17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsبیان القرآن

Ayahs 17:40–41

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

تو کیا تمہارے رب نے تم کو بیٹوں کے ساتھ خاص کیا ہے اور خود فرشتوں کو (اپنی) بیٹیاں بنائی ہیں بیشک تم بڑی (سخت) بات کہتے ہو۔ (ف 4)

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان کیا ہے تاکہ (اس کو) اچھی طرح سے سمجھ لیں اور ان کو نفرت ہی بڑھتی جاتی ہے۔

ف 4۔ بڑی سخت بات اس لئے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد قرار دینا، پھر اولاد بھی وہ جو اپنے لئے ناکارہ سمجھی جاوے جس سے دو نقص کا نسبت کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف لازم آیا۔
Ayahs 17:42–43

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

آپ فرمائیے اگر اس کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسا یہ لوگ کہتے ہیں تو اس حالت میں عرش والے تک (ف 5) انہوں نے رستہ ڈھونڈ لیا ہوتا۔ (ف 6)

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور اس سے زیادہ برتر ہے۔

ف 5۔ یعنی خدائے حقیقی تک۔ 6۔ یعنی مخالفت اور مقابلہ واقع ہوتا، پھر عالم کا نظام موجود کیسے باقی رہتا، حالانکہ نظام عالم قائم ہے، معلوم ہوا کہ سبب فساد یعنی تعدد الہ منفی ہے۔
Ayahs 17:44–45

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

تمام ساتوں آسمان اور زمین اور جتنے ان میں ہیں اس کی پاکی بیان کر رہے ہیں اور کوئی چیز ایسی نہیں جو تعریف کے ساتھ اس کی پاکی (قالاً یا حالاً ) بیان نہ کرتی ہو لیکن تم لوگ ان کی پاکی بیان کرنے کو سمجھتے نہیں ہو (ف 7) وہ بڑا حلیم ہے بڑا غفور ہے۔

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انکے درمیان میں ایک پردہ حائل کردیتے ہیں۔

ف 7۔ تسبیح حالی کو اس لئے نہیں سمجھتے کہ اس کی حقیقت استدلال ہے، اور وہ موقوف ہے تامل پر اور تم تامل نہیں کرتے، اور تسبیح قالی کو بعض اشیاء میں تو اس لئے کہ وہ امور کشفیہ سے ہے، اور مومنین کی تسیح قالی کو اس لئے کہ باوجود سننے کے اس کے معنی اور اس کی حقیقت میں تدبر نہیں کرتے۔
Ayah 17:46

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور (وہ پردہ یہ ہے کہ) ہم ان کے دلوں پر حجاب ڈالتے ہیں اس سے کہ وہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دیتے ہیں (ف 1) اور جب آپ قرآن میں صرف اپنے رب کا ذکر کرتے ہیں تو وہ لوگ نفرت کرتے ہوئے پشت پھیر کر چل دیتے ہیں۔

ف 1۔ یعنی وہ پردہ عدم فہم اور عدم رادہ فہم ہے، جس سے وہ آپ کی شان نبوت کا ادراک نہیں کرسکتے۔
Ayah 17:47

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

جس وقت یہ لوگ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں تو ہم خوب جانتے ہیں جس غرض سے یہ سنتے ہیں (ف 2) اور جس وقت یہ لوگ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں جب کہ یہ ظالم یوں کہتے ہیں کہ تم لوگ محض ایسے شخص کا ساتھ دے رہے ہو جس پر جادو کا اثر ہوگیا ہے۔

ف 2۔ وہ غرض یہی اعتراض و طعن ہے۔
Ayahs 17:48–50

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

آپ دیکھیے تو یہ لوگ آپ کے لیے کیسے کیسے القاب تجویز کرتے ہیں سو یہ لوگ گمراہ ہوگئے تو رستہ نہیں پاسکتے۔ (ف 3)

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کیا جب ہم (مر کر) ہڈیاں اور چورا ہوجاویں گے تو کیا ہم از سرِ نو پیدا اور زندہ کیے جاویں گے۔

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

آپ (جواب میں) فرما دیجیئے کہ تم پتھر یا لوہا۔

ف 3۔ کیونکہ ایسے امور سے استعداد ضائع ہوجاتی ہے۔
Ayahs 17:51–52

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا اور کوئی مخلوق ہو کر دیکھ لو جو تمہارے ذہن میں بہت بعید ہو․(ف 4) اس پر پوچھیں گے کہ وہ کون ہے جو ہم کو دوبارہ زندہ کرے گا آپ فرما دیجیئے کہ وہ وہ ہے جس نے تم کو اول بار پیدا کیا تھا اس پر آپ کے آگے سر ہلا ہلا کر کہیں گے (اچھا بتلاؤ) یہ کب ہوگا آپ فرما دیجیئے کہ عجب نہیں یہ قریب ہی آن پہنچا ہو۔

