16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsبیان القرآن

Ayah 16:41

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کے واسطے اپنا وطن (مکہ) چھوڑ دیا (ف 7) بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا دنیا میں ضرور اچھا ٹھکانا دیں گے (ف 1) اور آخرت کا ثواب بدرجہا بڑا ہے کاش (ان کافروں) کو (بھی) خبر ہوتی۔ (ف 2)

ف 7۔ حبشہ کو چلے گئے۔ 1۔ یعنی ان کو مدینہ پہنچا کر خوب امن و راحت دیں گے چناچہ بعد چندے اللہ تعالیٰ نے پہنچا دیا اور اس کو اصلی وطن قرار دیا گیا اس لیے اس کو ٹھکانا کہا اور ہر طرح کی وہاں سے ترقی ہوئی اس لیے حسنہ کہا گیا اور حبشہ کا قیام عارضی تھا اس لیے اس کو ٹھکانا نہیں کہا۔ 2۔ اور اس کے حاصل کرنے کی رغبت سے مسلمان ہوجاتے۔
Ayah 16:42

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

وہ ایسے ہیں جو صبر کرتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ (ف 3)

ف 3۔ وطن چھوڑنے کے وقت یہ خیال نہیں کرتے کہ کھائیں پئیں گے کہاں سے۔
Ayah 16:43

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

اور ہم نے آپ کے قبل (بھی) صرف آدمی ہی رسول بنا کر معجزات اور کتابیں دے کر بھیجے ہیں کہ ان پر وحی بھیجا کرتے تھے سو اگر تم کو علم نہیں تو (دوسرے) اہل علم سے پوچھ دیکھو۔ (ف 4)

ف 4۔ مراد اہل ذکر سے اہل کتاب ہیں۔
Ayah 16:44

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

اور آپ پر یہ قرآن بھی اتارا ہے تاکہ جو مضامین لوگوں کے پاس بھیجے گئے ان کو آپ ان پر ظاہر کردیں اور تاکہ وہ (ان میں) فکر کیا کریں۔ (ف 5)

ف 5۔ غرض یہ کہ جب آپ کی رسالت بھی سنت قدیمہ کے موافق ہے تو پھر انکار کی کیا وجہ اور دعوی تنافی کی کیا دلیل۔
Ayahs 16:45–47

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

جو لوگ بری بری تدبیریں کرتے ہیں کیا ایسے لوگ پھر بھی اس بات سے بےفکر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو زیر زمین دھنسا دے یا ان پر ایسے موقع سے عذاب آ پڑے جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو۔ (ف 6)

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

یا ان کو چلتے پھرتے (کسی آفت میں) پکڑ لے سو یہ لوگ خدا کو ہرگز (بھی) نہیں ہرا سکتے۔

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا ان کو گھٹاتے گھٹاتے پکڑ لے سو تمہارا رب شفیق مہربان بڑا ہے۔

ف 6۔ جیسے جنگ بدر میں ایسے بےسروسامان مسلمانوں کے ہاتھ سے ان کو سزاملی کہ کبھی انکواس کا احتمال عقلی بھی نہ ہوتا کہ یہ ہم پر غالب آسکیں گے۔
Ayahs 16:48–50

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اللہ کی ان پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھا جن کے سائے کبھی ایک طرف کو کبھی دوسری طرف کو اس طور پر جھکتے جاتے ہیں کہ (بالکل) خدا کے (حکم کے) تابع ہیں (ف 7) اور وہ چیزیں بھی عاجز ہیں۔

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اور اللہ کی مطیع ہیں جتنی چیزیں چلنے والی آسمانوں اور زمین میں موجود ہیں اور بالخصوص (فرشتے بھی) اور وہ تکبر نہیں کرتے۔

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں جو کہ ان پر بالا دست ہے اور ان کو جو کچھ حکم کیا جاتا ہے وہ اس کو کرتے ہیں۔

ف 7۔ یعنی سایہ کے اسباب کہ آفتاب کا نورانی ہونا اور سایہ دار جسم کا کثیف ہونا ہے اور حرکت سایہ کا سبب کہ آفتاب کی حرکت ہے پھر سایہ کے خواصہ سب بحکم الٰہی ہے۔
Ayah 16:51

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دو (یا زیادہ) معبود نہ بناؤ بس ایک معبود وہی ہے تو تم لوگ خاص مجھ ہی سے ڈرا کرو۔ (ف 8)

ف 8۔ کیونکہ جب الوہیت میرے ساتھ خاص ہے تو جو اس کے لوازم ہیں کمال قدرت وغیرہ وہ بھی میرے ہی ساتھ خاص ہوں گے تو انتقام وغیرہ کا خوف مجھ ہی سے چاہیے اور شرک انتقام کو مستدعی ہے پس شرک نہ کرنا چاہیے۔
Ayah 16:52

