوتا ہے، جواب یہ ہے کہ رسول میں چونکہ شان ملکیت کی بھی ہوتی ہے اس لئے اس کو فرشتہ اور بشر دونوں سے مناسبت ہوتی ہے کہ فرشتے سے وحی لیکر بشر کو پہنچا دے۔
Ayahs 17:97–99

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

اور اللہ جس کو راہ پر لادے وہی راہ پر آتا ہے اور جس کو وہ بےراہ کر دے تو خدا کے سوا آپ کسی کو بھی ایسوں کا مددگار نہ پاویں گے (ف 2) اور ہم قیامت کے روز ان کو اندھا گونگا بہرا کر کے منہ کے بل چلاویں گے (پھر) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے وہ جب ذرا دھیمی ہونے لگے گی تب ہی ان کے لیے اور زیادہ بھڑکا دیں گے۔

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ ہے ان کی سزا انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا تھا اور یوں کہا تھا کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور بالکل ریزہ ریزہ ہو جاوینگے تو کیا ہم از سر نو پیدا کر کے (قبروں سے) اٹھائے جاویں گے۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو اتنا معلوم نہیں کہ جس اللہ نے آسمان اور زمین پیدا کیے وہ اس بات پر (بدرجہٴ اولیٰ ) قادر ہے کہ وہ ان جیسے آدمی دوبارہ پیدا کر دے اور انکے لیے ایک معیاد معین کر رکھی ہے کہ اس میں ذرہ بھی شک نہیں اس پر بھی بےانصاف لوگ بےانکار کیے نہ رہے۔ (ف 1)1۔ اوپر کفار کا آپ کی نبوت پر انکار کرنا اور آپ سے عداوت رکھنا مذکور ہوا ہے۔ آگے بطور تفریع کے فرماتے ہیں کہ اگر نبوت تمہارے اختیار میں ہوتی تو تم رسول مقبول ﷺ کو کبھی نہ دیتے، مگر وہ تو فضل خدا کے ہاتھ میں ہے، اس لئے تمہاری کراہت و عداوت مانع نہیں ہوسکتی۔

ف 2۔ یعنی جب تک خدا کی طرف سے دستگیری نہ ہو، نہ ہدایت ہوسکتی ہے نہ عذاب سے بچ سکتا ہے۔ چناچہ یہ لوگ باوجود اجتماع اسباب و ہدایت کے بوجہ محذول ہونے کے ہدایت تک نہ پہنچ سکے۔
Ayah 17:100

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

آپ فرما دیجیئے کہ اگر تم لوگ میری رب کی رحمت (یعنی نبوت) کے خزانوں (یعنی کمالات) کے مختار ہوتے تو اس صورت میں تم (اس کے) خرچ کرنے کے اندیشہ سے ضرور ہاتھ روک لیتے اور آدمی ہے بڑا تنگ دل۔ (ف 2)

ف 2۔ یعنی کبھی بھی کسی کو نہ دیتے، باجودیکہ وہ چیز ایسی ہوتی کہ دینے سے بھی نہ گھٹتی، مگر خود اس کے دینے ہی کو مثل خرچ کرنے کے سمجھ کر کسی کو بھی نہ دیتے، جیسے بعض لوگ علم کی بات غایت بخل سے نہیں بتلایا کرتے۔
Ayahs 17:101–102

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کھلے ہوئے نو معجزے دیئے (ف 3) جب کہ وہ دوبارہ بنی اسرائیل کے پاس آئے تھے سو آپ بنی اسرائیل سے پوچھ دیکھیئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) میرے خیال میں تو ضرور تم پر کسی نے جادور کردیا ہے۔

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تو (دل میں) خوب جانتا ہے کہ یہ (عجائبات) خاص آسمان اور زمین کے پروردگار نے بھیجے ہیں جو کہ بصیرت کے لیے (کافی) ذرائع ہیں اور میرے خیال میں ضرور تیری کم بختی کے دن آگئے ہیں۔

ف 3۔ جن کا ذکر پارہ نہم کے رکوع ششم آیت اول میں ہے۔
Ayahs 17:103–104

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

پھر اس نے چاہا بنی اسرائیل کا اس سرزمین سے قدم اکھاڑ دے (ف 4) سو ہم نے اس (ہی) کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو غرق کردیا۔