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

یہ اس روز ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم کو پکارے گا اور تم (بالاضطرار) اس کی حمد کرتے ہوئے حکم کی تعمیل کرلو گے اور تم یہ خیال کرو گے کہ تم بہت ہی کم رہے تھے۔ (ف 5)

ف 4۔ جب ابعد کا احیاء ممکن ہے تو اقرب کا احیاء تو بدرجہ اولی ممکن ہے تولوا سے مقصود امر نہیں۔ بلکہ تعلیق ہے کہ اگر حدیدہ و حجارہ بھی ہوجاو تب بھی محل قدرت رہو گے۔
Ayah 17:53

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور آپ میرے (مسلمان) بندوں سے کہہ دیجیئے کہ ایسی بات کہا کریں جو بہتر ہو (ف 6) شیطان لوگوں میں فساد ڈلوا دیتا ہے واقعی شیطان انسان کا صریح دشمن ہے۔

ف 6۔ یعنی اس میں سب و شتم اور خشونت اور اشتعال نہ ہو۔
Ayah 17:54

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تم سب کا حال تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے اگر وہ چاہے تو تم پر رحمت فرما دے یا اگر وہ چاہے تم کو عذاب دینے لگے اور ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔ (ف 7)

ف 7۔ مراد اس سے بےضرورت سختی کرتا ہے، جیسا کہ اکثر مجادلات میں ہوجاتی ہے ورنہ ضرورت اور مصلحت کے موقع پر اس سے زیادہ قتال تک کی اجازت ہے۔
Ayahs 17:55–56

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

اور آپ کا رب خوب جانتا ہے ان کو جو کہ آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں (ف 8) اور ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی ہے اور ہم داؤد (علیہ السلام) کو زبور دے چکے ہیں۔ (ف 1)

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

آپ فرما دیجیئے کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) قرار دے رہے ہو ذرا ان کو پکارو تو سہی (یقیناً ) وہ نہ تم سے تکلیف کو دور کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ اس کے بدل ڈالنے کا۔

ف 8۔ اوپر واذا قرات القرن اور قالواء اذا کنا میں کفار کے انکار رسالت پر دلالت تھی، منجملہ ان کے وجوہ انکار رسالرت کے ایک ان کا یہ بھی خیال تھا کہ رسول فرشتہ ہونا چاہئے، یا اگر بشر ہو تو کوئی رئیس ہو، اب اس شبہہ کا جواب اور ذکر داود (علیہ السلام) سے آپ کی رسالت کی تائید اور رسولوں میں سے آپ کے افضل ہونے کی طرف اجمالی اشارہ فرماتے ہیں۔ 1۔ زبور کی تخصیص میں یہ نکتہ ہے کہ اس میں حضور اقدس ﷺ کے صاحب ملک و سلطنت ہونے کی خبر دے دی گئی ہے۔
Ayah 17:57

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

یہ لوگ کہ جن کو مشرکین پکار رہے ہیں وہ خود ہی اپنے رب کی طرف ذریعہ ڈھونڈ رہے ہیں (ف 2) کہ ان میں کون زیادہ مقرب بنتا ہے اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں (اور) واقعی آپ کے رب کا عذاب ہے بھی ڈرنے کے قابل۔ (ف 3)

ف 2۔ یعنی طاعت و عبادت میں مشغول ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب میسر ہوجائے، اور چاہتے ہیں کہ زیادہ قرب ہوجاوے۔ 3۔ مطلب یہ کہ جب وہو خود عابد ہیں تو معبود کیونکر ہوں گے اور جب وہ خود ہی منفعت یعنی رحمت میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں تو اوروں کو کیا منفعت دے سکتے ہیں۔ اسی طرح جب وہ خود مضرت یعنی عذاب سے بچنے میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں تو اوروں سے مضرت کو کیا دفع کرسکتے ہیں، پھر ان کا معبود معین بنانا محض باطل ہوگا۔
Ayah 17:58

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور (کفار کی) ایسی کوئی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا (قیامت کے روز) اس کو سخت عذاب نہ دیں (ف 4) یہ بات کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں لکھی ہوئی ہے۔

ف 4۔ پس اگر کوئی کافر یہاں کسی آفت میں ہلاک ہونے سے بچ گیا تو قیامت کے روز آفت کبری سے نہ بچے گا۔ آفت کی قید اس لئے کہ موت طبعی سے تو سب ہلاک ہوتے ہی ہیں، اس میں کفر کی تخصیص نہیں۔
Ayahs 17:59–60

