16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsبیان القرآن

Ayahs 16:81–82

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اپنی بعضی مخلوقات کے سائے بنائے اور تمہارے لیے پہاڑوں میں پناہ کی جگہیں بنائيں (ف 2) اور تمہارے لیے ایسے کرتے بنائے جو گرمی سے تمہاری حفاظت کریں اور ایسے کرتے بنائے جو تمہاری لڑائی سے تمہاری حفاظت کریں (ف 3) اللہ تعالیٰ تم پر اسی طرح (کی) اپنی نعمتیں پوری کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار رہو۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ (ایمان سے) اعراض کریں تو آپ کے ذمہ تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔

ف 2۔ یعنی غار وغیرہ جس میں گرمی، سردی، بارش، موذی دشمن آدمی جانور سے محفوظ رہ سکتے ہو۔ 3۔ مراد اس سے زرہیں ہیں۔
Ayah 16:83

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

وہ لوگ خدا کی نعمت کو (تو) پہچانتے ہیں پھر اس کے منکر ہوتے ہیں (ف 4) اور زیادہ ان میں ناسپاس ہیں۔

ف 4۔ کہ جو برتاو منعم کے ساتھ چاہیے تھا یعنی وہ عبادت دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں۔
Ayahs 16:84–88

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک گواہ قائم کرلیں گے پھر ان کافروں کو اجازت نہ دی جاوے گی اور نہ ان کو حق تعالیٰ کے راضی کرنے کی فرمائش کی جاوے گی۔ (ف 5)

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب ظالم (یعنی کافر) لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو وہ عذاب نہ ان سے ہلکا کیا جاوے گا اور نہ وہ کچھ مہلت دیے جاویں گے۔

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب مشرک لوگ اپنے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار وہ ہمارے شریک یہی ہیں کہ آپ کو چھوڑ کر ہم ان کی پوجا کرتے تھے سو ان کی طرف کلام کو متوجہ کریں گے کہ تم جھوٹے ہو۔

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور (یہ مشرک اور کافر) لوگ اس روز اللہ کے سامنے اطاعت کی باتیں کرنے لگیں گے اور جو کچھ افتراء پردازیاں کرتے تھے وہ سب گم ہوجاویں گی۔

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جو لوگ کفر کرتے تھے اور اللہ کی راہ سے روکتے تھے ان کے لیے ہم ایک سزا پر دوسری سزا بمقابلہ ان کے فساد کے بڑھا دیں گے۔

ف 5۔ یعنی ان سے یوں نہ کہا جائے گا کہ تم توبہ یا کوئی عمل کرکے اللہ کو خوش کرلو وجہ اس کی ظاہر ہے کہ آخرت دارالجزاء ہے دارلعمل نہیں۔
Ayah 16:89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر ہر امت میں ایک ایک گواہ جو ان ہی میں کا ہوگا ان کے مقابلہ میں قائم کردیں گے (ف 1) اور ان لوگوں کے مقابلہ میں آپ کو گواہ بنا کر لائیں گے اور ہم نے آپ پر قرآن اتارا ہے کہ تمام (دین کی) باتوں کا بیان کرنے والا ہے اور (خاص) مسلمانوں کے واسطے بڑی ہدایت اور بڑی رحمت اور خوشخبری سنانے والا ہے۔

ف 1۔ مراد اس امت کا نبی ہے۔ اور ان ہی میں کا کا ہونا عام ہے خواب باعتبار شرک نسب کے ہو خواہ باعتبار شرکت سکنی کے ہو۔
Ayah 16:90

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ اعتدال اور احسان اور اہل قرابت کو دینے کا حکم فرماتے ہیں اور کھلی برائی اور مطلق برائی اور ظلم کرنے سے منع فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ تم کو اس کے لیے نصیحت فرماتے ہیں کہ تم نصیحت قبول کرو۔ (ف 2)

