16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsبیان القرآن

Ayah 16:1

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

خدا تعالیٰ کا حکم آپہنچا (ف 2) سو تم اس میں جلدی مت مچاؤ وہ لوگوں کے شرک سے پاک اور برتر ہے۔ (ف 3)

ف 2۔ یعنی سزائے کفر و شرک کا وقت قریب آپہنچا اور اس کا آنا یقینی ہے۔ 3۔ یعنی اس کا کوئی شریک نہیں۔
Ayahs 16:2–3

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہ فرشتوں (کی جنس یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کو وحی یعنی اپنا حکم دے کر اپنے بندوں میں سے جس پر چاہیں (یعنی انبیاء پر) نازل فرماتے ہیں یہ کہ خبردار کردو کہ میرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو مجھ سے ڈرتے رہو۔ (ف 4)

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

آسمانوں کو اور زمین کو حکمت سے بنایا وہ ان کے شرک سے پاک ہے۔

ف 4۔ اس میں یہ امر ظاہر فرمادیا کہ توحید تمام انبیاء (علیہم السلام) کی شریعت مشترکہ ہے۔
Ayahs 16:4–6

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اور (انسان کو) نطفہ سے بنایا پھر وہ یکایک کھلم کھلا جھگڑنے لگا۔ (ف 5)

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور اسی نے چوپایوں کو بنایا ان میں تمہارے جاڑے کا سامان بھی ہے اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے کھاتے بھی ہو۔

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور ان کی وجہ سے تمہاری رونق بھی ہے جب کہ (ان کو) شام کے وقت لاتے ہو اور جب کہ (ان کو) صبح کے وقت چھوڑ دیتے ہو۔

ف 5۔ مطلب یہ کہ ہماری تو یہ نعمتیں اور انسان کی طرف سے یہ ناشکری کہ خدا ہی کی ذات وصفات میں جھگٹرتا ہے۔
Ayah 16:7

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور وہ تمہارے بوجھ بھی (لاد کر) ایسے شہر کو لے جاتے ہیں جہاں تم بدون جان کو محنت میں ڈالے ہوئے (خود بھی) کبھی پہنچ نہیں سکتے تھے واقعی تمہارا رب بڑی شفقت والا ہے اور رحمت والا ہے۔ (ف 6)

ف 6۔ کہ تمہارے آرام کے لئے کیا کیا سامان پیدا کئے۔
Ayah 16:8

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور گھوڑے اور خچر اور گدھے بھی پیدا کیے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور نیز زینت کے لیے بھی اور ایسی ایسی چیزیں بناتا ہے جن کی تم کو خبر بھی نہیں۔ (ف 7)

ف 7۔ ان آیات میں جمال اور زینت کا جو از معلوم ہوتا ہے، اور اس میں اور تکبر و تفاخر میں فرق یہ ہے کہ جمال وزینت تو اپنا دل خوش کرنے کے لئے یا اظہار نعمت الیہی کے لئے ہوتا ہے اور دل میں اپنے کو نہ اس نعمت کا مستحق سمجھتا ہے اور نہ دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، بلکہ منعم حقیقی کی طرف اس کا منسوب ہونا اس کے پیش نظر رہتا ہے، اور جس میں دعوی استحقاق اور تحقیر اور اپنے اوپر نظر اور دوسروں کی نظر میں علو شان کا قصد ہو وہ تکبر اور حرام ہے۔
Ayahs 16:9–12

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور سیدھا راستہ اللہ تک پہنچتا ہے اور بعضے راستے ٹیڑھے بھی ہیں اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو (منزل) مقصود تک پہنچا دیتا۔ (ف 8)

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہ ایسا ہے جس نے تمہارے واسطے آسمان سے پانی برسایا جس سے تم کو پینے کو پانی ملتا ہے اور اس (کے سبب) سے درخت (پیدا ہوتے) ہیں جن میں تم (اپنے مواشی) چرنے چھوڑ دیتے ہو۔

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

(اور) اس (پانی) سے تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (زمین سے) اگاتا ہے بیشک اس میں سوچنے والوں کے لیے (توحید کی) دلیل (موجود) ہے۔

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور اس نے تمہارے لیے رات اور دن اور سورج اور چاند کو (اپنا) مسخر (قدرت) بنایا اور ستارے (بھی) اس کے حکم سے مسخر ہیں بیشک اس میں (بھی) عقلمند لوگوں کے لیے چند دلیلیں (موجود) ہیں۔