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم کو خاص (فرمائشی) معجزات کے بھیجنے سے یہی امر مانع ہوا کہ پہلے لوگ ان کی تکذیب کرچکے ہیں (ف 5) اور ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی دی تھی جو کہ بصیرت کا ذریعہ تھی سو ان لوگوں نے اس کے ساتھ ظلم کیا اور ہم ایسے معجزات کو صرف ڈرانے کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

اور آپ وہ وقت یاد کر لیجیئے جب کہ ہم نے آپ سے کہہ دیا تھا کہ آپ کا رب اپنے علم سے تمام لوگوں کو محیط ہو رہا ہے اور ہم نے جو تماشا آپ کو (شب معراج) دکھلایا تھا اور جس درخت کی قرآن میں مذمت کی گئی ہے ہم نے تو ان دونوں چیزوں کو ان لوگوں کے لیے موجب گمراہی کردیا اور ہم ان کو ڈراتے رہتے ہیں لیکن ان کی بڑی سرکشی بڑھتی چلی جاتی ہے۔

ف 5۔ اور طبیعتیں ان کی اور ان کی مشابہ ہیں، پس یہ بھی تکذیب کریں گے۔
Ayahs 17:61–63

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو سو ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا اور) کہا کہ کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جس کو آپ نے مٹی سے بنایا ہے۔ (ف 6)

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

کہنے لگا کہ اس شخص کو جو آپ نے مجھ پر فوقیت دی ہے تو بھلا بتلائیے تو خیر اگر آپ نے مجھ کو قیامت کے زمانہ تک مہلت دے دی تو میں (بھی) بجز قدرے قلیل لوگوں کے اس کی تمام اولاد کو اپنے بس میں کروں گا۔

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

ارشاد ہوا جا جو شخص ان میں سے تیرے ساتھ ہو لے گا سو تم سب کی سزا جہنم ہے سزا پوری۔

ف 6۔ اس پر مردود و مطرود ہوا۔
Ayah 17:64

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور ان میں سے جس جس پر تیرا قابو چلے اپنی چیخ پکار سے اس کا قدم اکھاڑ دینا (ف 7) اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لانا (ف 8) اور ان کے مال اور اولاد میں اپنا ساجھا کرلینا (ف 1) اور ان سے وعدہ کرنا اور شیطان ان لوگوں سے بالکل جھوٹے وعدے کرتا ہے۔

ف 7۔ یعنی اغوا وسوسہ سے۔ 8۔ کہ سب مل کر گمراہ کرنے میں خوب زور لگالیں۔ 1۔ یعنی مال و اولاد کو ذریعہ گمراہی بنادینا چناچہ مشاہد ہے۔
Ayahs 17:65–66

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

میرے خاص بندوں پر تیرا ذرا قابو نہ چلے گا اور آپ کا رب کافی کارساز ہے۔ (ف 2)

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا رب ایسا (منعم) ہے کہ تمہارے لیے کشتی کو دریا میں لے چلتا ہے تاکہ تم اس کے رزق کی تلاش کرو بیشک وہ تمہارے حال پر بہت مہربان ہے۔

ف 2۔ یہ بات کہ شیطان کو ابتداء کیسے معلوم ہوا کہ میں اغواء بنی آدم پر قادر ہوں، اس کا جواب یہ ہے کہ غالبا انسان کے قوی ترکیبیہ مختلفہ سے اس کو یہ ظن حاصل ہوا۔
Ayahs 17:67–69

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب تم کو دریا میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بجز خدا کے اور جتنوں کی تم عبادت کرتے تھے سب غائب ہوجاتے ہیں (ف 3) پھر جب تم کو خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو پھر تم پھرجاتے ہو اور (واقعی) انسان ہے بڑا ناشکر۔

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

تو کیا تم اس بات سے بےفکر ہو کر بیٹھے ہو کہ تم کو خشکی کی جانب میں لاکر زمین میں دھنسا دیوے یا تم پر کوئی ایسی تند ہوا بھیج دیوے جو کنکر پتھر برسانے لگے پھر تم کسی کو اپنا کارساز نہ پاؤ۔

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

یا تم اس سے بےفکر ہوگئے کہ خدائے تعالیٰ پھر تم کو دریاہی میں دوبارہ لے جاوے پھر تم پر ہوا کا سخت طوفان بھیج دے پھر تم کو تمہارے کفر کے سبب غرق کر دے پھر اس بات پر کوئی ہمارا پیچھا کرنے والا تم کو نہ ملے۔

ف 3۔ دل سے بھی کہ ان کا خیال نہیں آتا اور فریاد رسی سے بھی کہ وہ امداد نہیں کرسکتے جس سے بدلالت حال و مقال تمہارے اعتراف سے بطلان شرک لازم آتا ہے ،۔
Ayahs 17:70–72

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور ہم نے آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو عزت دی (ف 4) اور ہم نے ان کو خشکی اور دریا میں سوار کیا اور نفیس نفیس چیزیں ان کو عطا فرمائیں اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی۔ (ف 5)