ف 2۔ مامورات میں اعتدال عام ہے قوت علمیہ و عملیہ کو اس میں سارے عقائد و اعمال ظاہرہ و باطنہ غرض تمام شرائع داخل ہوگئے پھر ان میں سے احسان بوجہ اس کے کہ اس کا نفع متعدی الی الغیر ہے ذکر کے ساتھ خاص کیا گیا پھر احسان میں سے احسان الی ذوالقربی اور زیادہ فضیلت و اہمیت رکھتا ہے اس لیے اس کے بعد اس کو لائے اسی طرح منہیات میں منکر عام ہے تمام امور خلاف شریعت کو پھر اس میں فحشاء کو بوجہ زیادہ قباحت کے مخصوص بالذکر فرمایا اور اشدیت کی وجہ سے مقدم فرمایا اسی طرح ان امورہ منکرہ میں سے یعنی بوجہ اس کے کہ اس کا ضرر متعدی الی الغیر ہے مخصوص بالذکر کیا گیا پس اس طرح سے اس میں تمام امور حسنہ وقبیحہ داخل ہوگئے۔
Ayah 16:91

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور تم اللہ کے عہد کو پورا کرو (ف 3) جب کہ تم اس کو (تخصیصاً یا تعمیماً ) اپنے ذمہ کرلو اور قسموں کو بعد ان کے مستحکم کرنے کے مت توڑو اور تم اللہ تعالیٰ کو گواہ بھی بنا چکے ہو بیشک اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

ف 3۔ اوپر یامر بالعدل میں تمام شرائع کا حکم تھا اب ان میں سے ایک خاص امر یعنی وفائے عہد کا نہایت اہتمام سے حکم ہے اور وجہ اس کی تخصیص کی علاوہ اس کے فی نفسہ مہتم بالشان ہونے کے شاید یہ بھی ہو کہ ابتدائے اسلام میں عہد کے ایفا اور نقض کا اسلام پر ایک خاص اثر تھا کہ اسلام پر باقی رہنا یہ بھی ایک فرد تھی وفائے کی عہد کی نیز صلح وجنگ میں مدار اعتبار یہی تھا نیز اس سے اسلام لانے والوں کو اپنے حقوق شخصی وجمہوری کے باب میں پورا اطمینان ہوتا تھا جو قوت و ترقی اسلام کا سبب تھا اسی طرح نقض میں اس کے برعکس مفاسد مرتب ہوتے تھے جس کا ضرر اسلام کو پہنچتا تھا اس وجہ سے مضمون قابل اہتمام ہوا۔
Ayah 16:92

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور تم (مکہ کی) اس (دیوانی) عورت کے مشابہ نہ بنو جس نے اپنا سوت کا تے پیچھے بوٹی بوٹی کر کے نوچ ڈالا․ کہ (اس کی طرح تم بھی) اپنی قسموں کو آپس میں فساد ڈالنے کا ذریعہ بنانے لگو (ف 4) محض اس وجہ سے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ جائے بس اس سے اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش کرتا ہے (ف 5) اور جن چیزوں میں تم اختلاف کرتے رہے قیامت کے دن ان سب کو تمہارے سامنے (عملاً ) ظاہر دے گا۔

ف 4۔ کیونکہ قسم وعہد توڑنے سے موافقین کو بےاعتباری اور مخالفین کو برانگیختگی پیدا ہوتی ہے اور یہ اصل ہے فساد کی۔ 5۔ دیکھیں وفاء عہد کرتے ہو یا جھکتا پلہ دیکھ کر ادھر ڈھل جاتے ہو۔
Ayah 16:93

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو تم سب کو ایک ہی طریقے کا بنا دیتے لیکن جس کو چاہتے ہیں بےراہ کردیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں راہ پر ڈال دیتے ہیں (ف 6) اور تم سے تمہارے اعمال کی ضرور باز پرس ہوگی۔

ف 6۔ چناچہ من جملہ ہدایت کے وفائے عہد اور منجملہ ضلالت کے نقض عہد بھی ہے۔
Ayahs 16:94–96