ف 8۔ مگر وہ اسی کو پہچانتے ہیں جو اس صراط مستقیم کا طالب بھی ہو اس لئے تم کو چاہئے کہ ان دلائل میں غور کرو اور ان سے حق طلب کرو کہ تم کو مقصود تک رسانی عطا ہو۔
Ayahs 16:13–17

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور ان چیزوں کو بھی (بنایا) جن کو تمہارے لیے اس طور پر پیدا کیا کہ ان کے اقسام مختلف ہیں (ف 1) بیشک اس میں (بھی) سمجھدار لوگوں کے لیے دلیل (توحیدموجود) ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے کہ اس نے دریا کو (بھی) مسخر بنایا کہ اس میں سے تازہ تازہ گوشت کھاؤ اور اس میں سے (موتیوں کا) گہنا نکالو جس کو تم پہنتے ہو اور تو کشتیوں کو دیکھتا ہے کہ اس (دریا) میں (اس کا) پانی چیرتی ہوئی چلی جا رہی ہیں اور تاکہ تم خدا کی روزی تلاش کرو اور شکر کرو۔

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اس نے زمین میں پہاڑ رکھ دیے تاکہ وہ (زمین) تم کو لے ڈگمگانے (اور ہلنے) نہ لگے اور اس نے نہریں اور رستے بنائے تاکہ منزل مقصود تک پہنچ سکو۔

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور بہت سی نشانیاں بنائیں اور تاروں سے بھی لوگ رستہ معلوم کرتے ہیں۔

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

سو کیا جو شخص پیدا کرتا ہو وہ اس جیسا ہوجاوے گا جو پیدا نہیں کرسکتا پھر کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے۔

ف 1۔ اس میں تمام حیوانات و نباتات و جمادات و بسائط و مرکبات داخل ہوگئے۔
Ayahs 16:18–20

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گننے لگو تو (کبھی) نہ گن سکو واقعی اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں۔ (ف 2)

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور اللہ تمہارے پوشیدہ اور ظاہر احوال سب جانتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور جن کی یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود ہی مخلوق ہیں۔

ف 2۔ کوئی شرک سے توبہ کرلے تو مغفرت ہوجاتی ہے اور نہ کرے جب بھی تمام نعمتیں حیات تک منقطع نہیں ہوتیں۔
Ayahs 16:21–23

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

وہ (معبودین) مردے (بےجان) ہیں (ف 3) زندہ نہیں اور ان کو خبر نہیں کہ وہ مردے کب اٹھائے جائیں گے۔ (ف 4)

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا معبود برحق ایک ہی معبود ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل (معقول بات سے) منکر ہو رہے ہیں اور وہ (قبول حق سے) تکبر کرتے ہیں۔

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

(اور) ضروری بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے سب احوال پوشیدہ و ظاہر جانتے ہیں یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔

ف 3۔ خواہ داما جیسے بت یا فی الحال جیسے جو مرچکے یا فی المآل جیسے جو مریں گے مثلا فرشتے اور جن اور عیسیٰ علیہ السلام۔ 4۔ یعنی بعض کو علم ہی نہیں، اور بعض کو تعیین معلوم نہیں، اور معبود کو تو علم محیط چاہئے خصوصا بعث کا کہ اس پر جزا ہوگی عبادت وعدم عبادت کی، تو اس کا علم تو معبود کے لئے بہت ہی مناسب ہے۔
Ayah 16:24

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل فرمائی ہے (ف 1) تو کہتے ہیں کہ وہ تو محض بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے چلی آ رہی ہیں۔ (ف 2)

ف 1۔ یعنی کوئی ناواقف شخص تحقیق کے لئے یا کوئی واقف شخص امتحان کے لئے ان سے پوچھتا ہے کہ قرآن جس کو رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کا نزال کیا ہوا فرماتے ہیں آیا یہ صحیح ہے۔ 2۔ یعنی اہل ملل پہلے سے توحید و نبوة ومعاد کے مدعی ہوتے آئے ہیں ان ہی سے یہ بھی نقل کرنے لگے۔
Ayahs 16:25–28