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور اسی کی (ملک) ہیں سب کچھ چیزیں جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں اور لازمی طور اطاعت بجا لانا اسی کا حق ہے (ف 9) تو کیا پھر بھی اللہ کے سوا اوروں سے ڈرتے رہو۔

ف 9۔ یعنی وہی اس امر کا مستحق ہے کہ سب اس کی اطاعت بجالائیں۔۔
Ayah 16:53

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور جو تمہارے پاس جو کچھ بھی نعمت ہے وہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب تم کو (ذرا) تکلیف پہنچتی ہے تو اسی سے فریاد کرتے ہو۔ (ف 10)

ف 01۔ یعنی جیسا ڈرنے کے قابل سواخدا کے کوئی نہیں ایسا ہی نعمت دینے والا اور امید کے قابل بھی بجز خدا کے کوئی نہیں۔
Ayahs 16:54–59

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

پھر جب تم سے اس تکلّیف کو ہٹا دیتا ہے تو تم میں کی ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتی ہے۔ (ف 1)

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

جس کا حاصل یہ ہے کہ ہماری دی ہوئی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں خیر چند روز عیش اڑا لو اب جلدی خبر ہوئی جاتی ہے۔

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور یہ لوگ ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے ان (معبودوں) کا وہ حصہ لگاتے ہیں جن کے متعلق ان کو کچھ علم نہیں قسم ہے خدا کی تم سے تمہاری ان افترا پردازیوں کی ضرور باز پرس ہوگی۔

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں سبحان اللہ اور اپنے لیے چاہتی چیز (یعنی بیٹے) ۔

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ Open ayah 16:58 in the Quran reader

اور ان میں کسی کو بیٹی کی خبر دی جاوے تو سارا دن اس کا چہرہ بےرونق رہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہے۔

یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 16:59 in the Quran reader

(اور) جس چیز کی اس کو خبر دی گئی ہے اس کی عار سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرے (اور سوچے کہ) آیا اس کو بحالت ذلت لیے رہے یا اس کو (زندہ مار کر) مٹی میں گاڑ دے خوب سن لو کہ ان کی یہ تجویز بہت بری ہے۔

ف 1۔ ایک جماعت اس لیے کہا گیا کہ بعض اس حالت کو یاد رکھ کر توحید و ایمان پر قائم ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 16:60–62

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 16:60 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کی بری حالت ہے (ف 2) اور اللہ تعالیٰ کے لیے تو بڑے اعلیٰ درجہ کے صفات ثابت ہیں اور بڑے زبردست ہیں بڑے حکمت والے۔

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 16:61 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر ان کے ظلم کے سبب دارو گیر فرماتے تو سطح زمین پر کوئی (حسّ و) حرکت کرنے والانہ چھوڑتے لیکن ایک معیاد معین تک (توبہ کے لیے) مہلت دے رہے ہیں پھر جب ان کا وقت معین آپہنچے گا اس وقت ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ Open ayah 16:62 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کے لیے وہ امور تجویز کرتے ہیں جن کو خود ناپسند کرتے ہیں اور اپنی زبان سے جھوٹے وعدے کرتے جاتے ہیں کہ ان کے (یعنی ہمارے) لیے ہر طرح بھلائی ہے لازمی بات ہے کہ ان کے لیے دوزخ ہے اور بیشک وہ لوگ سب سے پہلے (دوزخ میں) بھیجے جاویں گے۔

ف 2۔ دنیا میں بھی کہ ایسے جہل میں مبتلا ہیں اور آخرت میں بھی کہ مبتلائے عقوبت وذلت ہوں گے۔
Ayahs 16:63–64

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:63 in the Quran reader

بخدا آپ سے پہلے جو امتیں ہو گزری ہیں ان کے پاس بھی ہم نے رسولوں کو بھیجا تھا سو ان کو بھی شیطان نے ان کے اعمال (کفریہ) مستحسن کر کے دکھلائے پس وہ آج (دنیا میں) ان کا رفیق تھا اور ان کے واسطے دردناک سزا (مقرر) ہے۔ (ف 3)

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:64 in the Quran reader

اور ہم نے آپ پر یہ کتاب صرف اس واسطے نازل کی ہے کہ جن امور (دین) میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں آپ عام لوگوں پر اس کو ظاہر فرما دیں اور ایمان والوں کی ہدایت (خاصہ) اور رحمت کی غرض۔

ف 3۔ غرض یہ لاحقین بھی ان سابقین کی طرح کفر کررہے ہیں اور ان ہی کی طرح ان کو سزا بھی ہوگی آپ کیوں غم میں پڑے۔
Ayah 16:65

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کیا (ف 1) اس میں ایسے لوگوں کے لیے بڑی دلیل ہے جو سنتے ہیں۔