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو کہہ دیا کہ (اب) تم اس سرزمین میں رہو سہو پھر جب آخرت کا وعدہ آ جاوے گا تو ہم سب کو جمع کر کے حاضر لا کریں گے۔

ف 4۔ یعنی ان کو شہر بدر کردے۔
Ayah 17:105

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن کو راستی ہی کے ساتھ نازل کیا اور راستی ہی کے ساتھ نازل ہوگیا (ف) اور ہم نے آپ کو صرف خوشی سنا نے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (ف 6)

ف 5۔ یعنی جیسا کاتب کے پاس سے چلا تھا اسی طرح مکتوب الیہ تک پہنچ گیا، اور درمیان میں کوئی چیز تغیر وتبدل و تصرف نہیں ہوا۔ پس وہ سرتاسر راستی ہی راستی ہے۔ 6۔ اس لئے اگر کوئی ایمان نہ لاوے تو کچھ غم نہ کیجئے۔
Ayah 17:106

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور قرآن میں ہم نے جا بجا فصل رکھا تاکہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور ہم نے اس کو اتارنے میں بھی تدریجاً اتارا۔ (ف 7)

ف 7۔ یعنی تاکہ وہ اچھی طرح سمجھ سکیں اور تاکہ معانی کا خوب انکشاف ہو۔
Ayah 17:107

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

کہہ دیجیئے کہ تم اس قرآن پر خواہ ایمان لاؤ خواة ایمان نہ لاؤ جن لوگوں کو قرآن سے پہلے علم دیا گیا تھا (ف 8) یہ قرآن جب ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔

ف 8۔ یعنی منصف علماء اہل کتاب۔
Ayah 17:108

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہمارا رب (وعدہ خلافی سے) پاک ہے بیشک ہمارے رب کا وعدہ ضرور پورا ہی ہوتا ہے۔ (ف 9)

ف 9۔ سو جس کتاب کا جس نبی پر نازل کرنے کا وعدہ کتب سابقہ میں کیا تھا اس کو پورا فرمایا۔
Ayah 17:109

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور ٹھوڑیوں کے بل گرتے ہیں روتے ہوئے (ف 10) اور یہ قرآن ان کا خشوع اور بڑھا دیتا ہے۔

ف 10۔ یہ سجدہ میں گرنا یا بطور شکر کے ہے کہ وعدہ مندرجہ کتب سابقہ پورار ہوا، یا تعظیم و اجلال کے لئے کہ قرآن سن کر ہیبت طاری ہوتی ہے یا مجازا کنایہ ہی کمال انقیاد و خشوع سے۔ اور سجدہ چہرے کے بل ہوتا ہے مگر ٹھوڑی کے بل کہنا مبالغہ کے لئے ہے کہ اپنے چہرے کو زمین اور خاک سے اس قدر لگائے دیتے ہیں کہ ٹھوڑی لگنے کے قریب ہوجاتی ہے۔
Ayah 17:110

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

آپ فرما دیجیئے کہ خواہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر پکارو جس نام سے بھی پکارو گے سو اس کے بہت اچھے اچھے نام ہیں (ف 1) اور اپنی نماز میں نہ تو بہت پکار کر پڑھیے اور نہ بالکل چپکے چپکے ہی پڑھیے اور دونوں کے درمیان ایک طریقہ اختیار کر لیجیئے۔

ف 1۔ ان میں شرک سی کوئی علاقہ نہیں کیونکہ مسمی تو ایک ہی ہے، اسماء متعدد ہیں، شرک جب لازم آتا ہے جب مسمی دوسرا ہوتا۔
Ayah 17:111

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور کہہ دیجیئے کہ تمام خوبیاں اسی اللہ (پاک) کے لیے (خاص) ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے اور نہ اس کا کوئی سلطنت میں شریک ہے اور نہ کمزوری کی وجہ سے اس کا کوئی مددگار ہے اور اس کی خوب بڑائیاں بیان کیا کیجیئے۔ (ف 2)

ف 2۔ سورت کو تسبیح سے شروع کیا اور تمجید اور تکبیر پر ختم کیا۔ پس سبحان اللہ والحمدللہ واللہ اکبر کے معانی پر فاتحہ اور خاتمہ ہوا۔