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد ڈالنے کا ذریعہ مت بناؤ (ف 7) کبھی (اس کو دیکھ کر) کسی اور کا قدم جمنے کے بعد نہ پھسل جائے پھر تم کو اس کے سبب سے کہ تم (نقص عہد کرکے دوسروں کے لیے) راہ خدا سے مانع ہوئے تکلیف بھگتنا پڑے اور تم کو بڑا عذاب ہوگا۔

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور تم لوگ عہد خداوندی کے عوض میں (دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ حاصل مت کرو بس اللہ کے پاس کی جو چیز ہے وہ تمہارے لیے بدرجہ بہتر ہے اگر تم سمجھنا چاہو۔

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

اور جو کچھ تمہارے پاس (دنیا میں) ہے وہ ختم ہوجاوے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ دائم ہوگا اور جو لوگ ثابت قدم ہیں ہم ان کے اچھے کاموں کے عوض میں ان کا اجر ان کو ضرور دیں گے۔

ف 7۔ یعنی قسموں اور عہدوں کو مت توڑو۔
Ayah 16:97

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جو شحص کوئی نیک کام کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو (ف 1) تو ہم اس شخص کو (دنیا میں) با لطف زندگی دیں گے (ف 2) اور (آخرت میں) ان کے اچھے کاموں کے عوض میں ان کا اجر دیں گے۔

ف 1۔ کیونکہ کافر کے اعمال صالحہ مقبول نہیں۔ 2۔ حیات طیبہ سے یہ مراد نہیں کہ اس کو فقر یا مرج کبھی نہ ہوگا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اطاعت کی برکت سے اس کے قلب میں ایسانور ہوگا جس سے وہ ہر حال میں شاکر وصابر اور رضا و تسلیم رہے گا اور اصل جمعیت کی یہی رضا ہے۔
Ayah 16:98

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

تو جب آپ قرآن پڑھنا چاہیں تو شیطان مردود (کے شر) سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں۔ (ف 3)

ف 3۔ یعنی دل سے خدا پر نظر رکھنا کہ حقیقت استعاذہ کی ہے اصلی واجب ہے اور زبان سے بھی کہہ لینا قرات میں مسنون ہے۔
Ayahs 16:99–100

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

یقیناً اس کا قابو ان لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان رکھتے ہیں (ف 4) اور اپنے رب پر (دل سے) بھروسہ رکھتے ہیں۔

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

بس اس کا قابو تو صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو اس سے تعلق رکھتے ہیں اور ان لوگوں پر جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔

ف 4۔ یعنی اس کا وسوسہ ان پر موثر نہیں ہوتا۔
Ayah 16:101

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم کسی آیت کو بجائے دوسری آیت کے بدلتے ہیں (ف 5) اور حالانکہ اللہ تعالیٰ جو حکم بھیجتا ہے اس کو وہی خوب جانتا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ افتراء کرنے والے ہیں بلکہ انہی میں اکثر لوگ جاہل ہیں۔

ف 5۔ یعنی ایک آیت کو لفظا یا معنی منسود کرکے اس کی جگہ دوسراحکم بھیج دیتے یہں۔
Ayah 16:102

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

آپ فرما دیجیئے کہ اس کو روح القدس (ف 6) آپ کے رب کی طرف سے حکمت کے موافق لائے ہیں (ف 7) تاکہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھے اور ان مسلمانوں کے لیے ہدایت اور خوشخبری (کا ذریعہ) ہوجاوے۔ (ف 8)

ف 6۔ یعنی جبریل علیہ السلام۔ 7۔ پس یہ اللہ کا کلام ہے اور تبدیل احکام بوجہ حکمت کے ہے 8۔ اس غایت کے بڑھانے سے تعریض ہوگئی کہ ایسی نافع چیز سے یہ مخالفین منتفع نہیں ہوتے۔
Ayahs 16:103–109