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

جس روز ہم تمام آدمیوں کو ان کے نامہٴ اعمال سمیت بلاویں گے پھر جس کا نامہٴ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاوے گا ایسے لوگ اپنا نامہٴ اعمال پڑھیں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جاوے گا۔

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو شخص دنیا میں اندھا رہے گا سو وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور زیادہ راہ گم کردہ ہوگا۔

ف 4۔ انسان میں بعض صفات کا صہ ایسے ہیں جو اور حیوانات میں نہیں۔ جیسے حسن صورت جس میں موزونی قامت بھی آگیا، اور عقل اور ایجاد ضائع وغیرہا، اور یہ نعم تمام نوع کو عام ہیں، پس بنی آدم سے مراد سب بنی آدم ہیں۔ 5۔ چونکہ اوپر کرمنا سے شبہ ہوسکتا تھا کہ ان صفات میں بنی آدم سب سے افضل ہے حالانکہ یہ امر خلاف واقع تھا کیونکہ یہ امور مدار فضیلت علی الملائکہ نہیں ہوسکتے، اور جو صفات مدار فضیلت علی الملائکہ ہیں وہ کل بنی آدم میں متحقق نہیں، اس لئے فضلنا میں یہ ابہام رفع کردیا کہ مراد تکریم سے تفضیل علی بعض الخلائق ہے، یعنی حیوانات اور حیوانات سے جو کم رتبہ ہیں، پس آیت ملائکہ اور بشر کے تفاضل متکلم فیہ بین المتکلمین سے ساکت ہے۔
Ayahs 17:73–74

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور یہ (کافر) لوگ آپ کو اس چیز سے بچلانے ہی لگے تھے جو ہم نے آپ پر وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہے (ف 6) تاکہ آپ اس کے سوا ہماری طرف غلط بات کی نسبت کریں اور ایسی حالت میں آپ کو گاڑھا دوست بنا لیتے۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ بنایا ہوتا تو آپ ان کی طرف کچھ کچھ جھکنے کے قریب جا پہنچتے۔

ف 6۔ یعنی اس کوشش میں لگے تھے کہ آپ ہمارے حکم کے خلاف کریں کہ مسلمانوں کو ہٹا دیں یا مسلمان ہونے کے لئے ایک سال کی مہلت دے دیں، کہ دونوں امر خلاف شرع ہیں۔
Ayah 17:75

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

(اور) اگر ایسا ہوتا تو ہم آپ کو حالت حیات میں اور بعد موت کے دہرا عذاب چکھاتے پھر آپ ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار بھی نہ پاتے۔ (ف 1)

ف 1۔ مگر چونکہ آپ کو معصوم اور ثابت قدم بنایا اس لئے کسی قدر میلان بھی نہیں ہوا اور ضعف الحیاة و ضعف المماة سے بھی بچ گئے۔
Ayah 17:76

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور یہ لوگ اس سرزمین سے آپ کے قدم ہی اکھاڑنے لگے تھے (ف 2) تاکہ آپ کو اس سے نکال دیں اور ایسا ہوجاتا تو آپ کے بعد یہ بھی بہت کم ٹھیرنے پاتے۔

ف 2۔ یعنی مکہ یا مدینہ سے۔
Ayah 17:77

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

جیسا کہ ان صاحبوں کے باب میں (ہمارا) قاعدہ رہا ہے جن کو آپ سے پہلے ہم نے رسول بنا کر بھیجا تھا اور آپ ہمارے (اس) قاعدے میں تغیر نہ پا وینگے۔ (ف 3)

ف 3۔ کہ جب ان کی قوم نے ان کو وطن سے نکالا تو خود ان کو بھی رہنا نصیب نہ ہوا۔
Ayah 17:78

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

آفتاب ڈھلنے کے بعد سے رات کے اندھیرے ہونے تک نمازیں ادا کیا کیجیئے (ف 4) اور صبح کی نماز بھی بیشک صبح کی نماز (فرشتوں کے) حاضر ہونے کا وقت ہے۔ (ف 5)

ف 4۔ اس میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء، چار نمازیں آگئیں۔ 5۔ چونکہ صبح کا وقت نیند سے اٹھنے کا تھا، اس لئے اس کا حکم بھی الگ کیا، اور ایک خاص بزرگی بیان کی۔
Ayah 17:79

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور کسی قدر رات کے حصے میں سو اس میں تہجد پڑھا کیجیئے جو کہ آپ کے لیے زائد چیز ہے امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود (ف 6) میں جگہ دے گا۔

ف 6۔ جو مقام شفاعت کبری ہے، اور شفاعت کبری وہ ہے کہ جس میں تمام خلائق کے حساب و کتاب شروع ہونے کی شفاعت ہوگی۔