ف 1۔ یعنی اس کی قوت نامیہ کو بعد اس کے خشک ہوجانے سے کمزور ہوگئی تھی تقویت دی۔
Ayah 16:66

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور (نیز) تمہارے لیے مواشی میں بھی غور درکار ہے (دیکھو) ان کے پیٹ میں جو گوبر اور خون (کا مادہ) ہے اس کے درمیان میں سے صاف اور گلے میں آسانی سے اترے والا دودھ (بنا کر) ہم تم کو پینے کو دیتے ہیں۔ (ف 2)

ف 2۔ آیت سے یہ مراد نہیں کہ پیٹ میں ایک طرف گوبر ہوتا ہے اور ایک طرف خون اور دونوں کے درمیان دودھ رہتا ہے بلکہ پیٹ میں جو غذا ہوتی ہے اس میں وہ اجزا جو آگے چل کردودھ بنیں گے اور وہ اجزاء جو گوبر بن جائیں گے سب مخلوط ہوتے ہیں اللہ ان کو جدا جدا کرتے ہیں کچھ گوبر بن کر وضع ہوجاتا ہے اور کچھ ہضم کبدی میں اخلاط بنتے ہیں جن میں خون بھی ہے پھر اس خون میں وہ حصہ جو آگے چل کر دودھ بنے گا اور وہ حصہ جو دودھ نہ بنے گا یہ دونوں مخلوط ہوتے ہیں اللہ ایک حصہ کو جدا کرکے پستان تک پہنچاتا ہے اور وہ وہاں پہنچ کر دودھ بن جاتا ہے۔
Ayahs 16:67–70

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اور (نیز) کھجور اور انگوروں کے پھلوں سے تم لوگ نشہ کی چیز (ف 3) اور عمدہ کھانے کی چیزیں بناتے ہو بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی دلیل ہے جو عقل (سلیم) رکھتے ہیں۔

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے جی میں یہ بات ڈالی کہ تو پہاڑوں میں گھر بنا لے اور درختوں میں (بھی) اور جو لوگ عمارتیں بناتے ہیں ان میں۔

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

پھر ہر قسم کے پھلوں سے چوستی پھر․ پھر اپنے رب کے راستوں میں چل جو آسان ہیں اس کے پیٹ میں سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے جس کی رنگتیں مختلف ہوتی ہیں کہ اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے اس میں (بھی) ان لوگوں کے لیے بڑی دلیل ہے جو سوچتے ہیں۔

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے تم کو (اول) پیدا کیا پھر تمہاری جان قبض کرتا ہے اور بعضے تم میں وہ ہیں جو ناکارہ عمر تک پہنچائے جاتے ہیں جس کا یہ اثر ہوتا ہے کہ ایک چيز سے باخبر ہو کر پھر بیخبر ہوجاتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی قدرت والے ہیں۔

ف 3۔ نشہ کی چیز اس میں دو قول ہیں اول یہ کہ نزول آیت کے وقت مسکرات حرام نہ تھے کیونکہ آیت مکی ہے اس لیے امتنان فرمایا لیکن چونکہ حرام ہونے والے تھے اس لیے اس کو حسن وغیرہ کے ساتھ موصوف نہ کیا جیسا رزق کو کیا ہے دوسرا قول یہ کہ گونزول آیت کے وقت مسکرات حرام بھی ہوگئے ہوں اس احتمال پر کہ شاید یہ آیت مدنی ہو لیکن یہاں امتنان حسی مقصود نہیں تاکہ حلت پر موقوف ہو بلکہ امتنان معنوی یونی استدلال علی التوحید ہے۔
Ayah 16:71

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے تم میں بعضوں کو بعضوں پر رزق میں فضیلت دی ہے اور اپنے حصہ کا مال اپنے غلاموں کو اس طرح کبھی دینے والا نہیں کہ وہ ( مالک و مملوک) سب اس میں برابر ہوجاویں کیا پھر بھی خدائے تعالیٰ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں۔ (ف 4)

ف 4۔ اس میں شرک کی غایت تقبیح ہے کہ جب تمہارے غلام تمہارے شریک رزق نہیں ہوسکتے تو اللہ کے غلام اس کے شریک الوہیت کیسے ہوسکتے ہیں۔
Ayahs 16:72–74

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے تمہی میں سے تمہارے لیے بی بیاں بنائیں اور (پھر) ان بیبیوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تم کو اچھی اچھی چیزیں کھانے (پینے) کو دیں (ف 5) کیا پھر بھی بےبنیاد خبر پر ایمان رکھیں گے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کرتے رہیں گے۔

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے رہیں گے جو ان کو نہ آسمان میں سے رزق پہنچانے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین میں سے اور نہ قدرت رکھتے ہیں۔