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور ہم کو معلوم ہے کہ یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کو تو آدمی سکھلا جاتا ہے جس شخص کی طرف اس کی نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ قرآن صاف عربی ہے۔ (ف 9)

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو اللہ تعالیٰ کبھی راہ پر نہ لاویں گے اور ان کے لیے دردناک سزا ہوگی۔

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

بس جھوٹ افتراء کرنے والے تو یہ ہی لوگ ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور یہ لوگ ہیں پورے جھوٹے۔

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو شخص ایمان لائے پیچھے اللہ کے ساتھ کفر کرے مگر جس شخص پر زبردستی کی جاوے بشرطیکہ اس کا قلب ایمان پر مطمئن ہو لیکن ہاں جو جی کھول کر کفر کرے تو ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوگا اور ان کو بڑی سزا ہوگی۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

اور یہ ( غضب اور عذاب) اس سبب سے ہوگا کہ انہوں نے دنیوی ذندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا اور اس سبب سے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کو ہدایت نہیں کیا کرتا۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر مہر لگا دی ہے اور یہ لوگ انجام سے بالکل غافل ہیں۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

(اس لیے) لازمی بات ہے کہ آخرت میں یہ لوگ بالکل گھاٹے میں رہیں گے۔

ف 9۔ مراد اس سے ایک عجمی رومی، نصرانی غلام یالوہار ہے جس کا نام بلعام یا مقیس تھا وہ رسول اللہ کی باتیں جی لگا کر سنتا تھا تو حضور ﷺ کبھی اس کے پاس جاکر بیٹھ جاتے اور وہ انجیل وغیرہ کچھ جانتا تھا تو کافروں نے ایک یہ بات نکالی کہ حضور کو یہ سکھلا دیتا ہے اللہ جواب دیتے ہیں کہ قرآن مجید تو مجموعہ لفظ ومعنی کا نام ہے سو اگر معنی کی جزالت خارقہ کے ادرات کی تم کو تمیز نہیں تو الفاظ بلاغت خارقہ کو تو سمجھ سکتے ہو پس اگر فرض کرلیا جائے کہ مضامین وہ شخص سکھلا دیتا ہے تو یہ تو سوچو کہ یہ الفاظ کہاں سے آگئے۔
Ayah 16:110

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر بیشک آپ کا رب ایسے لوگوں کے لیے جنہوں نے مبتلائے کفر ہونے کے بعد (ایمان لاکر) ہجرت کی پھر جہاد کیا اور (ایمان پر) قائم رہے تو آپ کا رب ان (اعمال کے) بعد بڑی مغفرت کرنے والا بڑی رحمت کرنے والا ہے۔ (ف 1)

ف 1۔ یعنی ایمان اور اعمال صالحہ کی برکت سے ان کے سب گناہ گزشتہ کو کفروغیرہ معاف ہوجائیں گے اور رحمت الٰہیہ سے ان کو جنت اور اس کے بڑے بڑے درجے ملیں گے۔
Ayah 16:111

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

جس روز ہر شخص اپنی ہی طرف داری میں گفتگو کرے گا (اور دوسرے کو نہ پوچھے گا) اور ہر شخص کو اس کے کیے کا پورا بدلہ ملے گا (ف 2) اور ان پر ظلم نہ کیا جاوے گا۔ (ف 3)

ف 2۔ یعنی نیکی کے بدلہ میں کمی نہ ہوگی گوزیادتی ہوجائے اور بدی کے بدلہ میں زیادتی نہ ہوگی گوکمی ہوجائے۔ 3۔ اور اس سے شفاعت کی نفی کا شبہ نہ ہو کیونکہ وہ اپنی رائے سے نہ ہوگی بلکہ بالاذان ہے پس گویا وہ شافع کی طرف منسوب ہی نہیں اور یہاں اس گفتگو کا ذکر ہے جو اپنی رائے سے ہو۔
Ayahs 16:112–118