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

نتیجہ اس (کہنے کا) یہ ہوگا کہ ان لوگوں کو قیامت کے دن اپنے گناہوں کا پورا بوجھ اور جن کو یہ لوگ بےعلمی سے گمراہ کر رہے تھے ان کے گناہوں کا بھی کچھ بوجھ اپنے اوپر اٹھانا پڑے گا خوب یاد رکھو کہ جس گناہ کو یہ اپنے اوپر لاد رہے ہیں وہ برا بوجھ ہے۔ (ف 3)

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے بڑی بڑی تدبیریں کیں سو اللہ تعالیٰ نے ان کا بنا بنایا گھر جڑ بنیاد سے ڈھا دیا پھر اوپر سے ان پر چھت آ پڑی (ہو) اور (علاوہ ناکامی کے) ان پر (خدا کا) عذاب ایسی طرح آیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا۔

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور کہے گا کہ میرے شریک جن کے بارے تم لڑا جھگڑا کرتے تھے (وہ اب) کہاں ہیں جاننے والے کہیں گے کہ آج پوری رسوائی اور عذاب کافروں پر ہے۔

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

جن کی جان فرشتوں نے حالت کفر پر قبض کی تھی (یعنی آخر وقت تک کافر رہے) پھر کافر لوگ صلح کا پیغام ڈالیں گے کہ ہم تو کوئی برا کام نہ کرتے تھے کیوں نہیں بیشک اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے۔

ف 3۔ جو شخص کسی کو گمراہ کیا کرتا ہے اس گمراہ کو تو گمراہی کا گناہ ہوتا ہے اور اس گمراہ کرنے والے کو اس گمراہی کا سبب بن جانے کا اس حصہ تسبب کو کچھ بوجھ فرمادیا گیا، اور پنے گناہ کا کامل طور پر اٹھانا ظاہر ہے۔
Ayahs 16:29–31

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

سو جہنم کے دروازوں میں ( سے جہنم میں) داخل ہوجاؤ (اور) اس میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہو․ غرض تکبر کرنے والوں کا وہ برا ٹھکانہ ہے۔ (ف 4)

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور جو لوگ شرک سے بچتے ہیں ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز فرمائی ہے وہ کہتے ہیں کہ بڑی چیز نازل فرمائی ہے جن لوگوں نے نیک کام کیے ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور عالم آخرت تو اور زیادہ بہتر ہے اور وہ واقعی شرک سے بچنے والوں کا اچھا گھر ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

وہ گھر ہمیشے رہنے کے باغ ہیں جن میں یہ داخل ہوں گے ان باغوں کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جس چیز کو ان کا جی چاہے گا وہاں ان کو ملے گی بلکہ اسی طرح کا عوض اللہ تعالیٰ سب شرک سے بچنے والوں کو دے گا۔

ف 4۔ حاصل آیت کا یہ ہوا کہ تم نے اپنے سے پہلے کافروں کا حال خسارہ و عذاب دنیا و آخرت سنا لیا، اسی طرح جو تدبیر ومکر دین حق کے مقابلہ میں تم کر رہے ہو اور خلق کو گمراہ کرنا چاہتے ہو یہی انجام تمہارا ہوگا۔
Ayah 16:32

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

جن کی روح فرشتے اس حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ ( شرک سے) پاک ہوتے ہیں وہ فرشتے کہتے جاتے ہیں السلام علیکم تم جنت میں چلے جانا اپنے اعمال کے سبب۔ (ف 5)

ف 5۔ قبض روح کے بعد جنت میں جانا روحانی جانا ہے، اور جسمانی جانا مخصوص ہے قیامت کے ساتھ اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ قیامت میں تم جنت میں جانا، اور ہر حال میں مقصود بشارت سنانا ہے۔ اور اعمال کو جو سبب دخول جنت کا فرمایا تو یہ سبب مادی ہے، اور سبب حقیقی رحمت الہیہ ہے جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے۔
Ayahs 16:33–35

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

یہ لوگ (ف 6) اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس (موت) کے فرشتے آجا ویں یا آپ) کے پروردگار کا حکم (یعنی قیامت) آ جاوے (ف 1) ایسا ہی ان سے پہلے جو لوگ تھے انہوں نے بھی کیا تھا اور ان پر اللہ تعالیٰ نے ذرا ظلم نہیں کیا لیکن وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