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

سو تم اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں مت گھڑو اللہ تعالیٰ (خوب) جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے۔

ف 5۔ یعنی منجملہ دلائل قدرت وہ جو نعمت کے ایک بڑی نعت اور دلیل قدرت اللہ کی خود تمہارا وجود شخصی ونوعی ہے۔
Ayah 16:75

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان فرماتے ہیں کہ (فرض کرو) ایک (تو) غلام ہے (کسی کا) مملوک کہ کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا اور ایک شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے خوب روزی دے رکھی تو وہ اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتا ہے کیا اس قسم کے شخص آپس میں برابر ہو سکتے ہیں ساری تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لائق ہیں بلکہ ان میں اکثر (بوجہ عدم تدبّر) جانتے ہی نہیں۔ (ف 1)

ف 1۔ پس جب مالک مجازی ومملوک مجازی برابر نہیں ہوسکتے تو مالک حقیقی اور مملوک حقیقی توکب برابر ہوسکتے ہیں اور استحقاق عبادت موقوف ہے مساوات پر اور وہ منتفی ہے۔
Ayah 16:76

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ایک مثال اور بیان فرماتے ہیں کہ دو شخص ہیں ایک تو گونگا (بھی) ہے کوئی کام نہیں کرسکتا اور وہ اپنے مالک پر ایک وبال جان ہے وہ اس کو جہاں بھیجتا ہے کوئی کام درست کر کے نہیں لاتا کیا یہ شخص اور ایسا شخص باہم برابر ہو سکتے ہیں جو اچھی باتوں کی تعلیم کرتا ہو اور خود بھی معتدل طریقہ پر (چلتا) ہو۔ (ف 2)

ف 2۔ جب مخلوق مخلوق میں باوجود تشارک فی الماہیت ولاوصاف الکثیرہ کے یہ تفاوت ہے تو کجامخلوق و خالق۔
Ayah 16:77

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور قیامت کا معاملہ بس ایسا (جھٹ پٹ) ہوگا جیسے آنکھ جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلدی (ف 3) یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔ (ف 4)

ف 3۔ قیامت کے معاملہ سے مراد ہے مردوں میں جان پڑنا اور اس کا جلدی ہونا ظاہر ہے کیونکہ آنکھ جھپکنا حرکت ہے اور حرکت زمانی ہوتی ہے اور جان پڑن آنی ہے اور آنی طاہر ہے کہ زمانی سے اسرع ہے۔ 4۔ اثبات قدرت کے لیے تخصیص ساعہ کی شاید اس وجہ سے کی ہو کہ وہ من جملہ غیوب خاصہ کے بھی ہے پس وہ علم اور قدرت دونوں کی دلیل ہے قبل الوقوع تو علم کی اور بعدالوقوع قدرت کی۔
Ayah 16:78

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے (ف 5) اور اس نے تم کو کان دیئے اور آنکھ اور دل تاکہ تم شکر کرو۔

ف 5۔ اس مرتبہ کا نام اصطلاح میں عقل ہولانی ہے۔
Ayah 16:79

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

(اور استدلال علی القدرت کے لیے) کیا لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کے (تلے) میدان میں مسخر ہو رہے ہیں ان کو کوئی نہیں تھامتا بجز اللہ کے اس میں ایمان والے لوگوں کے لیے چند دلیلیں (موجود) ہیں۔ (ف 6)

ف 6۔ چند نشانیاں اس لیے فرمایا کہ طیور کو خاص وضع پر پیدا کرنا جس سے اڑنا ممکن ہو ایک دلیل ہے پھر جو کو ایسے طور پر پیدا کرنا جس میں اڑنا ممکن ہو ایک دلیل ہے پھر بالفعل اس طیران کا وقوع ایک دلیل ہے اور جتنے اسباب کو طیران میں دخل ہے جس کی وجہ سے ثقل جسم ورقت قوام معاقع کا اثر طبعی ظاہر نہیں ہوا چونکہ وہ سب اللہ ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں پھر ان اسباب پر مسبب یعنی طیران کا مرتب ہوجانا یہ بھی مشییت الٰہی ہے۔
Ayah 16:80

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے واسطے گھروں میں رہنے کی جگہ بنائی اور تمہارے لیے جانوروں کی کھال کے گھر (یعنی خیمے) بنائے جن کو تم اپنے کوچ کے دن اور مقام (کرنے) کے دن ہلکا (پھلکا) پاتے ہو اور ان کی اون اور ان کے رؤوں اور ان کے بالوں سے گھر کا سامان اور فائدے کی چیزیں ایک مدت کے لیے بنائیں۔ (ف 1)

ف 1۔ ایک مدت تک اس لیے فرمایا کہ عادة یہ سامان بہ نسبت روئی کے کپڑوں کے دیر پا ہوتا ہے۔