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ایک بستی والوں کی حالت عجیبہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ (بڑے) امن و اطمینان میں (رہتے) تھے (اور) ان کے کھانے پینے کی چیزیں بڑی فراغت سے ہر چہار طرف سے ان کے پاس پہنچا کرتی تھیں سو انہوں نے خدا کی نعمتوں کی بےقدری کی (ف 4) اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان حرکات کے سبب ایک محیط قحط اور خوف کا مزا چکھایا۔

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور ان کے پاس ان ہی میں کا ایک رسول بھی (منجانب الله) آیا سو اس (رسول) کو (بھی) انہوں نے جھوٹا بتایاتب ان کو عذاب (الہٰی) نے آپکڑا جب کہ وہ بالکل ہی ظلم پر کمر باندھنے لگے۔

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

سو جو چیزیں اللہ نے تم کو حلال اور پاک دی ہیں ان کو کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

تم پر تو صرف مردارحرام کیا ہے اور خون کو اور خنزیر کے گوشت (وغیرہ) کو اور جس چیز کو غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو پھر جو شخص کہ بالکل بےقرار ہوجاوے بشرطیکہ طالب لذت نہ ہو اور نہ حد (ضرورت) سے تجاوز کرنے والا ہو تو اللہ تعالیٰ بخش دینے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور جن چیزوں کے بارے میں تمہارا جھوٹا زبانی دعوے ہے ان کی نسبت مت کہہ دیا کرو کہ فلانی چیز حلال ہے اور فلانی چیز حرام ہے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹی تہمت لگا دو گے بلاشبہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ لگاتے ہیں وہ فلاح نہ پاویں گے۔

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

یہ (دنیا میں) چند روز عیش ہے اور (مرنے کے بعد) ان کے لیے دردناک سزا ہے۔

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور صرف یہودیوں پر ہم نے وہ چیزیں حرام کردی تھیں جن کا بیان ہم اس سے قبل آپ سے کرچکے ہیں اور ہم نے ان پر کوئی زیادتی نہیں کی لیکن وہ خود ہی اپنے اوپر زیادتی کیا کرتے تھے۔

ف 4۔ یعنی خدا کے ساتھ کفران کیا۔
Ayah 16:119

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر آپ کا رب ایسے لوگوں کے لیے جنہوں نے جہالت سے برا کام کرلیا پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور (آئندہ کے لیے) اپنے اعمال درست کرلیے تو آپ کا رب اس (توبہ) کے بعد بڑی مغفرت کرنے والا بڑی رحمت والا ہے۔ (ف 1)

ف 1۔ اوپر شرک کفر کے اصول و فروع یعنی انکار توحید و انکار رسالت وتحریم کا ابطال اور رد کیا گیا ہے چونکہ مشرکین مکہ جن سے ان مضامین کا اول خطاب ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں تھے اور اپنے کو ان کے طریقے پر بتلاتے تھے اس لیے آگے مضامین مذکورہ کی تقویت کے لیے کان امة میں ابراہیم کے مقتدائے خلق ہونا جس کا حاصل نبوت و رسالت ہے اور لیک من المشرکین میں مع سیاق وسباق ان کا مشرک نہ ہونا کہ توحید ہے اور انما جعل السبت میں اشارة طیبة کا ان کے یہاں حرام نہ ہونا اور قانتا کے عموم سے تحلیل حرام وتحریم حلال بالہوی دونوں کانہ ہونا اور اجتبہ وھداہ واٰتنیہ میں اس طریقہ کی اور حاصب طریقہ کی فضیلت اور درمیان میں ثم اوحیناالیک میں جناب رسول اللہ کا اس طریقہ پر ہونا مع اثبات رسالت کے بیان فرماتے ہیں تاکہ انکو اپنے طریقہ مخالف ملت ابراہیم کے ترک کی اور حضور ﷺ کے طریقہ موافقہ ملت ابراہیمہ کے اختیار کی ترغیب ہو جس کے لوازم سے رسالت محمدیہ کا انکار سے بالخصوص باز آنا بھی ہے۔