آخر ان کے اعمال بد کی ان کو سزائیں ملیں اور جس عذاب پر وہ ہنستے تھے ان کو اسی نے آگھیرا۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور مشرک لوگ یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو خدا کے سوا کسی چیز کی نہ ہم عبادت کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم اس کے بدون (حکم کے) کسی چیز کو حرام کہہ سکتے جو (کافر) لوگ ان سے پہلے ہوئے ہیں ایسی ہی حرکت انہوں نے بھی کی تھی سو پیغمبروں کے ذمہ تو صرف (احکام کا) صاف صاف پہنچا دیا ہے۔

ف 6۔ اوپر ذکر مومنین سے پہلے کفار کے ضلال واضلال کا ذکر تھا، مومنی کا ذکر بمناسبت مقابلہ تتمیم مضمون کے لئے درمیان میں آگیا، اب کفار کے اصرار وعناد پر وعید ہے۔ 1۔ یعنی کیا موت کے وقت یا قیامت میں ایمان لاویں گے جبکہ ایمان مقبول نہ ہوگا، گو اس وقت تمام کفار بوجہ انکشاف حقیقت کے توبہ کریں گے۔
Ayahs 16:36–38

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور ہم ہر امت میں کوئی نہ کوئی پیغمبر بھیجتے رہے ہیں کہ تم (خاص) اللہ کی عبادت کرو اور شیطان کے رستے سے بچتے رہو (ف 2) سو ان میں بعضے وہ ہوئے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعضے ان میں وہ ہوئے جن پر گمراہی کا ثبوت ہوگیا (ف 3) تو (اچھا) زمین میں چلو پھرو (پھر آثار سے) دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔ (ف 4)

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

ان کے راہ راست پر آنے کی اگر آپ کو تمنّا ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو ہدایت نہیں کرتا جس کو گمراہ کرتا ہے اور ان کا کوئی حمایتی نہ ہوگا۔

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور یہ لوگ بڑے زور لگا لگا کر اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مر جاتا ہے اللہ اس کو دوبارہ زندہ کرے گا کیوں نہیں زندہ کرے گا اس وعدے کو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لازم کر رکھا ہے لیکن اکثر لوگ یقین نہیں لاتے۔

ف 2۔ لقد بعثنا فی کل امة رسولا سے ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان والوں کے لئے بھی زمانہ قدیم میں کچھ رسول مبعوث ہوئے ہیں، خواہ ہند ہی میں پیدا ہوئے اور رہے ہوں یا کسی اور ملک میں رہتے ہوں اور یہاں ان کے نائب تبلیغ کے لئے آئے ہوں۔ 3۔ مطلب یہ کہ کفار اور انبیاء میں یہ معاملہ اسی طرح چلا آرہا ہے اور ہدایت واضلال کے متعلق اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھی یوں ہی جاری ہے کہ مجادلہ کفار کا بھی قدیم، تعلیم انبیاء (علیہم السلام) کی بھی قدیم اور سب کا ہدایت نہ پانا بھی قدی، پھر آپ کو غم کیوں ہو۔ 4۔ پس اگر وہ گمراہ نہ تھے تو ان پر عذاب کیوں نازل ہوا، اور واقعات اتفاقیہ ان کو اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ خلاف عادت ہوئے، اور انبیاء (علیہم السلام) کی پیشنگوئی کے بعد ہوئے اور مونین اس سے بچے رہے، پھر اس کے عذاب ہونے میں کیا شک ہے۔
Ayah 16:39

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

تاکہ جس چیز میں یہ لوگ اختلاف کرتے تھے ان کے روبرو اس کا (بطور معائنہ کے) اظہار کر دے اور تاکہ یہ کافر لوگ (پورا) یقین کرلیں کہ واقعی وہ جھوٹے تھے۔ (ف 5)

ف 5۔ پس قیامت کا آنا یقینی اور عذاب سے فیصلہ ہونا ضروری۔
Ayah 16:40

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

ہم جس چیز کو (پیدا کرنا) چاہتے ہیں پس اس سے ہمارا اتنا ہی کہہ دینا (کافی) ہوتا ہے کہ تو (پیدا) ہوجا پس وہ (موجودہ) ہوجاتی ہے۔ (ف 6)

ف 6۔ تو اتنی بڑی قدرت کاملہ کے روبرو بےجان چیزوں میں دو بارہ جان کا پڑجانا کون دشوار ہے جیسا پہلی بار جان ڈل چکے ہیں۔